البدور البازغہ | 28 | مزاجِ انسانی: منطقی اصول، انبیائی ادوار اور نظامِ ارتفاقات میں کردار

تفصیل

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 28
(پہلا مقالہ: مبحثِ سابع، فصل؛21 ، 22)
(پہلے مقالے کی آخری بحث)
مزاجِ انسانی: منطقی اصول، انبیائی ادوار اور نظامِ ارتفاقات میں کردار

مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 17؍ جنوری 2024ء / 05؍ رجب المرجب 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز درس
0:19 علم الاخلاق و علم الارتفاقات کی مباحث کی تکمیل کے بعد مزاجِ انسانی کے منطقی اصولوں پر مشتمل منفرد بحث کا آغاز
2:29 فصل؛ 19 میں انسانی مزاجوں سے اخلاق و ارتفاقات کے پھوٹنے کے عمل کی اصولی توضیح
3:14 افرادِ انسانی کے حقیقی مزاج تک رسائی کیسے ممکن ہے؟
9:14 مزاجِ انسانی کو ملاحظہ کرنے کے چار منطقی اصول:
11:50 ۱) صَلابت و صَفاء کا وزن معلوم کرکے ان سے اخلاق کی پیمائش تک رسائی
13:33 صَلابت و صَفاء کی وضاحت
17:04 صَلابت و صَفاء کے اعتبار سے کامل المزاج، مزاجِ تامّ و دیگر افراد کی جسمانی ساخت اور اخلاقی حالت کا جائزہ
22:29 ہر مزاج اور جبلّت کے خصوصی آثار اور نتائج کی تفصیلات
28:32 ۲) نظامِ ارتفاقات کے اعتبار سے درست مزاح کے حاملین حکمرانوں اور ہر شعبے کے سربراہان کی صفات کا جائزہ
41:52 ۳) ہمت کی بلندی اور پستِ ہمتی کے پہلو سے انسانوں کے مزاج کا مشاہدہ
43:44 ہمت کا معاملہ گنبد کی طرح نیز بچے، جوان اور سمجھ دار عقل مند شخص کی مثالوں سے ہمت کے قبّے کی وضاحت
50:25 خلیفہ مامون الرشید اپنی اعلی درجے کی ہمت کی بدولت غیر معمولی ذہانت و فطانت اور اعلی انتظامی صلاحیتوں کے مالک
52:53 ہر انسان اپنی ہمت کے قبّے کے مطابق علمی و عملی شعبہ، پیشہ اور منصب اختیار کرتا ہے۔
1:01:26 ۴) اصلِ فطرت (انبیاؑ کے مزاجوں کے) کے اعتبار سے انسانوں کے مزاج کی تفتیش، پہلے دور کے انبیاؑ کے مزاج؛ مزاجِ آدمی، مزاجِ ادریسی اور مزاجِ نوحی
1:06:43 دوسرے دور کے انبیاؑ کے مزاج؛ حضرت ابراہیمؑ سے لے کر حضرت محمدؐ تک
1:11:52 حدّت، سُبوغ اور اِمدادِ سماوی کی توضیح و تشریح
1:16:34 ردیُّ الترکیب اور سویُّ الترکیب افراد کی شجاعت اور کمزوری کے اعتبار سے فرق کی نوعیت
1:18:29 پہلے مقالے کی آخری فصل؛ 20 میں ارتفاقات اختیار کرنے کے حوالے سے لوگوں کو تنبیہ
1:18:45 علمِ اخلاق و علمِ ارتفاق بدیہی اور ہر انسان کی اصلِ فطرت کا حصہ
1:21:08 نظام ارتفاق کے حوالے سے شاہ صاحبؒ کی غیر سلیم الفطرت اور بد ذوق شخص پر کڑی تنقید اور دلائل سے ان کے نظریے کا بطلان
1:27:18 دو طبقات ان علوم کے منکر اور انبیاؑ کی ہدایت سے مستفید نہیں ہو سکتے؛ اہلِ بلاہت اور سوفسطائیہ
1:31:00 نظام کے تین درجات اور انسانی طبیعت کا اصل تقاضا‘ صحت مند نظام کا قیام
1:34:08 ارتفاقِ اول و ثانی کے اعتبار سے کرۂ ارض کا جائزہ نیز ارتفاقِ ثالث کے چار طرح کے نظام نیز بڑے مرض اور بحران کے پیدا ہونے کی وجہ

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا

پلے لسٹس
البدور البازغة
وقت اندراج
اگست 27, 2026