قوموں کی سیاسی بے شعوری کے خطرناک نتائج

سورت البقرہ کی گزشتہ آیات (86-85) میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ انسانی معاشرے میں تقربِ بارگاہِ الٰہی کے لیے عبادات اور عدل و انصاف کی سیاست میں تفریق پیدا کرنے والی جماعت دنیا اور آخرت میں عذاب کی مستحق ہوتی ہے۔ وہ دین کی اقترابی رسومات اور رسمی عبادات کو تو سرانجام دیتی ہے، لیکن دین کی عادلانہ سیاست، جس کے نتیجے میں انسانی جان و مال کی ظالموں سے حفاظت کی جاتی ہے، اُسے اختیار نہیں کرتی۔ اس طرح اُن کا سیاسی ذوق خراب اور فاسد ہوجاتا ہے۔ وہ سیاسی شعور سے عاری ہوجاتی ہیں۔ اس آیتِ مبارکہ (87) میں یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ جب کسی جماعت کا دینی تعلیمات کے حوالے سے تفریق کا یہ رویہ پیدا ہوجاتا ہے اور اُس کا سیاسی شعور ختم ہوجاتا ہے تو وہ حق اور باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوجاتی ہے۔ اور انبیا علیہم السلام اور اُن کے سچے وارثین کی حقانی تعلیمات کی پہچان نہیں رکھتی۔
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ (اور بیشک دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول) : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک جامع کتاب عطا کی تھی، جس میں عبادات کے نظام کے ساتھ ساتھ دینی سیاسیات کی اَساس پر حکومت قائم کرنے کا پورا نظام موجود تھا۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’انبیا علیہم السلام میں سے دو انبیا؛ یعنی ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک بڑی عظیم منقبت حاصل ہے۔ اور وہ یہ کہ اُن دونوں کی نبوت‘ ان دونوں کی خلافت و حکومت میں داخل ہے۔ ۔۔۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے زمین میں کمزور بنا دیے گئے بنی اسرائیل پر احسان کیا اور اُن کی حکومت قائم کی۔ اسی طرح ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے بھی بین الاقوامی حکومت قائم کی‘‘۔ (تفہیماتِ الٰہیہ، ج: 2، تفہیم: 198)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یہودیوں نے ایسی جامع کتاب تورات کی کامل اور مکمل تعلیمات سے روگردانی کی اور اُن کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے بھی انبیا بنی اسرائیل میں آئے، انھوں نے اُن کا کثرت سے انکار کیا۔ اس لیے کہ ’’وہ کتاب کے ایک حصے (عبادات) پر ایمان رکھتے تھے اور دوسرے حصے (سیاسیات) کا انکار کرتے تھے‘‘۔ جیسا کہ گزشتہ آیت (85) میں گزرا ہے۔
وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ: (اور دیے ہم نے عیسیٰ _ مریم کے بیٹے _ کو معجزے صریح، اور قوت دی اس کو روح پاک سے) : پھر اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو واضح دلائل دے کر تورات کی جامع تعلیمات سمجھانے کے لیے بھیجا۔ اور اسی کے ساتھ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام کے ذریعے سے انھیں طاقت اور قوت عطا کی، تاکہ دینِ حنیفی کا صحیح شعور اُن میں پیدا ہوجائے، لیکن انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی سخت مخالفت کی اور اُن کا انکار کیا اور اُن کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس لیے کہ وہ اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کرتے تھے۔ اور اپنی طبقاتی خواہشات اور سیاسی مفادات کے خلاف جو نبی بھی آکر حق بیان کرتے، اُس کو بزعمِ خویش باطل قرار دے دیتے۔ اس طرح حق و باطل میں تمیز کی صلاحیت سے محروم ہوگئے۔ اور انبیا علیہم السلام کی حقانی تعلیمات کے انکار کے نتیجے میں غضبِ الٰہی کے مستحق ہوتے چلے گئے۔
اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ (پھر بھلا کیا جب تمھارے پاس لایا کوئی رسول وہ حکم جو نہ بھایا تمھارے جی کو تو تم تکبّر کرنے لگے): نوبت یہاں تک آگئی کہ جب بھی اُن کے پاس کوئی رسول آتے اور اُن کی خواہشات کے خلاف صحیح دینی تعلیمات اور سیاسی شعور پر مبنی سچی باتیں بیان کرتے تو وہ بڑے تکبر سے اُس کا انکار کردیتے تھے۔ جب کہ قربِ الٰہی کے نام پر رسمی عبادات اور مذہبی فروعات پر عمل کررہے ہوتے تھے، لیکن سیاسی مفادات میں گروہی اور طبقاتی خواہشات کے اسیر رہتے تھے۔ اس طرح وہ اللہ کے غضب در غضب میں مبتلا ہوتے رہے۔ ارشادِ ربانی ہے کہ:فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ (-2 البقرہ: 90)۔
مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل میں کوئی چار ہزار کے قریب انبیا علیہم السلام یکے بعد دیگرے آئے ہیں۔ ہر ایک رسول اور نبی کی حقانی تعلیمات کے ساتھ یہودیوں کا یہی رویہ رہا۔ اور جب اپنی خواہشات اور تمناؤں کے مطابق سیاسی مفادات اُٹھانے لگے تو آہستہ آہستہ اُن کی حکومت بھی ختم ہوتی گئی۔ اس لیے کہ جس قوم کا سیاسی ذوق اور شعور فاسد اور خراب ہوجائے، تو اُس کے مفاد پرست سیاسی رہنما حکومت قائم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔
فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ (پھر ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو تم نے قتل کردیا): انبیا علیہم السلام کی حقانی تعلیمات سے انکار کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے بہت سے انبیا علیہم السلام کا انکار کیا اور بہت سے ایسے انبیا بھی گزرے ہیں، جنھیں انھوں نے قتل کیا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں: ’’جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺکو جھوٹا کہا اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کو قتل کیا‘‘۔ اس لیے کہ عدل و انصاف اور احسان و عبادات کے درمیان تفریق کرنے کے نتیجے میں اُن کا دینی مزاج خراب ہوگیا تھا۔ سچے انبیا علیہم السلام کی اُن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رہی تھی۔
اس آیتِ مبارکہ میں یہودیوں کی سیاسی بے شعوری اور دینی بدمزاجی کی حالت بیان کرکے آنے والی تمام اقوامِ عالم کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ دین و دنیا کی تفریق پیدا کرنا اور قرآن حکیم کی جامع اقترابی اور سیاسی تعلیمات کو پیش نظر نہ رکھنا اور سیاسی بے شعوری کا مظاہرہ کرنا قوموں کی تباہی اور بربادی کا باعث ہوتا ہے۔ اور وہ بہ تدریج دوسروں کی غلامی میں مبتلا ہو کر اپنی قومی حکومت اور سیاست سے محروم ہوجائیں گے۔ اور دنیا اور آخرت میں غضب ِالٰہی کے مستحق ٹھہریں گے۔
عذابِ جہنم اور جنت کا راستہ

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَؓ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ’’حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّھَوَاتِ، و حُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہِ‘‘۔ (الجامع الصّحیح للبُخاری، 6487)
(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دوزخ خواہشاتِ نفسانی سے ڈھانپ دی گئی ہے اور جنت مشکلات اور دُشواریوں سے ڈھانپی ہوئی ہے‘‘۔)
زیرِنظر حدیث سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ وہ شخص جو ضروریات اور حاجات تک محدود رہنے کے بجائے خواہشاتِ نفس (ظلم، بخل، اِنفرادیت اور اَخلاقِ رذیلہ) کے تابع زندگی گزارتا ہے، اس کا یہ طرزِعمل اس کے افکار میں گمراہی کے سبب سے ہوتا ہے، جو اُسے شریعت کے دائرے سے نکلنے اور انسانیت دشمن رویوں کا حامل بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان اگر توبہ نہ کرے اور اسی حالت میں اس کی موت آجائے تو وہ عذابِ جہنم کا مستحق قرار پائے گا۔ جب کہ وہ شخص جو ضروریات اور حاجات تک محدود رہتا ہے اور بداَخلاقیوں کا شکار نہیں ہوتا اور اچھے اخلاق (عدل، سخاوت، اجتماعی نظریات اور دیگر اَخلاقِ فاضلہ) کا پابند رہتا ہے، اس سے اس کے عقائد، عبادات اور معاملات درست رہتے ہیں۔ وہ خدا کی منشا اور مرضیات کے مطابق زندگی گزارنے کا خوگر ہوجاتا ہے۔ یہ رَوِش اسے آخرت میں کامیاب کردیتی ہے۔ بالآخر اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوجاتا ہے۔ حاصل یہ کہ جو شخص دنیاپرستی یا شریعت کے احکامات کے خلاف زندگی گزارنے والا ہوتا ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم اور اس کے برعکس شریعت پر عمل کرنے والا جنتی ہوتا ہے۔
اگر مذکورہ صورتِ حال اِنفرادی کے بجائے اجتماعی شکل اختیار کرلے، پوری قوم میں اَخلاقِ فاضلہ ختم ہوجائیں اور اَخلاقِ رذیلہ کا غلبہ ہوجائے تو وہ معاشرہ جہنم کدہ بن جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے اَخلاق سنورنے کے اِمکانات بہت محدود ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک صالح اور اچھا ماحول نیکی کے جذبات کو مہمیز دیتا ہے اور وہ معاشرہ جنت نظیر بن جاتا ہے، جب کہ اس کے برعکس بُرے خیالات اور خواہشاتِ نفس کی جڑیں گہری ہوجاتی ہیں۔ اسی لیے انبیائے کرام علیہم السلام اپنی دعوت و تربیت میں اِنفرادی اور اجتماعی اِصلاح دونوں پر بہ دستور اپنی توجہات مرکوز رکھتے ہیں۔
ناپسندیدہ بُری صورتِ حال کی روک تھام کے لیے اگر اجتماعی سوچ پیدا نہ ہو تو ایسی قوم دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ قومِ بنی اسرائیل پر حضرت دائود اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے ذریعے سے لعنت بھیجی گئی۔ اس لیے کہ وہ ماحول میں موجود بداَعمالیوں کے خلاف کردار ادا نہیں کرتے تھے۔ (سورۃ المائدہ، 78)
آج ہم ایک بداَخلاق ماحول میں رہ رہے ہیں۔ اِنفرادی طور پر نیک رہنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ ہم ذاتی طور پر اچھے اَخلاق پر قائم رہنے کی حتی الامکان کوشش کے ساتھ ساتھ اجتماعی ماحول کو درست کرنے کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔
حضرت ثابت بن قیس بن شماس اَنصاریؓ ’خطیبُ النبیؐ‘

حضرت ثابت بن قیس بن شماس خزرجیؓ اَنصار کے اور رسول اللہ ﷺ کے ’’خطیب‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ فصاحت و بلاغت اور خطابت میں آپؓ کو بڑی مہارت حاصل تھی، اس لیے حضور ﷺ نے کئی عوامی اجتماعات کے مواقع پر خطاب کے لیے آپؓ کی ذمہ داری لگائی اور آپؓ نے سرکارِ دوعالم ﷺ کے خطیب کی حیثیت سے اپنی فصیح و بلیغ خطابت کے جوہر دکھائے۔ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر استقبالیہ پروگرام میں جب عوام کا جم غفیر اُمڈ آیا تو اس موقع پر حضرت ثابت بن قیسؓ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’ہم آپؐ کی ہر اُس چیز کی حفاظت کریں گے، جس طرح سے اپنی جان و اولادکی حفاظت کرتے ہیں، لیکن ہمیں اس پر معاوضہ بدلہ کیا ملے گا؟‘‘ تو آپ ﷺ نے جواب دیا: ’’جنت‘‘! سارا مجمع پکار اُٹھا کہ ہم اس پر راضی ہیں۔ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر حضرت عامر بن بُکَیرؓ اور حضرت ثابتؓ کے درمیان عقدِ مواخات (بھائی چارہ) کرایا گیا۔
مدینہ منورہ میں ۹ ہجری میں بنوتمیم کا وفد آیا اور اور انھوں نے اپنے قبیلے کے مشہور خطیب عُطارُد کو اپنے قبیلے کے مقام و مرتبے کے اظہار کے لیے کھڑا کیا تو جواب میں آپؐ نے حضرت ثابتؓ کو حکم دیا: ’’آپ ان کو جواب دیں‘‘۔ تو آپؓ نے انتہائی فصاحت و بلاغت سے ایسی مدلل گفتگو کی کہ حضرت اقرع بن حابسؓ بول اُٹھے کہ: ’’مجھے اپنے باپ کی قسم! آپ ﷺ کا خطیب ہمارے خطیب سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ عہدِ نبویؐمیں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا یمامہ کا سردار مسیلمہ مدینہ آیا تو آپؐ نے اس سے گفتگو کے لیے حضرت ثابتؓ کو منتخب کیا کہ اس سے دلائل سے بات چیت کریں اور اس کو راہِ حق سمجھائیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ بہت سے صحابہؓ کی خوبیاں بیان فرمائیں تو حضرت ثابتؓ کے متعلق فرمایا: ’’نِعْمَ الرَّجُلُ ثابِتُ بنُ قَیْسٍ‘‘ (ثابت بن قیسؓ خوب شخصیت ہیں)۔ آپ ﷺ کو حضرت ثابتؓ سے بہت محبت تھی۔ ایک مربتہ حضرت ثابتؓ بیمار ہوئے تو آپ ﷺ عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور آپؓ کو دعادی: ’’اِذْھَبِ البَأسَ ربِّ النَّاسِ عَن ثابتِ بنِ قیسِ بن شماسٍ‘‘ (اے لوگوں کے ربّ! ثابت بن قیس بن شماس سے بیماری دُور کر)۔ نیز آپؐ نے حضرت ثابتؓ کو جنت کی بشارت دی‘‘۔ (صحیح مسلم)
آپؓ غزوۂ اُحد کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے۔ عہدِ صدیقیؓ (۱۲ھ) میں معرکۂ یمامہ میں حضرت خالد بن ولیدؓ سپہ سالار تھے اور حضرت ثابتؓ انصار کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے شریک ہوئے۔ اس موقع پر بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ اس طرح آپؓ زبان و قلم اور میدانِ کارزار دونوں کے شاہ سوار ثابت ہوئے۔ آپؓ کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: محمد، یحییٰ اور عبداللہ۔ آپؓ سے حضرت انس بن مالکؓ اور آپؓ کے بیٹوں نے اَحادیثِ نبویؐ روایت کی ہیں۔
حکمران اشرافیہ کی نا اہلی اور مہنگائی کا نیاگرداب!

پاکستانی معاشرہ آج کل ایک خاص قسم کے اضطراب سے گزر رہا ہے، جہاں ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں پر حکومت اپنا کنٹرول کھو چکی ہے۔ حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں اور مافیاز سرگرم ہیں، جو عوام کو نوچنے کے لیے کھلے چھوڑ دیے گئے ہیں۔ اشیائے خورد و نوش سے لے کر زندگی کے ہر شعبے کو مہنگائی نے اپنے آہنی پنجے میں جکڑ لیا ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کی مارکیٹ اور بازار کسی قانون کے تابع نہیں رہے۔ جس کا جو جی چاہتا ہے، وہ کررہا ہے۔
حکومت بنیادی سماجی خدمات اور انسانی حقوق کے تحفظ سے بے اعتنائی برت رہی ہے، جب کہ وہ اپنے اقتدار کو بچانے اور مستحکم کرنے کے لیے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہر حربہ استعمال کرنے پر اُدھار کھائے بیٹھی ہے۔ سیاست کے چند گرگ باراں دیدہ اپنی خاندانی سیاست کو بچانے کے لیے آئینی تقاضوں کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے۔ ان کی دلچسپی عوامی پالیسیوں کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں ہے۔
سیاسی اور معاشی اشاریے مستقبل میں پاکستان کی مزید سیاسی اور معاشی ابتری کی نشان دہی کررہے ہیں۔ پاکستان مسلسل معاشی تباہی کے دہانے کی طرف سِرَک رہا ہے۔ پیٹرول، گیس، بجلی، خوراک اور ادویات کی قیمتوں میں ہوش رُبا گِرانی نے انسانوں کی زندگیوں کو دوبھر کردیا ہے۔ بیوروکریسی اور اقتدار پر قابض اشرافیہ ملک کو درپیش چیلنج کی سنگینی سے ابھی بھی لا پرواہ نظر آرہی ہے۔ وہ اس سے اب بھی اقتدار کی جنگ کے طور پر نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے مسلسل انحطاط اس کا مقدر کیوں ٹھہر چکا ہے؟ بدعنوانی، اقربا پروری، خراب حکمرانی اور اس کی معاشی تباہی حد سے کیوں بڑھ رہی ہے۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک پاکستان کے بعد آزادی حاصل کرنے کے باوجود مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ پڑوسی ملک کو تو چھوڑیے، زندگی کے کسی میدان میں اس کی مثال ہماری رگِ قومیت کو بھڑکا دیتی ہے اور ہم مثبت سوچنے کے بجائے ماضی کی سیاست کے گڑے مُردے اُکھاڑنے بیٹھ جاتے ہیں۔
آپ جنوبی کوریا کو دیکھ لیجیے! جو ایک ناکام ریاست کہلاتی تھی، لیکن آج دنیا کی دسویں بڑی معیشت کہلاتی ہے۔ 1949ء میں انقلاب سے ہم کنار ہونے والا چین آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت کا اعزاز حاصل کر چکا ہے۔ اَور تو اَور بنگلا دیش، سنگا پور اور ملائیشیا جیسے ممالک جو پس ماندہ اور غریب تھے، لیکن وہاں کی قیادتوں کے درست فیصلوں کے نتیجے میں بہتر سے بہتر کے سفر پر گامزن ہیں۔اس کے علی الرغم ہماری حکمران اشرافیہ نے پی آئی اے، واپڈا، ریلوے، ڈاک خانہ، سٹیل ملز اور پبلک سیکٹر کے مزید ادارے اپنی نااہلی، کرپشن اور اقربا پروری سے تباہ کرڈالے اور پاکستان کو ایک ایسے غار میں تبدیل کردیا ہے، جس میں کہیں بھی روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی اور قوم کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ آج بھی پاکستان پر مسلط کرپٹ اشرافیہ اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث ملک اور قوم کو اس دلدل سے نکالنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، بلکہ وہ معاشی طور پر تباہ اس ملک میں اپنے بے پناہ اختیارات کے باعث اپنی ناجائز مراعات کو ہر حال میں بحال رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان جس کی معیشت‘ قرضوں کی بیساکھی پر کھڑی ہے اور جہاں ایک عام آدمی کے لیے دو ٹائم کا کھانا حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوچکا ہے، اس ملک کی نوکر شاہی دنیا کے متمول ملکوں برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور انتہائی مہنگے داموں ملازمین رکھنے والے ادارے اقوامِ متحدہ سے بھی زیادہ اور بڑی مراعات لے رہے ہیں۔ اور یہاں حکمران اشرافیہ اور ان کے سہولت کار بڑے سرکاری ملازموں کا شاہانہ طرزِ زندگی اختیار کرکے قومی خزانے سے بے تحاشہ دولت لوٹنے کا سبب بن رہا ہے۔
صرف پنجاب جیسے صوبے میں 8 ہزار 975 کنال پر 403 ارب کے سرکاری بنگلے، ان کی دیکھ بھال پر سالانہ 10 ارب روپے سے زیادہ خرچہ ترقیاتی فنڈ سے ان رہائش گاہوں میں تزئین و آرائش کے لیے اربوں روپے کے فنڈز لاہور کے جی او آر وَن جیسے مہنگے علاقوں میں 5 سے 56 کنال کی عالی شان رہائشیں سیکرٹریز کے گھروں پر بہ یک وقت بیسیوں ملازمین کی موجودگی کے علاوہ لگژری گاڑیوں اور بے تحاشہ پیٹرول کی مد میں لاکھوں روپے کے اخراجات ہوتے ہیں۔ ان قانونی اور ضابطے کی سہولیات کے علاوہ یہ طبقہ اپنے اختیارات سے جو کچھ حاصل کرتا رہتا ہے، اس کی کوئی حد اور حساب ہی نہیں ہے۔ اور اس اشرافیہ حکمران طبقے کی طرف سے عوام کے نام چائے کی ایک پیالی اور کبھی ایک روٹی کم کرنے کی اپیلوں کا ناٹک بھی کیا جاتا ہے۔
ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا سلوگن الاپنے والی حکومت آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ اس کے پاس ایسی کوئی پالیسی نہیں، جس سے وہ قوم کو اس عذاب سے نجات دلوا سکے، بلکہ وہ اب بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کے بدلے ڈالروں کی نئی قسط کی منتظر ہے۔ پاکستان اس وقت جس سنگین معاشی بحران میں گھرا کھڑا ہے، اس سے نکالنے کے لیے اس حکمران اشرافیہ کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے۔ یہ جھوٹے نعروں کے ذریعے عوام کو مزید دھوکا دینے کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس صورتِ حال کو خطرناک طرزِ معاشرت سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’یہ شاہانہ نظامِ زندگی، جس میں چند اَشخاص یا چند خاندانوں کی عیش و عشرت کے سبب دولت کی صحیح تقسیم میں خلل واقع ہو، اس کا مستحق ہے کہ اس کو جلد از جلد ختم کر کے عوام کو اس مصیبت سے نجات دلائی جائے اور اُن کو مساویانہ نظامِ زندگی کا موقع دیا جائے‘‘۔ لیکن یہ کام ہمارے ملک کی روایتی سیاسی جماعتوں کے بس کا نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ایک انقلابی ویژن کی حامل تاریخی شعور رکھنے والی ایک منظم قوت کی تشکیل کی ضرورت ہے، جو اس ملک میں موجود نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ (مدیر)
صبح، شام اور سونے کے وقت کے اذکار

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’رسول اللہ ﷺ نے ذکر اللہ کے لیے تین اوقات مسنون قرار دیے ہیں:
(1) صبح کے وقت (2) شام کے وقت اور (3) سونے کے وقت۔
آپؐ نے اکثر اذکار میں نیند سے بیدار ہوتے ہی ذکر کا وقت مقرر نہیں کیا۔ اس لیے کہ وہ صبح صادق کے طلوع کا وقت ہوتا ہے یا سورج نکلنے کا وقت ہوتا ہے۔
صبح اور شام کے اذکار میں آپؐ نے یہ دعائیں بیان فرمائی ہیں:
(صبح شام کی دعائیں)
(1) ’’اللّٰھُمّ ! عَالِمَ الْغَیْبِ و الشَّھَادَۃِ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ و الأرْضِ، رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ و مَلِیْکَہٗ، أشْھَدُ أن لَّا إلٰہَ إلَّا أنتَ، أعُوْذُ بِکَ مِن شَرِّ نَفْسِیْ، و مِنْ شَرِّ الشّیطانِ و شِرْکِہٖ‘‘۔ (رواہ الترمذی، مشکوٰۃ، : 2390)
(اے اللہ! تُو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ ہر چیز کا ربّ اور اُس کا مالک ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اَور کوئی خدا نہیں۔ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے نفس کے شرّ سے، اور شیطان کے شرّ اور اُس کی شرکت سے۔)
(2) ’’أمْسَیْنَا، و أمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہ، و الْحَمْدُ لِلّٰہِ، و لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ، لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر۔
اللّٰہُمَّ ! إِنِّیْ أَسأَلُکَ مِنْ خَیْرِ ہٰذِہِ اللَّیْلَۃِ و خَیْرِ مَا فِیہَا، و أَعُوْذُ بِکَ مِن شَرِّہَا و شَرِّ مَا فِیہَا۔اللّٰہُمَّ ! إِنِّیْ أعُوْذُ بِکَ مِنَ الکَسَلِ، و الْہَرَمِ، و سُوْئِ الْکِبَرِ، و فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَ عَذَابِ الْقَبْرِ‘‘۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ: 2381)
(ہم نے شام کی اور شام کے وقت ملکیت اللہ کی ہے۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں۔ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ وہ اکیلا ہے، کوئی اُس کا شریک نہیں۔ اُسی کے لیے حکمرانی ہے۔ اُسی کے لیے سب تعریفیں ہیں۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی اور جو کچھ اس میں خیر ہے، کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس رات کے شرّ سے اور اس میں جو شرّ موجود ہے، اس سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں سستی اور کاہلی سے، اور بڑھاپے سے، اور بڑھاپے کی بیماریوں سے، اور دنیا کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے۔)
یہ دعا صبح کے وقت پڑھتے ہوئے ’’أمْسَیْنَا‘‘ (ہم نے شام کی) کی جگہ پر ’’أصْبَحْنَا‘‘ (ہم نے صبح کی) کے لفظ سے تبدیل کردی جائے۔ اور ’’أمْسٰی‘‘ (شام ہوگئی) کی جگہ پر ’’أصبح‘‘ (صبح ہوگئی) پڑھا جائے۔ اور ’’ہٰذِہ اللَّیْلَۃ‘‘ (اس رات) کو ’’ہٰذَا الْیَوْم‘‘ (اس دن) سے بدل دیا جائے۔
(3) صبح کے وقت اس طرح پڑھے:
’’اللّٰہُمَّ ! بِک أَصْبَحْنَا وَ بِکَ أمْسَیْنَا، وَ بِکَ نَحْیَا، وَ بِکَ نَمُوْتُ، وَ إِلَیْکَ الْمَصِیْرُ‘‘۔
(اے اللہ! تیرے نام سے ہم نے صبح کی اور تیرے نام سے ہم نے شام کی۔ تیری ہی طرف سے ہم زندہ ہیں اور تیری طرف ہی ہم مریں گے۔ اور تیری طرف ہی ہم کو لوٹ کر جانا ہے۔)
اور شام کے وقت اس طرح پڑھے:
’’اللّٰہُمَّ ! بِکَ أمْسَیْنَا، و بِکَ أَصْبَحْنَا، وَ بِکَ نَحْیٰی، وَ بِکَ نَمُوْتُ، وَ إِلَیْکَ النُّشُور‘‘۔ (مشکٰوۃ: 2390)
(اے اللہ! تیرے ہی نام سے ہم نے شام کی۔ اور تیرے ہی نام سے ہم نے صبح کی۔ اب تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہیں اور تیرے ہی نام پر ہم مریں گے اور تیری ہی طرف ہم اُٹھائے جائیں گے۔)
(4) ’’بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الأَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَاء، وَ ہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم‘‘ تین مرتبہ پڑھے۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2391)
(شروع اُس اللہ کے نام سے کہ اُس کے نام کے ساتھ کوئی چیز بھی زمین میں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور نہ آسمان میں۔ وہی خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔)
(5) ’’سُبْحَانَ اللّٰہ وَ بِحَمْدِہِ، وَ لَا قُوََّۃ إِلَّا بِاللّٰہ، مَا شَائَ اللّٰہُ کَانَ، وَ مَا لم یَشَأْ لم یَکُنْ۔ أعْلَمُ أَنّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٍ، وَ أَنّ اللّٰہ قَدْ أحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمًا‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2393)
(پاک ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اور اُسی کے لیے حمد و ثنا ہے۔ کوئی قوت نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ جو وہ چاہتا ہے، ہوجاتا ہے۔ اور جو نہیں چاہتا، وہ نہیں ہوتا۔ میں یہ بات جانتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔)
(6) فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ، وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ، یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ ۧ
(-30 الروم: آیت: 17 تا 19، رواہ ابوداؤد، مشکوٰۃ، حدیث: 2394)
(پاک ہے اللہ کی ذات جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو۔ اُسی کے لیے سب تعریفیں ہیں آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور شام کے وقت اور جب تم ظہر کے وقت ہوتے ہو۔ وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ اور زمین کو مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ایسے ہی تمھیں بھی زمین سے اُٹھایا جائے گا۔) (باب الاذکار و ما یتعلق بھا)
علامہ ابن خلدونؒ کا نظریۂ تعلیم

انسان علم و فکر اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی وجہ سے دیگر حیوانات سے ممتاز ہے۔ فکری قوت و استعداد کی وجہ سے وہ اُمورِ معاش پر غور کرتا ہے۔ دیگر اَبنائے جنس کے ساتھ معاملات طے کرتا ہے اور عُمرانی زندگی کی طرح ڈالتا ہے۔ غور و فکر کی عادت اس سے لمحہ بھر کے لیے بھی جدا نہیں ہوتی۔ اسی عادت سے ہی علوم و فنون کے چشمے پھوٹتے ہیں اور صنعت و حرفت کے سوتے اُبھرتے ہیں۔ حصولِ تعلیم کے حوالے سے علامہ ابن خلدونؒ لکھتے ہیں کہ اساتذہ کو تدریج کے فطری اُصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ طالبِ علم کی صلاحیت و استعداد کو بھی دیکھا جائے کہ اس کا ذہن علوم و فنون کی کتنی مقدار برداشت کرسکتا ہے۔ کچھ اساتذہ کی ابتدائی مرحلے میں کوشش ہوتی ہے کہ سب کچھ طالبِ علم کے ذہن میں اُنڈیل دیں۔ اس سے طالبِ علم کے ذہن میں علمی ملکہ پیدا نہیں ہوتا، جو کہ حصولِ علم کے لیے نہایت ضروری ہے، بلکہ اس طرزِ عمل سے طالبِ علم کند ذہن ہوجاتا ہے اور اسے علوم و فنون سے ایک طرح کی نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ اساتذہ جو فن بھی پڑھائیں، اس کی اہم اور ضروری اصطلاحات توضیح و تشریح کے ساتھ طلبا کے ذہن نشین کرائی جائیں۔ گرد و پیش کی محسوسات کی مثالیں دے کر سمجھایا جائے۔ علم و فن کی مشکلات اور ایک ایک پیچیدگی کا حل پیش کیا جائے۔ اس حوالے سے طلبا کو سوال کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس طریقۂ تعلیم سے طالبِ علم میں علمی ملکہ راسخ ہوگا۔ مزید یہ کہ طلبا علمی مسائل میں باہمی مذاکرہ و مکالمہ کریں۔ اس سے بھی ان میں علمی مہارت پیدا ہوگی۔
حصولِ تعلیم کے حوالے سے طالبِ علم پر سختی کرنا نہایت مُضِر اور نقصان دہ ہے۔ بالخصوص ابتدائی سطح کے بچوں پر سختی کے بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ سختی سے ذہن و فکر کی وسعت اور خوشی ماند پڑ جاتی ہے۔ اور اس کی جگہ کسل مندی، جھوٹ اور نفاق پیدا ہوجاتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان تربیتی پہلو سے ہوتا ہے۔ انسانی نفس میں جو حمّیت و مدافعت کا جذبہ ہوتا ہے، وہ کمزور پڑ جاتا ہے اور دوسروں پر بھروسے کا رُجحان بڑھ جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو اقوام سختی و تسلط کے سائے میں پروان چڑھتی ہیں، ان میں اَخلاقی بُرائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بھی یہ اُصول پیشِ نظر رہے گا۔
علامہ ابن خلدونؒ کے ہاں ذہانت بہ قدرِ تمدن ہوتی ہے۔ جہاں تمدن اعلیٰ ہوتا ہے، وہاں کے لوگ اسی نسبت سے ذہین اور ذکی ہوتے ہیں۔ متمدن اقوام اپنے مخصوص آداب و اصول رکھتے ہیں۔ خواہ وہ معاشی اصول ہوں یا سماجی، دینی ہوں یا دُنیوی۔ وہ اپنے تمام معاملات و عادات اور تصرفات میں اپنے دائرے اور حدود میں رہ کر اپنے اُمور سرانجام دیتے ہیں۔ گویا ان کے تمام معاملات بہ منزلہ ایک منظم کاری گری کے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ہر منظم تمدن سے نفسِ انسانی اثرات قبول کرتا ہے، جن سے عقل و دانش میں اضافہ ہوتا ہے۔ برخلاف غیرمتمدن معاشروں کے، وہاں چوں کہ یہ اصول و ضوابط پیش نظر نہیں ہوتے، اس لیے وہ ذہانت و ذکاوت میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ابھی عشق کے امتحاں اَور بھی ہیں

عمومی رُجحان ہے کہ آئی ایم ایف بہادر کی بخشش کے بعد پاکستان کو گویا ایک نئی زندگی مل جائے گی، دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے اور امیر ملک ہمیں پہلی سی چاہت اور محبت سے پیش آئیں گے اور ڈالروں کی ریل پیل ہو جائے گی۔یہ بات عمومی طور پر ہم سب اپنے پچھلے تجربات کی روشنی میں کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہوتا یوں تھا کہ جب بھی آئی ایم ایف سے کوئی قسط ادا کردی جاتی تھی، اس کے بعد حکومت اور مقامی کاروبار ایک ہی انداز میں ردِعمل دکھاتے چلے آئے ہیں۔ چناںچہ روپے کی قدر مستحکم ہوجاتی تھی، زرِ مبادلہ میں ٹھہراؤ آجاتا تھا، مقامی کاروبار میں تیزی کا رُجحان ریکارڈ کیا جاتا تھا اور سب سے بڑھ کر دنیا اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتی تھی، لیکن عاقبت نااندیشی ایک ایسا روگ ہے، جس میں غالباً ہمارا پہلا نمبر ہے۔ اس وقت دہائیوں کی نااہلی اور غیرسنجیدگی بالآخر ہمیں تباہی کے بہت قریب لے آئی ہے۔
بجٹ 2022-23ء دستاویز کی روشنی میں ملک پر قرضوں کے بوجھ کا جائزہ اگست 2022ء کے کالم میں واضح کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اندرونی اور بیرونی قرضوں پر کُل 40 کھرب روپے کا سود اَدا کرنا تھا۔ اس تناظر میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2022ء تک صرف مقامی قرض پر 27 کھرب روپے کا سود اَدا کیا جاچکا ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی رُو سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر شرح سود 17 فی صد کی جاچکی ہے اور امکان ہے اسے جلد ہی20 فی صد تک پہنچا دیا جائے گا۔ یوں قوی امکان ہے کہ سود کی ادائیگی طے شدہ ہدف سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔
اس کی بڑی وجہ پچھلے سال کے مقابلے میں دسمبر 2022ء تک حکومتِ پاکستان نے مقامی قرض کی مد میں 66 کھرب کا اضافہ کیا اور اسے 330 کھرب تک پہنچا دیا۔ اور یہ سلسلہ رُکا نہیں ہے۔ جب تک آپ یہ مضمون پڑھیں گے، مقامی قرض 360 کھرب تک پہنچ چکا ہوگا۔ اور شرح سود میں ایک فی صد اضافہ جون 2023ء تک پاکستانیوں کو ماہانہ 30 ارب روپے میں پڑے گا۔ اس لیے امکان ہے کہ صرف مقامی قرضوں پر سود ہی ہمارے بجٹ کو کھا جانے کے لیے کافی ہوگا اور وہ بھی اس وقت، جب ٹیکس وصولی ہدف سے مستقل طور پر کم ہوتی جا رہی ہے۔
عام طور پر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ مقامی قرض تو گھر کی کھیتی ہے، اس کے اثر کو اضافی ٹیکس اور مزید قرضوں سے کم کیا جاسکے گا، لیکن آخر کب تک؟ ٹیکس تو بہرحال لوگوں سے ہی لینا ہے اور اضافی قرض بھی دراصل چھ کروڑ کھاتہ داروں کا ہی سرمایہ ہے، جس میں سے یہ قرض لیا جائے گا۔ آج بھی جب ہمارے معاشی ماہرایسی بات کرتے ہیں توگمان ہوتا ہے کہ ’ابھی عشق کے امتحاں اَور بھی ہیں‘۔
شمارہ ختم
واپس
