حضرت جابر بن عبداللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ

مولانا قاضی محمد یوسف

مولانا قاضی محمد یوسف
مولانا قاضی محمد یوسف
جون 15, 2023 - ایمان افروز واقعات
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ ہجرتِ مدینہ سے 16 سال قبل پیدا ہوئے۔ آپؓ کے دادا عمرو بن حرام انصاری اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ بیعتِ عقبہ ثانیہ کے وقت آپؓ اپنے والد حضرت عبداللہ انصاریؓ کے ساتھ مسلمان ہوئے۔ اس موقع پر آپؓ کے والد بنوحرام کے نقیب مقرر ہوئے۔

آپؓ کے والدؓ غزوۂ اُحد میں شہید ہوئے اور اُن کا مثلہ کیا گیا۔ اس پر حضور اقدس ﷺ نے حضرت جابرؓ سے فرمایا: ’’جابر! تیرے والد سے اللہ تعالیٰ نے بالمشافہ کلام کیا، جب کہ باقیوں سے پردے کے پیچھے سے کلام کرتا ہے‘‘۔ آپؓ کا گھر مسجدِ نبویؐ سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ آپؐ تمام نمازیں مسجدِ نبویؐ میں ادا کرتے تھے۔ آپؓ اپنے والد کی غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد میں شرکت کی وجہ سے خود ان غزوات میں شریک نہ ہوسکے تھے، لیکن اس کے بعد 19 کے قریب تمام بڑے غزوات میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ آپؓ نے بڑی عمر کی بیوہ سے شادی کی، تاکہ آپؓ کی 9 چھوٹی بہنوں کی تربیت و اُمورِ خانہ داری قائم رہ سکیں۔

حضرت جابرؓ نے غزوۂ خندق کے موقع پر آپ ﷺ کی دعوت کی۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے اعلان کرا دیا کہ جابر کے ہاں تمام اہلِ خندق کی دعوت ہے۔ چناں چہ اس موقع پر آپؐ کی برکت سے چند افراد کاکھانا 1400 صحابہ کرامؓ نے کھایا۔ ایک موقع پر آپؐ نے 25 بار حضرت جابرؓ کے لیے استغفار کی دعا پڑھی۔ آپؐ کو اگر قرض کی ضرورت پڑتی تو آپؐ حضرت جابرؓ سے قرض بھی لے لیتے تھے۔

حضرت جابرؓ سے سینکڑوں احادیث مروی ہیں، جن میں سے ایک یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی، یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں‘‘۔ (صحیح مسلم) حضرت جابرؓ نے حضرت عبداللہ بن انیسؓ سے حدیث مبارک سیکھنے کے لیے شام اور حضرت مسلمہ بن مخلدؓ سے سننے کے لیے مصر کا طویل سفرکیا۔ حضرت جابرؓ نے طویل عمر پائی اور علومِ نبوت کا شوق تعلیم و تعلّم اور عملی میدانوں میں مسلسل جدو جہد کی صحبتِ نبویؐ کی فیض یابی کے ساتھ اجلہ صحابہ کرامؓ سے کسبِ فیض کیا اور مسجدِ نبویؐ میں اپنے حلقۂ درس سے ہزاروں طالبینِ علوم کو سیراب کیا۔ آپؓ تفسیر، حدیث اور فقہِ دین میں کمال درجے کی مہارت رکھتے تھے۔ آپؓ نے خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں بھی مختلف سماجی ذمہ داریوں پر فائز رہ کر بھر پور کردار ادا کیا۔ تابعینؒ کے ہر طبقے نے آپؓ سے کسبِ فیض کیا ہے۔

۷۴ ہجری کے آخر میں آپؓ نے مدینہ طیبہ میں 94 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپؓ کی نماز جنازہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہٗ کے صاحبزادے نے پڑھائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔

متعلقہ مضامین

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بنتِ حارث

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قبیلہ قریش سے تھیں۔ آپؓ کے والدین نے آپؓ کانام ’’برّہ‘‘ رکھا تھا۔ جب حضورؐ کے نکاح میں آئیں تو آپؐ نے ان کا نام …

مولانا قاضی محمد یوسف جولائی 12, 2021

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ - صحابہؓ کا ایمان افروز کردار

صحابہؓ کا ایمان افروز کردار حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ غزوۂ خیبر کے سال (۷ھ / 628ء) مسلمان ہوئے…

مولانا قاضی محمد یوسف جولائی 21, 2022

ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے دوران کابل میں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کی قائم کی گئی حکومتِ موقتۂ ہند کی موجودگی اور پنجاب اور بنگال میں جاری تحریکوں کی وجہ سے بر…

وسیم اعجاز مارچ 18, 2022

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ نقوشِ زندگی کا ایک مختصر خاکہ تحریر: مفتی عبدالخالق آزاد ٭ آپؒ کی پیدائش رجب 1344ھ / جنوری 1926ء کو حضرتِ اقدس…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری ستمبر 13, 2021