اقوامِ عالم کی ترقی کے لیے دو قرآنی اُصول

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
ستمبر 10, 2021 - خطباتِ جمعتہ المبارک
اقوامِ عالم کی ترقی کے لیے دو قرآنی اُصول

20؍ اگست 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’معزز دوستو! ہمارے اس خطے کے حوالے سے اگست کا مہینہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم سب لوگ 14؍ اگست کو یومِ آزادی مناتے ہیں۔ ہندوستان والے 15؍ اگست کو مناتے ہیں۔ 19؍ اگست کو افغانستان والے یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اس ریجن میں اگست کے مہینے میں آزادیوں کے نام پر بڑی گفتگو کی جاتی ہے۔ یومِ استقلالِ افغانستان ہو، یا یومِ استقلالِ پاکستان ہو، یا یومِ استقلالِ ہندوستان ہو، سمجھنا یہ ہے کہ قوموں کی آزادی کا معیار کیا ہے؟ اس حوالے سے بہ حیثیت مسلمان قرآن پر ایمان رکھنے والی جماعت کے ہمیں یہ غور و فکر کرنا ہے کہ آزادی اور حریت کا بنیادی مفہوم کیا ہے؟ قومیں بنتی کیسے ہیں؟ بگڑتی کیسے ہیں؟ قوموں کی بنیادی شناخت کیا ہونی چاہیے؟

قرآن حکیم نے اس حوالے سے ایک بڑا آفاقی اصول بیان کیا ہے کہ: دنیا کی ہر قوم اور ہر جماعت میں ہم نے رسول بھیجے ہیں۔ اُن پیغمبروںاور انسانیت کو درست راستے پر لانے والے رہنماؤں نے دو بنیادی باتوں کا پیغام انسانیت کے سامنے رکھا: ایک یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ غلامی صرف اُسی کی کرنی ہے۔

دوسری اہم ترین بات یہ کہ طاغوت سے اجتناب برتو۔ طاغوت سے اجتناب یہ ہے کہ انسانوں کی کوئی جماعت کسی دوسری جماعت کو غلام نہیں بنا سکتی۔ انسانوں کا باہمی رشتہ طاغوتی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن حکیم کے نزدیک طاغوت کی سب سے بڑی علامت ’’فرعون‘‘ ہے، جس نے طاغوتی نظام قائم کیا ہے۔ اس کی مزید وضاحت اللہ پاک نے سورت القصص کے شروع میں فرما دی کہ: فرعون نے بنی اسرائیل میں دو طاغوتی کام کیے: (1) علا فی الارض: زمین میں اُس نے سرکشی کی۔ جب کوئی قوم دوسری قوم کو غلام بناتی ہے، اُس پر چڑھ دوڑتی ہے، اُسے یرغمال بنا لیتی ہے، اُسے قرآن حکیم عُلوّ فی الارض سے تعبیر کرتا ہے۔ (2) یستضعف طائفۃ منہم: فرعون نے اُن مظلوم قوموں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا تھا۔ گروپ بنائے ہوئے تھے۔ ڈیوائڈ اینڈ رول کی سیاست کہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘۔ فرعوب نے جو زندہ رہے، انھیں کمزور بنا کر اُن کی سیاسی حیثیت اور معاشی طاقت اور قوت ختم کردی۔ جو مزاحمت کرتے، اُن کی نوجوان طاقت کو ذبح کرا دیا۔ قتل و غارت گری کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عورتوں کو زندہ رکھا۔ نسل کشی کی۔ نسلیں تباہ کیں۔ وہ بڑا ہی فسادی تھا۔ (القصص: 4)

ان دونوں دائروں __ اللہ کی عبادت اور طاغوت سے اجتناب __ کا انسان کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ قرآن حکیم نے بڑے واضح الفاظ میں یہ حقیقت بیان کردی کہ قومی ترقی کے لیے یہ دو نکاتی ایجنڈا ضروری ہے۔ کوئی قوم اگر طاغوت کے تسلط کو قبول کرلے اور صدقِ دل سے وحدانیت اور اللہ کی غلامی کا واضح اور دو ٹوک اقرار نہ کرے اور عملاً نظام نہ بنائے تو اُس کے لیے سوائے ذلیل ہونے کے اور کچھ نہیں‘‘۔

اس دور کے طاغوت کی سامراجی تاریخ

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’قرآنِ حکیم میں بیان کردہ فرعون کی طاغوتیت کے تناظر میں ذرا دیکھئے کہ ہمارا یہ خطہ پچھلے ڈھائی تین سو سال سے بین الاقوامی طاغوت (انگریز سامراج) کے زیرتسلط ہے۔ آزادی سلب ہوچکی۔ یہ جو یومِ آزادی کے اس مہینے میں، اس ریجن کے سارے ملکوں میں جشن منائے جاتے ہیں، یہ خود اس حقیقت کی غماز ہے کہ آپ پہلے غلام رہے ہیں۔ تبھی تو ہم یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اس موقع پر دو سو سالہ غلامی کی پوری تاریخ سامنے رہنی چاہیے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ڈھائی سو سال سے آپ جس طاقت کے غلام ہیں، اُس کی حقیقی نوعیت طاغوتی نظام کا مسلط کرنا رہا ہے۔ پورا قرآن حکیم پڑھ جائیے، احادیث کا ذخیرہ دیکھئے، کس طرح طاغوت کی تعریف ان یورپین بھیڑیوں پر پوری اُترتی ہے۔ ان سامراجی قوموں کی طاغوتیت کی ایک پوری تاریخ ہے۔ قرآن نے فرعون کا جو نقشہ کھینچا تھا، بالکل وہی بعینہٖ نقشہ اُن سامراجی طاغوتی قوتوں کا ہے، جو دنیا بھر کے ملکوں کو غلام بنانے کے لیے پوری انسانیت کے خلاف پِل پڑے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں ہوں، یا کسی فرانسیسی کمپنی کی صورت میں ہوں، یا کسی اٹالین یا سپینش سفاکوں کی صورت میں ہوں، اپنے اپنے علاقوں میں انھوں نے لوٹ مار کی بندربانٹ کی۔

بدقسمتی سے ہمارا یہ خطہ برطانوی سامراج کے زیرِتسلط رہا۔ افغانستان سے لے کر بنگال تک غلام بنا۔ اس خطے میں طاغوت نے ڈیوائڈ اینڈ رول کی سیاست کی۔ قتلِ عام کی ایک تاریخ رقم کی۔ 1757ء سے بنگالیوں کا قتلِ عام کیا، اسی صدی کے آخر میں بیس لاکھ بنگالی قحط سے مار دیے گئے۔ زرخیز سونا اُگلتی ہوئی زمین کی پیداوار سے گودام بھرے ہوئے تھے، لیکن عوام کو فاقے پر مجبور کردیا گیا۔ کاشت کاروں پر ظالمانہ ٹیکس لگا کر زمینیں چھین لی گئیں۔ جب تین صوبوں کی دیوانی انگریز سامراج کے قبضے میں آئی تو ہندوستان سے ظالمانہ ٹیکس لگا کر دولت نچوڑ لی گئی اور برطانیہ لے جا کر عیاشیاں کی گئیں۔ یہ تو بنگال کی حالت ہے، آگے جہاں جہاں انگریز بڑھتے چلے گئے؛ 1803ء میں دہلی پر، 1843ء اور 1839ء میں سندھ اور پنجاب پر، جہاں جہاں پہنچے، علاقے کنگال کردیے۔ غربت پیدا کردی، بھوک پیدا کردی، بدحالی اُتار دی۔ بعینہٖ فرعون والا کام کیا۔ کوئی اس تاریخ سے انکار کرسکتا ہے؟ 1857ء آیا تو 55 ہزار علما تو صرف دہلی میں شہید کیے۔ لاکھوں انسان قتل کیے۔ بنگال سے لے کر پشاور تک۔ سولیوں پر چڑھایا گیا۔ نسلوں کی نسلیں تباہ کردیں۔ غلام بنایا۔ معاشی وسائل لوٹے۔ انہ کان من المفسدین۔ ہر طرف، ہر ہر مرحلے پر فساد مچایا۔ نئے نئے طریقوں سے فساد مچایا اور تقسیم کیا۔

وہ نسلیں اور مذاہب جو پچھلے ہزار سال سے رواداری کے ساتھ ایک خطے میں رہ رہے تھے، جہاں اولیاء اللہ بھی تھے، اور اپنے اپنے ذہن کے مطابق عبادت کرنے والے رشی اور منو بھی تھے۔ کبھی جھگڑا نہیں ہوا، کبھی لڑائی نہیں ہوئی، انگریز سامراج نے ان میں افتراق و انتشار پیدا کیا۔ طاغوت کی تمام علامتیں جو قرآن حکیم اور احادیث میں بیان کی گئی ہیں، وہ مکمل اور کامل طو رپر اس انگریز سامراج پر فٹ آتی ہیں‘‘۔

افغانستان میں عالمی طاغوت کی سامراجی تاریخ

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’19؍ اگست 1919ء کو افغانستان میں آزادی کی دستاویز پر دستخط کرکے افغانستان کو ایک خود مختار حکومت کے طور پر برطانیہ کو تسلیم کرنا پڑا۔ اس موقع پر برطانیہ کا سفیر سر فرانسس ہمفرے تقریر کرتے ہوئے امان اللہ خاں کو مخاطب کرتا ہے کہ یہ تمھاری کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ عبیداللہ سندھی اور اس کے استاذ مولانا محمودحسن کی کامیابی ہے۔ اُن کی جدوجہد ہے، اُن کی تحریک ہے۔ تم تو خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ مال بناتے تھے، کھاتے پیتے تھے۔ آج افغانستان آزادی کی ایک 102 ویں سالگرہ مناتا ہے۔ اس آزادی کے پیچھے شیخ الہندؒ اور اُن کی جماعت جو انبیا کے سچے جانشین ہیں، جو اس آیت کے مطابق اللہ کی عبادت کرنے والے اور طاغوت کے دشمن تھے، اُن کی قربانیاں ہیں۔

افغانستان کی آزادی بہت بڑی کامیابی تھی، لیکن اب سامراج نے دیکھا کہ یہ تو گیم ہاتھ سے نکل رہی ہے، تو اُس نے بڑا مکارانہ چال چلی کہ مولانا سندھیؒ اور اُن کے ساتھیوں کا افغانستان میں رہنا مشکل بنا دیا۔ انگریز نے امان اللہ خان پر دباؤ ڈالا کہ ہم تمھیں وظیفہ اس شرط پر دیں گے کہ جو ہندوستانی آزادی پسند تمھارے پاس موجود ہیں، اُن کو ہمارے حوالے کرو۔ اگر ہمارے حوالے نہیں کرتے تو ان کو اپنے ملک سے نکال دو۔ حضرت سندھیؒ امیر امان اللہ خان کو سیاسی اقدامات کرنا سکھا رہے تھے، جس کی وجہ سے برطانیہ آزادی دینے پور مجبور ہوا۔ اس لیے مولانا سندھیؒ کو افغانستان سے نکالنے کی کوششیں تیز ہوئیں اور آپؒ کو وہاں سے روانہ ہونا پڑا۔ مولاناؒ نے روس کا راستہ اختیار کیا، وہاں کا انقلاب دیکھا، ترکی کا انقلاب دیکھا اور حرم مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔

آپ دیکھئے کہ جب تک مولانا سندھیؒ کابل میں موجود رہے تو امیر امان اللہ خان وہ فیصلے کرتا رہا، جن سے طاغوت کی جڑ کٹتی ہے۔ جیسے ہی مولانا سندھیؒ وہاں سے تشریف لے جاتے ہیں تو امیر امان اللہ خان ایسے لایعنی فیصلے کرتا ہے، جس کے نتیجے میں آخر کار 1928ء میں بچہ سقہ کے ذریعے برطانوی سامراج افغانستان پر قبضہ کرلیتا ہے۔ پھر اُس کے بعد نادر شاہ آگیا، پھر ظاہر شاہ، پھر داؤد شاہ آگیا، پوری تاریخ ہے۔ پھر پوری گیم کھیل کر روسی طاقتوں کا حملہ ہوا۔ اُن کو پھانس لیا گیا کہ آؤ یہاں کا کیک کاٹو۔ پھر اُن کو ختم کرنے کے لیے یہاں سے علما کو بھرتی کیا گیا۔ جہاد کا نام دے دیا گیا۔ اس طرح افغانستان میں تفریق، بدامنی، ناانصافی اور معاشی بھوک پیدا کی گئی۔

آج سو سال ہوگئے۔ ہر کچھ عرصے بعد کابل فتح ہوتا ہے۔ پھر کابل ڈھایا جاتا ہے۔ افغانستان تعمیر ہوتا ہے اور پھر توڑ دیا جاتا ہے۔ آج بھی عام افغان اُسی طرح بھوکا ننگا ہے، جیسے سو سال پہلے تھا۔ آج بھی افغانستان میں بداَمنی ہے، جیسے سو سال پہلے تھی۔ معاہدات ہوتے ہیں اور معاہدات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے ملکوں کی پراکسیز وہاں پر موجود ہیں، وہ اپنے اپنے گروپوں کو لڑاتی ہیں۔ قرآن نے کہا: ’’زمین میں سیر کرو‘‘ (العنکبوت: 20)۔ تین سو سال کی پوری تاریخ کا مطالعہ کرو۔ تمھیں معلوم ہوگا کہ یہ برطانوی سامراج کی گریٹ گیم ہے‘‘۔

حقیقی آزادی کے لیے قرآنی تعلیمات کی اتباع ضروری

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’آزادی کے لیے شرط ہے کہ دو کام ہونے چاہئیں: اللہ کی عبادت اور طاغوت سے اجتناب۔ اجتنابِ طاغوت کے لیے تین کام ہونے چاہئیں: عدل، امن اور معاشی خوش حالی۔ تب تو یومِ آزادی ہے، اور اگر یہ تین باتیں نہیں ہیں، بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب، عدل و انصاف نہیں ہے، فرقہ واریت اور تفرقہ ہے، انتشار اور بداَمنی ہے، معاشی بھوک و افلاس ہے، تو وہ حقیقی طور پر قومی آزادی نہیں ہے۔

قرآن حکیم نے بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ اگر حقیقی اور واقعی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں، رسولوں اور انبیا کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو طاغوت سے اجتناب کرو۔ طاغوت کے اجتناب کے لیے عدل، امن اور معاشی خوش حالی کو حقیقی معنوں میں قائم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ جب یہ قائم کریں گے تو طاغوتی سرمایہ داری نظام ہلے گا۔ سرمایہ داری نظام کو چوٹ پہنچے گی۔ جب چوٹ پہنچے گی تو کیا وہ آپ کو اپنے قطری سینٹرل کمانڈ کے مرکز العُدید ائیربیس  (Al Udeid Air Base)کے پڑوس میں دفتر بنانے کی اجازت دے گا؟ وہ اپنے زیرتسلط افغانستان کے بنائے ہوئے صدارتی محل اور اپنے گورنروں کے بنائے ہوئے محلات پر قبضہ کرنے دے گا؟ وہ تبھی ایسا کرنے دے گا کہ جب اُن محلات کی سود کی قسط ادا کرنے کے لیے آپ پابند ہوں گے۔ دوحہ معاہدہ پڑھ لو کہ آپ تمام اثاثوں کی حفاظت کریں گے۔ تمام وسائل کی حفاظت کریں گے، اور تمام معاہدات کی پاسداری کریں گے، اس لیے حکومت تمھیں دی جارہی ہے۔ تو پھر رہ کیا گیا؟ تو کیا محض تمناؤں اور آرزوؤں اور حرص و لالچ سے مسئلے حل ہوتے ہیں؟

یہ عذاب اس خطے پر اس لیے ہے کہ شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ ایسے حریت پسند، مولانا عبیداللہ سندھیؒ ایسے دلیر، بہادر، عقیل و فہیم انقلابی انسان، مولانا حسین احمد مدنی ایسے اولوالعزم انسان، اس خطے کے سچے حریت پسند علما کی تکذیب کے نتیجے میں آج ان حالات کے شکار ہیں۔ ان جرائم سے توبہ کرنی پڑے گی۔ صرف سرسری طور پر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت سندھیؒ کا نام لینے، یا تحریکِ شیخ الہند سے مصنوعی طور پر ناطہ جوڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان بزرگوں کی توہین سے توبہ کرو۔ انھوں نے جو عقل دی تھی، جو انبیا اور صحابہؓ کی تعلیمات بتلائی تھیں، ہم نے اُن کو پسِ پشت ڈالا ہے۔ یہ خطہ آج بھی بداَمنی، بھوک، افلاس اور غلامی کی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ جب تک توبہ نہیں کرتے، اور صحابہؓ کے بنائے ہوئے اور نبی اکرمؐ کے بنائے ہوئے اس طریقۂ کار کے مطابق حقیقی معنوں میں آزادی کی جدوجہد نہیں کرتے، اُس وقت کامیابی نہیں ہے۔ تبھی یومِ آزادی حقیقی طور پر منایا جاسکتا ہے۔ تبھی اُس آزادی کے ثمرات حاصل ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن حکیم کو سمجھنے، شعور کو بلند کرنے اور حقائق کا درست تناظر میں اِدراک کرنے، اصلاح اور فساد کے مناظر میں درست نقطہ نظر سے تفریق اور امتیاز پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک اور ہمارے خطے کو سامراجی طاغوتی اثرات سے پاک فرمائے۔ حقیقی آزادی منانے کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ آمین!

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

سلسلہ عاليہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین پنجم

حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ

سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ اور پانچویں مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی راؤ عبدالرؤف خان(مجاز حضرت اقدس رائے پوری چہارم)ہیں۔ آپ کی پیدائش02 /جمادی الاول1381ھ/12 /اکتوبر1961ء بروز جمعرات کو ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپ کا نام ” عبدالخالق"رکھا۔9سال کی عمر میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ اس سے آپ کی ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حفظ قرآن حکیم حضرت کے حکم سے ہی قائم شدہ جامعہ تعلیم القرآن ہارون آباد میں مکمل کیا اور درس نظامی کے ابتدائی درجات بھی اسی مدرسے میں جید اسا تذہ سے پڑھے۔ پھر جامعہ علوم اسلامیہ کراچی میں حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی(شاگرد مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا محمد ادریس میرٹھی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی)، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی و مولانا سید حسین احمد مدنی)وغیرہ اساتذہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی ۔ پھر دو سال انھی کی زیرنگرانی تخصص فی الفقہ الاسلامی کیا اور دار الافتار میں کام کیا۔

1981ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری سے با قاعدہ بیعتِ سلوک و احسان کی اور آپ کے حکم سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ذکر کا طریقہ اور سلسلہ عالیہ کے معمولات سیکھے۔ اور پھر12سال تک حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی معیت میں بہت سے اسفار کیے اور ان کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔1992ء میں ان کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی صحبت میں رہے اور مسلسل بیس سال تک ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور ظاہری اور باطنی تربیت کی تکمیل کی۔ رمضان المبارک1419ھ/ 1999ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائےپور میں آپ کو اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔

15سال تک آپ جامعہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں تفسیر، حدیث ، فقہ اور علوم ولی اللہی کی کتابوں کی تعلیم و تدریس کرتے رہے۔2001ء میں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے قیام کے بعد سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ایما پر لاہور میں مستقل قیام کیا۔ اس وقت سے اب تک یہاں پر دورۂ حدیث شریف کی تدریس اور علوم ولی اللہی کے فروغ کے ساتھ ماہنامہ رحیمیہ اور سہ ماہی مجلہ"شعور و آگہی" کی ادارت کے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری چار سالوں میں آپ کو اپنا امام نماز مقرر کیا۔ آپ نے اُن کے حکم اور تائیدی کلمات کے ساتھ سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا طریقہ تربیت و معمولات بھی مرتب کیا۔ آپ بھی شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیت ہیں۔ آپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے جانشین ہیں اور سلسلے کے تمام خلفا اور متوسلین آپ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ مزید...

 

متعلقہ مضامین

عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت

۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021

دشمن کے منفی رویوں کو سمجھنا اور نظم و نسق کی پابندی

گزشتہ آیات (البقرہ: 104 تا 107) میں یہ واضح کیا گیا کہ بنی اسرائیل کے یہودی اس حد تک انحطاط، ذلت اور غضبِ الٰہی کے مستحق ہوچکے ہیں کہ اب اُن کا تحریف شدہ دین منسوخ کیا…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مارچ 13, 2024

جھوٹی آرزوؤں پر مبنی معاشروں کا زوال

(اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی‘ سوائے جھوٹی آرزوؤں کے، اور ان کے پاس کچھ نہیں، مگرخیالات۔) (-2البقرہ: 78) گزشتہ آیات میں یہودی علما کی …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری اگست 25, 2022

تہذیبِ نفس کے عہد و میثاق کی خلاف ورزی

گزشتہ آیات (البقرہ: 80-82) میں یہودیوں کی تحریفات، ظنون و اَوہام اور ظلم و فساد کا تذکرہ تھا۔ اس آیتِ مبارکہ (البقرہ: 83) سے یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ بنی اسرائیل کو …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری نومبر 11, 2022