قرضہ کی تباہ کن معیشت کے بالمقابل تعاون باہمی اور منصوبہ بندی کے دینی اصولوں پر سماجی تعمیرِ نو کی ضرورت واہمیت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 26؍ ذی الحجہ 1447ھ / 12؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ (39) اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ (40) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(41)
سورۃ (الروم 30: 39-41)
ترجمہ: ”اور جو سود پر تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے، سو اللہ کے ہاں وہ نہیں بڑھتا۔ اور جو زکوٰۃ دیتے ہو جس سے اللہ کی رضا چاہتے ہو، سو یہ وہی لوگ ہیں جن کے دُونے ہوئے۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر تمہیں مارے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے معبودوں میں سے کبھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکے؟ وہ پاک ہے اور ان کے شریکوں سے بلند ہے۔ خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں“۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
05:18 انسانی معاشرے کی بنیاد: تعاونِ باہمی
08:35 سرکش اور طاغوت کی علامتیں
10:14 صالح اور فاسد تمدن کی پہچان
39:54 غیر متوازن اور طبقاتی معیشت کی اصل خرابی
12:59 قرضائی معیشت کی بنیاد اور اس کی تباہ کاریاں
15:59 قرضوں میں ڈوبی ہوئی پاکستانی معیشت کی زبوں حالی
19:46 قرضائی معیشت کے انسانیت پر فرسودہ اثرات
24:22 رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں قرض سے بچاؤ کا تذکرہ اور صحابہ کو اس کی تعلیم دینا
27:06 احادیث نبویہﷺ کی روشنی میں مقروض کی اخلاقی کیفیت کا ذکر
29:50 معاشی تنگدستی کا اجتماعی اخلاقیات پر اثر
32:00 عالمی مالیاتی اداروں کا ملکی معاشی نظام پر قبضے کا منظم طریقہ کار
35:53 ملک پر مُسلّط قرضائی معیشت کے وسیع تر منفی اثرات
38:22 قرضائی معیشت سے نکلنے کا بنیادی اصول
39:54 حضرت عمرِ فاروقؒ کے دور میں عراقی زمینوں کی تقسیم کا دانش مندانہ فیصلہ
44:02 معاشی نظام میں منصوبہ بندی کی اہمیت اور حضرت عمرفاروق رضی اللّٰه عنہ کا اُسوہ
49:04 وسائلِ دولت کی عادلانہ تقسیم کا قرآنی اصول اور اجماعِ امت
54:48 ملکی وسائلِ دولت کی بجائے قرضائی معیشت پر قائم معاشی نظام کی فرسودگی
58:22 مُقتدرہ کے لیے ایرانی قومی سیاسی نظام سے آزادی اور قومی حمیّت کا سبق سیکھنے کی ضرورت و اہمیت
01:01:30 موجودہ دور کی ذمہ داریوں کا تعیّن اور مستقبل کے حوالے سے مایوسی کی بجائے درست لائحہ عمل کی ضرورت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا



