فروری،2021ء

ماہنامہ رحیمیہ

فروری،2021ء

فروری 08, 2021 10 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 10

غلامی سے آزادی کا حصول؛ انعامِ الٰہی

غلامی سے آزادی کا حصول؛ انعامِ الٰہی

وَإِذ نَجَّيناكُم مِن آلِ فِرعَونَ يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ يُذَبِّحونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ وَفي ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ (القرآن، البقرہ: 49) 
(اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ رہائی دی ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے، جو کرتے تھے تم پر بڑا عذاب۔ ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو، اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری عورتوں کو۔ اور اس میں آزمائش تھی تمھارے ربّ کی طرف سے بڑی) 
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ: ’’میری اُن نعمتوں کو یاد کرو، جو میں نے تم پر کی ہیں‘‘۔ ان میں غلامی سے آزادی کے حصول کی سب سے پہلی نعمت اس آیت ِمبارکہ میں انھیں یاد کرائی گئی ہے، تاکہ قوموں میں غلامی سے نکلنے اور آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کا جذبہ بیدار ہو۔ 
وَإِذ نَجَّيناكُم مِن آلِ فِرعَونَ : کسی قوم کے لیے سب سے بڑی نعمت ظلم اور ناانصافی اور غلامی کے نظام سے نجات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرتی اور دوسروں کے فیصلوں پر عمل کرنے پر مجبور ہوتی ہے، اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کرسکتی۔ اس آیت میں بنی اسرائیل کی فرعونی نظام سے نجات پر مشتمل انعام کا تذکرہ ہے۔ مصر کے ہر حکمران کو ’’فرعون‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس حکمران کے تمام مددگار اور معاون آلِ فرعون میں شامل ہیں۔ یہاں ’’آلِ فرعون‘‘ سے مراد فرعون، اس کی قبطی نسل اور حکومت کی انتظامیہ ہے۔ 
بنی اسرائیل حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر آئے تھے۔ وہ ایک عرصے تک مصر میں آزادی اور امن کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون نے بنی اسرائیل پر بڑے ظلم ڈھا رکھے تھے۔ ملک مصر میں سرکشی، تکبر، بداَمنی، معیشت کا طبقاتی نظام قائم تھا۔ اس نے پورے ملک میں فساد برپا کیا ہوا تھا۔ اس فرعون نے بنی اسرائیل کو آزادی سے محروم کر رکھا تھا۔ ان کی نسل کشی کر رہا تھا۔ وہ معاشی پستی اور ذلت کی حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم کیا جا رہا تھا۔ 
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے ان پر احسان کیا اور انھیں فرعون کی غلامی سے نجات دلائی۔ چناںچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو طُور پہاڑ پر بلا کر نبوت کی نعمت سے سرفراز کیا تو ان سے فرمایا کہ : ’’جاؤ فرعون کی طرف کہ اس نے سرکشی کی ہے‘‘۔ (القرآن 17:79) حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے سامنے جا کر سب سے پہلا پیغام بھی یہی دیا کہ: ’’بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو‘‘ (القرآن 17:26) اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی آزادی کے لیے سب سے پہلے جدوجہد اور کوشش کی، تاکہ انھیں فرعون کے ظلم اور ناانصافی سے نجات دلائی جائے۔ 
يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ: فرعون اور اس کی نسل نے بنی اسرائیل پر بڑا ذلت آمیز عذاب مسلط کیا ہوا تھا۔ اس ظالم، جابر اور انسانیت دشمن حکمران نے ان کو صبح اور شام، دن رات انتہائی پست کاموں میں لگا رکھا تھا۔ ان سے اپنے ذاتی اور طبقاتی مفادات پورے کرتے تھے۔ اس طرح انھیں بڑا ذلیل اور رُسوا کیا ہوا تھا۔ 
ذَبِّحونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ  : یہاں تک کہ ان کے لڑکوں کو قتل کراتا اور ان کی عورتوںکو زندہ رکھتا تھا۔ اس طرح ان کی توہین اور تذلیل کرتا تھا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا کہ: ’’بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے، جو مصر کے شہروں میں صرف قبطیوں کے گھروں میں داخل ہوئی ہے۔ بنی اسرائیل کے گھر اس سے محفوظ رہے‘‘۔ نجومیوں نے اس کی تعبیر یہ بتلائی کہ اس کی حکومت کا خاتمہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ایک آدمی کے ہاتھ سے ہوگا، جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو حکومت اور سربلندی حاصل ہوگی۔ اس پر اس نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل اور لڑکیوں کو زندہ رکھنے کا ظالمانہ حکم دیا۔ 
وَفي ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ: یہ بنی اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش اور امتحان تھا۔ ’’ بَلاءٌ‘‘ کا لفظ بڑا جامع ہے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں کہ: ’’بَلاءٌ‘‘ کے چند معنی ہوتے ہیں: اگر ذٰلِكُم کا اشارہ ’’ذبح‘‘ کی طرف لیا جائے تو اس کے معنی ’’مصیبت‘‘ کے ہوں گے۔ اور اگر ’’نجات‘‘ کی طرف اشارہ ہے تو ’’بَلاءٌ ‘‘ کے معنی ’’نعمت‘‘ کے ہوں گے۔ اور مجموعہ کی طرف ہو تو ’’امتحان‘‘ کے معنی لیے جائیں گے‘‘۔ 
کسی قوم کے لیے سب سے بڑا امتحان اور عذاب یہ ہے کہ اس کی طاقت ور نسل کو قتل کرا دیا جائے اور کمزوروں کو ذلت اور رُسوائی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ اس لیے جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے بڑی عمر کے مرد اپنی موت آنے پر مر جاتے ہیں اور چھوٹے بچے ذبح ہو رہے ہیں تو انھوں نے سمجھا کہ اس طرح تو ایک دن بنی اسرائیل کی نسل فنا ہوجائے گی۔ اپنی نسل بچانے کے لیے انھوں نے فرعونیوں اور قبطیوں کے لیے ذلت آمیز اعمال پر مبنی خدمات سرانجام دینا شروع کیں، تاکہ اپنی وقتی معاشی ضروریات پوری کریں اور فرعونیوں کو باور کروایا کہ اگر ہماری نسل ختم ہوگئی تو تمھارے پست او رذلت والے اعمال کون سرانجام دے گا؟ اس پر فرعون نے ایک سال پیدا ہونے والے بچوں کے قتل کا حکم دیا، جب کہ دوسرے سال لڑکوں کو زندہ رکھنے کا حکم دیا۔ چناںچہ حضرت ہارون علیہ السلام کی پیدائش اُس سال ہوئی، جس میں بچوں کو زندہ رکھنے کا حکم تھا۔ جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اس سال میں ہوئی جس میں بچوں کے قتل کا حکم تھا۔ اس امتحان او رآزمائش کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ پھر انھیں فرعون کے گھر پرورش کے لیے منتقل کیا، تاکہ ایک تو اُن کی حفاظت رہے اور دوسرے یہ کہ وہ فرعونی نظام کے ظلم کو پوری طرح کسی قوم کے لیے سب سے بڑا امتحان اور عذاب یہ ہے کہ اس کی طاقت ور نسل کو قتل کرا دیا جائے اور کمزوروں کو ذلت اور رُسوائی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ اس لیے جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے بڑی عمر کے مرد اپنی موت آنے پر مر جاتے ہیں اور چھوٹے بچے ذبح ہو رہے ہیں تو انھوں نے سمجھا کہ اس طرح تو ایک دن بنی اسرائیل کی نسل فنا ہوجائے گی۔ اپنی نسل بچانے کے لیے انھوں نے فرعونیوں اور قبطیوں کے لیے ذلت آمیز اعمال پر مبنی خدمات سرانجام دینا شروع کیں، تاکہ اپنی وقتی معاشی ضروریات پوری کریں اور فرعونیوں کو باور کروایا کہ اگر ہماری نسل ختم ہوگئی تو تمھارے پست او رذلت والے اعمال کون سرانجام دے گا؟ اس پر فرعون نے ایک سال پیدا ہونے والے بچوں کے قتل کا حکم دیا، جب کہ دوسرے سال لڑکوں کو زندہ رکھنے کا حکم دیا۔ چناںچہ حضرت ہارون علیہ السلام کی پیدائش اُس سال ہوئی، جس میں بچوں کو زندہ رکھنے کا حکم تھا۔ جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اس سال میں ہوئی جس میں بچوں کے قتل کا حکم تھا۔ اس امتحان او رآزمائش کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ پھر انھیں فرعون کے گھر پرورش کے لیے منتقل کیا، تاکہ ایک تو اُن کی حفاظت رہے اور دوسرے یہ کہ وہ فرعونی نظام کے ظلم کو پوری طرح سمجھ کر اس سے نجات کا راستہ اختیار کریں۔ 

2 / 10

خوشامد سے بچو

خوشامد سے بچو

عَنْ مُعَاوِیَۃَ رضی اللّٰہ عنہٗ قَالَ سَمعتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ: یَقُوْلُ: 
’’إِیَّاکُمْ وَ التَّمَادُحَ، فَإِنَّہُ الذَّبْحُ‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 3743) 
(حضرت امیرمعاویہؓ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: ’’ایک دوسرے کی (بے جا) تعریف سے پرہیز کرو۔ یہ ذبح کرنے کے برابر ہے۔‘‘) 
اس حدیثِ مبارکہ میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کی غیرضروری تعریف سے اجتناب برتنے اور حقیقت پر مبنی گفتگو کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نبیﷺ نے کسی کی خوبی پر ایسی تعریف کرنے سے منع فرمایا ہے، جو حد سے بڑھ جائے، جس سے انسان خوش فہمی کا شکار ہوجائے۔ یہ بہت ہی بُری بات ہے کہ کسی کی بلاوَجہ تعریف کی جائے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس شخص میں کوئی ایسی خوبی نہیں ہے، پھر بھی اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، اس سے دشمنی کے مترادف ہے۔ اگر کسی کو اپنی تعریف کروانے کا شوق پیدا ہوجائے تو یہ رجحانِ فکر تعمیرِ شخصیت میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ شاطر اور چالاک لوگ ایسے لوگوں کو احمق بنانے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھتے۔ یہ مرض عام انسانوں میں بھی ہوسکتا ہے اور خواص میں بھی۔ اور موقع پرست ماتحت اپنے حکمرانِ بالا کو چکمہ دینے کے لیے چاپلوسی کی روش اپنا لیتے ہیں۔ اس لیے شخصیت کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ انسان خودآشنا ہونے کے ساتھ مردم شناس ہو۔ عمومی اَخلاق کی پابندی کے بعد ہر انسان سے اس کی شخصی خوبیوں کے مطابق سلوک کرے۔ کسی سے اس کے حقیقی مقام و مرتبے سے کم تر سلوک کرنا، اس کو مایوس اور متنفر کرتا ہے، جب کہ تعریف وغیرہ میں حد سے تجاوز غلط فہمی کا باعث بنتا ہے۔ 
زیرِنظر حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے انسانی شخصیت کے لیے اس رویے کو بہت خطرناک کہا ہے کہ آپس کی گفتگو میں بلاوَجہ کی تعریف و توصیف اختیار کی جائے۔ کسی کی بلاوَجہ تعریف کرنا اور کسی انسان کے گلے پر چھری پھیر دینا ایک برابر ہیں۔ اس لیے کہ کسی کی بے جا تعریف سے جب وہ خوش فہمی کا شکار ہوکر اپنے تئیں باکمال ہوجاتا ہے تو یہ حرکت اس کی حقیقی شخصیت کے قتل کے مترادف ہے۔ چناںچہ ایک موقع پر آپﷺ کے سامنے کسی نے جب دوسرے کی بے جا تعریف کی تو آپﷺ نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس ہے۔ تو نے تو اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی۔ (متفق علیہ) ایک دوسری حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ اپنی بے جا تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالو۔ (رواہ مسلم) اس لیے انسان کو کم ازکم خود اتنا عقل مند ضرور ہونا چاہیے کہ جب کوئی دوسرا آپ کو آپ کی حیثیت سے زیادہ پیش کرنے کی کوشش کرے تو آپ اپنی اصل حیثیت کو نہ بھولیں اور خود کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہونے دیں۔ 

3 / 10

سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم

سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم

حضرت زینبؓ آںحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپؓ بعثتِ نبویؐ سے دس برس پہلے پیدا ہوئیں۔ اس وقت آپؐ کی عمر 30 برس تھی۔ آپؓ اوّلین مسلمان ہونے والوں میں سے تھیں۔ مشرکین مکہ کی جانب سے حضوؐر اور آپؐ کے اہل و عیال کوجوتکلیفیں پہنچیں، ان سب میں آپؓ اور آپؓ کی بہنیں شریک رہیں۔ آپؓ بالخصوص تکالیف کے دور میں حضوؐر کو معاونت اور مدد بہم پہنچاتیں۔ مکہ کے مشکل ترین دور میں کہ جب حضوؐر اور آپ ؐ کے اہل خانہ پر روزانہ مصائب کے پہاڑ توڑے جاتے، آپؐ اپنی اس ہونہار صاحبزادی کو تسلی دیتے کہ: ’’دین حق کی حمایت میں کھڑے ہونے پر اللہ تعالیٰ تمھارے والد کا حامی و ناصر ہے۔ تم اپنے ابا پر مت خوف کھاؤ‘‘۔ سنہ 7 نبوی میں آں حضرتؐ اورآپؐ کے ساتھیوں کو شَعبِ بن ابی طالب میں قید کیا گیا۔ وہاں آپؐ تین برس تک قیدر ہے اورفاقوں پرفاقے گزرے۔ ان سب مصائب میں حضرت خدیجہؓ اورآپؐ کی سب ہی اولاد شریک رہی۔ حضرت زینبؓ کو جو تکلیف پہنچی، اس کے بارے میں حضوؐر نے فرمایا: ’’وہ میری سب سے اچھی بیٹی تھی، جومیری محبت میں ستائی گئی‘‘۔ 
حضرت زینبؓ کا نکاح ابوالعاص بن ربیع لقیط سے ہوا، جو حضرت زینبؓ کے خالہ زاد تھے۔ وہ تجارت میں امانت داری کے حوالے سے مشہور تھے۔ نبوت کے تیرہویں سال جب آنحضرتؐ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو آپؐ کے اہل وعیال مکہ میں رہ گئے تھے۔ آپؐ نے اپنی اہلیہ حضرت سودہؓ اوراپنی صاحبزادیوں حضرت فاطمہؓ اورحضرت اُم کلثومؓ کو مدینہ منورہ بلا لیا، لیکن حضرت زینبؓ اپنے شوہرکے پاس ہی رہیں۔ یہاں تک کہ غزوۂ بدر ہوا اور اس میں آپؓ کے شوہر ابوالعاص کفار کی طرف سے شریک ہوئے اور گرفتار ہوگئے۔ انھیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ مکہ جا کر حضرت زینبؓ کو مدینہ منورہ بھیج دیں گے۔ اس طرح آپؓ نے اپنے شوہر کو حالتِ شرک ہی میں چھوڑکر سنہ ۲ ہجری میں غزوۂ بدرکے بعد مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ (طبقات: 8/20) اس کے بعد ایک موقع پر پھر آپؓ کے شوہر ابوالعاص گرفتار ہوکر مدینہ لائے گئے تو حضرت زینبؓ نے ان کوپناہ دی۔ ابوالعاص نے مکہ جاکر لوگوں کی امانتیں حوالہ کیں اور اسلام لائے اور ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے۔ حضرت زینبؓ نے ان کوحالتِ شرک میں چھوڑا تھا، اس لیے دونوں میں باہم تفریق ہوگئی تھی۔ وہ مدینہ آئے توزینب دوبارہ ان کے نکاح میں آگئیں۔ اس کے بعد آپؓ بہت کم وقت زندہ رہیں اور ۸ ہجری میں وفات پاگئیں۔ 
سیّدہ زینبؓ بلند اَخلاق وعادات کی مالک تھیں۔ خود آپؓ کے شوہر اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ جب سردارانِ مکہ نے دباؤڈالا کہ محمد کی بیٹی کو طلاق دو، جس عورت سے کہوگے ہم تمھاری شادی کر دیں گے تو ابوالعاص __ جو حال آںکہ مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے __نے کہا کوئی عورت زینب کے برابر نہیں ہوسکتی۔ حضرت زینبؓ کا کردار آج کی مسلم خواتین کے لیے قابلِ رشک، لائق ترین اور بلند اسوہ ہے۔ 

4 / 10

آج کی مذہبی جماعتیں اور دو بنیادی سوال

آج کی مذہبی جماعتیں اور دو بنیادی سوال

آج ہمارے گردوپیش جدوجہد کے بہت سے ماڈل موجود ہیں، جن کے کردار اور نتائج کے حوالے سے کئی ایک سوال بھی ایک حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں۔ مثلاً مذہب کے نام پر قائم جماعتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بسا اوقات دین میں انسانی حقوق کی کسی بھی طرح کی جدوجہد کا انکار کردیا جاتا ہے اور دین کو محض ذاتی اور شخصی اصلاح کا ذریعہ قرار دے کر اس اجتماعی فریضے سے پہلو تہی کا راستہ پیدا کرلیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ملک میں موجود مذہبی طبقوں کا طرز ِفکروعمل اس بیانیے کو تقویت بخشتا ہے۔ 
اس ضمن میں دو اہم سوال پیدا ہوتے ہیں، جنھیں حل کیا جانا انتہائی اہم ہے: پہلا سوال تو یہ ہے کہ آیا دین اسلام سماج میں انسانی حقوق کی جدوجہد کے حوالے سے کوئی فکر رکھتا ہے یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ملک میں موجود مذہبی جماعتوں کے طرز ِفکروعمل کو دینی نقطہ نظر سند ِجواز فراہم کرتا ہے یا نہیں؟ 
اوّل الذکر سوال کو حل کرنے کے لیے ہمارے سامنے انبیائے کرام علیہم السلام کا اسوہ ہونا چاہیے کہ انبیاؑ کی جدوجہد کا منہج کیا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’‘‘ (القرآن 7:13) (تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے، اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا) کے مطابق ہرقوم میں انبیاؑ نے اپنے اس فریضے کو نبھایا ہے۔ اس حقیقت کو کسی بھی طرح نہیں جھٹلا یا جاسکتا کہ انبیائے کرامؑ اپنے دور کے انقلابی رہنما رہے ہیں، جنھوں نے تہذیب ِشخصیت اور قومی سیاست کے لیے انقلابی کردار ادا کیا۔ بقول امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ: ’’من سیرتہم أن لّا یشتغلوا بما لا یتعلّق بتہذیب النّفس و سیاسۃ الاُمّۃ‘‘ (انبیا علیہم السلام کی سیرت یہ ہے کہ وہ تہذیب ِنفس اور اُمت کی سیاست کے علاوہ کسی کام میں مشغول نہیں ہوتے)۔ (حجۃ اللہ، بحث سیاست ِملیہ، ج:1، ص:150، طبع: دیوبند) یہی وَجہ ہے کہ انھوں نے اپنے دور کے ظلم کی ہر شکل کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ آج دنیا میں آزادی و حریت اور عدل وانصاف کے جتنے بھی نظریات اور احساسات پائے جاتے ہیں، ان کی انسانی سماج میں آبیاری انبیائے کرامؑ ہی نے کی ہے۔ انبیائے کرامؑ نے اپنی اس سرفروشانہ جدوجہد کے ذریعے ہردور کے ظلم و استبداد اور استحصالی نظاموں کے خلاف جدوجہد کا ایک نمونہ چھوڑا ہے جو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ حتیٰ کہ خود ہمارے پیغمبر، محسنِ انسانیت، حضرت محمد ﷺ نے جنگوں کی روک تھام ،مسافروں کی مدد اور مظلوموں کی دستگیری سے اپنے عہد ِشباب کا آغاز کیا اور ایک وقت آیا کہ آپؐ کے پیغامِ انصاف سے دنیا کے قصرِ استبداد لرز اُٹھے۔ 
اس سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی کہ سماج میں انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا انبیائے کرامؑ کی سنت متواترہ، مسلسل اور پیہم ہے۔ اس لیے یہ سوال اٹھانا کہ دین میں بنیادی انسانی حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد کے لیے کوئی فکر یا منہج ہے یا نہیں؟ بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ کیوں کہ اسلام کے حوالے سے اس کے سیاسی فکر کا انکار ایک بدیہی حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ 
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ مذہبی طبقوں کے طرز ِفکروعمل کا کیا جواز ہے تو اس حوالے سے بھی ہمارے سامنے دو طرح کے طرز ِعمل ہیں: 
ایک وہ طرز ِعمل ہے جو دین میں سیاست اور ریاست کے کردار کی نفی کا قائل ہے۔ ان کے نزدیک دین صرف چند عبادات اور رسومات کا مجموعہ ہے۔ اسے دنیاداری اور حکومت کے کاموں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ یہ نقطہ نظر اس طبقے کی سادگی اور بے شعوری کا غماض ہے، جس کی کوئی علمی اور عقلی توجیہ ممکن نہیں۔ یہ ان کی مایوسی اور قنوطیت کا اظہار ہے، جس کا اسلام کے فکر سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا اس طرز ِعمل کو اسلام کے ساتھ جوڑنا‘ نہ صرف روحِ اسلام کی نفی ہے، بلکہ یہ فکر انبیائے کرامؑ کے زندہ کردار سے بھی متصادم ہے۔ کیوںکہ اسلام کی سیاست اور حکومت کا مطمح نظر عدل و انصاف کا قیام اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ اس کے لیے وہ جرائم کے انسداد کے لیے طاقت و قوت کا بھی قائل ہے۔ اسلام محض اقتدار کے لیے حکومت کا قائل نہیں اور نہ اس معنی میں وہ اقتدار کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔ 
جہاں تک دوسرے مذہبی طبقے کے طرز ِعمل کا تعلق ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسلام کے سیاسی فکر کا حامل قرار دے کر ملک کے سیاسی میدان میں بھی موجود ہے، اس طبقے کے اس طرز ِفکروعمل نے واقعی اسلامی اور دینی سیاست کے حوالے سے بہت سے سوالات اور غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے۔ اس حوالے سے گزارش ہے کہ سیاست میں مذہبی عنوان سے کاروبارِ سیاست کے عَلم برداروں کے کردار کے باعث اسلام کے سیاسی فکر ہی کا انکار کردینا کوئی دانش مندی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ سیاست نام نہاد مذہبی طبقے کی ہو، یا نام نہاد سیکولر طبقے کی، دیکھنا یہ ہے کہ اس کی پشت پر کون سا فکر اور نظریہ کار فرما ہے۔ ہمیں خدا کے سچے پیغمبروں کی سیاسی جدوجہد کے پیچھے طاغوت شکن اور انسان دوست فکر نظر آتا ہے۔ یہی انسان دوستی کا فکر کسی بھی سیاسی فکر کو پرکھنے کی اصل کسوٹی ہے۔ اسی بنیادی نظریے کی روشنی میں ہم کسی بھی عہدکی سیاست، معیشت اور حکومت کا شعوری تجزیہ کرسکتے ہیں۔ ایسے ہی کسی بھی دور کے حکمرانوں، مذہبی طبقوں اور سیاسی پارٹیوں کے کردار کو سمجھا جاسکتا ہے۔ سیاست مذہب کی بنیاد پر ہو، لیکن وہ ظالموں اور سرمایہ داروں کی اتحادی اور کرپٹ عناصر کی طرف دارہو تو باطل ہے۔ ایسے ہی حکومت و اقتدار اگر ریاستِ مدینہ کے نام پر ہو لیکن استحصالی اورسرمایہ داروں کی گماشتہ ہو تو وہ بھی باطل ہے۔ 
قرآن مجید نے ہمیں کسی بھی معاشرے کے ظالم حکمرانوں، استحصالی سرمایہ داروں  اور باطل مذہبی طبقوں کے کرداروں کو فرعون، قارون اور ہامان کے کردارکی شکل میں پیش کرکے ان کے مقابلے میں انبیائے کرامؑ کے انقلابی کرداروں سے ہمارے فکروشعور کو جلا بخشی ہے۔ قرآن کا زندہ اور سدا بہار فکر ہر عہد کے استحصالی طبقوں کی نشان دہی کرکے ہمارے کردار اور فکروعمل کو درست سمت مہیا کرتا ہے۔          (مدیر)

5 / 10

فطری ترقی کے حِجَابات کو دور کرنے کا طریقہ  (1)

فطری ترقی کے حِجَابات کو دور کرنے کا طریقہ  (1)

(گزشتہ باب میں انسانوں کی فطری ترقی کے لیے اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے راستے کے تین حجابات اور رُکاوٹوں کا تذکرہ تھا۔ اس باب میں ان حجابات کو دور کرنے کے علمی اور عملی طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ مترجم) 
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
(حجابِ طبع دور کرنے کے دو طریقے)
’’جاننا چاہیے کہ حجابِ طبع کو دور کرنے کی تدبیر اور طریقہ دو چیزوں پر مشتمل ہے: 
(1)     ایک یہ کہ انسان کو اپنی طبیعت اور بہیمیت کے حجاب کو دور کرنے کی ترغیب دی جائے۔ ایسے کاموں کا حکم دیا جائے اور اُن پر اُبھارا جائے، جن سے طبیعت کا حجاب دور ہوتا ہے۔ 
(2)    دوسرے یہ کہ جب انسان پر طبعی اور بہیمی حجاب غالب آئے اور اس کے تحت کوئی کام کرے تو اُسے سزا دی جائے۔ وہ چاہے یا نہ چاہے، اس کا مواخذہ کیا جائے۔ 
(پہلے طریقۂ کار سے متعلق احکام)
اسے ایسی ریاضتوں اور مشقتوں کا حکم دیا جائے جو اس کی بہیمیت اور طبیعت کے زور کو توڑ دے اور بہیمی تقاضوں کو کمزور کردے۔ مثلاً: 
(i)  روزہ رکھنے کا حکم 
(ii)  رات کو جاگ کر تہجد وغیرہ عبادات کرنے کا حکم
اس طریقۂ کار کے حوالے سے بعض لوگ سختی اور تشدد اختیار کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے پیدا کیے ہوئے اعضا اور اُس کی تخلیق میں تغیر و تبدل کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً: 
(i)  اپنی شہوتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے آلاتِ تناسل کا کاٹ لینا 
(ii)  یا کسی عمدہ اور بہترین عضو مثلاً ہاتھ اور پاؤں کو باندھ کر خشک کرلینا 
ایسے لوگ بہت زیادہ جاہل عبادت گزار ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام کاموں میں درمیانہ راستہ اختیار کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ روزہ اور رات کو جاگنا زہر بھرا علاج ہے۔ اس لیے اُسے صرف ضرورت کے بہ قدر استعمال کرنا واجب ہے۔ 
(دوسرے طریقۂ کار سے متعلق احکام)
جو آدمی اپنی طبعی خواہشات کی اتباع کرتا ہے، اس کی حوصلہ شکنی کرنا اور اس کے حیوانی رویوں کا ہر طرح سے انکار کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ وہ سنتِ راشدہ یعنی سیدھے طریقے کا مخالف ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ اُس کے سامنے ہر طرح کے طبعی اور بہیمی خواہشات کے غلبے سے دور رہنے کا طریقہ بیان کیا جائے۔ اس سلسلے میں لوگوں پر بہت زیادہ تنگی کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔ 
اسی طرح تمام انسانوں کے لیے صرف زبانی مذمت اور انکار ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ بعض لوگ اس وقت تک درست نہیں ہوتے، جب تک کہ اُن کو جسمانی طور پر کوئی سزا نہ دی جائے۔ اور اسی طرح بعض کاموں میں اُن پر کوئی مالی تاوان نہ لگایا جائے۔ اور ایسی سزا صرف اُن لوگوں کی بڑھی ہوئی خواہشات کو پورا کرنے پر دی جائے، جن کی وجہ سے لوگوں کے اجتماعی تقاضوں کا نقصان ہو رہا ہو، مثلاً زنا اور قتل وغیرہ پر سخت سزا کا نفاذ۔ 
(حجابِ رسم کو دور کرنے کے دو طریقے)
حجابِ رسم کو دور کرنے کی تدبیر اور طریقے بھی دو ہیں: 
(1)     ایک یہ کہ انسانی سوسائٹی میں ہر سطح کے سیاسی اور معاشی ارتفاقات سرانجام دیتے ہوئے اللہ کے احکامات کو پیش نظر رکھنا لازمی قرار دیا جائے۔ چناںچہ: 
    (i)  بعض اجتماعی کاموں کا آغاز بسم اللہ پڑھ کر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 
    (ii)  بعض اجتماعی کاموں اور ارتفاقات کی ایسی حدود و قیود مقرر کردی گئی ہیں، جنھیں 
        کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پوری رعایت رکھنا ضروری ہے(جیسا 
         کہ خرید و فروخت، لین دین اور قرض سے متعلق شرعی احکامات ہیں)۔ 
(2)    اجتماعی کاموں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے تمام احکامات کا عملی رسم اور نظام بنایا جائے۔ پھر اسے انسانی سوسائٹی میں خوب فروغ دیا جائے: 
    (i)  اس نظام اور اس کے قوانین کی پابندی کو ہر حال میں لازمی قرار دیا جائے، خواہ 
         لوگ چاہیں یا نہ چاہیں۔ 
    (ii)  جو لوگ اس نظامِ عدل کی خلاف ورزی کریں، ان کی برائی اور خرابی لوگوں کے 
         سامنے بیان کی جائے۔ 
    (iii)  انھیں ملکی اقتدار اور جاہ پرستی پر مبنی مرغوب ماحول سے دور رکھا جائے۔ ملکی رسوم 
          و رواج اور نظام سے انھیں روکا جائے۔ 
ان دو تدبیروں اور طریقۂ کار سے اجتماعی نظام میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور فرسودہ رسومات کی آفتوں سے بچا جاسکتا ہے۔ اس طرح قائم شدہ نظامِ عدل اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لیے ممد و معاون ہوتا ہے۔ اور اس طرح حق کی طرف دعوت دینے والی انسانی جماعتیں وجود میں آتی ہیں‘‘۔  (جاری ہے)  (باب طریق رفع ہٰذہ الحُجب)
 

6 / 10

طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

طارق بن زیاد خلافت ِبنی اُمیہ کے مسلم جرنیل تھے۔ وادیٔ تافنہ الجزائر میں ۵۰ھ / 670ء میں پیدا ہوئے اور دمشق میں 720ء میں تقریباً پچاس سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا افریقا کی جرأت مند قوم بربر سے تعلق تھا۔ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں موسیٰ بن نُصَیر افریقا کے گورنر تھے۔ انھوں نے طارق بن زیاد کی جرأت و دلیری کا اندازہ کرتے ہوئے انھیں فوجی خدمات پر مامور کردیا۔ کچھ عرصے بعد انھیں طنجہ (مراکش) کا گورنر بھی بنا دیا۔ مراکش سے متصل سمندر کے اس پار یورپ کا مشہور ملک اندلس (ہسپانیہ / سپین) ہے۔ اندلس کے بادشاہوں سے تنگ آئی عوام کے مطالبے پر اندلس پر حملے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے لیے موسیٰ بن نُصَیر نے اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک سے باقاعدہ اجازت لی۔ اس اہم ترین مہم کی سپہ سالاری کے لیے موسیٰ نے طارق بن زیاد کی جرأت و بہادری اور سیاسی بصیرت کے پیش نظر ان کا انتخاب کیا۔ 
اندلس پر حملے کا فوری سبب: اندلس پر حملے کے اسباب میں جہاں عوام کو وہاں کے حکمرانوں کے ظلم و استبداد سے نجات دلانا مقصود تھا، وہاں ایک فوری سبب یہ ہوا کہ اندلس میں اس زمانے میں سلطنت کے اُمرا  و عمائدین اپنے بچوں کو آداب و تہذیب سیکھنے کے لیے شاہی محل میں بھیجا کرتے تھے۔ یہ بچے یرغمال کے طور پر بادشاہ کے قبضے میں رہتے تھے اور بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہی اپنے گھروں کو بھیج دیے جاتے تھے۔ شمالی افریقا میں جب طنجہ (مراکش) تک کا علاقہ اسلامی اقتدار میں شامل ہوگیا تو ادھر سمندر کے اس پار ساحلی علاقے سپین کے بادشاہ کے زیرکنٹرول تھے۔ ان علاقوں کا گورنر اندلس کے بادشاہ کی طرف سے کاؤنٹ جولین تھا۔ اندلس کی روایت کے مطابق جولین کی لڑکی لورنڈا اندلس کے نئے حکمران راڈرک کے شاہی محل میں تعلیم و تربیت اور شاہی آداب سیکھنے کے لیے رہتی تھی۔ راڈرک نے اس کی عزت پر حملہ کیا اور اس کے شیشۂ عصمت کو چور چور کردیا۔ اس سے ایسی چنگاری اٹھی، جس سے نہ صرف راڈرک کا تاج و تخت جل کر خاکستر ہوگیا، بلکہ ملک میں ایسا انقلاب آیا کہ اس ملک کی تاریخ ہی بدل گئی۔ اس لڑکی نے اس حادثے کی خبر اپنے والد کاؤنٹ جولین کو دی۔ وہ یہ شرم ناک واقعہ سن کر انتہائی غضب ناک ہوا۔ غیرت و حمیت اور جوشِ انتقام میں راڈرک کو تاجِ شاہی سے محروم کرنے کا پختہ عزم کرلیا۔ چناںچہ جولین نے شمالی افریقا کی اسلامی حکومت سے اندلس پر حملہ آور ہونے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ شمالی افریقا پر موسیٰ بن نُصَیر جیسا بیدار مغز حکمران فائز تھا۔ اور طنجہ (مراکش) کا والی طارق بن زیاد تھا۔ جولین نے ان سے مراسم پیدا کیے۔ اسلامی حکومت کی اطاعت کے عزم کا اظہار کیا اور اندلس کے حکمرانوں کے مظالم کی وجہ سے وہاں کی عوام کو نجات دلانے کے لیے اسلامی حکومت کی ہر طرح سے مدد کرنے کا وعدہ کیا۔ اس نے طارق بن زیاد کے ذریعے موسیٰ بن نُصَیر تک یہ پیغام پہنچایا۔موسیٰ نے اس صورتِ حال سے اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کو آگاہ کیا اور اندلس پر حملہ کرنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر سات ہزار مجاہدین پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا گیا اور اس کی سپہ سالاری کے لیے طارق بن زیاد کا انتخاب ہوا۔ اس لشکر میں اکثریت بربر قوم کے افراد کی تھی۔ تین سو عرب تھے، باقی سب بربر۔ اسلامی لشکر ۵؍ رجب ۹۲ھ 28؍ اپریل 711ء اندلس کے ایک پہاڑ پر اُترا، جو بعد میں اسلامی سپہ سالار طارق بن زیاد کے نام سے ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے منسوب ہوا۔ انگریزی میں اسے ’’جبرالٹر‘‘ کہتے ہیں۔ 
 

7 / 10

ترقی یافتہ سرمایہ دار

ترقی یافتہ سرمایہ دار

گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی وزیراعظم نے آمدہ سال کو ترقی کا سال قرار دیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ صنعتی پیداوار، بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں اضافہ بتایا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی معیشت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ حرکت پیداہوتی جارہی ہے، لیکن ہمیں اس بات کا تجزیہ کرنا ہے کہ اس پیش رفت میں ہمارے لیے مثبت کیا ہے؟ کرونا کی وبا نے ہم سے کہیں زیادہ منظم اور مؤثر معیشتوں کو بُری طرح متأثر کیا۔ چناںچہ معاشی سرگرمیوں میں ایک عالمگیر گراوٹ کا عالَم دیکھا گیا، لیکن ایسا پاکستان میں نہیں ہوا۔ ہمارے یہاں گراوٹ تو تھی، لیکن وہ کرونا کی وجہ سے نہیں بلکہ اُس زوال کی روحِ رواں ہمارے پالیسی سازوں کی گزشتہ دس بیس سالوں کی مجموعی حکمتِ عملی رہی۔ لوٹ کی رقم کو محفوظ اور قابلِ استعمال بنانا دراصل لوٹنے سے بھی زیادہ مشکل عمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں قوانین بھی اس چیلنج کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کے حالیہ انٹرویوز دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں ’مالیاتی جرائم کو کیسے قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا رہا ہے؟‘ انھوں نے اسے بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سرکردہ سیاسی رہنما یہ کہتے نہیں تھکتے کہ انھوں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی۔ اگر ایسا ثابت ہوجائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ انھیں معلوم ہے کہ ان کی اُس کرپشن کو ایسا قانونی تحفظ دیا جاچکا ہے کہ جوں ہی کرپشن کے یہ کیس نیب سے نکل کر عدالتوں کے سپرد ہوں گے تو وہ ضرور باعزت بری ہوجائیں گے۔ 
ترقی کی بھی ایک ترتیب ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کام چوری اور لوٹ مار کے ذہن سے قوانین بنائے جائیں اور وہ بہتری کی صورت میں نتیجہ لے آئیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اب پاکستان میں کام و کسب کی طرف توجہ بڑھتی جارہی ہے۔ ایک زبردست مزاحمت ہے، جوپاکستان کے سرمایہ دار و جاگیر دار طبقے کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔ روپے کی گراوٹ اور درآمدات پر ڈیوٹیوں اور برآمدی شعبے کو غیر معمولی مراعات کی وجہ سے مقامی سطح پر پیداواری عمل میں تیزی نظر آرہی ہے، لیکن وہی چوری کی پرانی عادت بھی پھر سے کارفرما ہے۔ برآمدات کا ڈالر دو حصوں میں وصول کیا جارہا ہے ایک اشیا کی کم قیمت دکھا کر برآمد کی جارہی ہے، جسے عرفِ عام میں Under Invoicing کہا جاتا ہے۔ باقی ڈالر بیرونِ ملک ہی وصول کرلیے جاتے ہیں۔ چوںکہ پوری دنیا میں سختی بڑھتی جارہی ہے، اس لیے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زراور کنسٹرکشن پیکج وغیرہ جیسی سکیموں پر ڈالر پاکستان بھیج کر اسے وائٹ کیا جارہا ہے۔ ایسے ڈالر تو پاکستان آرہے ہیں، لیکن نقصان تو پاکستانی معیشت کا ہے، جہاں برآمدی شعبے کو جاری مراعات قومی خزانے اور عوام کی جیبوں سے دی جاتی رہیں گی اور متعدد ایمنسٹی سکیموں کے تحت یہ سرمایہ دار پہلے سے زیادہ طاقت ور اور دولت مند ہوتے چلے جائیں گے۔ اس لیے یہ کہنا مناسب ہو گا کہ آمدہ تین سال سرمایہ داروں کی ترقی کے سال ہوںگے۔

8 / 10

امریکی صدر کا پُر ملا ل ا نتقالِ اقتدار

امریکی صدر کا پُر ملا ل ا نتقالِ اقتدار

چینی نیوز ایجنسی کی 7؍ جنوری2021ء کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’کیپٹل ہل‘ میں ہونے والے تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’عام امریکیوں کی طرح میں تشدد، لاقانونیت اور تباہی پھیلانے والوں کے خلاف ہوں‘‘۔ ٹرمپ نے ٹویٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’جنھوں نے قانون کی دھجیاں اُڑائی ہیں، انھیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی‘‘۔ صدر نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ: ’’اب چوں کہ کانگرس نے نتائج کی تصدیق کردی ہے، جس کے بعد 20؍ جنوری کو نئی انتظامیہ حلف اٹھا لے گی۔ لہٰذا میری پوری کوشش ہے کہ انتقالِ اقتدار کا مرحلہ بلاروک ٹوک، پرامن، باقاعدہ اور قانون کے عین مطابق مکمل ہو‘‘۔ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’’یہ لمحہ زخموں کو مندمل کرنے اور مفاہمت کا متقاضی ہے‘‘۔ 
دوسری طرف عالمی میڈیا ٹرمپ کو پُرتشدد اور قانون کی پرواہ نہ کرنے والا صدر بنا کر پیش کرہا ہے۔ جب کہ روسی اخبار ’’دی ماسکو ٹائم‘‘ کی 7؍ جنوری 2021ء کی رپورٹ کے مطابق: ’’امریکی انتخابات کا طریقۂ کار قدیمی ہے، جو دورِ جدید کے معیار ات پر پورا نہیں اترتا، اس لیے مسلسل خلاف ورزیوں کا شکار رہتاہے‘‘۔ یہ بات صحیح ہے کیوںکہ اسے وضع ہوئے 333 سال گزر چکے ہیں۔ انسانی معاشرہ صدیوں کا سفر طے کرچکا ہے۔ سماجی، معاشی اور سیاسی حالات بدل چکے ہیں۔ میڈیا اپنی طاقت کا لوہا منواچکا ہے۔ امریکی مقتدرہ کے نزدیک ان کے عوام ذہنی طور پر آج بھی ساڑھے تین سو سال پیچھے ہیں۔ انھیں اپنے نظامِ انتخاب اور عوام کی بالغ نظری پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کا طریقۂ انتخاب اور عوام کا فہم اپنے ووٹ کا درست استعمال نہیں کرسکتا۔ وہ آج بھی کسی نااہل شخص کو ووٹ دے کر ملک کا حکمران بنا سکتے ہیں اور طریقۂ انتخاب میں اس عمل کو روکنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ امریکی مقتدرہ تکبر اور رعونت کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ اسے اپنے عوام کی قوتِ فیصلہ پر بھروسہ نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ جس نے دنیا میں جنگ کے پھیلائو سے بہ ظاہر گریز کیا اورملکی چہرے کو قوموں کے ناحق خون سے مزید داغ دار ہونے سے بچایا، اسے ایک غیرمتوازن دما غ کا حامل قرار دے دیا گیا۔ مزید یہ کہ ٹرمپ کا سماجی رابطوں کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلا ک کردیا گیا۔ 
6؍ جنوری 2021ء کی رائٹر کی رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا کیپٹل ہل کی عمارت پر حملہ دکھایا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کا منظر میڈیا پر نشر کیا گیا۔ یہ تأثر دیا گیا کہ بائیڈن کی جیت کا اعلان رکوانے کے لیے ٹرمپ کے حامی گزشتہ کئی روز سے واشنگٹن میں موجود تھے۔ کئی مسلح مظاہر ین دھاوا بول کر کانگرس کی عمارت میں گھس گئے۔ مظاہرین کی جانب سے کانگرس کی عمارت کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ ے گئے۔ آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی۔ اراکین کانگرس نے ہال میں لیٹ کر مظاہرین کے حملے سے جان بچائی۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایک پولیس اہلکار اور 4 افراد کی ہلاکت اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ 
سپیکر قومی اسمبلی (کانگرس) نینسی پلوسی نے 9؍ جنوری کو امریکی صدر کو متنبہ کیا ہے کہ: ’’اگر ٹرمپ نے استعفیٰ نہ دیا تو ان کا مواخذہ کیا جائے گا۔ دوسری طرف امریکی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے 15 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان پر فردِ جرم عائد کرد ی گئی ہے۔ عالمی میڈیا امریکی صدر کو ہی موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، جس میں فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیر اعظم دونوں شامل ہیں۔ مینوئیل میکرون نے کہا کہ: ’’آج جو واشنگٹن میں ہوا، وہ امریکی نہیں لگ رہے تھے‘‘۔ اس طرح برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ہنگامہ آرائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے: ’’یہ انتہائی نازیبا مناظر تھے‘‘۔ 
 دی ماسکو ٹائم کے مطابق سابق سوویت یونین کے صدر میخائیل گوباچوف نے کہا ہے کہ: ’’کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی‘‘۔ روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروفا (Maria Zakharova) نے کہا: ’’امریکا آج کے بعد دنیا میں دوبارہ ’’مثالی جمہوریت‘‘ کہلوانے کے قابل نہیں رہے گا‘‘۔ روسی کیمونسٹ پارٹی کے سربراہ جیناڈی زوگانوف (Gennady Zyuganov) نے کہا ہے: ’’آج امریکا دنیا میں ا پنے ہی بوئے ہوئے کو کاٹ رہا ہے‘‘۔ 
 پہلا امریکی صدر تھا جو پاگل قرار دے کر بچا لیا گیا، ورنہ یہ نظام اتنا ظالم اور خون خوار ہے کہ اس سے پہلے جن صدور نے امریکی مقتدرہ کے بنیادی نظریے سے انحراف کیا انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ’’تھاٹ کو‘‘ کی رپورٹ کے مطابق جو صدور اس کی نذر ہوئے، ان میں ابراہیم لنکن (1865ئ)، جیمز اے گار فیلڈ (1881ئ)، ویلیم میکن لی (1901ئ) اور جان ایف کینیڈی (1963ئ) کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ 4 صدور ایسے تھے، جو اپنے ہی دفتر میں مردہ پائے گئے۔ 
ٹرمپ نے جس دن سے صدر کا حلف اٹھایا تھا، اسی روز سے اس کے خلاف پروپیگنڈا جاری تھا۔ پہلا الزام یہ تھا کہ اسے انتخابات میں روسی مداخلت کے نتیجے میں صدر بنا یا گیا۔ دوسرا یہ کہ وہ ایک غیر سنجیدہ شخصیت کا حامل فرد تھا، جس سے سرزد ہونے والی حماقتوں کو نمایاں کرکے دکھایا گیا۔ اسے یورپ میں غیر مقبول بنایا گیا۔ اس کے فیصلوں کو احمقانہ قرار دیا گیا۔ آج جب اس کی صدارت کا دورانیہ ختم ہونے کو ہے تو اسے ذلیل کیا جارہاہے۔ کیپٹل ہل کی عمارت وہ ہے، جہاں ریاستی مرضی کے بغیر کوئی پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا، چہ جائے کہ وہاں دہشت گرد اور غنڈے داخل ہو کر نہ صرف توڑ پھوڑ کریں، بلکہ ریاستی اہل کار اور عوامی حلقوں کے افراد کو موت کی ابدی نیند سلادیں۔ یہ سارا عمل حساس ا داروں کے کردار کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ ان مناظر نے امریکی نظام کے کھوکھلے پن اور سفاکانہ کردار کو دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ روسی اخبار ’’پراودہ آریو‘‘ میں 2؍جنوری 2021ء کو چھپنے والے ایک انٹرویو میں نام چومسکی نے کہا ہے کہ: ’’اگر حکومتوں نے بڑی کمپنیوںپر توجہ دینے کے بجائے عوام کی خدمت کو مقدم رکھا ہوتا تو آج ہم ان حالات کا شکار نہ ہوتے‘‘۔ 

9 / 10

کائنات میں موجود کثرتِ اشیا کی حقیقت!

کائنات میں موجود کثرتِ اشیا کی حقیقت!

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور
15؍ جنوری 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 
’’معزز دوستو! کتابِ مقدس قرآن حکیم قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے سامنے ایک واضح اور کامل اور مکمل پروگرام پیش کرتی ہے۔ یہ نہ تو جزوی ہے، نہ محدود ہے، نہ کسی ایک زمانے کے ساتھ خاص ہے، بلکہ حضور اکرم ﷺ کی آمد سے لے کر قیامت تک تمام انسانوں کی رہنمائی کا ایک مکمل پروگرام کتابِ مقدس قرآن حکیم میں دیا گیا ہے۔ اس کی چھوٹی سی سورت ’’التّکاثر‘‘ اپنی معنویت کے اعتبار سے دین اسلام کے ایک ایسے کامل اور مکمل نظریے کی وضاحت کرتی ہے، جو قیامت تک تمام انسانی معاملات کو پرکھنے اور خاص طور پر علوم و افکار، اعمال و کردار، اموال و اسباب اور زندگی کی تمام ضروریات سے متعلق ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:  (القرآن1:102) کثرتِ مال، کثرتِ افعال، کثرتِ علم، ہر چیز کی کثرت نے تمھیں غفلت میں مبتلا کردیا۔ یہاں تک کہ  (2:102) تم قبروں کی زیارت کروگے۔ 
یہ کائنات کثرت سے عبارت ہے۔ صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ایک ہے۔ باقی سب چیزیں ذاتِ باری تعالیٰ نے بڑی کثرت سے پیدا کی ہیں۔ مؤمن وہ ہوتا ہے کہ جو ان تمام تر کثرتوں، شکلوں، اور تمام مادی اشیا کی ساخت کے پیچھے جو طاقت اور قوت (اللہ تبارک و تعالیٰ) کارفرما ہے، اس کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ اس کا صورتوں اور اشیا اور گرد و پیش میں کثرت سے بکھری ہوئی کائنات کی چیزوں سے بس اتنا ہی تعلق ہوتا ہے، جن سے وہ اپنی زندگی کے مراحل میں ضروریات پوری کرسکے۔ ماں کے پیٹ میں ہو تو وہاں جو کچھ اس کی ضرورت ہے، اس کی رسائی اس تک ہے۔ وہ اس سے زیادہ کی اُچھل کود نہیں کرسکتا۔ ماں کے پیٹ سے نکلا تو بچپن سے لے کر پچپن تک، زندگی کے ہر مرحلے میں جہاں جہاں اس کو جس چیز کی ضرورت ہو، کھانے پینے، پہننے، رہنے سہنے وغیرہ کی، وہ اس کے لیے  (القرآن 14:3) ہے۔ یعنی اس سے نفع اٹھائے، اپنی ضرورت پوری کرے اور آگے ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف پہنچنے کا اپنا سفر رواں دواں رکھے۔ کثرتِ اشیا میں نہ اُلجھے۔ لیکن جب وہ کثرت کے پیچھے چلتا ہے، کثرتِ مال ہو، کثرتِ مکان ہو، کثرتِ لباس ہو، اور اسی طرح بڑھتے بڑھتے اَور جو بھی کائنات میں اللہ نے چیزیں پیدا کی ہیں، ان کی کثرت میں اُلجھ جانا تباہ کن ہے۔ کسی بھی چیز کی کثرت انسان کو اپنے اصل مقصد اور مشن یعنی خدا پرستی اور انسان دوستی سے غافل بنا دیتی ہے۔ اللہ سے تعلق کے حوالے سے بھی اور انسانیت کے نقطہ نظر سے بھی کہ انسانوں کے کام آنے کے اعتبار سے اگر کثرت میں اُلجھ کر رہ گیا تو انسانوں کے کام بھی نہیں آسکتا۔ کتابِ مقدس قرآن حکیم نے یہ بڑا بنیادی اساسی اصول دیا ہے۔‘‘ 
سرمایہ داری نظام کی ہوس! 
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’قرآن حکیم کے بیان کردہ اس اصول کے مطابق پچھلے دو ڈھائی سو سالہ دور کے اس زمانے کا تجزیہ کیا جائے، تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں کثرتِ مال، کثرتِ علم، کثرتِ فکر، کثرتِ اسباب اور کثرتِ خواہشات چاروں طرف سے انسان کو گھیرے ہوئے ہیں۔ دو ڈھائی سو سال سے قائم اس دور __ جسے سرمایہ داری کا دور کہا جاتا ہے __ میں دنیا پر سرمایہ پرستی کا نظام غالب ہے۔ اس سرمایہ پرستی نے انسان کو اندھا کردیا ہے۔ خاص طور پر وہ جو اس سرمایہ داری نظام کو چلانے والے لوگ ہیں، جب وہ اس سرمایہ پرستی اور کثرتِ اسباب و اموال کی طرف متوجہ ہوئے ہیں، انھوں نے سرمایہ پرستی کاپورا ایک سسٹم ڈیویلیپ کردیا۔ اس سے پہلے اس طرح کا سرمایہ داری نظام کبھی دنیا میں نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ اِکّا دُکّا آدمی یا چند افراد ہوتے تھے، جو دولت کی ہوس میں مبتلا ہوتے تھے۔ اس کا سسٹم کبھی نہیں رہا۔ اس موجودہ سرمایہ داری نظام کی خرابی ہی یہی ہے کہ اس نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا۔ انسان ایک ’’پروڈکٹ‘‘ بن کر رہ گیا۔ وہ زر کمانے کا صرف ایک ذریعہ بن گیا۔ اس کی سب سے بدترین مثال یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں واویلا مچ رہا ہے کہ ’’ہماری پرائیویسی چلی گئی‘‘۔ وٹس ایپ نے ایک پالیسی جاری کی ہے اور دنیا بھر میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے آئینی اور قانونی طور پر طے کرلیا ہے کہ وہ لوگوں کے پرائیویٹ تعلقات سے حاصل شدہ ڈیٹا فروخت کرے گا۔ خفیہ طور پر تو پہلے بھی یہ کام کر رہے تھے۔ فرد سے، افراد سے، اقوام سے، ممالک سے ان کی انسانیت چھین لی۔ ان کے دماغوں میں پنپنے والا، پرورش پانے والا علم قابل فروخت بنا دیا۔ 
پہلے تو مادی اشیا کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ پھر ان مادی اشیا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ غلامی کے زمانے میں انسان بکتے تھے۔ اب دنیا بھر میں تمام انسانوں کی معلومات چوری کرکے اسے مارکیٹ میں سیل کیا جاتا ہے۔ پچھلے ایک سال سے دنیا بھر میں ایک نئے وائرس کے نام پر جو سب سے بڑا فتنہ پیدا کیا گیا ہے، اس کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ انسانوں کے ڈیٹا کو دنیا میں خرید و فروخت کا مرکز بنایا جائے۔ اس حوالے سے کمایا جائے کہ انسان کیا سوچتا ہے ؟کیا بولتا ہے؟ کیا چاہتا ہے؟ کیا خریدتا ہے؟ کیسے سوتا ہے؟ کون کون سی اس کی خواہشات ہیں؟ ان خواہشات کے مطابق دنیا کے عالمی سرمایہ دار اِن کو پروڈکٹ دیتے ہیں۔ ان کے لیے راستے ہموار کرتے ہیں۔ کثرتِ مال، کثرتِ افکاراور کثرتِ علم نے ان تمام کو انسانی حقوق سے غافل بنا دیا ہے۔ 
پچھلے ڈھائی سو سال سے جو مفکرین سامراجی سرمایہ داری نظام کے خلاف مزاحمتی شعور پیدا کر رہے تھے، انھوں نے یہی بات کہی تھی کہ اس سرمایہ دارانہ ہوس کے نظام میں انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی، سرمایہ اور کیپٹل ہی اصل ہو کر رہ گیا ہے۔ آج یہ بڑھتے بڑھتے بڑھتے انسان کے اپنے افکار و خیالات اور اس کے علم اور اس کے شعور تک پہنچ گیا، جس سے انسانی افکار و خیالات کی خرید و فروخت کی ایک وسیع دنیا سامنے آگئی ہے۔‘‘ 
انسانی اجتماعیت کا بنیادی اُصول!
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’انسانی اجتماع کا بڑا بنیادی اساسی اصول جو کتابِ مقدس قرآن حکیم بیان کرتا ہے، وہ یہ کہ اجتماعیت کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر سیاسی، معاشی، سماجی امور کو پورا کیا جائے۔ اجتماعیت کیا ہے؟ آج اسے سمجھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ دیکھئے! بڑی کامن سینس کی بات ہے کہ ایک انسان جب دوسرے سے انٹریکشن کرتا ہے، لوگوں کے درمیان آپس کے روابط اور تعلقات قائم ہوتے ہیں اور انسانی اجتماعیت سے کوئی بھی چیز وجود میں آتی ہے تو جس درجے کا اجتماع ہو، اس درجے کے لیے ایک اتھارٹی اور حکومت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس اتھارٹی کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اس اجتماعیت کے تمام افراداور ان کے روابط اور تعلقات کی حفاظت کرے۔ ان کے حقوق ادا کرے۔ مثلاً ایک گھر کے اندر ماں باپ، بہن بھائی، اولاد یا خدمت گار موجود ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک اتھارٹی اور سربراہ ہو اور اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان تمام کے حقوق کی حفاظت کرے۔ اب اگر ایک خاندان کا سربراہ، اپنی بیوی، اپنی بیٹی، اپنے بچے، اپنے خاندان کا راز فروخت کرے، انھیں ایکسپلائٹ کرے، ان کو اپنے استحصالی مقاصد کے لیے استعمال کرے تو وہ خاندان کا سربراہ قرار پائے گا؟ ہرگز نہیں! 
اسی طرح جتنی زیادہ انسانی اجتماعیت کی نوعیت بڑھتی چلی جائے گی، اتنی ہی اتھارٹی بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے لیے اجتماعی ادارہ جاتی نظام ہونا چاہیے کہ وہ افراد ایک شہر میں رہتے ہیں تو تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی مشاورت سے، جمہور کے تقاضوں سے، ان کی جمہوری رائے سے، ایک ادارہ جاتی نظام ہو اور وہ اس ادارے کے باقاعدہ طے شدہ ایس او پیز ہوں، جس کے تحت وہ سسٹم چلائے۔ 
اسی طرح آپ شہر سے اوپر چلیے، ایک ریاست جس میں بہت سے شہر ہیں، پورا ایک ریاستی نظام ہے، ریاست کے تمام افراد کے جتنے سماجی روابط اور تعلقات ہیں، ان تمام تعلقات کے لیے ایک اتھارٹی کی ضرورت ہے۔ اس اتھارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی ریاست کے لوگوں اور ان کے گھروں کا ڈیٹا اس کے پاس موجود ہو۔ رابطوں کی نگرانی کا نظام موجود ہو کہ کون فرد ریاست اور قوم کے مفادات کے لیے رابطے کر رہا ہے اور کون دشمن سے رابطے کر رہا ہے۔ اس اتھارٹی پر لازم ہے کہ اپنے شہریوں کی پرائیویسی کی حفاظت کی جائے۔ یہ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے، جب تک کہ وہ سوسائٹی کے اجتماعی مفاد کے خلاف نہ ہو۔ اگر اجتماعی مفاد کے خلاف ہے تو اسے لوگوں کے سامنے لایا جائے، تاکہ دوسرے لوگ یہ جرم نہ کریں۔ پرائیویسی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ریاست کو کسی کے پرائیویٹ کاموں پر کسی قسم کی گرفت کا کوئی حق نہیں رہا۔ اور ریاست کے اجتماعی حقوق کے خلاف کسی پرائیویٹ (فرد یا ادارے) کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے رابطے اور تعلقات بڑھائے۔ جیسے کسی حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی آدمی کی پرائیویسی سے متعلق جو بنیادی اُمور ہیں، ان کے راز ہیں، ان کو کہیں فروخت کرے۔‘‘ 
انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی آواز! 
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’آج انٹرنیٹ پر صحیح یا غلط کثرتِ علم و افکار، کثرتِ اسباب و سامان اور کثرتِ تصویر و مصوّرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تو 5G ٹیکنالوجی آرہی ہے، جس کے ذریعے منٹوں سیکنڈوں میں لاکھوں کروڑوں تصویریں اور ویڈیوز آپ کے پاس آئیں گی۔ چناںچہ کثرت کے فتنے کا زمانہ آرہا ہے۔ اس کا علاج ایک ہی ہے کہ دل کا تعلق ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ایسا یقینی ہو کہ ان کثرتوں کے جھاڑ جھنکار سے بچ کر اصل بات تک رسائی حاصل کی جاسکے۔ اگر وہ کثرت شیطانی عمل کی ہے تو اس کی شیطنت کو سمجھے۔ اس کا توڑ پیدا کرے۔ اور اگر وہ پورا کا پورا عمل درست ہے تو اس کی درستگی کی حقیقت کو سمجھے۔ 
انسانیت کو اللہ تعالیٰ نے جب تک اس کائنات پر رکھنا ہے، انسانیت کا اجتماعی ضمیر کبھی مردہ نہیں ہوسکتا۔ انسانیت کا اجتماعی ضمیر ایسی بُری کثرت کی مزاحمت ضرور کرے گا۔ بعض لوگ وٹس ایپ پرائیویسی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں کہ جی گوگل کو تو پہلے ہی سب کچھ ڈیٹا معلوم ہے، اب آپ کی کیا پرائیویسی ہے؟ دیکھیں! گوگل نے سب کچھ غیرقانونی طور کیا ہوا ہے۔ اس نے آپ سے غیرقانونی طور پر لکھوا لیا۔ اب جب وٹس ایپ نے قانونی طور پر اجازت مانگی ہے تو دنیا بھر کی انسانیت کی اجتماعیت نے آواز بلند کی ہے، مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ گویا انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی آواز اُٹھی ہے۔ اس پہلو پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ تبھی تو وٹس ایپ کی انتظامیہ کو وضاحت نامہ جاری کرنا پڑا کہ نہیں جی، ایسا نہیں، ویسا نہیں وغیرہ، بلکہ اپنی پالیسی کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے سرکلر جاری کیا ہے، جس میں بہت سے اعترافات بھی کیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ چاہیے کہ انسانی اجتماعیت نے آواز اُٹھائی ہے۔ یہ آواز ضرور اُٹھانی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کو اپنے ایک سو بانوے ترانوے ممبر ملکوں کے افراد کے روابط اور تعلقات کی حفاظت کا اجتماعی نظم قائم کرنے کے لیے ادارہ جاتی سسٹم قائم کرنا چاہیے، تاکہ محض کوئی ایک فرد اِن مفادات سے فائدہ نہ اٹھاسکے۔ کوئی طاقت ور ملک اور  طاقت ور ملک کے بھی کوئی خاص افراد اور اپنے ان کے سامراجی ادارے فائدہ اٹھانے کے بجائے انسانیت کی اجتماعیت ان تمام معاملات کو حل کرے۔ 
آج ہمیں چاہیے کہ اپنا شعور بیدار کریں، اُٹھیں، سوچیں کہ ہمارے حقوق پر ہمارے علم پر، ہماری اشیا پر، ہماری سوچ پر، ہمارے فکر پر جو ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس سے بچنے کے لیے اجتماعی نقطہ نظر سے ادارہ جاتی نظام ہونا چاہیے۔ پوری دنیا میں سرمایہ داری کی یہ خرابی ہے کہ اجتماع اور ریاست کی بنیاد پر حکومت حاصل کی جاتی ہے، ادارے بنائے جاتے ہیں، لیکن اجتماع کے مفادات کے علیٰ الرغم وہ حکومت اور ادارے افراد یا طبقات کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی لیے جب تک عوامی جمہوریت نہ ہو، اس وقت تک حقوق کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے لازمی اور ضروری ہے کہ جن لوگوں کی اجتماعی طاقت سے جو چیز وجود میں آئی ہے، ادارہ جاتی نظام اسی سطح کا ہونا چاہیے۔‘‘ 

10 / 10

حضرت مولاناعبداللہ لغاریؒ

حضرت مولاناعبداللہ لغاریؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے قریبی ساتھیوں میں ایک اہم نام حضرت مولانا عبد اللہ لغاریؒ کا بھی ہے۔ ان کا تعلق ضلع گھوٹکی (صوبہ سندھ) کے ایک گائوں ’’داد لغاری‘‘ سے تھا۔ وہ ۱۲۸۸ھ /1871ء کو نہال خان لغاری کے ہاں پیدا ہوئے۔ 
 ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کرنے کے بعداپنے پھوپھی زاد بھائی مولانا محمدیعقوبؒ اورمولوی عبدالقادر لغاریؒ سے صَرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دیگر کتب کی تعلیم کے لیے نوشہروفیروز، ٹھٹھہ، ملتان اور بہاول پورکے اسفار کیے۔ اسی دوران کراچی میں حضرت مولانا محمد صادقؒ کے والد مولانا عبداللہؒ سے بھی علم حاصل کیا۔ 
امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒسے مولانا لغاریؒ کی ملاقات امروٹ شریف میں ہوئی تھی، جہاں امام انقلابؒ درس و تدریس اور مطالعہ کتب میں مصروف تھے۔ موصوفؒ حضرت سندھیؒ کے نظریات سے بہت متأثر ہوئے اور عملی طور پر حضرت سندھیؒ کے ساتھ شامل ہوگئے۔ جب ’’امروٹ‘‘ میں نشر و اشاعت کے لیے’’محمود المطابع‘‘ نامی ایک پریس قائم کیا تو انھوں نے حضرت سندھیؒ کے ساتھ مل کر کام کیا۔ اسی پریس سے سندھی زبان کا ایک رسالہ’’ہدایت الاخوان‘‘ جاری ہوا، جس نے جلد ہی عوامی مقبولیت حاصل کرلی تھی۔ 
1897ء میں جب حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ نے حضرت سندھیؒ کو دیوبند طلب کرکے سیاسی کام کرنے کی جانب توجہ دلائی تو سندھ سے مولانا محمد صادق کراچویؒ اور مولانا عبداللہ لغاریؒ بھی حضرت سندھیؒ کے ساتھ گئے تھے۔ یہ ان کی حضرت شیخ الہندؒ سے پہلی ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں وہ حضرت شیخ الہندؒ کی شخصیت اور ان کے مشن سے بہت متأثر ہوئے اور اس سیاسی کام میں حضرت سندھیؒ کے ہم سفر بننے کا پختہ عزم کرلیا۔ سندھ دھرتی کے نوجوانوں میں سیاسی بیداری اور انقلابی روح بیدار کرنے کے لیے جب 1901ء میں حضرت سندھیؒ نے صاحب العَلم الثالث پیر رشیدالدین راشدیؒ کے تعاون سے حیدرآباد کے نزدیک ’’گوٹھ پیر جھنڈا‘‘ میں ایک مدرسہ ’’دارالرشاد‘‘ کے نام سے قائم کیا تو مولانا عبداللہ لغاریؒ اس کے مہتمم مقرر کیے گئے۔ امامِ انقلابؒ تو 1909ء میں دیوبند حضرت شیخ الہندؒ کے پاس منتقل ہوگئے، لیکن مولانا لغاریؒ حضرت شیخ الہندؒ کی سرپرستی میں 1914ء تک اس مدرسے کا انتظام سنبھالے رہے۔ 
جولائی 1915ء میں مولانا عبیداللہؒ پیر جھنڈو تشریف لائے اورمولانا لغاریؒ کو اپنے ہمراہ ’’کابل‘‘ چلنے کا فرمایا۔ کابل کے اس سفر میں وہ نہ صرف امامِ انقلاب کے ہم سفر تھے، بلکہ رفیقِ کار اور انتہائی اعتماد یافتہ ساتھی بھی تھے۔ فروری 1916ء میںامامِ انقلابؒؒ نے حکیم محمد اجمل خان، مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر مختاراحمد انصاری وغیرہ کے نام مولانا لغاریؒ کے ہاتھ اپنے اور راجہ مہندر پرتاپ کے خصوصی خطوط ہندوستان بھیجنے کی ذمہ داری لگائی تھی، جنھیں مولاناؒ نے انتہائی راز داری کے ساتھ سرانجام دیا۔ 
تحریکِ ریشمی رومال کے تین اہم ترین مراکز؛ دین پور، امروٹ اور پیرجھنڈا تھے، جہاں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ، حضرت شیخ الہندؒ کی سرپرستی میں بذاتِ خود کام کرچکے تھے۔ ضروری تھا کہ ان تینوں مراکز کے اکابرین سے تحریکِ ریشمی رومال کے تحت انگریزوں کے خلاف جدوجہد کا تحریری پروانہ حاصل کیا جاتا۔ اس مقصد کے لیے بھی امامِ انقلابؒ نے مولانا لغاریؒ کو ایک عبارت قلم بند کرادی تھی۔ مولاناؒ نے یہ کام بھی انتہائی رازداری کے ساتھ سرانجام دیا اور تینوں مراکز سے عبارتوں پر دستخط کروا کر سردار عبدالرزاق (میزان العلما) کو کابل روانہ کیں۔ 
ریشمی رومال خطوط کے افشا ہونے کے بعد تحریکِ ریشمی رومال کے سلسلے میں جہاں اَور بہت سارے لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں، وہیں ستمبر 1916ء میں مولانا  عبداللہ لغاریؒ بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کرلیے گئے تھے۔ تقریباً دو سال تک لاہور، پٹھان کوٹ، دین پور اور کراچی وغیرہ کی جیلوں میں نظر بند رہے۔ 1918ء میں رہا کیے گئے۔ افغانستان اور ہندوستان کی آزادی کے لیے قائم کی جانے والی جماعت ’’جنودِ ربانیہ‘‘ کی فہرست میں مولانا لغاریؒ کا عہدہ’’ کرنل‘‘ کے طور پر لکھا ہوا ہے۔ رہائی کے باوجود بھی انگریز سی آئی ڈی موصوفؒ پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔ انگریز کو ان سے اس قدر خطرہ تھا کہ جب انگریزوں کے خلاف والیٔ کابل امیر امان اللہ خان برسرِ پیکار ہوئے تو اس دوران بھی ان کو کافی دنوں تک ان کے گھر میں نظر بند کردیا گیا۔ 
1926ء میں جب مولانا عبیداللہ سندھیؒ مکہ معظمہ پہنچے تو کچھ عرصے بعدمولانا عبداللہ لغاریؒ بھی ان کی خدمت میں حجاز تشریف لے گئے۔ حجاز میں قیام کے دوران مولانا سندھیؒ نے تفسیرِ قرآن ، علومِ اسلامیہ اور ولی اللّٰہی فلاسفی پر جو تعلیم دی، وہ سب مولانا عبداللہ لغاریؒ نے قلم بند کی، بلکہ جتنی کتابیں مولانا سندھیؒ کے افکار اور شاہ ولی اللہؒ کے فلسفے کے مطابق شائع ہوئیں، ان میں زیادہ تر کے ذرائع مولانا عبداللہ لغاریؒ ہی ہیں۔ 
1939ء میں مولانا سندھیؒ نے جب ہندوستان واپس آنے کا فیصلہ کرلیا توبعض انتظامات کی خاطر مولانا عبداللہ لغاریؒ ان کے آنے سے پہلے سندھ پہنچ گئے تھے۔ وطن واپسی کے بعد بھی موصوفؒ مولانا سندھیؒ کے آخری دم تک ساتھ رہے۔ مولانا سندھیؒ کے وصال کے بعد قریباً 6 سال تک سندھ یونیورسٹی میں قرآن پاک کی تفسیر ا ور حکمتِ ولی اللّٰہی کی تعلیم سے طلبا کے ذہنوں کو آراستہ کرتے رہے۔ آخر میں سندھ یونیورسٹی میں ایم۔اے کے طلبا کو قرآنِ حکیم کی تفسیر پڑھانے کے لیے معلم مقرر کیے گئے۔ 
آخری عمر میں ضعف نے شدت اختیار کرلی تھی۔ بیماری کے باعث 15؍ ستمبر 1958ء کو سول ہسپتال حیدرآباد میں داخل ہونا پڑا، لیکن جاں بر نہ ہوسکے اور جمعرات 18؍ ستمبر1958ء کو جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ سندھ کے ضلع ’’سانگھڑ‘‘ میں آسودۂ خواب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)

شمارہ ختم

واپس