ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ

وسیم اعجاز
وسیم اعجاز
مارچ 18, 2022 -
ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے دوران کابل میں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کی قائم کی گئی حکومتِ موقتۂ ہند کی موجودگی اور پنجاب اور بنگال میں جاری تحریکوں کی وجہ سے برطانیہ کی جانب سے 1918ء میں سڈنی رولٹ نامی انگریز جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم ہوئی۔ اس کا کام ہندوستان میں جاری تحریکوں کے دیگر ممالک سے روابط کا جائزہ لینا تھا۔رولٹ کمیٹی نے بہت تفصیل سے تحریکِ حضرت شیخ الہندؒ پر روشنی ڈالی ہے۔ اگرچہ انگریز اس تحریک کے تمام گوشوں سے واقف تو نہ ہوسکے، لیکن جیسے جیسے اُن کو معلومات ملتی گئیں، ویسے ویسے ان کے پائوں لرزتے گئے۔ کمیٹی کی تجاویز پر رولٹ ایکٹ (جسے کالا قانون کہا گیا) 18؍ مارچ 1919ء کو منظور ہوا، جو 1915ء والے ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کی وسیع تر شکل تھی۔ اس سے شہری آزادی مزید محدود ہوگئی۔ آزادیٔ رائے اور اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی۔ اس قانون کے خلاف ملک گیر تحریکات کا آغاز ہوا۔ امرتسر (پنجاب) میں جن رہنمائوں نے قائدانہ کردار ادا کیا، ان میں سرِفہرست ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ کا نام نمایاں ہے۔

ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ 15؍ جنوری 1888ء کو فرید کوٹ میں عزیز الدین کچلو کشمیری کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر ہی میں حاصل کی۔ مزید تعلیم کے حصول کے لیے کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوئے، جہاں سے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ برلن (جرمن) سے فلسفے میںپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1919ء میں وطن واپس آکر وکالت کے پیشے سے منسلک ہوگئے۔ اسی سال میونسپل کمشنر امرتسر متعین ہوئے۔ یہ وہ دور تھا، جب پورے ملک میں آزادی پسند متحرک تھے اور خاص طور پر تحریکِ ریشمی رومال، تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدمِ اعتماد زوروں پر تھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی تحریکِ خلافت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اپنی سیاسی زندگی کا آغاز خلافت کمیٹی سے کیا۔ اس دوران وکالت پر خاص توجہ نہ رہی تو اس پیشے کو خیر باد کہہ دیا۔

موصوف اپنے ایک قریبی دوست ڈاکٹر ستیہ پال کے ساتھ مل کر رولٹ ایکٹ کی خلاف تحریک میں شامل ہوئے۔ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے ملک کے بہت سے شہروں کے دورے کیے۔ 30؍ مارچ 1919ء کو امرتسر میں 35 ہزار لوگوں کے مجمع سے ڈاکٹر صاحبؒ نے خطاب کرکے اس تحریک کو مزید تیز کردیا۔ 6؍ اپریل تک یہ تعداد 50 ہزار تک جا پہنچی۔ اپنی بات کو عام و خاص تک پہنچانے کا آپؒ کو ایک خاص ملکہ تھا۔ شعلہ بیاں مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مؤقف پر علمی حوالے سے بھی گہری دسترس بھی رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ آپؒ کی باتوں کا اثر لیتے اور بہت جلد علمی اور عملی میدان میں کردار ادا کرنے کے لیے آپؒ کے شانہ بہ شانہ ہوجاتے تھے۔ جس کی پاداش میں ان دونوں دوستوں کو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ 10؍ اپریل 1919ء کو قید کرلیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 13؍ اپریل 1919ء کو جلیانوالہ باغ کا خونیں حادثہ پیش آیا، جوکہ آج بھی انگریز سامراج کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کا مصداق ہے۔ موصوفؒ کا یہ امتیاز بھی ہے کہ انھوں نے اپنی پوری دولت تحریکاتِ آزادی میں خرچ کردی تھی۔ ان کا شمار 1920ء میں حضرت شیخ الہندؒ کی سرپرستی میں قائم ہونے والی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے بانی اراکین میں بھی ہوتا ہے۔

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع ’’خالق دینا ہال‘‘ میں حکومتِ برطانیہ نے مؤرخہ 26؍ دسمبر 1921ء کو مولانا محمد علی جوہرؒ اور ان کے بھائی مولانا شوکت علیؒ، مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مولانا نثار احمد کانپوریؒ، پیر غلام مجدد سرہندی ؒاور سوامی شنکر اچاریہ پر بغاوت کا تاریخی مقدمہ چلایا تھا اور انھیں دو دو سال کی سزا سنائی گئی۔ انھیں رہنمائوں میں ایک نام ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ  کا بھی ہے۔

موصوفؒ کو پنجاب کانگریس کمیٹی کے پہلے صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ بعد میں دہلی کانگریس کمیٹی کی صدارت پر بھی فائز کیے گئے۔ 1924ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدمِ اعتماد میں عملی کردار ادا کرنے کی پاداش میں برطانوی حکومت نے انھیں گرفتار کیا۔

ہندوستان کی کامل آزادی کے لیے کی جانے والی اہم کاوشوں میں ایک کاوش امرتسر میں ہندوستان بھر کی آل پارٹیز کانفرنس بلانا تھا۔ 1925ء میں بلائی گئی اس کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب موصوفؒ مجلسِ استقبالیہ کے صدر تھے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد وطنِ عزیز کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا تھا۔ مزید برآں پرنٹ میڈیا کے ذریعے اپنے آزادی پسندی کے مؤقف کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لیے آپؒ نے امرتسر سے ’’تنظیم‘‘ نامی ایک اُردو روزنامے کا بھی اجرا کیا۔ اس روزنامے نے تحریک میں تیزی پیدا کی۔

1926ء میں نوجوانان بھارت سبھا قائم ہوئی تو موصوفؒ کا شمار اس کے بانی اراکین میں کیا جاتا ہے۔ 1930ء اور 1934ء کے دوران بھی کئی بار قید ِسلاسل میں رہے۔

ایک مرتبہ حکومتِ برطانیہ نے ’’مجلسِ احرارِ اسلام‘‘ کے رہنماؤں؛ مولانا ظفر علی خانؒ،شیخ حسام الدینؒ،سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ، اورمولانا سیّد محمدداؤد غزنویؒ کو ایک ہی وقت گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا تھا۔

ملک کی آزادی کے بعد ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ نے ہندوستان میں ہی قیام پذیر رہے۔ انھوں نے عالمی امن کمیٹی کے انعقاد میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ ا س کمیٹی کی صدارت کے لیے بھی آپؒ کو ہی منتخب کیا گیا۔ انھوں نے اس خطے میں امن و امان کے لیے بھی بڑی خدمات سرانجام دیں۔ انھی خدمات کے صلے میں موصوفؒ کو 1952ء میں ’’لینن امن ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒکا انتقال 9؍ اکتوبر1963ء کو دہلی میں ہوا۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے قبرستان میں آسودئہ خاک ہیں۔

متعلقہ مضامین

حضرت مولاناعبداللہ لغاریؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے قریبی ساتھیوں میں ایک اہم نام حضرت مولانا عبد اللہ لغاریؒ کا بھی ہے۔ ان کا تعلق ضلع گھوٹکی (صوبہ سندھ) کے ایک گائوں ’’دا…

وسیم اعجاز فروری 17, 2021

حضرت مولانا ابو حامد محمدمیاں منصورانصاریؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے قائدین میں ایک اہم ترین نام حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ کا بھی ہے، جنھوں نے اس تاریخی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ مولانا انصاریؒ 10؍مارچ …

وسیم اعجاز مارچ 14, 2021

حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم سجاولی  ؒ

ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح سندھ دھرتی کے لوگوں نے بھی ہندوستان کی تحریکاتِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی کاوشوں سے وادیٔ …

وسیم اعجاز مئی 20, 2021

حضرت مولانا شیخ بشیر احمد لدھیانویؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگردوں میں ایک نمایاں نام مولانا بشیراحمد لدھیانویؒ کا بھی ہے، جو حضرت سندھیؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے بڑی ذمہ داری سے کام …

وسیم اعجاز جنوری 08, 2021