حواریٔ رسولؐ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہٗ

Maulana Qazi Muhammad Yousuf

Maulana Qazi Muhammad Yousuf
Maulana Qazi Muhammad Yousuf
Sep 11, 2022 - Eman Afroz Waqeyat
حواریٔ رسولؐ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہٗ

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہٗ قریش کی شاخ اسد سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ حضور اقدس ﷺکے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ اور ایک رشتے سے آپؐ حضرت زبیرؓ کے پھوپھا بھی تھے کہ اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہؓ حضرت زبیرؓ کی پھوپھی تھیں۔ زبیرؓ آپ ؐ کے ہم زلف بھی تھے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بڑی بہن اسما بنت ابی بکرؓ ان کی زوجہ تھیں ۔ اس طرح آپؓ ذاتِ نبویؐ سے کئی طرح کی رشتہ داریاں رکھتے تھے۔

حضرت زبیرؓ ہجرتِ نبویؐ سے 28 سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپؓ کی والدہ حضرت صفیہؓ بعثتِ نبویؐ کے آغاز میں ہی مسلمان ہو گئی تھیں۔ آپؓ بھی 8 یا 15 سال کی عمر میں عنفوانِ شباب میں ہی حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے۔ آپؐ سابقین اوّلین میں سے ہیں۔ آپؓ نے دینِ حق کو پورے شعور و اِدراک سے قبول کیا اور اس پر ابتلا و آزمائش سے گزرے، مگر صبر و استقامت سے راہِ حق پر ڈٹے رہے۔ آپؓ کے چچا جو آپؓ کے نگران تھے، سزا دیتے، مگر آپؓ نے دوٹوک جواب دیا کہ میں کفر کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا ۔

آپؓ نے پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ آپ عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرامؓ، جنھیں آپؐ نے جنت کی بشارت سنائی) میں سے بھی ہیں۔ آپؓ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ آپؓ سے 38 احادیثِ نبویؐ مروی ہیں۔ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے لیے خط و کتابت بھی کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ حضرت زبیرؓ کے متعلق فرمایا کہ: ’’زبیرؓ دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ حضرت عمرؓ کے منتخب اصحابِ شوریٰ برائے خلافت کے ممبر تھے۔

آپؓ بہادر، شہ سوار، سخاوت کے خوگر صحابہ کرامؓ میں سے ہیں۔ آپؓ کی جنگی صلاحیتوں کی پرورش میں آپؓ کی والدہ کی تربیت کا بڑا عمل دخل تھا۔ آپؓ سخت جان   شہ سواروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپؓ دراز قد تھے۔ گھوڑے پر سوار ہو تے تو پاؤں زمین پر لگتے تھے۔ مضبوط جسم اور بازوؤں کے مالک تھے۔ آپؓ خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی معرکوں میں شریک ہوئے۔ آپؓ نے جنگِ یرموک اور فتح مصر میں بھی حصہ لیا ۔ فتح مصر کے لیے حضرت عمروبن العاصؓ نے کمک اور مدد مانگی تو حضرت عمرؓ نے 10 ہزار کا لشکر اور چار فوجی افسر بھیجے، اور خط لکھا کہ: ’’ان چاروں افسروں میں سے ہرایک‘ ایک ہزار سواروں کے برابر ہے‘‘۔ ان میں ایک افسر حضرت زبیرؓ بن عوام بھی تھے۔ عہد ِعثمانی میں ایک بار حضرت عثمانؓ حج پر نہ جاسکے تو انھوں نے آپؓ کو امیرِ حج بنا کر بھیجا ۔

آپؓ ایک بڑے عالم، حد سے زیادہ شجاع اور دلیر، مستقل مزاج اور مساوات پسند تھے۔آپؓ نے 60 سال سے زائد عمر پائی۔ تاجر ہونے کی وجہ سے کافی دولت مند تھے۔ آپؓ صاحب جائداد بھی تھے۔حضرت زبیر بن عوامؓ ۳۶ھ میں شہید ہوئے ۔ بصرہ کے قریب وادی السباع میں آپؓ کی قبر مبارک ہے۔ (اُسد الغابہ، طبقات ابنِ سعد، سیر الصحابہ)

Related Articles

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Oct 10, 2022

خلافتِ راشدہ کے نظام میں وسیع تر بامعنی مشاورت اور آج کی جمہوریت

وطنِ عزیز کی سیاست اپنے روز ِقیام ہی سے مختلف نعروں سے عبارت رہی ہے، جیساکہ ہم نے گزشتہ ماہ کے شذرات میں یہاں اسلامی نظام کے نمائشی نعروں کے برعکس چند سنجیدہ گزارشات …

Muhammad Abbas Shad Nov 11, 2021

حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ

​حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗحضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗخاندانِ نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوضحاک‘‘ تھی۔ رسول اللہ ﷺنے ان کو ’’ابو…

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Jul 03, 2026

حضرت ثابت بن قیس بن شماس اَنصاریؓ ’خطیبُ النبیؐ‘

حضرت ثابت بن قیس بن شماس خزرجیؓ اَنصار کے اور رسول اللہ ﷺ کے ’’خطیب‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ فصاحت و بلاغت اور خطابت میں آپؓ کو بڑی مہارت حاصل تھی، اس …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Mar 16, 2023