امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت
درس : 32
(دوسرا مقالہ: مبحثِ اول، فصل؛ 2)
معرفتِ خداوندی: ادراک انسانی، عقلِ معاشی ، اسماء حسنیٰ اور نظام کائنات کے تناظر میں
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 21؍ فروری 2024ء / 10؍ شعبان المعظم 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز درس
0:25 دوسری فصل کے نصفِ اول کا جامع خلاصہ
31:21 6۔ ایسے صاحبِ ادراک کے مُدرَک کو پیشِ نظر رکھنے یا محض اِدراک تک محدود رہنے کی ممکنہ دو صورتوں سے حاصل نتائج
46:08 ’استویٰ علی العرش‘ کے ادراک کے حوالے سے مؤمن کا معاملہ
51:38 علم اصل نہیں بلکہ مُدرَک کا اِدراک اصل ہے‘ دو حدیثوں سے وضاحت
1:04:57 آج کا بڑا فتنہ‘ اپنے اِدراک اور علم کو حتمی اور قطعی سمجھنا
1:05:27 7۔ عقلِ معاشی کے ذریعے معرفتِ خداوندی کا حصول ممکن
1:05:27 (الف) عقلِ معاشی اپنے رب کی معرفت حاصل کر سکتی ہے
1:06:01 (ب) انسان اس معرفت کو عرف کی زبان میں تعبیر کر سکتا ہے
1:06:37 اسماءِ حسنیٰ مقرر کرنے کا اجمالی قانون؛ تجلئ الہی کا افاضہ، اَدناس سے پاکیزگی و براءت، عرفی زبان کا عظیم ترین وصف اور عالمگیر نظام کے اِدراک کی اساس پر معرفتِ خداوندی کی تعبیر کی چار شکلیں
1:19:53 8۔ کائنات کا عالمگیر نظام اور حکمتِ بالغہ کا انکار ممکن نہیں!
1:23:56 تمام نشئات و مواطن کے دائروں کا احاطہ کرنے والے حکماء و علمائے ربّانین‘ اسماءِ حسنیٰ کی حقیقت سے آشنا ہیں
1:27:13 فطری طور پر استعدادِ واحد والے افراد‘ نشأةِ نسمیہ کے پہلو پر غور و فکر کرکے اسماء و صفات کی تفصیلی معرفت حاصل کر سکتے ہیں
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا



