Jan-2023

Rahimia Magazine

Jan-2023

Jan 10, 2023 9 articles Download Download EPUB

1 / 9

میثاقِ عدل کی واضح طور پر خلاف ورزی

میثاقِ عدل کی واضح طور پر خلاف ورزی

سورت البقرہ کی گزشتہ آیت (84) میں بنی اسرائیل کے میثاقِ عدل کا تذکرہ تھا۔ اس معاہدے کی دو شِقیں تھیں: (1) وہ ایک دوسرے کا خون نہیں بہائیں گے۔ (2) وہ ایک دوسرے کو اپنے گھروں سے باہر نکال کر جلاوطن نہیں کریں گے۔ درجِ ذیل آیت (85) میں اُن کی طرف سے اس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کا ذکر ہے۔

(پھر تم وہ لوگ ہو کہ ایسے ہی خون کرتے ہو آپس میں): بنی اسرائیل نے معاہدے کی پہلی شِق کی خلاف ورزی کی اور اپنے سماج میں ذاتی مفادات اور گروہی طبقات کی بنیاد پر ایک دوسرے کا قتل کرنا شروع کردیا۔ طاقت ور حکمران طبقے دوسری اقوام کے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی قوم کے انسانوں کو قتل کرتے تھے۔ اور اس طرح اُن سے مفادات اُٹھاتے تھے۔

(اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقے کو اُن کے وطن سے): بنی اسرائیل نے معاہدے کی دوسری شِق کی بھی خلاف ورزی کی۔ اُن میں سے ایک فرقہ دوسرے فرقے کو وطن سے بے وطن کرنے میں اَغیار کا ساتھ دیتا تھا۔ ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفادات کے لیے دوسری اقوام کے ساتھ مل کر اپنی ہی قوم کے نوجوانوں کو اپنے ہی ملک سے جلاوطن اور بے گھر کردیتے تھے۔

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ لکھتے ہیں: ’’مدینے میں دو فریق یہودیوں کے تھے: ایک بنی قُریظہ، دوسرے بنی نضیر۔ یہ دونوں آپس میں لڑا کرتے تھے۔ اور مشرکوں کے بھی مدینے میں دو فرقے تھے: ایک اَوس، دوسرے خزرج۔ یہ دونوں بھی آپس میں دشمن تھے۔ بنی قُریظہ تو اَوس کے موافق ہوئے اور بنی نضیر نے خزرج کے ساتھ دوستی کی تھی۔ (آپس کی) لڑائی میں ہر کوئی اپنے منافقوں اور دوستوں کی حمایت کرتا۔ جب ایک کو دوسرے پر غلبہ ہوتا تو کمزوروں کو جلاوطن کرکے اُن کے گھر ڈھاتے (تھے)‘‘۔

(چڑھائی کرتے ہو اُن پر گناہ اور ظلم سے): دوسری اقوام کے ساتھ مل کر اپنے ہی لوگوں پر چڑھائی کرکے سخت گناہ کا ارتکاب کرنا اور ظلم و زیادتی کا معاملہ کرنا یہودیوں کا وطیرہ بن چکا تھا۔

(اور اگر وہی آویں تمھارے پاس کسی کے قیدی ہو کر تو اُن کا بدلہ دے کر چھڑاتے ہو): اُن کی عادت تھی کہ پہلے قوم کے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی قوم کے لوگوں کے ساتھ لڑائی کرتے اور انھیں گرفتار کرواتے تھے۔ پھر تورات میں بیان کردہ قانون کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے لیے مال جمع کرتے اور ان قیدیوں کو رہا کرانے کے لیے دشمنوں کو فدیے کے طور پر مال دیتے تھے۔

حضرت شیخ الہندؒ مزید فرماتے ہیں: ’’اور اگر کوئی قید ہو کر پکڑا آتا تو سب رَل مِل کر مال جمع کرکے اُس کا بدلہ دے کر قید سے اُس کو چھڑاتے (تھے)‘‘۔

(حال آں کہ حرام ہے تم پر اُن کا نکال دینا بھی): حال آں کہ میثاقِ عدل کی دوسری شِق کے مطابق اُن پر یہ حرام تھا کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو جلاوطن نہ کریں اور ہجرت کرنے پر مجبور نہ کریں۔

امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ہمیں انتہائی افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان میں ہماری قوم‘ ملک پر مسلط کافروں (انگریزوں) کی صف میں شامل ہو کر مسلمانوں سے لڑتی رہی ہے۔ خاص طور پر انھوں نے جنگِ عظیم اوّل میں انگریز سامراج کے ساتھ دوستی اور موالات کی تھی۔ یہ اُن کے دین کی بہت بڑی کمزوری رہی ہے کہ وہ عیسائی حکمرانوں کے ماتحت رہ کر کام کرتے رہے ہیں۔

لیکن مجھے اس بات پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے علمائے دیوبند میں سے ہمارے مشائخ وہ حضرات ہیں کہ جنھوں نے انگریزوں کے ساتھ اس دوستی اور موالات کی قباحت اور خرابی کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ وہ اگرچہ انگریزوں کے ساتھ دوستی کرنے کے اس گناہ میں شریک ہونے سے عام مسلمانوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ انھوں نے اپنی پوری طاقت اور قوت سے دین میں خیانت کرنے والے ایسے لوگوں کے مکر و فریب کا پردہ چاک کیا ہے۔ ان علمائے حق کی یہ کمزور سی تحریکِ آزادی ٹھنڈی نہیں ہوئی، بلکہ آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور بہ تدریج ملک کی آزادی کی یہ تحریک ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی، لیکن ہمارے شیخ حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ کی وفات (1905ء) کے بعد ہماری جماعت میں جو جمود اور سکون پیدا ہوا، اس نے ہمارے لیے اپنے مقصد کی کامیابی میں بہت زیادہ تاخیر کردی۔ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم منہ بھر کر فخر کا اظہار کریں، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے مشائخ میں ایسے لوگ بھی تھے، جو ہمارے شیخ المشائخ (حضرت گنگوہیؒ) کی وفات کے بعد اُن کے طریقے پر چلتے رہے۔ وہ جماعت کی اجتماعیت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی قدرت کے مطابق تحریکِ آزادی کے راستے پر چلتے رہے۔ اگر جنگِ عظیم اوّل (1914ء تا 1918ء) مزید دو سال کی تاخیر سے شروع ہوتی تو اس تحریک کو منظم کرنے کے لیے کافی فرصت مل جاتی۔ مجھے یقین ہے کہ ایسی صورت میں یہ تحریک اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوجاتی۔ اس سست روی کے زمانے میں ہماری جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہوگئے، جو رجعت پسند اور گھروں میں دبک پر بیٹھنے والے تھے۔ وہ اپنے مقصد اور دل کی بات واضح طور پر بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اس لیے کہ جدوجہدِ آزادی کے امور کے لیے ایک جماعت پورے طور پر قائم تھی۔ نیز جدوجہد کا یہ کام صرف ہمارے شیخ (مولانا محمودحسنؒ) تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ اُن کے ساتھ حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ کے متبعین کی ایک جماعت اور مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ کے متبعین کی ایک جماعت _ مثلاً مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری ہیں _پورے طور پر شامل رہے۔ وہ ہمارے شیخ، شیخ الہند (محمودحسنؒ) کے حجاز جانے کے بعد مجاہدین آزادی کے سربراہ اور رئیس مقرر ہوئے تھے۔

ہمارے شیخ مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ نے (1857ء کے بعد) اپنے سکون و اطمینان کے زمانے میں (تحریک ِآزادی کے حوالے سے) ایسے کام کیے ہیں، جن کا اس وقت اظہار کرنا مناسب نہیں ہے۔ گھروں میں بیٹھنے والے رجعت پسند لوگوں کے مکر و فریب کو توڑنے اور ان کے باطل دعوؤں کی تردید کے لیے یہ بات کافی ہے کہ حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ جیسے لوگ ہمارے شیخ (حضرت گنگوہیؒ اور حضرت شیخ الہندؒ) کی سیاسی جماعت میں پورے طور پر شامل رہے ہیں‘‘۔ (الہام الرحمن فی تفسیر القرآن)

2 / 9

عذابِ جہنم سے بچانے والے اعمال

عذابِ جہنم سے بچانے والے اعمال

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:

’’أَلا أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ یَحْرُمُ عَلَی النَّارِ، أو بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَیْہِ النَّارُ؟ عَلٰی کُلِّ قَرِیْبٍ، ھَیِّنٍ، سَھْلٍ‘‘۔ (السّنن للتّرمذی، حدیث: 2488)

(حضرت عبداللہ بن مسعوؓد کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تمھیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے! 1۔ لوگوں سے قریب رہنے والے، 2۔ آسانی کرنے والے، 3۔ اور نرم اَخلاق والے پر جہنم حرام ہے۔)

اس حدیثِ مبارکہ میں نبی اکرمﷺ ایک مؤمن کے اہم مقصد کے حصول کی حکمتِ عملی بتارہے ہیں۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آخرت میں انسان کو جہنم سے چھٹکارا اور اللہ کی رضا کے مقام جنت میں داخلہ نصیب ہوجائے۔ اس ضمن میں حضورﷺ نے ان تین چیزوں کا ذکر کیا ہے، جو انسان کو جہنم سے بچائیں گی:

(1) لوگوں سے قریب رہنے والے، یعنی انسان کی زندگی اس طرح کی ہو کہ جس میں لوگوں کو اس کے ساتھ ملنے جلنے اور اسے لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے میں کسی قسم کا کوئی حجاب اور کوئی رُکاوٹ نہ ہو۔ اور وہ بلاکسی تکلف لوگوں کے ساتھ اپنا رابطہ قائم رکھنے والا ہو۔ کبروغرور سے پاک، انسانی ہمدردی رکھنے والے اور لوگوں کے دُکھوں اور خوشیوں میں شریک ہونے والے لوگ عمدہ اَخلاق کے حامل ہوتے ہیں۔

(2) یہ لوگ آسانی کرنے والے ہوتے ہیں، یعنی لوگوںکے ساتھ ایسا سلوک اختیار کرتے ہیں کہ ان کی وَجہ سے لوگ اپنی زندگیوں میں آسانیاں محسوس کریں۔ معاشی، سماجی طور پر یا دیگر اَور معاملات میں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا کہ جو ان کے لیے راحت، آرام اور سکون کا باعث بنے، بہت اونچا خلق ہے۔

(3) ایسے لوگ جو نرم اَخلاق والے ہوں، یعنی جن کے رویوں میں سختی، درشتی اور دوسرے انسانوں کے لیے بے جا ایسا طرزِعمل نہیں ہوتا جو اُن کے لیے بلاسبب تکلیف کا باعث ہو، یا انھیں مشکل اور سختی میں ڈالے۔ یہ وہ اُمور ہیں جو دوسرے انسانوں کے لیے دنیا میں پُرسکون، باوقار اور آسانی والی زندگی گزارنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

زیرِغور حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عقائد و عبادات کے اہتمام کے بعد اہم ترین راہِ عمل انسان کے وہ عمدہ اخلاق ہیںکہ جس سے دوسرے انسانوں کو فائدہ ہو۔ اور لوگوں کے لیے ایسے مؤمن کے ساتھ مل کر پُرسکون، باوقار، خوش حال اور خوشیوں والی زندگی گزارنا ممکن ہوجائے۔ یہ طرزِعمل انسان کے لیے جہنم سے چھٹکارے اور جنت کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔ سرمایہ پرستی کے نظام نے اس اونچے تصورات اور اَخلاقیات کو گہنا دیا ہے۔ اہلِ دین کی ذمہ داری ہے کہ اس اہم اور نہایت قابلِ توجہ دینی فریضے کی طرف متوجہ ہوں۔

3 / 9

حضرت سعید بن عاص اُموی رضی اللہ عنہٗ

حضرت سعید بن عاص اُموی رضی اللہ عنہٗ

حضرت سعید بن عاص اُموی رضی اللہ عنہٗ کے دادا  أبو اُحَیحَہ کے نام سے مشہور تھے اور قریش کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپؓ کے دادا جس رنگ کا عمامہ پہنتے تھے، ان کی عزت و تکریم کی وجہ سے اس رنگ کا عمامہ مکہ میں کوئی اور نہ پہنتا تھا۔ اور ان کا لقب ’’ذو التاج‘‘ تھا۔ حضرت سعیدؓ بن عاص ہجرت والے سال پیدا ہوئے۔ صغارِ صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے وقت آپؓ کی عمر 9 سال تھی۔ رسول اللہ ﷺ سے آپؓ کا حدیث کی روایت کرنا بھی ثابت ہے ۔ نیز آپؓ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت عائشہؓ سے بھی احادیث روایت کرتے ہیں۔ آپؓ سے روایت کرنے والے آپؓ کے دو بیٹے یحییٰ اور عمرو، اور سالم بن عبد اللہ بن عمر اور عروہ بن زبیر ہیں۔

حضرت سعیدؓ کے والد عاص غزوۂ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارے گئے۔ ان کو حضرت علیؓ نے قتل کیا۔ حضرت عمرؓ نے ایک بار حضرت سعیدؓ سے فرمایا کہ: ’’میں نے تمھارے والد کو قتل نہیں کیا، میں نے تو تمھارے ماموں عاص بن ہاشم کو قتل کیا تھا اور میں مشرک کے قتل سے عذر بھی پیش نہیں کرتا‘‘۔ حضرت سعیدؓ نے فرمایا: ’’ہاں! اگر آپ نے ان کو قتل کیا تو آپ حق پر تھے اور وہ باطل پر تھے‘‘۔ حضرت عمرؓ کو آپؓ کے اس قول سے بہت تعجب ہوا کہ انھوں نے احوال کا درست تجزیہ کیا، ضد اور تعصب کا شکار نہیں ہوئے۔

حضرت سعیدؓ بن عاص کاشمار قریش کے سرداروں اور انتہائی سخی لوگوں میں ہوتا تھا۔ آپؓ فصاحت اور بلاغت میں بھی اہم ترین اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے۔ آپؓ اُس ٹیم کا بھی حصہ تھے، جنھوں نے حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں قرآن حکیم یعنی ’’مصحفِ عثمانی‘‘ کی کتابت کی خدمات سرانجام دیں۔ گویا آپؓ علمی صلاحیتوں کے حامل تھے اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ رہے ہیں۔ آپؓ عہدِ عثمانی میں کوفہ کے گورنر بھی رہے۔ انتظامی اعتبار سے بھی صلاحیت و استعداد کے مالک اور بڑے کمالات رکھتے تھے۔ اسی لیے انھیں اجتماعی اور حکومتی معاملات کی ذمہ داریوں پر فائز کیا گیا۔ حضرت عثمانؓ کی وفات کے بعد فتنوں کا دور شروع ہوا تو آپؓ نے گوشہ نشینی اختیار کرلی، تاہم بعد میں حضرت امیر معاویہؓ نے اپنے دور میں آپؓ کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا۔

حضرت سعیدؓ بن عاص انتہائی عمدہ اَخلاق کے مالک تھے۔ جب سائل کچھ مانگتا اور پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو بیت المال میں سے دے کر اسے اپنے کھاتے میں بہ طورِ قرض لکھ لیتے اور جب مال میسر آتا تو ادا کردیتے۔ آپؓ کے معمولات میں سے تھا کہ ہر جمعہ کو ہفتہ وار اپنے بھائیوں کو دعوتِ طعام پر جمع کرتے اور انھیں اچھا لباس دیتے اور دیگر مواقع پر ہدایا بھیجتے رہتے، اور ان کے اہل وعیال کے لیے وافر گندم بھیجتے تھے۔ آپؓ ہر جمعہ کی رات میں کوفہ کی جامع مسجد میں اپنے غلام کو دینار کی تھیلیاں بھری ہوئی دے کر بھیجتے اور نمازیوں میں دینار اور سونے کے سکے تقسیم کراتے تھے۔ جمعہ کی رات کو نمازی بھی مسجد میں بہت زیادہ آجاتے تھے، مگر ان کا معمول جاری رہتا تھا۔ آپؓ طبرستان اور جرجان کے معرکوں میں سردار بن کر شریک ہوئے اور۲۹ھ میں انھیں فتح کیا۔ آپؓ نے۵۸ہجری میں وفات پائی۔

4 / 9

سال بدلا ہے،نظام بھی بدلو

سال بدلا ہے،نظام بھی بدلو

آج پھر ہمیں گردشِ ایام نے بہت سی توقعات کے ساتھ ایک نئے سال کی دہلیز پر لاکھڑا کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسانی زندگی کی خواہشات کا لنگر توقعات کے ساتھ بندھا ہوا ہے، لیکن عمل اور نتائج کی زندگی میں حقیقت کی ناقابلِ تردید اہمیت ہے، جسے کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری قومی زندگی کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری زمامِ اقتدار سنبھالے طبقے اس معاملے میں اتنے غافل ہیں کہ ان کے کانوں تک زمانے کی کوئی بھی آواز پہنچ نہیں پارہی۔ اِبلاغیات کے شعبے کی حیرت انگیز ترقیات کے باوصف کہ جہاں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آوازیں ہوا کے دوش پر سفر کرتی اربوں انسانوں سے شرفِ سماعت حاصل کرتی ہیں، لیکن سائنس کی دنیا ابھی تک ایسی کسی ایجاد سے قاصر ہے، جس کی بہ دولت پاس بیٹھے انسانوں کے دلوں کے کانوں میں کوئی آواز اُتاری جاسکے۔ انسانی جماعتوں کی یہ غفلت شعاری کوئی نئی بات نہیں۔ انسانی تاریخ ایسی غافل جماعتوں سے بھری پڑی ہے، جن کے دل کے کان ناموسِ الٰہی کے سامنے بھی اپنی ہٹ دھرمی چھوڑنے کو تیار نہیں تھے اور سنتِ الٰہی نے ان کی بدبختی کے فیصلے صادر کردیے۔

ہمارے ملک کے وہ طبقے، جن کا جُوا قیامِ ملک ہی سے قوم کے گلے میں پڑا ہوا ہے، وہ غفلت کی ایسی گہری نیند اور مفاد پرستی کے ایسے نشے میں مدہوش ہیں کہ ان کے ہاں چیزوں کے مفہوم ہی تبدیل ہوچکے ہیں۔ انھوں نے ایک مخصوص طبقے کے مفاد کو قومی مفاد، ایک جماعت کے اقتدار کو قومی حکومت اور اپنی خواہشات کی تکمیل کو فطرت کے تقاضوں کا جواب سمجھ لیا ہے۔ وہ اس ڈگر پر گزشتہ پوّن صدی سے کان بند کیے محوِ سفر ہیں۔ ملک کی جماعتیں آپس میں دست و گریبان ہیں۔ ادارے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ آئین و دستور کی شِقیں تک اپنے اپنے مطلب کے مطابق بانٹ لی گئی ہیں۔ ہرجماعت کے حق میں جانے والی شِقوں کی دھجیاں اس جماعت کے ہاتھ میں اور باقی بچا ہوا دستور پاؤں کے نیچے ہے۔ بھلا دستوری دستاویزات ایسی قوموں کی رہنما ہوتی ہیں؟ اور یہی معاملہ مذہبی سیاست کا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اپنے عقیدت مندوں کے سامنے قرآن کے صرف اسی حصے کی تلاوت کرتے ہیں، جس سے ان کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے۔ باقی کو سامنے نہیں لاتے: 

 (تو کیا تم اللہ کے بعض احکامات کو مانتے ہو اور بعض سے انکار کرتے ہو؟ تو جو تم میں ایسا کرے، اس کا بدلہ دُنیوی زندگی میں ذلت و رُسوائی کے سوا اَور کیا ہے۔ اور قیامت کے دن انھیں شدید ترین عذاب کی طرف لوٹایا جائے گا اور اللہ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں۔)(-2 البقرہ: 85)

کسی قوم پر دنیا میں ذلت اور رُسوائی کا سبب اس کے سوا اَور کچھ نہیں ہوسکتا کہ جب وہ قوم سچائی اور اُصولوں کی پاسداری چھوڑ دے تو اس وقت دنیا میں اس پر جگ ہنسائی کا دور شروع ہوجاتا ہے۔اس وقت ہمارے ہاں کوئی اصول نہیں، بلکہ اُصولوں کی پاسداری کو دقیانوسی عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی جگہ موقع پرستی اور مفاداتی اُصولوں نے لے رکھی ہے۔ ہماری قومی سیاست سے لے کر عام انفرادی رویوں تک موقع پرستی ہمارے    رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔ گویا ہماری یہ حالتِ زار اجتماعی حوالے سے ہے۔

علاوہ ازیں اس وقت ہمارا سسٹم بالکل ننگا ہو چکا ہے، لیکن پھر بھی ہمارے ہاں نظام کی تبدیلی کے بجائے پُرانے سسٹم کو بچانے کے لیے ہمیشہ کی طرح عارضی رنگ و روغن سے کام لیا جا رہا ہے۔ ہمارے سیاسی نظام میں سیاست دانوں کے نظریات نہیں، مفادات ہوتے ہیں۔ جہاں ایک نام نہاد سنیئر سیاست دان مین سٹریم میڈیا میں بیٹھ کر سیاسی پارٹیوں پر جرنیلوں کے احسانات کی فہرست پیش کرے، اسے آپ مفادات کی سیاست نہیں کہیں گے تو اَور کیا کہیں گے۔

یہ نام نہاد جمہوری نظام اپنے ہی بنائے ہوئے اُصولوں پر نہیں قائم رہتا ہے۔ جمہوریت کا اس سے بڑا سنگین مذاق اَور کیا ہوسکتا ہے کہ نیشنل اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والی پارٹی اقتدار سے باہر ہے اور بھان متی کا کنبہ اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے۔ ایسے ہی پنجاب میں صرف دس سیٹیں رکھنے والی جماعت کے وزیرِاعلیٰ کی حکومت ہے اور ایک سو اَسّی سیٹوں والی پارٹی ان کے ہاتھوں بلیک میل ہورہی ہے۔

چند افراد ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے منظورِ نظر ہیں۔ پورا سسٹم ان کے گرد گھوم رہا ہے۔ نہ یہاں ووٹ کی کوئی اہمیت ہے اور نہ جمہوریت کسی درد کی دوا ہے۔ بس لابنگ کی سیاست ہے، جو جتنی ہوشیاری سے لابنگ کرسکے، وہی کامیاب سیاست دان ٹھہرا۔ اس میں نہ کسی اُصول کی پاسداری ہے اور نہ ضابطے کی پابندی ہے۔ سب ضابطے اور اُصول مفاداتی سیاست، لوٹ مار کی معیشت، ناانصافی کی عدالت اور بددیانتی کی حد تک مالی خیانت کے گرد گھوم رہے ہیں۔

ایسے حالات میں ملک میں موجود سیاسی سرگرمیاں سوائے چند نام کے سیاسی خاندانوں کی خوشنودی کے اَور کچھ نہیں ہیں۔ یہ سیاسی ہلچل نہ تو نظام کی تبدیلی کی جدوجہد سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی عوامی حقوق کی بحالی سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ لہٰذا ایسے حالات میں موجودہ سیاست کو وقت دینے سے بہتر ہے کہ نوجوانوں کی تربیت پر وقت خرچ کیا جائے اور انھیں نظام کی تبدیلی کے بغیر پاکستان کے مستقبل کا یہ نقشہ دکھانا چاہیے کہ اگر نوجوانوں نے نظام کی تبدیلی کی راہ اختیار نہ کی تو یہاں کیا حالات ہوسکتے ہیں۔ معاشرہ بگاڑ کی کس حد تک پہنچ سکتا ہے۔

(مدیر)

5 / 9

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اذکار  (8)

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اذکار  (8)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

(9۔ اللہ کے نام سے برکت حاصل کرنا)

’’مسنون اذکار میں سے (نوواں ذکر) اللہ تعالیٰ کے ناموں سے برکت حاصل کرنا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ ہر چیز کی تخلیق میں حق تبارک و تعالیٰ کی ایک تجلی کارفرما ہے۔ اُن تجلیات میں سے ایک تجلی (الفاظ کی ساخت کی دنیا میں) حروف کی پیدائش اور اُن کی شناخت کے حوالے سے جاری و ساری ہے، یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ایسے اسمائے الٰہیہ پر مشتمل ہے، جو انبیا علیہم السلام کی زبان سے دنیا میں نازل ہوئے اور ملائِ اعلیٰ کے فرشتے اُن کی گردان کرتے ہیں۔ جب ایک بندہ اُن اسمائے الٰہیہ میں سے کسی ایک اسمِ الٰہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت اُس کے بہت قریب ہوجاتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو انھیں پڑھے گا، جنت میں داخل ہوجائے گا‘‘۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ، حدیث: 2287)

میں کہتا ہوں کہ: اس فضیلت کے اسباب میں سے یہ ہے کہ: (1) یہ ننانوے نام ایسا مکمل نصاب ہے، جس سے حق تبارک و تعالیٰ کے لیے ثابت شدہ صفات اور منفی چیزوں سے اُس کی پاکیزگی کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ (2) اور یہ کہ اللہ کے ان ننانوے ناموں کو حظیرۃ القدس میں بڑی برکت اور بڑا رُسوخ حاصل ہے۔ (3) اور یہ کہ ان اَسمائے الٰہیہ کی صورت جب کسی انسان کے نامۂ اَعمال میں قرار پکڑ لیتی ہے تو ضرور وہ اُسے اللہ کی عظیم رحمت کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔

(اسمِ اعظم کی حقیقت؛ جامعیتِ تجلیات)

یہ بات جان لینی چاہیے کہ اللہ کے اسما میں سے وہ اسمِ اعظم کہ جس کے ذریعے سے اللہ سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے اور جس کے ذریعے سے اللہ کو پکارا جائے تو وہ قبول کرتا ہے، وہ اسمِ جامع ہے کہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی تمام تجلیات کو اپنے اندر جمع کیے ہوئے ہے۔ ایسے اسم کو ملائِ اعلیٰ کے فرشتے اکثر پڑھتے ہیں اور ہر زمانے میں ملائِ اعلیٰ کی ترجمانی کرنے والے (انبیا علیہم السلام) کی زبانوں سے بیان کیا جاتا رہا ہے۔

ہم یہ بات پہلے (ابواب الصلوٰۃ کے صلوٰۃ الوضو کے بیان میں) ذکر کر چکے ہیں کہ جب ہم یہ جملہ بولتے ہیں کہ ’’زید شاعر اور کاتب ہے‘‘ تو زید کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ شاعر ہے اور اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ کاتب ہے۔ اسی طرح حق تبارک و تعالیٰ کی بھی عالم مثال کے موطن میں کئی تجلیات مختلف صورتوں کی شکل میں موجود ہیں۔ اور یہ بات (احادیثِ نبوؐیہ میں بیان کردہ) درجِ ذیل ان اذکارِ الٰہیہ پر صادق آتی ہے :

(الف) ’’أنتَ اللّٰہُ، لا إلٰہَ إلَّا أنْتَ الأحَدُ الصَّمَدُ، الّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ، وَ لَمْ یَکُن لَّہٗ کُفُوًا أحَد‘‘ (تُو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی خدا نہیں، یکتا ہے،  بے نیاز ہے، وہ ذات جو کسی سے پیدا نہیں ہوا اور نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا ہے، اور اُس کا کوئی ہم مثل بھی نہیں ہے)۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2289)

(ب)       ’’لَکَ الْحَمْدُ، لا إلٰہ إلَّا أنْتَ الحَنَّانُ المَنَّانُ، بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ و الأرضِ، یَا ذَا الْجَلالِ و الإکْرَامِ، یَا حَیُّ یَا قَیُّوم‘‘(تیرے لیے ہی حمد و ثنا ہے، نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو ہی، بہت مہربان اور احسان کرنے والا، آسمانوں اور زمینوں کو شروع سے بنانے والا ہے۔ اے بڑے بزرگی والے اور عزت والے! اے ہمیشہ زندہ رہنے والے اور ہمیشہ قائم رہنے والے!)۔ (مشکوٰۃ: 2290)

اسی طرح کے بہت سے اسمائے الٰہیہ پر اللہ کی بہت سی مختلف تجلیات صادق آتی ہیں (مترجم عرض کرتا ہے کہ: ان کا تذکرہ احادیث میں ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کا اسمِ اعظم ان دو آیات میں بیان کیا گیا ہے:ـ

(الف)ﵟإِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ ﵞ (-2 البقرہ: 163) (تمھارا خدا ایک خدا ہے، اُس کے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ وہ انتہائی مہربان اور رحم کرنے والا ہے)۔

(ب) :اور سورتِ آلِ عمران کی ابتدائی آیت:ﵟالٓمٓ ١ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُ ٢ ﵞ (اللہ کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں، وہ زندہ اور قائم ہے) (مشکوٰۃ: 2291)

(10۔ نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنا)

اذکار میں سے دسواں ذکر نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنا ہے۔

(1)         نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے مجھ پر ایک دفعہ درود و سلام بھیجا،      اللہ تعالیٰ اُس پر دس دفعہ رحمت نازل کرتا ہے‘‘۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 921)

(2)         آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ لوگ ہوں گے، جو مجھ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں گے‘‘۔ (مشکوٰۃ: 923)

میں کہتا ہوں کہ: اس کا راز یہ ہے کہ بے شک انسانی نفسوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے جاری (رحمت کی) ہواؤں کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی طرف توجہ کرنے میں اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں کہ انسان تجلیاتِ الٰہیہ کے انوار اور اللہ کی زمین میں موجود شعائرِ الٰہیہ کی طرف متوجہ ہو، اُن کے سامنے ہاتھ پھیلائے، اُن میں گہرا غور و فکر کرے اور اُن کے سامنے جا کر کھڑا ہو۔ خاص طور پر اللہ کے مقربینِ بارگاہِ الٰہیہ کی روحوں کے سامنے جو دراصل ملائِ اعلیٰ کے افضل لوگوں میں سے ہیں اور زمین پر اللہ کی سخاوت نازل ہونے کے واسطوں میں سے ایک واسطہ ہیں۔ (یہ سب) اُس طریقۂ کار کے مطابق جس کا ذکر پیچھے (تعظیم شعائر اللہ کے باب میں) بیان کیا جاچکا ہے۔

نبی اکرم ﷺ کا ذکر عظمت کے ساتھ کرنا اور اللہ تعالیٰ سے اُن کے لیے خیر طلب کرنا‘ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا بڑا بہترین طریقہ ہے۔ نیز اس طرح اُن کے لیے اللہ سے خیر طلب کرنے سے تحریف کے دروازے کو بھی بند کر دیا گیا ہے، کہ آپ ﷺ کا ذکر اللہ سے طلبِ رحمت کے لیے ہو (یعنی آپؐ کی اُلوہیت کے طور پر ذکر نہ ہو، جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیاؑ کے حوالے سے کیا تھا)۔                         

 (کاملین کی ارواح سے فیض حاصل کرنے کا طریقہ)

(یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ) کامل انسانوں کی روحیں جب اپنے جسموں سے جدا ہوتی ہیں تو وہ ایک ’’الموج المکفوف‘‘ (بند موج) کی طرح ہوجاتی ہیں، اُن کو کوئی بدلتا ہوا اِرادہ اور کوئی عارضی سبب اور داعیہ حرکت نہیں دے سکتا (جیسا کہ دنیا میں ہوتا تھا)۔ اور وہ نفوس جو اُن سے کم درجے میں ہوتے ہیں، وہ کاملین کی روحوں کے ساتھ اپنے عزم و ہمت سے جڑتے ہیں اور اُن روحوں سے نور کھینچتے ہیں۔ اور ایسی ہیئت و صورت جو اُن کاملین کی روحوں سے مناسبت رکھتی ہے، حاصل کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کے اس ارشادِ گرامی کا یہی مطلب اور مراد ہے کہ: ’’کوئی آدمی ایسا نہیں، جو مجھ پر درود و سلام بھیجے، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اُسے میری روح کی طرف لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اُس کا جواب دیتا ہوں‘‘۔ (رواہ ابودؤد، مشکوٰۃ: 925) میں نے اس طرح آپؐ کے جوابی سلام کا بے شمار دفعہ مشاہدہ کیا ہے۔ جب میں مدینہ منورہ میں۱۱۴۴ھ میں روضۂ رسولؐ پر حاضر تھا۔

نیز نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’میری قبر کی زیارت کو عید مت بنا لینا‘‘۔ (رواہ ابودؤد، مشکوٰۃ: 926) میں کہتا ہوں کہ: یہ دین میں تحریف کی دخل اندازی کا دروازہ روکنے کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیاؑ کی قبروں کے حوالے سے کیا تھا کہ انھوں نے اپنے انبیاؑ کی قبروں کو عید اور حج کی طرح کا ایک موسم بنا لیا تھا‘‘۔

6 / 9

علامہ ابنِ خلدونؒ کے اقتصادی نظریات  (3)

علامہ ابنِ خلدونؒ کے اقتصادی نظریات  (3)

علامہ ابنِ خلدونؒ نے اپنے ’’مقدمہ ابنِ خلدون‘‘ میں اقتصادیات پر بھی سیر حاصل بحث کی ہے۔ اقتصادی و معاشی حوالے سے ابنِ خلدونؒ کے نظریات انتہائی متأثر کن ہیں، جس سے ان کے مشاہدے کی وسعت اور اپنے عہد کے علمی وِرثے سے استفادے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ارسطو کی طرح ابنِ خلدونؒ کا بھی یہی نظریہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہے، وہ سب انسانوں کے لیے ہے، تاکہ تمام بنی نوعِ انسان اس سے فائدہ اُٹھائیں اور اپنی ضروریات پوری کر سکیں، لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ ارسطو نے منطقی انداز سے استدلال کیا ہے جب کہ ابنِ خلدونؒ کے استدلال کی بنیاد قرآن کریم ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے تم سب کے لیے پیدا کیا ہے جو کچھ زمین میں ہے‘‘۔ (-2 البقرہ: 29) ظاہر ہے قرآن کے بیان کردہ حقائق بھی عقل و منطق کے مطابق ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عقل ِدرماندہ کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکے۔

ابنِ خلدونؒ کے ہاں محنت ہی انسانی اُجرتوں کا معیار ہے، محنتیں بہ منزلۂ مبیعات و متقوِّمات (قدر و قیمت رکھنے والی چیزوں) کے ہیں۔ اگر محنت کی پوری قیمت ادا نہ کی جائے تو ظلم و استحصال ہوگا۔ معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے، جس کی ساری دولت ان کی محنتیں؛ کام اور عملی صلاحیتیں ہی ہیں۔ اس لیے اگران سے ان کی محنت کی قیمت چھین لی جائے تو اس سے عمرانی تگ و دو کو سخت نقصان پہنچے گا اور ملک کی معاشی حالت تباہی کے کنارے آ لگے گی۔ ابنِ خلدونؒ سونے اور چاندی کو دولت نہیں سمجھتے، بلکہ تبادلۂ دولت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک دولت کا واحد ذریعہ پیداوار ہے، اور پیدائشِ دولت کا اہم ذریعہ انسانی محنت ہے۔ پیداواری عمل میں جس کی جتنی محنت شامل ہو گی، اتنی ہی اس کی اُجرت ہوگی۔ ان کے نزدیک محنت و عمل کے بغیر قدرتی ذرائع سے بھی فائدہ اُٹھانا ممکن نہیں۔ نہریں، چشمے اور قدرتی سوتے تک خشک ہو جاتے ہیں۔ اگر جانور کے تھنوں میں دودھ ہو اور کوئی دوہنے والا نہ ہو تو یہ تھن سوکھ جائیں گے۔

محنت و عمل کے حوالے سے ابنِ خلدونؒ کا یہ بھی نظریہ ہے کہ اس طرح کا ضابطہ بنایا جائے کہ محنت کش طبقے سے اسی قدر محنت لی جائے، جس سے ان میں نشاطِ کار باقی رہے، یعنی خوش اسلوبی کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیتیں قائم رہیں۔ اگر ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جائے گا تو صنعتی اور پیداواری ارتقا رُک جائے گا۔ ملک کی قوتِ کار کو نقصان پہنچے گا اور عمرانی تقاضے مجروح ہوں گے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کارل مارکس نے جو اقتصادی نظریات پیش کیے ہیں، ابنِ خلدونؒ نے تقریباً پانچ سو سال پہلے اور حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس سے دو سو سال پہلے پیش کر دیے تھے۔

(مقدمہ ابن خلدون، باب: فی حقیقۃ الرزق والکسب و شرحھما ان الکسب ھو قیمۃ الاعمال البشریۃ، ج: 1، ص: 604)

7 / 9

تبدیلیٔ نظام؛ وقت کی سب سے بڑی ضرورت

تبدیلیٔ نظام؛ وقت کی سب سے بڑی ضرورت

آج کل ہماری معیشت جن تجربات سے گزر رہی ہے، اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز وں نے اپنے ہی سابقہ ادوار سے کچھ نہیں سیکھا۔ ڈالر کی قیمت کو مصنوعی انداز میں روکے رکھنا اور تجارتی خسارے میں مصنوعی انتخاب کی بنیاد پر کمی‘ دراصل معیشت کو ایک نئے تباہ کن بحران کی جانب دھکیل رہا ہے۔ درآمدات کو 60 ارب ڈالر کے لگ بھگ رکھنے کی جستجو ہے، جس کی وجہ سے ہر قسم کی درآمدات میں ڈالر کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جاتی اور ہوتا یوں ہے کہ طاقت ور ادارے، حکمران اور ان سے متعلق تاجر وغیرہ دراصل نسبتاً سستے ڈالر کی ادائیگی کرکے درآمدات کر رہے ہیں اور ہمیشہ کی طرح قوم ان کی اس کاوش میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔

ہمارے تجربے میں یہ پہلے بھی آچکا ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں ڈالر کو مصنوعی طور پر 60 روپے کے لگ بھگ رکھا گیا۔ اس ارادے کے پیچھے کچھ دِکھاوا تھا اور کچھ مقامی تاجروں کے لیے سہولت کی سوچ، جسے مضبوط تجارتی سرگرمیوں، بیرونی قرضوں اور سب سے اہم مسلسل امریکی امداد نے سہارا دیا۔ لیکن 2008ء میں ہماری ملکی معیشت کی سب سے بڑی بیماری یعنی جاری کھاتوں کا خسارا (Current Account Deficit) کُل قومی پیداوار کے 8.2 فی صد کی ریکارڈ حد تک بڑھ چکا تھا۔ زرداری دور میں روپے کو خوب گرایا گیا اورتجارتی خسارے میں کمی اور بے پناہ قرضوں کی مدد سے اس بیماری کو قدرے کنٹرول کرلیا گیا۔ 2012ء میں یہی خسارا کم ہو کر کُل قومی پیداوار کے 2.1 فی صد تک آن پہنچا۔

نواز شریف دور میں اس خسارے کو قابو کرنے کے لیے بے پناہ قرضے لیے گئے اور تجارت پر توجہ دیے بغیر مصنوعی طور پر ڈالر کو 100 روپے کے آس پاس رکھا گیا۔ نتیجتاً 2018ء میںیہ خسارا بڑھ کر کُل قومی پیداوار کا6.1 فی صد تک جا پہنچا۔ یوں عمران خان دور کے آغاز میں تاریخ کا بلند ترین خسارا ہماری عالمی تجارت پر سوار تھا۔ پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا تھا۔ درآمدات کو امپورٹ ڈیوٹیاں بڑھا کر کم کیا گیا۔ کچھ سنجیدہ کوششیں برآمدات کو بڑھانے کے حوالے سے کی گئیں۔ تاریخ کا ریکارڈ قرض لیا گیا اور روپے کو خوب گرایا گیا۔ حالات بہتر ہوئے، لیکن 2022ء کے اختتام تک یہی خسارا بڑھ کر کُل قومی پیداوار کا 4.6 فی صدہو گیا۔ ایسے میں شہباز دور کا آغاز ہوتا ہے اور اس خسارے کو کم کرنے کے لیے روپے کو خوب گرایا گیا اور درآمدات کو روکا جارہا ہے۔ تاریخی قرض لیے جاچکے ہیں اور عظیم گراوٹ کے بعد روپے کو مصنوعی طور پر روکا جارہا ہے۔ قوم پر  بے پناہ مہنگائی اور ٹیکسز کا بار منتقل کیا جاچکا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں سے معیشت ایک ہی ذہن سے چلائی جارہی ہے۔

ان کے پاس کوئی اَور حل نہیں ہے، بس منہ کالا کرنے کے لیے شوکت عزیز، حفیظ شیخ، شوکت ترین، مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار جیسے ٹیکنوکریٹس رکھے ہوئے ہیں، جو اَدل بدل کر آتے ہیں اور وہی کارروائی دُہرا کر آگے بڑھتے ہیں۔ قومی معیشت پر میرے حالیہ کالمز کے بعد قارئین کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے حوالے سے پوچھا گیا۔ اس حوالے سے جون اور جولائی 2022ء کے کالمز کا مطالعہ کرلیا جائے، لیکن مجوزہ حل جُزوقتی ہے۔ ہمہ جہتی حل تبدیلیٔ نظام میں ہی مضمر ہے، جتنی جلد ہوجائے۔اس کے لیے قوم کا تیار ہونا ضروری ہے۔

8 / 9

اسلام اور انسانی حقوق کی ادائیگی کا تصور

اسلام اور انسانی حقوق کی ادائیگی کا تصور

16؍ دسمبر 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’معزز دوستو! دینِ اسلام کی معاشی تعلیمات کا بنیادی محور یہ ہے کہ انسانی حقوق کی ادائیگی میں انسانیت کی ذمہ داریاں عمدہ طریقے سے پوری ہوجائیں۔ دینِ اسلام کے کامل نظام میں معاشی نظام کی بنیادی اہمیت ہے۔ معاشی نظام کی اَساس انسانی احتیاجات کی تسکین اور انسانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے متعلق ہے۔ ان احتیاجات کے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جو لوگ سوسائٹی میں ایسی احتیاجات کا شکار ہیں اور اُن کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں، تو دین کا معاشی نظام مسلمان جماعت پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اُن کے حقوق ادا کرے، اُن کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو۔ قرآن حکیم میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ: ﵟفَـَٔاتِ ذَا ٱلۡقُرۡبَىٰ حَقَّهُﵞ کہ تم جو قرابت دار ہیں، تمھارے گرد و پیش جتنے انسان ہیں، خونی رشتے دار ہوں، جماعتی تعلق والے ہوں، کسی فورم پر کام کرنے والے قرابت دار ہوں، پڑوسی ہوں، آپ کے ساتھ بیٹھ کر سفر کرنے والے ہوں، انھیں ان کا معاشی حق دو۔ اللہ پاک نے فرمایا کہ اگر تم یہ تمام حقوق ادا کرو گے توﵟذَٰلِكَ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِۖ ﵞ  (-30 الروم: 38)  یہ بہت خیر اور بھلائی کی بات ہے، لیکن یہ خیر صرف اُن لوگوں کے لیے ہے، جو صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی مخلوق ہے، انسان ہیں، ان کی احتیاجات ہیں، ان احتیاجات کو پورا کرنے کے لیے میں اللہ کی رضا کے لیے میں یہ خرچ کرتا ہوں۔ کوئی ذاتی لالچ اور مفادپرستی کے لیے حقوق ادا کرنا نہیں ہے۔

نیز اللہ پاک نے فرمایا کہ :ﵟأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَﵞ  جو اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرتے ہیں، لوگوں کی مالی ضروریات کی کفالت اور اُن کے حقوق کی ادائیگی کے لیے اللہ کے دیے ہوئے مال کو استعمال میں لاتے ہیں، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ انھیں کو اس زندگی میں بقا ہے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ فلاح کا معنی البقاء ہے، اس کرۂ ارض پر انسانیت میں سے اُن انسانوں کی بقا ہے، اُن کے وسائل باقی رہیں گے، وہ انسان کامیاب ہیں، جو مالی حوالے سے حقوقِ انسانیت ادا کرتے ہیں اور حقوقِ انسانیت کی ادائیگی میں اُن سے کسی قسم کے نفع کے طالب نہیں، بلکہ خالص اللہ کے لیے، اور اس کی رضا اور اللہ کی مخلوق کی خدمت کی نیت سے یہ کام کرتے ہیں۔ اُن کے لیے فلاح اور بقا ہے۔ انبیا کا طریقہ، اُن کے حواریین کا طریقہ، اُن کے اصحاب کا طریقہ، سچے اولیاء اللہ کا طریقہ یہی ہے۔ ولی ہوتا ہی وہ ہے، جو صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کام کرتا ہے۔ گویا وِلایت، نبوت اور حواریت دراصل تبھی ہے کہ جب وہ انسانی بھلائی کے لیے وسائلِ معاش کو خرچ کرتا ہے۔ جو بھی رزق اُن کے پاس آتا ہے، وہ انسانی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کردیتے ہیں۔ حقوقِ انسانیت ادا کردیتے ہیں۔ ان کا نام ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔

سود اِنسانی حقوق کو غصب کرنے کا ذریعہ ہے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’ہر وہ عمل، جو انسانیت کے معاشی حقوق پر ڈاکہ ڈالے، اُس کی نوعیت کسی بھی صورت میں ہو، اسلام کے معاشی نظام میں وہ قابلِ برداشت نہیں ہے۔ قرآن حکیم نے اس کے لیے واضح قانون سازی کی ہے۔ دنیا بھر میں مالی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا، دوسرے انسانوں کی کمائی کو لوٹنے کا سب سے بدترین طریقہ ہمیشہ سے سودی نظام رہا ہے۔ اس سودی نظام کے خلاف تمام الٰہی کتب، تمام حکما، تمام اَخلاقِ فاضلہ کے ماہرین اور دنیا بھر کے انسانی عقل رکھنے والے عقلا اس کی ممانعت کرتے رہے ہیں۔ اس کے خلاف مزاحمتی سوچ پیدا کرتے رہے ہیں۔ قرآن حکیم نے بھی رِبا اور سود کی حرمت پر سورت البقرہ اور سورت آلِ عمران اور دیگر سورتوں میں بڑی تفصیل سے گفتگو کی ہے۔

قرآن حکیم کا انداز و اُسلوب یہ رہا ہے کہ جو چیز کسی انسانی سماج میں بہت گہرائی کے ساتھ سرایت کرچکی ہے اور غلط ہے، تو اُس کی ممانعت ایک تدریج اور حکمت کے ساتھ کی گئی۔ جیسے مکہ اور مدینہ کے لوگ شراب بہت زیادہ پیتے تھے، تو اُس کے لیے تین چار مراحل سے گزر کر شراب کی حرمت کا حکم آیا۔ جب اُس کی خرابی انسانیت کے سامنے بالکل الم نشرح ہوگئی، تو پھر اُس کا باقاعدہ قانون جاری کردیا کہ آج کے بعد بند۔ ایسے ہی سود خوری کی ممانعت کی، جو مکی معاشرے میں سرایت کی ہوئی تھی۔ قرآن حکیم نے مکی سورتوں میں مالی ظلم و ستم سے نفرت کی سوچ پیدا کی۔

چناں چہ فرمایا:ﵟوَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ ﵞ، کہ جو تم کسی کو مال دیتے ہو، اضافے کے لیے، یہ درست نہیں۔ عربوں کا دستور تھا کہ عام طور پر شادی بیاہ و دیگر مواقع پر ایک دوسرے کو ہدیے کے طور پر پیسے دیتے تھے، لیکن اُن کی نیت یہ ہوتی تھی کہ مجھے یہ رقم اضافے کے ساتھ واپس ملے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ﵟفَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ ﵞاللہ کے ہاں اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ تو گویا کہ اپنے ہدیے، اپنی کسی خدمت، اپنا کسی انسان پر حق جتا کر حق ادا کرکے اُس سے ایسا معاوضہ لینا، جو مادی ہو، یا کسی مرتبے اور عہدے کا حصول ہو، یا اُس کے نتیجے میں اپنا کوئی پھنسا ہوا کام نکالنا مقصود ہو، تو اُس کو بھی اللہ نے یہاں رِبا اور سود کہا ہے۔

اللہ پاک نے اسی آیت میں ’’رِبا‘‘ کے مقابلے میں لفظ ’’زکوٰۃ‘‘ کا ذکر کیا ہے:ﵟوَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن زَكَوٰةٖ تُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُضۡعِفُونَﵞ (-30 الروم: 39)  کہ جو مال تم بطورِ زکوٰۃ کے دیتے ہو اور تمھارا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا ہے تو وہ ایسے لوگ ہیں، جن کے مال میں ڈبل اضافہ ہوگیا ہے۔ یعنی کسی غریب، مسکین، مسافر یا کسی رشتہ دار پر مال خرچ کیا اور اُس سے مقصد کوئی منفعت اُٹھانا یا احسان جتلانا نہیں ہے، تو ایسے لوگوں کا مال ڈبل ہوگیا، بلکہ دس گنا تک اضافہ ہونے کا احادیث میں ذکر آیا ہے۔ اُن کا فائدہ دنیا میں بھی ہے کہ دنیا میں ایک انسان کی ضرورت پوری ہوگئی اور آخرت میں تو اُس کا اجر کئی گنا بڑھا کر اُن لوگوں کو دیا جائے گا‘‘۔

زکوٰۃ کے حقیقی مقاصد کا اِدراک

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مقاصد دو ہیں: تہذیب نفس؛ انسانی نفس کو مہذب بنانا، اور سیاستِ اُمت۔ انسانی نفس کو مالی حوالے سے مہذب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی نفوس میں جو شُحّ اور بخل بھر چکا ہے، اُس کا خاتمہ ہو۔ نفس کے تین شعبے ہیں: قلب، عقل اور نفسِ طبعی۔ نفس کو مہذب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ نفس کے یہ تینوں شعبے اللہ کی رضا اور مَلَکیت کے تقاضوں سے کردار ادا کریں، نہ کہ بہیمی اور شیطانی تقاضوں سے۔ صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ انسان کو یہ پہچان ہونی چاہیے کہ قلب میں خیال اور وسوسہ شیطان کی طرف سے آیا ہے، یا فرشتے کی طرف سے آیا ہے۔ جو آدمی اپنے خیالات کا تجزیہ نہیں کر سکتا، وہ صحیح طور پر زکوٰۃ نہیں ادا کرسکتا۔ اُس کا تزکیہ نہیں ہوسکتا۔

یہی حال عقل کا ہے کہ عقل پر اگر طبیعت اور بہیمیت غالب ہے تو وہ عقلِ بہیمی ہے۔ جانوروں کی طرح سوچتی ہے۔ اُس کی سوچ محدود ہے، جو ظاہری اور فوری نفع دیکھتی ہے۔ یہ عقلِ شیطانی ہے۔ لیکن یہی عقل اگر انسانی حقوق کی پہچان پیدا کرکے انسانیت کے سسٹم کو قائم کرنے کے لیے ایک بہتر نظام بنانے کے لیے جدوجہد اور کوشش کرتی ہے تو یہ عقلِ انسانی ہے۔ یہی حال نفسِ طبعی کا ہے کہ وہ اگر صرف طبعی تقاضوں کے مطابق کردار اد اکرتا ہے، ارادے بناتا اور کام کرتا ہے، تو نفسِ بہیمی اور شیطانی ہے۔ اور اگر اجتماعی تقاضوں کی بنیاد پر کام سرانجام دے رہا ہے تو وہ نفسِ انسانی ہے۔

گزشتہ تین سو سال کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج مالی معاملات کو چلانے والے دل بہیمیت زدہ اور شیطان زدہ ہیں۔ ان میں شیطان نے وسوسہ اور خیالات ڈالے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا دل بھیڑیوں کی طرح ہے۔ ان کی عقل شاطر دماغ ہے۔ ان کا نفس شیطانی اثرات کا حامل ہے۔ امّارۃٌ بالسُّوء (بُرائی کا حکم دینے والا) ہے۔ ان تینوں کے شیطانی اثرات کا مجموعہ سرمایہ داری نظام اور عالمی استحصالی سودی نظام ہے۔ اور اس سے جو چیز وجود میں آئے گی، وہ ’’رِبا‘‘ اور ’’سود‘‘ ہے۔

زکوٰۃ کا دوسرا بڑا بنیادی مقصد سیاست الامت ہے کہ اس مال کے ذریعے سے ملکی نظم و نسق چلانا، ملکی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ وہ ملکی نظم و نسق ایک محلے کا ہو یا ایک بستی کا، ایک چھوٹی سوسائٹی، صوبے یا علاقے کا اور ایک ملک اور ایک بین الاقوامی سطح تک کا ہو، اس نظام کے انتظامی ڈھانچے کو چلانے اور نظم و نسق کے لیے اجتماعی مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔ اُن تمام کاموں کے لیے ان وسائل کا خرچ کرنا، جن کا تعلق پبلک سے ہے۔ پُل بنانا، سڑکیں بنانا، انسانیت کی ضروریات کے لیے، اس پورے عمل کو چلانے والے جو انتظامیہ کے لوگ ہیں، اُن کے لیے خرچ اخراجات کرنا۔ ارتفاقِ ثالث اور ارتفاقِ رابع کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مالی وسائل کا استعمال کرنا۔ اجتماعی فنڈ قائم کرنا ہے۔ اور اس کا بھی مقصد صرف اللہ کی رضا ہو‘‘۔

قرض کی اصل حقیقت؛ عقد ِتبرُّع ہے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’حضرت ابن عباسؓ کا ارشاد ہے کہ: رِبا کی دو قسمیں ہیں: رِبا الحرام و رِبا الحلال۔ ایک رِبا وہ ہے، جو حرام ہے، جس کا سورتِ بقرہ اور آلِ عمران میں ذکر کردہ آیاتِ رِبا میں ہے اور ایک رِبا حلال ہے، جس کا تذکرہ سورت الروم کی مذکورہ آیت (39) میں کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کا اضافہ نہیں ہوگا، بس انسانوں کے ہاں اضافہ ہوگا۔ بعض لوگ اس کو بنیاد بنا کر سود کو حلال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرض عقدِ تبرع ہے، عقدِ بیع نہیں، نہ عقدِ اجارہ ہے۔ عقدِ تبرع سے مراد یہ ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ احسان کرتے ہیں۔ ایک ضرورت مند کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ جب آپ کو ضرورت پیش آتی ہے تو وہ آپ کا آپ سے بڑھ کر تعاون کردیتا ہے۔ یہ سود نہیں ہے۔ جیسے خود رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ کوئی اگر آپؐ کو ہدیہ دیتا تھا تو آپؐ اپنی طرف سے اُس کو کچھ اضافہ کرکے دے دیتے تھے۔

حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ بعض لوگوں نے آپؐ سے پوچھا کہ کیا یہ سود تو نہیں ہے؟ حضوؐر نے فرمایا کہ بھئی! یہ تو مِن مَرافِق الحیاۃ ہے، یعنی یہ تو زندگی بسر کرنے کی، ایک دوسرے کے ساتھ رفاقت اور سہولت کی بات ہے۔ اس کو سود کے پیمانے پر مت لے کر جاؤ۔ اس کا تعلق تو بغیر کسی شرطِ معاوضہ کے ہے۔ اب اس کو بنیاد بنا کر قرض کو معاملہ بیع سمجھ لیا جائے اور اُس پر کہا جائے جی یہ رِبا الحلال ہوگیا، یہ غلط ہے۔ کیوں کہ مقروض کی غربت پر تو سب کا اتفاق ہے۔ کسی کے ہاں بھی یہ درست نہیں ہے۔ یہ قرآن حکیم کا بنیادی مزاج ہے کہ رِبا (سود) اور زکوٰۃ کے درمیان بنیادی فرق واضح کردیا ہے۔

عالمی سرمایہ داری نظام اس وقت سود خوری کا ہے، جو دینِ اسلام کے بنیادی معاشی نظام سے متصادم ہے۔ اب ایسے سودی نظام کو اسلامی نظام بنانے کی کوشش کرنا، حیلے بہانے تلاش کرنا، اُس کا نیا رُخ بنانا اور پھر اُس کو کہنا کہ یہ انسدادِ سود ہے، یا حرمتِ سود کا عمل ہے، ایں خیال است و محال است و جنوں۔ یہ فضول اور لغو بات ہے۔ قرآن حکیم کے مزاج کو، اُس کے قانون کو، اس کے سسٹم کو انسانی بنیادوں پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اور جو انسانیت دشمن کردار ادا کرنے والی کوئی عقل ہے، کوئی نفس ہے، کوئی قلب ہے، کوئی ارادے ہیں، کوئی عزائم ہیں، جو کوئی فیصلے ہیں، جو سوچیں ہیں، جو خواہشات ہیں، جو تمنائیں اور آزوئیں ہیں، وہ دینِ اسلام کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں۔ ان طبعی خواہشات کو، اُن قلبِ بہیمی کے تقاضوں اور عقلِ شیطانی کے اُمور کو اسلام کا لبادہ اوڑھانا، یہ اسلام کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ اسلام سب سے پہلے تہذیبِ نفس کرتا ہے، انھیں بڑھی ہوئی حیوانی خواہشات کی جڑ کاٹتا ہے۔ اگر وہی چیزیں آگے پھیلتی جائیں، تو اسلام کیسا؟ اسلام تو انسانوں کو انسان بناتا ہے۔ اور جو انسانیت سے دشمنی کا کردار ادا کرتے ہیں، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔

9 / 9

حضرت مولانا شاہ اللہ بخش بہاولنگری ؒ

حضرت مولانا شاہ اللہ بخش بہاولنگری ؒ

حضرت مولانا شاہ اللہ بخش بہاولنگریؒ کا شمار تحریکِ ریشمی رومال کے سرپرستِ اعلیٰ اور بانی سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے اجل خلفا میں ہوتا ہے۔ آپؒ کے آبائو اجداد کا تعلق ریاست جیسلمیر سے تھا۔ ریاست کے راجہ سے خاص تعلق تھا، لیکن بعض حالات کے زیرِ اثر ان کا پورا خاندان ملتان منتقل ہوگیا۔ بعد ازاں قصبہ منچریاں (دیپال پور) اور پھر ککوبودلہ (ضلع بہاولنگر) آباد ہوئے۔

حضرت بہاولنگریؒ کی پیدائش 1865ء میںہوئی۔ والدِ گرامی کا نام میاں بختاور تھا۔ آپؒ کے والدِ گرامی کا پیشہ کاشت کاری تھا۔ ان کی اپنی ملن سار اور خدا ترس طبیعت کی وجہ سے علاقے میں بڑی قدر و منزلت تھی۔ مولانا موصوفؒ نے ابتدائی تعلیم بہاولنگر ہی میں ایک قصبے ’’سمجھو‘‘ میں حاصل کی۔ مزید تعلیم کے حصول کے لیے دہلی روانہ ہوئے۔ دہلی میںمدرسہ حسین بخش (مٹیا محل، جامع مسجد دہلی) میں داخلہ لیا اور خوب دل لگا کر تعلیم حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعددہلی ہی میں قیام فرمایا اور دہلی شاہی مسجد کے قریب ہی ایک مسجد مہر کن میںامام اور خطیب مقرر ہوئے۔ اسی دوران قرآن و حدیث اور دیگر کتب کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپؒ کی ذہانت اس کمال کی تھی کہ متعدد طلبا آپؒ سے علم حاصل کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔ مسجد میں کوئی باقاعدہ مدرسہ تو نہ تھا، لیکن آنے والے طلبا میں سے دس کا انتخاب کرکے قیام کی اجازت دیتے اور انھیں پڑھاتے۔

دہلی میں قیام کے دوران ہی آپؒ کوکسی شیخِ کامل کے ہاتھ پر بیعت ہونے کا جذبہ بیدار ہوا۔ یہ شوق اس قدر بڑھا کہ اس کے لیے تلاش کا آغاز فرمایا، لیکن باوجود کوششوں کے دہلی میں کسی سے بھی مناسبت پیدا نہیں ہوئی۔ آپؒ اُن دنوں اسی مسجد ہی میں امامت کے فرائض ادا فرما رہے تھے کہ جب حضرت اقدس عالی شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ اپنے مرض کے علاج کے لیے دہلی تشریف لائے اور نماز باجماعت کی پابندی کے لیے اس مسجد میں قیام فرما ہوئے۔ حضرتؒ کے اَخلاق دیکھ کر آپؒ بڑے متأثر ہوئے اور پھر حضرتؒ سے بیعت کا اشتیاق دل میں پیدا ہوا۔ چناں چہ رائے پور حاضر ہو کر قصبہ لودھی پور کے سفر کے دوران حضرت اقدس رائے پوریؒ سے بیعت کا شرف حاصل کیا اور ذکر و اذکار کی پابندی کرکے سلوک کی منازل طے کیں اور حضرتؒ کی خلافت سے مشرف ہوئے۔

 ایک بار بہاولنگر کے معززین حضرت عالی شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے درخواست کی کہ یہاں بہاولنگر میں دینی اُمور کے حوالے سے ہماری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔ آپ مولانا اللہ بخش کو یہاں بھیج دیں۔ حضرت عالیؒ نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور مولانا بہاولنگریؒ سے فرمایا: ’’مولانا! آپ کے اعزہ و اقارب اور اہلِ وطن کا بھی آپ پر حق ہے۔ ۔۔۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ وطن تشریف لے جاکر اصلاح و تربیت کا کام سر انجام دیں۔اور مخلوقِ خدا کوخالق سے تعلق پیدا کرنے کے لیے رہنمائی فرماتے رہیں‘‘۔ اس طرح مولانا موصوفؒ دہلی چھوڑ کر چک نادر شاہ (بہاولنگر) منتقل ہوگئے اور درس و تدریس کا آغاز فرمایا۔ ایک سفر کے دوران حضرت عالی رائے پوریؒ کا گزر بہاولنگر سے ہوا تو ایک جنگل کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہاں ایک مرکز کا قیام زیادہ مبارک ہوگا۔ چناں چہ حضرت بہاولنگریؒ نے بہاولنگر کے قریب ایک بستی ’’دین پور‘‘ نام سے آباد کی اور ایک مسجد و مدرسہ بھی قائم فرمایا۔

ولی اللّٰہی اکابرین جہاں وطنِ عزیز کی حریت و آزادی کے لیے میدانِ عمل میں رہے، وہیں نئی نسل کو قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو اجتماعی نقطۂ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کا بھی اہتمام تسلسل کے ساتھ کیا گیا۔ سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور انھی تاریخی روایات اور فکرو عمل کا ترجمان ہے۔ حضرت عالی رائے پوریؒ نے قرآنی اُصول اور اس کے مطابق عصری تقاضوں کا فہم و شعور عام کرنے کے لیے مکاتبِ قرآنیہ کا اجرا فرمایا تھا۔ اگر ہم صرف ریاست بہاول پور کی بات کریں تومنچن آباد، بہاولنگر، ہارون آباد، چشتیاں، خیرپور، لیاقت پور اور صادق آباد وغیرہ میں اس سلسلۂ مکاتیب کی شاخیںقائم ہوئیں۔ ان مکاتیب کے قیام میں مولانارحیم بخشؒ، جج صاحب چوہدری عالم علیؒ اور مولانا اللہ بخش بہاولنگریؒ کے علاوہ خلیفہ غلام محمد دین پوریؒ اور مولانا غلام قادرؒ نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ حضرتِ عالی رائے پوریؒ نے اس علاقے کے ان مکاتیب کی نگرانی و رہنمائی کی ذمہ داری حضرت مولانا بہاولنگریؒ اور چوہدری عالم علیؒ کے سپرد کی تھی۔

دین پور (بہاولنگر) میں 1907ء میں مدرسہ اسلامیہ رحیمیہ انوارِ ہدایت قائم کیا گیا تو اســکا اہتمام مولانا موصوفؒ ہی کے ذمہ تھا۔ اس مثالی ادارے نے ایسی ترقی کی کہ اسے اس علاقے کا اُم المدارس کہا جاسکتا ہے۔ مولانا موصوفؒ علومِ دینیہ کی درس وتدریس کے ماہر خیال کیے جاتے تھے۔ مزید یہ کہ حضرت عالی رائے پوریؒ کی مستقل نگرانی و رہنمائی میںاسے چار چاند لگ گئے۔ حضرتِ عالی رائے پوریؒ کے پاس اگر کوئی استعداد اور زیادہ صلاحیت والا طالب علم آتا تو اسے آپ مولانا موصوفؒ کے پاس دین پور میںبھیج دیا کرتے تھے۔ حضرت عالی رائے پوریؒ نے خود اپنے صاحب زادے حافظ عبدالرشید کو بھی حفظ کرنے کے بعد دینی علوم کی تحصیل کے لیے دین پور ہی بھیجا تھا۔

الغرض! آپؒ سلسلۂ عالیہ رائے پور کے قرآنی مکاتیب و مدارس کے قیام، انتظام اور نگرانی میں حضرتِ عالیؒ  کے ساتھ رہے۔ ان تمام مکاتیب کو ایک منظم عمل سے مربوط کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے جو انتظامی بورڈ بنایا گیا، مولانا موصوفؒ اس کے بھی ایک اہم ترین رکن تھے۔ طلبا اور اساتذہ کے لیے ضابطہ اَخلاق پر عمل درآمدسے لے کر نئے علاقوں میں اس طرح کے مکاتیب کی ترغیب کے لیے اسفارتک آپؒ کی زندگی انتھک جدوجہد سے عبارت ہے۔ ریاست بہاولپور کی تاریخ قرآن فہمی کی تحریک میں حضرت عالی رائے پوریؒ اور مولانا موصوفؒ کی کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

آپؒ کا وصال۱۰؍ رجب المرجب۱۳۵۲ھ / 30؍ اکتوبر 1933ء کوہوا۔ نمازِ جنازہ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ نے پڑھائی۔آپؒ کا مزار دین پور، ضلع بہاولنگر میں مرجع خلائق ہے۔

End of issue

Back