امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت
درس : 24
(پہلا مقالہ: مبحثِ خامس فصل؛ 14)
ریاست کے لئے عسکری حکمتِ عملی کی اہمیت: جنگی و جاسوسی نظام اور اعلیٰ قیادت کے اوصاف و ذمہ داریاں
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 29؍ نومبر 2023ء / 14؍ جمادی الاولیٰ 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز درس
0:21 ریاست کے دفاع کے لیے عسکری حکمت عملی کی اہمیت
1:29 اس فصل میں جہاد کے امور اور امیر العساکر کے اوصاف کا بیان
2:06 ’حجة اللہ البالغہ‘ میں جہاد اور عسکری قوت کی ضرورت واہمیت اور چھ اصولوں کا ذکر
11:54 فصل کے آغاز میں اصولِ حرب کا بیان
12:36 1۔ ریاست کی بقا، فوجی قوت اور جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن حد تک جنگ سے بچنا
19:18 2۔ جنگ لڑنے کی صورت میں سپہ سالار کو جنگ کے مقاصد واہداف کو پیشِ نظر رکھنا
22:31 ممکنہ جنگی مقاصد و اہداف کی فہرست
26:43 ہر جنگ کے علیحدہ علیحدہ آداب نیز محض مال کے حصول کے لیے انسانی جانوں کو فنا کے گھاٹ نہیں اتارنا چاہیے!
29:37 3۔ جنگی سازوسامان اور بہادر فوج کی تیاری
33:32 4۔ دشمن کے مکرو فریب کی جان کاری کے لیے جاسوسی کا نظام
35:30 5۔ منظم لشکر کے ساتھ جنگ لڑنا
39:13 عین معرکہ کے وقت کے جنگ کے دس اصول اور سالارِ اعظم کی ذمہ داریاں
59:06 فتح اور جنگ جیتنے کے بعد کے حکمران کے کرنے کے کام
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا



