Invitation to the principles of religion to the faithful of Bani Israel

Invitation to the principles of religion to the faithful of Bani Israel
گناہ کے کام

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:
’’سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَّقِتَالُہُ کُفْرٌ‘‘۔ (صحیح مسلم، حدیث: 221)
(حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’مسلمان کو گالی دینا گناہ کا کام ہے اور اس سے لڑائی کرنا اسلام سے انکار کرنا ہے‘‘۔ )
’’سِباب‘‘ کہتے ہیں: گالی دینا، بُرے الفاظ بولنا، جس سے دوسرے کی توہین اور بے عزتی ہو۔ اس عمل کو فسق کہا گیا ہے۔ ’’فسق‘‘ کہتے ہیں: شریعت کے احکامات سے انحراف اور گریز کرنا۔ یعنی: دین کو ماننے کے باوجود عملی لحاظ سے غفلت کا شکار ہوجانا اور قتال کا معنی: فریقین کا اس طرح لڑنا کہ ہر ایک دوسرے کی جان لینے کے درپے ہوں۔
دونوں اعمال کے نتائج میں فرق ہے۔ پہلا عمل اسلام کو مانتے ہوئے، اس کے احکامات کو نظرانداز کرنا ہے۔ اس سے انسان اسلام کے دائرے میں رہتا ہے، مگر ایک گناہ گار کی حیثیت سے، جب کہ قتال‘ کفر کے مترادف ہے۔ گویا ایسے شخص نے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ امن کا دشمن بن کر سامنے آیا ہے۔
رسول اللہﷺ کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو عملی زندگی میں باوقار طریقہ اپنانا ہے۔ ایسا طریقہ جو دوسرے کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو۔ انسان کے باوقار ہونے کے دو پہلو ہیں: ایک یہ کہ وہ خود ایسے کام نہ کرے، جن سے اس کی عزت متأثر ہو اور دوسرا یہ کہ وہ دوسرے کے ساتھ ایسا طرزِعمل نہ اپنائے کہ اس کی عزت پامال ہوجائے۔ ایسا طرزِتکلم جو دوسرے کی بے عزتی کا باعث ہو اور خود اپنے وقار کو بھی متأثر کرے، مؤمن کی شان کے خلاف ہے۔ جو لوگ دوسروں کی عزتوں کو اُچھالتے ہیں، توہین کرتے ہیں اور ان کو دوسروں کے سامنے ذلیل کرنے اور گِرانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کا مقام و مرتبہ متأثر ہوتا ہے۔ اس طرزِعمل کو ’’فسق‘‘ کہا گیا ہے، یعنی: ایسا شخص گویا شریعت کے انسانی تقاضوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ اور اگر یہ رویہ اجتماعی شکل اختیار کرلے تو یہ قومی وجود کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس مرض کا شکار ہے۔ اس ضمن میں ’’سورۂ حجرات‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ یہ سورت مسلمانوں کے باہمی معاملات اور تعلقات کے سماجی آداب کو بیان کرتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں قتال کا مرض بھی بڑھ رہا ہے۔ اس قبیح عمل کے شکار لوگوں میں بے رحمی اور بے حسی بے انتہا ہوچکی ہے۔ اور قانون نافذ کرنے والے ایسی گماشتہ قوتوں کے سامنے بے بس ہیں، بلکہ اکثر اوقات سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں مقتول اور مظلوم بالکل بے دست و پا ہوجاتا ہے جو معاشرتی استحکام کے لیے خطرناک علامت ہے۔ اس مرض کا علاج وقت کا اہم تقاضا ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر بن عبس جُھَنی رضی اللہ عنہٗ

حضرت عقبہ بن عامر بن عبس جُھَنی رضی اللہ عنہٗ عالم، فاضل، حافظ، شاعر، خدمت گارِ رسول، سپہ سالار اور مدبرانہ شخصیت کے مالک تھے۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپؓ اپنی بکریاں چرایا کرتے تھے، انھیں چھوڑ کر رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے بیعت کر لیجیے! آپؐ نے فرمایا: ’’تم کون ہو‘‘ تو حضرت عقبہؓ نے اپنی حالت بیان کی کہ میں مدینہ کے نواح کا رہائشی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’کون سی بیعت تم پسند کرتے ہو ؟ بیعتِ اَعرابیہ (صرف ظاہری اسلام کی بیعت)؟ یا بیعتِ ہجرت (حقیقی ایمان و یقین کی بیعت)؟ انھوں نے عرض کی کہ ’’بیعتِ ہجرت‘‘ تو آپؐ نے انھیں بیعت فرما لیا۔ حضرت عقبہؓ نے اصحابِ صفہ کے ساتھ مل کر دس سال تک براہِ راست رسول اللہؐ سے تعلیم پائی اور بکریوں کے چرواہے سے جہانبانی تک کا سفر طے کیا۔ آپؓ دورانِ سفر حضوؐر کی سواری کی لگام پکڑ کر چلتے تھے۔
حضوؐر نے آپؓ کو بطورِ خاص سورت ’’ہود‘‘ و ’’یوسف‘‘ کی تعلیم دی ۔ آپؓ نہ صرف حافظ و قاریٔ قرآن اور فقیہ تھے، بلکہ خوش گو شاعر اور علم حدیث و علم الفرائض کے ماہر بھی تھے۔ آپؓ نے اپنے قلم سے مکمل قرآن پاک لکھا تھا۔ قرآن پاک پڑھنے میں آپؓ کا لہجہ بہت اچھا اور خوب صورت تھا۔ آپؓ سے 55 احادیث مروی ہیں، جن میں سے 7 حدیثیں بخاری اور مسلم کی متفق علیہ ہیں۔ ایک میں بخاری اور 7 میں مسلم منفرد ہیں۔ آپؓ سے اکابر صحابہؓ بھی طویل مسافت طے کرکے علم حدیث سیکھنے آتے تھے، جیسا کہ حضرت ابوایوب انصاریؓ آپؓ سے ایک حدیث حاصل کرنے مدینہ سے مصر تشریف لائے۔
آپؓ نے رسول اللہؐ کے ہمراہ تمام غزوات اور قومی و اجتماعی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ خلافتِ راشدہ کے دور کے اہم ترین معرکوں میں بھی صفِ اول میں شریک رہے۔ دورِ صدیقی میں ارتداد کے فتنے کے استیصال میں بھرپورحصہ لیا۔ شام کی فتوحات اور اس کے معرکوں میں شامل ہوئے۔ رومیوں کے خلاف متعدد لڑایاں لڑیں۔ دمشق کی فتح کے بعد سالارِ لشکر حضرت ابوعبیدہؓ کے حکم سے فتح کی خبر حضرت عمرؓ تک پہنچائی۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں رومیوں کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا۔ جنگ صفین میں شامل ہوئے اور حضرت امیرمعاویہؓ کے طرف داروں میں سے تھے۔
حضرت عقبہؓ معاشی طور پر انتہائی فارغ البال ہونے کے باجود سادہ زندگی بسر کرتے اور اپنے کام خود کرتے۔ آپؓ بلند اخلاق کے مالک تھے۔ عیب پوشی آپؓ کا شیوہ تھا۔ آپؓ سیاہ خضاب لگاتے تھے اور ساتھ ہی فرماتے کہ: ’’بالوں کے اوپر کو ہم رنگ دیتے ہیں اور ان کی جڑیں بدلنے سے انکاری ہیں‘‘۔ حضرت عقبہؓ مصر کے امیر الخراج اور امامِ نماز مقرر ہوئے۔ والیٔ مصر بھی بنے اور وہیں سکونت اختیار کی اور خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے آخرمیں مصر میں ہی 58 ہجری میں وفات پائی۔ (الفاروق، اُسد الغابہ، الاصابہ، تاریخ ابن کثیر)
End of issue
Back
