

’’نفس‘‘ سے متعلق ’’مقامات‘‘ (2)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
(2۔ حیا)
(’’نفس‘‘ کے مقامات میں سے دوسرا مقام ’’حیا‘‘ ہے۔) جب ’’توبہ‘‘ کا مقام مکمل ہوجاتا ہے اور وہ انسانی نفس میں ایک مضبوط ملکہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جلالتِ شان کے سامنے انسان کے نفس میں اضمحلال اور کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ اس حد تک کہ کوئی تبدیل کرنے والا بھی اُسے تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس مقام کو ’’حیا‘‘ کہا جاتا ہے۔
’’حیا‘‘ کا معنی لغت میں یہ ہے کہ انسانی نفس اُن چیزوں سے رُک جائے، جن کو عام طور پر لوگ عیب سمجھتے ہیں۔ پس اس لغوی معنی کو شریعت نے انسانی نفس میں مضبوط ملکہ کی طرف منتقل کردیا، کہ جس کے ذریعے سے انسانی نفس اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسے پگھل جائے، جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ اور اس حالت کے سبب سے وہ اُن خیالات کی طرف نہ جھکے، جو شریعتِ الٰہیہ کے مخالف ہوتے ہیں۔
نبی اکرم ْﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’حیا ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث 5077) پھر (ایک دورسی حدیث میں) آپ ﷺ نے حیا کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ سے شرم و حیا کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیا کرنے کا حق ہے‘‘ ۔ صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے شرم و حیا کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’حیا کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیا کرنے کا جو حق ہے، وہ یہ ہے کہ: (الف) تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ، (ب) اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں، ان کی حفاظت کرو، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، (ج)اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت کو ترک کر دے۔ پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے حیا کی، جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے‘‘۔ (جامع ترمذی، حدیث: 2458)
مَیں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ: کبھی اُس انسان کے لیے جو اپنی جبلت کے ضعف اور کمزوری کی وجہ سے بعض افعال کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتا ہے، عرف میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑا حیا والا ہے۔ اور کبھی اُس آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑا حیا والا ہے،جو صاحبِ مروّت ہوتا ہے اوروہ ایسا کام نہیں کرتا جس کے پھیل جانے پر لوگ باتیں بنائیں۔ حال آں کہ اس طرح کے دونوں لوگ ایسی ’’حیا‘‘ نہیں رکھتے، جو نفس کے مقامات میں سے کسی درجے میں شمار ہوتی ہے۔
پس نبی اکرم ﷺ نے: (الف) اس حیا کا مرادی معنی اُن افعال کو بیان کرنے سے متعین کردیا جو حیا سے پھوٹتے ہیں۔ (ب) اور آپ ﷺ نے اس سبب کو بھی واضح کردیا، جس سے یہ حیا حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور اس کے قریب تر وہ چیزیں بھی بیان کردیں، جو عام طور پر ’’حیا‘‘ کو لازم ہوتی ہیں۔
چناں چہ حدیث میں آپ ﷺ کے اس ارشاد: (الف) ’’فلیحفظ الرأس‘‘ (یعنی: سر کی حفاظت کرے) سے اُن افعال کو بیان کرنا مقصود ہے، جو انسانی نفس میں موجود ملکہ حیا سے پھوٹتے ہیں۔ اور اس سے مراد یہ ہیں: جو شریعت کے مخالف چیزیں ہوں، اُن کو چھوڑ دے۔ (ب) آپ ﷺ کے اس ارشاد: ’’ولیذکرِ الموت‘‘ (موت کو یاد رکھے) سے اُس سبب کو بیان کرنا مقصود ہے، جو انسانی نفس میں قرار پکڑ لیتا ہے۔ (ج) اور ایسے ہی آپ ﷺ کے اس فرمان: ’’ومن أراد الآخرہ‘‘ (جو آدمی آخرت کا ارادہ رکھتا ہے‘‘ سے حیا کی اُس قریبی چیز کا بیان ہے جس کا تعلق ’’زہد‘‘ سے ہے، اس لیے کہ ’’حیا‘‘ کا مقام، ’’زہد‘‘ کے مقام سے باہر نہیں ہوتا۔
(3۔ ورع اور پرہیزگاری)
پس جب انسانی نفس میں ’’حیا‘‘ کا مقام جم جاتا ہے تو نورِ ایمانی بھی نازل ہوتا ہے اور اُس نورِ ایمانی کے ساتھ قلب کی جبلت مل جاتی ہے۔ پھر وہ نورِ ایمانی‘ قلبی جبلت کے ساتھ مل کر نفس کی طرف بہاؤ کرتا ہے۔ اور وہ انسانی نفس کو شکوک و شبہات سے بچا لیتا ہے۔ اس مقام کو ’’ورع‘‘ کہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ:
’’بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں، لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی۔ جو شبہات سے بچا، اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا‘‘۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2494)
اسی طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو چیز تجھے شک میں ڈال دے، اسے چھوڑ دے اور شک سے پاک چیز اختیار کر، کیوں کہ سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2773)اسی طرح آپ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ: ’’بندہ حقیقی متقی تب بنتا ہے کہ وہ قابلِ اعتراض چیزوں کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ایسی چیزیں بھی چھوڑدے، جن پر کوئی اعتراض نہیں‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2775)
مَیں کہتا ہوں کہ: کبھی کسی مسئلے میں دو پہلو آپس میں ایک دوسرے کے متضاد ہوتے ہیں۔ ایک پہلو جائز اور مباح کا ہوتا ہے، جب کہ دوسرا پہلو حرام کا ہوتا ہے:
(الف) شریعت سے ثابت شدہ اصل مسئلے کے ماخذ میں یہ دو پہلو ہوتے ہیں: مثلاً دو حدیثیں آپس میں ایک دوسرے کے متعارض ہیں، یا دو قیاس آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ (ب) یا کسی پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں جواز اور حرام کے احکام کے ذریعے سے ان دونوں کے درمیان شریعت میں مقرر کردہ قاعدے کے مطابق تطبیق دے دی گئی ہے۔ لیکن بندے اور اللہ کے درمیان معاملہ اُس وقت تک صاف نہیں ہوتا، جب تک انسان اُسے چھوڑ نہ دے اور ایسی چیز اختیارکرے، جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہ ہو‘‘۔ (حُجّۃ اللّٰہ البالغہ، أبواب الإحسان، باب: 4، المقامات والأحوال)

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
سلسلہ عاليہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین پنجم
حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ
سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ اور پانچویں مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی راؤ عبدالرؤف خان(مجاز حضرت اقدس رائے پوری چہارم)ہیں۔ آپ کی پیدائش02 /جمادی الاول1381ھ/12 /اکتوبر1961ء بروز جمعرات کو ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپ کا نام ” عبدالخالق"رکھا۔9سال کی عمر میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ اس سے آپ کی ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حفظ قرآن حکیم حضرت کے حکم سے ہی قائم شدہ جامعہ تعلیم القرآن ہارون آباد میں مکمل کیا اور درس نظامی کے ابتدائی درجات بھی اسی مدرسے میں جید اسا تذہ سے پڑھے۔ پھر جامعہ علوم اسلامیہ کراچی میں حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی(شاگرد مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا محمد ادریس میرٹھی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی)، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی و مولانا سید حسین احمد مدنی)وغیرہ اساتذہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی ۔ پھر دو سال انھی کی زیرنگرانی تخصص فی الفقہ الاسلامی کیا اور دار الافتار میں کام کیا۔
1981ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری سے با قاعدہ بیعتِ سلوک و احسان کی اور آپ کے حکم سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ذکر کا طریقہ اور سلسلہ عالیہ کے معمولات سیکھے۔ اور پھر12سال تک حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی معیت میں بہت سے اسفار کیے اور ان کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔1992ء میں ان کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی صحبت میں رہے اور مسلسل بیس سال تک ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور ظاہری اور باطنی تربیت کی تکمیل کی۔ رمضان المبارک1419ھ/ 1999ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائےپور میں آپ کو اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔
15سال تک آپ جامعہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں تفسیر، حدیث ، فقہ اور علوم ولی اللہی کی کتابوں کی تعلیم و تدریس کرتے رہے۔2001ء میں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے قیام کے بعد سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ایما پر لاہور میں مستقل قیام کیا۔ اس وقت سے اب تک یہاں پر دورۂ حدیث شریف کی تدریس اور علوم ولی اللہی کے فروغ کے ساتھ ماہنامہ رحیمیہ اور سہ ماہی مجلہ"شعور و آگہی" کی ادارت کے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری چار سالوں میں آپ کو اپنا امام نماز مقرر کیا۔ آپ نے اُن کے حکم اور تائیدی کلمات کے ساتھ سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا طریقہ تربیت و معمولات بھی مرتب کیا۔ آپ بھی شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیت ہیں۔ آپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے جانشین ہیں اور سلسلے کے تمام خلفا اور متوسلین آپ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ مزید...
متعلقہ مضامین
اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اَذکار (2)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : (4۔ ’’اللّٰہ أکبر‘‘ کی عظمت اور سلطنت ) ’&rs…
سماحت ِنفس: انسانیت کا تیسرا بنیادی خُلق
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’(انسانیت کے بنیادی اَخلاق میں سے) تیسرا اصول ’’سماحتِ نف…
احسان و سلوک کی ضرورت اور اہمیت (1)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جاننا چاہیے کہ شریعت نے انسان کو سب سے پہلے حلال و حرام کے حوالے س…
مختلف اوقات اور حالات کی دعائیں(4)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : (نئے کپڑے پہننے کی دعائیں) جب نیا کپڑا پہنے تو یہ دعائیں پڑھے: (1) …
