امامِ ربانی مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ کا نظریۂ وحدت الشّہود

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف
مارچ 18, 2022 - ناقابلِ فراموش
امامِ ربانی مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ کا نظریۂ وحدت الشّہود

’’وحدت الشّہود‘‘ کالفظی معنی ہے: ’’شہود کا ایک ہونا‘‘۔ ’’شہود‘‘ اسم مفعول، مشہود کے معنی میں ہے، یعنی متعدد ہستیوں کا مشاہدے میں ایک نظر آنا۔ امامِ ربانی، مجدد الفِ ثانی، حضرت شیخ احمد سرہندیؒ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ کا وجود حقیقی ہے اور کائنات کا وجود ظِلّی اور خیالی ہے۔ اور ظِلّی وجود سے حقیقی وجود کی وحدت متأثر نہیں ہوتی‘‘۔ شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربیؒ کے نزدیک کائنات وجودِ باری تعالیٰ کا مظہر ہے۔ باری تعالیٰ لا متناہی اور کائنات متناہی ہے، لیکن حضرت مجدد الفِ ثانیؒ کے ہاں ممکنات یعنی منتاہی کائنات کا اگرچہ وجود ہے، لیکن نورِ حقیقی کے سامنے سالک کو وہ نظر نہیں آتا۔ اسی کو وہ ’’وحدت الشّہود‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔

شیخ مجددؒ اس کو ایک مثال سے واضح کرتے ہیں کہ جیسے آئینے میں کسی موجود شئے کا عکس گویا ایک ’’شئے‘‘ ہے اور اس موجود اور اس کے عکس کے درمیان کوئی موازنہ نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اور کائنات کے درمیان کوئی موازنہ نہیں۔ کسی چیز کا سایہ اس چیز کا عین نہیں، بلکہ اس کی ایک شبیہ اور مثال ہے۔ ممکن کی ذات عدم ہے۔ اس میں جو بھی کمالات ظاہر ہوتے ہیں، وہ وجود ہو یا اس کی صفات، و ہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاشدہ اور ذاتِ باری تعالیٰ کے کمالاتِ ذاتیہ کا پرتَو ہے۔شیخ ابنِ عربیؒ اور شیخ مجددؒ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ خارج میں صرف ایک ہی وجود ہے اور وہ ذاتِ باری تعالیٰ کا وجود ہے، تاہم کائنات اور ذاتِ باری تعالیٰ میں تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ اس میں دونوں مختلف ہیں۔ شیخ ابنِ عربیؒ کے ہاں کائنات کا وجود، وجودِ باری کا مظہر ہے اور شیخ مجددؒ کے ہاں کائنات کا وجود ظِلّی اور خیالی ہے۔ شیخ مجددؒ فرماتے ہیں کہ پہلے میں بھی وحدت الوجود کا قائل تھا، لیکن جب میں نے روحانی اُمور میں ترقی کی تو وحدت الوجود کی کیفیت مجھے بہت ادنیٰ نظر آئی اور مجھے یقین حاصل ہوا کہ مخلوق‘ خالق کا ظِل ہے۔

حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’مکتوبِ مدنی‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’دونوں بزرگوں کے درمیان اختلاف صرف جزئیات میں ہے۔ بنیادی مسلّمات میں دونوں متفق ہیں۔ بس تعبیر کا فرق ہے‘‘۔ شاہ صاحبؒ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جیسے زید، عمرو، بکر و غیرہ ایک اعتبار سے ایک دوسرے کا عین ہیں، کیوں کہ ان سب میں مشترک انسانیت ہے، پھر نوعِ انسانی اور نوعِ حیوانی بھی ایک دوسرے کا عین ہے۔ کیوں کہ ان کا وصفِ مشترک ’’حیوانیت‘‘ ہے۔ اسی طرح موجودات میں وجود مشترک ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ان موجودات میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے۔ جب کہ دوسرے صوفیا یہ کہتے ہیں کہ یہ وجود جو سب موجودات میں مشترک ہے اور اسی سے سب موجودات کا قیام ہے، یہ وجود ایک اَور برتر وجود کا فیضان اور پرتَو ہے۔ اسی کو ’’وحدت الشّہود‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے نہایت عمدگی کے ساتھ خالق و مخلوق سے متعلق ان مسائل کو بیان کیا ہے۔ گویا سامی (مللِ حنیفی) اور آریائی (صابی) اذہان کو ایک نقطۂ اِتصال پر جمع کر دیا ہے۔ سامی ذہن ذاتِ باری تعالیٰ کو منزہ اور مجرد مانتے ہیں، جب کہ آریائی (صابی)‘ وجودِ باری تعالیٰ کو کسی مظہر میں دیکھتے ہیں، یعنی مظاہرِ فطرت میں ذاتِ باری تعالیٰ کو جلوہ افروز سمجھتے ہیں۔

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف

مفتی محمد اشرف عاطف
جامعہ خیر المدارس ملتان سے فاضل، خلیفہ مجاز حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ  اور ماہر تعلیم ہیں۔ آپ کو حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ سے شرفِ بیعت حاصل ہے۔ آپ نے ایک عرصہ حضرت مولانا منظور احسن دہلویؒ کے دست راست کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ فرید ٹاؤن ساہیوال میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں۔ ساہیوال کے معروف دینی ادارے جامعہ رشیدیہ میں بطور صدر مفتی خدمات انجام دیں۔ 1974 کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں بھی بھرپور حصہ لیا ۔ تین دہائیوں تک سعودی عرب کے معروف تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ آج کل ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ٹرسٹ لاہور میں استاذ الحدیث و الفقہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ مجلہ رحیمیہ میں سلسلہ وار "تاریخ اسلام کی ناقابل فراموش شخصیات" کے تحت مسلم تاریخ سے متعلق ان کے وقیع مضامین تسلسل کے ساتھ شائع ہورہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

طارق بن زیاد خلافت ِبنی اُمیہ کے مسلم جرنیل تھے۔ وادیٔ تافنہ الجزائر میں ۵۰ھ / 670ء میں پیدا ہوئے اور دمشق میں 720ء میں تقریباً پچاس سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا افریقا ک…

مفتی محمد اشرف عاطف فروری 17, 2021

فلسفۂ تاریخ و عمرانیات کا بانی؛ علامہ ابن خلدونؒ   (1)

علامہ ابن خلدونؒ ہماری تاریخ کی اہم ترین شخصیت ہیں۔ آپؒ کا تعلق اگرچہ یمن کے علاقے ’حضرموت‘ سے تھا، ان کا سلسلۂ نسب بنی کندہ کے بادشاہوں سے ملتا ہے، جن کی عظمت…

مفتی محمد اشرف عاطف نومبر 14, 2022

تقریب ِافتتاح صحیح بخاری شریف

مورخہ ۱۳؍ شوال المکرم ۱۴۴۳ھ / 15؍ مئی 2022ء بروز اتوار کو ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر ادارہ میں دورۂ حدیث شریف کے طل…

انیس احمد سجاد نومبر 13, 2022

حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا

حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی دوسری صاحبزادی ہیں، جو۳۳ھ قبل نبوت میں پیدا ہوئیں۔ حضوؐر اکرمؐ کے زیرسایہ آپؓ کی تربیت اکسیرِ اعظم تھی، جو کمالاتِ حیات کا موجب بنی۔ پہ…

مولانا قاضی محمد یوسف مارچ 14, 2021