دینِ اسلام ایک نظام ہے

دینِ اسلام ایک نظام ہے

12؍ مارچ 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’معزز دوستو! دینِ اسلام کی تعلیمات پوری انسانیت کے لیے ہیں۔ دنیا کے تمام مرد و عورت قرآن حکیم کی تعلیمات کے مخاطب ہیں۔ ان تعلیمات کی اساس یہ ہے کہ انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ اپنا سچا تعلق قائم کرے اور انسانی حقوق کی ادائیگی میں پوری جدوجہد اور کوشش کرے۔ اس کے بغیر دین اسلام کا نظام مکمل نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ تمام مسلمان مرد اور عورت اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کی پاسداری کریں۔ یہ احکامات ایسے نہیں ہیں کہ انسانوں پر کوئی زبردستی مسلط کیے گئے ہوں، بلکہ یہ ان کی فطرت کا حصہ ہیں۔ انسانوں کی جسمانی ساخت ایسی ہی ہے کہ وہ ان احکامات پر عمل کے بغیر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے۔ دنیا میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکتے۔ وہ احکامات تمھارے فائدے کے لیے ہیں۔ اسی سے تم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوسکتے ہو۔ اور جو تمھاری جسمانی ساخت سے ہٹ کر اور تمھارے بنیادی تقاضوں سے منافی ہیں، ان سے بچو۔ اس پر تم عمل کرو گے تو تمھارے لیے دنیا جہنم بن جائے گی۔ تم اس دنیا کی جہنم کے سرکل میں داخل ہوگئے تو پھر آخرت کی جہنم بھی ہے۔

قرآن حکیم کی ہدایات بڑی واضح ہیں۔ کسی بھی سسٹم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ واضح اور دو ٹوک ہدایات دی جائیں۔ گول مول بات کرنا، آدھی اِدھر کی اور آدھی اُدھر کی، یہ منافقت ہے اور نفاق سے دینِ اسلام کی تعلیمات نے قطعی طور پر منع کیا ہے۔ دین اسلام ایک نظام ہے اور ہر نظام ایک ڈسپلن کے تحت کام کرتا ہے۔ ڈسپلن توڑ کر کوئی کام نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات اور دینِ اسلام کو نعوذ باللہ ایسا سمجھ لینا کہ اس میں سے جو مرضی کی بات ہو، اس کو مان لیں اور جو مرضی کی بات نہ ہو، اسے چھوڑ دیں۔ خواہشات سامنے آئیں تو دین کو ترک کردیں۔ خواہشات کے حوالے سے دین کی کسی بات پر مفاد حاصل ہو رہا ہو تو اس کو پورا کرلیں۔ یہ دین اسلام کا مزاج نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کے کسی بھی سسٹم میں ایسا ہوتا ہے۔

آج دنیا میں جو انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہیں، سرمایہ داری اور سوشل ازم، یا کسی پرائیویٹ کمپنی کا بنایا ہوا اپنا نظام ہو، اس کے اپنے ایس او پیز ہیں۔ کسی بھی خود مختار ادارہ اپنے لیے قواعد و ضوابط بناتا ہے۔ کسی ملک کا اپنا بنایا ہوا آئین اور دستور ہوتا ہے۔ ان تمام کی بھی اپنی ایک ضرورت اور تقاضا ہے۔ ان پر عمل کیے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ وہاں پابندی کرنا تو لازمی سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر گزارا نہیں۔ کیا اللہ کی اس زمین پر اور اللہ کے اس آسمان کے نیچے انسان فضول اور لغو پیدا کیا گیا ہے کہ اللہ کوئی ڈسپلن جاری کرے اور اس پر کوئی عمل نہ کرے اور سزا سے بچ پائے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘

مرد و عورت کی اپنی اپنی ساخت کے مطابق اُن کی ذمہ داریاں ہیں

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’انسان ارتقا کے اُن تمام مراحل سے گزرا ہے، جو اس کی جسمانی ساخت میں اس کائنات کے عناصر سے جاری چلا آرہا ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اسے اپنی خاندانی اجتماعیت کے لیے ایسی حدود و قیود مہیا کرنی ہیں جس سے کہ نیا انسان تخلیق پذیر ہوسکے۔ ایک خاندان وجود میں آئے۔ وہ خاندان مستقل طور پر تبھی بنے گا کہ جب ایک مرد اور عورت ایک دوسرے کی ہم آہنگی اور حقوق کی ادائیگی کی بنیاد پر اپنی اجتماعیت قائم کریں۔ ان دونوں میں سے ہر ایک مرد اور عورت کی اپنی اپنی ساخت ہے۔ اس کے مطابق ان کی اپنی اپنی ذمہ داریاں اور حقوق و فرائض ہیں۔ ضروری ہے کہ دونوں اپنی اپنی مختلف ساخت کے مطابق اپنی مفوّضہ ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

نبی اکرم نے فرمایا: ’’خیرکم خیرکم لأہلہ‘‘ [مشکوٰۃ: 2/281] ( تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو)۔ مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں، اپنے خاندان والوں، اپنے رشتے داروں کے حقوق پورے کرے، ان پر خرچ کرے۔ اس پر ذمہ داری عائد کی گئی کہ وہ دن میں باہر نکلے، محنت مزدوری کرے، جدوجہد اور کوشش کرے۔ اپنا اور اپنی بیوی بچوں کا رزق کما کر لائے۔ یعنی ایک مزدور کو اتنی مزدوری مارکیٹ سے ملنی چاہیے کہ جس سے عزت اور احترام کے ساتھ اُس کے سارے خاندان کی اچھی کفالت ہو۔ یہ وہ بنیادی ضابطہ ہے، جو نبی اکرمؐ نے مقرر فرمایا۔ اس سے بڑھ کر مرد کو قومی اور بین الاقوامی نظام کے اندر مزید کردار ادا کرنے کے لیے بھی ذمہ دار بنایا گیا ہے کہ وہاں کام بھی کرنا ہے۔

عورت کے متعلق نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’المرأۃ راعیۃ علیٰ بیت زوجہا‘‘ [بخاری: 5200] (خاتون اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے)۔ دین اسلام نے عورت کو اس بات کا ذمہ دار بنایا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرے، خاندانی نظام اچھا بنائے۔ گھر کے نظام کو سنبھالے۔ وہ اپنے گھر کی سربراہ اور حکمران ہے۔ عورت پر گھر سے اوپر قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ وہ خواتین جن پر ایسی گھریلو ذمہ داریاں نہیں ہیں، وہ اس میں شریک ہوسکتی ہیں، کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن سب سے پہلے گھر کو سنبھالیں۔ اگر وہاں سے فراغت ہو تو اس سے اگلا کردار ادا کریں۔ جیسے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گھر میں کوئی مصروفیت نہیں تھی تو وہ اپنے مالِ تجارت سے حضور اکرمؐ کے ساتھ مل کر کاروبار کرتی ہیں۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہؓ کی کوئی اولاد نہیں تھی، جس کی پرورش کی ذمہ داری ہوتی، خاص طور پر نبی اکرمؐ کے دنیا سے جانے کے بعد۔ حضرت عائشہؓ اپنی مسند ِدرس پر بیٹھتی ہیں۔ جو تفقہ اور بصیرت، جو دین کی سمجھ اور بوجھ انھوں نے نبی اکرمؐ سے حاصل کی، اس کے مطابق اپنے حجرے میں بیٹھ کر درس و تدریس کا سلسلہ چلاتی ہیں اور بڑے بڑے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا مجمع آپؓ سے استفادہ کرتا ہے۔ درمیان میں پردہ لٹکا ہوا ہے اور حضرت عائشہؓ خطاب فرما رہی ہیں‘‘۔

عورت اور مرد کے مسائل کے پس پردہ نظام

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’آج عورت اور مرد اپنے حقوق کے نام پر لڑ رہے ہیں۔ لڑائیاں جھگڑے ہیں۔ سیاست دان بہ دست و گریبان ہیں۔ مذہبی رہنما ایک دوسرے کے خلاف تقریریں جھاڑ رہے ہیں، آپ ذرا سوچیں کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا اصل سبب سمجھنا ضروری ہے۔

جب سے دنیا پر سرمایہ داری نظام مسلط ہوا ہے __ جس کی اصل اساسیات انسان نہیں، کیپٹل اور سرمایہ ہے، زر و جواہرات اور مادیت ہے __ اس نے انسانوں سے انسانیت چھین لی۔ مرد سے مردانگی اور عورت سے اُس کی نسوانیت چھین لی۔ عورت عورت نہیں رہی، مرد مرد نہیں رہا۔ دونوں برائے فروخت(for sale)ہوگئے۔ اشیا(goods)بن گئے۔ اُن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ سب سے پہلے تو اس سرمایہ داری معاشی نظام نے انسانیت کو سرمایہ دار(capitalist)اور مزدور میں بانٹ دیا۔ سرمایہ دار منتظم قرار پایا اور بے چارہ مزدور اُس کا محتاج۔ پھر مزدور کے بارے میں کہا گیا کہ اس کے پاس بارگیننگ کی پاور نہیں ہے۔ سرمایہ دار کے بارے میں کہا کہ اس کے پاس بڑی طاقت سرمایہ ہے۔ دونوں کے لیے حقیقت سے ماورا خود ساختہ اصول بنائے۔ پھر سرمائے کے ریٹرن کے نام پر انسانیت کی محنت پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ مزدور کی مزدوری میں کٹوتی شروع کردی۔ مزدور کی مزدوری اتنی ہونی چاہیے تھی اور پہلے ادوار میں ہوتی رہی ہے کہ وہ اپنی بیوی، بچوں، اپنے پورے خاندان کے لیے باکفایت اتنی مزدوری حاصل کرے کہ اُس کی تمام ضروریات عزت کے ساتھ پوری ہوں، سرمایہ دار نے اس کو صرف اتنی مزدوری دی کہ جس سے وہ صرف زندہ رہ سکے، بس۔ ایسی صورت میں جب تک مرد اور عورت دونوں نہیں کمائیں گے تو گزارہ نہیں ہوگا، اس لیے اب عورتوں کو باہر نکالو۔ عورتوں کو کہا کہ تم اپنے گھر کے کام کو چھوڑو اور تم بھی مزدوری کرو۔ تم بھی کام کرو۔ عورت کے آنے سے لیبر مارکیٹ بڑھ گئی تو مزدور زیادہ ہوگئے۔ اب لیبر مارکیٹ کا قانون سرمایہ داری نظام نے یہ طے کیا کہ جس چیز کی کثرت ہوگی، اس کی قیمت بھی سستی ہوجائے گی۔ اس طرح مزدور کی حیثیت اور مزدوری مزید کم کردی گئی۔

پھر عورت سے کہا کہ اچھا تو نے مزدوری کرنی ہے نا، تو مزدوری کرنے کا ایک اَور طریقہ بھی ہے کہ تو اپنے جسم کی مزدوری کر۔ تیری خوب صورت سی تصویر اُتاریں گے اور اپنی پروڈکٹ کو فروخت کرنے کے لیے اشتہار میں استعمال کریں گے۔ تو ماڈلنگ کر۔ تو سیکس ورکر بن۔ پھر کوئی پڑھی لکھی ہے تو اُس کو کہا کہ تم مینجمنٹ اچھی کر لیتی ہو، تو چلو یہ کام کرو۔ اس طرح سے مرد و عورت دونوں کو برائے فروخت بنا دیا گیا۔ اس استحصال اور سرمایہ دارانہ تباہی اور بربادی پر کوئی عورت یا مرد بولتا ہے؟ جس سرمایہ داری نظام سے پیسے لے کر جلوس نکلا ہے، کیا اُس سرمایہ داری کے خلاف جلوس نکالا ہے کبھی؟ یہاں کی عورتیں آزادی تو حاصل کرنا چاہتی ہیں شوہر سے بھی، ماں باپ سے بھی، برادری سے بھی۔ ذرا سرمایہ دارانہ نظام سے آزادی حاصل کرکے دکھائیں، جس نے ان کی انسانیت تک چھین لی‘‘۔

سرمایہ داری کا بھیانک کھیل

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’سرمایہ دارانہ نظام کا مرا ہوا کتا جب تک اس ملک کے اندر موجود ہے تو چاہے عورتوں کے حق میں جلوس نکالو یا عورتوں کے خلاف جلوس نکالو۔ اِدھر کی بات کرو، یا اُدھر کی بات کرو۔ کبھی بھی یہاں کا سرمایہ داری سسٹم نہیں بدل سکتا۔ جو سرمایہ داری نظام یہاں دینِ اسلام کے سسٹم کے خلاف بغاوت کر رہا ہے، اس کے خلاف سب کی زبانیں گنگ ہیں۔ مولوی کے منہ میں گھونگی ہے، وہ سرمایہ داری کے خلاف نہیں بولتا۔ سرمایہ دار مفادات کی وجہ سے خاموش ہے۔ سیاست دان چپ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ لیڈر خاموش ہیں، عورتوں کے منہ میں گھونگیاں ہیں، اس کے خلاف بولتی نہیں ہیں۔ ذرا یہ ساری کی ساری عورتیں خواہ برقعے والی ہوں یا بغیر برقعے والی ہوں، سرمایہ داری کے خلاف بول کر دکھائیں۔ اگرNGO'sکے پیسوں کی بنیاد پر ہی یہ جلسے جلوس نکلنے ہیں، یا سرمایہ داروں کے چندے پر ہی برقعہ باز عورتوں کے جلوس نکلنے ہیں تو پھر دونوں طرف سرمایہ دار ہیں۔ دونوں طرف سسٹم کھیل رہا ہے۔ دونوں طرف سے اصل مسئلے کی طرف سے توجہ ہٹا دی ہے۔

نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: ’’مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے اُس کو ادا کردو‘‘۔ اتنی مزدوری دو کہ جس سے اُس کے تمام گھر کی کفالت ہوجائے۔ کبھی یہاں کے لوگوں نے اس بات پر کوئی سوال اٹھایا ہے کہ ایک سرکاری کمپنی کے سی ای او صاحب لگے ہیں، جن کی ایک مہینے کی تنخواہ 68 لاکھ روپے ہے۔ کس قانون اور ضابطے کے تحت ہے؟ 68 لاکھ روپے ہی اس کا بونس ہے۔ اس طرح ایک کروڑ سے اوپر اُس کی تنخواہ ہے۔ اور ایک مزدور کی تنخواہ کیا ہے؟ پانچ سو روپے؟ ایک جج کی تنخواہ بارہ پندرہ لاکھ اور ایک مزدور کی تنخواہ؟!؟ کبھی اس کے خلاف بات کی ہے؟ اور اس مزدور نے کیا قصور کیا ہے، جس کو دو سو روپے مزدوری بھی نہیں ملتی۔ ذرا جا کر دیکھو جنوبی پنجاب میں، اندرونِ سندھ میں، بلوچستان میں، لوگوں کی جو غربت کی کیا حالت ہے، پستی کی حالت ہے، ایک وقت کی روٹی اس مزدور کے اپنے پاس نہیں، اپنی بیوی کی کہاں سے پوری کرے گا۔

اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے والے سرمایہ داروں کے ایجنٹ ہیں، سرمایہ داری کے لیے آلہ کاری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مفادات کی بنیاد پر جلوس نکالتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر پریس کانفرنسیں کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر حقوق کی بات کرتے ہیں۔ دین فروش ہیں، جمہوریت اور لبرل اِزم کے نام پر انسانی حقوق کے سوداگر ہیں۔ عورتوں کی طرف سے کون سی لبرٹی اور کس سے آزادی کی بات کی جا رہی ہے؟ کبھی سرمایہ داری سے آزادی کی بات کی ہے؟ نہیں! یہ سرمایہ داری وہ مرض ہے، جس سے تباہی اور بربادی آتی ہے۔ اس لیے نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جب کسی قوم پر اللہ عذاب بھیجتا ہے تو اُس کی مت مار دیتا ہے، عقل ماری جاتی ہے۔ وہ آپس میں ہی لڑتے رہتے ہیں۔ آپس میں نان ایشوز میں اُلجھے رہتے ہیں۔ جو اصل بات ہوتی ہے، اس کی طرف توجہ نہیں ہوتی‘‘۔

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین
انبیا علیہم السلام کے مشن کے دو کام

۲۶؍ رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ / 22؍ جون 2017ء کی شب حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں ’’تکمیل قرآن حکیم‘‘ کے سلسل…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مئی 18, 2021

احکام ومسائل قربانی و عیدالاضحی

1۔ ہر ایسے مسلمان عاقل، بالغ مرد و عورت پر قربانی کرنا واجب ہے، جو عیدالاضحی کے دن مقیم ہو اور صاحب ِنصاب‘ یعنی شریعت کی مقرر کردہ مال کی مقدار کا مالک ہو۔ …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021

عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت

۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021