انبیا علیہم السلام کے مشن کے دو کام

انبیا علیہم السلام کے مشن کے دو کام

۲۶؍ رمضان المبارک۱۴۳۸ھ / 22؍ جون 2017ء کی شب حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں ’’تکمیل قرآن حکیم‘‘ کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’میرے محترم دوستو! یہ بہت ہی مبارک لمحات ہیں۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے۔ ستائیس ویں شب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اس رات میں اس کرۂ ارض پر موجود انسانیت پر برس رہی ہیں۔ ایسے موقع پر ہمارا اللہ کے لیےیہاں جمع ہونا، دُور دَراز سے سفر کرکے آنا، قرآن حکیم کی تکمیل کی اس مجلس میں شریک ہونا‘ انتہائی مبارک باد کی بات ہے۔ اس کی بہت سی برکات ہیں۔ ہم یہاں حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی نسبت سے جمع ہیں۔ ہم ان کے ساتھ اپنی نسبت جوڑتے ہیں۔ انھوں نے ہمیں اپنی ذات کے بجائے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒاور ان کے سلسلے کی جماعت کے ساتھ جوڑا ہے۔ ان تمام بزرگوں نے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے ساتھ جوڑا ہے۔ اور نبی اکرمؐ نے تمام مسلمانوں کو اللہ کے ساتھ جوڑنے کا کام کیا ہے۔ اولیاء اللہ کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے قرآن حکیم میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ‘‘ (آلِ عمران: 79) (ربّ والے ہوجاؤ)۔ ربّ والے وہ ہوتے ہیں، جو ربّ کے ساتھ انسانوں کو جوڑتے ہیں۔ ہم ایسے ہی بزرگوں کی نسبت سے یہاں پر اس عزم اور ارادے کے ساتھ جمع ہیں کہ ہمیں ان بزرگوں کی وساطت سے دین کی صحیح سمجھ آجائے۔ قرآن حکیم کا صحیح فہم پیدا ہوجائے۔ ہمارے اَخلاق درست ہوجائیں۔ انبیا علیہم السلام والے کام کی عظمت اور اہمیت ہمارے دلوں میںپیدا ہوجائے۔

انسانیت کی نسبت سے انبیا علیہم السلام کے دو ہی کام ہیں: (1) اَخلاق کو درست کرنا، نفس کی تہذیب کرکے اُسے اعلیٰ اَخلاق کا خوگر بنانا۔ (2) ملکوں اور قوموں کی سیاست اور اُن کی اجتماعیت کو برقرار رکھنا۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’انبیا علیہم السلام کی سیرتیہ ہے کہ وہ کبھی کسی ایسے کام میں مشغول نہیں ہوئے کہ جن کاموں کا تعلق تہذیبِ نفس اور سیاستِ اُمت کے علاوہ ہو‘‘۔ انبیا علیہم السلام کی سیرت صرف ان دو دائروں میں ہوتی ہے۔ ایک انسانی نفوس کو مہذب بنانا کہ وہ حیوانیت کے دائرے سے نکل کر اُونچے درجے کے انسان بن جائیں۔ وہ اپنے گناہوں پر ندامت اور توبہ کرکے اللہ کے حضور میں پاک صاف دل کے ساتھ متوجہ ہوجائیں۔ پھر اس جماعت کے ذریعے سے انسانوں کی قومی اور بین الاقوامی سیاست کو منظم اور اجتماعیت کو درست کرنا ہے۔ اُن میں اگر زوال ہے، غلامی ہے، پستی ہے، وہ مغلوبیت کی حالت میں ہیں، بزدلی ہے، اجتماعیت ٹوٹی ہوئی ہے تو اُس کو دوبارہ اس طریقے سے سربلند کردینا کہ وہ غالب آجائے‘‘۔

 

انقلاب اور تبدیلی کا حقیقی مفہوم

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’بعثتِ نبویؐ سے پہلے جزیرۃ العرب کے رہنے والے لوگ اپنی اجتماعیت میں گوناگوں مسائل سے دو چار تھے۔ عام انسان غلامی کی حالت میں تھے۔ پستی، معاشی بدحالی اور سیاسی بدنظمی تھی۔ نبی اکرمؐ نے آکر صحابہ کرامؓ کے اَخلاق درست کیے۔ انھیں مہذب بنایا، اور صحابہؓ کی جماعت کے ذریعے سے اس خطے کے بسنے والے تمام انسانوں کا ایسا سیاسی نظم و نسق قائم کردیا کہ امن قائم ہوگیا، کوئی بداَمنی نہیں رہی۔ ڈاکوؤں اور چوروں کے جو قبیلوں کے قبیلے مشہور تھے، وہ توبہ تائب ہوگئے۔ سسٹم کی طاقت نے اُن کی چوری اور ڈاکے کی عادت ختم کردی۔ جان، مال، عزت آبرو کا تحفظ ہوگیا۔ تمام انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا اجتماعی نظام قائم ہوگیا۔ نبی اکرمؐ کی سیرت اور صحابہؓ کی جدوجہد اور کوشش سے اس پورے معاشرے کے اندر ایک انقلاب آگیا۔

انقلاب اور تبدیلی اسی کو کہتے ہیں کہ انسانوں کے اندر سے اَخلاقِ رذیلہ نکل جائیں، اعلیٰ اَخلاق پیدا ہوجائیں۔ انقلاب یہی ہوتا ہے کہ کوئی قوم بدنظمی، بداَمنی، ظلم اور ناانصافی کے ماحول سے تبدیل ہوکر عدل و انصاف کے ماحول میں آجائے۔ حضور ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو ابوجہل کا جہالت، ظلم، ناانصافی پر مبنی نظام موجود تھا۔ جب حضوؐر دنیا سے تشریف لے گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کا علم، عدل اور امن کی بنیاد پر نظام دنیا میں قائم تھا۔ یہ کتنا بڑا انقلاب ہے! کتنی بڑی تبدیلی ہے کہ پورے کا پورا معاشرہ بدل دیا! جو لوگ انبیا علیہم السلام کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُن کی اس سیرت کو اپنے پیشِ نظر رکھیں۔

ہم سب یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ ہم اپنے ان تمام بزرگوں کی نسبت سے نبی اکرمؐ کے اس انقلابی کام کو سمجھ سکیں۔ اس کا شعور پیدا کریں۔ یہ اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس وقت ان دو ہی خرابیوں کے اندر مبتلا ہیں۔ دو ڈھائی سو سال کی غلامی کے نتیجے میں ہمارے اَخلاق بگڑ گئے ہیں۔ بداَخلاق بن گئے۔ کم تولنا، کم ناپنا، جھوٹ بولنا، فراڈ کرنا، بداَمنی پیدا کرنا، دہشت گردی کو فروغ دینا، قتل و غارت گری کرنا، یہ رویے ہماری مجموعی سوسائٹی کے اندر سرایت کر گئے ہیں۔ ہمارے سیاسی لیڈر، عدلیہ کے ذمہ داران، بیوروکریٹ، معیشت دان، سیکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے، ہمارے مذہبی نمائندوں کے اندر یہ بداَخلاقی سرایت کرگئی۔ وہ باقاعدہ اس دور میں فتنے کے طور پر سسٹمائز ہوگئے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ: دو جماعتیں اگر درست ہوجائیں تو سب لوگ درست ہوجاتے ہیں۔ اور وہ دو جماعتیں خراب ہوجائیں تو پوری انسانیت خراب ہوجاتی ہے: ایک حکمران طبقہ اور دوسرے مذہبی رہنما۔ لوگ حکمرانوں کی اتباع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور مذہبی نمائندوں کی مذہب کی نسبت سے عزت کرتے ہیں۔ اب اگر ان کے رویے جھوٹ کے ہوں، بداَخلاقی کے ہوں، غلط سیاست کی آلہ کاری کے ہوں، وہ اسی نظام کا حصہ ہوں تو وہی رویے عوام میں منتقل ہوتے ہیں‘‘۔

ظلم کے نظام سے برأت کا اعلان

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’رمضان المبارک کے روزے، قرآن حکیم کی تعلیم، انبیا علیہم السلام کی سیرت پر مبنی موضوعات، جو ہم نے ادارہ رحیمیہ کے قیامِ رمضان میں سنے، صحابہؓ کی جدوجہد اور کوشش کے حوالے سے جو باتیں ہم نے یہاں پر سنیں، اس کا ایک ہدف یہ ہے کہ ہم بداَخلاقی کے اس نظام سے برأت کا اعلان کرکے انبیاؑ کے اَخلاق، ان کے طریقۂ کار اور تعلیم و تربیت کے مطابق اپنے نفوس اور اپنے دلوں کو ڈھالیں۔ ہمیں اس بات کا عزم کرنا ہے کہ ہم یہاں کی سرمایہ پرستانہ معیشت کی بداَخلاقی کو قبول نہیں کرتے۔ یہاں کی سیاست کی بداَخلاقی سے ہم برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہاں کی عدالت کی ناانصافیوں سے ہم برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم یہاں کے رجعت پسند مذہبی رہنماؤں کی رجعت پسندی اور مذہب فروشی سے انکار کرتے ہیں۔

یہ وہی بات ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دور کے ایسے ہی اُمرا، فقہا اور مذہبی رہنماؤں کے خلاف کہی تھی کہ ہم تم سے اور جن کی بھی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو، چاہے وہ ملکی طاقتیں ہوں یا جن عالمی سامراجی طاغوتی قوتوں کے تم غلام بنے ہوئے ہو، ہم ان تمام سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ حضرت ابراہیم نے کہا کہ: ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ہمارے اور تمھارے درمیان دشمنی اور بغض و عداوت ہے، جب تک کہ تم اعلیٰ اَخلاق نہیں اپناتے۔ (ممتحنہ: 4) ہماری تمھاری ذات سے، تمھارے جسموں سے لڑائی نہیں ہے۔ ہماری لڑائی تمھاری بداَخلاقی اور انسان دشمن رویوں سے لڑائی ہے، تمھارے قائم کردہ ظلم و ناانصافی کے نظام سے لڑائی ہے۔

دوسری بڑی بنیادی بات یہ ہے کہ انبیا علیہم السلام کا طریقہ پوری اُمت کی اجتماعیت کو سامنے رکھ کر کام کرنے کا تھا۔ صرف کسی ایک فرد یا چند افراد کو مہذب بنانے کے تناظر میں نہیں ہے، بلکہ سیاسۃُ الاُمّۃیعنی پوری اُمت، پوری اجتماعیت، پوری قوم کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کی بات ہے۔ انفرادی طور پر صرف ذاتی کامیابی ہی کی بات نہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جب تک کوئی خُلق یا عادت عملاً کسی اجتماعی نظام میں نہیں ڈھلتا تو وہ نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ کیوںکہ لوگ اپنے حکمرانوں اور رجعت پسند مذہبی طبقوں کے پیچھے چلتے ہیں۔ جیسے حضوؐر نے ابوجہل جو وہاں کا سردار بھی تھا، سیاسی حکمران بھی تھا، اور وہاں کے جو مذہبی نمائندے ہیں، ان کے ساتھ حج کروانے میں مدد اور تعاون کرتے تھے، جیسے اُن تمام کو راستے سے ہٹا کر ایک نئی اجتماعیت قائم کی، ایسی اجتماعیت قائم کرنے کی جدوجہد کرنا انبیا علیہم السلام کی سیرت کا دوسرا اہم ترین پہلو ہے۔ اس لیے دین کا نظام قائم کرنا مسلمان جماعت پر لازمی اور ضروری ہے۔ یہ کائنات اللہ کے ایک نظام کے تحت چل رہی ہے۔ ہم اللہ کی حکمرانی مانتے ہیں تو اللہ نے ہمیں دنیا میں اعلیٰ اَخلاق و افکار اور شریعت کے مطابق سسٹم اور نظام قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے‘‘۔

معمولاتِ رمضان المبارک کا بنیادی پیغام

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’ادارہ رحیمیہ میں قیامِ رمضان اور معمولاتِ رمضان کا بنیادی پیغام وہی بات ہے، جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمائی تھی کہ: ’’روزہ صرف کھانے پینے اور خواہشات کو روکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزہ تو جھوٹ، لغو اور باطل سے رُکنا ہے‘‘۔ ہمیں ہر لغو کام سے برأت کا اعلان کرنا ہے۔ ہر جھوٹ اور باطل کا انکار کرنا ہے۔ یہ بنیادی ہدف ہے۔ الحمد للہ! پورے رمضان آپ نے انھی اہداف کی روشنی میںیہاں رمضان المبارک بسر کیا۔ اب یہ مطلب نہیں ہے کہ یہاں جو کچھ سنا ہے، وہ یہاں سے جانے کے بعد ہم سب کچھ بھول جائیں، نہیں! جو کچھ یہاں آپ نے سیکھا ہے، یہاں سے جانے کے بعد دراصل اپنے اپنے علاقوں، اپنی اپنی سوسائٹی اور اپنے اپنے ماحول میں رمضان کے ان اثرات کو محفوظ رکھنا ہے۔ وہ باتیں جو نبی اکرمؐ نے رمضان کے حوالے سے ارشاد فرمائی ہیں کہ یہ چار اعمال کثرت سے کرو: (۱)اللہ کا ذکر، (۲)استغفار، (۳)جنت کی طلب اور (۴)جہنم سے چھٹکارے کی دعا۔ شروع رمضان میںیہ بات عرض کردی گئی تھی کہ یہ معمولات ہمارے یہاں پر رہنے چاہئیں اور الحمد للہ! اس کے مطابق ہم نے اپنے معمولات جاری رکھے۔ ہم یہاں ذکر و اَذکار میں مشغول رہے، کثرت سے استغفار کیا۔ ہم نے اپنے انفرادی گناہ بھی سمجھے، اور اجتماعی گناہ بھی سمجھے کہ کون کون سے ہم سے اجتماعی حوالے سے گناہ ہو رہے ہیں۔ اور اُن سے ہم نے برأت کا اعلان کیا، اللہ سے دعا مانگی کہ اے اللہ میاں! ہمارے یہ گناہ معاف کردے۔

یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ ہمیں دنیا کی جہنم سے بھی بچا اور آخرت کی جہنم سے بھی بچا۔ دنیا کو جنت بنا اور آخرت کو بھی جنت بنا۔ دنیا اعلیٰ اَخلاق سے جنت بنتی ہے۔ جب سوسائٹی میں امن ہو، عدل ہو، تمام انسانوں کے حقوق ادا ہوں تو لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا۔  اس طرح دنیا حسنہ اور جنت بن جائے گی۔ لیکن اگر جھوٹ ہو، بددیانتی ہو، بداَخلاقی ہو، دوسروں کے حقوق ٹوٹیں تو آپس میں لڑائی ہوگی۔ اس طرح دنیا جہنم بن جاتی ہے۔

ہم نے ان چاروں چیزوں کو اپنا معمول بنایا۔ اسی معمول کو اب جاری رکھنا ہے، تاکہ یہ جو عادت بن گئی ہے، یہ جو مشق ہم نے تیس دن میں کی ہے، اس مشق کو ہم برقرار رکھیں۔ جو بنیادی چیزیں ہم نے یہاں سیکھی ہیں، ہم اپنے علاقوں میں جا کر بھی ان کی پابندی کریں، تاکہ ہمارے اَخلاق بھی درست ہوں، اور ہم اجتماعی نقطہ نظر سے ایک سوچ قائم کرکے ایک نتیجے تک پہنچیں۔ ہماری نمازیں رسمی نہ ہوں، ہمارے اعمال رسمی نہ ہوں۔ ہماری سوچ رسمی نہ ہو۔ بلکہ ہماری سوچ، ہمارا عمل انقلابی ہو، تبدیلی کے نقطہ نظر سے ہو، اپنے آپ کو بدلنے، سوسائٹی کو بدلنے، معاشرے کو بدلنے، اپنی قومی اجتماعیت کو بدلنے کی جدوجہد اور کوشش کے ساتھ ہو، تو یقینا دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی برکات نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین!)‘‘۔

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین
دینِ اسلام ایک نظام ہے

12؍ مارچ 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری اپریل 27, 2021

رمضان المبارک میں حضورﷺ کے دو خصوصی معمولات

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: ’’کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَکَانَ أَجْوَدُ مَا یَکُونُ فِي رَمَضَانَ حِینَ یَلْقَاہُ جِبْرِیلُ، وَکَانَ یَلْقَاہُ فِي کُلِّ لَیْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَیُدَارِسُەُ الْقُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّہِﷺ أَ…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصر مئی 11, 2021

احکام ومسائل قربانی و عیدالاضحی

1۔ ہر ایسے مسلمان عاقل، بالغ مرد و عورت پر قربانی کرنا واجب ہے، جو عیدالاضحی کے دن مقیم ہو اور صاحب ِنصاب‘ یعنی شریعت کی مقرر کردہ مال کی مقدار کا مالک ہو۔ …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021

عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت

۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021