حضرت مولانا مفتی عبدالسلام چاٹگامیؒ کا سانحۂ ارتحال

حضرت مولانا مفتی عبدالسلام چاٹگامیؒ کا سانحۂ ارتحال

خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے تیسرے مسند نشین حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہٗ کے متوسلِ خاص، خانقاہِ دین پور بہاولنگر کے تیسرے مسند نشین حضرت مولانا محمدیحییٰ بہاولنگری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ مجاز اور راقم سطور کے استاذِ گرامی حضرت مولانا مفتی عبدالسلام چاٹگامیؒ۳۰؍ محرم الحرام۱۴۴۳ھ / 8؍ ستمبر 2021ء بروز بدھ صبح تقریباً گیارہ بجے 78 سال کی عمر میں اس دنیائے فانی سے راہیٔ عالمِ بقا ہوگئے۔

إنّا لِلّٰہ و إنّا إلیہ راجعون۔إنّ لِلّٰہ ما أخذ، و لہٗ ما أعطیٰ، و کلّ شیئٍ عندہ بأجل مسمّٰی۔

حضرت مفتی صاحبؒ بنگلادیش کے شہر چِٹاگانگ کے مضافات میں ’’نلدیہ‘‘ نامی گاؤں میں جناب شیخ خلیل الرحمن کے ہاں۱۳۶۳ھ / 1943ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مدرسہ عزیزیہ قاسم العلوم میں حاصل کی۔ تین سال تک ناظرہ قرآن مجید، اُردو اور فارسی کی چند کتابیںپڑھیں۔ اس کے بعد مدرسہ حسینیہ بوالیہ میں داخل ہوئے۔ وہاں ابتدائی درسیات کی تعلیم اور صرف نحو وغیرہ کی کتابیں پڑھیں۔ پھر۱۳۷۸ھ / 1958ء میں مدرسہ عزیزالعلوم بابونگر میں داخل ہو کر فقہ کی درمیانے درجے کی کتب پڑھیں۔ اس کے بعد جامعہ عربیہ اسلامیہ جیری چاٹگام میں فقہ کی مشہور کتاب ’’ہدایہ‘‘ سے لے کر دورۂ حدیث تک کی تمام کتب مکمل کیں۔ اور ہمیشہ تمام درجات میں امتیازی اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے۔

حضرت مفتی صاحبؒ نے۱۳۸۷ھ / 1967ء میں کراچی پاکستان کا سفر کیا اور محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کے پاس دوبارہ دورۂ حدیث کیا۔ اس کے بعد دو سال مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکیؒ سے ’’تخصُّص فی الفقہ الإسلامی‘‘ کا نصاب مکمل کیا اور ایک تحقیقی مقالہ ’’بیع الحقوق فی التّجارات الرّائجۃ الیوم و تحقیقھا‘‘ تحریر فرمایا۔ تخصُّص سے فراغت کے بعد 1970ء میں آپؒ کو جامعہ میں مدرّس اور مفتی کی حیثیت سے مقرر کیا گیا۔

1970ء میں ہی آپؒ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے اور اپنی اصلاحِ باطن کے لیے حضرتؒ سے تعلق رکھا۔ وقتاً فوقتاً سرگودھا حضرتؒ کی خدمت میں تشریف لاتے رہے۔ حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کا جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں قیام ہوتا تو آپؒ کی صحبت سے مستفیض ہوتے۔ حضرت رائے پوری ثالثؒ کے 1992ء میں وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ سے آپؒ کا تعلق رہا۔ حضرتؒ کے جامعہ میں قیام کے دوران حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ کی معیت میں حضرت رائے پوری رابعؒ سے بدستور رابطے میں رہے۔ دونوں مشائخ رائے پور قدس سرہما سے تعلق ہی کی بنا پر حضرت اقدس مولانا محمدیحییٰ بہاولنگریؒ (خلیفہ مجاز حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہٗ) نے آپؒ کو 30؍ ستمبر 1993ء میں ایک خط لکھ کر سلسلۂ عالیہ قادریہ رائے پور میں اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔

حضرت مولانا مفتی عبدالسلام قدس سرہٗ 31 سال سے زائد عرصہ اپنی مادرِ علمی جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے اور رئیس دارالافتا کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اس دوران آپؒ نے ’’صحیح مسلم‘‘، ’’جامع ترمذی‘‘، ’’ہدایہ‘‘ اور ’’کنز الدّقائق‘‘ وغیرہ کتابیں بڑے محققانہ اسلوب اور انداز میں پڑھائیں۔ پھر 2000ء میں بعض ناگزیر وجوہات کی وجہ سے حضرت مفتی صاحبؒ اپنے وطن بنگلادیش تشریف لے گئے اور وہاں 21 سال تک جامعہ دارالعلوم معین الاسلام ہاٹ ہزاری میں درس و تدریس اور اِفتا کی وقیع خدمات سرانجام دیں۔ اور آپؒ اپنے استاذ اور شیخ مولانا مفتی احمدالحقؒ کے انتقال کے بعد ’’مفتیٔ اعظم بنگلادیش‘‘ کے لقب سے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔

راقم سطور نے حضرت مفتی صاحبؒ سے ’’ہدایہ‘‘ (جلد اوّل) اور ’’تفسیر جلالین‘‘ (جلد اوّل) پڑھی ہیں۔ حضرت مفتی صاحبؒ کا انداز و اُسلوب انتہائی محققانہ تھا۔ ’’ہدایہ‘‘ کی درس و تدریس میں حضرت مفتی صاحبؒ کا وہی انداز و اُسلوب تھا، جو مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکیؒ اور ان کے استاذ حضرت مولانا حیدرحسن ٹونکیؒ کا رہا ہے۔ قانونی او رفقہی جزئیات کو ایک مربوط فقہی اصولی نظام کی صورت میں طلبا کو سمجھانا آپؒ کا کمال تھا۔ اسی طرح جب راقم سطور نے جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں تخصُّص فی الفقہ الاسلامی میں داخلہ لیا تو حضرت مفتی صاحبؒ سے فتویٰ نویسی کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس حوالے سے آپؒ فتویٰ نویسی کے محققانہ اصول و ضوابط کو بڑی جامعیت کے ساتھ سمجھاتے اور آپؒ کا تحقیقی انداز و اُسلوب سامنے آیا۔

حضرت مفتی صاحبؒ کا ہماری جماعت کے طلبا کے ساتھ بہت مشفقانہ تعلق رہا۔ حضرت اقدس رائے پوریؒ سے تعلق کی وجہ سے ہم جیسے طالبِ علموں پر بہت مہربان رہتے۔ جامع مسجد عثمانیہ کے مکان میں آپؒ کی رہائش تھی۔ رائے پوری نسبت کے تعلق سے اکثر ہماری دعوت کیا کرتے تھے۔ راقم سطور جب بھی حضرت اقدس رائے پوریؒ کی خدمت میں حاضری کے لیے سرگودھا جاتا تو حضرت مفتی صاحبؒ اپنے باطنی حالات اور کیفیات حضرتؒ کو بتلانے کے لیے ضرور بیان فرماتے اور حضرت اقدس رائے پوریؒ کے لیے سلام و بیان کے ساتھ کوئی نہ کوئی ہدیہ وغیرہ بھی ضرور عنایت فرماتے تھے۔ اس پر حضرت اقدس رائے پوریؒ جو کچھ جواب میں ارشاد فرماتے، وہ حضرت مفتی صاحبؒ کی خدمت میں ہم پیش کردیا کرتے تھے۔ حضرت مفتی صاحبؒ نے ساری زندگی درس و تدریس، تعلیم و تالیف میں گزار دی۔ آپؒ نے فقہی حوالے سے جو کتابیں تحریر فرمائیں، اُن میں ’’جواہر الفتاویٰ‘‘ (5جلد)، ’’آپ کے سوالات اور اُن کا حل‘‘ (4 جلد)، ’’اسلامی معیشت کے بنیادی اُصول‘‘ اور ’’اسلام میں اولاد کی تربیت اور اس کے حقوق‘‘ وغیرہ کتب شامل ہیں۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے انتقال کے بعد ان کی نماز ِجنازہ جامعہ دارالعلوم ہاٹ ہزاری میں ادا کی گئی اور جامعہ کے مقبرے میں مدفون ہوئے۔ اللّٰہمّ اغفر لہٗ و ارحمہ، و اجعل الجنّۃَ مثواہ۔٭

ٹیگز
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین

ہماری والدۂ مرحومہ  رحمہا اللّٰہ تعالٰی

ہماری والدۂ محترمہ نعیمہ خاتون مؤرخہ ۲۴؍ شوال المکرم ۱۴۴۲ھ / 5؍ جون 2021ء بروز ہفتہ کو مختصر علالت کے بعد اپنے ربّ سے جا ملیں۔ إنّا لِلّٰہ و إنّا إلیہ راجعون۔ آپؒ کے والد ِگر…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری اگست 13, 2021