تلاوت، ذکر اور دُعا کی روح

تلاوت، ذکر اور دُعا کی روح

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

(تلاوتِ قرآن حکیم کی روح) ’’قرآن حکیم کی تلاوت کی روح یہ ہے کہ:

بڑی عظمت اور شوق کے ساتھ اپنی توجہ اللہ کی طرف رکھے۔ اُس کی نصیحت اور مواعظ پر خوب غور و فکر کرے۔ اس میں بیان کردہ احکامات کے لیے فرماں برداری کے جذبات پیدا کرے۔ قرآن حکیم میں بیان کردہ مثالوں اور (انبیا علیہم السلام کے) قصوں سے عبرت حاصل کرے۔ جب بھی اللہ کی صفات اور نشانیوں کی کوئی آیت پڑھے تو ’’سبحان اللہ‘‘ کہے۔ جب بھی جنت اور رحمت سے متعلق کوئی آیت پڑھے تو اللہ سے اُس کے فضل و کرم کا سوال کرے۔ جہنم اور غضبِ الٰہی سے متعلق کوئی آیت پڑھے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگے۔ یہ وہ باتیں ہیں، جو رسول اللہ ﷺ نے نفس کی تہذیب و تمرین اور مشق کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے بیان کی ہیں۔

(ذکرُ اللہ کی روح): ذکرُ اللہ کی روح یہ ہے کہ اللہ کا نام لیتے ہوئے: اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کی کیفیت پیدا کرے۔ اللہ کی صفات اور عالمِ جبروت کی طرف متوجہ ہونے میں غرق ہوجائے۔ اس کی مشق کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے زبان سے کہے: ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، و اللّٰہ أکبر‘‘ (اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور اللہ بہت بڑا ہے)۔ پھر اپنے کانوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سنے کہ: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، و أنا أکبر‘‘ (میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور میں بہت بڑا ہوں)۔ پھر اپنی زبان سے کہے: ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، وہ ایک ہے، کوئی اُس کا شریک نہیں)۔ پھر اللہ کی طرف سے اپنے کانوں سے سنے: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، وحدی لا شریک لی‘‘ (میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، میں اکیلا ہوں، کوئی میرا شریک نہیں)۔ اسی طرح ذکر کرتا رہے، یہاں تک کہ اُس سے حجابات اور پردے اُٹھ جائیں اور اللہ کی طرف اُس کا استغراق پورے طور پر حقیقت بن جائے۔ بے شک نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی طرف اس حدیث میں اشارہ کیا ہے۔

)یہ حدیث امام ترمذیؒ نے ’’کتاب الدَّعَوات‘‘ میں اور امام نسائیؒ اور امام ابن ماجہؒ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ نے گواہی دی ہے کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو آدمی ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، و اللّٰہ أکبر‘‘ پڑھتا ہے، تو اُس کا ربّ اُس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، و أنا أکبر‘‘ الخ۔ رواہ الترمذی، حدیث: 3430(

(دُعا مانگنے کی روح): دعا مانگنے کی روح یہ ہے کہ: انسان یہ دیکھے کہ تمام طاقت اور قوت صرف اللہ کی ہے۔ اور اللہ کے سامنے ایسے ہوجائے جیسے نہلانے والے کے ہاتھ میں مردہ ہوتا ہے۔ یا ایسی تصویر جو تصویر بنانے والے کے ہاتھ کے سامنے ہوتی ہے۔ دعا مانگتے ہوئے اللہ سے سرگوشی کی لذت محسوس کرے۔

رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ ہے کہ: آپؐ تہجد کی نماز کے بعد خوب دعا مانگتے تھے۔ خاص طور پر دو رکعتوں کے درمیان بڑی لمبی دعا مانگتے تھے۔ اپنے دونوں ہاتھ بڑی عجز و انکساری سے اللہ کے سامنے اُٹھاتے اور فرماتے تھے: ’’یا ربِّ یا ربِّ!‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرتے تھے۔ مصیبتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے سامنے خوب گڑگڑاتے تھے۔ اللہ کے سامنے نہایت عاجزی اور انکساری سے لپٹ کر دعا مانگتے تھے۔

دُعا کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ:انسان کا دل باقی ہر چیز سے فارغ ہو۔ کھیل کود اور غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ بیت الخلا جانے، پیشاب اور پاخانے کا تقاضا نہ ہو۔ بھوکا پیاسا بھی نہ ہو۔ غصے اور طیش کی حالت میں بھی نہ ہو۔

(حضوری کی اس کیفیت کو برقرار رکھنے کا علاج): پس جب انسان اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے حضوری کی کیفیت حاصل کرلے۔ پھر اس کے بعد اگر یہ کیفیت باقی نہ رہے تو اس حالت کے ختم ہونے کے اسباب کی تحقیق و تفتیش کرے:

(الف) اگر طبیعت کے جوش اور طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو اُس پر لازم ہے کہ روزے رکھے۔ اس لیے کہ روزہ طبیعت کے جوش کو ٹھنڈا اور شہوت کو ختم کرتا ہے۔ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ دو مہینوں کے روزے مسلسل رکھے جاسکتے ہیں، اس سے زیادہ مسلسل روزے رکھنا درست نہیں۔

(ب)       اگر اُسے ضرورت اور حاجت ہے کہ وہ کھانے پینے کے حوالے سے اپنی اصلاح کرے اور منی کی خرابیوں سے فارغ ہو۔ یا (حضوری کی کیفیت میں) دل لگنے کی کیفیت ختم ہوجائے اور اُسے دوبارہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو تو شادی کرلے اور منی کی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ لیکن کھانے پینے اور بیوی سے ملنے میں زیادہ اِنہماک نہ رکھے۔ اس کو صرف ایسی دوا کے طور پر استعمال کرے کہ جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے اور اُس کے فساد سے بچا جاتا ہے۔

(ج)        اگر حضوری کی کیفیت ارتفاقات اور لوگوں کے میل جول میں مشغولیت کی وجہ سے ختم ہوئی ہو تو پھر ارتفاقات سے متعلق کام سرانجام دیتے ہوئے اللہ کے ذکر اور احکامات کو یاد رکھے۔

(د)          اگر حضوری کی کیفیت غور و فکر کے برتن (یعنی دماغ) تشویش انگیز خیالات سے بھر جانے یا افکار میں خرابی اور گڑبڑ پیدا ہونے کی وجہ سے ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ لوگوں سے علاحدگی اختیار کرے۔ گھر میں یا مسجد میں بیٹھ جائے اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر کے علاوہ ہر چیز سے روک لے۔ اور اپنے قلب کو اللہ کی جانب تفکر و تدبر کے سوا تمام چیزوں سے روک لے۔ جب نیند سے بیدار ہو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور اپنے نفس کی نگرانی کرے، تاکہ اُس کے دل میں سب سے پہلی چیز ذکر اللہ کی صورت میں داخل ہو۔ اور جب سونے کا ارادہ کرے تو اپنے دل کو ان تمام لایعنی افکار اور تشویش انگیز خیالات سے پاک کرکے لیٹے‘‘۔

(من أبواب الإحسان، باب(1): علمُ الشّرائع و الإحسان)

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین
احسان و سلوک کی ضرورت اور اہمیت  (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جاننا چاہیے کہ شریعت نے انسان کو سب سے پہلے حلال و حرام کے حوالے س…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 10, 2021

تمام نیکیوں کا بنیادی اساسی اُصول؛ توحید ِالٰہی  (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : [توحید کے ان آخری دو مرتبوں کی مخالف جماعتیں] ’’... توحید کے ان آ…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جون 13, 2021

کائنات میں موجود کثرتِ اشیا کی حقیقت!

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور 15؍ جنوری 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری فروری 17, 2021

فطری ترقی کے حِجَابات کو دور کرنے کا طریقہ(2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : (حجاب سوء المعرفہ دور کرنے کا طریقہ) ’’حجاب سوء المعرفہ (بدفہمی کے حج…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مارچ 14, 2021