افغانستان کو درپیش معاشی چیلنجز

محمد کاشف شریف
محمد کاشف شریف
اکتوبر 11, 2021 -
افغانستان کو درپیش معاشی چیلنجز

یورپی نوآبادیاتی نظام کو ختم ہوئے نصف صدی سے زائد ہوچلے، لیکن ہم گزشتہ ساٹھ ستر سالوں کے بد ترین تجربے اور اِبتلاؤں کا سامنا کرنے کے باوجود یہ نہیں سمجھ سکے کہ آزادی کہتے کسے ہیں؟ ہمیں نام نہاد آزادی تو مل چکی ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ ہم اپنے سیاسی اور خصوصاً معاشی فیصلے کرنے میں آزاد نہیں۔ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں ہم سے بازو مروڑ کر طے کروائی جاتی ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے ہمارے سالانہ بجٹ کی منظوری دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر عاقل اور بالغ انسان واقف ہے، لیکن حیرت ہے کہ جب افغانستان میں طالبان کی صورت میں سیاسی تبدیلی رونما ہوئی تو ہمارے سیاسی و مذہبی قائدین اسے ’’آزادی‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ سے تعبیر کرنے لگے۔ اس واقعے کو ابھی ایک ماہ کا عرصہ گزرا ہے کہ سب کو آٹے دال کے بھاؤ کی پڑ گئی ہے۔ افغانستان میں سیاسی تشکیل کیا ہوتی ہے؟ اس سے بڑھ کر ملک کیسے چلے گا؟ کا سوال سب کی زبان پر ہے۔

عالمی امدادی تنظیموں کی مدد کے بغیر طالبان حکومت صرف ایک ماہ تک ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے۔ اس کے بعد قریباً ڈیڑھ کروڑ نفوس پر بدترین قحط سالی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سربراہی میں منعقد ہونے والی کانفرنس برائے امدادی فنڈ میں دیگر ممبر ممالک نے 1.1 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس پر افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے اور اس رقم کو شفافیت کے ساتھ خرچ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ لیکن ہم پاکستانیوں کو تو اس بات کا وسیع تجربہ ہے کہ یہ امداد محض امداد نہیں ہوگی۔ اس کی شفافیت کی آڑ میں عوامی بہبود کے کلیدی منصوبوں پر عالمی ادارے اور این جی اوز براجمان ہو جائیں گی اور مغربی عوام کے ٹیکس کا پیسہ بڑے مربوط اور منظم طریقے سے ان ممالک کے نمائندہ سرمایہ داروں کے خزانوں میں منتقل ہوتا رہے گا اور طالبان حکومت دیگر حکومتوں کی طرح کرپشن اور نااہلی کا شربت دن رات پیتی رہے گی۔

امریکا نے طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے فوراً بعد افغانستان کے 9.5 ارب ڈالر کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کردیے ہیں۔ یہ اثاثے افغانستان کی ایک سے ڈیڑھ سال تک کی درآمدات کے لیے کافی تھے، لیکن اس وقت طالبان کی رسائی میں محض 52.2 کروڑ ڈالر ہیں، جو کسی نہ کسی حالت میں افغانستان کے اندر موجود ہیں۔ اگر یہ طالبان کے استعمال میں آجائیں تو ایک سے دو ماہ کی درآمدات کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے۔ ملک پر اس وقت 2.2 ارب ڈالر کا قرض ہے۔ اس میں تجارتی خسارہ ملا لیں تو یہ 7 ارب ڈالر پر جا پہنچتا ہے۔ اور یہ سب ادا کرنا کم ازکم طالبان کی ریاست کے لیے ناممکن ہے۔ اب اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئندہ سیاست اور معیشت کے اس کھیل میں آزادی تو ختم ہو ہی جائے گی، رہی بات ملک چلانے کی، جیسے پاکستان چل رہا ہے، ویسے ہی افغانستان چلے گا۔ کیوں کہ باگیں سامراجی ممالک کی مکمل گرفت میں آچکی ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان سے امریکی انخلا اور پاکستان کو درپیش چیلنج!

2021ء کے اگست کا آغاز ہوچکا ہے۔ 14؍ اگست کو ہمارے ملک میں قیامِ پاکستان کے حوالے سے مختلف النوع تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں ماضی کی تاریخ سمیت پاکستان کو حال میں در…

محمد عباس شاد اگست 10, 2021

استعمار کا شکست خوردہ مکروہ چہرہ

استعماری نظام پے در پے ناکامیوں کے بعد شکست و ریخت کاشکار ہوچکا ہے۔ اپنے غلبے کے دور میں دنیا میں ظلم و زیادتی اور قہر و غضب کی بدترین مثالیں رقم کیں۔ دعوے کے طور پر تو …

مرزا محمد رمضان اگست 11, 2021

افغان طالبان کی واپسی اور حقیقت پسندانہ سوچ کی ضرورت

اگست 2021ء کے دوسرے نصف میں ملکی اور عالمی اخبارات میں امریکا کی شکست کے تذکرے اور طالبان کی فتح کی خوش کُن خبروں نے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ زوال کے دور میں حقائق ا…

محمد عباس شاد ستمبر 10, 2021

افغانستان اور پاکستان کا معاشی مستقبل

افغانستان‘ تاریخ کے اَن مِٹ نقوش کا حامل خطہ ہے، جو صدیوں پرانے طاقت ور خاندانوں اور ان کی بادشاہتوں کا مرکز رہا ہے۔ یہ بدیسی طالع آزماؤں کا تختۂ مشق بھی رہا ہے۔ اس …

محمد کاشف شریف ستمبر 10, 2021