انسانی کامیابی کے بنیادی اَساسی اُمور

إِنَّ الَّذينَ آمَنوا وَالَّذينَ هادوا وَالنَّصارىٰ وَالصّابِئينَ مَن آمَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الآخِرِ وَعَمِلَ صالِحًا فَلَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ ۞(-2 البقرہ: 62 )
(بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے، اور جو لوگ یہودی ہوئے، اور نصاریٰ، اور صائبین، جو ایمان لایا (ان میں سے) اللہ پر اور روز ِقیامت پر، اور کام کیے نیک تو اُن کے لیے ہے اُن کا ثواب اُن کے ربّ کے پاس، اور نہیں اُن پر کچھ خوف اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔)
گزشتہ آیات میں واضح کیا گیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے بنی اسرائیل کی ذہنی، فکری، علمی اور عملی ترقی کے لیے وقتاً فوقتاً رہنمائی کی۔ انھیں کامیابی کا راستہ دکھایا، لیکن مجموعی طور پر اُن میں غلامی کے پیداشدہ اثرات اور دیگر خرابیوں کے سبب انھیں وہ ترقی حاصل نہ ہوسکی، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد کا ہدف تھا۔ اُن کے مجموعی کردار کا نتیجہ یہ ہو اکہ وہ سیاسی ذلت اور معاشی بدحالی کے عذاب میں مبتلا ہوگئے، البتہ اُن میں چند ایسے افراد ضرور موجود رہے، جو انبیا علیہم السلام کی سچی اتباع کے ذریعے سے ہر دور میں کسی نہ کسی طرح کامیاب ہوتے رہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں ایک اُصولی ضابطہ اور قانون بیان کیا جا رہا ہے کہ بلاتفریق مذہب و ملت و نسلی امتیاز کے جو جماعت بھی صدقِ دل کے ساتھ اللہ پر ایمان لائے، آخرت پر یقین رکھے اور اپنے اعمال کو درست کرے، اُن کے لیے کامیابی ہے۔ نسلی برتری اور اختلافِ ملک و ملت کے حوالے سے پیدا شدہ تفریق کی کوئی حیثیت نہیں۔ تمام انبیا علیہم السلام کی ان مشترکہ تعلیمات کی اتباع میں کامیابی ہے۔
إِنَّ الَّذينَ آمَنوا: سب سے پہلے کتابِ مقدس قرآن حکیم او رنبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے والی جماعت کا تذکرہ کیا ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوئے، اللہ تبارک و تعالیٰ کو ایک ماننے کا اقرار کیا، رسول اللہؐ کی اتباع کے تسلیم کرنے کا اِظہار کیا۔ عربوں میں سے اُس وقت تک قریش اور اوس و خزرج کے قبائل ایمان لائے تھے، وہ اپنی قبائلی نسل پرستی او رجاہلانہ عصبیت کے دائرے سے پورے طور پر باہر نہیں نکلے تھے، اس لیے انھیں بھی یہاں مخاطب کیا جا رہا ہے۔ انھیں بھی اس جاہلانہ عصبیت کے دائرے سے نکل کر آیت کے آخر میں بیان کردہ تین اُمور کی اخلاص کے ساتھ پابندی کرنا لازمی اور ضروری ہے۔
وَالَّذينَ هادوا:وہ لوگ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر ایمان لانے کے دعوے دار ہیں، اپنے آپ کو ’’یہودی‘‘ کہتے ہیں، وہ بھی نسلی برتری کے مرض میں مبتلا ہیں اور انبیا علیہم السلام کی تعلیمات پر پورے طریقے سے عمل کرنے کے روادار نہیں ہیں، اُن کے بارے میں بھی یہ اصول اور ضابطہ بیان کیا جا رہا ہے۔
وَالنَّصارىٰ:وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن پر نازل کردہ کتاب انجیل پر ایمان لانے کے دعوے دار ہیں، وہ بھی اپنے مخصوص تحریف شدہ دین کی فرقہ وارانہ گروہیت سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انھوں نے خود ساختہ رہبانیت کی چادر اوڑھی ہوئی ہے اور ایمان کی اصل حقیقت سے بہت دور ہیں۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں: ’’بنی اسرائیل اس بات پر مغرور تھے کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں۔ ہم ہر طرح اللہ کے نزدیک بہتر ہیں۔ یہود کہتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُمت کو، اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُمت کو‘‘۔
وَالصّابِئينَ:ہر قوم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے انبیا علیہم السلام اور قوموں کو ڈرانے والے ’’نذیر‘‘ آتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: (کوئی اُمت ایسی نہیں، جس میں ہم نے کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا ہو) (-35 الفاطر:24) ۔ دنیا کی ان بڑی بڑی اقوام میں اِن ڈرانے والے انبیا و حکما کے ذریعے مذاہب و ملل وجود میں آتے رہے۔ اُن میں تحریفات ہوئیں اور اُن قوموں اور نسلوں میں بھی مذہبی گروہیت اور نسلی برتری اور عصبیت رہی ہے۔ وہ بھی اپنے فرقہ وارانہ گروہیت سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
صائبین سے مراد بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے علاوہ دُنیا کی وہ اقوام اور ملتیں ہیں، جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت اِبراہیم علیہ السلام سے پہلے تک کے انبیا اور حکما کی تعلیمات قبول کرنے کے دعوے دار رہی ہیں۔ ان زیادہ تر اَقوام میں ایران کے مجوس، ہندوستان کے ہندو، چین کے بدھ اور یونانی اور رومی نسلیں قبل از قبولِ عیسائیت شامل ہیں۔ ان میں بھی عصبیت اور گروہیت بھری ہوئی تھی۔
مَن آمَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الآخِرِ وَعَمِلَ صالِحًا:ان چاروں جماعتوں، گروہوں، فرقوں اور ملتوں کے افراد میں سے کوئی فرد اور جماعت ان تین بنیادی اساسی اُمور پر عمل کرے گا، وہی اجر کا مستحق اور علمی و عملی طور پر کامیاب ہے:
(الف) جو اللہ پر صدقِ دل سے ایمان لایا، کائنات میں جاری اُس کے نظام کو پورے یقین کے ساتھ تسلیم کیا، اُن کی شہنشاہیت اور حکومت کا اقرار کیا۔
(ب) جس نے آخرت کے دن پر صدقِ دل سے ایمان رکھا، موت کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے جزا و سزا پر یقین رکھا۔
(ج) اللہ تعالیٰ سے تعلق اور انسانیت کی خدمت کے حوالے سے اچھے اعمال کیے۔
فَلَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ:جن لوگوں نے بھی یہ تین اُمور سرانجام دیے، اُن کے لیے اُن کے ربّ کے ہاں بڑا اَجر ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’یعنی کسی فرقۂ خاص پر موقوف نہیں، یقین لانا شرط ہے اور عملِ نیک۔ سو جس کو یہ نصیب ہوا، ثواب پایا۔‘‘ ایسے لوگوں پر نہ ہی کسی قسم کا مستقبل میں کوئی خوف ہے اور نہ ہی ماضی کے کسی عمل پر افسوس اور غم۔ وہی کامیاب ہیں۔
حُبِّ مال و جاہ کا نقصان

عَنْ کَعْبِ ابْنِ مَالِکِ الْاَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِﷺ: ’’مَا ذِئْبَان جَاَئِعَانِ أُرْسِلَا فِیْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَھَا مِنْ حِرْص المَرْئِ عَلَی الْمَالِ و الشَّرَفِ لِدِیْنِہٖ‘‘۔(سنن التّرمذی، حدیث: 2376)
(حضرت کعب بن مالک انصاریؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اتنا فساد اور خرابی نہ کریں، جتنا آدمی کے دین کو مال و جاہ کی حرص خراب کرتی ہے‘‘۔)
زیرِنظر حدیث میں ذکر کی گئی مثال کی رُو سے بکریوں کے ریوڑ میں دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کو جو نقصان پہنچاتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ نقصان انسان کے دین کے لیے حرص اور خودپسندی کا مرض ہے۔ صوفیائے کرام کے ہاں اسے ’’حُبِّ مال‘‘ اور ’’حُبِّ جاہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تزکیۂ نفس کے لیے صوفیا کی محنت کا دائرۂ کار انسان کی انھی دو بداَخلاقیوں کا خاتمہ ہے۔ انسان کا یہ مرض اگر ٹھیک ہوجائے تو اس کی دنیا و آخرت سنور جاتی ہے۔
مال کی بے جا محبت انسان کو حلال کمانے اور کھانے سے دُور کر دیتی ہے۔ اُسے خودغرض، لالچی اور استحصال پسند بناتی ہے۔ مال کا بندہ بناکر دنیا و آخرت کی ناکامی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اسی طرح تکبر و غرور اور جاہ پرستی کا معاملہ ہے۔ انسان کا اپنے انسانی شرف کو قائم رکھنا اور اپنی عزتِ نفس کا خیال رکھنا دینی اور انسانی تقاضا ہے، لیکن جب انسان محض اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے، ان کی توہین کرتا ہے اور انھیں ذلیل کرتا ہے تو اللہ کو یہ ناپسند ہے۔ یہ رویہ شرفِ انسانیت کو داغ دار کردیتا ہے۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ نے ایک موقع پر فرمایا کہ: ’’حُبِّ جاہ کا مرض بہت خطرناک ہے۔ یہ ایسا سانپ ہے جو موقع کے انتظار میں رہتا ہے اور انسان کو اس کے آخری وقت میں بھی ڈس لیتا ہے‘‘۔
آج یہ دونوں امراض اِنفرادی حالت سے بڑھ کر اجتماعیت کا حصہ ہوگئے ہیں۔ اور ’’انسانی اعمالِ بد کی وَجہ سے خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے‘‘۔ (الروم: 41)
دُنیا میں اس وقت تباہی و بربادی انھیں مال پرستوں اور مغرور لوگوں کی جنگ کا نتیجہ ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا کے وسائل کو ہڑپ کیے جارہی ہیں۔ اقوام کی معیشتوں کو، ان کے معاشروں کو، ان کی سیاست کو تہہ وبالا کررہی ہیں۔ غریب لوگ ایڑیاں رگڑرگڑ کر مر رہے ہیں۔ بیمار انسان اپنا علاج کروانے سے عاجز ہیں۔ عصرِ حاضر میں حُبِّ مال کا مرض بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ حضور ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق نہ صرف فرد کو حُبِّ مال کا مرض نقصان دیتا ہے، بلکہ یہ مرض قوموں اور جماعتوں میں آجائے تو اس کی تباہ کاری کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان اخلاقِ رذیلہ سے محفوظ فرمائے اور اخلاقِ عالیہ نصیب فرمائے۔
حضرت اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ ﷺ

حضرت اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا‘ حضور اقدس ﷺ کی تیسری صاحبزادی تھیں۔ آپؓ بعثتِ نبویؐ سے 6 سال پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ حضوؐر کے اعلانِ نبوت کے بعد اسلام قبول کرنے والی خواتین میں اپنی والدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے ساتھ اپنی بہنوں اور دیگر اسلام قبول کرنے والی خواتین کے ساتھ نبی اکرمؐ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ گہوارۂ نبویؐ میں علم و اَخلاق اور پیکر ِحسنِ حیا کے عمدہ فطری ماحول میں پروان چڑھیں۔ تمام انسانی، دینی اور نسوانی خوبیوں کی حامل تھیں۔ مکی زندگی کی مشکلات میں دینِ حق اور اجتماعی تحریک میں صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ نبی کریمؐ میں صبر واستقامت کے ساتھ احیائے دین اور غلبۂ دین کی عظیم الشان جدوجہد میں اسوۂ کامل کا معیار ٹھہریں۔ حضوؐر کی معیت میں خاندان کے ساتھ تین سال کے قریب شعبِ ابی طالب کی مشکلات جھیلیں اور مکہ کے مشرکانہ نظام کے ظلم کا شکار رہیں۔
حضرت اُم کلثومؓ اپنی ماں حضرت خدیجہؓ کے ساتھ بہت مشابہت رکھتی تھیں۔ ان کے دل کاسرور اور آپﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھیں۔ اپنی دونوں بڑی بہنوں کی شادی کے بعد گھریلو سرگرمیوں میں ماں کا ہاتھ بٹاتیں اور اباجان کی آنکھوں میں مقامِ صدق و حیا کی تصویر تھیں۔ مکی زندگی کے آخری سالوں میں ماں کی جدائی کا صدمہ برداشت کیا۔ آپ ؐ اپنے دینی وعلمی کاموں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کا خیال بھی رکھتے تھے۔ ایک طرف سیّدہ اُم کلثوم ہیں، دوسری طرف جنت کی عورتوں کی سردار سیّدہ فاطمہؓ ہیں۔ گھریلو امور میں نگرانی، مشاورت، حفاظت، رہنمائی کے حوالے سے آپؐ اپنی بیٹیوں کے دلوں کی آواز شدت سے محسوس فرماتے اور ان کو اپنی شفقت سے فیضیاب فرماتے۔
حضرت اُمِ کلثومؓ کی نسبت ابولہب کے بیٹے عتیبہ کے ساتھ طے تھی۔ اس نے محض حضوؐر کو دُکھ پہنچانے کے لیے رخصتی سے قبل ہی حضرت اُمِ کلثومؓ کو طلاق دے دی۔ حضور اقدسؐ کی دوسری صاحبزادی حضرت سیّدہ رُقیہؓ حضرت عثمانؓ کے نکاح میں تھیں، ان کی وفات کے بعد ربیع الاوّل۳ہجری میں آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سابقہ مہر کی مقدار پر حضرت اُم کلثومؓ کا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے نکاح کردیا۔ حضرت اُمِ کلثومؓ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ 6 سال تک حضرت عثمانؓ کے ساتھ خوشگوار گھریلو زندگی بسر کرنے کے بعد شعبان۹ہجری میں حضرت اُم کلثومؓ کاانتقال ہوگیا۔ آپؓ کے غسل و کفن کے انتظامات کی حضوؐر نے خود نگرانی فرمائی، خود نمازِ جنازہ پڑھائی اورآپؓ کی مغفرت کی دعا مانگی۔ تمام صحابہ کرامؓ نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی ۔ آپؓ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔
سیّدہ اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات کا آپؐ کو سخت ملال ہوا۔ ’’صحیح بخای‘‘ میں ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک بار آپؐ ام کلثومؓ کی قبر پر تشریف فرما تھے اور آپؐ کی آنکھوں سے شدتِ غم کی وجہ سے آنسو جاری تھے۔
(ازالۃالخفاء عن خلافۃ الخلفاء، از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ، ج 3، بناتِ اربعہ از مولانا محمد نافع)
خلافتِ راشدہ کے نظام میں وسیع تر بامعنی مشاورت اور آج کی جمہوریت

وطنِ عزیز کی سیاست اپنے روز ِقیام ہی سے مختلف نعروں سے عبارت رہی ہے، جیساکہ ہم نے گزشتہ ماہ کے شذرات میں یہاں اسلامی نظام کے نمائشی نعروں کے برعکس چند سنجیدہ گزارشات پیش کی تھیں۔ یہاں روز ِاوّل کی طرح آج بھی ایک پارٹی جس کے پاس اقتدار بھی ہے، وہ اپنی سیاست میں ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے سلوگن کو بڑی ’’مستقل‘‘ مزاجی سے اپنائے ہوئے ہے۔ اگرچہ وہ اپنے تین سالہ دورِ اقتدار میں کوئی بھی پالیسی ریاستِ مدینہ کے اصول پر نہیں بناسکی، خصوصاً ملک کی اقتصادی حالت اور مہنگائی کے منہ زور گھوڑے نے ان کے تمام تر دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
ہماری رائے میں ریاستِ مدینہ آں حضرت ﷺ اور آپؐ کی تربیت یافتہ جماعت کے نظام کے علاوہ کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کا ایک مختصر جائزہ پیش کرنا انتہائی اہم ہے۔ اس قُدسی صفت جماعت نے اندرونی و بیرونی چیلنجز پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ایسے اعلیٰ سیاسی، سماجی اور معاشی اصولوں پر مبنی نظام قائم کیا، جس کی ناگزیریت کو آج بھی دنیا تسلیم کرتی ہے۔
خلافتِ راشدہ ایک مثالی اور ماڈل حکومت کا مفہوم رکھتی ہے، جس کا نظام چند ایسے سیاسی و معاشی اصولوں سے عبارت ہے، جو اپنی معنویت میں سدا بہار ہیں۔ زمان و مکان کا کوئی تغیر و تبدل اس کی تازگی کو گہنا نہیں سکتا۔ ان اصولوں کی اس آفاقی حیثیت کو کہیں بھی اور کسی بھی دور میں اپنا یا جاسکتا ہے۔ اس نظام کا ایک اہم اصول بامعنی اجتماعی مشاورت رہا ہے کہ لوگوں کی رائے اور مشورے سے حکومت قائم ہوگی۔ اس کو موجودہ دور میں جمہوریت کی مروّجہ تعبیر سے پہچانا جاتا ہے۔ عوام کی رائے کے علی الرغم حکومت پر کسی چور دروازے سے یا محض طاقت سے قبضہ نہیں کیا جاسکتا، اور جس شخص کو حکمران منتخب کرلیا جائے، وہ آمرانہ طرز ِحکومت نہیں کرے گا، بلکہ حکومت چلانے میں وہ لوگوں کی رائے اور مشورے کا پابند ہوگا۔ مشورے اور رائے کا فورم ہر زمانے میں کسی بھی شکل و صورت کا ہوسکتا ہے۔ چناں چہ چاروں خلفا کے تقرر میں جمہوریت کے اصول پر لوگوں کی مشاورت نے اہم کردار ادا کیا۔ حکومت کے معاملات کوخلیفہ کے ساتھ باقاعدہ ایک کابینہ چلایا کرتی تھی، جو عموماً سنیئر ترین صحابہؓ پر مشتمل تھی، جس میں سربراہی کا کردار خلیفہ اداکرتے تھے۔ بڑے اور اہم مسائل میں مشاورت کا پروسیجر یہ تھا کہ فیصلے سے قبل ’’الصّلٰوۃ جامعۃ‘‘ کا اعلان کروایا جاتا، جس پر دارالخلافہ کے تمام افراد مسجد میں جمع ہوجاتے، حتی کہ خواتین سے رائے حاصل کرنے کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔ حل طلب مسئلہ حاضرینِ شوریٰ کے سامنے پیش کیا جاتا۔ سب لوگ آزادی سے اپنی رائے دیتے۔ جس پر اتفاقِ رائے ہوجاتا، اس پر فیصلہ کرلیا جاتا۔ مشاورت میں اصحابِ عشرہ مبشرہ، بدری صحابہ اور بیعتِ رضوان میں شریک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ساتھ عام باشندگان سے بھی رائے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اگرکسی موقع پر خلیفۂ وقت اور عام لوگوں کی رائے میں تعارُض پیدا ہوجاتا تو خلیفہ اپنی رائے کو جبر سے نافذ نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ وہ عام مجمع کی اکثریت کو استدلال کی قوت سے قائل کرتا اور وہ خلیفہ سے متفق ہوجاتے۔
جب کسروِی نظام کے خاتمے کے بعد عراق کی مفتوحہ زمینوں کا مسئلہ درپیش ہوا تو اکثریت کی رائے ان زمینوں کو ان فاتحین میں بہ طور مالِ غنیمت تقسیم کرنے کی تھی، جن کی جدوجہد سے عراق زیرِنگیں ہوا، جب کہ خلیفۂ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کی رائے ریاستی ملکیت میں رکھتے ہوئے زمینوں پر پہلے سے کام کرنے والے کسانوں سے پارٹنرشپ پر معاملہ طے کرنے کی تھی کہ وہ پیداوار کا ایک متعین حصہ یا متعینہ معاوضہ (خراج) ریاست کو ادا کریں اور بقیہ پیداوار سے فائدہ اٹھائیں۔ اس پر کئی دن بحث ہوئی۔ بالآخر جب اکثریت حضرت عمرؓ کی رائے سے متفق ہوئی تو تب اسے نافذ کیا گیا۔
قومی سطح کے مسائل میں قبائل اور صوبوں کی قیادت کو بھی بلایا جاتا اور ان کے ساتھ اجتماعی مشاورت کے بعد فیصلے کیے جاتے۔ مشاورت کے ان اجتماعات میں سرکاری نمائندوں کے ساتھ ساتھ قوم کے عام افراد کو بھی شریک ہونے کا پورا پورا حق دیا جاتا تھا۔ ان اجلاسات میں کوئی بھی شخص آکر اپنی رائے نہ صرف دے سکتا تھا، بلکہ اجلاس کے علاوہ کسی بھی وقت دربارِ خلافت میں اپنی رائے اور مشورہ نوٹ کرواسکتا تھا۔ دربارِ خلافت کے اجلاسات کسی عالی شان محل کے بجائے عام مساجد میں منعقد کیے جاتے، تاکہ اس میں ہر شخص کی شرکت ممکن ہو۔
آج بسا اوقات ’’جمہوری‘‘ حکومتوں میں بھی بعض معاملات عام رعایا سے ریاست کے مفاد کے نام پر خفیہ رکھے جاتے ہیں اور انھیں پبلک نہیں کیا جاتا، جب کہ خلافتِ راشدہ کے نظام میں حکومتی معاملات سے عام رعایا کو باقاعدہ باخبر رکھا جاتا تھا اور اس کے لیے نماز ِجمعہ کو مرکزیت حاصل تھی۔ دارالحکومت مدینہ منورہ میں شہری آبادی کے ساتھ ساتھ گرد و نواح کے دیہی علاقوں سے بھی لوگ بھرپور شرکت کرتے۔ حاکمِ وقت بھی جمعہ کا خطبہ اور گفتگو عام مذہبی مسائل کے بجائے اہم حکومتی معاملات اور اہم اُمور تک پھیلا دیتے۔ جمعہ کے مجمع میں شریک لوگوں کو عام اجازت ہوتی کہ وہ خلیفہ کی رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں اور کسی سرکاری پالیسی پر تنقید یا عدمِ اطمینان کا اظہار بھی کرسکتے ہیں۔ تاریخ نے اپنے دامن میں ایسے بیسیوں واقعات محفوظ کر رکھے ہیں، جو ہمارے اس دعوے کی دلیل ہیں۔
یہ آزادیٔ رائے اور جمہوریت کی فضا صرف مرکز ِخلافت ’مدینہ منورہ‘ تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ خلافتِ راشدہ میں قائم تمام صوبوں میں اسی ماڈل کو اختیار کیا گیا تھا۔ ہر شہر اور صوبوں کے گورنروں کا تعین مقامی لوگوں کی رائے اور مشورے سے ہوتا تھا۔ اہلِ بصرہ اور کوفہ والوں نے کئی بار اپنے گورنروں کے تبادلوں کے مطالبات مرکزِ خلافت تک پہنچائے تو ان کی رائے پر گورنر بدل دیے گئے۔ حج کے موقع پر گورنروں کی کارکردگی کاجائزہ لینے کے لیے باقاعدہ کھلی کچہریاں لگتیں اور کوئی بھی عام شخص بلا خوف و تردّد گورنروں کے خلاف اپنا مقدمہ پیش کرسکتا تھا۔ یہ ریکارڈ بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے کہ لوگ خلفائے راشدین تک اپنی شکایات پہنچاتے اور وہاں سے اپنے حق میں فیصلے لیتے۔ مرکزِ خلافت باقاعدہ عام لوگوں کے حقوق کا محافظ تھا اور گورنروں کو باقاعدہ حکم تھا کہ وہ اپنے فیصلے اہلِ شہر کی مشاورت کے بغیر سرانجام نہیں دے سکتے۔ مشاورت ان پر لازم ہے۔خلافتِ راشدہ کے نظام میں انسانی بنیادی حقوق سمیت آزادیٔ اظہارِ رائے اور مشاورت کا ایسا اہتمام کیا گیا تھا کہ آج کا جدید جمہوری نظام بھی شاید اس کی مثال پیش نہ کرسکے۔ (مدیر)
عدالت: انسانیت کا چوتھا بنیادی خُلق

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’(انسانیت کے بنیادی اَخلاق میں سے) چوتھا اصول ’’عدالت‘‘ ہے۔
(عدالت کی حقیقت اور معنویت)
عدالت ایک ایسے مَلَکہ (استعداد اور صلاحیت) کا نام ہے کہ جس کے ذریعے سے بڑے سہل انداز میں گھریلو نظام (سے لے کر) قومی اور بین الاقوامی سیاست اور ملکی اداروں کے نظم و نسق کو عدل و انصاف کے مطابق صالح طور پر قائم کیا جائے۔
عدالت کے اس مَلَکہ کی اصل بنیاد انسانی نفس کی ایسی جبلت اور فطرت ہے کہ جس میں (سوسائٹی سے متعلق) ’’افکارِ کُلّیہ‘‘ (جامعیت پر مبنی کلی افکار) ظاہر ہوں۔ اور (اُن کے ذریعے سے) عملی طور پر ایسا سیاسی نظام وجود میں آئے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ اور اُس کے فرشتوں کے ساتھ پسندیدہ نسبت رکھتا ہو۔
]اِمامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’افکارِ کُلّیہ‘‘ سے مراد ایسے افکار و نظریات اور خیالات ہیں کہ جو جمہور انسانوں کے لیے نفع بخش ثابت ہوں۔ اس کی ضد ایسے افکار و خیالات و نظریات ہوتے ہیں، جو انفرادیت او رشخصی مفادات پر مبنی ہیں۔[
(اللہ کے نزدیک عدل و انصاف کے بنیادی اُمور)
اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں درجِ ذیل اُمور کا ارادہ فرمایا ہے:
(1) انسانی معاملات کا انتظام صحیح طور پر قائم ہو۔
(2) اور یہ کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کریں۔
(3) اور یہ کہ کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ ڈھائے۔
(4) اور یہ کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر باہم محبت سے رہیں۔
(5) اور یہ کہ وہ ایک جسم کے مانند ایسے طور پر زندگی بسر کریں کہ اگر جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو اُس کے باقی تمام اعضا بخار اور تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
(6) اور یہ کہ انسانوں کی نسل کثرت سے بڑھے، (نسل کشی کا ماحول نہ ہو)۔
(7) اور یہ کہ اُن کے قانون شکن لوگوں کو سزائیں دی جائیں۔
(8) اور یہ کہ اُن کے عدل و انصاف کرنے والوں کی عزت کی جائے۔
(9) اور یہ کہ اُن میں رائج فاسد رسومات اور نظاموں کا خاتمہ کیا جائے۔
(10)اور یہ کہ اُن میں بھلائی پر مبنی سچے اور برحق قوانین کا نظام غالب کیا جائے۔
اس حوالے سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں اجمالی طور پر ’’قضا‘‘ (فیصلہ) جاری کردیا۔ اس طرح یہ تمام اُمور اُس اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی تشریح اور تفصیل ہیں۔
]اِمامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ کی جانب سے جاری ہونے والی قضا اور فیصلے کی تشریح اور تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ تمام اُمور اِجمالی طور پر ازل سے ہی انسانیت کے لیے لکھ دیے تھے۔ پھر ان اُمور کا اظہار یکے بعد دیگرے وقتاً فوقتاً عدم سے وجود میں آتا رہا۔اس طرح یہ دس اُمور وجود میں آئے۔[
(عدل کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کے کام)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتوں کو ان امور کی تلقین کی ہے۔ اس لیے:
(الف) وہ فرشتے اُن تمام لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں، جو انسانیت میں عدل و انصاف کے مطابق جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔
(ب) اور اُن تمام لوگوں پر لعنت بھیجتے ہیں، جو لوگ انسانیت میں فساد پیدا کرتے ہیں۔
یہ بات (درجِ ذیل آیات) میں ہے:
(1)اللہ تعالیٰ نے (سورت النور آیت: 55 میں )ارشاد فرمایا ہے کہ:
’’اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے عملِ صالح کیے، یہ وعدہ کرلیا ہے کہ:
(الف) انھیں زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا، جیساکہ اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا۔
(ب) اللہ اپنے پسندیدہ دین اور نظام کو مضبوط اور مستحکم کرے گا۔
(ج) اور اللہ تعالیٰ ضرور اُن کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا۔
(د) انھیں چاہیے کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
(ہ) جس نے اس کے بعد کفر کیا اور ناشکری کی، سو وہی لوگ فاسق اور نافرمان ہیں‘‘۔
(2)اللہ تعالیٰ نے (سورت الرعد آیت: 20 تا 24) میں ارشاد فرمایا:
(الف) ’’وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور انھیں نہیں توڑتے۔
(ب) اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے، انھیں وہ لوگ جوڑتے اور ملاتے ہیں۔ اور وہ اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں اور بُرے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔
(ج) جو لوگ اپنے ربّ کی خوشی اور رضا کے لیے صبر و استقامت اختیار کرتے ہیں۔ اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے رزق دیا، اُس کو ظاہری اور خفیہ طور پر خرچ کرتے ہیں۔ اور برائی کا مقابلہ اچھائی سے کرتے ہیں۔ انھیں کے لیے آخرت کا گھر ہے۔
(د) ایسے لوگ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہوں گے اور جو اُن کے آباؤ اَجداد اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے نیک ہوں گے، وہ بھی ان کے ساتھ داخل ہوں گے۔ اور فرشتے اُن پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے۔ فرشتے ان پر سلامتی کہیں گے۔ اس وجہ سے کہ جو تم نے صبر کیا۔ پس تمھیں آخرت کا گھر بہت اچھاملا‘‘۔
(3)اللہ تعالیٰ نے (سورت الرعد آیت: 25) میں ظلم کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:
(الف) ’’وہ لوگ جنھوں نے اللہ سے پختہ طور پر کیے ہوئے معاہدات کو توڑا۔
(ب) اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا، انھیں توڑا۔
(ج) اور انھوں نے زمین میں فساد مچایا۔
(د) ایسے لوگوں پر (اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے) لعنت ہے اور اُن کے لیے بہت ہی بُرا گھر ہے‘‘۔ (جاری ہے۔۔)
(من أبواب الإحسان، باب(1): علمُ الشّرائع و الإحسان)
اَندلُس کے علما و سائنس دان ؛شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی ؒ

بارہویں صدی عیسوی کے عبقری انسان، عظیم فلسفی، مفکر، محقق، صوفی، علوم کا بحرِ ناپیدا کنار، روحانی و عرفانی نظامِ شمسی کے مدار، اسلامی تصوف میں ’’شیخِ اکبر‘‘کے خطاب سے جن کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن کا لقب ’’محی الدین‘‘ ہے۔ واقعی جو روحانی اقدار کے لیے حیات آفرین ہیں۔ جی ہاں! یہ ہیں شیخ اکبر ابوبکر محمد بن علی بن محمد بن احمد ابنِ عربی الاندلُسی الحاتمی الطائی، جو عرب کے نام ور سخی حاتم طائی کے بھائی کی اولاد میں سے ہیں۔
آپؒ کے خاندان کا تعلق قبیلۂ ’’بنوطے‘‘ سے ہے، جو ہجرت کرکے اَندلُس میں آباد ہوگیا تھا۔ آپؒ اَندلُس کے شہر مرسیہ میں۲۷؍ رمضان المبارک۵۶۰ھ / 1165ء میں پیدا ہوئے۔ آٹھ برس کے تھے کہ مرسیہ پر ’’المُوَحِّدون‘‘ کہلانے والے فرقے کا قبضہ ہوگیا، جس کی وجہ سے آپ کے خاندان کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔ چناں چہ آپؒ کے خاندان نے ’’لِشبونہ‘‘ (پُرتگال کے دارالحکومت لزبن) میں پناہ لی، تاہم جلد ہی آپؒ کے والد کو اِشبیلیہ کے امیرابویعقوب یوسف کے دربار میں اہم عہدے کی پیش کش ہوئی۔ اس طرح آپؒ کا خاندان پھر سے اَندلُس کے مشہور شہر ’’اِشبیلیہ‘‘ منتقل ہوگیا۔
آپؒ کی ابتدائی تعلیم مرسیہ اور لِشبونہ (لزبن) میں ہوئی۔ تعلیم کے متوسط و اعلیٰ مدارج اِشبیلیہ میں ہی طے کیے۔ یہیں پر آپؒ کو علما و صوفیا کی مجالس میں استفادے کا موقع ملا، بلکہ آپؒ کا بیش تر وقت صوفیا کی مجالس میں گزرتا تھا۔ آپؒ کے ماموں ابومسلم خولانیؒ بھی اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور صوفی تھی۔ آپؒ نے حصولِ علم اور اصلاح و تزکیہ کی خاطر دور دراز کے سفر بھی کیے۔ خصوصاً شمالی افریقا کے ممالک کی طرف رُجحان زیادہ تھا۔ یہاں آپؒ کو ایسے اہل اللہ کی صحبت میسر ہوئی، جنھوں نے آپؒ کی روحانی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپؒ ایک واسطے سے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ کے فیض یافتہ بھی ہیں۔
شیخ ابنِ عربیؒ اپنے خاص نظریے خصوصاً تصوف، فلسفہ اور کشف کے باعث ایک جداگانہ حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کو محض صوفی یا فلسفی کہنا درست نہیں، بلکہ ان کا دائرۂ فکر اہم اسلامی و سماجی علوم، علمِ تفسیر و حدیث، اصولِ فقہ، الٰہیات، فلسفہ، تصوف، صرف و نحو، سیرت، وقائع نگاری، نفسیات، صوفیانہ شاعری، ما بعد الطّبیعات، اور فلسفۂ زمان و مکان کے پیچیدہ مسائل تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ کثیر الاجزا علوم کو باہم مربوط کرکے نتائج اخذ کرنے کی طرف مائل ہیں۔ ان کا نظامِ فکر کثرت میں وحدت کا نظارہ کرنے پر قادر ہے۔ ابنِ عربیؒ کی فکر کا نقطۂ ماسکہ ’’فلسفۂ وحدت الوجود‘‘ ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ تصوف میں وحدت الوجود کا تصور سب سے پہلے انھوں نے ہی پیش کیا تھا۔ یہ فلسفہ ایسا عملی و انقلابی ہے، جو انسانوں کی حرکی قوتوں کو مہمیز عطا کرتا ہے۔ بہ قولِ غالب ؎
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جز میں کل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
عالمی مالیاتی بحران ابھی ٹلا نہیں

ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی، برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے جدید مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی تھی۔ مشترکہ سرمائے کی طاقت سے ان کمپنیوں نے برصغیر، مشرقِ بعید اور چین میں سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھا۔بے پناہ دولت جمع کرلینے کے باوجود یہ دونوں کمپنیاں انیسویں صدی کے وسط تک عملی طور پے بے اثر ہوچکی تھیں۔ اس کی بڑی وجہ اجارہ داری کی نہ ختم ہونے والی جنگ بنی۔ چناں چہ حصہ داروں کا لالچ اور کمپنی کی قرض حاصل کرنے کی لامحدود صلاحیت نے ایسے مالیاتی ڈھانچے کو جنم دیا، جس نے بالآخر ان بہ ظاہر ناقابلِ تسخیرکاروباری اکائیوں کو دیوالیہ کرکے رکھ دیا۔ یورپ میں ان کمپنیوں کی طرز پر دھیرے دھیرے کئی چھوٹے بڑے کاروبار جنم لیتے رہے اور ان پر دیوالیہ ہونے کے خطرات بڑھتے چلے گئے۔ چناں چہ ان خطرات سے نبردآزما ہونے اور اس طرح کی کمپنیوں سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کے لیے 1694ء میں بینک آف انگلینڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ آج پوری دنیا کے مرکزی بینک ’’بینک آف انگلینڈ‘‘ کی طرز پر ہی قائم کیے جاتے ہیں۔
آج پوری دنیا کے مرکزی بینک معیشت میں ترسیلِ زر کی روانی کو ممکن بناتے ہیں، تاکہ پیداوار کا پہیہ چلتا رہے۔ جدید دور میں حکومتوں کے پاس زر کی صورت میں وسائل فراہم کرنے کے دو ہی ذرائع ہوتے ہیں: ایک ٹیکس وصولی اور دوسرا بینکوں سے قرض۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں ذرائع عوام کی خون پسینے کی کمائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اوّل الذکر لوگوں کی آمدن سے اس لیے وصول کیا جاتا ہے، تاکہ بدلے میں انھیں یکساں طور پر امن، انصاف، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ بعد الذکر بینک میں جمع ہونے والی وہ بچت ہے، جسے لوگ اپنے اخراجات کے بعد مستقبل کے لیے بچا کر رکھتے ہیں۔ بینکوں سے قرض لے کر حکومتیں دراصل اس بچے کھچے زر کو بھی استعمال کرلیتی ہیں اور دھیرے دھیرے کُل معیشت کو کنگال کردیتی ہیں۔ اگر ایسے میں اخراجات نہ رُکیں اور لالچ بڑھتا جائے تو جو اصول ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے تھا، وہ بدل نہیں سکتا۔ اب بھی ایسا ہی ہو گا اور مالیاتی نظام کو بکھرنا ہی ہوگا۔
مالیاتی نظام کی اس تباہی کو عموماً متعلقہ نام دیے جاتے تھے، جیسے ’’عالمی قدرتی تیل کا بحران‘‘، ’’ایشین کرنسی بحران‘‘ اور ’’سب پرائم مارٹ گیج بحران‘‘، لیکن اب غالباً سرمایہ داری نظام کی بقا کے پیشِ نظر اسے کرونا کی وبا کا نام دیا گیا ہے۔ چناں چہ کرونا وبا کی آمد کے بعد مغربی ممالک نے بڑی بڑی مالیاتی سہولتوں کا اعلان کیا۔ بے پناہ نوٹ چھاپے گئے، تاکہ اخراجات کی رفتار تھمنے نہ پائے۔ اس مقصد کے لیے بینکوں سے بڑی مقدار میں قرضے حاصل کیے گئے۔ اس طرز پر پاکستان جیسے ممالک نے بھی عمل کیا اور اربوں روپے اس مقصد کے لیے خرچ کیے گئے۔
اب اس رقم کی واپسی کا وقت شروع ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بنیادی ضرورت کی اشیا مہنگی ہوتی چلی جارہی ہیں ۔ اس کی وجہ معیشت میں موجود کثرتِ زر ہے، جو نسبتاً کم پیداوار کی طلب کو بڑھا رہی ہے۔ اس کادوہرا اَثر پاکستان پر پڑے گا۔ ایک عالمی منڈی میں مہنگائی کی صورت میں اور دوسراپاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں۔
استعماری معاہدات کے اقوامِ عالَم پر اثرات

اسلام سے پہلے قومی زندگی قائم رکھنے اور بنی نوعِ انسان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ا قوامِ عالَم کا طریقہ تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ حلف یعنی معاہدہ کرلیا جاتا تھا۔ دونوں معاہد قومیں ایک دوسرے کی مد د گار ہوتی تھیں۔ ایک دوسرے کی طرف سے دشمنوں سے لڑتی تھیں (شیخ الہند، خطبہ صدارت، 19، 20، 21؍ نومبر 1920ء، اجلاس جمعیت علمائے ہند، دہلی)۔ معاہدہ‘ بندھ جانے کا نام ہے۔ د و شخصوں یا زیادہ افراد، انجمنوں یا اداروں کے مابین ہونے والا فیصلہ ہوتا ہے۔ معاہدہ کا مطلب ہے کہ دو فریقوں نے آئندہ زمانے میں کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کی پابندی اپنے لیے لازم کرلی اور دونوں متفق ہوکر اس کے پابند ہوگئے ہیں۔
گزشتہ صدی میں استعمار کی طرف سے معاہدات کا نیا ورژن ریاست ہائے متحدہ کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا۔ وہ بھی اپنے پیش رو کی طرح مکاری و عیاری کا بدترین نمونہ ثابت ہوا۔ دنیا میں جتنے بھی معاہدات کیے، وہ محض اِلتوا اور معروضی مصلحتوں کے شکار رہے۔ استعماری ممالک اپنے کیے معاہدوں پر پورا اُترنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعداصل حقیقت کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئی۔ استعمار نے سلطنتِ عثمانیہ کو معاہدۂ سیورے(Treaty of Sevre's) _جو 10؍ اگست 1920ء کو طے ہونے جارہا تھا _ میں اُلجھانے کی کوشش کی، لیکن ترکی کی جمہوری تحریک _ جو مصطفی کمال اتا ترک کی قیادت میں چل رہی تھی _ نے اسے مسترد کردیا۔ مارچ 1921ء میں مصطفی کمال اتاترک کے حامیوں نے روس کی بالشویک حکومت سے دوستی کا معاہدہ کرلیا۔ 1922ء میں یونان کو شکست دے کر اس کی افواج کو اناطولیہ یعنی حالیہ استنبول سے نکال دیا۔ اس زبردست فتح نے جنگِ عظیم اوّل کے اتحادیوں کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور کردیا، جس کے بعد 24؍ جولائی 1923ء کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ’’لوزان‘‘ میں نئے معاہدے کو عملی شکل دی گئی، جس کے تحت یونان، بلغاریہ اور ترکی کی سرحدیں متعین کردی گئیں۔ قبرص، عراق اور شام پر ترکی کا دعویٰ ختم کردیا گیا۔ ( بی بی سی رپورٹ )
دوسری جنگِ عظیم کے آخر میں امریکا سمیت دنیا کے 44 ملکوں نے ’’بریٹن ووڈ‘‘ کے مقام پر دو عالمی مالیاتی ادارے قائم کیے۔ ا س معاہدے کے مطابق 35 امریکی ڈالر کے عوض ایک اونس سونا کی قیمت مقر ر کی گئی۔ اس کے مطابق امریکا ڈالر کے بدلے میں سونا دینے کا پابند ہوگیا۔ گویا سونے چاندی کے بجاے ڈالر کو عالمی کرنسی کے طور پر تسلیم کرلیا گیا۔ ایک مشہور فرانسیسی مصنف نے گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ کو ’’مغربی ممالک کا مالیاتی گناہ‘‘ قرار دیا تھا۔ 1971ء میں ویت نام کی جنگ کے نتیجے میں امریکی معیشت دبائو کا شکار ہوگئی۔ افراطِ زر تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا۔ اپریل میں جرمنی نے امریکی دباؤ میں پانچ ارب امریکی ڈالر خرید لیے، جس سے ڈالر کی قدر میں بہتری اور جرمن مارک گرنا شروع ہوگیا۔ مئی میں جرمنی نے امریکی ڈالر سے علاحدگی اختیار کرلی۔ ساتھ ہی جرمن مارک کی قدر میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ امریکی ڈالر کی قدر گرنے سے دنیا کے دیگر ملکوں‘ بالخصوص فرانس اور برطانیہ نے بھی ڈالر کے عوض امریکا سے سونے کی خریداری شروع کردی۔ 12؍ اگست 1971ء تک امریکا اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ چکا تھا۔ 15؍ اگست کو امریکا نے اپنے معاہدے سے راہِ فرار اختیار کرلی۔ تاریخ میں اسے ’’نکس دھچکا‘‘ کہتے ہیں۔(2013 The Battle of Bretton Woods by Benn Steil)
14؍ اگست 1941ء کو آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور ریاست ہائے متحدہ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جسے انگریزی زبان بولنے والوں کا اتحاد کہا جاتا تھا۔ جسے فائیو آئیز(FIVE EYES)کا نام دیا گیا تھا۔ شروع میں اسے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا گیا۔ 2013ء سے اسے دوبارہ منظرِ عام پر لایا جارہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد 2007ء میں ایک اور معاہدہ کواڈ(QUAD)وضع کیا گیا (بی بی سی رپورٹ 25؍ ستمبر 2021ء)۔ گویا چار ممالک کے درمیاں اتحا د قائم کیا گیا، جس میں ریاست ہائے متحدہ نے انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کو بھی اپنے ساتھ نتھی کرلیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد ایک اَور معاہدہ اکوس(AUKUS)نام سے تشکیل دے دیا۔ یہ تین ملکی اتحاد ہے، جس میں آسٹریلیا، متحدہ بادشاہت اور ریاست ہائے متحدہ شامل ہیں۔ فرانس نے شدید ردِعمل کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ: ’’معاہدہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘‘ کے مترادف ہے۔ (الف (A)آسٹریلیا سے یوکے(UK)یعنی متحدہ بادشاہت یعنی انگلینڈ اور ’اوس‘ ریاست ہائے متحدہ(US)، جو 15؍ ستمبر 2021ء کو وجود میں آیا (دی گارڈین، 16؍ ستمبر 2021ء)۔
ریاست ہائے متحدہ امریکا اپنے تمام معاہدات عجلت میں کرتا ہے، جب کہ چین نے گزشتہ آٹھ سال کی طویل جدوجہد سے 15؍ نومبر 2020ء کو(RCEP)تشکیل دیا تھا، جو مجموعی طور پر 26 کھرب اور 30 ارب ڈالر کی پیداوار کا خطہ ہے، جس کی کل آبادی 2 ارب 30 کروڑ کے لگ بھگ ہے(ملاحظہ کریںRCEPکی ویب سائٹ)۔ گویا یہ خطہ پیداوار اور کھپت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی منڈی بن چکاہے۔ اقوامِ متحدہ کے متوازی عالمی سیاسی و ما لیاتی ادارے روز افزوں فروغ پارہے ہیں۔ ا مریکا کے لیے یہ سب کچھ بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ چوں کہ چین نے آسٹریلیا اور جاپان کوایشیا بحرالکاہل کے جامع تجارتی معاہدے میں شامل کرلیا ہے، امریکا اسے نیچا دکھانے کے لیے نت نئے معاہدے کرکے تأثر دینا چاہتا ہے کہ یہ سب قومیں اب میرے ساتھ کھڑی ہیں۔ وہ ایشیا پیسفک میں چین کے گرد دائرہ تنگ کرنا چاہتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ’’امریکا چین سے ٹیکنالوجیکل جنگ ہار چکا ہے‘‘۔ ( فنانشل ٹائمز 7؍ کتوبر 2021ء کو مستعفی ہونے والا پینٹاگون سافٹ ویئر چیف نکولس شیلان)
یہی وجہ ہے کہ دنیا محض خواہشات سے نہیں جیتی جاتی۔ معروضی حالات سے ہم آہنگ عملی جدوجہدہی اس کا سبب بنتی ہے۔ اقوامِ عالَم کا اعتماد اسے روح اور طاقت فراہم کر تاہے۔ گزشتہ صدی میں امریکا نے چھوٹے ملکوں کو تباہ و برباد کرکے اقوام کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں سے بے اعتنائی برتی اور یوں اپنا وقار مجروح کیا ہے۔ چین اور روس کو ان حالات میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم ہوگیا۔ اس پھیلاؤ سے استعمار دباؤ(stress)کا شکار ہے۔ وہ ا س سے نکلنے کے حیلے کرتا رہتا ہے، لیکن ابھی تک کوئی بھی حیلہ اور بہانہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہا۔ کیوں کہ وہ اَقوام کے ساتھ کیے گئے اپنے معاہدات پر پورا نہیں اُتر رہا۔ وہ جب چاہتا ہے، اپنے ہی معاہدے سے علاحدگی اختیار کرلیتا ہے۔ اس کا یہی عمل دنیا میں اسے ائسولیٹ (تنہا) کررہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیے بغیر کوئی کامل نظام قائم نہیں ہوسکتا

یکم؍ اکتوبر 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی اجتماعی سوسائٹی کی تشکیل کے لیے ایک نظامِ زندگی اُستوار کرتا ہے۔ ایک سسٹم بناتا ہے۔ مہذب انسانیت اپنی اجتماعی طاقت اور قوت پیدا کرنے کے لیے کسی نہ کسی نظام کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہے۔ سوائے اُن مجنون اور پاگل لوگوں کے جو ذہنی طور پر مفلوج یا جسمانی طور پر معذور ہیں، یا جنگلوں میں وحشی قبائل ہیں۔ ان کے علاوہ مہذب دنیا کسی نہ کسی نظام کے تابع رہ کر زندگی بسر کرتی ہے۔ کسی نہ کسی سسٹم کے تحت کام کرتی ہے۔ خواہ وہ نظام انسانوں کا بنایا ہوا ہو، اپنی عقل سے سوچا ہوا ہو، یا انبیا علیہم السلام کی تعلیمات کے تناظر میں ہو۔
ہر نظام میں یہ لازمی اور ضروری ہے کہ جس کو بھی منتظمِ اعلیٰ تسلیم کرلیا جائے، اُسی کے مطابق تمام اُمور سرانجام پائیں گے۔ نظم و ضبط اور ڈسپلن منتظمِ اعلیٰ کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔ اس کا نام ’’بادشاہ‘‘ رکھ لو، اس کو صدر، وزیراعظم، ڈکٹیٹر، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، سربراہِ مملکت یا چیف ایگزیکٹو کہہ لو، اسی طرح قبیلے کا سردار کہہ لو یا خاندان کا سربراہ، کسی شہر کا میئر، چیئرمین یا کچھ بھی کہہ لو۔ نظامِ حکومت کی ڈور جس کے قبضے میں ہے، اُس کے قائم کردہ ڈسپلن کو قائم رکھنا ہر سسٹم کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کل انسانیت کی اجتماعیت کے عالمی نظام کے قیام کے لیے بین الاقوامی نظام بنانے، اُس کی عالم گیر حکمرانی کو قائم رکھنے کے لیے کون سے مرکز کو تلاش کیا جائے؟ سرمائے کو؟ پارٹی ڈکٹیٹرشپ کو، کسی خاندان، یا کسی نسل کو، کسی خاص قوم کو، کسی خاص طبقے کو؟ ظاہر ہے کہ یہ تمام جتنی بھی چیزیں ہیں، خود اپنی ذات میں محتاج اور درماندہ ہیں۔ ان کی اپنی زندگی، ان کی اپنی تخلیق، ان کی اپنی کارکردگی کسی اَور ذات (اللہ تبارک و تعالیٰ) کی محتاج ہے، ذاتی نہیں ہے۔ اپنے اختیار سے نہیں ہے۔ ہمیں اُس طاقت اور قوت کی کھوج لگانی چاہیے جو بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب تمام انسانیت کے لیے انسانی مفاد کا نظام تشکیل دے۔ یہ کھوج لگانا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔
مسلمان کی کامیابی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اس کائنات پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمرانی کو دل کی گہرائیوں کے ساتھ تسلیم کرے۔ اُس کے ساتھ سچا تعلق قائم کرے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ اُس کی وابستگی اخلاص پر مبنی ہو۔ اُس میں کوئی ذاتی غرض اور کوئی مفاد پیشِ نظر نہ ہو۔ پوری دل جمعی، اعتماد، طاقت اور قوت کے ساتھ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کی پاسداری کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جو انسانیت کی ترقی کے لیے پروگرام پیش کیا ہے، انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے جو دینِ حق عنایت کیا ہے، اُسے دنیا میں غالب کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں استعمال میں لائے۔ طاقت اور قوت اس لیے خرچ کرے کہ وہ اللہ کی حکومت کو تسلیم کرتا ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے تعلق سے انسانی ذہن روشن ہوتا ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ انسانی فطرت کو سمجھانے کے لیے ایک بڑی اچھی مثال دیتے ہیں کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے، بچپن میں ابھی اُسے چلنا پھرنا آتا ہے، وہ محتاج ہوتا ہے، گرتا پڑتا ہے تو فوراً ایک آسرے کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے ماں باپ موجود ہوں تو بچہ حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اعتماد کرتا ہے کہ یہ مجھے ہر تکلیف سے بچائیں گے۔ جیسے جیسے اُس کی جسمانی ساخت بڑی ہوتی ہے اور وہ اپنے ذہنی اُفق اور اپنی قوتِ عقلیہ کو صیقل کرنا چاہتا ہے۔ جوانی کی منزل پر قدم رکھتا ہے تو وہ کسی استاذ کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اُس کی اب حاجت یہ ہے کہ کوئی اُسے اعلیٰ علوم سکھائے، جس سے اُس کی زندگی میں تہذیب پیدا ہو اور وہ ترقی کرے۔ اس لیے ماں باپ کا سہارا چھوڑ کر سکول، کالج، یونیورسٹی، مسجد، مدرسے کا رُخ کرتا ہے۔ وہ محبت جو کل تک صرف ماں باپ کے لیے تھی، اب وہ استاذ کی طرف بھی منتقل ہوجاتی ہے۔
تعلیم سے فراغت کے بعد یہ انسان مزید آگے بڑھتا ہے، اُسے مزید ترقیات چاہئیں، اب اُسے سوسائٹی میں فعال کردار ادا کرنا ہے۔ فعال کردار ادا کرنا بغیر نظم و ضبط اور ڈسپلن، بغیر امن و امان کے تحفظ اور بغیر معاشی سسٹم کے نہیں ہوسکتا۔ وہ سسٹم بنانے والا اور چلانے والا منتظم ہوتا ہے، حکمران یا قبیلے کا سردار اور سوسائٹی کا نمائندہ بنتا ہے۔ وہ اُس کے لیے ایک بہت اچھا خیرخواہی کا سسٹم بناتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اُس کی یہ حکومت ایک نسل، ایک خاندان یا ایک علاقے کے لوگوں کے لیے کردار ادا کرے گی، لیکن انسان کا دماغ، اُس کی علمی اور عملی ضروریات یہیں تک تو محدود نہیں ہیں۔ وہ اس سے اوپر جانا چاہتا ہے۔ ہوتے ہوتے اُسے اُن انبیا علیہم السلام کا تعارف ہوتا ہے، اُن کی بنائی ہوئی جماعتوں کا، جو کل انسانیت کی فلاح و بہبود کی سوچ رکھتے ہیں۔ اس طرح جو انسان ان انبیا علیہم السلام کے تعلق سے کل انسانیت کے نفع کا ماحول بنائے گا، تب ہی کسی قوم کا قومی نظام درست ہوگا۔ قومی نظام درست ہوگا تو تعلیمی ادارہ درست ہوگا۔ وہ درست ہوگا تو خاندان اور ماں باپ صحیح ہوں گے۔ اس کا ایک پورا سسٹم ہے۔
اب اُس کا ذہنی اُفق اُس ذات کو تلاش کرتا ہے جو انسانیت کے دائرے سے اوپر اُٹھ کر کل انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کر رہی ہے۔ اور وہ سوائے ذاتِ باری تعالیٰ کے اَور کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اس کی فطرت کا بنیادی تقاضا ہے کہ اس ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کرے جو کبھی بھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اُس کی اپنی پیدائش اور تخلیق سے لے کر اس دنیا کی پوری زندگی، موت کے بعد کے تمام مراحل ہیں، پھر حشر اور اس کے بعد جنت دوزخ کے جتنے بھی مراحل ہیں، ہر مرحلے میں یہ تعلق اور محبتِ الٰہیہ کام کر رہی ہوتی ہے۔ ماں باپ، استاذ، رہنما، یہاں تک کہ نبی اکرمؐ جن سے محبت تھی، وہ دنیا میں بہ ظاہر موجود نہیں، لیکن اللہ تو ہر جگہ پر ہے، شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ تعلق انسان کے ذہن کو روشن کردیتا ہے‘‘۔
نظامِ انسانیت کی ترقی کا مرکز؛ ذاتِ الٰہی سے تعلق
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’دنیا میں جتنے بھی نظام ہائے فکر ہیں، وہ ایک جگہ پر جا کر رُک جاتے ہیں۔ سرمایہ داری نظام‘ سرمائے کے بت کا پجاری ہے۔ اس کا پورا کا پورا ڈھانچہ، اُس کی سیاست، معیشت، عدالت، تہذیب، کلچر، تمام تر اجتماعی اور انفرادی سرگرمیاں سرمائے کے بت کے گرد گھومتی ہیں۔ بھلا اس سے زیادہ فضول اور لغو بات کیا ہوگی کہ انسانیت کے لیے جو نظام بنایا جا رہا ہے، وہ انسانیت سے کم تر مخلوق یعنی سرمایہ اور زر کو برتر مان کر بنایا جا رہا ہو۔ ایک اعلیٰ انسان اپنے سے کم تر چیز ’’سرمایہ‘‘ کے گرد گھومے، اُس کے مفاد کے لیے کام کرے، اس سے بڑی بدتہذیبی اور کیا ہوسکتی ہے؟ خود یورپین فلاسفر بیان کرتے ہیں کہ ارتقا کے مراحل میں انسانیت تمام مخلوقات سے زیادہ اعلیٰ ہے۔ تو کیا اعلیٰ کے لیے اسفل یعنی پست ترین چیز ’’سرمایہ‘‘ کی بنیاد پر نظام بنانا عقل مندی ہے؟ اس سے بڑی بدعقلی کی بات اَور کیا ہوسکتی ہے؟ آپ دیکھئے کہ یہ پست ترین صورتِ حال کے اسیر ہیں۔
اسی طرح انسانوں کی کوئی جماعت خواہ کتنی ہی مخلص کیوںنہ ہو، ایک وقت کے بعد وہ بھی ایک طبقے کی مخصوص آمریت کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے کہ جب اس ’’پرولتاریہ‘‘ کے پاس حکومت کی طاقت آتی ہے، پیسہ آتا ہے، تو اس کا دماغ بھی خراب ہوجاتا ہے۔ وہ سرمایہ دار کی جگہ لے لیتا ہے۔ کل تک جو سرمایہ دار تھا، جس سے حکومت چھینی تھی، انقلاب برپا کیا تھا، وہ دولت اور خزانے اور حکمرانی کا مزہ جب اُس انقلابی جماعت کے لوگوں کے پاس آتا ہے تو طاقت کا ارتکاز تکبر اور ظلم پیدا کرتا ہے، انسان دشمنی پیدا کرتا ہے۔ کیوں کہ محدود انسان کی سوچ بھی محدود ہوتی ہے۔ انسان مخلوق ہے اور محدود ہے۔ اسی طرح مذہب کے نام پر حکمران بننے والے بھی ایک وقت کے بعد مذہبی اَخلاقیات ترک کرکے خود مذہبی پاپائیت قائم کردیتے ہیں۔ سوشلزم اور کیمونزم کے نام پر بھی حکمران بننے والے پارٹی ڈکٹیٹرشپ کی بنیاد پر اُسی پاپائیت کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیا فرق ہے اگر زارِ روس کی بنیاد پر آمریت قائم ہو تو ناجائز ہو اور اگر سوشلزم کے نام پر آمریت قائم ہو تو وہ جائز ہوجائے گی؟
اس کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ حکمرانِ اعلیٰ صرف اور صرف ’ذاتِ باری تعالیٰ‘ کو مانا جائے۔ چناںچہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ’’ہو الحيّ‘‘ (وہ زندہ ہے)۔ ’’حيّ‘‘ اُس کو کہتے ہیں جس کی زندگی کسی سے مستعار (اُدھار لی ہوئی) نہیں ہوتی۔ وہ کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا۔ از خود ہے، ازل سے ہے، ابد تک رہے گا۔ دنیا بھر کی تمام زندگی کا مرکزِ حیات وہی ذات ہے، جس نے بغیر کسی مادے کے پہلے مادہ بنایا۔ پھر اُس سے تخلیقات کیں، پھر اُس کی تدبیرات کیں اور پھر اُس کی بقا کا ایک جامع دین اور پروگرام انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے دیا، حتیٰ کہ اُس میں انبیا علیہم السلام کی ذاتی اور طبعی خواہشات کی دخل اندازی کا راستہ بھی روک دیا گیا ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ سے تعلق کا نتیجہ؛ انسان دوستی کا نظام
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’قرآن حکیم میں ارشاد ہے: ’’اُسی اللہ کو پکارو اُس کے لیے دِین کو خالص کرتے ہوئے‘‘۔ (-40 المومن: 14) دین میں کسی قسم کی کوئی ملاوٹ اور مکسنگ نہیں ہونی چاہیے۔ ’’دِین‘‘ عربی میں سسٹم اور نظام کو کہتے ہیں کہ جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔ اس لیے قرضے کو عربی میں ’’دَین‘‘ کہتے ہیں۔ اور قرضہ وہ ہوتا ہے کہ جتنا لیا ہے، اُتنا آپ کو واپس دینا ہے۔ اسی طرح جزا و سزا کا ایک عالم گیر نظام ہے، جس کے قوانین بالکل پرفیکٹ اور انسانی بھلائی کے ہیں۔ اس میں کسی کی کوئی رُو رعایت نہیں ہے۔ یہ ’’دِین الحق‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ’’دِین الباطل‘‘ وہ ہوتا ہے کہ سزا و جزا کا ایسا نظام کہ جس میں چور راستے تلاش کیے جائیں۔ حیلے بہانوں سے ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داریاں، آمریتیں، مخصوص طبقے کے مفادات حاصل کیے جائیں۔ خواہ وہ سرمایہ داری کے عنوان سے ہوں، یا سوشلسٹ عنوان سے ہوں یا کسی بھی مذہبی پاپائیت کی صورت میں ہوں۔ مزدوروں، کسانوں، محتاجوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا جو بھی چوری پر مبنی نظام ہے، وہ ’’دِین الباطل‘‘ ہے۔ حکمرانی کا ایسا نظام جو بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب انسانیت کے لیے کردار ادا نہیں کرتا، وہ غلط نظام ہے۔ کیوں کہ ہر نظام کی دو ذمہ داریاں ہیں: ایک امن اور دوسرے معاشی خوش حالی۔ امن بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب تمام لوگوں کے لیے ہو اور معاشی خوش حالی بھی تمام انسانوں کے لیے ہو۔ امن و امان کا نظام قائم ہو۔ معاشی خوش حالی کا نظام قائم ہو۔
اس میں کسی اَور طاقت کی مداخلت نہ ہو۔ جس مداخلت کے ذریعے سے سسٹم چلانے والا عیاش طبقہ اپنے مفادات حاصل کرے، اسی لیے قرآن حکیم نے ’’ملاء‘‘ اور ’’مترف‘‘ یعنی جاگیردار، وڈیروں، سرمایہ دار کے خلاف کھل کر آواز بلند کی ہے۔ ان سرمایہ پرستوں کے خلاف کہا کہ جو سونے چاندی کے خزانے پر مسلط ہو کر بیٹھ گئے، اجارہ داریاں بنا لیں، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتے ہیں، ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ اُن مولویوں اور پیروں کے خلاف بھی قرآن حکیم میں ببانگِ دہل اعلان کیا کہ بڑے بڑے علما، پیر، لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ (-9 التوبہ: 34) ان کی وجہ سے دین بدنام ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں اچھا! یہ مولوی صاحب یہ کر رہے ہیں، یہ پیر صاحب یہ کر رہے ہیں، یہ تو دین کا نظریہ ہوگا، اسلام کا نظریہ ہوگا، اس طرح لوگوں کو دین سے دور کرتے ہیں۔
یہ وہ انقلابی نظریہ ہے جو انبیا علیہم السلام نے انسانیت کے سامنے رکھا۔ اسی لیے کہا خالصتاً دین کی اساس پر، دین کو خالص کرتے ہوئے صرف اللہ کو پکارو۔ جب کہ آج تمھارا حال یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی پکار رہے ہو، امریکا کو بھی پکار لو، سرمایہ داروں کو بھی پکار لو، جاگیرداروں سے بھی یارانے گانٹھ لو، حکمران ظالم طبقوں سے بھی دوستیاں لگاؤ اور اللہ اللہ بھی کرو۔ یہ دو چیزیں کبھی نہیں جڑ سکتیں‘‘۔
حضرت میاں شاہ عبدالرحیم سرساوی سہارن پوریؒ

برعظیم پاک و ہند کی عظیم خانقاہ‘ خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے بانی حضرت عالی شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ کے پیر و مرشد حضرت شاہ عبد الرحیم سہارن پوریؒ سوات و بُنیر کے مجاہدِ حریت حضرت اخوند عبدالغفور سواتیؒ کے اجل خلیفہ اور جانشین تھے۔ جن کا سلسلہ مجددیہ قادریہ ہے، جو حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ تک جاتا ہے۔ اس سلسلے کی یہ خصوصیت ہے کہ شریعت، طریقت اور سیاست کا جامع ہے۔ سامراج کے خلاف مجاہدانہ جذبات سے لب ریز اور اس کے ظالمانہ تسلط کے خلاف ہر دم برسرِپیکار رہنے والا سلسلۂ تصوف ہے۔ اس سلسلۂ عالیہ میں جماعت سازی اور اس کی تربیت بھی انھی خصوصیات کی بنیادوں پر کی جاتی تھی۔ عصرِ حاضر میں اس سلسلے کی حقیقی نمائندہ خانقاہ‘ خانقاہِ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور ہے۔
حضرت میاں شاہ عبدالرحیم سہارن پوریؒ کی پیدائش 1799ء میں موضع سرساوہ ضلع سہارن پور میں ہوئی۔ ان کے آبائو اَجداد کسی زمانے میںافغانستان سے یہاں آکر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت سہارن پوریؒ ظاہری علوم پڑھے ہوئے نہیں تھے، لیکن خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ باطنی ترقی اور تزکیۂ قلوب میں اپنی مثال آپ تھے۔ ہزارہا تشنگانِ تربیت نے آپؒ سے فیض حاصل کیا۔ ابتدائی زندگی سرساوہ سہارن پور ہی میں گزری۔ مضبوط جسمانی طاقت، وجیہ اور قدآور ہونے کی وجہ سے پہلے انگریز کی فوج میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔
حضرت اخوند عبدالغفور سواتیؒ المعروف ’’سیدوبابا‘‘ کے ہاتھ پر بیعت ہونے سے پہلے آپؒ انگریز کی فوج میں ملازمت کرتے تھے۔ 1863ء میں جنگِ امبیلہ کے دوران اخوند صاحبؒ کے خلاف انگریزی فوج کی لڑائی کے دوران بُنیر کے علاقے میں شاہ عبدالرحیم سہارن پوریؒ کی ملاقات حضرت اخوند صاحبؒ سے ہوئی تو ان کی تعلیمات سے بہت متأثر ہوئے۔ انگریزی فوج میں شمولیت کی غلطی کا احساس ہوا۔ حضرت اخوندؒ کے ہاتھ پر بیعت ہونے کی درخواست کی، لیکن حضرت اخوند صاحبؒ نے اس شرط پر بیعت کی کہ آئندہ سے انگریز کی نوکری نہیں کریں گے۔ انھوں نے حضرتؒ کی یہ شرط مان لی اور بیعت کے بعد تعلیم و تزکیہ کے لیے وہیں سوات میں ہی سکونت اختیار کرلی۔ حضرت سیدوباباؒ سے تربیت حاصل کرکے اس سلسلۂ عالیہ میں خلیفہ بنے۔
کچھ عرصہ سوات میں گزارنے کے بعد آپؒ نے سہارن پور شہر میں مرکز قائم فرمایا اور خانقاہ کی بنیاد رکھی، جہاں بے شمار طالبینِ حق نے آپؒ سے فیض حاصل کیا۔ مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور کے طلبا کو جب بھی فرصت کے لمحات میسر آتے تو وہ آپؒ کی مجلس میں حاضر ہو جاتے تھے۔ روزانہ عصر تا مغرب استفادہ نشستوں کا اہتمام ہوتا تھا، جس میں حاضرین آپؒ سے مختلف موضوعات پر رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ آپؒ کی تعلیمات کا یہ خاصہ تھا کہ ہر آنے والے کو اپنائیت محسوس ہوتی تھی۔ کسی فرد میں کوئی کمی دیکھتے تو اس کو بہت پیار سے سمجھاتے تھے۔ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’آپؒ کے چہرئہ مبارک پر ایسی نورانیت اور کشش تھی کہ جب بازار سے گزرتے تو ہندو مسلم بے اختیار (ادب سے) کھڑے ہو جاتے اور عرض کرتے:ـ’’میاں صاحب! سلام‘‘۔
حضرت میاں شاہ عبدالرحیم سرساوی سہارن پوریؒؒ کے ساتھ ہونے والی نشستوں کے دوران مدرسے والوں سے آپؒ بھی مسائل دریافت کیا کرتے تھے، تاکہ حاضرین بھی ان علما سے مسائل میں رہنمائی لے لیا کریں اور عوام میں دین دار لوگوں سے تعلق قائم رکھنے کی طرف رہنمائی بھی ملتی رہے۔ سہارن پور میں آپؒ کی خانقاہ گرد و نواح کے عوام الناس کے لیے بے نظیر تربیت گاہ تھی۔
حضرت میاں صاحبؒ کی کوشش یہی رہی کہ لوگوں میں دینِ اسلام سے محبت اور دینی تعلیم حاصل کرنے کا شعور بیدار ہو۔ اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے سہارن پور ہی میں آپؒ نے دینِ اسلام کی تعلیمات کو شریعت، طریقت اور سیاست کے ذیل میں سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک مدرسہ ’’تعلیم القرآن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ جہاں قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ اس ادارے کی سر پرستی فرمائی اور تعلیمی سرگرمیوں میں مستقل رہنمائی فرماتے رہے۔ اس مدرسے کے ناظمِ تعلیمات اپنے ایک خلیفہ اور ماہرِ تعلیم مولانا نورمحمد لدھیانویؒ کو مقرر فرمایا، جنھوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پراس مدرسے کو کمالِ مہارت سے چلایا۔
جن دنوں ہندوستان میں ایک خاص حلقے کی جانب سے مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد قرار دیے جانے کی تحریک زوروں پر تھی تو شاہ عبدالرحیم سہارن پوریؒ سے بھی اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس موقع پر آپؒ نے دو ٹوک انداز میں یہ بات ان لوگوں پر واضح کردی کہ اس کا دعویٰ درست نہیں ہے۔ اور فرمایا کہ: ’’یہ شخص تھوڑے دنوں میں ایسے دعوے کرے گا، جو نہ رکھے جائیں گے اور نہ اٹھائے جائیں گے‘‘۔
حضرت موصوفؒ کے تربیت یافتگان میں سب سے نمایاں نام حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا ہے، جنھوں نے دینِ اسلام کی شریعت، طریقت اور سیاست کی حامل جامعیت کو خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں بیٹھ کر اختیار فرمایا اور انھی تینوں بنیادوں پر خاص و عام کی تعلیم و تربیت کا اہتمام فرمایا۔ اگلے دور میں یہی تربیتی اُسلوب اختیار کرتے ہوئے شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ نے بھی مولانا نور محمد لدھیانویؒ کو ہی اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا انچارج مقرر فرمایا تھا۔ مولانا شاہ عبدالرحیم سہارن پوریؒ سے حاصل ہونے والی حریت و آزادی کی فکر کو ’’تحریکِ ریشمی رُومال‘‘ میں علمی کردار کے حوالے سے اُجاگر کیا۔
حضرت شاہ عبدالرحیم سہارن پوریؒ کا وصال 89 سال کی عمر میں۲۱؍ ربیع الاوّل۱۳۰۳ھ / 28؍ دسمبر 1885ء کو ہوا۔ مزارِ مبارک سہارن پور میں انبالہ سرساوہ روڈ پر مرجع خلائق ہے۔ آپؒ کے خلفا میں مولانا محمد امیر باز خانؒ، مولانا شاہ عبداللہ کرنالویؒ، مولانا شاہ ابو الحسنؒ، شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، مولانا نور محمد لدھیانویؒ اور دیگر قابلِ ذکر ہیں۔
حضرت مولانا مفتی عبدالسلام چاٹگامیؒ کا سانحۂ ارتحال

خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے تیسرے مسند نشین حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہٗ کے متوسلِ خاص، خانقاہِ دین پور بہاولنگر کے تیسرے مسند نشین حضرت مولانا محمدیحییٰ بہاولنگری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ مجاز اور راقم سطور کے استاذِ گرامی حضرت مولانا مفتی عبدالسلام چاٹگامیؒ۳۰؍ محرم الحرام۱۴۴۳ھ / 8؍ ستمبر 2021ء بروز بدھ صبح تقریباً گیارہ بجے 78 سال کی عمر میں اس دنیائے فانی سے راہیٔ عالمِ بقا ہوگئے۔
إنّا لِلّٰہ و إنّا إلیہ راجعون۔إنّ لِلّٰہ ما أخذ، و لہٗ ما أعطیٰ، و کلّ شیئٍ عندہ بأجل مسمّٰی۔
حضرت مفتی صاحبؒ بنگلادیش کے شہر چِٹاگانگ کے مضافات میں ’’نلدیہ‘‘ نامی گاؤں میں جناب شیخ خلیل الرحمن کے ہاں۱۳۶۳ھ / 1943ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مدرسہ عزیزیہ قاسم العلوم میں حاصل کی۔ تین سال تک ناظرہ قرآن مجید، اُردو اور فارسی کی چند کتابیںپڑھیں۔ اس کے بعد مدرسہ حسینیہ بوالیہ میں داخل ہوئے۔ وہاں ابتدائی درسیات کی تعلیم اور صرف نحو وغیرہ کی کتابیں پڑھیں۔ پھر۱۳۷۸ھ / 1958ء میں مدرسہ عزیزالعلوم بابونگر میں داخل ہو کر فقہ کی درمیانے درجے کی کتب پڑھیں۔ اس کے بعد جامعہ عربیہ اسلامیہ جیری چاٹگام میں فقہ کی مشہور کتاب ’’ہدایہ‘‘ سے لے کر دورۂ حدیث تک کی تمام کتب مکمل کیں۔ اور ہمیشہ تمام درجات میں امتیازی اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے۔
حضرت مفتی صاحبؒ نے۱۳۸۷ھ / 1967ء میں کراچی پاکستان کا سفر کیا اور محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کے پاس دوبارہ دورۂ حدیث کیا۔ اس کے بعد دو سال مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکیؒ سے ’’تخصُّص فی الفقہ الإسلامی‘‘ کا نصاب مکمل کیا اور ایک تحقیقی مقالہ ’’بیع الحقوق فی التّجارات الرّائجۃ الیوم و تحقیقھا‘‘ تحریر فرمایا۔ تخصُّص سے فراغت کے بعد 1970ء میں آپؒ کو جامعہ میں مدرّس اور مفتی کی حیثیت سے مقرر کیا گیا۔
1970ء میں ہی آپؒ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے اور اپنی اصلاحِ باطن کے لیے حضرتؒ سے تعلق رکھا۔ وقتاً فوقتاً سرگودھا حضرتؒ کی خدمت میں تشریف لاتے رہے۔ حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کا جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں قیام ہوتا تو آپؒ کی صحبت سے مستفیض ہوتے۔ حضرت رائے پوری ثالثؒ کے 1992ء میں وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ سے آپؒ کا تعلق رہا۔ حضرتؒ کے جامعہ میں قیام کے دوران حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ کی معیت میں حضرت رائے پوری رابعؒ سے بدستور رابطے میں رہے۔ دونوں مشائخ رائے پور قدس سرہما سے تعلق ہی کی بنا پر حضرت اقدس مولانا محمدیحییٰ بہاولنگریؒ (خلیفہ مجاز حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہٗ) نے آپؒ کو 30؍ ستمبر 1993ء میں ایک خط لکھ کر سلسلۂ عالیہ قادریہ رائے پور میں اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔
حضرت مولانا مفتی عبدالسلام قدس سرہٗ 31 سال سے زائد عرصہ اپنی مادرِ علمی جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے اور رئیس دارالافتا کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اس دوران آپؒ نے ’’صحیح مسلم‘‘، ’’جامع ترمذی‘‘، ’’ہدایہ‘‘ اور ’’کنز الدّقائق‘‘ وغیرہ کتابیں بڑے محققانہ اسلوب اور انداز میں پڑھائیں۔ پھر 2000ء میں بعض ناگزیر وجوہات کی وجہ سے حضرت مفتی صاحبؒ اپنے وطن بنگلادیش تشریف لے گئے اور وہاں 21 سال تک جامعہ دارالعلوم معین الاسلام ہاٹ ہزاری میں درس و تدریس اور اِفتا کی وقیع خدمات سرانجام دیں۔ اور آپؒ اپنے استاذ اور شیخ مولانا مفتی احمدالحقؒ کے انتقال کے بعد ’’مفتیٔ اعظم بنگلادیش‘‘ کے لقب سے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
راقم سطور نے حضرت مفتی صاحبؒ سے ’’ہدایہ‘‘ (جلد اوّل) اور ’’تفسیر جلالین‘‘ (جلد اوّل) پڑھی ہیں۔ حضرت مفتی صاحبؒ کا انداز و اُسلوب انتہائی محققانہ تھا۔ ’’ہدایہ‘‘ کی درس و تدریس میں حضرت مفتی صاحبؒ کا وہی انداز و اُسلوب تھا، جو مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکیؒ اور ان کے استاذ حضرت مولانا حیدرحسن ٹونکیؒ کا رہا ہے۔ قانونی او رفقہی جزئیات کو ایک مربوط فقہی اصولی نظام کی صورت میں طلبا کو سمجھانا آپؒ کا کمال تھا۔ اسی طرح جب راقم سطور نے جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں تخصُّص فی الفقہ الاسلامی میں داخلہ لیا تو حضرت مفتی صاحبؒ سے فتویٰ نویسی کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس حوالے سے آپؒ فتویٰ نویسی کے محققانہ اصول و ضوابط کو بڑی جامعیت کے ساتھ سمجھاتے اور آپؒ کا تحقیقی انداز و اُسلوب سامنے آیا۔
حضرت مفتی صاحبؒ کا ہماری جماعت کے طلبا کے ساتھ بہت مشفقانہ تعلق رہا۔ حضرت اقدس رائے پوریؒ سے تعلق کی وجہ سے ہم جیسے طالبِ علموں پر بہت مہربان رہتے۔ جامع مسجد عثمانیہ کے مکان میں آپؒ کی رہائش تھی۔ رائے پوری نسبت کے تعلق سے اکثر ہماری دعوت کیا کرتے تھے۔ راقم سطور جب بھی حضرت اقدس رائے پوریؒ کی خدمت میں حاضری کے لیے سرگودھا جاتا تو حضرت مفتی صاحبؒ اپنے باطنی حالات اور کیفیات حضرتؒ کو بتلانے کے لیے ضرور بیان فرماتے اور حضرت اقدس رائے پوریؒ کے لیے سلام و بیان کے ساتھ کوئی نہ کوئی ہدیہ وغیرہ بھی ضرور عنایت فرماتے تھے۔ اس پر حضرت اقدس رائے پوریؒ جو کچھ جواب میں ارشاد فرماتے، وہ حضرت مفتی صاحبؒ کی خدمت میں ہم پیش کردیا کرتے تھے۔ حضرت مفتی صاحبؒ نے ساری زندگی درس و تدریس، تعلیم و تالیف میں گزار دی۔ آپؒ نے فقہی حوالے سے جو کتابیں تحریر فرمائیں، اُن میں ’’جواہر الفتاویٰ‘‘ (5جلد)، ’’آپ کے سوالات اور اُن کا حل‘‘ (4 جلد)، ’’اسلامی معیشت کے بنیادی اُصول‘‘ اور ’’اسلام میں اولاد کی تربیت اور اس کے حقوق‘‘ وغیرہ کتب شامل ہیں۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے انتقال کے بعد ان کی نماز ِجنازہ جامعہ دارالعلوم ہاٹ ہزاری میں ادا کی گئی اور جامعہ کے مقبرے میں مدفون ہوئے۔ اللّٰہمّ اغفر لہٗ و ارحمہ، و اجعل الجنّۃَ مثواہ۔٭
End of issue
Back
