سماحت ِنفس: انسانیت کا تیسرا بنیادی خُلق

سماحت ِنفس: انسانیت کا تیسرا بنیادی خُلق

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’(انسانیت کے بنیادی اَخلاق میں سے) تیسرا اصول ’’سماحتِ نفس‘‘ ہے۔

(سماحت ِنفس کی حقیقت اور معنویت)

اور وہ یہ ہے کہ انسان کی ملکیت، اپنی بہیمیت کے درجِ ذیل تقاضوں کے تابع اور ان کی فرماں برداری اختیار نہ کرے:

(1)        محض لذتوں کے حصول کی طلب اور خواہش

(2)        (کسی سے) انتقام لینے کی چاہت اور لذت

(3)        حد سے زیادہ غضب ناک ہونے کی حالت

(4)        (روپے پیسے میں) بخل اور کنجوسی سے محبت

(5)        بہت زیادہ مال اکٹھا کرنے کی حرص اور لالچ سے محبت

(6)        (دوسروں کو حقیر سمجھتے ہوئے) جاہ و مرتبت حاصل کرنے کی چاہت

انسان جب بہیمیت سے مناسبت رکھنے والے ان اعمال کو سرانجام دیتا ہے تو اُس وقت اُس کے نفس کی گہرائی اور جوہر میں ان اعمال کا ایک رنگ چڑھ جاتا ہے:

(الف) پس اگر ایک انسان میں سماحتِ نفس ہو تو اُس کے لیے ان پست عادات و اطوار اور اُن کے بُرے رنگ سے چھٹکارا حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے گویا کہ اُس کے نفس پر کسی قسم کا کوئی رنگ موجود ہی نہیں۔ وہ اللہ کی رحمت کی طرف خالص ہو کر یکسو ہوجاتا ہے۔ اگر مزید کوئی رُکاوٹ نہ ہو تو اپنے نفس کی اصل جبلت اور فطرت کے تقاضوں کے مطابق انواراتِ الٰہیہ کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے۔

(ب) اگر کوئی انسان اپنے نفس میں خُلقِ سماحت نہ رکھتا تو اُن بداعمالیوں کا رنگ اُس کے نفس میں ٹھیک اُسی طرح باقی رہتا ہے، جیسا کہ کسی مُہر پر نقش شدہ الفاظ موم پر منقش ہوجاتے ہیں۔ اس طرح اُس کی روح پر دنیاوی زندگی کی میل کچیل اور بُرے اثرات چپک جاتے ہیں۔ اس کے لیے ان سے جان چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔

ایسے آدمی کے جسم سے جب روح نکلتی ہے تو اُس کے گناہ اس کے آگے پیچھے اور اُس کے دائیں بائیں، غرض ہر طرف سے اُسے گھیر لیتے ہیں۔ ایسے انسان کی روح اور انسانیت کی اصل فطرت کے تقاضے سے پیدا ہونے والے انوارات کے درمیان بہت زیادہ موٹے پردے حائل ہوجاتے ہیں۔ یہ حالت اُس کو اذیت پہنچانے کا سبب بنتی ہے اور وہ انتہائی تکلیف میں مبتلا رہ جاتا ہے۔

(سماحتِ نفس کی اقسام)

سماحتِ نفس کے مختلف اعتبار سے کئی نام ہیں:

(1)        جب کوئی انسان درجِ ذیل بہیمی تقاضوں سے بچے تو اُس کا نام ’’عِفّت‘‘ ہے:

                (i)  ’’شَہوَۃُ البَطَن‘‘ (کھانے پینے اور صرف پیٹ بھرنے کی خواہش اور شہوت)(ii)  ’’شَہوۃُ الفَرج‘‘ (شرم گاہوں کی جنسی شہوات اور خواہشات)

(2)        جب کوئی انسان عیش و عشرت اور آرام طلبی کے تقاضے کو چھوڑتا ہے تو اُس کا نام ’’اجتِہاد‘‘ (مجاہدے کی زندگی بسر کرنا) ہے۔

(3)        جب کوئی انسان (مصیبت کے وقت) تنگ دلی اور رونے پیٹنے کی حالت سے بچتا ہے تو اُسے ’’صَبْر‘‘ کہا جاتا ہے۔

(4)        جب کوئی آدمی انتقام کی چاہت کے تقاضے سے بچتا ہے تو اُسے ’’عَفْو‘‘ (معاف اور درگزر کرنا) کہا جاتا ہے۔

(5)        جب کوئی آدمی مال کی حد سے زیادہ محبت سے بچتا ہے تو اُسے ’’سخاوت‘‘ اور ’’قَناعت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

(6)        جب کوئی آدمی شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی سے بچتا ہے تو اس کا نام ’’تقویٰ‘‘ ہے۔

ان تمام کو جامع صورت میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ’’اصل بات یہ ہے کہ نفس اپنے بہیمی تقاضوں اور خیالات کی فرماں برداری کرنے سے اپنے آپ کو بچائے‘‘۔

صوفیائے کرام نے سماحت کے اس خُلق کے درجِ ذیل نام رکھے ہیں:

(1) ’’قطع التّعلّقات الدّنیویّۃ‘‘ (دنیاوی تعلقات سے قطع تعلق رہنا)

(2) ’’فناء عن الخسائس البشریّۃ‘‘ (بشریت کی پست باتوں سے فنا ہوجانا)

(3) ’’حُرِّیَت‘‘ (دنیا کے جھمیلوں اور خواہشات سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا)

اس طرح صوفیائے کرام نے سماحت کے اس خُلق کو مختلف ناموں سے تعبیر کیا ہے۔

(سماحتِ نفس حاصل کرنے کا طریقہ)

اس خُلقِ سماحت کو حاصل کرنے کے لیے عمدہ ترین بات یہ ہے کہ:

(1)        ایسے مواقع سے بچنا کہ جو سماحت کی ضد پر مشتمل بُری عادات و اطوار میں مبتلا کرنے والے ہوں۔

(2)        ہر وقت اپنے دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذکر کو غالب کیے رکھنا۔

(3)        اپنے نفس کو عالمِ بالا کی طرف متوجہ رکھنا۔ یہی مطلب ہے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہٗ کے اس قول کا کہ انھوں نے فرمایا: ’’میرے نزدیک اس دنیا کے پتھر اور آبادی ایک برابر ہیں‘‘۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے اپنا کشف بیان کرتے ہوئے انھیں جنت کی خوش خبری دی۔

(حضرت بریدہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیںکہ نبی اکرمؐ جنت میں داخل ہوئے تو آپ کا استقبال ایک نوجوان لونڈی نے کیا۔ تو آپؐ نے اُس سے پوچھا کہ: ’’تم کس کی ہو؟‘‘ تو اُس نے کہا کہ: میں زید بن حارثہ کی ہوں۔ تو آپؐ نے حضرت زیدؓ کو اس کی خوش خبری سنائی۔ (سیر اعلام النبلاء، ج: 1، ص: 230)

(من أبواب الإحسان، باب(1): علمُ الشّرائع و الإحسان)

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین

چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار  (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’(اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے مسنون ذکر و اذکار کی اہمیت پر چوتھی حدیث:)…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مارچ 18, 2022

احسان و سلوک کی ضرورت اور اہمیت  (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جاننا چاہیے کہ شریعت نے انسان کو سب سے پہلے حلال و حرام کے حوالے س…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 10, 2021

تمام نیکیوں کا بنیادی اساسی اُصول؛ توحید ِالٰہی  (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : [توحید کے ان آخری دو مرتبوں کی مخالف جماعتیں] ’’... توحید کے ان آ…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جون 13, 2021

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اَذکار  (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : (4۔ ’’اللّٰہ أکبر‘‘ کی عظمت اور سلطنت ) ’&rs…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جون 11, 2022