April-2023

Rahimia Magazine

April-2023

Apr 10, 2023 6 articles Download Download EPUB

1 / 6

دینی بے شعوری کا غلاف ؛ تباہی کا راستہ

دینی بے شعوری کا غلاف ؛ تباہی کا راستہ

سورت البقرہ کی گزشتہ آیت (87) میں یہ حقیقت واضح کی گئی تھی کہ جب بنی اسرائیل میں سوسائٹی کی جامع دینی تعلیمات کے حوالے سے تقسیم و تفریق کا رویہ پیدا ہوا اور وہ صرف رسمی عبادات میں مشغول رہے اور دینی سیاسی شعور، عملی تقاضوں سے روگردانی کرتے ہوئے وہ اپنی خواہشات اور طبقاتی مفادات کے مطابق نظامِ سیاست قائم کرتے رہے تو انھوں نے اپنے سچے رہنماؤں کو جھٹلایا، یہاں تک کہ بعض کو قتل تک کردیا۔

ان آیاتِ مبارکہ (89-88) میں یہودیو ں کی اس دینی سیاسی بے شعوری کی اصل وجہ اور نوعیت واضح کی جا رہی ہے اور آج بھی اس کے بُرے اثرات و نتائج یہ ہیں کہ وہ نبی آخر الزمان ﷺ اور کتابِ مقدس قرآن حکیم کی جامع تعلیمات کو سمجھنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ اور سختی کے ساتھ اپنے دلوں پر تنگ نظری کا غلاف چڑھائے ہوئے ہیں۔

وَقالوا قُلوبُنا غُلفٌ ۚ (اور کہتے ہیں: ہمارے دلوں پر غلاف ہے): بنی اسرائیل کے یہودیوں نے مسلسل اپنے انبیا علیہم السلام کو جھٹلایا اور بعض انبیاؑ کو انھوں نے قتل کیا، اس کے اثرات اور نتائج یہ ہوئے کہ وہ آج نبی اکرم ﷺ ایسے سچے رہنما کی بات بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور اس انکار کا خود ساختہ سبب یہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ لکھتے ہیں: ’’یہود اپنی تعریف میں کہتے تھے کہ ’’ ہمارے دل غلاف کے اندر محفوظ ہیں، بجز اپنے دین کے کسی کی بات ہم کو (ہم پر) اثر نہیں کرتی۔ ہم کسی کی چاپلوسی، سحر بیانی، یا کرشمے اور دھوکے کی وجہ سے ہرگز اس کی متابعت نہیں کرسکتے‘‘۔ ایک تو سچے رہنماؤں کی رہنمائی سے محروم ہیں اور پھر اس محرومی کو اپنی بڑی سمجھ داری کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے انبیا علیہم السلام اور سچے رہنماؤں کے ترقی یافتہ قومی سیاسی نظریات کا انکار کرتی ہے اور اپنی ذاتی خواہشات اور طبقاتی مفادات کے تحت عملی کردار ادا کرتی ہے تو اُن میں ایسے رسمی اور عملی طور پر محال رویے اور نظریات پیدا ہوجاتے ہیں، جن کا انسانی معاشرے کے جاری ماحول کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں وہ ایسے رومانوی اور افسانوی نظریات کی اسیر ہوجاتی ہے، جو عملی زندگی میں کسی طور پر بھی روبہ عمل نہیں آسکتے۔ گویا کہ اُن کے دلوں پر ذاتی مفادات اور لوٹ مار کے ایسے غلاف چڑھ جاتے ہیں کہ اُن کی عقلیں اپنے دور کے سیاسی حقائق کو سمجھنے سے عاری ہیں۔ اور وہ تخیلاتی دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔

بَل لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفرِهِم فَقَليلًا ما يُؤمِنونَ  (بلکہ لعنت کی ہے اللہ نے ان کے کفر کے سبب، سو بہت کم ایمان لاتے ہیں): حضرت شیخ الہندؒ اس کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’حق تعالیٰ نے فرمایا: وہ بالکل جھوٹے ہیں، بلکہ ان کے کفر کے باعث اللہ نے ان کو ملعون اور اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لیے کسی طرح دین حق کو نہیں مانتے اور بہت کم دولتِ ایمان سے مشرف ہوتے ہیں ‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے انبیا علیہم السلام کی جامع تعلیمات کے اقترابی اور اجتماعی پہلوؤں میں تفریق پیدا کرکے جو کفر کیا ہے، اُس کے نتائج یہ ہیں کہ اُن کی سیاسی عقل و شعور ماؤف ہوگئی ہے۔ اور وہ انسانی معاشرے کی اجتماعی طاقت اور قوت کو درست خطوط پر قائم کرنے کی اہلیت سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس کفر کی حقیقت خود اللہ پاک نے بیان فرمائی ہے:  ’’تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو‘‘ (البقرہ: 85)۔ یعنی کتاب اللہ کی جامع تعلیمات کے عبادات پر مشتمل کچھ حصے پر ایمان رکھنا اور اُس کی اجتماعی اور سیاسی تعلیمات کا انکار کردینا‘ یہ وہ کفر ہے، جس کے نتیجے میں اُن کے دل و دماغ اللہ کی لعنت کے زیراثر ہیں۔

وَلَمّا جاءَهُم كِتابٌ مِن عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِما مَعَهُم (اور جب پہنچی ان کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے، جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو اُن کے پاس ہے ): یہودیوں نے نہ صرف بنی اسرائیل کے تقریباً چار ہزار انبیا علیہم السلام کی تعلیمات میں تفریق پیدا کرکے کفر کا ارتکاب کیا اور ملعون بنے، بلکہ آج ایسی کتابِ مقدس قرآن حکیم نازل ہوئی ہے کہ جو اُن کے پاس موجود کتاب تورات و انجیل وغیرہ کی تصدیق کرتی ہے اور دین کی کامل، جامع اور مکمل تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اپنے دینی سیاسی ذوق کی خرابی کے نتیجے میں اس کتابِ مقدس کا بھی یہ لوگ انکار کرتے ہیں۔

وَكانوا مِن قَبلُ يَستَفتِحونَ عَلَى الَّذينَ كَفَروا (اور پہلے سے فتح مانگتے تھے کافروں پر ): حال آں کہ اس سے پہلے کافروں اور مشرکوں کے مقابلے میں آخری نبی ﷺ اور کتابِ مقدس کا حوالہ دے کر اپنے دور کے کافروں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے فتح مانگا کرتے تھے۔ حضرت شیخ الہندؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن کے اُترنے سے پہلے جب یہودی‘ کافروں سے مغلوب ہوتے تو خدا سے دعا مانگتے کہ ’’ہم کو نبی آخرالزماںؐ اور جو کتاب ان پر نازل ہوگی، ان کے طفیل سے کافروں پر غلبہ عطا فرما‘‘۔

فَلَمّا جاءَهُم ما عَرَفوا كَفَروا بِهِ ۚ  (پھر جب پہنچا ان کو، جس کو پہچان رکھا تھا، تو اس سے منکر ہوگئے ): اس لیے کہ ان کے سیاسی او رمالی مفادات ان پر غالب ہیں اور غلط سیاسی نظریات اور افکار کے غلاف ان کے دل و دماغ پر چڑھے ہوئے ہیں۔ یہ قرآن کے انقلابی پیغام کو پہچاننے سے انکار کرتے ہیں۔ خاص طور پر ان کی سرمایہ پرستی اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف قرآن جو تعلیمات دیتا ہے، یہ اُس کا انکار کرتے ہیں۔

فَلَعنَةُ اللَّهِ عَلَى الكافِرينَ   (سو لعنت ہے اللہ کی منکروں پر): یہودیوں نے مسلسل انبیا علیہم السلام کی سچی تعلیمات کو جھٹلایا، یہاں تک کہ نبی آخر الزمان ﷺ کے سچے پیغام اور قرآن حکیم کی جامع تعلیمات کا انکار کیا۔ اس سبب سے وہ اللہ کی لعنت میں مبتلا ہو کر دنیا میں ذلیل اور رُسوا اور آخرت میں بڑے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

کسی قوم میں اپنے سچے رہنماؤں کی تعلیمات کی اساس پر قومی، دینی، سیاسی تقاضوں کو پورا کرنے کا جامع فکر و عمل باقی نہ رہے تو وہ دنیا میں سیاسی طور پر غلام، معاشی طور پر مفلس اور سماجی طور پر فکری انتشار کا شکار ہو کر غلامی اور ذلت کی زندگی بسر کرتی ہے۔ یہی وہ لعنتِ خداوندی ہے جو دنیا اور آخرت میں اُس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

2 / 6

رمضان المبارک اور مؤمن کی تمنا

رمضان المبارک اور مؤمن کی تمنا

عَنْ أبیْ مَسعُود الغِفَاری رَضِیَ اللّٰہ عنہ، قال سمعتُ رسولَ اللّٰہ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ و أھَلّ رَمَضان فقال: ’’لَوْ یَعْلَمُ العِبادُ مَا رَمَضانُ؟ لتمنّتْ أُمّتِیْ أن تکونَ السَّنَۃ کُلَّھا‘‘۔ (الجامع شعب الایمان، حدیث: 3361)

(حضرت ابومسعود غِفاریؓ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز کے موقع پر انھوں نے رسول اللہﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’اگر لوگ رمضان کی اہمیت کو سمجھ جائیں تو وہ یہ تمناکرنے لگیں کہ پورا سال ہی رمضان ہو‘‘۔)

زیرِنظر حدیث رمضان المبارک کے فضائل کے حوالے سے قرآن و حدیث میں مذکور ارشادات کا نہایت جامعیت کے ساتھ احاطہ کرتی ہے۔ چناں چہ قرآن نے روزوں کی فرضیت کا اہم مقصد لعلکم تتّقون بیان کیا ہے کہ توقع کی جاتی ہے کہ رمضان کے روزوں کے ذریعے تم پرہیزگار بن جائو۔ تقویٰ کی تکمیل دو پہلوئوں سے ہے: ایک حقوق اللہ اور دوسرا حقوق العباد کا قیام، یعنی متقی وہ ہوگا جو احکاماتِ شرعیہ کا پابند ہو، حقوق اللہ کی تمام نوعیتوں کو اخلاص کے ساتھ اختیار کرے اور اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے لیے یکسوئی پیدا کرے۔ یوں انسان کے لیے اللہ کی رحمتوں کا حصول ممکن اور اس کا قرب آسان ہوجاتا ہے۔ دوسرا پہلو حقوق العباد کے حوالے سے ہے کہ متقی آدمی عدل و انصاف پر کاربند اور اَخلاق و صفات میں سیرتِ طیبہ کا پیروکار ہو اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کرے۔

ایک موقع پر رمضان المبارک کی آمد سے قبل نبی اکرمﷺ نے خطاب فرمایا۔ اس خطاب میں آپﷺ نے ایک جملہ یہ ارشاد فرمایا کہ: ’’یہ مہینہ صبر اور برداشت کا مہینہ ہے‘‘۔ صبر کا اجر روزِ قیامت جنت کی صورت میں ملے گا۔ کسی بھی مؤمن کی زندگی کا اصل مقصد دُنیوی کامیابی کے ساتھ اُخروی کامیابی ہے کہ انسان کو جنت نصیب ہو اور اس کی روحانی ترقیات اور کمالات کا راستہ کھل جائے۔ اس نعمت کے حصول کے لیے روزہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح نبی اکرمﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ: ’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے تو یہ اس کے لیے گزشتہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائے گا‘‘۔ ایک اَور حدیث کی رو سے: ’’روزہ رکھ کر روزہ دار ایسے ہوجاتا ہے، جیسے دنیا میں آج ہی آیا ہو‘‘۔ یعنی اسے گناہوں کی نحوستوں اور اَثراتِ بد سے نجات مل جائے گی۔ اس طرح کی متعدد آیات و احادیث ہیں جو اس حدیث مبارکہ کے مفہوم کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان آیات و احادیث کی روشنی میں مؤمن بجا طور پر یہ تمنا کرتا ہے کہ سارا سال ہی رمضان ہونا چاہیے، تاکہ اللہ کے قرب کا ایک یقینی راستہ اسے مل جائے، لیکن شریعت نے انسانوں کے لیے سہولت رکھی ہے اور سال میں ایک ماہ کے روزے فرض کیے ہیں۔

3 / 6

حضرت عقبہ بن عامر جُہَنِی رضی اللہ عنہ

حضرت عقبہ بن عامر جُہَنِی رضی اللہ عنہ

حضرت عقبہ بن عامر جُہَنِی رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ ’’جُہَیْنَہ‘‘ سے تھا۔ آپؓ مشہور جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپؓ کا شمار اسلام لانے والے اور ہجرت کرنے والے سابقینِ اوّلین میں ہوتاہے۔ اپنے اسلام لانے سے متعلق آپؓ فرماتے ہیں: ’’جس وقت رسول اللہ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے، میں اپنی بکریاں چرارہاتھا، آپؐ کی آمد کی خبر سنتے ہی بکریوں کو چھوڑ کر آپؐ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور بیعت کی خواہش ظاہر کی تو آپؐ نے مجھ سے ہجرت پربیعت فرمائی‘‘۔ صحابہ کرامؓ میں سے حضرت ابن عباسؓ، حضرت ابو ایوب انصاریؓ اور حضرت ابو امامہؓ نے آپؓ سے احادیث روایت کی ہیں۔ آپؓ ماہر تیر انداز وں میں شمار کیے جاتے تھے۔ آپؓ حضوؐر کے خاص طور پر سفر کے خادم تھے اور رسول اللہؐ کی سواری (خچر) چلایاکرتے تھے۔

آپؓ اصحابِ صفہ میں سے ہیں۔ صفہ کی تعلیم و تربیت سے آپؓ با کمال عالم، فقیہ، کاتب اور مستقبل کے رہنما بن کر نکلے۔ حضرت ابوسعید یونسؒ آپؓ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’حضرت عقبہؓ قرآن کریم کے قاری، علمِ فرائض و فقہ کے ماہر، فصیح وبلیغ شاعر اور کاتب تھے۔ .. آپؓ قرآن کریم کے جامعین میں سے ہیں۔ آپؓ کے ہاتھ کا لکھا ہوا مصحف (قرآن کریم) مصر میں آج تک موجودہے۔ اس کی ترتیب کچھ مختلف ہے۔ اس کے آخر میں ان کے ہاتھ سے تحریر ہے: ’’کتبہ عقبہ بن عامر بیدہ‘‘ (عقبہ بن عامر نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا)۔ علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: ’’حضرت عقبہؓ فقیہ، علامہ، قرآن کریم کے قاری، فرائض میں صاحبِ بصیرت،اہلِ زبان، فصیح شاعر اور جلیل القدر صحابی ہیں، آپؓ کی روایت کردہ احادیث بہت زیادہ ہیں‘‘۔ آپؓ بہت خوش آواز وخوش الحان تھے۔ قرآن کریم نہایت خوش الحان اور دل سوز آواز میں پڑھا کرتے تھے۔

حضرت عقبہؓ قومی و دینی اجتماعی کاموں میں ہمیشہ شریک رہے۔ خلافتِ صدیقی میں آپؓ ملک شام چلے گئے اور مصر وشام کی فتوحات میں شریک رہے۔ فتح دمشق تک آپؓ حضرت عمرؓ کے قاصد رہے۔ اس کے بعد مصر تشریف لے گئے، وہاں اپنا مکان بنوایا اور مستقل سکونت اختیار کرلی۔ حضرت ابوسعید بن یونسؒ آپؓ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’آپؓ نے ہی ملک’’مصر‘‘ کی اقتصادی، تعلیمی اور پیداواری ترقی کے لیے لائحۂ عمل تیار کیا۔ آپؓ حضرت امیر معاویہؓ کی جانب سے مصر کے امیرِ لشکر رہے‘‘۔ آپؓ نے اپنے مرض الموت میں اپنے بیٹوں کو پاس بلایا اور انھیں یہ وصیت کی: ’’میرے بیٹو! میں تمھیں تین چیزوں سے منع کرتاہوں، ان سے اجتناب کرنا: (1) غیر ثقہ راوی کی بیان کردہ حدیث قبول نہ کرنا۔ (2) پھٹے پرانے کپڑے پہن لینا، مگر کسی سے قرض نہ لینا۔ (3) شعر گوئی میں دلچسپی نہ لینا، کیوں کہ اس سے تمھارے دل قرآن کریم سے غافل ہوجائیں گے‘‘۔ آپ کی وفات حضرت امیر معاویہؓ کے عہدِ خلافت ۵۸ھ / 677ء میں مصر میں ہوئی اور آپؓ قاہرہ کے قریب ’’جبلِ مقطم‘‘ میں مدفون ہیں۔

4 / 6

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سبق

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سبق

پاکستان کی‘ سرمایہ داری نظام کی وجہ سے معاشی بدحالی روز افزوں ہے، جہاں عوام جان کی قیمت پر آٹے کے ایک تھیلے کے لیے میلوں لمبی قطاروں میں کھڑے آٹے یا موت کا انتظار کررہے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف سیاسی پولرائیزیشن ایک خاص حد کو عبور کرتی نظر آرہی ہے۔ گیارہ سیاسی جماعتوں کا حکمران اتحاد ایک طرف، جب کہ سابقہ وزیراعظم کی جماعت دوسری طرف کھڑے اس نظام سے تنگ آئے عوام کا لہو گرم رکھنے میں مصروفِ عمل ہے۔

اس وقت پاکستان کی تاریخ اپنے آپ کو ساٹھ کی دہائی میں ’’پی ڈی ایم‘‘ کی صورت میں بننے والے اتحاد اور حکمران قوتوں کے باہمی رابطوں کو دُہرا رہی ہے، بلکہ تقریباً ستر کی دہائی کی سیاسی صورت گری سے بھی خاصی مماثلت رکھتی ہے، جب ملک کی قابلِ ذکر تمام سیاسی جماعتیں ’’قومی اتحاد‘‘ (پی این اے) کے نام سے اس وقت کی واحد حکمران پارٹی کے خلاف قوم کو آمادۂ پیکار کررہی تھیں۔ اس وقت کے قومی اتحاد کو سرمایہ دارانہ نظام کے بین الاقوامی محافظ ملک کی درپردہ حمایت حاصل تھی، جس کے ایما پر بعد ازاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے حکمران پارٹی کو نہ صرف اقتدار سے بے دخل کیا، بلکہ منتخب وزیراعظم کو ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے تختۂ دار پر بھی کھینچ دیا گیا اور ملک پر ایک بدترین مارشل لاء مسلط کردیا گیا۔ گویا قومی اتحاد کی ’’نظامِ مصطفی‘‘ کے نام پر چلائی گئی تحریک کا اختتام مارشل لاء کی تاریک ترین صورت میں قوم کو ملا۔ اس وقت کے قومی اتحاد کی سربراہی ایک مذہبی شخصیت کو بخشی گئی تھی، تاکہ حکمران مخالف تحریک کو مذہب کے سہارے عوامی جذبات کا ایندھن فراہم کیا جاسکے۔ آج بھی گیارہ جماعتی حکمران اتحاد کی سربراہی کا تاج ایک مذہبی شخصیت کے سر پر سجایا گیا ہے اور وہ سیاست میں مذہب کے استعمال کی روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔

ستر کی دہائی میں سارے ریاستی ادارے اسٹیبلشمنٹ کے حسبِ خواہش منتخب حکومت کے خلاف اکٹھے ہوگئے تھے۔ اسی طرح ستر کی دہائی کے ’’پی این اے‘‘ اور آج کے اتحاد ’’پی ڈی ایم‘‘ کے سربراہوں میں باپ بیٹا ہونے کے علاوہ اَور بھی بہت سارے پہلو مماثلت لیے ہوئے ہیں، مثلاً بھٹو حکومت کی طرح عمران حکومت کو بھی امریکا کے حسب ِخواہش ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ کے ذریعے ختم کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ سمیت ساری قوتیں بھی حسبِ سابق ایک پیج پر جمع ہیں۔ اور اگر کسی ادارے سے حکومت مخالف کسی فیصلے کی کمک‘ مزاحمت کاروں کو میسر آ سکتی ہے تو جیسے ماضی میں پی سی او کے ذریعے اعلیٰ عدالتوں کی نئے سرے سے تشکیل ہوتی تھی تو اب اسے قابو کرنے کے لیے راتوں رات لنگڑی لولی پارلیمنٹ میں قانون سازی کا ڈول ڈالا گیا، تاکہ چیف جسٹس کو اپنے کولیگز کے ذریعے قابو میں رکھا جاسکے۔ جیسا کہ اس جتھے نے اپنے دورِ اقتدار میں عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس پر چڑھ دوڑنے اور اُن کو اُن کے اپنے ساتھیوں کے ذریعے برطرف کرنے کا شرم ناک کردار ادا کیا تھا۔

معزول حکومتی جماعت کے ارکان اور ورکرز کو کل کی طرح اسٹیبلشمنٹ سمیت ریاست کی دیگر فورسز کے بدترین تشدد سہنے کے ساتھ ساتھ جھوٹے مقدمات کا بھی سامنا ہے۔ جیسے ستر کی دہائی میں متحدہ قوتوں نے اپنے مخالف سیاسی لیڈر کی جان لے کر اس تحریک کا ڈراپ سین کیا تھا، ماضی کی طرح آج کی بھی وہ قوتیں خود ساختہ تحریکِ عدمِ اعتماد کے ذریعے اقتدار سے الگ کی گئی اپنی سیاسی مخالف جماعت کو رستے سے ہٹانے کے لیے اُس کی جان کے درپے ہیں، جیساکہ وہ ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ ملک میں امن و امان اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار وزیرداخلہ انھیں غیرجمہوری اور غیراصولی طریقوں سے سیاسی منظرنامے سے منفی کرنے کے عزائم کا برملا اظہار کرچکے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ’’ہم میں سے کوئی ایک ہی رہے گا‘‘۔

اسی طرح اگر شکار (victim) فریق کے درمیان مماثلتیں تلاش کی جائیں تو وہ بھی سبق آموز ہیں، مثلاً ستر کی دہائی میں عوامی مقبولیت حاصل کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کی پروجیکشن ایک فوجی سربراہ کے زیرِ سایہ ہوئی اور بہ قول جے اے رحیم: پاکستان میں کسی بھی متوقع انقلاب کا راستہ روکنے کے لیے انقلاب کی وجہ بننے والے عوامی مطالبات کو کچھ درپردہ قوتوں کی طرف سے نعروں میں ڈھال کر ایک پارٹی بنوائی گئی، جس کا عوامی مقبولیت کا سفر حیران کن تھا۔ جس کے بعد وہ عوامی لیڈر کہلائے۔ اور بعد ازاں انھوں نے عوامی جلسوں میں فوج کو ہدفِ تنقید بناکر اپنا ایک بیانیہ تخلیق کرلیا اور انھوں نے ’’اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘ نامی کتاب لکھ کر اس پر مہرِ تصدیق ثبت کردی۔ ایسے ہی موجودہ اقتدار سے بے دخل کی جانے والی پارٹی کے لیڈر ایک سابق آرمی چیف کی نظرِ کرم کے مرہونِ منت رہے اور اپنے پسندیدہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے ساتھ ساتھ سینہ تان کر انھیں ’’ڈیموکریٹ جنرل‘‘ کہتے نہ تھکتے تھے۔ اور ایسے ہی ان کے فالوورز نے سوشل میڈیا پر فوج کی جمہوریت نوازی کے جھنڈے گاڑ رکھے تھے۔ اب یہ جماعت اس دور کو اپنا ’’زمانۂ جاہلیت‘‘ کہتی ہے۔ اور کہتے ہیں کہ اب ہمیں سمجھ آئی ہے کہ سسٹم کیا ہوتا ہے؟ خدا کرے سیاست میں سرگرم عناصر کو سیاسی سوجھ بوجھ آجائے، ورنہ تو کل تک اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے والے تو آج انھیں کے کندھوں پر بیٹھ کر اپنا قد اونچا کیے کھڑے ہیں۔

ہمارے باشعور نوجوانوں کے لیے پاکستانی سیاسی تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اس ملک میں جاری سیاسی عمل موقع پرستی کے گرد گھومتا ہے۔ یہاں کچھ طبقے ہیں‘ جو حسبِ موقع ساری صورتِ حال کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں۔ اس کے لیے سیاست دانوں، مذہبی رہنماؤں اور حکمرانوں کا گٹھ جوڑ بھی کروادیا جاتا ہے۔ جمہوریت کا ڈھونگ رچانے کے لیے الیکشن بھی کروا دیے جاتے ہیں۔ غریب عوام کے بجائے یہ طبقے اپنے مفادات کے لیے قانون سازی اور آئینی ترامیم بھی کرواتے رہتے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کے بجائے عوام کو لنگرخانوں اور جان کی قیمت پر آٹے کے تھیلوں پر ٹرخایا جاتا ہے۔ ان سیاست دانوں کی اولادیں اربوں پتی، جب کہ ایک عام آدمی کے بچے پیدائشی آئی ایم ایف کے مقروض پیدا ہوتے ہیں۔

الغرض! ہمارا ملکی نظام آج تک کسی مثبت اُصول کا پابندنہیں، بلکہ یہ کچھ مخصوص طبقوں کے مفادات، عوام دشمنی، مفاد پرستی اور موقع پرستی کی بنیادوں پرکھڑا ہے۔ آج کے باشعور نوجوانوں کواس نظام کی چھتری تلے قائم سیاسی نظام کے گھن چکر کا حصہ بننے کے بجائے مستقل بنیادوں پر تبدیلیٔ نظام کی شعوری جدوجہد کے طریقوں کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ اپنانا ہوگا۔ ورنہ یہ کھیل تو قیامِ ملک سے لے کر تقسیم ملک سے ہوتا ہوا زوال کی طرف تیزی سے جاری ہے۔ اور اندیشہ ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کا ڈراپ سین ملک کی رہی سہی توانائی کو بھی نچوڑ کے نہ رکھ دے۔      (مدیر)

5 / 6

صبح، شام اور سونے کے وقت کے اذکار(2)

صبح، شام اور سونے کے وقت کے اذکار(2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

(7)         ’’اللّٰھُمّ ! إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ، اللّٰھُمّ ! إِنِّی أَسأَلُکَ الْعَفْوَ وَ العَافِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ و دُنْیَایَ و أہْلِیْ وَ مَالِیْ، اللّٰھُمّ ! اسْتُرْ عَوْرَاتِیْ و آمِنْ رَوْعَاتِیْ، اللّٰھُمّ ! احْفِظْنِیْ مِنْ بَیَنِ یَدَیَّ، وَ مِنْ خَلْفِیْ، وَ عَن یَمِیْنِیْ وَ عَن شِمَالیْ، وَ مِنْ فَوْقِیْ، وَ أَعُوْذُ بِعَظْمَتِکَ أَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ‘‘۔ (رواہ أبو داؤد، مشکوٰۃ، حدیث: 2397)

                (اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے معافی کا سوال کرتا ہوں اور اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے بیوی بچوں اور اپنے مال میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری پردہ پوشی کر اور میری گھبراہٹ کو دور فرما۔ اے اللہ! میری ہر طرح حفاظت کر! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے، میرے اوپر سے۔ اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری عظمت کی کہ میں نیچے سے اُٹھا لیا جاؤں۔ )

(8)         تین دفعہ یہ دعا پڑھے:  ’’رَضِیْتُ بِاللّٰہ رَبًّا، وَ بِالإِسْلَامِ دِیْنًا، وَ بِمُحَمَّدٍ ﷺ نَبِیًّا۔ (رواہ أحمد و التّرمذی، مشکوٰۃ، حدیث: 2399)

                (اللہ کو ربّ ماننے، اسلام کو دین تسلیم کرنے اور محمد ﷺ کو نبی ماننے پر میں بہت خوش اور راضی ہوں۔)

(9)         ’’أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘‘۔ (مشکٰوۃ: 2423)

                (میں ہر مخلوق کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل اور مکمل کلمات کی۔)

(10)      ’’اَللّٰہُمَّ ! مَا أَصْبَحَ بِیْ مِنْ نِّعْمَۃٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ، فَمِنْکَ وَحْدَکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ وَ لَکَ الشُّکْرُ‘‘۔ (رواہ أبو داؤد، مشکوٰۃ: 2407)

                (اے اللہ! صبح کے وقت جو بھی مجھے نعمت ملی، یا تیری مخلوق میں سے کسی ایک کو بھی ملی، پس وہ تیری واحد ذات کی طرف سے ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ پس تیرے لیے حمد اور تعریف ہے اور تیرا ہی شکر ادا کرتا ہوں۔)

(1)         سیّدُ الاسْتِغْفَار پڑھنا (یہ استغفار پیچھے آٹھویں ذکر میں گزر چکا ہے): 

                ’’اللّٰہُمّ ! أنتَ رَبِّی، لا إلٰہ إلَّا أنتَ، خَلَقْتَنِیْ و أنا عَبْدُکَ، و أنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، أعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ، و أَبُوْئُ بِذَنْبِیْ، فَاغْفِرْ لِیْ، فَإنّہ‘ لا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إلَّا أنْتَ‘‘۔ (اے اللہ! تُو میرا ربّ ہے۔ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ تُو نے مجھے پیدا فرمایا۔ میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا، اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ آپ کے جو انعامات مجھ پر ہیں، میں ان کا اقرار کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں۔ مجھے بخش دے، کیوں کہ صرف تُو ہی گناہ معاف کر سکتا ہے۔) (رواہ البخاری: 2306، مشکوٰۃ: 2335)

(سونے کے وقت کے ذکر اذکار)

جب آدمی سونے کے وقت اپنے بستر پر آئے تو یہ اذکار پڑھے:

(1)         ’’بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی، وَ بِکَ أَرْفَعُہُ، إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَ إِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفِظْہَا، بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ‘‘۔ (متّفق علیہ، مشکوٰۃ: 2384)

                (اے میرے پروردگار! تیرے نام کے ساتھ ہی میں اپنے پہلو کو بستر پر رکھتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ ہی اسے اُٹھاؤں گا۔ اگر تُو میری روح اپنے پاس روک لے تو اُس پر رحم کرنا اور اگر تُو اُسے واپس لوٹا دے تو اس کی اُن تمام چیزوں سے حفاظت کرنا کہ جن سے تُو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔)

(2)         ’’اللّٰہُمَّ ! أَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَ وَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَ فَوَّضْتُ أَمْرِی إِلَیْکَ، وَ أَلْجَأْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَ رَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ‘‘۔ (متّفق علیہ، مشکوٰۃ: 2385)

                (اے اللہ! میں اپنی روح کو تیرے سپرد کرتا ہوں اور اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرتا ہوں۔ میں اپنے معاملات تیرے سپرد کرتا ہوں۔ میں اپنی پُشت کو تیری پناہ میں دیتا ہوں‘ تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے۔ تیرے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اور نہ کوئی نجات کی جگہ ہے۔ میں ایمان لایا تیری اُس کتاب پر جو تُو نے نازل کی ہے اور تیرے اُس نبی پر جنھیں تُو نے بھیجا ہے۔)

(3)         ’’الحَمْدُ لِلّٰہِ الّذی أَطْعَمَنَا، وَ سَقَانَا، وَ کَفَانَا، وَ آوَانَا، فَکَمْ مِمَّنْ لا کَافِیَ لہ، وَلَا مُؤْوِیَ‘‘۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ: 2386)

                (سب تعریفیں اُسی اللہ تعالیٰ کی ہیں، جس نے ہمیں کھانا کھلایا، اور پانی پلایا، اور ہمارے لیے کفایت کی، اور ہمیں ٹھکانہ دیا۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے لیے کوئی کفایت کرنے والا نہیں ہے اور کوئی ٹھکانہ دینے والا نہیں ہے۔)

(4)         سونے سے پہلے ’’سُبْحَانَ اللّٰہ‘‘ تینتیس (33) مرتبہ، ’’الْحمدُ اللّٰہ‘‘ تینتیس (33) مرتبہ اور ’’اللّٰہُ أکْبَر‘‘ چونتیس (34) مرتبہ پڑھے۔ (مشکوٰۃ: 2387)

(5)         سونے سے پہلے تین دفعہ یہ دعا پڑھے: ’’اللّٰہُمَّ ! قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ  عبادَکَ‘‘۔ (مشکوٰۃ:2400)(اے اللہ! مجھے اپنے اُس دن کے عذاب سے بچا، جس دن تُو اپنے بندوں کو اُٹھائے گا۔)  (باب الأذکار و ما یتعلّقُ بہا)

6 / 6

امام الاولیا حضرت حسن بصریؒ

امام الاولیا حضرت حسن بصریؒ

حضرت حسن بصریؒ کا اصل نام حسن بن یسار ہے۔ آپؒ نے رسول اکرم ﷺ کے گھر میں آپؐ کی زوجہ محترمہ حضرت اُم سلمہؓ کی گود میں پرورش پائی۔ حضرت اُم سلمہؓ نہایت عقل مند، سلیقہ شعار، پیکرِ حسن و جمال اور تقویٰ میں ممتاز تھیں۔ حضرت حسن بصریؒ کی والدۂ محترمہ‘ حضرت اُم سلمہؓ کی کنیز تھیں۔ حضرت اُم سلمہؓ کو کسی نے خوش خبری دی کہ ان کی کنیز نے ایک لڑکے کو جنم دیا ہے۔ یہ سن کر حضرت اُم سلمہؓ کا دل خوشی سے باغ باغ ہوگیا۔ پہلی فرصت میں بچے کو دیکھنے کے لیے پیغام بھیجا۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ آپؓ کی کنیز اپنے نومولود کو اُٹھائے آپؓ کے گھر پہنچ گئی۔ حضرت اُم سلمہؓ نے بچے کو گود میں لے کر پیار کیا۔ نومولود کا نام ’’حسن‘‘ بھی حضرت اُم سلمہؓ نے رکھا۔ان کی والدہ گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتیں تو حضرت اُم سلمہؓ حضرت حسنؒ کو کھلاتی تھیں۔ اس طرح حضرت حسنؒ کی پیدائش سے صرف ام المؤمنین کا گھر ہی خوشیوں کا گہوارہ نہ بنا، بلکہ مدینہ کا ایک اَور گھرانہ بھی اس خوشی میں برابر کا شریک ہوا اور وہ تھا کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابتؓ کا گھرانہ۔ وہ خوشی میں اس لیے شریک تھے کہ نومولود حسنؒ کے والد یسار حضرت زیدؓ کے غلام تھے۔ ان کے دل میں اپنے غلام کی بڑی قدر تھی۔

حضرت حسن بصریؒ نے گویا حضور ﷺ کے گھر میں اور صحابہؓ کے زیر سایہ پرورش پائی۔ بڑے ہوئے تو مسجدِ نبویؐ میں بڑے بڑے صحابہؓ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے اور ان سے نہایت لگن اور شوق سے علم حاصل کیا۔ آپؒ کو حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ سے روایت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت حسن بصریؒ چودہ سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ بصرہ منتقل ہوگئے اور وہیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ اس طرح آپؒ بصرہ کی طرف منسوب ہو گئے اور حسن سے ’’حسن بصری‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔

اس وقت بصرہ علوم و فنون کا مرکز تصور کیا جاتا تھا۔ مرکزی مسجد صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ سے بھری رہتی تھی۔ وہیں حضرت حسن بصریؒ مفسرِ قرآن حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حلقۂ درس میں شامل ہوئے اور ان سے حدیث، تفسیر اور تجوید کا علم حاصل کیا۔ فقہ، لغت اور ادب جیسے علوم دیگر صحابہؓ سے حاصل کیے اور اس طرح آپؒ ایک راسخ اور پختہ عالم اور فقیہ کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ رفتہ رفتہ آپؒ کے علم و فقاہت کی شہرت ہر طرف پھیل گئی۔خالد بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ میں عراق کے ایک قدیم شہر حیرہ میں بنواُمیہ کے جرنیل و فاتح مسلمہ بن عبد الملک بن مروان سے ملا تو انھوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ خالد! مجھے حسن بصری کے متعلق کچھ بتاؤ! تو میں نے کہا کہ: ’’میں ان کا پڑوسی بھی ہوں اور ہم نشین بھی، بلکہ اہلِ بصرہ میں انھیں سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ حضرت حسن بصری علم و تقویٰ کا خزانہ ہیں۔ لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے دیوانہ وار اُن کی طرف لپکتے ہیں۔ ان کا باطن ظاہر جیسا ہے‘‘۔ میں نے اَور بہت سی خوبیاں بیان کیں تو مسلمہ نے کہا: ’’بھلا وہ قوم کیسے گمراہ ہو سکتی ہے، جس میں حسن بصریؒ ایسی عظیم المرتبت ہستی موجود ہو‘‘۔

End of issue

Back