March-2024

Rahimia Magazine

March-2024

Mar 05, 2024 8 articles Download Download EPUB

1 / 8

دشمن کے منفی رویوں کو سمجھنا اور نظم و نسق کی پابندی

دشمن کے منفی رویوں کو سمجھنا اور نظم و نسق کی پابندی

 

گزشتہ آیات (البقرہ: 104 تا 107) میں یہ واضح کیا گیا کہ بنی اسرائیل کے یہودی اس حد تک انحطاط، ذلت اور غضبِ الٰہی کے مستحق ہوچکے ہیں کہ اب اُن کا تحریف شدہ دین منسوخ کیا جانا ضروری ہے۔ زمانہ بدلنے اور رسول ﷺ کی آمد پر نئے دین اور نظم و ضبط پر مبنی نئے نظام کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو یہودیوں کے عادات و اطوار سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کی طرف جھکاؤ اور میلان اختیار کرنا درست نہیں ہے۔

ان آیات (البقرہ: 108-109) میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ دشمن کے منفی رویوں خاص طور پر یہودیوں کی غلط عادات کو سمجھیں۔ وہ اُن کی غلط عادات اور رویے اختیار کرکے ایمان کے بجائے کفر کا راستہ مت اختیار کریں۔ اس لیے کہ وہ تمھارے ساتھ بڑا حسد رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دینِ حق کو چھوڑ کر تم مرتد ہوجاؤ۔

﴿أَمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَى مِنْ قَبْلُ﴾ (کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے جیسے سوال ہوچکے ہیں موسیٰ سے اس سے پہلے) : مدینہ میں آپؐ کی آمد سے پہلے اَوس اور خزرج کے لوگ یہودِ مدینہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔ آپؐ کی آمد کے بعد یہودی انھیں دینِ اسلام سے روکنے کے لیے طرح طرح کے شبہات اور سوالات سجھاتے تھے۔ مسلمانوں کے دل میں یہ سوال بھی ڈالا گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ہمیں حکومت اور خلافت کی صورت میں نصرتِ الٰہی کب تک ملے گی، تاکہ ہمیں اطمینان ہوجائے۔ اسی طرح کے مختلف شکوک و شبہات اور سوالات پیدا کیے جاتے تھے۔

اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ تمھارا اپنے رسول ﷺ سے ایسے سوالات کرنا بالکل اُسی طرح ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ان یہودیوں نے شکوک و شبہات پیدا کرنے والے سوالات کیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’سورت النساء‘‘ میں فرمایا: ’’تجھ سے اہلِ کتاب سوال کرتے ہیں کہ تُو اُن پر اُتار لاوے لکھی ہوئی کتاب آسمان سے، سو مانگ چکے ہیں موسیٰ سے اس سے بھی بڑی چیز، اور کہا: ہم کو دکھلادے اللہ کو بالکل سامنے‘‘۔ (-4 النساء: 153) زیرِنظر آیت میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ جس طرح یہود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے اُلٹے سیدھے سوالات اور شکوک و شبہات کرکے کفر کا راستہ اختیار کرچکے ہیں، کیا تم بھی ایسا ہی کفر کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہو؟ یاد رکھو:

﴿وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ﴾  (اور جو کوئی کفر لیوے بدلے ایمان کے تو وہ بہکا سیدھی راہ سے): کسی سوال کے جواب کو پورے عقل و شعور کے ساتھ نہ سمجھنا اور اپنے شک اور شبہ پر اصرار کرنا دراصل کفر کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ یہودیوں نے یہی طرزِ عمل اختیار کیا۔ مسلمانوں کو اس سے روکا جا رہا ہے۔ چناں چہ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں: ’’یہودیوں کی باتوں پر ہرگز اعتماد نہ کرنا۔ جس کسی کو یہودیوں کے شبہ ڈالنے سے شبہ پڑگیا‘ وہ کافر ہوا۔ اس کی احتیاط رکھو اور یہود کے کہنے سے تم اپنے نبی کے پاس شبہ نہ لاؤ، جیسے وہ اپنے نبی کے پاس لاتے تھے‘‘۔اور ایمان کے بدلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑی گمراہی کا راستہ ہے۔

﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا ﴾  (دل چاہتا ہے بہت سے اہلِ کتاب کا، کہ کسی طرح تم کو پھیر کر مسلمان ہوئے پیچھے کافر بنادیں): دراصل ایسے سوالات اور شکوک و شبہات پیدا کرکے یہودیوں کی یہ بڑی آرزو اور تمنا ہے کہ کسی طرح مدینہ میں ایمان لانے والے لوگ اپنا دین چھوڑ کر مرتد ہوجائیں اور آپؐ کی مدینہ منورہ آمد سے پہلے جس طرح یہودیوں کی علمی اجارہ داری قائم تھی، اور مسخ شدہ یہودی تعلیمات کے ذریعے سے وہ مفادات اُٹھا رہے تھے، اسی طرح بدستور مدینہ کے لوگوں کو اپنے مقاصد اور مفادات کے لیے استعمال کرتے رہیں۔

﴿حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ﴾  (بہ سبب اپنے دلی حسد کے، بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکا ان پر حق): اصل بات یہ ہے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بڑا حسد اور بغض ہے، حال آں کہ ان پر دینِ حق بالکل ظاہر ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود یہ اپنی بداَخلاقی اور انسان دشمنی سے باز نہیں آتے اور مدینہ منورہ میں رہنے والے لوگوں کی ترقی سے دلوں میں حسد، کینہ اور نفرت کے جذبات رکھتے ہیں۔

﴿فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾  (سو تم درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ، جب تک بھیجے اللہ اپنا حکم، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے): جب مسلمانوں نے یہودیوں کی ان قبیح عادات اور اطوار اور منفی رویوں کو اچھی طرح سمجھ لیا، خاص طور پر اُن کے حسد، کینہ اور بغض سے واقفیت ہوگئی تو مسلمانوں کا ارادہ اُن سے لڑائی لڑنے اور جھگڑا کرنے کا ہوا، اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دُنیاوی مصلحت اور تنظیمی حکمتِ عملی کے طور پر مسلمانوں کو حکم دیا کہ یہودیوں کی ان حرکتوں کو نظرانداز کرو، اُن کے منفی رویوں کا خیال دل میں لا کر پریشان مت ہو۔ فی الحال درگزر کرو، یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ان سے لڑائی کا واضح حکم آجائے۔ ایک وقت آئے گا، جب ان کی طرف سے کھلے طور پر میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی اور اپنے حلف سے غداری کے نتیجے میں جھگڑے اور لڑائی کی نوبت آئے گی، اُس وقت ان سے جہاد کرنا ضروری قرار پائے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

ان آیات میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ انسانیت دشمن قوموں اور غضبِ الٰہی کے مستحق مذاہب کی منفی عادات و اطور اور رویوں سے علمی اور فکری طور پر شعوری آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اُن کے جاہلانہ سوالات سے اپنے دین کے نظام پر شکوک و شبہات نہیں پیدا کرنے چاہئیں۔ پورے فہم اور شعور کے ساتھ اپنے انسانیت دوست دینی نظام کی سمجھ اور اس پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط اور ڈسپلن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ دشمن کے رویوں کو سمجھنے کے بعد جذباتی طور پر لڑائی جھگڑے پیدا کرنا اور نظم و ضبط کے بغیر نجی جنگ جوئی اختیار کرنا درست نہیں، بلکہ اپنے داخلی نظم و نسق پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، جس کی وضاحت اگلی آیات میں ہے۔

2 / 8

رمضان المبارک کا روزہ چھوڑنے کا نقصان

رمضان المبارک کا روزہ چھوڑنے کا نقصان

 

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ _ رضی اللّٰہ عنہٗ _ رَفَعَہٗ: ’’مَنْ أَفْطَرَ یَوْماً فِيْ رَمَضَانَ، مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ یَقْضِہِ صِیَامُ الدَّھْرِ، وَإِنْ صَامَہٗ‘‘۔

(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مرفوع روایت ہے کہ: ’’جس نے رمضان میں کسی عذر اور بیماری کے بغیر روزہ چھوڑ دیا، اگر وہ ساری زندگی روزے رکھتا رہے، پھر بھی وہ اس کی فضیلت کو نہیں پاسکتا‘‘۔) (صحیح بخاری، حدیث: 1935)

انسان اپنی طبیعت کی بے اعتدالی کی وَجہ سے گناہ کرتا ہے، جس سے اس کی روحانیت متأثر ہوتی ہے۔ سال بھر کی بے اعتدالی بہت بڑا بوجھ اور خدا سے دوری کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس مرض کا علاج اور گناہوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کا بہترین ذریعہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا ہے۔ مؤمن کی زندگی میں رمضان کے مہینے کا آنا‘ اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے۔ فرض روزے کی ادائیگی ایسا مبارک عمل ہے، اگر اسے مطلوبہ شرائط کے ساتھ اختیار کیا جائے تو یہ طبیعت کی بے اعتدالی، گناہوں کے بُرے اَثرات سے نجات اور جسمانی قوت کی بحرانی حالت کو کنٹرول کرنے میں مددگار بن سکتا ہے۔

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ: ’’روزہ رکھا کرو! اس کی مثل کوئی عمل نہیں‘‘ (سنن نسائی)۔ اس ریاضت سے انسان میں نیکی کی طرف رُجحان، عبادات کا شوق اور گناہوں سے بے رغبتی اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے روزے کی فرضیت کے حکم کے ساتھ قرآن میں لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن کہا گیا ہے کہ اس عمل سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم میں تقویٰ کی خوبی پیدا ہوجائے، جس کے نتیجے میں ایک مؤمن کے لیے اللہ کی طرف بڑھنے کا راستہ آسان ہوجاتا ہے، جو اس کے لیے دنیا و آخرت کی فلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔

سابقہ تمام شریعتوں میں روزہ فرض کیا گیا تھا۔ ہماری شریعت میں رمضان کا مہینہ روزوں کی فرضیت کا ہے، اس کا پورا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس میں غفلت سے انسان بہت نقصان کربیٹھتا ہے۔ زیرِنظر حدیث کے مطابق اگر کوئی شخص بغیر کسی شرعی عذر اور بیماری کے‘ ماہِ رمضان المبارک کا ایک روزہ بھی چھوڑ دیتا ہے تو اس کے بعد اگر وہ زندگی بھر بھی روزے رکھے، تو اس سے اس نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا، جو ایک روزہ چھوڑنے سے ہوچکا ہوتا ہے۔ اس لیے بغیر کسی عذر اور نہایت مجبوری کے‘ رمضان کے روزے نہیں چھوڑنے چاہئیں، بلکہ ہر ممکن حد تک اس فریضے کی ادائیگی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

رمضان المبارک کے روزے ان احتیاطی تدابیر اور ہدایات کی روشنی میں رکھنے چاہئیں جو ہمیں رسول اللہﷺ سے ملی ہیں۔ اس ریاضت سے انسان کو نہ صرف پچھلے گیارہ ماہ، بلکہ زندگی بھر کے گناہوں کی نحوست سے اپنا دامن چھڑانے کا موقع میسر آجاتا ہے اور آئندہ کے گیارہ ماہ بھی نیکیاں کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

3 / 8

حضرت رافع بن خدیج بن رافع بن عدی رضی اللہ عنہ

حضرت رافع بن خدیج بن رافع بن عدی رضی اللہ عنہ

 

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ٗ اَنصاری صحابی ہیں۔ آپؓ بڑے جلیل القدر عالم و فاضل، بلند مرتبے کے مالک تھے۔ آپؓ کا شمار صغار (چھوٹے) صحابہ میں ہوتا ہے۔ آپؓ السابقون الاولون میں سے ہیں۔ آپؓ قبیلہ اَوس کی شاخ بنوحارثہ کے سردار تھے۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرتِ مدینہ سے قبل آپؓ گیارہ سال کی عمر میں حضرت مصعب بن عمیرؓ کی محنت و دعوت سے حلقہ بہ گوشِ اسلام ہوئے۔ کم سنی کی وجہ سے معرکۂ بدر میں شرکت نہ کرسکے، البتہ جنگِ اُحد اور اس کے بعد کی تمام جنگوں میں شریک ہوئے اور عہدِ خلفائے راشدینؓ میں بھی دینی، علمی اور سماجی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ جنگِ صفّین میں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے ہم رکاب تھے۔ زراعت اور کھیتی باڑی کے کاموں میں بھی حضرت علیؓ کے ساتھ باہم شریک رہتے تھے۔

غزوۂ اُحد میں مغرب کے بعد آپﷺ نے مدینہ سے باہر ’’مسجد شیخین‘‘ کے مقام پر اپنی جماعت کا فوجی معائنہ کیا۔ بچوں میں سے حضرت رافعؓ کو ساتھ جانے کی اجازت ملی، لیکن حضرت سمرہ بن جندبؓ کو اجازت نہ ملی۔ پہلے تو آپؐ نے حضرت رافعؓ کو بھی کم سن سمجھ کر جنگ سے واپس بھیجنا چاہا مگر رافعؓ اپنا قد بلند دکھانے کے لیے پیوند زدہ جوتوں میں اپنی انگلیوں پر کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کا معائنہ کیا تو ان کو اجازت دے دی۔ حضرت سمرہؓ نے بھی اپنے والد مری ابن سنانؓ سے کہا: بابا جان! رسول اللہؐ نے رافع کو اجازت دی ہے اور مجھے واپس بھیج دیا، حال آں کہ میں رافع کو کُشتی میں پٹک دیتا ہوں۔ مریؓ نے رسول اللہ سے گزارش کی تو آپؐ نے دونوں کی کُشتی کرائی۔ حضرت سمرہؓ نے حضرت رافعؓ کو گرا دیا تو آپؐ نے ان کو بھی ساتھ چلنے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ اس طرح یہ دونوں چھوٹی عمر میں ہی مسلمانوں کے ساتھ غزوۂ اُحد میں شریک ہوئے۔ حضرت رافعؓ سے 78 احادیث مروی ہیں، جو سب کی سب قوی ہیں۔ آپؓ سے جلیل القدر صحابہؓ و تابعینؒ نے احادیث روایت کیں۔ آپؓ اپنی زندگی میں زیادہ تر علمی سرگرمیوں مشغول رہے۔

غزوۂ اُحد یا حنین میں حضرت رافعؓ کی چھاتی پر تیر لگا تو آپؓ رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تیر جسم سے باہر نکال دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: رافع! چاہو تو تیر بمع دستے کے نکال دیتا ہوں، چاہو تو صرف تیر نکال دوں اور دستہ جسم میں پیوست رہنے دوں اور میں روزِ محشر تمھاری شہادت کا گواہ ہوں گا تو حضرت رافعؓ نے عرض کیا: صرف تیر نکال دیں اور دستہ جسم میں پیوست رہنے دیں اور میری شہادت پر گواہ رہیں۔ چناںچہ ایسا ہی رہنے دیا گیا۔ حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت میں حضرت رافعؓ کا زخم ہرا ہو گیا، جس سے آپؓ کی وفات ہوئی۔وفات کے وقت آپؓ کی عمر 86 برس تھی۔ جنت البقیع میں آپؓ کو دفن کیا گیا۔

4 / 8

فاسد نظام کی آلۂ کار انتخابی سیاست کا بھیانک چہرہ

فاسد نظام کی آلۂ کار انتخابی سیاست کا بھیانک چہرہ

فاسد نظام کی آلۂ کار انتخابی سیاست کا بھیانک چہرہ:

الیکشن 2024ء

گزشتہ ماہ 8؍ فروری کو ملکی آئین سے منحرف نگران حکومت کے تحت ملک میں 2024ء کے عام انتخابات ہوئے۔ جس طرح ہوئے، سب جانتے ہیں۔ آج تک پاکستانی تاریخ کے انتخابات میں یہ سب سے زیادہ دھاندلی زدہ اور بدنام ترین انتخابات تھے۔ اس میں عوام کے ایک بڑے حصے نے جبر، طاقت اور آلۂ کار سیاست سے اپنے تئیں غصے اور نفرت کا کھل کر اظہار کیا اور نظام کی سرپرستی میں انتخابات لڑنے والے کئی ایک سیاست دانوں کو خوب دُھول چٹائی ہے۔ اس شکست کو نظام کے طاقت ور عنصر کی شکست تصور کیا جارہا ہے کہ وہ کرپٹ سیاست دانوں کی سرپرستی کرنے والا تصور ہوتا ہے اور پہلی بار پنجاب اور خیبرپختونخوا سے غیر معمولی تعداد میں طاقت کے استعمال کے خلاف عوام کی اکثریت کا اظہارِ رائے ہوا ہے، مگر اس نظام کی بُنت ہی ایسی ہے کہ اس میں عوامی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بلکہ اس کے علی الرغم کام کرتا ہے۔

اس لیے یہاں کے نوجوانوں کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آلۂ کار نظریے پر استوار ملک کا سارا سیاسی نظام‘ ظلم و استبداد اور جبر کا نمائندہ نظام ہے۔ چناں چہ انھوں نے کھلی آنکھوں سے مشاہدہ بھی کرلیا ہے کہ وہ کس طرح راتوں رات فارم 45 کے مطابق الیکشن جیتنے والوں کو فارم 47 میں انجینئرنگ کرکے الیکشن ہرا دیتا ہے اور نتائج کا راستہ اپنے حق میں ہموار کرلیتا ہے۔ اور ہمیشہ کی طرح کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت سے جیتنے کے بجائے الیکشن کے نتائج کو پروردہ نام نہاد سیاسی جماعتوں میں ایسے تقسیم کردیتا ہے، تاکہ اس کے ذریعے اپنی حسبِ خواہش بیساکھیوں پر کھڑی ایک کمزور اور مخلوط حکومت بنوائی جائے، جسے ہر طرح سے کنٹرول میں رکھ کر حسبِ منشا کام میں لایا جاسکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ کی طرح پاکستان میں ایک بار پھر بیرونی اور اندرونی مخصوص قوتوں نے ایک ایسے جانب دارانہ غیر شفاف الیکشن کا اہتمام کیا ہے، جس کے نتائج سے سیاسی استحکام کے بجائے ہم ایک نئے غیر مستحکم اور بے یقینی کے دور میں داخل ہورہے ہیں۔ اقتدار پر جھپٹنے والوں کے آگے ملک ایک بے جان لاشے کی طرح پڑا ہے۔ اس نام نہاد الیکشن کے بعد سیاسی گِدھ اس کو نوچنے کے لیے بے تاب ہیں۔ اب اس جانب دار اور غیر متوازن الیکشن نتائج کے بل پر اُردو محاورہ:

بھان مَتِی نے کُنْبَہ جوڑا، کَہِیں کی اِینٹ کَہِیں کا رَوڑا

 کے مصداق سیاسی بھان متی کے کنبے کے ذریعے ایک ایسی حکومت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کی لگامیں نظام کے ہاتھ میں رہیں گی اور جسے جب جس طرف چاہے ہانک لیا جائے گا۔ ایسی حکومت عوام کا تو کوئی مسئلہ حل نہ کرسکے گی، البتہ اپنی تجوریاں بھرنے اور ظلم کا بازار گرم کرنے کے لیے وہ ہمیشہ کی طرح تاک میں ہے۔ سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کی طرف سے ٹی وی شوز میں کس ڈِھٹائی سے آزاد اُمیدواروں کو خریدنے کی باتیں کی جارہی ہیں، جب کہ انھیں اس الیکشن میں ’’آزاد ممبرانِ اسمبلی‘‘ بنانے کے لیے 1970ء کے الیکشن کی طرح بہت زیادہ انجینئرنگ کرنا پڑی، جو اُن کے جمہوری دعوؤں کی کھلی تردید ہے۔

موجودہ انتخابات‘ رائج مجرمانہ نظام کا 76 واں سالہ ثمر ہے کہ جس کی خرابی کو اب ایک عام آدمی بھی ایک حد تک محسوس کرنے لگا ہے۔ اس سے اس بات کو بہ آسانی باور کروایا جاسکتا ہے کہ کس طرح 1970ء کے الیکشن میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ 160 سیٹوں کے باوجود اس نام نہاد جمہوریت میں اپنی حکومت نہ بنا سکی۔ تب بھی عوامی لیگ پر پابندی لگا کر اُس کے منتخب ممبرانِ اسمبلی کو ’’آزاد‘‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ اس طرح غیرملکی طاقتوں کے اشارے پر ملک توڑ کر ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کو صرف 81 سیٹوں کے ساتھ پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔

یہ نظام در حقیقت انگریز کے عہدِ غلامی کا تسلسل ہے۔ عہدِ غلامی کی نوآبادیاتی اسٹیبلشمنٹ سے لے کر موجودہ دور کے جدید نو آبادیاتی نظام کی عادات و اطوار ایک ہی جیسے رہے ہیں۔ اس کی نفسیات ہمیشہ سے جبر، آمریت، دَھونس، دھاندلی اور معاشی و سیاسی قتل و غارت گری کی رہی ہیں، جو آج اپنی تمام تر خرابیوں کے ساتھ عروج پر ہیں۔ نظام پر قابض طاقت کے مراکز آج دنیا کو کس طرح باور کروا سکتے ہیں کہ انڈیا کشمیریوں کے حق رائے دہی کو نہیں مانتا۔ کیا پاکستانی نظام کی حقیقی مقتدرہ اپنی حدود میں اپنی رعایا کے حق رائے دہی کو ماننے کے لیے تیار ہے؟

اس حقیقت کا آج مقتدرہ کو جلد ادراک کرلینا چاہیے کہ نظام کے مردہ سیاسی وجود کو دَھونس اور دھاندلی کی طاقت کے انجکشن سے زیادہ دیر تک زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔ نتائج بدلنے سے حقیقت نہیں بدلی جا سکتی، مگر یہ ایک المیہ ہے کہ حالات پر کنٹرول رکھنے والی قوتیں ہمیشہ طاقت کے نشے میں شعور کی بینائی سے محروم ہوجایا کرتی ہیں۔ اس الیکشن کے پراسیس کے حق میں رائے رکھنے والے عناصر سے آج کے نوجوان کو پوچھنا ہوگا کہ انھیں الیکشن پر اعتماد کرکے کیا ملا؟ اور ابھی ان کے مینڈیٹ کے ساتھ کیا کچھ ہورہا ہے؟ اور یہ سوال حقیقت پر مبنی ہے کہ جب ہم جمہوری اصولوں پر حقیقی جمہوریت قائم نہیں کرسکتے تو ہمیں اربوں روپے کے اخراجات کے زیر بار ہوکر انتخابات کا ڈھونگ رچانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم جمہوریت کے نام پر آلۂ کار ادارے کیوں بناتے ہیں؟ اور پھر دنیا بھر میں اپنا مذاق بنواتے ہیں۔

اس سارے کھیل میں نظام کے ساتھ مل کر نام نہاد سیاسی ومذہبی جماعتوں کاجبر و تشدد، آمریت، دَھونس اور دھاندلی کا ہنسی خوشی حصہ بن جانا کوئی تعجب کی بات نہیں، کیوں کہ یہ جماعتیں اور سیاست دان اسی نظام کی پیادے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت جاننا کوئی مشکل امر نہیں کہ یہ سیاسی جماعتیں نہیں، بلکہ مافیاز ہیں، جو نظام کی ملی بھگت سے عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکتی ہیں۔   

آج کل 1973ء کے آئین کے تناظر کی شہرت رکھنے والی نیم سیاسی مذہبی شخصیت اور اسی نظام کی چھتر چھاؤں کے نیچے پرورش پانے والی دیگر کئی سیاسی شخصیات کے دھاندلی پر انکشافات اور ٹسوے بہانے کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اُس پارٹی کے حق میں دھاندلی کی جائے وہ دھاندلی نہیں کہلاتی اوراگر انھیں دھاندلی میں حصہ نہ ملے تو وہ اپنا مول بڑھانے کے لیے در پردہ رازوں سے پردے سِرکانے شروع کر دیتی ہیں، حال آں کہ وہ خود سائفر سازش کے تحت رجیم چینج کے عمل کا نمایاں حصہ تھے۔ ا س کا مطلب ہے کہ اگر مفادپورا ہو جائے تو جھوٹ بھی سچ ہے۔ بس ملک کی سیاسی جماعتوں کی یہی وہ حقیقت ہے جس کے لیے آج کے نوجوانوں پر اس عیار نظام کے حربوں کو سمجھنا اور سمجھانا واجب ٹھہرتا ہے۔ کیوں کہ   ع

غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

اہلِ دانش نے بہت سوچ کے اُلجھائی ہے

اس الیکشن پروسیس سے مزید کوئی اُمید لگانا‘ اس نظام سے مزید دھوکہ کھانے کے مترادف ہے۔ اس نے اپنے سے اُمید رکھنے والوں کو مزید تھکانے کا پورا بندوبست کیا ہوا ہے کہ ابھی جیتنے والی جماعت کے اُمیدواروں نے الیکشن ٹریبونلز اور پھر عالیہ اور عظمیٰ کی در در کی ٹھوکریں کھانی ہیں کہ اس ملک میں ان کے فیصلوں اور حربوں کی تباہ کاریوں کی تاریخ باشعور سیاسی سوچ رکھنے والے افراد سے کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔     (مدیر)

5 / 8

صفاتِ الٰہیہ میں غور و فکر سے متعلق احادیثِ قدسیہ

صفاتِ الٰہیہ میں غور و فکر سے متعلق احادیثِ قدسیہ

اِخبات الی اللہ کا خُلق حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی صفات میں غور و فکر اور تدبر ضروری ہے، اس کے لیے تلاوتِ قرآن حکیم کے ذریعے قرآنی آیات میں غور و تدبر کیا جاتا ہے۔ نیز احادیثِ قدسیہ میں بیان کردہ صفاتِ الٰہیہ پر غور و فکر بھی بڑا مفید ہے۔اس حوالے سے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

’’(تدبر صفاتِ الٰہی کے لیے) قرآن حکیم کے علاوہ وہ احادیثِ قدسیہ ہیں، جو رسول اللہ ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کی ہیں، درجِ ذیل ہیں:

(1۔ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو حرم قرار دیا ہے)

نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

٭           ’’اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے تمھارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، اس لیے تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔

٭           اے میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں، اس لیے مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمھیں ہدایت دوں گا۔

٭           اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، اس لیے مجھ سے کھانا مانگو، میں تمھیں کھلاؤں گا۔

٭           اے میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو، سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا مجھ سے لباس مانگو، میں تمھیں لباس پہناؤں گا۔

٭           اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں ہی سب کے سب گناہ معاف کرتا ہوں، سو مجھ سے مغفرت مانگو، میں تمھارے گناہ معاف کروں گا۔

٭           اے میرے بندو! تم کبھی مجھے نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھو گے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو، نہ کبھی مجھے فائدہ پہنچانے کے قابل ہو گے کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو۔

٭           اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے والے اور تمھارے بعد والے اور تمھارے انسان اور تمھارے جنات سب مل کر تم میں سے ایک انتہائی متقی انسان کے دل کے مطابق ہو جائیں تو اس سے میری حکومت اور ملک میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔

٭           اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے والے اور تمھارے بعد والے اور تمھارے انسان اور تمھارے جنات سب مل کر تم میں سے سب سے فاجر آدمی کے دل کے مطابق ہوجائیں تو اس سے میری حکومت اور ملک میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔

٭           اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے اور تمھارے پچھلے اور تمھارے انسان اور تمھارے جنات سب مل کر ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دوں تو اس سے جو میرے پاس ہے، اس میں اتنا بھی کم نہیں ہوگا جو اُس سوئی سے (کم ہوگا) جو سمندر میں ڈالی (اور نکال لی) جائے۔

٭           اے میرے بندو! (یہ جو کچھ تمھیں دیا جاتا ہے) یہ تمھارے ہی اُن اعمال کے نتائج کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، جو میں تمھارے لیے محفوظ رکھتا ہوں۔ پھر میں اُن کا تمھیں پورا پورا بدلہ دیتا ہوں۔ پس جو آدمی خیر اور بھلائی کا نتیجہ پائے تو اُس کو چاہیے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو آدمی خیر کے علاوہ نتیجہ پائے تو اُسے چاہیے کہ وہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب البر و الصلہ، باب تحریم الظلم: 6572)

(2۔ توبہ کی قبولیت کا ایک اہم واقعہ)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا، اس نے ننانوے انسان قتل کیے۔ پھر اس نے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا (کہ وہ کون ہے؟) اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، کیا اس کے لیے توبہ (کا کوئی راستہ) ہے؟ اس نے کہا: نہیں! تو اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس (کے قتل) سے سو قتل پورے کر لیے۔

اس نے پھر اہل زمین میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا۔ اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا۔ تو اس نے (اس کے پاس جا کر) کہا: اس نے سو قتل کیے ہیں، کیا اس کے لیے توبہ (کا امکان) ہے؟ اس (عالم) نے کہا: ہاں! اس کے اور توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ تم فلاں فلاں سرزمین پر چلے جاؤ، وہاں (ایسے) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جاؤ اور اپنی سرزمین پر واپس نہ آؤ۔ یہ بُری سرزمین ہے۔

وہ چل پڑا، یہاں تک کہ جب آدھا راستہ طے کر لیا تو اسے موت نے آ لیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ شخص توبہ کرتا ہوا اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کر کے آیا تھا۔ اور عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہیں کیا۔ تو ایک فرشتہ آدمی کے روپ میں ان کے پاس آیا، دونوں طرف کے فرشتوں نے اسے اپنے درمیان (ثالث) مقرر کر لیا۔ اس نے کہا: دونوں زمینوں کا درمیانی فاصلہ ماپ لو، وہ دونوں میں سے جس زمین کے زیادہ قریب ہو تو وہ اسی (زمین کے لوگوں) میں سے ہوگا۔

فرشتوں نے مسافت کو ماپا تو اسے اس زمین کے قریب تر پایا جس کی طرف وہ جا رہا تھا، چناں چہ رحمت کے فرشتوں نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا‘‘۔

حضرت قتادہؒ نے کہا: حسن (بصریؒ) نے کہا: ’’(اس حدیث میں) ہمیں بتایا گیا کہ جب اسے موت نے آ لیا تھا تو اس نے خود کو اپنے سینے کو (گھسیٹ کر گناہوں بھری زمین سے) دور کر لیا تھا‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب التوبہ، حدیث: 7008)

(أبواب الإحسان، باب: 3، بقیّۃُ مَباحث الإحسان)

6 / 8

مامون الرشید کا علمی ذوق

مامون الرشید کا علمی ذوق

بیت الحکمت بغداد کا علمی ادارہ اگرچہ ہارون الرشید نے قائم کیا تھا،لیکن اس کو کمال کی بلندیوں تک پہنچانے اور ایک تحقیقی ادارہ بنانے کا سہرا مامون الرشید کے سر ہے۔ مامون الرشید کا علمی ذوق اعلیٰ درجے کا تھا، خصوصاً اسلامی علوم میں کمال درجے کی مہارت حاصل تھی۔ ایک واقعے سے ان کی علمی بلندپروازی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مولانا شبلی نعمانیؒ لکھتے ہیں کہ: جب مامون مصر کے دورے پر گئے تو ایک شخص ان کے پاس آئے اور ان کو مبارک باد دی کہ آج عراق، حجاز، شام اور مصر سب آپ کے زیرِنگیں ہیں اور حضور ﷺ کے چچا کی اولاد ہونا اس پر مستزاد ہے۔

مامون الرشید نے کہا کہ: ہاں! بجا فرمایا آپ نے، مگر ایک آرزو ابھی باقی ہے کہ مجلسِ عام ہو، حدیث کے شائقین موجود ہوں اور احادیث لکھنے والے میرے سامنے بیٹھے ہوں۔ وہ احادیث کے بارے میں پوچھیں اور میں سند کے ساتھ ان کو احادیث بیان کروں۔ احادیث پر اس قدر عبور کی و جہ یہ تھی کہ وہ بچپن میں ہی اس وقت کے چوٹی کے محدثین سے احادیث حاصل کر چکے تھے۔

اب وہ علومِ عقلیہ خصوصاً فلسفے کی طرف مائل ہوئے۔ علومِ عقلیہ کی طرف میلان کی ایک وجہ تو ان کا طبعی رُجحان تھا، مزید یہ کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاحب تخت پر جلوہ افروز ہیں، مامون نے قریب جا کر پوچھا: آپ کا نام؟ تو تخت نشین نے کہا: ارسطو۔ مامون پر خوشی کی ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوئی۔ پھر سوال کیا کہ: حضرت! یہ بتائیے دنیا میں اچھائی و برائی کا معیار کیا ہے؟ تو ارسطو نے جواب دیا: جس کو عقلِ سلیم اچھا کہے، وہ اچھی ہے۔ مامون نے پھر کہا: مجھے کوئی نصیحت فرمائیے! تو کہا کہ: توحید اور اچھی صحبت کو لازم پکڑنا۔

مامون کا کچھ تو پہلے ہی علومِ عقلیہ کی طرف رُجحان تھا، کچھ اس خواب نے دلچسپی اَور بڑھا دی۔ صبح ہوتے ہی مامون نے قیصرِ روم کو خط لکھا کہ ارسطو کی جس قدر تصانیف مل سکیں دار الخلافہ بغداد کو روانہ کی جائیں۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمان خلفا کے معمولی خطوط بھی روم کے بادشاہوں کے لیے حکم کا درجہ رکھتے تھے۔ چناں چہ قیصر اس حکم پر عمل کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہوا، لیکن صورتِ حال یہ تھی کہ اس وقت فلسفہ اور دیگر علومِ عقلیہ روم اور اطرافِ روم میں گم نام ہو چکے تھے۔ تلاشِ بسیار کے بعد ایک راہب ملا، اس نے بتایا کہ یونان میں ایک مکان ہے جو قسطنطین کے زمانے سے بند ہے اور روم کے جتنے بھی حکمران اس کے بعد تخت نشین ہوئے، وہ اس مکان پر مزید تالے لگاتے گئے۔ قسطنطین نے فلسفے کی تمام کتابیں جو اس وقت دست یاب تھیں، اکٹھی کر کے اس مکان میں مقفل کر دی تھیں کہ فلسفہ و حکمت عام ہوئے تو دینِ عیسوی کو سخت نقصان ہو گا۔

راہب کی نشان دہی پر اس مکان کے تالے کھولے گئے تو بہت سی کتابیں محفوظ ملیں، لیکن قیصر کو اب یہ خدشہ ہوا کہ مسلمانوں کے ساتھ ایسی فیاضی کہیں مذہبی طور پر ممنوع نہ ہو۔ مشیروں سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ: یہ کتابیں بھجوانے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ کہا کہ فلسفہ مسلمانوں میں پھیلا تو اُن کے مذہبی جوش و خروش کو ٹھنڈا کر دے گا۔ اس پر قیصر نے وہ تمام کتابیں پانچ اونٹوں پر لاد کر مامون کے پاس روانہ کر دیں۔ مامون نے تمام کتابوں کا عربی میں ترجمہ کروایا۔ اس کام پر مشہور فلسفی یعقوب بن اسحاق کندی کو مامور کیا، جو خود کئی زبانوں کا ماہر اور علمی تحقیق و ریسرچ پر ایک اتھارٹی مانا جاتا تھا۔

7 / 8

الیکشن کے بعد

الیکشن کے بعد

دُنیا میں یوکرین اور غزہ کے خطوں میں دو بڑی جنگیں لڑی جارہی ہیں، جنھوں نے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان جنگوں کو جاری رکھنا حقیقت میں ایک مشکل کام ہے۔ چناں چہ لڑائی کے میدان میں روایتی اور جدید ہائی ٹیک اسلحے کی سپلائی ایک مشکل، مہنگا اور پیچیدہ کام ہے۔ معاشی گراوٹ کے ان سالوں میں یہ جنگیں دراصل مغربی دنیا کے گلے کی ایک ہڈی بنتی چلی جارہی ہیں۔ خیال یہ کیا جاتا تھا کہ یوکرین کی جنگ چند ماہ میں ختم ہوجائے گی، لیکن اس کی طوالت یورپی ممالک کے بجٹ پر بوجھ بن چکی ہے۔ یہی حال امریکا کا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرین کی جانب سے امداد کا تقاضا بڑھتا جارہا ہے اور وہاں سے اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ امریکا اور یورپ کو روس سے مقابلے کے لیے کم از کم مزید دو سال تک اسلحے کی بلا تعطل سپلائی جاری رکھنی ہوگی، جب کہ سپلائی اور دفاعی معاونت کی موجودہ صورتِ حال اس تقاضے سے مطابقت نہیں رکھتی۔

دوسری طرف امریکا میں انتخابات کے سال کا آغاز ہوچکا ہے، جس کے اختتام پر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ معاشی اضمحلال اور گراوٹ کے پیشِ نظر ٹرمپ اپنی صدارتی مہم میں اس بات کا اعادہ کررہا ہے کہ وہ ان دونوں جنگوں کو منطقی انجام تک پہنچائے گا اور نیٹو کا بوجھ کم کرے گا۔ اس حوالے سے ’’امریکا سب سے پہلے‘‘ کا نعرہ عوام میں زور پکڑ رہا ہے۔

حقیقتِ حال یہ ہے کہ سال 2024ء کے دوران ان جنگوں کو تکمیلی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی، کیوں کہ ٹرمپ کی ناکامی کی صورت میں بھی نئے امریکی صدر پر ان غیر ضروری اخراجات میں کمی کا دباؤ ہوگا، جو بالآخر ان خطوں کے حوالے سے کسی متبادل حکمتِ عملی کا اجرا کرے گا، جو بہر حال فوجی نہیں ہوگی۔ ایسی کوئی بھی پالیسی پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتِ حال میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے، جس میں عالمی مالیاتی ادارے نسبتاً زیادہ سخت پالیسیوں پر عمل پیرا ہوں گے اور پاکستان میں موجود دائمی مالیاتی خسارے کو کم کرنے پر پہلے سے زیادہ زور دیں گے۔ ایسے میں عالمی کساد بازاری کے رُجحانات ہماری برآمدات پر مستقل دباؤ برقرار رکھیں گے اور ہماری بعد از الیکشن دھینگا مشتی اور دَھاندلی سے دُھندلائی ہوئی فضا ہمیں سر نہیں اٹھانے دے گی۔ کیوں کہ ان حالات میں کوئی ذی شعور وعقل‘ کم ازکم پاکستان کا رُخ اپنی مالی بربادی کے لیے نہیں کرے گا، خواہ وہ کوئی عالمی مالیاتی ادارہ ہو یا ملک۔ اور کوئی ایسا کرے گا بھی تو محدود وقتی اور اتنی ضرورت کا‘ جو اس کے پہلے سے لگائے ہوئے مال کو بچا سکے۔ عوامی توقعات کے مطابق حکومت سازی ہی ایک ایسا عمل ہے، جو پاکستان کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے، لیکن اس نظام کے ہوتے ہوئے یہ پاکستان میں پہلے ہوا ہے، نہ کبھی ہوگا۔

8 / 8

احکام و مسائل رمضان المبارک

احکام و مسائل رمضان المبارک

۱۔            ہر مسلمان مرد وعورت، عاقل، بالغ پر رمضان المبارک کے روزے رکھنا فرض ہے۔

۲۔            شریعت میں روزے کا مطلب ہے کہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک روزے کی نیت سے کھانا، پینا اور جماع کرنا چھوڑ دیا جائے۔

۳۔          رمضان المبارک میں کسی مجبوری کی وَجہ سے روزہ چھوٹ جائے تو رمضان کے بعد اس کی قضا کرنا ضروری ہے۔

۴۔          حالت ِسفر میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن اس کی قضا ضروری ہے۔

۵۔          حالت ِسفر میں اگر روزہ سے کوئی تکلیف نہ ہو تو روزہ رکھنا بہتر ہے۔ اگر روزہ نہ رکھے تو کوئی گناہ نہیں، البتہ رمضان شریف کی فضیلت سے محرومی ہے۔

۶۔           بغیر کسی وَجہ کے روزہ چھوڑ دینا درست نہیں اور بڑا گناہ ہے۔

۷۔          اگر روزہ دار کو بھول کر کھاتے پیتے دیکھا اور روزہ دار کو روزہ کی وَجہ سے تکلیف نہیں ہے تو اس کو یاد دلانا واجب ہے۔

۸۔          اگر کسی نے کسی وَجہ سے روزہ نہ رکھا تو احترامِ رمضان کا تقاضا ہے کہ لوگوں کے سامنے کچھ کھائے پئے نہیں۔

۹۔           رمضان المبارک کے روزہ میں بس اتنی نیت کرلینا کافی ہے کہ آج میرا روزہ ہے اور سحری کے وقت ’’وَبِصَوْمِ غَدٍ نَوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمْضَانَ‘‘ پڑھنا مستحب ہے۔

۱۰۔         اگر رات سے رمضان المبارک کے روزے کی نیت کرلے تو بھی فرض ادا ہوجاتا ہے۔

۱۱۔          اگر کچھ کھایا پیا نہ ہوتو دن کو 10، 11 بجے تک نیت کرلینا درست ہے۔

۱۲۔         اگر رمضان المبارک کے مہینے میں نفل، قضا یا نذر کے روزے کی نیت کی، تب بھی رمضان کا روزہ ادا ہوگا۔

۱۳۔ سحری کھانا سنت ہے۔ اگر بھوک نہ ہو اور کھانا نہ کھائے تو کم از کم دو تین کھجوریں ہی کھالے۔ یا کوئی اور چیز تھوڑی بہت کھالے۔ کچھ نہ سہی تو پانی ہی پی لے۔

۱۴۔ سحری میں جہاں تک ہوسکے، دیر کر کے کھانا بہتر ہے، لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ صبح صادق ہونے لگے اور روزے میں شبہ پیدا ہوجائے۔

۱۵۔ جب سورج ٹھیک غروب ہوجائے تو فوراً روزہ کھولنا مسنون ہے، دیر کر کے کھولنا مکروہ ہے۔

۱۶۔          جب تک سورج کے غروب ہونے میں شبہ رہے، تب تک افطار کرنا جائز نہیں۔ سورج غروب ہونے کا تعلق مشاہدے سے ہوتا ہے، جب کہ آج کل عام طور پر ایسا نہیں کیا جاتا۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں کہ آسمان صاف نہیں ہوتا، بلکہ دائمی جنتریوں کو سامنے رکھتے ہوئے گھڑیوں سے اوقات دیکھ کر روزہ افطار کیا جاتا ہے۔ اس لیے فلکیاتی حساب سے دائمی جنتریوں میں مطبوعہ اوقات میں دو سے پانچ منٹ کی احتیاط کر کے روزہ افطار کرنا چاہیے۔

۱۷۔ کھجور یا چھوہارے سے افطار کرنا مستحب ہے، لیکن اگر کسی دوسری چیز سے افطار کیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔

۱۸۔ افطار کے وقت یہ دعا پڑھنا مسنون ہے: ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ لَکَ صُمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔‘‘ اگر کسی کو یہ دعا یاد نہ ہو تو اپنی زبان میں روزہ افطار کرنے پر خدا کا شکر بجالائے۔

۱۹۔ درجِ ذیل تمام صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا اور نہ مکروہ ہوتا ہے:

٭           اگر بھول کر کھالے یا پی لے یا جماع کر لے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

٭           اپنے آپ قے ہوگئی تو روزہ نہیںٹوٹتا، چاہے قے تھوڑی ہو یا زیادہ۔

٭           سرمہ لگانا، تیل لگانا، خوشبو سونگھنا، یا حلق میں از خود دھواں یا گرد و غبار وغیرہ کا چلا جانا۔

٭           دانتوں میں گوشت وغیرہ کا ریشہ، جو چنے سے کم ہے، اس کو باہر نکالے بغیرنگلنا۔

٭           لعاب نگلنا، زبان سے کوئی چیز چکھ کر تھوک دینا۔

٭           روزے میں تازہ یا خشک مسواک کرنا، اگرچہ نیم کے درخت کی ہو۔

٭           گرمی یا پیاس کی وَجہ سے غسل کرنا، خواہ کئی بار ہی کیوں نہ ہو۔

۲۰۔ درج ذیل صورتوں میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور صرف قضا واجب ہوجاتی ہے:

O            کلی کرتے وقت بِلااِرادہ حلق میں پانی اُتر جانا۔

O            خود بہ خود قے آئی اور جان بوجھ کر حلق میں لوٹا لی۔

O            اپنے اختیار سے منہ بھر کر قے کر ڈالی۔

O            کان میں تیل ڈال لینا، ناک میں ناس لینا، سگریٹ یا حقہ پینا۔

O            دانتوں سے نکلے ہوئے خون کو نگل لینا جب کہ خون تھوک پر غالب ہو۔

O            بھولے سے کچھ کھا پی لیا اور یہ سمجھ کر کہ روزہ ٹوٹ گیا، پھر جان بوجھ کر کھا یا پی لینا۔

O            یہ سمجھ کر کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی، سحری کھالی، پھر معلوم ہوا کہ صبح ہوچکی تھی۔

O            بادل یا آسمان پر غبار کی وَجہ سے یہ سمجھا کہ آفتاب غروب ہوگیا، روزہ افطار کرلیا حالانکہ ابھی دن باقی تھا۔

۲۱۔           درجِ ذیل وہ صورتیں، جن میں کفارہ بھی واجب ہوتا ہے:

                رمضان المبارک کا روزہ جان بوجھ کر توڑنے سے کفارہ لازم آجاتا ہے، جو دو مہینے لگاتار روزے رکھنا ہے۔ اگر یہ طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صبح و شام کھانا کھلائے یا ایک روزے کے بدلے صدقہ فطر کی مقدار غلہ یا اس کی قیمت انھیں ادا کرے۔ اگر ایک ہی رمضان کے دو تین روزے توڑ ڈالے تو بھی ایک ہی کفارہ کافی ہوجائے گا۔

۲۲۔ جس کو اتنا بڑھاپا ہوگیا ہو کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی، یا اتنا بیمار ہے کہ اب اچھا ہونے کی اُمید نہیں رہی اور روزہ رکھنے کی طاقت نہیں ہے تو وہ روزہ نہ رکھے۔ اور ہر ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو صبح و شام پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا (1700 گرام) غلہ یا اس کی قیمت بہ طورِ فدیہ ادا کرے۔

End of issue

Back