عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 24؍ محرم الحرام 1448ھ / 10؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ . (4 –النساء:58)
ترجمہ : ”اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے، بیشک اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو“۔
2۔ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا. (33 –الاحزاب:58)
ترجمہ: ”اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو بدون گناہ کئے تو اٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا اور صریح گناہ کا“۔
حدیثِ نبویﷺ:
”أَرْبَى الرِّبَا عِنْدَ اللَّهِ اسْتِحْلَالُ عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ“.
(تفسير ابن أبي حاتم: 10/ 3153)
ترجمہ: ”اللہ کے نزدیک سب سے بڑا سود؛ایک مسلمان شخص کی عزت پامال کرنا ہے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ عدل؛ تمام قوانین اور شرائع الہیہ کی قدرِ مشترک
✔️ قرآن حکیم میں حکمرانوں کو عدل کے قیام کا خصوصی حکم
✔️ عدل و انصاف کی رو کے منافی حکم اور فیصلہ کرنے کی ممانعت
✔️ عدل کی اساس پر تین دائروں میں احترامِ انسانیت لازمی و ضروری
✔️ اثمِ مبین؛ بغیر کسی جرم کے کسی انسان کو ایذا و تکلیف پہنچانا
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور شانِ نزول
✔️ قرآنی حکم کی روشنی میں اسلامی نظام میں انتظامی اور عدالتی اختیارات کو الگ الگ رکھا گیا
✔️ قانون سازی و فیصلہ سازی میں خلفائے راشدینؓ‘ مجلسِ مشاورت و عدلیہ کے پابند تھے
✔️ دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی روشنی میں بارہ سو سالہ مسلم دورِ حکومت میں مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ کے اختیارات کی تقسیم کا نظام قائم رہا
✔️ شہریوں کو حبس بے جا اور ماوراءِ عدالت قتل کرنے کی کھلی چھٹی کا ظالمانہ قانون
✔️ قرآنی آیت کی روشنی میں ظالمانہ نو آبادیاتی دور کے پولیس سسٹم اور عدالتی اختیارات کو بدلنے کی ضرورت نہیں؟
✔️ بغیر شواہد و ثبوت کے الزام ترشی اور ایذا و تکلیف پہنچانا‘ بہتانِ عظیم اور اثمِ مبین
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی فکر کی روشنی میں ”البِرّ“ اور ”الاثم“ کی جامع تعریف
✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں عزت کے تحفظ اور غیبت و بہتان تراشی کی مذمت
✔️ تہذیب یافتہ اور غیرت مند اقوام اپنی قومی شناخت اور عزت و وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتیں!
✔️ قوموں کو بظاہر آزادی دینا مگر عزت و وقار کی پامالی کا سامراجی حربہ
✔️ سیاسی و معاشی غلامی کے گرداب کے ساتھ ساتھ قوم پر لاقانونیت اور ظالمانہ قوانین کا عذاب مسلط
✔️ اہلِ علم و دانش کی بنیادی ذمہ داری؛ مروجہ ظالمانہ سسٹم کی خرابیوں پر غور و فکر کرکے درست کرنے کی ضرورت
✔️ حضرت عمر فاروقؓ کا بطورِ حکمران روشن کردار اور احساس ذمہ داری کی واضح مثالیں
✔️ عقل و شعور کی اساس پر عادلانہ نظام کا قیام ہر فرد کا اجتماعی فریضہ
✔️ آخرت کی سزا و جزا کا دار و مدار‘ دنیا میں اجتماعی نظام اور فیصلوں پر منتج
✔️ آج کا المیہ؛ انفرادی جرائم اور گناہوں پر ندامت لیکن اجتماعی جرائم اور نظام کی خرابیوں سے پہلو تہی
✔️ انسانی حقوق کی پامالی اور توہینِ انسانیت کے ظالمانہ قوانین کے خلاف شعوری و قانونی آواز اٹھانا نہایت ضروری
✔️ قرآن کا بنیادی پیغام؛ عقل و شعور کی اساس پر سوسائٹی کے مسائل کو درست طور پر سمجھ کر علمی و فکری اور آئینی و قانونی حق استعمال کرنا ضروری
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا


