بنی اسرائیل پر ذلت، مسکنت او رغضب ِالٰہی کا عذاب

وَضُرِبَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ وَالمَسكَنَةُ وَباءوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ۗ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِآياتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ النَّبِيّينَ بِغَيرِ الحَقِّ ۗ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ (-2البقرہ: 61)
(اور ڈالی گئی ان پر ذلت اور محتاجی، اور پھرے اللہ کا غضب لے کر۔ یہ اس لیے ہوا کہ نہیں مانتے تھے احکامِ خداوندی کو، اور خون کرتے تھے پیغمبروں کا ناحق۔ یہ اس لیے کہ نافرمان تھے اور حد پر نہ رہتے تھے۔)
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اُن کی شخصی تہذیب سے لے کر قومی شہری اجتماعیت کے تربیتی مراحل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کی ترقی کے لیے بہت زیادہ جدوجہد اور کوشش کی، لیکن ان کی اکثریت فرعونی غلامی کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکی۔ انھوں نے فرعون کی غلامی سے آزادی اور حریت حاصل ہونے، اُن پر تورات ایسی اعلیٰ کتاب کے نازل ہونے، صحرائی زندگی کے انعامات، مَنّ و سلویٰ حاصل کرنے، پانی کی منصفانہ تقسیم، ابتدائی اجتماعیت سے لے کر قومی اجتماعیت ایسے بڑے انعامات حاصل کرنے کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے احکامات کی پوری پاسداری نہیں کی۔ اُن کے تعلیم و تربیت کے اقدامات کو قبول نہیں کیا، بلکہ مسلسل اُن کی نافرمانی کرتے ہوئے بچھڑے کی پوجا کی، مشاہدۂ باری تعالیٰ کا مطالبہ کیا۔ بستی میں داخل ہوتے وقت توبہ اور استغفار کے بجائے نافرمانی پر مبنی الفاظ ادا کیے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کے بجائے ناانصافی کے رویے اپنائے اور شہری زندگی کے اُمور میں ظلم و عدوان کی عادت اپنائی۔ اس کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسے تمام قوانین شکن بنی اسرائیلیوں پر ذلت و مسکنت اور غضبِ الٰہی کا عذاب نازل کیا۔ آیتِ مباکہ کے اس جُز میں اُن کی اسی سزا اور عذاب کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
وَضُرِبَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ وَالمَسكَنَةُ٭:کسی بہتر اجتماعی نظام کی تشکیل میں اعلیٰ فکر، عزت و احترام اور امن و امان والا مستحکم سیاسی نظام، عدل و انصاف پر مبنی خوش حالی کا معاشی نظام بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان تینوں دائروں میں بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ہوئے، لیکن انھوں نے تورات کی تعلیمات پر مبنی اعلیٰ علم و فکر کو پورے طور پر قبول نہیں کیا۔ عدل و انصاف اور امن و امان کے بہترین سیاسی نظام کی پوری پاسداری نہیں کی۔ معاشی عدل و انصاف کے منصفانہ نظام سے روگردانی کی۔ مَنّ و سلویٰ اور غذائی اَجناس کی ذخیرہ اندوزی کرکے معاشی ظلم و ناانصافی کے رویوں کا اظہار کیا۔ اس کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر تین عذاب مسلط کیے۔
1۔ الذِّلَّةُ: سیاسی حوالے سے ذلت اور رُسوائی کا عذاب مسلط ہوا، یہاں تک کہ ان کی انھی عادات و اطوار کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے وہ حکومت سے محرومی میں مبتلا ہوئے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں: ’’ذلت یہ ہے کہ ہمیشہ مسلمان اور نصاریٰ (عیسائیوں) کے محکوم اور رعیت رہتے ہیں۔ کسی کے پاس مال ہوا تو کیا، (اپنی مستقل اور آزاد قومی) حکومت سے بالکل محروم ہوگئے، جو موجبِ عزت تھی‘‘۔
2۔ المَسكَنَةُ: معاشی بے انصافی اور ظلم کے نتیجے میں ان پر معاشی حوالے سے مسکنت اور محتاجی مسلط کردی گئی۔ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’محتاجی یہ ہے کہ اوّل تو یہود میں مال کی قلّت (رہی)، اور جن کے پاس مال ہو بھی تو حُکّام (اصل حکمرانوں) وغیرہ کے خوف سے اپنے آپ کو مخلص او رحاجت مند ہی ظاہر کرتے ہیں۔ شدتِ حرص اور بخل کے باعث محتاجوں سے بدتر نظر آتے ہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ’’تونگری بہ دل است نہ بہ مال‘‘ (معاشی آسودگی دل سے ہوتی ہے، نہ کہ مال سے)۔ اس لیے کہ مال دار ہو کر بھی محتاج ہی رہے‘‘۔
3۔ وَباءوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ۗ : کوئی قوم اعلیٰ علم حاصل کرلینے کے باوجود اس پر پورے طور پر عمل نہ کرے تو وہ غضب ِالٰہی کی مستحق ہوجاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے پاس ایک اعلیٰ کتاب تورات کی صورت میں برہان بن کر نازل ہوئی، لیکن انھوں نے اس کی پورے طور پر پاسداری نہیں کی۔ اس کے نتیجے میں اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا۔ علم کی صحیح قدر نہ کی جائے اور اس کے تقاضوں کے مطابق پورا عمل نہ کیا جائے تو وہ قوم ’’مغضوب علیہم‘‘ بن جاتی ہے۔ اس لیے ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’عظمت اور عزت جو اللہ نے عطا فرمائی تھی، اس سے رجوع (روگردانی) کرکے اس کے غضب و قہر میں آگئے‘‘۔
اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ انھوں نے تین بڑے جرائم کیے ہیں:
1۔ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِآياتِ اللَّهِ: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی ترقی اور تہذیب کے لیے اور انسانیت کی رہنمائی کے لیے کلامِ الٰہی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیا پر نازل کیا تھا، لیکن انھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈالا، اس سبب سے وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہوئے۔ یہود کی پوری تاریخ اللہ کی آیات؛ تورات، زبور، انجیل اور قرآن حکیم کے انکار اور توہین پر مبنی رہی ہے۔
2۔ وَيَقتُلونَ النَّبِيّينَ بِغَيرِ الحَقِّ ۗ : اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے جو انبیا علیہم السلام ان کی تعلیم و تربیت کے لیے آئے اور انھیں برائیوں سے باز رکھنے کی کوشش کی، انھیں ناحق شہید کیا، انتہائی اذیتیں اور تکلیفیں دیں اور اپنی بُری عادتوں پر ڈٹے رہے۔
3۔ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ: کوئی قوم ظلم، ناانصافی اور نافرمانی کو اپنا رویہ بنا لے تو وہ دنیا میں بھی عذاب کی مستحق ہوتی ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ بنی اسرائیل ’’عِصیان‘‘ و ’’عُدوان‘‘ پر کاربند رہے۔ ’’عِصیان‘‘ یہ ہے کہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کی نافرمانی اور ان میں کمی اور کوتاہی کرنا۔ ’’عُدوان‘‘ یہ ہے کہ ظلم و ناانصافی کو اپنی عادت اور رویہ بنا لینا۔ اس اِفراط و تفریط اور ظلم و زیادتی کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر یہ عذاب مسلط کیا۔
رات کو گفتگو سے مستثنیٰ لوگ

عن عبداللّٰہ بن مسعودؓ: عَن رسول اللّٰہﷺ:
’’لا سمر إلَّا لمصلّ أو مسافر‘‘۔ (سنن ترمذی، 2730)
(سیّدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں، نبی کریمﷺ نے فرمایا:
’’صرف نمازی اور مسافر لوگ شب کو گفتگو کرسکتے ہیں‘‘۔)
نمازِ عشا کے بعد بلاضرورت جاگنے اور رات کو آنکھوں میں گزارنے سے اس حدیثِ مبارکہ میں منع کیاگیا ہے، تاہم صرف دو لوگوں کو رات کو جلد نہ سونے کی رخصت ہے: ایک عبادت میں مشغول شخص اور دوسرا وہ جو سفر کی حالت میں ہو۔ مذکورہ دو قسم کے اشخاص کے علاوہ اَور لوگوں کو راتوں کو بلاوَجہ جاگنے، قصہ گوئی، گپ شپ میں مشغول رہنے اور بے مقصد مجلس آرائی کرنے سے نبیﷺ نے منع فرمایا ہے۔
آپ ﷺ نمازِ عشا کے بعد عموماً جلد استراحت فرماتے تھے۔ رات کے آخری حصے میں تہجد اور ذکرواذکار کے لیے بیدار ہوجاتے تھے۔ بعض حالات میں رات کے اکثر حصے میں آپﷺ سے دیر تک جاگنے کی روایات بھی منقول ہیں۔ ایسا اس وقت ہوتا تھا، جب آپﷺ صحابہ کرام ؓ کے ساتھ دینی اُمور پر گفت و شنید اور رہنمائی میں مشغول ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آرام کرنے کے لیے مختص کیا ہے۔ (القرآن، 9-10:78) البتہ قرآن ان لوگوں کی فضیلت بیان کرتا ہے جو رات کے آخری پہر اپنے رَبّ کے سامنے کھڑے ہوکر اور سجدے کرکے اللہ کو راضی کرنے میں اپنا وقت قیمتی بناتے ہیں۔ (القرآن، 64:35) نیز ان لوگوں کو استثنا حاصل ہے، جو دینی اُمور میں مشغول ہوں۔ یہ مشغولیت خواہ دین سیکھنے سکھانے کی ہو یا غلبۂ دین کے عملی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہو۔ ان کے علاوہ راتوں کو جاگنا اس حدیثِ مبارکہ میں ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے، جب کہ رات کو جلد سونا اور صبح جلدی اُٹھنا‘ پسندیدہ عمل قرار پاتا ہے۔
عصرِ حاضر کی غلط سماجی اَقدار میںسے ایک نقصان دہ طرزِ عمل یہ ہے کہ رات گئے تک جاگنے کا رویہ رواج پاگیا ہے، بلکہ جلد سونے والوں پر تعجب کا اِظہار کیا جاتا ہے۔ رات کی مجلس آرائیوں میں عموماً بے فائدہ اجتماعیت، بے نتیجہ مباحثوں اور ناپسندیدہ طرزِ گفتگو کا چلن عام ہوتا ہے اور خلافِ شرع اُمور کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس غیرفطری طرزِ زندگی سے خرابیٔ صحت کے ساتھ صبح اُٹھ کر تہجد ادا کرنے کا مسنون مبارک عمل متروک ہوتا جارہا ہے۔ بہت سے لوگ نمازِ فجر کی ادائیگی سے محروم رہ جاتے ہیں، جس سے روح کی پژمردنی اور بے سکونی جنم لیتی ہے۔ معمولاتِ زندگی فطری دائرئہ عمل سے خارج ہوجاتے ہیں اور زندگی بے برکت ہوجاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دن اور رات کے اپنے معمولاتِ زندگی زیرِنظر حدیث مبارک کی روشنی میں ترتیب دیں، تاکہ دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب ہوں۔
حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کی بہادری

حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ آپؓ صائب الرائے اور عظیم المرتبت شخصیت کے حامل تھے۔ قومی و اجتماعی معاملات میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ عرب قبائل کے کئی بڑے سردار آپؓ سے دوستی اور تعلقات رکھتے تھے۔ اسی سے معلوم ہو اکہ وہ عرب اور قرب و جوار کے احوال سے بڑی حد تک آگاہ رہتے تھے۔ غزوۂ بدر میں حضرت عباسؓ قریش کے ساتھ آئے اور قیدہوئے، جس کے بدلے آپؓ نے اپنا اور اپنے بھتیجے عقیل کا فدیہ دیا اور سب مکہ جاکر مسلمان ہوگئے اور ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ نبی اکرمؐ نے بیعتِ عقبہ میں اہلِ یثرب سے معاہدۂ نصرت کے حوالے سے بات چیت کی تو آخری نتیجہ خیز مرحلے پر حضرت عباسؓ شامل ہوئے اور انصارِ مدینہ سے بات کی کہ اس معاہدے کے مضمرات سے آگاہ رہیں کہ آپ لوگ محمدؐ کو مدینہ میں جگہ دے کر سارے عرب سے جنگ کا اعلان کررہے ہیں۔ اگر محمدؐ کا دفاع اپنی ہر چیز قربان کرکے کرسکتے ہیں تو لے جائیں، ورنہ آپؐ اپنے خاندان میں محفوظ ہیں۔ گویا اسلام کوئی معاہدہ دھوکے میں رکھ کر نہیں، بلکہ پورے شعور اور اِدراک کے ساتھ کرتا ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے حضرت حنظلہ بن ربیع کو غزوۂ طائف کے دن طائف والوں کے پاس بھیجا۔ چناں چہ حضرت حنظلہؓ نے ان سے بات کی۔ طائف والے انھیں پکڑ کر اپنے قلعہ میں لے جانے لگے تو حضوؐر نے فرمایا: کون ہے جو اِن آدمیوں سے حنظلہ کو چھڑا کر لائے؟ اسے ہمارے اس غزوے جیسا اجر ملے گا۔ اس پر صرف حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے۔ طائف والے حضرت حنظلہؓ کو لے کر قلعے میں داخل ہونے والے ہی تھے کہ حضرت عباسؓ ان تک پہنچ گئے۔ حضرت عباسؓ بڑے طاقت ور آدمی تھے۔ حضرت حنظلہؓ کو ان لوگوں سے چھین کر آپؓ نے انھیں گود میں اٹھا لیا۔ طائف والوں نے قلعے سے حضرت عباسؓ پر پتھروں کی بارش شروع کر دی، لیکن آخرکار حضرت عباس حضرت حنظلہؓ کو لے کر نبی اکرمؐ تک پہنچ گئے۔
غزوۂ تبوک سے واپسی پر ایک مجلس میں حضرت عباسؓ نے اجازت مانگی کہ میں آپؐ کی مدح میں کچھ اشعار کہنا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’کہو تمھارے دانت سلامت رہیں ‘‘۔ حضرت عباسؓ نے اشعار کہے، جن میں سے چند کا ترجمہ درجِ ذیل ہے:
’’جب تک کہ اس نے خندف کے عالی مقام اور نگہبان خاندان کو محفوظ کردیا اور خاندان نطق و گویائی سے آراستہ ہے۔ آپؐ کی ولادت کے وقت زمین روشن ہوگئی اور آپؐ کی روشنی سے آفاق منور ہوگئے۔ ہم اس روشنی، نور اور نیکی کے راستوں پر چلتے ہیں‘‘۔
حضرت عباسؓ حضور ﷺ کے چچا ہونے کے باوجود ادبِ نبوی کا ہمیشہ لحاظ رکھتے تھے۔ کسی نے حضرت عباسؓ سے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا محمدؐ؟ تو کیا خوب جواب دیا! فرمایا: ’’عمر میری زیادہ ہے اور بڑے وہ ہیں‘‘۔ (تاریح ابن کثیر، تاریخ ابن عساکر، حیات الصحابہ)
اسلامی حکومت کا خواب اور چند سنجیدہ گزارشات

دنیاکی وسیع مسلمان آبادیوں پر مشتمل مسلمان ملکوں میں آج بھی اسلامی حکومت اور اس کے قیام کی خواہش ایک دیرینہ خواب کی شکل میں موجود ہے۔ تاہم ہنوز آج کی موجود مسلم دنیا کا یہ خواب تشنۂ تعبیر ہے۔ کوئی ایک بھی مسلمان ملک اپنے ہاں اسلامی نظام کی موجودگی کا دعویٰ نہیں کرسکتا، کیوں کہ وہ کہیں سرمایہ داری نظام کے شکنجے میں ہے یا اسلام کا صرف نام استعمال کرنے والے طبقوں نے انھیں یرغمال بنا رکھا ہے اور انھوں نے شریعت اور اماراتِ اسلامی کے صرف کھوکھلے نعروں پر مذہب پسندوں کے دلوں کو بہلا رکھا ہے۔ افغانستان میں حالیہ تبدیلی نے ایک بار پھر حساس ذہن رکھنے والوں کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر اسلامی حکومت ہے کیا؟ اور کیا ہم مسلمان اپنے ہاں اصل شکل میں اسلامی نظام کو رائج کرنے میں سنجیدہ بھی ہیں؟ یا صرف اس نظام کو نعروں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں؟
ایک طبقہ اگر نعروں سے چند قدم آگے بڑھتا ہے تو وہ اپنے خیال میں دستور میں چند اسلامی شقیں شامل کروا کے یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب ملک کا دستور اسلامی ہوگیا ہے۔ جیسا کہ ہمارے دستور میں لکھا ہے کہ ’’ملک کا سربراہِ مملکت مسلمان ہو گا‘‘۔ ایسے ہی یہ شق کہ ’’اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے‘‘۔ پھر ’’ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا‘‘۔ ایسی شقیں موجود ہونے کے باوصف عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامی ڈھانچہ خالصتاً استعماری اور سرمایہ دارانہ اصولوں پر نہ صرف قائم رہتا ہے، بلکہ سو فی صد اپنی روح اور منشا کے مطابق سرمایہ پرستی سے پیدا ہونے والے بھیانک نتائج بھی دیتا ہے۔ پھر با وجود مسلمان اکثریت کا ملک ہونے کے اس کی اجتماعی، سماجی نفسیات اور رویے بھی اسی نظام کے تقاضوں کے عین مطابق ڈھلتے اور تشکیل پذیر ہوتے رہتے ہیں۔
اس سلسلے میں اصل چیز نظام کی تبدیلی اور سیاسی آزادی ہے۔ اگر کسی ملک میں نظام کی تبدیلی کے بغیر محض حکومت کی تبدیلی یا آئین ودستور میں چند بے ضرر نام نہاد اسلامی شقوں کی شمولیت کواسلامی حکومت کے قیام کا نام دے دیا جائے اورنظام پر وہی اصل قوتیں قابض رہیں، یا کسی اَن دیکھے ذریعے سے نظام پر انھیں قوتوں کا کنٹرول رہے جو اصل مسئلے کی جڑ تھیں، محض لوگوں کے احساسات کے ذائقے کی تبدیلی کے لیے کسی نئے طبقے کو حکومت کا موقع فراہم کردیا جائے تو نہ یہ حقیقی قومی انقلاب ہوگا اور نہ ہی اسلامی حکومت کا قیام ہوگا۔
دنیا میں ایسی حکومتیں اور ریاستیں درجنوں بھر ہیں، جو اس کھیل کا ایک طویل عرصے سے حصہ ہیں۔ مثلاً دنیا میں اس وقت مسلم اکثریت والے 57 ملکوں کی پہچان اسلامی ہونے کی ہے، لیکن اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ ان میں کتنے ہیں، جو سیاسی اور معاشی طور پر آزاد اور خودمختار ہیں؟ ان میں بعض ملک تو ایسے بھی ہیں جن کے ہاں بجلی اور گیس کے ریٹس عالمی اداروں کی مرضی سے طے ہوتے ہیں اور ان کے سالانہ بجٹ کی منظوری بھی وہیں سے آتی ہے، لیکن وہ اپنے تئیں آزاد بھی کہتے ہیں اور کہیں کہیں ’’اسلامی‘‘ کا لاحقہ یا سابقہ بھی ان کے نام کا حصہ دستوری طور پر ضروری اور لازمی ہے۔ ان کی حکومتوں کی تبدیلی اور الیکشن کے نتائج پر عالمی قوتوں کی گہری چھاپ کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اور وہاں کے اجتماعی معاشرے اُس اسلامی سماجیات کی روح اور عدل کے نظام سے خالی ہیں، جو کبھی مسلمان معاشروں کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔
ایک دوسرا طبقہ ہے، جو کہ چند احکامات کے نمائشی نفاذ سے نفاذِ اسلام کی تقدیر کو وابستہ سمجھتا ہے، جیسا کہ نوے (90ء) کی دہائی کی طرح آج کل پھر افغانستان سے خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ وہ بعض جرائم پر سخت سزاؤں کے قوانین لارہے ہیں۔ ان خبروں کی بنیاد پر ایک طبقے کے ہاں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس اب افغانستان میں اسلام آیا ہی چاہتا ہے۔
یا جیسے ہمارے ہاں ایک سخت گیر مارشل لا کے دور میں دفتروں میں باجماعت نماز کی پابندی، زکوٰۃ کے نا مکمل قانون کے نفاذ اور شریعت بل جیسے اقدامات سے ہمارے ہاں کے بعض طبقوں کو پاکستان میں مکمل اسلامی شریعت کے نفاذ کی امید بندھ چلی تھی۔ پھر ان طبقوں نے پورے زور سے اس بدترین آمریت کے دور کا دفاع اسلامی نظام کے نفاذ کی کاوشوں کے نام پر ہی کیا تھا۔ اپنے سماجی و معاشرتی نتائج کے اعتبار سے آج یہ دور تاریخ میں سیاہ ترین دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ایسے میں بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ اسلام کس سماجی اور سیاسی نظام کی بات کرتا ہے اور اس کے نظام کی روح کیا ہے؟ وہ عارضی اور وقتی بند باندھنے کے بجائے کس مستقل حکمتِ عملی کی بات کرتا ہے؟ اسلام کی حکومت اور اقتدار کا نام استعمال کرکے اپنے ذاتی اور طبقاتی اقتدار کو دوام بخشنے والے چالاک حکمرانوں اور ان کی حمایت کرنے والے بہروپیے مذہبی طبقوں کے بارے میں وہ کیا شعور دیتا ہے؟ اس کو سمجھے بغیر اقتدار اور طاقت کے ایوانوں میں مذہب کے نام کا استعمال اور اس کے نظریاتی استحصال کو نہیں روکا جاسکتا۔
اسلام کا نظامِ عدل محض کوئی خواب نہیں، بلکہ وہ ایک حقیقت ہے جس کی پشت پر کامیابی کی گیارہ سوسالہ تاریخ ہے۔ جس نے ہر عہد کے فکری، معاشی اور سماجی چیلنجز کا جواب دیا ہے۔ کسی دور کے بے شعور طبقے کے اسلام کے نام پر غیرمتوازن رویوں کی وجہ سے اسلام کے نظام کی روشن تاریخ کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اپنی روشن فکر اور عمل کی قوت سے آج بھی سماج کے دھارے کو بدل سکتا ہے! اسلام کا سیاسی شعور اور مستحکم اصولوں پر مبنی سیاسی نظام، راقتصادی عدل و انصاف کا بلند فکر اور عملی طور پر بہتر معاشی نظام مضبوط بنیادیں رکھتا ہے۔ بس اس کے لیے اس کی متوازن فکر، روحِ عصر اور موجودہ عہد کے عملی تقاضوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ (مدیر)
سماحت ِنفس: انسانیت کا تیسرا بنیادی خُلق

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’(انسانیت کے بنیادی اَخلاق میں سے) تیسرا اصول ’’سماحتِ نفس‘‘ ہے۔
(سماحت ِنفس کی حقیقت اور معنویت)
اور وہ یہ ہے کہ انسان کی ملکیت، اپنی بہیمیت کے درجِ ذیل تقاضوں کے تابع اور ان کی فرماں برداری اختیار نہ کرے:
(1) محض لذتوں کے حصول کی طلب اور خواہش
(2) (کسی سے) انتقام لینے کی چاہت اور لذت
(3) حد سے زیادہ غضب ناک ہونے کی حالت
(4) (روپے پیسے میں) بخل اور کنجوسی سے محبت
(5) بہت زیادہ مال اکٹھا کرنے کی حرص اور لالچ سے محبت
(6) (دوسروں کو حقیر سمجھتے ہوئے) جاہ و مرتبت حاصل کرنے کی چاہت
انسان جب بہیمیت سے مناسبت رکھنے والے ان اعمال کو سرانجام دیتا ہے تو اُس وقت اُس کے نفس کی گہرائی اور جوہر میں ان اعمال کا ایک رنگ چڑھ جاتا ہے:
(الف) پس اگر ایک انسان میں سماحتِ نفس ہو تو اُس کے لیے ان پست عادات و اطوار اور اُن کے بُرے رنگ سے چھٹکارا حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے گویا کہ اُس کے نفس پر کسی قسم کا کوئی رنگ موجود ہی نہیں۔ وہ اللہ کی رحمت کی طرف خالص ہو کر یکسو ہوجاتا ہے۔ اگر مزید کوئی رُکاوٹ نہ ہو تو اپنے نفس کی اصل جبلت اور فطرت کے تقاضوں کے مطابق انواراتِ الٰہیہ کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے۔
(ب) اگر کوئی انسان اپنے نفس میں خُلقِ سماحت نہ رکھتا تو اُن بداعمالیوں کا رنگ اُس کے نفس میں ٹھیک اُسی طرح باقی رہتا ہے، جیسا کہ کسی مُہر پر نقش شدہ الفاظ موم پر منقش ہوجاتے ہیں۔ اس طرح اُس کی روح پر دنیاوی زندگی کی میل کچیل اور بُرے اثرات چپک جاتے ہیں۔ اس کے لیے ان سے جان چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔
ایسے آدمی کے جسم سے جب روح نکلتی ہے تو اُس کے گناہ اس کے آگے پیچھے اور اُس کے دائیں بائیں، غرض ہر طرف سے اُسے گھیر لیتے ہیں۔ ایسے انسان کی روح اور انسانیت کی اصل فطرت کے تقاضے سے پیدا ہونے والے انوارات کے درمیان بہت زیادہ موٹے پردے حائل ہوجاتے ہیں۔ یہ حالت اُس کو اذیت پہنچانے کا سبب بنتی ہے اور وہ انتہائی تکلیف میں مبتلا رہ جاتا ہے۔
(سماحتِ نفس کی اقسام)
سماحتِ نفس کے مختلف اعتبار سے کئی نام ہیں:
(1) جب کوئی انسان درجِ ذیل بہیمی تقاضوں سے بچے تو اُس کا نام ’’عِفّت‘‘ ہے:
(i) ’’شَہوَۃُ البَطَن‘‘ (کھانے پینے اور صرف پیٹ بھرنے کی خواہش اور شہوت)(ii) ’’شَہوۃُ الفَرج‘‘ (شرم گاہوں کی جنسی شہوات اور خواہشات)
(2) جب کوئی انسان عیش و عشرت اور آرام طلبی کے تقاضے کو چھوڑتا ہے تو اُس کا نام ’’اجتِہاد‘‘ (مجاہدے کی زندگی بسر کرنا) ہے۔
(3) جب کوئی انسان (مصیبت کے وقت) تنگ دلی اور رونے پیٹنے کی حالت سے بچتا ہے تو اُسے ’’صَبْر‘‘ کہا جاتا ہے۔
(4) جب کوئی آدمی انتقام کی چاہت کے تقاضے سے بچتا ہے تو اُسے ’’عَفْو‘‘ (معاف اور درگزر کرنا) کہا جاتا ہے۔
(5) جب کوئی آدمی مال کی حد سے زیادہ محبت سے بچتا ہے تو اُسے ’’سخاوت‘‘ اور ’’قَناعت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
(6) جب کوئی آدمی شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی سے بچتا ہے تو اس کا نام ’’تقویٰ‘‘ ہے۔
ان تمام کو جامع صورت میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ’’اصل بات یہ ہے کہ نفس اپنے بہیمی تقاضوں اور خیالات کی فرماں برداری کرنے سے اپنے آپ کو بچائے‘‘۔
صوفیائے کرام نے سماحت کے اس خُلق کے درجِ ذیل نام رکھے ہیں:
(1) ’’قطع التّعلّقات الدّنیویّۃ‘‘ (دنیاوی تعلقات سے قطع تعلق رہنا)
(2) ’’فناء عن الخسائس البشریّۃ‘‘ (بشریت کی پست باتوں سے فنا ہوجانا)
(3) ’’حُرِّیَت‘‘ (دنیا کے جھمیلوں اور خواہشات سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا)
اس طرح صوفیائے کرام نے سماحت کے اس خُلق کو مختلف ناموں سے تعبیر کیا ہے۔
(سماحتِ نفس حاصل کرنے کا طریقہ)
اس خُلقِ سماحت کو حاصل کرنے کے لیے عمدہ ترین بات یہ ہے کہ:
(1) ایسے مواقع سے بچنا کہ جو سماحت کی ضد پر مشتمل بُری عادات و اطوار میں مبتلا کرنے والے ہوں۔
(2) ہر وقت اپنے دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذکر کو غالب کیے رکھنا۔
(3) اپنے نفس کو عالمِ بالا کی طرف متوجہ رکھنا۔ یہی مطلب ہے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہٗ کے اس قول کا کہ انھوں نے فرمایا: ’’میرے نزدیک اس دنیا کے پتھر اور آبادی ایک برابر ہیں‘‘۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے اپنا کشف بیان کرتے ہوئے انھیں جنت کی خوش خبری دی۔
(حضرت بریدہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیںکہ نبی اکرمؐ جنت میں داخل ہوئے تو آپ کا استقبال ایک نوجوان لونڈی نے کیا۔ تو آپؐ نے اُس سے پوچھا کہ: ’’تم کس کی ہو؟‘‘ تو اُس نے کہا کہ: میں زید بن حارثہ کی ہوں۔ تو آپؐ نے حضرت زیدؓ کو اس کی خوش خبری سنائی۔ (سیر اعلام النبلاء، ج: 1، ص: 230)
(من أبواب الإحسان، باب(1): علمُ الشّرائع و الإحسان)
اَندلُس کے علما و سائنس دان ؛ علامہ ابنِ رُشد اَندلُسیؒ

قرطبہ (اَندلُس) کے ایک بڑے فلسفی، طبیب، محدث، فقیہ، جن کا شُہرہ پوری دنیا میں ہوا۔ ان کی کتابیں ترجمہ ہو کر یورپ میں پڑھی پڑھائی جانے لگیں۔ جن کو دنیا ابنِ رُشد مالکی اَندلُسیؒ کے نام سے جانتی ہے۔ آپؒ کا پورا نام ابوالولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رُشد القرطبی الاندلُسی ہے۔ آپؒ 14؍ اپریل 1126ء کو پیدا ہوئے۔
آپؒ کے والد اور دادا قرطبہ کے قاضی رہ چکے تھے۔ گھر کا ماحول علمی تھا۔ والد کی نگرانی میں آپ کی تعلیم و تربیت ہوئی۔ ابنِ طفیل اور ابنِ اظہر جیسے مشہور علما سے دینی علوم، فلسفہ، قانون، علم الحساب اور علمِ فلکیات کی تعلیم حاصل کی۔ حصولِ علم میں اپنی تمام تر توانائیاں صَرف کیں۔ ان کے ہم عصر گواہی دیتے ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں سوائے دو راتوں کے کبھی مطالعہ کرنا نہیں چھوڑا۔ پہلی رات وہ تھی جب آپ کے والد کا انتقال ہوا اور دوسری رات وہ تھی جب آپ کی شادی ہوئی۔
علامہ ابنِ رُشد علم و معرفت کے ذریعے کمالِ انسانی پر یقین رکھتے تھے۔ فلسفے کے ساتھ ساتھ حدیث و فقہ میں بھی کمال مہارت تھی۔ نحو و لغت پر بھی کمال کی دسترس تھی۔ مشہور شعرا متنبی اور حبیب کے اشعار کے حافظ تھے۔ تصنیفات کے حوالے سے دیکھیں تو انھوں نے ہر فن پر خامہ فرسائی کی۔ فلسفہ، طب، فقہ و اصولِ فقہ، علمِ کلام، علمِ ہیئت، علمِ نحو، الغرض! کسی بھی علمی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ ان کی مشہورِ زمانہ کتاب ’’بدایۃ المجتہد‘‘ فقہ مالکی پر مشتمل ہے۔ اسے علمی دنیا کی نہایت وقیع کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس کا انداز انتہائی مؤثر ہے۔ مصنف سب سے پہلے کسی بھی مسئلے پر تمام فقہا کے دلائل پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد سبب ِاختلاف ذکر کرتے ہیں اور راجح مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تاہم بہت سے مقامات پر صرف دلائل پر اکتفا کیا ہے اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا ہے۔ علامہ ابنِ رُشدؒ امام مالکؒ کے مقلد ہیں، لیکن وہ کسی موقع پر بھی جانب دار نظر نہیں آتے۔ یونان کے مشہور فلسفی ارسطو کے فلسفے کی نہایت شرح و بسط کے ساتھ تشریح کی، جن کے یورپ کی مختلف زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں۔
ابنِ رُشدؒ کا مؤقف تھا کہ جو بھی انسانی اعضا کے بارے میں علم حاصل کرے گا، اللہ پر اُس کا ایمان اَور پختہ ہوجائے گا۔ ابنِ رُشدؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ چوں کہ فلسفی اور معقولات کے عالم تھے، اس لیے ان کو تصوف سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ تصوف سے بہت زیادہ متأثر تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ فلاسفہ کے لیے اس بات کی زیادہ گنجائش ہے کہ وہ قرآن حکیم کی تفسیر کریں۔ کیوں کہ وہ سائنس اور فلسفے کی سچائیوں کو زیادہ جانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ علوم کا مرکز اور منبع تھے، لیکن دیگر اہلِ علم کی طرح ان پر بھی آزمائشیں آئیں۔ ہسپانوی خلیفہ یعقوب نے ابن رُشدؒ کی تصنیفات پر پابندی لگا دی اور انھیں جلاوطن کردیا۔ وہ مراکش چلے گئے اور وہیں 10؍ ستمبر 1198ء کو تقریباً 72 سال کی عمر میں وفات پائی۔
افغانستان کو درپیش معاشی چیلنجز

یورپی نوآبادیاتی نظام کو ختم ہوئے نصف صدی سے زائد ہوچلے، لیکن ہم گزشتہ ساٹھ ستر سالوں کے بد ترین تجربے اور اِبتلاؤں کا سامنا کرنے کے باوجود یہ نہیں سمجھ سکے کہ آزادی کہتے کسے ہیں؟ ہمیں نام نہاد آزادی تو مل چکی ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ ہم اپنے سیاسی اور خصوصاً معاشی فیصلے کرنے میں آزاد نہیں۔ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں ہم سے بازو مروڑ کر طے کروائی جاتی ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے ہمارے سالانہ بجٹ کی منظوری دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر عاقل اور بالغ انسان واقف ہے، لیکن حیرت ہے کہ جب افغانستان میں طالبان کی صورت میں سیاسی تبدیلی رونما ہوئی تو ہمارے سیاسی و مذہبی قائدین اسے ’’آزادی‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ سے تعبیر کرنے لگے۔ اس واقعے کو ابھی ایک ماہ کا عرصہ گزرا ہے کہ سب کو آٹے دال کے بھاؤ کی پڑ گئی ہے۔ افغانستان میں سیاسی تشکیل کیا ہوتی ہے؟ اس سے بڑھ کر ملک کیسے چلے گا؟ کا سوال سب کی زبان پر ہے۔
عالمی امدادی تنظیموں کی مدد کے بغیر طالبان حکومت صرف ایک ماہ تک ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے۔ اس کے بعد قریباً ڈیڑھ کروڑ نفوس پر بدترین قحط سالی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سربراہی میں منعقد ہونے والی کانفرنس برائے امدادی فنڈ میں دیگر ممبر ممالک نے 1.1 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس پر افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے اور اس رقم کو شفافیت کے ساتھ خرچ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ لیکن ہم پاکستانیوں کو تو اس بات کا وسیع تجربہ ہے کہ یہ امداد محض امداد نہیں ہوگی۔ اس کی شفافیت کی آڑ میں عوامی بہبود کے کلیدی منصوبوں پر عالمی ادارے اور این جی اوز براجمان ہو جائیں گی اور مغربی عوام کے ٹیکس کا پیسہ بڑے مربوط اور منظم طریقے سے ان ممالک کے نمائندہ سرمایہ داروں کے خزانوں میں منتقل ہوتا رہے گا اور طالبان حکومت دیگر حکومتوں کی طرح کرپشن اور نااہلی کا شربت دن رات پیتی رہے گی۔
امریکا نے طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے فوراً بعد افغانستان کے 9.5 ارب ڈالر کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کردیے ہیں۔ یہ اثاثے افغانستان کی ایک سے ڈیڑھ سال تک کی درآمدات کے لیے کافی تھے، لیکن اس وقت طالبان کی رسائی میں محض 52.2 کروڑ ڈالر ہیں، جو کسی نہ کسی حالت میں افغانستان کے اندر موجود ہیں۔ اگر یہ طالبان کے استعمال میں آجائیں تو ایک سے دو ماہ کی درآمدات کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے۔ ملک پر اس وقت 2.2 ارب ڈالر کا قرض ہے۔ اس میں تجارتی خسارہ ملا لیں تو یہ 7 ارب ڈالر پر جا پہنچتا ہے۔ اور یہ سب ادا کرنا کم ازکم طالبان کی ریاست کے لیے ناممکن ہے۔ اب اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئندہ سیاست اور معیشت کے اس کھیل میں آزادی تو ختم ہو ہی جائے گی، رہی بات ملک چلانے کی، جیسے پاکستان چل رہا ہے، ویسے ہی افغانستان چلے گا۔ کیوں کہ باگیں سامراجی ممالک کی مکمل گرفت میں آچکی ہیں۔
افغانستان کے گرد علاقائی طاقتوں کا حصار

(اضداد کے اجتماع اور جدوجہد کاقانون)
کائنات متنوع تجربات کی جولان گاہ ہے۔ انسان اپنے خالق کی انتہائی شان دار تخلیق ہے۔ اس کی شان کا کمال یہ ہے کہ وہ نت نئے اور انوکھے تجربات کے ذریعے معاشرے میں مختلف رنگ بکھیر تا رہتا ہے۔ ایک زمانے میں استعماری قوتوں نے طاقت اور قوت کے بل بوتے پر مشرقِ وسطیٰ میں صیہونی ریاست قائم کی۔ ریاست کا قیام بے گناہ لاکھوں انسانی جانوں کے بے دریغ بہائے گئے خون کے سمندر میں ڈبو کر عمل میں لایا گیا۔ اسی طرح کا ایک تجربہ نہتے انسانوں کی لاشوں پر تعمیر کیے گئے ایک ملک سے کیا گیا۔ یہ ملک جنوبی ایشیا کے مرکز میں واقع ہے۔
چالیس سال قبل جس جنگ کا آغاز ہوا تھا، آج وہ ایک نئی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اس جنگ کا آغاز کرنے والا طاغوت تھا۔ وہ اپنے چیلوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ آور ہوگیا۔ اس کی پارلیمنٹ میں یہ بات زیر بحث آئی کہ سوشلزم کو ویت نام کے راستے سے تو ہم نہیں روک سکے، البتہ اب ہمیں افغانستان کے راستے روس کے آگے بند باندھنا چاہیے۔ چناں چہ اس کام کے لیے پاکستان کا استعمال مناسب ترین قرار دیا گیا۔ پاکستان کی مقتدرہ نے اس کام کو انتہائی خوش دلی سے سرانجام دیا۔
14؍ اپریل 1988ء کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلا کے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ یہ معاہدہ چھ سال کی مسلسل کوششوںکے نتیجے میں تشکیل پایا تھا۔ 38 صفحات کے اس تاریخی معاہدے کے مطابق سوویت افواج کی واپسی کا عمل 15؍ مئی 1988ء سے 15؍ فروری 1989ء تک مکمل ہونا طے پایا۔
17؍ اگست 1988ء کو افغانستان سے سویت یونین کے انخلا اور اس کے تحلیل ہونے سے قبل اس آپریشن کی ذمہ دار پوری ٹیم کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔ اگست 1990ء میں جنگ و جدل کے لیے اگلا محاذ مشرقِ وسطیٰ میں کھول دیا گیا۔ عراق کے کویت پر حملے کے نتیجے میں تمام بھیڑیے عراق پر ’’آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم‘‘ (operation desert storm)کے نام سے حملہ آور ہوگئے اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجتے ہی پورا مشرقِ وسطیٰ شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔
امریکا کے پیچھے دو سوسالہ انقلاب کی محنتیں تھیں۔ اجتماعی اداروں کے قیام اور کردار سے امریکا کی موجودہ ریاست مضبوط اور مستحکم ہوئی تھی، لیکن جوں ہی اس کا اقتدار نااہل قیادت کو منتقل ہوا، انھوں نے نہ صرف اپنے ملک کے وسائل تباہ وبرباد کردیے، بلکہ آئندہ کے لیے عالمی بالادستی کا اختیار بھی اپنے ہاتھ سے کھو دیا۔
امریکا کی برائن یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں افغانستان کی جنگ میں امریکا نے 8 کھرب ڈالر اور 9 لاکھ انسانی جانوں کو اس آگ میں جھونک دیا۔ (یونیورسٹی کی تازہ ترین رپورٹ) ویسے تو سرمایہ دار بلامفاد کے ایک پائی بھی خرچ نہیں کرتا، لیکن غور کرنا ہے کہ اس جنگ میں استعمار نے کیا مفاد حاصل کیا۔ جہاں تک اصل ہدف کا تعلق ہے بہ ظاہر تو اس میں کوئی کامیابی نظر نہیں آتی، البتہ جہاں تک پلانBکے طور پر ملکوں کے وسائل لوٹنے کا تعلق ہے، یقینا اس میں کئی کامیابیاں حاصل کی ہوں گی۔ کیوں کہ ’’داعش‘‘ جیسے عفریت کے ذریعے عراق، شام اور لیبیا کے تیل کے کنوؤں پر قبضہ کرکے اس کے معدنی وسائل کو لوٹ لیا گیا ہے۔ ویسے پلانBہمیشہ پلانAکی ناکامی کے بعد ہی اختیار کیا جاتا ہے۔
1989ء میں سوویت یونین ایک قدم پیچھے ہٹ کر آج کئی قدم آگے بڑھ چکا ہے۔ 11؍ اگست 2021ء کو قطر کے دارلحکومت دوحہ میں روس کی میزبانی میں ہونے والے چار ملکی روس، چین، امریکا اور پاکستان مذاکرات کے نتیجے میں امریکا کی حمایت یافتہ اشرف غنی کی حکومت کو پیچھے ہٹا دیا گیا۔ انھوں نے طالبان کے لیے راستہ صاف کر دیا۔ علاقائی طاقتوں کی حمایت یافتہ حکومت افغانستان میں قائم ہوگئی۔ چوں کہ یہ ایک نوزائیدہ حکومت ہے، لہٰذا اِسے تحفظ کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس کے اردگرد چھ ملکی حصار قائم کیا گیا، جس میں روس، چین، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور پاکستان شامل ہیں۔ 7؍ ستمبر 2021ء کو اس کی عبوری کابینہ کا اعلان کیا گیا۔ نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب میں روس، چین، ایران، قطر، ترکی اور پا کستان کو دعوت دی گئی۔ کابینہ کی تشکیل سے پہلے طالبان نے کہا تھا کہ وہ ایرانی نظامِ حکومت اختیار کریں گے، لیکن اَن دیکھی طاقتوں نے سامراجی ملکوں کے دباؤ پر یہ تقریب ملتوی کردی۔
افغانستان کی حکومت دنیا میں اپنی نوعیت کی انوکھی حکومت شمار ہوگی۔ دنیا میں خفیہ ادارے خفیہ انداز سے کام کرتے ہیں۔ خفیہ ادارے اپنی تمام تر سرگرمیاں خفیہ رکھتے ہیں، تاوقتیکہ ان کا منصوبہ حتمی طور پر مکمل نہ ہوجائے۔ افغانستان میں امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنر نے طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر سے کابل میں ملاقات کی، جسے اگلے روز شہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی زینت بنایا گیا۔ (اے ایف پی، رائٹر ز 24؍ اگست 2021ء) اس کے بعد پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کابل پہنچ گئے۔ ان کا یہ دورہ میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔ (6؍ ستمبر 2021ء) گویا دونوں ایجنسیوں نے اپنا اپنا ہدف مکمل کرلیا ہے۔
امریکی اپنے انخلا کو مکمل کر نے کے بعد نمایاں ہوگئے اور پاکستان اپنا ٹاسک حاصل کرکے میڈیا پر نمودار ہوگیا۔ ایک ملک جو خود ایجنسی کی مرہون تھا، ا پنی کھوکھ سے دوسرے ملک کو جنم دینے کا سبب بن گیا۔ اس ایجنسی نے کئی سالوں کی جدوجہد کے نتیجے میں نہ صرف پورے کا پورا سماجی ماڈل کھڑا کر دیا، بلکہ اسے تحفظ دینے کے لیے اس کے گرد حصار بھی قائم کر دی۔ جو دنیا کے لیے وطیرۂ حیرانی بن گیا۔ کائنات میں یہی اضداد کے اجتماع اور جدوجہد کا قانون ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت اور اس کے تقاضے

۵؍ ربیع الاوّل ۱۴۴۲ھ / 23؍ اکتوبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ تمام مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، عظمت اور آپؐ کے ساتھ سچا تعلق قائم کریں۔ محبتِ رسولؐ اور آپؐ کا عشق انسانیت کی ترقی اور مسلمانوں کی کامیابی کے لیے ضروری اور ناگزیر ہے۔ خود نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اُس وقت تک کامل مسلمان نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اُس کے دل میں میری محبت دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ نہ ہو۔ صحابہ کرامؓ نے حضوؐر کے ساتھ سچی محبت اور آپؐ کی عظمت دلوں میں پیدا کی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ دنیا اور آخرت میں ایک اعلیٰ درجے کے نمونے کی جماعت کی حیثیت اختیار کرگئے۔
محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے انسان آپؐ کی اتباع کرے۔ جو آپؐ نے احکامات دیے ہیں، ان کے مطابق زندگی بسر کرے۔ یہاں رسمی محبت مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ محبت جو انسان میں یہ جذبہ پیدا کردے کہ جو محبوب کے اعمال ہیں، جو اُن کی صفات ہیں، جو اُن کی سیرت ہے، اُس سیرت کو اپنے دل و دماغ میں اُتارے اور اس کے مطابق جدوجہد اور کوشش کرے۔
نبی اکرمؐ کی محبت تبھی پوری ہوتی ہے کہ آپؐ کی سیرت کے جملہ پہلو ہمارے سامنے ہوں۔ ربیع الاوّل کا یہ مبارک مہینہ کہ جس میں نبی اکرمؐ دنیا میں تشریف لائے اور اسی مہینے میں دنیا سے تشریف لے گئے، اس مہینے کو آپؐ کی ذاتِ گرامی کے ساتھ ایک خاص نسبت ہے۔ اس نسبت کا بڑا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ نبی اکرمؐ کی سیرت کے اُن تمام پہلوؤں کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے، جو انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ خاص طور پر آج کے اس پُرفتن ماحول میں کہ جہاں آج مسلمان بہت سی مصیبتوں میں مبتلا ہے، پریشانیوں کی حالت میں ہے، اُس کے گرد و پیش کا ماحول اُس کے لیے پریشانیاں اور مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ دو ڈھائی سو سال سے مسلمان مغلوب ہیں۔ سامراجی طاغوتی قوتوں نے مسلمانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ جیسے نبی اکرمؐ کے زمانے میں انسانیت دو بڑی ظالم طاقتوں کے زیراثر تھی، قیصر و کسریٰ اور جزیرۃ العرب میں ابوجہل اور عتبہ شیبہ ان ظالموں کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھی، انسانیت مصیبت زدہ تھی، مسائل لاینحل تھے، سوسائٹی غلامی اور پستی کی حالت میں تھی۔ ایسے ماحول میں حضور اقدسؐ دنیا میں تشریف لائے ہیں اور آپؐ نے انسانی سماج میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ انقلاب برپا کیا ہے۔ نبی اکرمؐ کی سیرت کے اس انقلابی پہلو کا پورے طور پر فہم و بصیرت کے ساتھ تحلیل و تجزیہ کیا جانا بہت ضروری ہے‘‘۔
نبی اکرم ﷺ کی پانچ منفرد خصوصیات
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ صحیح بخاری (حدیث438) میں آپؐ کی ان خصوصیات کا تذکرہ ہے کہ:
(1) ’’نُصِرتُ بالرُّعبِ مَسِیرۃَ شَہْرٍ‘‘: نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ رعب کے ذریعے سے مجھے مدد دی گئی ہے۔ میرا رعب دشمنوں پر ایک مہینے کی مسافت کے فاصلے تک اثرانداز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک میں مبتلا لوگوں پر میرا رعب پیدا کردیا ہے کہ ایک مہینے کی مسافت تک میری ذات کا اثر ہوتا ہے۔ مکہ اور مدینہ سے ایک مہینے کی مسافت تقریباً قیصر و کسریٰ کے مراکز تک جاتی ہے۔
(2) ’’جُعِلَت لِيَ الأرضُ مسجِداً و طُہُورًا‘‘: میرے لیے پوری زمین کو مسجد بنا دیا گیا۔ پہلی قوموں میں جو انبیا علیہم السلام آئے، تو چوں کہ وہ صرف اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث کیے گئے تھے، اس لیے اُن پر لازمی تھا کہ اللہ کی عبادت کرنی ہے تو صرف عبادت خانے میں کریں گے۔ اس سے باہر کسی اَور جگہ پر نماز نہیں پڑھی جاسکتی تھی، لیکن حضوؐر پر چوں کہ یہ ذمہ داری عائد ہوئی کہ دنیا بھر میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے کام کرنا ہے، امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں، اُس کی ضرورت یہی ہے کہ جہاد میں یا اسفار میں جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے تو وہیں پر اذان دیں اور صحرا اور جنگل میں جہاں بھی ہیں، کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیں۔
اسی طرح زمین بھی طہور اور پاک بنا دی گئی کہ اگر کہیں پانی دستیاب نہیں ہے، تو اُمت کو اس بات کا حکم دے دیا گیا کہ وہ تیمم کرلے تو وہ پاک ہوگیا، اور نماز پڑھ لے۔
(3) ’’اُحِلّتْ لِيَ الغَنَائِم‘‘: میرے لیے مالِ غنیمت حلال قرار دیا گیا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس کی وضاحت میں بیان فرماتے ہیں کہ چوں کہ رسول اللہؐ کو دنیا کے تمام انسانوں تک اپنی دعوت پھیلانی ہے، تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ جو لوگ دور دراز کے علاقوں میں تعلیم و تربیت، جہاد اور جدوجہد کے لیے طویل اسفار اختیار کریں، تو اُن کے اخراجات ریاست اُٹھائے۔ وہ مالِ غنیمت بیت المال میں جمع ہو اور اُس کے ذریعے سے اُن کام کرنے والے لوگوں کی تنخواہیں اور وظائف دیے جائیں۔ اسی لیے مالِ غنیمت آپؐ اور آپؐ کی اُمت کے لیے حلال قرار دے دیا۔
(4) ’’بُعِثْتُ إلی النّاسِ کافّۃً‘‘: نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ میری بعثت کل انسانیت کے لیے ہوئی ہے۔ پوری انسانیت کو درست کرنے کی ذمہ داری مجھ پر عائد کی گئی ہے۔
(5) ’’اُعْطِیَتِ الشَّفَاعَۃ‘‘: مجھے تمام انسانیت کی شفاعت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
ان پانچ چیزوں کا صحیح فہم اور شعور حاصل کرلیا جائے تو نبی اکرمؐ کی بعثت کا بنیادی مقصد اور ہدف سمجھ میں آجائے گا۔ بالخصوص آج کے اس دور میں حضور اقدسؐ کی ذاتِ گرامی سے وابستہ مسلمان ان اُمور کو سامنے رکھ لے تو مغلوبیت اور پستی کی اس حالت سے نکل کر ترقی اور کامیابی کے راستے پر داخل ہوجائے گا‘‘۔
جماعت ِصحابہ کرامؓ کی اجتماعی اور تاریخ حیثیت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’نبی اکرمؐ نے دنیا میں بین الاقوامی تبدیلی پیدا کرنے کے لیے جماعتِ صحابہ رضی اللہ عنہم تیار کی۔ اس جماعت کو تربیت دی۔ اس طرح صحابہ کرامؓ کی بھی بعثت ہوئی تھی۔ یہی حقیقت سمجھنے کی ہے۔ ہمارے ہاں ربیع الاوّل کے مہینے میں صرف ذاتِ قدسی صفات حضور اقدسؐ کی ذاتِ گرامی پر تو بڑی بات ہوتی ہے، لیکن آپؐ کی جماعتِ صحابہؓ پر گفتگو نہیں ہوتی، حال آںکہ جماعتِ صحابہؓ آپؐ کی نائب بن کر آپؐ کے مشن کو بین الاقوامی سطح پر غالب کرنے کے لیے مبعوث ہوئی ہے۔ یہ ’’بعثت‘‘ کا لفظ خود نبی اکرمؐ نے صحابہؓ کے لیے استعمال کیا ہے۔ حضوؐر نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو جب گورنر بنا کر یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ’’إنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَ لَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِین‘‘۔ تمھاری بعثت آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہوئی ہے، تمھاری بعثت اس لیے نہیں ہوئی کہ تم لوگوں کے لیے مشکلات کھڑی کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6128)
آج جو سب سے بڑے فتنے پیدا ہو رہے ہیں، وہ جماعتِ صحابہؓ کی اجتماعیت اور اُن کی جماعتی حیثیت کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ہیں۔ حضوؐر کی محبت اور آپؐ کی شان میں مناقب کے تو بہت زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں، لیکن آپؐ کی جماعت کا تذکرہ ہی گول کردیا جاتا ہے۔ صحابہؓ کی عظمت دلوں سے نکال دی گئی۔ صحابہؓ کی اجتماعی طاقت اور قوت کو نظرانداز کردیا۔ بھئی! وہ صحابہؓ جو نبی اکرمؐ کے مشن کے آلہ کار بن کر آپؐ کی طرف سے مبعوث ہوئے اور آپؐ کی طرف سے پیغامبر بن کر بعثت کی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے جنھوں نے حضوؐر کے بعد بالخصوص قیصر و کسریٰ کو شکست دی اور دنیا کے چپے چپے پر پھیل کر دین کے غلبے کے لیے کردار ادا کیا، اُن صحابہؓ کا تذکرہ ہی غائب ہے۔ صحابہؓ کے تذکرے کے بغیر حضوؐر کی سیرت کیسے مکمل ہوسکتی ہے؟
صحابہ کرامؓؓ کے پاس بس منصبِ نبوت نہیں تھا، لیکن تمام وہ اُمور جو نبی اکرمؐ کی ذمہ داری پر تھے، آپؐ کے نائب اور خلفا بن کر انھوں نے انھیں دنیا میں غالب کرنے کے لیے کردار ادا کیا۔ اسی بنیاد پر ہی تو نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ’’عُلماء اُمّتي کأنبیاء بني إسرائیل‘‘کہ میری اُمت کے علما اور علما میں سب سے اونچے درجے کے اہلِ علم ابوبکر صدیق ہیں، عمر فاروق ہیں، عثمان غنی ہیں، علی المرتضیٰ، امیرمعاویہ ہیں اور عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ وہ فقیہ، سمجھ دار اور اولوالعزم لوگ ہیں، جنھوں نے دنیا بھر میں دین کے غلبے کے عملی نظام کے لیے سیاسی، معاشی، سماجی، علمی اور فکری حوالے سے انقلابی کردار ادا کیا۔ سیرتِ نبویؐ میں صحابہؓ کی اجتماعیت کو سمجھنا تبھی ممکن ہے کہ جب نبی اکرمؐ کی بین الاقوامی بعثت سمجھی جائے، اور اُس کے ذیل میں صحابہؓ کی بعثت سمجھی جائے۔ اگر صحابہؓ کی جدوجہد کا انکار کردیا جائے یا ایک صحابیؓ کی بات تو مانی جائے اور باقی صحابہؓ کی جماعت کی جدوجہد کو نظرانداز کردیا جائے تویہ سیرت نہیں ہے۔ یہ تو من پسند خواہشات کی بات ہے‘‘۔
حقیقی انقلاب اور رسول اللہ ﷺ کی انقلابی کاوشیں
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’حضرت امیرمعاویہؓ نے نبی اکرمؐ کی یہ حدیث نقل فرمائی ہے کہ’’الاسلام یعلو و لا یُعلیٰ علیہ‘‘(سنن دار قطنی، حدیث: 253) خبردار لوگو! رسول اللہؐ نے فرمایا: اسلام غالب ہوتا ہے، اسلام مغلوبیت کو قبول نہیں کرتا۔ آج مغلوبیت ہماری سوسائٹی پر مسلط ہے اور ہم نے اس مغلوبیت کو دین سمجھ کر قبول کر رکھا ہے۔ یہ کیسا دین ہوا؟ اگر ہم نبی اکرمؐ کی سیرت کو انقلابی نقطہ نظر سے نہیں سمجھتے تو پھر سیرت کا مکمل مفہوم بھی سامنے نہیں آتا۔ یہ بڑی بنیادی سی بات ہے۔
آج کل ایک بڑا فضول سا سوال کیا جاتا ہے کہ جی سارے مسلمان ہی تو ہیں، تو مسلمان معاشروں میں انقلاب لانے کا کیا مطلب ہے؟ کیا ان کو اسلام سے اٹھا کر کسی اَور طرف لانا ہے؟ عام طور پر جب بھی ’’انقلاب‘‘ کا لفظ بولا جائے تو لوگوں کے دماغ میں ایک ہی بات آتی ہے کہ جو انقلاب کی بات کر رہا ہوگا، وہ روسی ہوگا یا چینی ہوگا، کیوں کہ انقلاب روسیوں نے برپا کیا یا چینیوں نے۔ کیا روسیوں اور چینیوں نے ٹھیکہ اُٹھایا ہوا ہے کہ انقلاب صرف وہی لائے ہیں؟ انقلاب کہتے کسے ہیں؟ انقلاب نام ہے تبدیلی کا۔ کفر و شرک سے نکل کر توحید کی طرف آنے کا۔ انقلاب نام ہے ظلم سے نکل کر عدل کی طرف آنے کا۔ انقلاب نام ہے غلامی سے نکل کر آزادی اور حریت کی طرف آنے کا۔ انقلاب نام ہے بھوک اور غربت کو ختم کرکے معاشی خوش حالی پیدا کرنے کا۔ انقلاب نام ہے ظلم کی جھوٹی حکومت ختم کرکے عدل و انصاف کی سچی حکمرانی قائم کرنے کا۔ کیا یہ انقلاب رسول اللہؐ نے برپا نہیں کیا؟ آپؐ نے تو تئیس سال کی مدت میں اُس جزیرۃ العرب کی سیاست بدل دی، معیشت بدل دی، تہذیب بدل دی، ثقافت بدل دی، حکومت بدل دی، نظام بدل دیا۔ حضوؐر پر وحی آئی تو ابوجہل کی جہالت اور ظلم پر مبنی حکومت تھی۔ اور حضوؐر دنیا سے گئے تو حضرت ابوبکرؓ کی عدل و انصاف اور امن و امان اور توحید اور ایمان کی حکومت قائم ہوگئی۔ یہ انقلاب نہیں تو اَور کیا ہے؟ اَور انقلاب کس کو کہتے ہیں؟
کیا ظلم کی سیاہ رات مسلط رہنی چاہیے؟ کیا اس وقت دنیا میں عالمِ اسلام کے مسلمان ممالک کی کوئی سیاسی یا معاشی حیثیت ہے ؟ عالمی طاغوتی قوتوں نے افغانستان تباہ کردیا، کشمیر تباہ کردیا، بوسنیا تباہ کردیا، صومالیہ تباہ کردیا، افریقا میں مسلمانوں کی تباہی برپا کردی اور ابھی کہتے ہیں کہ جی مسلمانوں کو انقلاب کی ضرورت نہیں ہے۔ اصلاح کرتے ہوئے تو ڈھائی سو سال ہوگئے تمھیں۔ کوئی اصلاح ہوئی؟ کوئی تبدیلی آئی؟
دین انقلابی ہے اور نبی اکرمؐ کی سیرت بھی انقلابی ہے اور یہ انقلاب جماعتِ صحابہؓ کو مانے بغیر نہیں آسکتا۔ نبی اکرمؐ کی انقلابی جدوجہد اور سیرت کو اس تناظر میں سمجھنا مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ غفلت سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ سیرت کے حوالے سے نبی اکرمؐ اور اُن کی جماعت کا انقلابی کردار سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرت کے جامع پہلوؤں کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)‘‘۔
رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور
میڈیا کارٹل: کووِڈ خبروں پر پبلک ڈِسکورس کیسے تشکیل ہوا؟

کیپٹل اِزم کی بقا منافع کی نئی راہیں تلاش کرنے پر منحصر ہے۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران عالمی سطح پر کساد بازاری، افراطِ زر یا تفریطِ زر پیدا ہونے کا موجب بھی کیپٹل اِزم ہے۔ دنیا کو ڈیڑھ برس سے کورونا کے باعث ایک عالمی بحران کا سامنا ہے۔ اس بحران کے دوران بین الاقوامی اداروں نے انسانی جان کے تحفظ کا نام لے کر عام آدمی کی زندگیوں کو اجیرن کیا ہے۔ چناںچہ کورونا وائرس سے متعلق میڈیا کے بطن سے ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا گیا اور پھر اس بیانیے کو عالمی سطح پر رائج کرنے کی ٹھوس منصوبہ بندی کی گئی۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(W.H.O)کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے متأثرہ افراد کی ہلاکت کی شرح 0.23 فی صد ہے، یعنی 99.77 فی صد متاثرہ افراد محفوظ ہیں۔ تاہم اس کے باوجود وائرس کا خوف مسلط کرنے کے لیے عالمی سطح پر ’’ون وائس میڈیا‘‘ کا استعمال کیا گیا اور وائرس سے متعلقہ تشکیل کردہ پیغام اور خبروں کو ادارتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔
چناںچہ اس کے لیے میڈیا کے توسط سے ایجنڈا سیٹنگ اور پولیٹیکل اکانومی آف کمیونیکیشن تھیوریز کا استعمال ہوا۔ گویا وَن وائس میڈیا کے تحت چار عناصر پر مبنی ایڈیٹوریل پالیسی کا نفاذ ہوا: اوّل: وبائی مرض سے پوری انسانیت کی بقا کو خطرہ ہے۔ دوم: وائرس زدہ افراد کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سوئم: عالمی سطح پر انسانوں کو محفوظ کرنا ناگزیر ہے۔ چہارم: اس وائرس سے بچاؤ صرف ویکسینیشن میں ہی پنہاں ہے۔ ان چار پہلوؤں پر ہر فرد کی رائے سازی کا ہدف مین سٹریم میڈیا کو سونپا گیا۔اب ہمیں میڈیا کے آپریشنل اصولوں کی بنیاد پر اس پراپیگنڈا تکنیک کو سمجھنا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے قبل، جولائی 2019 ء میں برطانیہ اور کینیڈا کے اشتراک سے گلوبل کانفرنس آن میڈیا فریڈم کا انعقاد ہوا۔ اس کانفرنس میں بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال نے اپنے خطاب میں کہا:
’’گزشتہ مہینے بی بی سی کے تحت ایک اہم (خفیہ) اجلاس ہوا، جس میں عالمی ٹیک کمپنیوں اور خبروں کے اشاعتی اداروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ ’’ٹرسٹیڈ نیوز سمٹ‘‘ نامی اس اجلاس کا مقصد تعصب اور غلط خبروں پر مبنی معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے پلان آف ایکشن تیار کرنا تھا۔ چناں چہ ہم (بی بی سی) نے خبروں کی سا لمیت کے لیے ایک نیا عالمی اتحاد تشکیل دیا ہے اور ہم دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کے فروغ کے لیے مزید کام کرنے کو تیار ہیں‘‘۔
یورپی براڈکاسٹنگ یونین (ای بی یو)، فیس بک، فنانشل ٹائمز، فرسٹ ڈرافٹ، گوگل، دی ہندو اور دی وال اسٹریٹ جرنل نے بہ طور پارٹنر اجلاس میں شمولیت کی۔ یہ عالمی اتحاد درحقیقت ایسے انتباہی نظام کا جنونی آغاز تھا، جس کی جڑیں سرمایہ داریت کے مفادات میں پیوست ہیں۔ ’انسانی جان کو خطرہ‘ کے نام پر یا انتخابات کے دوران جمہوریت دوستی کے نام پر مستقبل میں خبروں کا متن اور مواد میڈیا صارفین تک پہنچانا اس بیٹھک کا مقصد تھا۔ اس اتحاد کے تصور کی پیدائش کہاں ہوئی؟ یہ بھی انتہائی دلچسپ ہے۔
2019ء میں برطانیہ میں خبروں کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ہاؤس آف لارڈز نے سلیکٹ کمیٹی فار ڈیموکریسی اینڈ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اینڈ ری زوریکشن آف ٹرسٹ کے نام سے 153 صفحات پر مبنی رپورٹ شائع کی، جس میں درج ہے کہ روز مرہ ایک ارب 73 کروڑ صارفین فیس بک کا استعمال، یوٹیوب پر روزانہ ایک ارب گھنٹہ واچ ٹائم، گوگل پر روزانہ ساڑھے تین ارب سرچز اور ٹویٹر پر روزانہ پچاس کروڑ ٹویٹس ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے تناظر میں پیش کیے گئے۔
رپورٹ میں لکھا گیا کہ واٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے سے کووڈ سے متعلق متبادل معلومات (جنھیں ٹی این آئی نے جھوٹی معلومات کہا ہے) پھیلائی جا رہی ہیں۔ دورانِ انویسٹی گیشن اس کمیٹی کے سامنے بی بی سی کی جانب سے ان معلومات کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس دوران جون 2019ء میں بی بی سی کی ویب سائٹ پر احمد رزاق کے نام سے غلط معلومات سے نمٹنے کے عنوان سے مضمون شائع ہوا، جس میں معلومات کو کنٹرول کرنے کے لیے بی بی سی کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔بی بی سی پر شائع ہونے والے مضمون کی ابتدا یوں تھی: پراپیگنڈا، دھوکہ دہی، آزادانہ تقریر کو دبانا، ہر معاشرے کا مسئلہ ہے لیکن حالیہ برسوں میں ’جعلی خبریں‘ اور غلط معلومات کی بنیاد پر پبلک ڈسکورس تشکیل پا رہا ہے۔ اس مضمون میں اینٹی ویکسرز(Anti Vaxxers)کی تحریک کو گمراہ کن اور خطرناک معلومات پھیلانے کا موجب قرار دیا گیا۔ مضمون میں ان معلومات کی روک تھام کے لیے الگورتھم کی مداخلت تجویز کی گئی، جس کا مقصد آن لائن انفارمیشن ایکو سسٹم کو کنٹرول کرنا تھا۔ الگورتھم تکنیک کے ذریعے معلومات کو فلٹر کیا جاتا ہے۔
ہاؤس آف لارڈز کی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ٹرسٹیڈ نیوز انیشیٹو (ٹی این آئی) کے مقاصد طے کیے گئے۔ چناں چہ بی بی سی کی صدارت میں ہونے والے مذکورہ اجلاس میں کورونا وائرس سے متعلق پبلک ڈسکورس (کلامیہ) کی تشکیل کے لیے معلومات تک رسائی اور پھیلاؤ کے میکانزم کو عملی درجے میں نافذ کرنے کی حکمتِ عملی طے ہوئی۔ ڈبلیو ایچ او نے جب کورونا کو وباء ڈکلیئر کیا تو اس کے بعد ٹی این آئی متحرک ہوا اور اس وباء پر رائے سازی کے لیے میڈیا شراکت داروں میں اضافہ ہو گیا۔ اب ٹویٹر، مائیکروسافٹ، ایسوسی ایٹڈ پریس ایجنسی، فرانس پریس، رائٹرز اور رائٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف جرنلزم اس کارٹل کا حصہ بن گئے۔ ٹی این آئی کے ذریعے سے کورونا وائرس سے متعلقہ خبروں کو دبانے، کنٹرول کرنے اور سمت متعین کرنے کی اجازت دی گئی۔ ٹی این آئی نے مزید ایک نئے منصوبہ پر کام کا آغاز کیا۔ یہ منصوبہ پراجیکٹ اوریجن کے نام سے شروع ہوا۔ اس کا مقصد خبروں کے مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے چیک لگانا تھا، جس سے خبری مواد کا ماخذ معلوم کرنا تھا۔
پروجیکٹ اوریجن‘ مواد کی ہیرا پھیری کا پتہ لگانے اور مواد کے ماخذ کی توثیق کر کے غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔ ٹی این آئی کی پالیسی کے برعکس کسی بھی خبری مواد کو گمراہ کن یا نا قابلِ اعتبار مواد کی کیٹاگری میں شامل کر کے اس کی رسائی کو محدود یا ایسے مواد کو فلٹر کیا گیا، پروجیکٹ اوریجن کے تحت ہی خبر کو تصدیق شدہ یا غیر تصدیق شدہ قرار دینے کے بعد ٹی این آئی میڈیا کارٹل کے ذریعے ان خبروں کی اشاعت کی جانے لگی۔ جولائی 2020 ء میں مائیکرو سافٹ کے چیف سائنٹفک افسر ایرک ہورویٹز نے ٹی این آئی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ اوریجن کے شراکت دار میڈیا ہاؤسز کے ساتھ مل کر مائیکروسافٹ خبروں کو اینڈ ٹو اینڈ ایتھنٹیکیشن کے تحت جانچ پڑتال کر رہا ہے۔ دسمبر میں بی بی سی نے خبر شائع کی کہ کورونا سے متعلق خبریں آن لائن ذرائع سے لاکھوں افراد تک پہنچی ہیں، جس سے ویکسین کی افادیت پر سوالات قائم ہو رہے ہیں۔ ان معلومات کا سد ِباب کرنا ناگزیر ہے۔
کووِڈ سے متعلق خبروں پر مرکزی دھارے کے میڈیا بالخصوص ٹی این آئی نے جان بوجھ کر مِس انفارمیشن (غیر ارادی طور پر گمراہ کن معلومات) کو ڈِس انفارمیشن کے ساتھ اُلجھا دیا ہے۔ ڈِس انفارمیشن دراصل ارادی طور پر گمراہ کن معلومات عوام تک پہنچانا ہے، تاکہ رائے عامہ کا تعین کیا جاسکے۔ میڈیا کے ذریعے سے ترسیل کی جانے والی یہ ڈِس انفارمیشن پالیسیوں اور حکومتوں کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کورونا وائرس پر مبنی یہی ڈِس انفارمیشن منظم انداز میں مرکزی دھارے کے عالمی میڈیا کے ذریعے سے پھیلائی گئی۔
اب ہمیں ڈِس انفارمیشن کے سسٹم کو سمجھنے کے لیے کورونا خبروں سے متعلق بنیادی سوال قائم کرنا چاہیے، یعنی ٹی این آئی کی کورونا کی خبروں کا سورس کیا ہے؟ ٹی این آئی دنیا کی بڑی پبلک ہیلتھ ایجنسیوں کی جاری کردہ کووِڈ 19 کی ہیلتھ پالیسی کی خبریں نشر کرتا ہے، ان خبروں کا سورس ڈبلیو ایچ او، یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی)، یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے ) اور یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ رہا ہے۔ ان خبروں اور پالیسی کی بنیاد پر ریاستی سطح پر قانون سازی کرائی گئی اور ٹاپ لیول سے موصول ہونے والی پالیسی کو مختلف ممالک کے مقامی میڈیا کے ذریعے سے نشر کرایا گیا۔
اس تناظر میں، پاکستان کی حکومت نے اپریل 2020 ء میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر قائم کیا، جس میں عسکری حکام کو شامل کیا گیا، تاکہ این سی او سی کا ریاست کے دیگر اداروں پر شکنجہ مضبوط رہے۔ این سی او سی کی جانب سے پاکستان کے میڈیا ہاؤسز کو کووِڈ کی خبروں کی اشاعت پر پالیسی دی گئی، جس کے تحت صرف این سی او سی کے جاری کردہ ڈیٹا کو ہی نشر کرنا طے پایا اور آج بھی اس ڈیٹا کو روز مرہ کی بنیاد پر خبروں کی ہیڈ لائنز اور اخبارات کی شہ سرخیاں بنایا جا رہا ہے۔ میڈیا نمائندوں کو انویسٹیگیٹو جرنلزم کی اجازت نہیں اور نہ ہی اس ڈیٹا کی تصدیق کرنے کا متبادل طریقہ اپنانے کا اختیار ہے۔ میڈیا میں ویکسین پر تحفظات یا نتائج کی خبروں کی اشاعت کی گنجائش نہیں ہے، یوں کہیے کہ کووِڈ سے متعلق انتہائی کنٹرولڈ جرنلزم رائج کی گئی ہے۔ یوں تو میڈیا ، آزادیٔ رائے یا تحقیقاتی صحافت کا دعوے دار ہے، تاہم کووِڈ کے تناظر میں یہ سب دعوے دھرے رہ گئے۔
بنیادی طور پر میڈیا کو ٹاپ ٹو ڈاؤن کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ جو پبلک ہیلتھ پالیسی ٹی این آئی کے توسط سے میڈیا کو دی جاتی ہے، وہی مواد نشر ہوتا ہے۔ اس پالیسی کے ذریعے سے ویکسین کی تیاری کرنے والی ادویہ ساز کمپنیوں کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ حیران کن حقیقت ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے جب فروری 2020 ء میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کو ہی معیار مقرر کیا تو اس سے ایک ہفتہ قبل ہی جارج سوروس اور بل گیٹس نے کووڈ ٹیسٹ کمپنی مولوجک پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔ پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹس میں فالس پازیٹو شرح کا تناسب زیادہ ہونے کی تصدیق خود پاکستان میں سابق مشیرِ صحت نے پریس کانفرنس میں کی تھی اور ڈبلیو ایچ او نے بھی یہی کچھ کہا۔ اس ضمن میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی ویب سائٹ پر 28؍ ستمبر 2020ء میں ایک ریسرچ آرٹیکل شائع ہوا، جس میں کورونا ٹیسٹ کے طریقۂ کار کو سائنسی بنیادوں پر غیر معیاری قرار دیا گیا۔ ٹی این آئی میڈیا کارٹل کے ذریعے سے اس پہلو کو بھی دبا لیا گیا۔
سب سے زیادہ چونکا دینے والے عناصر یہ ہیں کہ عالمی اداروں نے کووِڈ کے ابتدائی مؤثر علاج کے تمام طریقۂ کار کا مسلسل انکار کیا، بلکہ نومبر 2020 ء تک کورونا سے بچاؤ کی واحد تجویز کردہ آپشن صرف گھروں تک محدود رہنے کی تھی اور جب تک کوئی ویکسین نہیں آئی حکومت کی طرف سے منظور شدہ کوئی علاج مقرر نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً عام انسان تذبذب کا شکار ہوا۔ ٹی این آئی کی چھتری تلے بنے میڈیا کارٹل نے انویسٹیگیٹو جرنلزم کے مقابلے پر انھی ہدایت ناموں کی پیروی کی اور ابتدائی علاج کی افادیت کے وسیع شواہد کے باوجود انھیں میڈیا میں جگہ نہیں دی گئی۔
وائرس کے ماخذ، ابتدائی علاج، ویکسین کے منفی اثرات سمیت کسی بھی متبادل مباحثوں میں حصہ لینے والے مائیکرو بائیولوجسٹ، ایپی ڈیمالوجسٹس، کیمیا دان، نینو ٹیکنالوجسٹ اور بائیوٹیکنالوجسٹ کی آرا کو ٹی این آئی میڈیا کارٹل کے مربوط سسٹم کے ذریعے سے دبایا گیا۔ صرف ڈبلیو ایچ او، سی ڈی سی، ایف ڈی اے اور این آئی ایچ کی پالیسی کو ہی مستند تصور کیا گیا۔ میڈیا کارٹل نے بنیادی طور پر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے مالی مفادات کو تحفظ دینے کی غرض سے معلومات کو حذف کرکے خبروں کو عوام تک پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ویکسین کے منفی اثرات اور اس کے باعث ہونے والی اموات کو بھی خبروں میں جگہ نہیں دی گئی۔ ٹی این آئی نیٹ ورک کے توسط سے کورونا سے بچاؤ کا حل صرف ویکسینیشن کو ہی قرار دیا گیا اور اس پالیسی کے ذریعے سے عالمی سطح پر دو ارب اُنیس کروڑ انسانوں کو ویکسین لگا دی گئی ہے۔ ریاستی سطح پر بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ویکسین کو لازمی قرار دیا گیا۔ یہ پالیسی عالمی اداروں کے دباؤ کے باعث نافذ ہوئی۔ میڈیا کارٹل کے ذریعے سے قدرتی ایمونیٹی سسٹم کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ویکسین کے ذریعے سے ایمونیٹی ڈویلپ کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تجارتی اصولوں پر قائم میڈیا ڈِس انفارمیشن کی قیادت کر رہا ہے۔ ویکسین سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو اُجاگر کرنے کے برعکس فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کرنے پر ہم میڈیا کو"Presstitute"کہہ سکتے ہیں۔ معلومات کی اجارہ داری کی اس صنعت میں انفلوئنسرز کی مداخلت ہے، جس میں تھنک ٹینک کے سہولت کار اور ایسے ماہرین کی تحقیق کو خبروں و تجزیوں کا حصہ بنایا گیا ہے، جن کی تحقیق کی فنڈنگ بھی انھی کمپنیوں سے ہوتی ہے۔ پاکستان کے میڈیا ہاؤسز اسی کارٹل کے فراہم کردہ زاویوں کی اشاعت مسلسل تکرار کے ساتھ کر رہے ہیں، تاکہ کورونا کا خوف مسلط رکھ کر مالی فوائد سمیٹے جاسکیں۔
شمارہ ختم
واپس
