فرقہ وارانہ اختلاف کی نوعیت اور اس کا صحیح فیصلہ

گزشتہ آیات (-2 البقرہ: 111-112) میں بتلایا گیا تھا کہ خواہشات پر مبنی بلادلیل یہودیوں اور نصرانیوں کی طرح دعوے کرنا‘ درست نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو آدمی بھی صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور ابراہیمی حنیفی اُصول پر اللہ کی طرف صفتِ احسان کے ساتھ متوجہ ہوا، وہ کامیاب ہے اور اُسی کے لیے اجرِ عظیم ہے۔
اس آیت (-2 البقرہ: 113) میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور صابئین و مشرکین کی طرح فرقہ وارانہ گروہیت میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ ابراہیمی تحریک کے سیدھے اور سچے راستے پر عمل کریں اور اُصولِ حنیفیت پر ہی اپنی اجتماعی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسی کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔
﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَيْءٍ ﴾ (اور یہود تو کہتے ہیں کہ: نصاریٰ نہیں کسی راہ پر): یہودی‘ عیسائیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ کسی مضبوط نظریے اور سیدھے راستے پر نہیں ہیں۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں: ’’یہودیوں نے تورات پڑھ کر سمجھ لیا کہ جب نصرانیوں نے حضرت عیسیٰؑ کو خدا کا بیٹا کہا، تو بے شک وہ کافر ہوگئے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ تورات کا پہلا باب ’’باب التّکوین‘‘ صحیفۂ اِبراہیم پر مشتمل ہے۔ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کی اتباع کا حکم دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ ابراہیمی دین کی اتباع کرنے والے کو ہی صرف نجات حاصل ہوگی، خواہ وہ کوئی ہو۔ اس طرح یہودیوں نے تورات کے اس باب کی تلاوت کرکے نصرانیوں کے بارے میں معلوم کرلیا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ اس طرح وہ ابراہیمی تحریک کے دائرے سے خارج ہوگئے ہیں۔
﴿وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ﴾ (اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ: یہود نہیں کسی راہ پر، باوجود یہ کہ وہ سب پڑھتے ہیں کتاب): ابراہیمی تحریک کی ایک اہم کتاب اِنجیل کے مطالعے سے عیسائیوں نے بھی سمجھ لیا کہ یہودی اصل ابراہیمی راستے پر نہیں ہیں۔ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’اور نصرانیوں نے انجیل میں صاف دیکھ لیا کہ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرکے کافر ہوگئے‘‘۔ یہاں ’’الکتاب‘‘ سے مراد وہ مجموعہ ہے، جس میں ’’عہدِ قدیم‘‘ (تورات) اور ’’عہدِ جدید‘‘ (انجیل) دونوں شامل ہیں۔ ان ہر دو فرقوں نے ’’الکتاب‘‘ کی تلاوت سے معلوم کرلیا کہ دوسرا فرقہ ابراہیمی تحریک کے اصل راستے پر نہیں ہے۔
﴿كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ﴾ (اسی طرح کہا اُن لوگوں نے جو جاہل ہیں ان ہی کی سی بات): تورات اور انجیل کو ماننے والے اور اس کی تلاوت کرنے والے یہودیوں اور عیسائیوں نے علمی حوالے سے ایک دوسرے کے بارے میں اس حقیقت کو جان لیا کہ وہ اصل ابراہیمی دینِ حنیفی پر قائم نہیں ہیں۔
ایک تیسرا طبقہ وہ ہے، جو ابراہیمی تحریک کی اصل تعلیمات سے علمی طور پر جاہل ہیں۔ ان کے پاس کوئی علمی کتاب نہیں ہے۔ وہ بھی حنیفی تحریک سے اپنی ناواقفیت اور جہالت کے سبب انھی کی طرح کی بات کرتے ہیں کہ ہم ہی حق پر ہیں۔ باقی سب گمراہی پر ہیں۔ حضرت شیخ الہندؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ان جاہلوں سے مشرکین عرب اور بت پرست مراد ہیں۔ یعنی جیسے یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کو گمراہ جانتے ہیں، اسی طرح بت پرست بھی سب فرقوں کو گمراہ اور بے دین بتلاتے ہیں‘‘۔
حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اس کی وضاحت میں ﴿الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ کو زیادہ وسیع معنی میں لیا ہے کہ ان سے مراد ’’صابئین‘‘ ہیں، جو حنیفی تحریک کے علاوہ کسی بھی طرح کی بت پرستی میں مبتلا ہیں۔ یہاں بت پرست سے مراد صرف اہلِ مکہ کو لینا درست نہیں ہے، بلکہ ہر وہ فرقہ اور گروہ ہے جو اپنی جہالت کے سبب‘ حنیفی تحریک کے بنیادی اُصولوں کی خلاف ورزی کرکے غیراللہ کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے۔ ان کے لیے قرآن حکیم نے ’’صابئین‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے، جیسا کہ سورت البقرہ کی آیت 62 میں یہودیوں اور نصرانیوں کے بعد ’’صابئین‘‘ کا تذکرہ ہے۔
﴿فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ﴾ (اب اللہ حکم کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے): علمی اور عملی طور پر باہم اختلاف کرنے والی ممکنہ طور پر چار جماعتیں ہیں: 1۔ وہ جماعت جو صدقِ دل سے ابراہیمی تحریک پر ایمان لائی اور ہر دور کے نبی کی سچی باتوں کو انھوں نے قبول کیا ہے اور اس دور میں حضرت محمد مصطفی ﷺ اور قرآن حکیم پر صدقِ دل سے ایمان لائی ہے۔ 2۔دوسرا گروہ یہودیوں کا ہے، جو حنیفی تحریک کی ایک اہم کتاب ’’تورات‘‘ پڑھنے کے باوجود اصل تعلیمات سے ہٹ گئے اور دینِ حنیفی میں خودساختہ تبدیلیاں کرکے تحریف شدہ دین اختیار کیے ہوئے ہے اور دوسرے فرقوں کو گمراہ سمجھتا ہے۔ 3۔ تیسرا گروہ نصاریٰ کا ہے، جو حنیفی تحریک کی ایک اہم کتاب ’’اِنجیل‘‘ پڑھنے کے باوجود اصل دین کی تعلیمات سے روگردانی کرکے تحریف شدہ مذہب اور خود ساختہ دین اختیار کیے ہوئے ہے۔
4۔ چوتھا گروہ اُن صابئین اور مشرکین کا ہے، جو کسی الٰہی کتاب سے علمی طور پر واقف نہیں ہیں اور عملی طور پر حنیفیت سے آگاہ نہیں ہیں۔ وہ اللہ کے ساتھ حنیف اور یکسو ہونے کے بجائے اللہ کے ساتھ بت، آگ یا کسی اور مخلوق وغیرہ کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ یا اللہ کو کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ شرک اور تشبیہ سے پاک توحیدِ الٰہی اختیار نہیں کرتے اور اللہ کے فرماں بردار بن کر اُس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، جیسا کہ سورت البقرہ: آیت 112 میں اَجر کے حصول کے لیے صحیح راستہ بیان کیا گیا ہے۔
ان باہم اختلاف کرنے والی چار جماعتوں میں قیامت کے دن ہی اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ اس لیے کہ فرقہ وارانہ گروہیت کی فضا میں دنیا میں فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ خاص طور پر صابئین اور حنفا کے درمیان موجود اختلافی اُمور کا فیصلہ اور حقیقی تحریکِ حنیفیّت اور یہودیت اور عیسائیت کے درمیان مکمل فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوگا۔
ذوالحج کے پہلے دس دِنوں کی فضیلت

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃ - رضی اللّٰہ عنہ - قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ :
’’مَا مِنْ أَیَّامٍ أَحَبُّ إِلی اللّٰہِ أَنْ یَّتَعَبَّدَ لَہٗ فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحَجَّۃِ، یَعْدِلُ صِیَامُ کُلَّ یَوْمٍ مِنْھَا بِصِیَامِ سَنَۃٍ، وَ قِیَامُ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْھَا بِقِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ‘‘۔ (سنن ترمذی، حدیث: 758)
(حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’کوئی دن اللہ کو اتنے محبوب نہیں کہ جن میں اللہ کی عبادت اور خشوع و خضوع اختیار کیا گیا ہو، جتنے ذو الحج کے ابتدائی دس دن اللہ کو محبوب ہیں۔ ان میں ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزے کے فوائد و ثمرات کے برابر ہے۔ ان میں سے ہر رات کی عبادت کے نتائج شبِ قدر کے فوائد و ثمرات کے برابر ہیں‘‘۔)
زیرِنظر حدیث کی روشنی میں ذی الحج کے پہلے دس دِنوں اور راتوں میں عبادات، روزے اور نوافل یا دیگر عبادات مؤمن کی روحانی ترقی کے لیے نہایت مفید اور حصولِ تقویٰ کے لیے اِکسیر ہیں۔ تزکیۂ نفس اور رُوحانی بالیدگی کی طرف جب تک خصوصی توجہ اور دھیان نہ دیا جائے، تب تک خاطرخواہ کامیابی نہیں ملتی۔ اس مقصد کے لیے یکسوئی کے ساتھ طویل عرصے تک مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔
عبادات کے لیے مخصوص ایام و اوقات اور مقاماتِ مقدسہ میں جسمانی اور قلبی ریاضت؛ روح کی پاکیزگی، تزکیۂ قلب اور تصفیۂ باطن میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس کاوش سے انسان کا دل اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ برائیوں اور گناہوں سے بیزار، نیکیوں کی طرف راغب اور عبادات میں زیادہ سے زیادہ منہمک اور مشغول ہوجاتا ہے۔ یوں اَخلاقِ رذیلہ سے چھٹکارا اور عمدہ اَخلاق کا خوگر ہونے کے لیے عبادات، تلاوتِ قرآن کی پابندی اور ذکر اذکار کی مشغولیت نہایت مددگار ثابت ہوتی ہے۔
عبادات کے لیے وہ ایام جن کی نشان دہی نبیﷺ نے کی ہو، ازحد مفید ثابت ہوتے ہیں۔ حضورﷺ کے ارشاد کے مطابق ذو الحج کے پہلے نو دنوں کے روزے اور ان کی راتوں کی عبادت، سال بھر کے روزوں اور لیلۃ القدر کے قیام کا اَجر لیے ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کے روزوں اور لیلۃ القدر کی فضیلت جنھیں پہلے نصیب ہوگئی ہو، ان کو مزید ترقی حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ لوگ جو رمضان المبارک میں اس فضیلت سے محروم رہ گئے ہوں، رب کریم کی طرف سے انھیں دوبارہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان ایام سے فائدہ اُٹھا لیں۔ اس لیے جسے اپنی حالت کی بہتری کی آرزو ہو تو زیرِنظر حدیث کی روشنی میں اسے ذو الحج کے پہلے دس مبارک ایام میں عام معمول سے زیادہ عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ اس میں وہ اوصاف پیدا ہوں جو اِن ایام میں اللہ تعالیٰ نے ایک مؤمن کے لیے مقدر کر رکھے ہیں۔
شمارہ ختم
واپس
