دینِ اسلام کی دعوت دینے کا اَجر

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز

دینِ اسلام کی دعوت دینے کا اَجر

عَنْ سَھْلٍ یَعْنِیْ: ابْنِ سَعْدٍؓ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: ’’واللّٰہِ! لَاَنْ یَّھْدِیَ اللّٰہُ بِھُدَاکَ رَجُلاً وَاحِداً خَیْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ‘‘۔ (سنن ابوداؤد : 3661)

(حضرت سہل بن سعدؓ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ: ’’اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمھاری رہنمائی کی وَجہ سے اگر ایک شخص کو ہدایت عطا کردے تو یہ تمھارے لیے سُرخ اونٹوں (اُس وقت کے مطابق بڑا قیمتی مال صدقہ کرنے) سے بہتر ہے۔)

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ دینی دعوت دینے کی اہمیت بیان کررہے ہیں۔ یعنی دینی علم کی دوسروں کو تعلیم دینا، ان کی ذہن سازی کرنا اور ان کو گمراہی سے بچا لینے کا اجر ایسے ہی ہے، جیسے آپ نے کئی سُرخ اونٹ اللہ کی راہ میں صدقہ کردیے۔ عربوں کے ہاں سُرخ اونٹ بہت قیمتی ہوتے تھے۔ اس لیے آپﷺ نے دعوتِ دین کی اہمیت کے بیان میں اپنے دور کے لوگوں کی ذہنی ساخت کے مطابق مثال ذکر فرمائی۔

انبیاعلیہم السلام کی اصل ذمہ داری دعوتِ دین کی تھی۔ اس لیے داعیانہ عمل پیغمبرانہ عمل کی پیروی ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق یہ عمل آپﷺ کے اوصاف جمیلہ میں سے ہے۔ (الاحزاب: 46) اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فرمایا: اے رسولؐ! جو آپ پر نازل ہوتا ہے، اس کو آپ آگے پہنچا دیجیے۔ (المائدہ: 67) آپؐ کی نبوی اور رسالت کی ذمہ داری کا اہم اور کلیدی پہلو یہ تھا کہ آپؐ لوگوں کو پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ دین سمجھائیں۔ چناں چہ آپؐ نے مقاصد ِقرآن بیان کرنے میں ذرہ بھر کمی نہ چھوڑی۔ اس مقصد کے لیے دن رات ایک کرکے اپنی زندگی، صلاحیتیں اور قیمتی اثاثہ جات وقف کردیے۔ آپؐ کی ہر ممکن کو شش تھی کہ ہر گمراہ راہِ ہدایت پر آجائے۔ آپﷺ کو یہ فکر دامن گیر رہتا کہ کہیں گمراہوں کی گمراہی کا سوال اللہ تعالیٰ مجھ سے نہ فرمالیں۔ قرآن نے مختلف اسالیب کے ساتھ اس بابت آپﷺ کو تسلی دی۔ (الزمر: 41، الغاشیہ: 22 وغیرہ) اس فریضے کی ادائیگی اور لوگوں کو راہِ ہدایت پر لانے میں آپؐ کو اتنا انہماک تھا کہ قرآن کو بالآخر یہ کہنا پڑا کہ آپ اپنے آپ کو حد سے زیادہ گھائل نہ کریں۔ (الکہف: 6)

حضورﷺ کی اتباع میں صحابہ کرامؓ اور علمائے حق کا داعیانہ طرز ِعمل بھی بڑا جاںفشانی کا رہا ہے۔ دین کی تعبیر و تشریح اور ابلاغ میں قرآنی بیان کے مطابق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیے بغیر ہمیشہ کلمۂ حق کہنے کا رہا ہے۔ (سورہ مائدہ: 54) یہاں تک کہ انھیں جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے بھی دوچار ہونا پڑا،مگر وہ راہِ حق کی رہنمائی کے لیے سر بہ کف رہے۔ چوں کہ دعوتِ دین کے لیے مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں، اس لیے پروردگار اس کا اَجر بھی دیگر اعمال کی نسبت زیادہ عطا فرماتے ہیں۔اس زوال پذیر دور میں خاص طور پر دینِ اسلام کی اصل روح کے مطابق حکمتِ عملی کے ساتھ دعوت دینا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ مضامین

معاہدۂ  حِلفُ الفُضول کی اہمیت

عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بنِ عَوْفٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ’’شَھِدْتُ غُلَاماً مَعَ عُمُومَتِی حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ فَمَا اُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَالنَّعَمِ وَ انّی أَنْکُثُہُ‘‘۔ (حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے م…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز مارچ 14, 2021

مؤمنانہ فراست کا تقاضا

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز اگست 10, 2021

عذابِ جہنم سے بچانے والے اعمال

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ’’أَلا أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ یَحْرُمُ عَلَی النَّارِ، أو بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَیْہِ النَّارُ؟ عَلٰی کُلِّ قَرِیْبٍ، ھَیِّنٍ، سَھْلٍ‘‘۔ (ال…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز جنوری 14, 2023

نیک اعمال کا اَجر عقل کے مطابق

​نیک اعمال کا اَجر عقل کے مطابقوَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضی اللّٰہ عنہما - قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷺ: ’’إِنَّ الرَّجُلَ لَیَکُوْنُ مِنْ أَہْلِ الصَّلٰوۃِ، وَالصَّومِ، وَالزَّکٰوۃِ، وَالْحَجِّ، وَالْعُمْرَۃِ‘‘۔ حَتّٰی ذَکَرَ سِہَاَم الْخَیْرِ کُلَّہَا،…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز جون 01, 2026