حضرت حسان بن ثابت خزرجی نجاری انصاری رضی اللہ عنہٗ  (2)

حضرت حسان بن ثابت خزرجی نجاری انصاری رضی اللہ عنہٗ  (2)

حضرت حسان بن ثابتؓ کے آباؤاجداد کی چار پشتیں نہایت معمر گزریں۔ تاریخ میں عرب میں کسی خاندان کی چار پشتیں مسلسل اتنی بڑی عمر والی نہیں ملتیں۔ حضرت حسانؓ کے پردادا ’’حرام‘‘ کی عمر 120 سال تھی۔ ان کے بیٹے منذر، پوتے ثابت بن منذر اور پھر پڑپوتے حضرت حسان بن ثابتؓ سب نے یہی عمر پائی۔ حضرت حسانؓ کے خاندان میں نسل در نسل شاعر تھے۔ حضور ﷺ آپؓ کی شاعری کو پسند فرماتے تھے۔ اور مسجد ِنبویؐ میں منبر رکھوا دیتے، جس پر حسانؓ کھڑے ہو کر آپؐ کی مدح کرتے تھے اور آپؐ سن کر مسرور ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت حسانؓ نے آپؐ کی مدح میں یہ شعر کہے    ؎

مَتٰی   یبدُ     فی     الدُّجٰی     البہیم    جَبِینُہ

یَلُح     مِثلَ     مِصبَاحِ     الدُّجٰی     المُتَوَقِّدِ

فَمَن     کَانَ     اَو    مَن     یَکُونُ     کَاَحمَدٍ

نِظَامٌ     لِحَقٍّ   ،   اَو    نکاَلٌ     لِمُلحِدٍ

(جب آپؐ کی پیشانی اندھیری رات میں ظاہر ہوتی ہے تو اس کی چمک نہایت روشن چراغ کی طرح ہوتی ہے۔پس احمدؐ کی مثل کون پیدا ہوا، یا کون آئندہ پیدا ہو سکتا ہے؟ آپؐ حق کا نظام ہیں اور ملحد کے لیے عذاب ہیں)۔ حضرت حسانؓ کی شاعری پُر از حکمت تھی، جس میں نصائح و عقل و دانائی کا کا فی سامان موجود ہے۔ چناں چہ آپؓ فرماتے ہیں   ؎

وَ   اِلزَم    مُجَالَسۃَ    الکِرَامِ    وَ    فِعلَھُم

وَ   اِذا    اِتَّبَعتَ     فَاَبصِرَن    مَن    تَتبَعُ

لاَ    تَتبَعَنّ    غَوَایَۃً     لِصَبابَۃٍ

اِنَّ    الغَوَایَۃَ    کُلَّ     شَرٍّ    تَجمَعُ

(سمجھ دار اور معزز لوگوں کی صحبت اختیا کر، اور اُن کے افعال کی اتباع کر۔ جب تُو کسی کی پیروی کرنے لگے تو اس بات پر اچھی طرح غور و فکر کر کہ تُو کس کی اتباع کر رہا ہے۔ عشق و محبت سے پیدا ہونے والی گمراہی کی کبھی بھی پیروی مت کر۔ یہ گمرا ہی ہر شر کو جمع کر دیتی ہے ( یعنی جذباتی بن کر اتباع نہیں، عقل مند بن کر کسی کے پیچھے چلو۔)

حضوؐر کی وفات کے بعد آپؐ کے جانشین حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک بھی حضرت حسانؓ کا ایک بڑا مرتبہ تھا۔ انھیں مالِ غنیمت میں حصہ بھی دیتے رہے۔ خصوصاً حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں تو حضرت حسانؓ کو ’’قاضی شعر‘‘ بنا یا تھا۔ جب حطیہ نے زباد بن بدر کی ہجو کی تو وہ حضرت عمرؓ کے پاس معاملہ لے کر آئے۔ حضرت عمرؓ نے اپنا فیصلہ نہیں سنایا۔ کیوں کہ شعر و شاعری سے آپؓ کو واقفیت نہیں تھی۔ لہٰذا آپؓ نے حضرت حسانؓ سے اس سلسلے میں مشورہ لیا اور انھیں اس معاملے کا قاضی بنایا۔ حضرت حسانؓ نے 120 برس کی عمر میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے زمانۂ خلافت (۶۰ھ) میں وفات پائی۔( اُسد الغابۃ ، سیر الصحابہ، دیوانِ حسان )

متعلقہ مضامین

سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم

حضرت زینبؓ آںحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپؓ بعثتِ نبویؐ سے دس برس پہلے پیدا ہوئیں۔ اس وقت آپؐ کی عمر 30 برس تھی۔ آپؓ اوّلین مسلمان ہونے والوں میں سے تھیں۔ مشرکین مکہ کی…

مولانا قاضی محمد یوسف فروری 17, 2021

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور رمضان المبارک کی دینی و تربیتی سرگرمیاں

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حضور اقدس سے 10نبوی میں نکاح ہوا۔ آپؓ درس گاہِ نبوی سے براہ راست فیض یاب ہوئیں۔ آپؓ انتہائی ذہین اور حاضر جواب تھیں۔ نہایت سخی…

مولانا قاضی محمد یوسف اپریل 17, 2021

حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ اور عید الفطر

حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ جلیل القدر صحابی ہیں۔ بدر و اُحد کے علاوہ تمام 19 غزوات میں حضور اقدس ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ 540 احادیثِ نبویہؐ کے راوی ہیں۔ علمِ حدیث کی اشاعت آپؓ ک…

مولانا قاضی محمد یوسف مئی 12, 2021

حضرت عبادہ بن صامت بن قیس خزرجی انصاری رضی اللہ عنہٗ

حضرت عبادہ بن صامتؓ کا تعلق قبیلہ خزرج کے خاندان سالم سے ہے۔ بنوسالم کے مکانات مدینہ کے غربی سنگستان کے کنارے قبا سے متصل واقع تھے۔ یہاں ان کے کئی قلعے بھی تھے، جو &rsquo…

مولانا قاضی محمد یوسف جنوری 09, 2021