Sep-2021

Rahimia Magazine

Sep-2021

Sep 09, 2021 10 articles Download Download EPUB

1 / 10

بنی اسرائیل کے لیے قومی اور ملکی سطح کا اجتماعی نظام

بنی اسرائیل کے لیے قومی اور ملکی سطح کا اجتماعی نظام

وَإِذ قُلتُم يا موسىٰ لَن نَصبِرَ عَلىٰ طَعامٍ واحِدٍ فَادعُ لَنا رَبَّكَ يُخرِج لَنا مِمّا تُنبِتُ الأَرضُ مِن بَقلِها وَقِثّائِها وَفومِها وَعَدَسِها وَبَصَلِها ۖ قالَ أَتَستَبدِلونَ الَّذي هُوَ أَدنىٰ بِالَّذي هُوَ خَيرٌ ۚ اهبِطوا مِصرًا فَإِنَّ لَكُم ما سَأَلتُم ۗ 

(اور جب کہا تم نے: اے موسیٰ! ہم ہرگز صبر نہ کریں گے ایک ہی طرح کے کھانے پر، سو دعا مانگ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے کہ نکال دے ہمارے واسطے جو اُگتا ہے زمین سے ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز۔ کہا موسیٰ نے: کیا لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے، اُس کے بدلے میں جو بہتر ہے۔ اُترو کسی شہر میں تو تم کو ملے جو مانگتے ہو۔ البقرہ:61)

گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت کے لیے کیے گئے انعامات کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن میں شخصی تربیت سے لے کر صحرائی اجتماعیت پر مبنی ابتدائی تربیت سے متعلق اُمور بیان کیے گئے تھے۔ نیز معاشی اُمور کی منصفانہ تقسیم سے متعلق احکامات کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس آیت ِمبارکہ کے اس حصے میں اس سے اگلی قومی شہری اجتماعیت سے متعلق اُمور بیان کیے جا رہے ہیں۔

وَإِذ قُلتُم يا موسىٰ لَن نَصبِرَ عَلىٰ طَعامٍ واحِدٍ:صحرائی زندگی میں مَنّ و سلویٰ کی صورت میں عمدہ غذا اور متعین شدہ چشموں سے منصفانہ طور پر پانی کی تقسیم کی ایک درجے میں تربیت حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل میں اس یکسانیت سے اُکتاہٹ پیدا ہوگئی۔ چناںچہ انھوں نے اگلے مرحلے کی قومی اجتماعیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں ابتدائی صحرائی اور بستی کی یکساں زندگی سے نکل کر ایک نئی اور متنوع اجتماعیت کی ضرورت ہے، جس میں کھانے پینے کی چیزوں میں تنوع ہو۔ غذاحاصل کرنے کے اَور بھی طریقے ہونے چاہئیں۔ پانی کے حصول کے لیے بھی نئے وسائل سے استفادے کی صورت ہونی چاہیے۔ اب ہم یکسانیت پر زیادہ دیر تک صبر نہیں کرسکتے۔ ہماری اجتماعیت کا تقاضا ہے کہ قومی سطح کا مصری اور شہری نظام قائم کریں۔

فَادعُ لَنا رَبَّكَ يُخرِج لَنا مِمّا تُنبِتُ الأَرضُ:انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے لیے اپنے ربّ سے دعا کریں کہ زمین سے اُگنے والی قدرتی غذائیں ہمیں حاصل ہوں۔ بغیر کام کاج کیے ہوئے محض مَنّ و سلویٰ کھاتے رہنا اور بغیر کسی محنت و مشقت کے چشموں سے پانی حاصل کرلینے پر ہم قناعت نہیں کرسکتے، بلکہ کاشت کاری کے لیے زمین تیار کرنا، زمین کی آباد کاری اور آب پاشی کے لیے پانی کے وسائل کا مہیا ہونا، اور اُس سے اُگنے والی فصلات کے حاصل کرنے کا طریقہ ہمیں سکھایا جائے۔ ان وسائل کے حصول سے ہی قومی ترقی حاصل ہوگی۔

مِن بَقلِها وَقِثّائِها وَفومِها وَعَدَسِها وَبَصَلِها ۖ:بنی اسرائیل نے زمین سے اُگنے والی پانچ چیزوں کا مطالبہ کیا۔ سب سے پہلے ’’بَقْل‘‘ یعنی سبزی اور ساگ وغیرہ کا مطالبہ کیا۔ اس سے مراد وہ تمام تر نباتاتی سبزیاں ہیں، جنھیں براہِ راست پکا کر انسان غذا حاصل کرتا ہے۔ پھر ’’قِثَّاء‘‘ کا مطالبہ کیا، یعنی سبز بیلوں پر لگنے والی پھلیاں اور سبزیاں، مثلاً ککڑی، کدو، ٹینڈے وغیرہ ہیں۔ تیسرے ’’فُوْم‘‘ کا مطالبہ کیا، اس سے مراد اَناج؛ گندم اور جَو وغیرہ ہیں، جن سے روٹی تیار کی جاتی ہے۔ حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ: ’’فُوْم سے مراد ہر وہ دانے دار جنس ہے، جس سے روٹی بنائی جاتی ہے‘‘ (تفسیر ابن کثیر)۔ چوتھے ’’عَدَس‘‘ کا مطالبہ کیا، اس سے مراد مسور وغیرہ تمام دالیں ہیں۔ چوتھے ’’بَصَل‘‘ کا مطالبہ کیا، اس سے مراد پیاز اور لہسن وغیرہ زمین کے اندر اُگنے والی سبزیاں ہیں۔ ان پانچوں غذاؤں میں ایک خاص تنوع، ذائقہ اور فوائدوثمرات ہوتے ہیں۔ ساگ اور سبزیاں ایک محدود مدت تک محفوظ رکھی جاسکتی ہیں، جب کہ اناج، دالیں اور پیاز وغیرہ زیادہ مدت تک ذخیرہ کیے جاسکتے ہیں۔ ان تمام غذاؤں کی کاشت کاری کے لیے خاصی محنت و مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے اور انھیں ذخیرہ کرنے کے لیے شہری زندگی کے دیگر لوازمات بھی پورا کرنے پڑتے ہیں، جو کاشت کاری کے آلات کے حوالے سے صنعت کاری کو وجود میں لانے کا باعث ہوتے ہیں۔ اور ذخیرہ شدہ اناج کی خرید و فروخت کے لیے تجارتی سرگرمیوں اور ان کے لیے منڈیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس طرح قومی سطح کا ایک شہری نظام قائم کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔

قالَ أَتَستَبدِلونَ الَّذي هُوَ أَدنىٰ بِالَّذي هُوَ خَيرٌ ۚ:حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم عجیب لوگ ہو، بغیر کام کاج کیے تمھیں مَنّ و سلویٰ مل رہا ہے۔ اور زراعت کے لیے آب پاشی کا نظام قائم کیے بغیر تمھیں اچھی بہترین زندگی حاصل ہے تو پھر اُسے کم تر درجے کی محنت اور مشقت کی زندگی سے کیوں بدلنا چاہتے ہو؟

اهبِطوا مِصرًا فَإِنَّ لَكُم ما سَأَلتُم ۗ :حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا! اگر یہی تمھارا سوال ہے اور اگر تم اگلی زندگی کی ترقیات واقعی حاصل کرنا چاہتے ہو تو چلو جاؤ کسی شہر میں اُترو، تم جو مانگتے ہو، وہ تمھیں ملے گا۔ قومی اجتماعی زندگی کے لیے اُصول وہی ہے کہ معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے اور زمین میں فساد نہ مچایا جائے۔ عدل و انصاف کے ساتھ شہری نظام قائم کیا جائے۔ اس لیے کہ قومی اجتماعیت میں انسانوں کی ضروریات اور حاجات بڑی کثرت سے ہوتی ہیں۔ اُس میں اگر فائدے بہت ہیں تو بعض اوقات نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ قومی اجتماعیت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اگر اجتماعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کچھ انفرادی نقصانات اُٹھانا بھی پڑیں تو انھیں برداشت کیا جائے۔ اور جو اجتماعی منافع اور فوائد ہیں، اُن کو پوری توانائی اور صبر و استقامت کے ساتھ حاصل کرنے کی جدوجہد اور کوشش کی جائے۔ اپنی طبیعتوں کے انفرادی تقاضوں کو کنٹرول کیا جائے اور اجتماعی تقاضوں کے مطابق قومی سطح پر بہترین سیاسی اور معاشی نظام قائم کیا جائے۔

2 / 10

ظلم، بخل، حسد کا نقصان

ظلم، بخل، حسد کا نقصان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہَﷺ قَالَ: ’’اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، حَمَلَھُمْ عَلٰی أنْ سَفَکُوا دِمَائَ ھُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَھُمْ‘‘۔

)حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’ظلم سے بچو، کیوںکہ ظلم قیامت کے دن (دِلوں پر چھانے والی) ظلمتیں ہوں گی۔ بخل اور ہوس سے بچو، کیوںکہ تم سے پہلے لوگوں کو بخل و ہوس نے ہلاک کردیا۔ اسی نے ان کو اُکسایا تو انھوں نے اپنے (ایک دوسرے کے) خون بہائے اور اپنی حرمت والی چیزوں کو حلال کرلیا‘‘۔)  (صحیح مسلم، حدیث:  6576(

نبی اکرمﷺ نے اپنے اس ارشادِ مبارک میں تین بُری عادتوں کے نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔ وہ تین عادتیں ظلم، بخل، لالچ اور ہوس ہیں۔ ظلم کے بارے میں آپؐ فرمایا کہ ظلم قیامت کے روز تاریکیوں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ ظلم دوسرے انسانوں کے حقوق کی پامالی، ناانصافی اور ایسا ناروا طرز ِعمل ہے، جو لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دے، ان کی زندگی دوبھر کردے۔ سزا کا ضابطہ یہ ہے کہ جیسا جرم ہوتا ہے، ویسی سزا ہوتی ہے۔ چوں کہ مظلوم انسان کو بے بسی اور لاچاری کی بنا پر اپنی منزل کا راستہ سُجھائی نہیں دیتا، یوں وہ اندھیرے اور تاریکی میں گم ہوجاتا ہے۔ اس لیے ظلم ڈھانے والے کو سزا بھی ایسی ہی دی گئی ہے۔ ظلم قیامت کے روز تاریکیوں میں سے ایک تاریکی بن کر نمودار ہوگا۔ مؤمنین کے بارے میں ہے کہ روز ِقیامت ان کے آگے اور دائیں روشنی دوڑتی ہوگی۔ (سورۃ التحریم: 8) آج انسانوں پر ظلم کا غلبہ ہے۔ اس نے انسانوں کو پریشان کر دیا ہے۔ طبقات قائم کر دیے گئے ہیں۔ نظامِ ظلم کی وَجہ سے لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہوگئے ہیں۔ ظلم ڈھانے والوں کو رسول اللہﷺ ان کے اردگرد روز ِقیامت تاریکی کے چھا جانے کی وعید سنا رہے ہیں، جس سے ان کی منزل ان سے اوجھل ہوجائے گی۔

بخل اور ہوس ایسا انسانی رویہ ہے جو اسے مال خرچ کرنے میں تنگ دل بنا دیتا ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر اہلِ ثروت میں ہوتی ہے، لیکن جب سرمایہ پرستانہ نظام کا غلبہ ہو جائے تو پھر یہ مرض امیر اور غریب دونوں میں جڑ بنالیتا ہے۔ یہ مال جمع کرنے اور سمیٹ کر رکھنے کا جذبہ ہے۔ قرآن نے جا بہ جا اس کے مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔ بخل اور ہوس کی وَجہ سے انسان دوسروں کے ساتھ مالی ناانصافی کرتا ہے۔ ان کے حقوق پامال کرتا ہے۔ قتل تک کردیتا ہے، جیسے اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بُرا خُلق تمھیں دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے اور ان کو قتل کرنے تک آمادہ کرتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ سوچ بہت خطرناک اور انسانی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، جسے معاشرے سے ختم کرنا دینی اور انسانی تقاضا ہے۔

3 / 10

Hazrat Fatima Al-Zahra(R.A.)

As Paragon of Social Values for the Women of Islam

Maulana Qazi Muhammad Yousaf, Hassan Abdal

Lady of Paradise, Hazrat Syeda Fatima Al-Zahra (RA), is the youngest amongst the all four daughters of the Holy Prophet (PBUH). She was born before the proclamation of Prophethood and was brought up in the arms of Prophethood, learned the principles of life and practiced them to the fullest. She was endowed with the blessed attributes of wisdom and intellect. Further, when it comes to the virtues of morality, intellect and insights regarding the faculties of Deen, the personality of honorable Fatima Bint e Muhammad was the wondrous embodiment of all.

She was the most similar to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) in manners and speech. The extent of her Generosity was that she never returned a beggar empty-handedfrom her doorstep. To be always kind to others was her norm. The noble qualities like the Recognition of Allah; the only Supreme Deity, obedience of the Prophet, Piety and Taqwa, purity and chastity, putting trust in Allah and pursuit of Divine Pleasure, and contentment were the part of her propensity. There are 18 narrations from her in the collection of hadith.

Hazrat Syeda Fatima got married to Hazrat Ali Al-Murtaza in 5 AH. 400 Mithqal (1 Mithqal= 3.64 g) of silver seal was fixed, as her Mehar. She says that, at the ceremony of her going away, her beloved father advised her not to embarrass her husband by demanding anything. She, the Queen of Paradise, used to do all the housework herself. She even used to get blisters on the hands due to grinding flour with a mill and cleaning the house. Blowing the stove would make the clothes look dusty, but she was never be afraid of hard work and service. In spite of this service and hard work, her worship of Allah did not diminish. Her beloved elder son, Hazrat Hassan narrates that he had always found her mother worshipping, weeping and wailing before God, asking prayers from dawn till dusk. Once Beloved Prophet returned from the battlefield, Hazrat Fatima welcomed him by putting carved curtains on the door of her house, and silver bracelets on Hazrat Hassan and Hussain. When he visited Hazrat Fatima’s house as per rotinue and then after seeing the unnecessary

worldly stuff, he went back. When Syeda Fatima found out about his dislike, she tore the curtains off and removed the bracelets from the children’s hands. They both came weeping, to  the blessed service of Holy Prophet. He said: “They are my Ahl-e-Bait. I don’t want them to be polluted with worldly temporary adornment.” In return, Beloved Prophet bought a stone necklace and ivory bracelets for Hazrat Fatima (R.A).

Once, Holy Prophet, asked Hazrat Fatima about the traits of Muslim woman. She described that woman should obey God and His Messenger, have compassion on the children, keep her eyes down, hide her adornment and do not see anyone else. She should not stare anyone and also let no one else stare her. He was very delighted to hear this from his daughter.

 

Translated by: Amna Tallat, Lahore.

(Rahimia Magazine September, 2021)

4 / 10

The return of the Afghan Taliban and the need for realistic thinking

In the second half of August 2021, in the national and international newspapers, the news of the defeat of the United States, and the apparently good news about the Taliban’s victory attracted the readers. In the era of decadence, our sagacity of seeing and knowing facts and events in their original context has been buried under the rubble of 'delusions', due to which we Muslims have become accustomed to seeing the world captivated by our own desires.

The return of the Taliban to Afghanistan and the withdrawal of US troops from Afghanistan, opposite to our aspirations, is based on some solid facts, which are very important to understand in the context of international and the local situation in Afghanistan. Without it, accurate analysis of the current situation in Afghanistan would not be possible. It should be borne in mind that Afghanistan, which became the battleground of the two world powers in the Cold War almost forty years ago is now the battlefield of proxy wars of more than half a dozen countries.

In such a situation, the United States can never leave the ground vacant for its rivals. So, it set the negotiating table in Doha (Qatar) and declared the Taliban a regular stakeholder in Afghanistan. Then it opened a political office in Doha for the Taliban and allowed the Taliban to be a player in the field with some conditions through an agreement. However, our naive and delusional religious circles are interpreting the aforementioned situation as the defeat of America and the victory of the Taliban. Those who call it the "conquest of Makkah", what we should call them? Don’t they lack the understanding of the Prophet's life? We wish these clerics would consider the following words of the "Taliban-US Peace Accord" in Doha, which states: “Taliban will not allow any of its members, other individuals or groups, including al-Qa’ida, to use the soil of Afghanistan to threaten the security of the United States and its allies. Taliban will send a clear message that those who pose a threat to the security of the United States and its allies have no place in Afghanistan. Taliban will prevent any group or individual in Afghanistan from threatening the security of the United States and its allies and will prevent them from recruiting, training, and fundraising and will not host them. Taliban is committed to deal with those seeking asylum or residence in Afghanistan according to international migration laws and the commitments of this agreement, so that such persons do not pose a threat to the security of the United States and its allies. Taliban will not provide visas, passports, travel permits, or other legal documents to those who pose a threat to the security of the United States and its allies to enter Afghanistan." The question is, is this a victory for the Taliban without other's involvement or a joint plan to protect interests? What is the common denominator between the arrival of chained Taliban in Kabul and the conquest of Mecca by the Prophet? Can anyone answer this question or should we answer?

Check the simplicity of the statements that “Taliban have surprised the world by occupying Kabul and the United States and its institutions like the State Department, the White House, the CIA, and the Pentagon were not even aware of all this". The fact is that the US not only kept some Taliban leaders in Guantanamo Bay for a while but also pursued matters through a "pat and slap" policy, even releasing Mullah Baradar from a Pakistani prison. Then lifted travel restrictions on Taliban leaders. The US set up Taliban office in a US bases like Qatar and VIP protocol from the Qatari government were given. The United States also bypassed its own Ashraf Ghani's "elected" government and started talks with the Taliban. As a result, the Ashraf Ghani government released 5,000 Taliban prisoners in jails. In the Taliban's latest battles, the Taliban forces did not fire on the Americans and the Americans did not fire on the Taliban, even the stockpile of weapons of mass destruction was transferred to the Taliban. Because the Afghan army was subordinate to US military generals rather than the Ashraf Ghani administration, it was made to surrender under its game plan.

The Taliban have in the past hosted the Chechen Mujahideen and Islamic Movement of Uzbekistan militants. They have even paved the way for a direct US presence in the region by insisting on hosting Osama bin Laden and now, they are assuring the United States that they will not have any relation with Al Qaeda, ISIS, etc. They are giving a guarantee to the United States that they will not harm American interests. Surprisingly, in the wake of this irreparable loss to the region, the agreement reached with the United States on its own terms is being called extraordinary wisdom and prudence.

There is no doubt that the US military is finally withdrawing from Afghanistan at the cost of its own lives and property, but it is also a fact that the US will maintain its presence in the region in one form or another. The money to run the Afghan state will still be provided by The United States and its subordinate international institutions. His withdrawal does not appear to be as that of Soviet Union’s, that it will not completely abandon its interests. In fact, he will insist on staying here in the form of his policies, rather his allies will continue to lend a hand. For example, Afghanistan's ten-billion-dollar assets have already been frozen and the IMF and the European Union have suspended aid programs to Afghanistan. These measures are being taken so that, as soon as a formal form of government is formed in Kabul, they can be held hostage by making them feel the economic blockade. The United States wants to protect its capitalist system in Afghanistan by reconciling all the powers of the status quo so that in the future it can use these factions of Afghanistan against Russia and China.

Unfortunately, there is no circle or organization in Afghanistan today that understands national and democratic thought as well as colonial ambitions, so no revolutionary change can be expected in the recent upheaval. At most, there is only one change of government, while the system has its own strategy of change. Governments change day by day in the world and they do not make any nuclear difference in policies. Therefore, there is a need for more conscious analysis and insightful measures than to be happy with Afghanistan’s illusion.

Translated into English by: Muhammad Ahsan, Abu Dhabi

5 / 10

تلاوت، ذکر اور دُعا کی روح

تلاوت، ذکر اور دُعا کی روح

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

(تلاوتِ قرآن حکیم کی روح) ’’قرآن حکیم کی تلاوت کی روح یہ ہے کہ:

بڑی عظمت اور شوق کے ساتھ اپنی توجہ اللہ کی طرف رکھے۔ اُس کی نصیحت اور مواعظ پر خوب غور و فکر کرے۔ اس میں بیان کردہ احکامات کے لیے فرماں برداری کے جذبات پیدا کرے۔ قرآن حکیم میں بیان کردہ مثالوں اور (انبیا علیہم السلام کے) قصوں سے عبرت حاصل کرے۔ جب بھی اللہ کی صفات اور نشانیوں کی کوئی آیت پڑھے تو ’’سبحان اللہ‘‘ کہے۔ جب بھی جنت اور رحمت سے متعلق کوئی آیت پڑھے تو اللہ سے اُس کے فضل و کرم کا سوال کرے۔ جہنم اور غضبِ الٰہی سے متعلق کوئی آیت پڑھے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگے۔ یہ وہ باتیں ہیں، جو رسول اللہ ﷺ نے نفس کی تہذیب و تمرین اور مشق کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے بیان کی ہیں۔

(ذکرُ اللہ کی روح): ذکرُ اللہ کی روح یہ ہے کہ اللہ کا نام لیتے ہوئے: اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کی کیفیت پیدا کرے۔ اللہ کی صفات اور عالمِ جبروت کی طرف متوجہ ہونے میں غرق ہوجائے۔ اس کی مشق کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے زبان سے کہے: ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، و اللّٰہ أکبر‘‘ (اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور اللہ بہت بڑا ہے)۔ پھر اپنے کانوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سنے کہ: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، و أنا أکبر‘‘ (میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور میں بہت بڑا ہوں)۔ پھر اپنی زبان سے کہے: ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، وہ ایک ہے، کوئی اُس کا شریک نہیں)۔ پھر اللہ کی طرف سے اپنے کانوں سے سنے: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، وحدی لا شریک لی‘‘ (میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، میں اکیلا ہوں، کوئی میرا شریک نہیں)۔ اسی طرح ذکر کرتا رہے، یہاں تک کہ اُس سے حجابات اور پردے اُٹھ جائیں اور اللہ کی طرف اُس کا استغراق پورے طور پر حقیقت بن جائے۔ بے شک نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی طرف اس حدیث میں اشارہ کیا ہے۔

)یہ حدیث امام ترمذیؒ نے ’’کتاب الدَّعَوات‘‘ میں اور امام نسائیؒ اور امام ابن ماجہؒ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ نے گواہی دی ہے کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو آدمی ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، و اللّٰہ أکبر‘‘ پڑھتا ہے، تو اُس کا ربّ اُس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، و أنا أکبر‘‘ الخ۔ رواہ الترمذی، حدیث: 3430(

(دُعا مانگنے کی روح): دعا مانگنے کی روح یہ ہے کہ: انسان یہ دیکھے کہ تمام طاقت اور قوت صرف اللہ کی ہے۔ اور اللہ کے سامنے ایسے ہوجائے جیسے نہلانے والے کے ہاتھ میں مردہ ہوتا ہے۔ یا ایسی تصویر جو تصویر بنانے والے کے ہاتھ کے سامنے ہوتی ہے۔ دعا مانگتے ہوئے اللہ سے سرگوشی کی لذت محسوس کرے۔

رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ ہے کہ: آپؐ تہجد کی نماز کے بعد خوب دعا مانگتے تھے۔ خاص طور پر دو رکعتوں کے درمیان بڑی لمبی دعا مانگتے تھے۔ اپنے دونوں ہاتھ بڑی عجز و انکساری سے اللہ کے سامنے اُٹھاتے اور فرماتے تھے: ’’یا ربِّ یا ربِّ!‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرتے تھے۔ مصیبتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے سامنے خوب گڑگڑاتے تھے۔ اللہ کے سامنے نہایت عاجزی اور انکساری سے لپٹ کر دعا مانگتے تھے۔

دُعا کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ:انسان کا دل باقی ہر چیز سے فارغ ہو۔ کھیل کود اور غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ بیت الخلا جانے، پیشاب اور پاخانے کا تقاضا نہ ہو۔ بھوکا پیاسا بھی نہ ہو۔ غصے اور طیش کی حالت میں بھی نہ ہو۔

(حضوری کی اس کیفیت کو برقرار رکھنے کا علاج): پس جب انسان اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے حضوری کی کیفیت حاصل کرلے۔ پھر اس کے بعد اگر یہ کیفیت باقی نہ رہے تو اس حالت کے ختم ہونے کے اسباب کی تحقیق و تفتیش کرے:

(الف) اگر طبیعت کے جوش اور طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو اُس پر لازم ہے کہ روزے رکھے۔ اس لیے کہ روزہ طبیعت کے جوش کو ٹھنڈا اور شہوت کو ختم کرتا ہے۔ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ دو مہینوں کے روزے مسلسل رکھے جاسکتے ہیں، اس سے زیادہ مسلسل روزے رکھنا درست نہیں۔

(ب)       اگر اُسے ضرورت اور حاجت ہے کہ وہ کھانے پینے کے حوالے سے اپنی اصلاح کرے اور منی کی خرابیوں سے فارغ ہو۔ یا (حضوری کی کیفیت میں) دل لگنے کی کیفیت ختم ہوجائے اور اُسے دوبارہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو تو شادی کرلے اور منی کی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ لیکن کھانے پینے اور بیوی سے ملنے میں زیادہ اِنہماک نہ رکھے۔ اس کو صرف ایسی دوا کے طور پر استعمال کرے کہ جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے اور اُس کے فساد سے بچا جاتا ہے۔

(ج)        اگر حضوری کی کیفیت ارتفاقات اور لوگوں کے میل جول میں مشغولیت کی وجہ سے ختم ہوئی ہو تو پھر ارتفاقات سے متعلق کام سرانجام دیتے ہوئے اللہ کے ذکر اور احکامات کو یاد رکھے۔

(د)          اگر حضوری کی کیفیت غور و فکر کے برتن (یعنی دماغ) تشویش انگیز خیالات سے بھر جانے یا افکار میں خرابی اور گڑبڑ پیدا ہونے کی وجہ سے ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ لوگوں سے علاحدگی اختیار کرے۔ گھر میں یا مسجد میں بیٹھ جائے اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر کے علاوہ ہر چیز سے روک لے۔ اور اپنے قلب کو اللہ کی جانب تفکر و تدبر کے سوا تمام چیزوں سے روک لے۔ جب نیند سے بیدار ہو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور اپنے نفس کی نگرانی کرے، تاکہ اُس کے دل میں سب سے پہلی چیز ذکر اللہ کی صورت میں داخل ہو۔ اور جب سونے کا ارادہ کرے تو اپنے دل کو ان تمام لایعنی افکار اور تشویش انگیز خیالات سے پاک کرکے لیٹے‘‘۔

(من أبواب الإحسان، باب(1): علمُ الشّرائع و الإحسان)

6 / 10

Scholars and Scientists of Andalusia

Mufti Muhammad Ashraf Atif, Lahore.

Muslims began to rule Andalusia (present day Spain) in 711AD/ 92Hijri. Although the development of science and literature started at a later stage, Andalusia became the cradle of science and literature due to the personal interest and patronage of the its Muslim rulers. There camea time when every man in Andalusia could read and write, while Christian Europe knew only the primitive knowledge and that too only a few members of the church. At that time, there were about eight hundred educational institutions in Cordoba alone, where secondary and higher education was organized. The University of Cordoba was the largest university in the world, teaching all disciplines of contemporary knowledge, including physics, mathematics, astronomy, chemistry, medicine and philosophy. From these institutions, such great scholars and scientists were born, who discovered new aspects of various sciences and arts and areregarded asthe inventorsof these sciences and arts, and to this day humanity is benefiting from their contributions in various fields of knowledge.

One of the schools of thought that emerged during this period was the Aristotelian school of thought, represented by the eminent philosophers like Ibn e Tufayl and Ibn e Rushd. The second school of thought was the Platonist school of thought, spearheadedby Mohi-ud-Din Ibn Arabi. During the golden eraof Islam, Islamic philosophy as a branch of knowledge began to be taught all over the world and many eminent experts of this field emerged. These philosophers did not indulge themselves in futile debates, but rather their debates revolve around the basis of ultimate truth on which the order of the whole universe is based. For example, some of the important themes of Islamic philosophy were: Allah (God) and Universe, the reality of Almighty Allahs’ attributes, the interpretation of good and evil, the search for happiness, the reality of pleasure and pain, the survival and destruction of nations, the unity of humanity, etc.

One of the most prominent philosophers of this period,Abu Bakr Muhammad bin Abdul Malik bin Muhammad bin Tufail (1110-1185) is famouslyknown by the surname of Ibn Tufayl, .He was from Granada. He was a physician, philosopher, writer, theologian, astrologer and a novelist. He was the chiefphysician of Abu Yaqub bin Yusuf, the ruler of Tangier. He later became a judge and then a minister. He was the mentor and teacher of Ibn Rushd. On his recommendation, Ibn Rushdgot access to theroyal court. He wrote numerous books on various topics. At the end of the preface to his book abouthistory of philosophy, Ibn Tufayl praises Imam al-Ghazali, Ibn Sina and Ibn Baja (Abu Bakr Muhammad ibn Yahya). All his writings were burntby the Christian clergy. Only one philosophical novel that is attributed to Hayye bin Yaqzan nowadays survived this persecutionand has been translated into numerouslanguages. In the said novel, he has presented the idea that the ultimate essence of human thought is to grasp the concept of Almightyand the ultimate destination of life is meeting with Almighty.

Translation:Muhammad Ahsan, Abu Dhabi

7 / 10

The Economic Future of Afghanistan and Pakistan

Muhammad Kashif Shareef, Rawalpindi

Afghanistan is a region with indelible imprints of history and it has been the center of many powerful families and their kingdoms for centuries. It has also been a breeding ground for foreign interference. At the same time, it has been a pioneer of liberation movements in the region and a battleground for many world powers. Today it is again undergoing a change that is the result of an everlasting animosity between the powers of the region. As a result of this conflict, the existing world powers now know the region better than ever. In fact, the major cause of this political and economic tension is the mineral resources which according to the current estimation are worth one trillion dollars. These mineral resources include materials such as Rare Earth Metals and Lithium. These mineral resources are the greatest wealth of the future. They play a vital role in everyday life from mobile phones to medical diagnostic equipment, aerospace industry to space exploration.

In the past seventy years, Pakistan and Afghanistan have been used against each other a lot but it is also a fact that everyone has dreamed of a confederation of Pakistan and Afghanistan whether it is Sikandar Mirza or Sardar Dawood, Zia-ul-Haq or Hamid Karzai. The American rulers were also ready to fulfill these dreams. Consequently, the symbol of Af-Pak was frequently used in the Obama administration to control Pakistan and Afghanistan under a joint strategy. It is not possible to separate these two countries from each other. That is why the Durand Line was not accepted as the absolute borderline between the two countries. As a result, the construction of the fence backed by the Pakistani government has been resisted on both sides of the border. An average of 50,000 people and 400 trucks cross the 2,640-kilometer border daily from about six different locations which has increased by three times after the Taliban took control over Afghanistan.

The Afghan transit trade facility continues despite of all the hatred and nastiness and it is 55% of total Afghan imports. While Pakistan exports about one billion dollars on annual basis. But a fact is that the actual estimation of trade between the two countries is difficult to ascertain because billions of dollars from Pakistan shown in the paperwork for imports and exports is just to give legal protection to ill-gotten money.

If we keep the political situation of Pakistan and Afghanistan in parallel, it is not difficult to understand that the Pakistani authorities interfere in the internal affairs of Afghanistan as if it is a province of Pakistan. The Pakistani authorities cannot ignore the political situation in Afghanistan. Our leadership has played a very important role in the formation of Taliban. Apparently, this is a positive change for Pakistan. A recent statement from Taliban to bring all local forces together and a reduction in taxes on everyday imported goods from Pakistan is a sign of a better future. The economic future of both countries can be bright if Pakistan and local regional powers succeed in bringing this change in their favor.

 

Translated into English by:

Taimoor Jillani, Abu Dhabi

8 / 10

Asian Powers and Afghanistan of Future

Asian Powers and Afghanistan of Future

Asian Powers and Afghanistan of the Future

Mirza Muhammad Ramzan, Islamabad.

According to the Prime Minister of Pakistan Imran Khan, "During the Mughal Empire, Indian subcontinent alone produced 24% of the world's total production, but the British plundered it and made it a producer of only 2%." Question and answer session, 3 to 5 p.m., on Sunday, August 1, 2021 at Radio, Televisions, & FM channels). That is, the history of colonialism is nothing but the destruction of the world. It did nothing but destroyed the social fabric of nations. It established terrorist organizations to protect its face from this soot. Later Britain presented itself as the opponent of terrorist organizations. The French fought the Communist Revolution in Vietnam from March 13 to May 7, 1954. After their humiliating defeat, the United States jumped into the war. The Vietnam Crisis, which lasted for two decades, ended in a humiliating US defeat in 1975, bringing peace to the region. America then opened another front in Afghanistan in 1980 to stop the revolution. As a result of the war, economic resources were lost. The economic downturn hampered research and development. Meanwhile, Asian powers have taken the lead in technology.

Now, the issue of Afghanistan is going to settle. The American rulers are interpreting this war as a failure, while its supportive journalistic class is calling it the result of an American plan. Speaking on Geo's "Jirga" program, Dr. Asfandyar Mir of Stanford University in the United States said: "The United States is not in a hurry to leave Afghanistan. The United States has been trying to withdraw from the war on terror for the past few years. " While according to the Afghan President Ashraf Ghani: "The hasty withdrawal has worsened the security situation; the United States is responsible." (AFP, August 2, 2021)

The United States has also made changes because of China's growing power. The competition between the United States and China is not in South Asia or Central Asia but in the East Asia Pacific Ocean. He says: "The United States has got a major anti-China power in the form of India. The United States is also moving towards military modernization to compete China. " According to a November 15, 2020 edition of the New Zealand Independent newspaper, the world's largest free trade agreement has been reached between 15 Asian countries, including 10 ASEAN countries, while five major countries; China, Japan, South Korea, Australia, and New Zealand have made the world's largest trade agreements: the Regional Comprehensive Economic Partnership (RCEP). After this, the United States has tried to setback the importance of this agreement by highlighting the significance of the agreement, "QUAD" established in 2007. The four-nation alliance includes Australia, India, Japan, and the United States. The aim was to control China's growing influence in the Indo-Pacific region. On the other hand, quoting NNI News Agency, the daily Jang has published a statement of the Chinese President in its August 3, 2021 publication: "Military capabilities will be further enhanced. The faces of the oppressors will be broken. We will not allow foreign powers to suppress or enslave the countries. The Greater Chinese Wall will shatter such forces into pieces.”  In this context, on August 11, 2021, in Doha, the capital of Qatar, four countries, Russia, China, the United States and Pakistan, have held talks on the future of Afghanistan.

The Afghan Taliban have begun contacts with Afghanistan's neighbors in anticipation of the future. In these contacts, they have tried to gain support by assuring that the Afghan soil will not be used against any neighboring country. A delegation led by Sheikh Shahabuddin Dilawar arrived in Moscow on July 9. He met with Zamir Kabulov in a two-day visit and assured him that Afghanistan's territory would not be used against any other country. On July 28, 2021, a nine-member Taliban delegation led by Mullah Abdul Ghani arrived in China, where they met with the Chinese Foreign Minister regarding Afghanistan, in which they assured that Afghan territory would not be used against China. A similar delegation arrived in Iran on August 3rd and 4th for a two-day visit. Meanwhile, Indian Foreign Minister JS Shankar also arrived in Iran. As far as India is concerned, as it is not part of any kind of dialogue, even though it has invested 3 billion USD in Afghanistan, Delhi had also expressed its concerns in this regard. That is why US Secretary of State Anthony Blinken arrived in Delhi on July 30th and 31st for a two-day visit. From there, on a phone call to Ashraf Ghani, he assured the US support.

The problem of Afghanistan is simmering. Asia's emerging powers are at the crossroads of the region. On one side is Russia and on the other side are the borders of China, while Pakistan and Iran are its natural neighbors. The US-backed government has been in power for the last two decades. The Taliban and other pressure groups were raised to keep it under pressure. In addition, terrorist organizations such as Al Qaeda and ISIS were spread as monsters.

The whole strategy was of the past era when America was considered the world’s unipolar power and there was no other power to challenge its status. World conditions have been changed today. Asian powers are seen emerging on the global horizon. The United States has been defeated in war. His plans are a piece of paper and the agreements are stories of the past. Because the QUAD agreement dates back to 2007, with key members Japan and Australia, today both become members of the RCEP (Regional Comprehensive Economic Partnership). India became a member of BRICS in 2015, became chairman of the New Development Bank and joined the SCO in 2017.

(Translated into English by Naeem Ahmed, Abu Dhabi)

9 / 10

اقوامِ عالم کی ترقی کے لیے دو قرآنی اُصول

اقوامِ عالم کی ترقی کے لیے دو قرآنی اُصول

20؍ اگست 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’معزز دوستو! ہمارے اس خطے کے حوالے سے اگست کا مہینہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم سب لوگ 14؍ اگست کو یومِ آزادی مناتے ہیں۔ ہندوستان والے 15؍ اگست کو مناتے ہیں۔ 19؍ اگست کو افغانستان والے یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اس ریجن میں اگست کے مہینے میں آزادیوں کے نام پر بڑی گفتگو کی جاتی ہے۔ یومِ استقلالِ افغانستان ہو، یا یومِ استقلالِ پاکستان ہو، یا یومِ استقلالِ ہندوستان ہو، سمجھنا یہ ہے کہ قوموں کی آزادی کا معیار کیا ہے؟ اس حوالے سے بہ حیثیت مسلمان قرآن پر ایمان رکھنے والی جماعت کے ہمیں یہ غور و فکر کرنا ہے کہ آزادی اور حریت کا بنیادی مفہوم کیا ہے؟ قومیں بنتی کیسے ہیں؟ بگڑتی کیسے ہیں؟ قوموں کی بنیادی شناخت کیا ہونی چاہیے؟

قرآن حکیم نے اس حوالے سے ایک بڑا آفاقی اصول بیان کیا ہے کہ: دنیا کی ہر قوم اور ہر جماعت میں ہم نے رسول بھیجے ہیں۔ اُن پیغمبروںاور انسانیت کو درست راستے پر لانے والے رہنماؤں نے دو بنیادی باتوں کا پیغام انسانیت کے سامنے رکھا: ایک یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ غلامی صرف اُسی کی کرنی ہے۔

دوسری اہم ترین بات یہ کہ طاغوت سے اجتناب برتو۔ طاغوت سے اجتناب یہ ہے کہ انسانوں کی کوئی جماعت کسی دوسری جماعت کو غلام نہیں بنا سکتی۔ انسانوں کا باہمی رشتہ طاغوتی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن حکیم کے نزدیک طاغوت کی سب سے بڑی علامت ’’فرعون‘‘ ہے، جس نے طاغوتی نظام قائم کیا ہے۔ اس کی مزید وضاحت اللہ پاک نے سورت القصص کے شروع میں فرما دی کہ: فرعون نے بنی اسرائیل میں دو طاغوتی کام کیے: (1) علا فی الارض: زمین میں اُس نے سرکشی کی۔ جب کوئی قوم دوسری قوم کو غلام بناتی ہے، اُس پر چڑھ دوڑتی ہے، اُسے یرغمال بنا لیتی ہے، اُسے قرآن حکیم عُلوّ فی الارض سے تعبیر کرتا ہے۔ (2) یستضعف طائفۃ منہم: فرعون نے اُن مظلوم قوموں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا تھا۔ گروپ بنائے ہوئے تھے۔ ڈیوائڈ اینڈ رول کی سیاست کہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘۔ فرعوب نے جو زندہ رہے، انھیں کمزور بنا کر اُن کی سیاسی حیثیت اور معاشی طاقت اور قوت ختم کردی۔ جو مزاحمت کرتے، اُن کی نوجوان طاقت کو ذبح کرا دیا۔ قتل و غارت گری کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عورتوں کو زندہ رکھا۔ نسل کشی کی۔ نسلیں تباہ کیں۔ وہ بڑا ہی فسادی تھا۔ (القصص: 4)

ان دونوں دائروں __ اللہ کی عبادت اور طاغوت سے اجتناب __ کا انسان کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ قرآن حکیم نے بڑے واضح الفاظ میں یہ حقیقت بیان کردی کہ قومی ترقی کے لیے یہ دو نکاتی ایجنڈا ضروری ہے۔ کوئی قوم اگر طاغوت کے تسلط کو قبول کرلے اور صدقِ دل سے وحدانیت اور اللہ کی غلامی کا واضح اور دو ٹوک اقرار نہ کرے اور عملاً نظام نہ بنائے تو اُس کے لیے سوائے ذلیل ہونے کے اور کچھ نہیں‘‘۔

اس دور کے طاغوت کی سامراجی تاریخ

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’قرآنِ حکیم میں بیان کردہ فرعون کی طاغوتیت کے تناظر میں ذرا دیکھئے کہ ہمارا یہ خطہ پچھلے ڈھائی تین سو سال سے بین الاقوامی طاغوت (انگریز سامراج) کے زیرتسلط ہے۔ آزادی سلب ہوچکی۔ یہ جو یومِ آزادی کے اس مہینے میں، اس ریجن کے سارے ملکوں میں جشن منائے جاتے ہیں، یہ خود اس حقیقت کی غماز ہے کہ آپ پہلے غلام رہے ہیں۔ تبھی تو ہم یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اس موقع پر دو سو سالہ غلامی کی پوری تاریخ سامنے رہنی چاہیے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ڈھائی سو سال سے آپ جس طاقت کے غلام ہیں، اُس کی حقیقی نوعیت طاغوتی نظام کا مسلط کرنا رہا ہے۔ پورا قرآن حکیم پڑھ جائیے، احادیث کا ذخیرہ دیکھئے، کس طرح طاغوت کی تعریف ان یورپین بھیڑیوں پر پوری اُترتی ہے۔ ان سامراجی قوموں کی طاغوتیت کی ایک پوری تاریخ ہے۔ قرآن نے فرعون کا جو نقشہ کھینچا تھا، بالکل وہی بعینہٖ نقشہ اُن سامراجی طاغوتی قوتوں کا ہے، جو دنیا بھر کے ملکوں کو غلام بنانے کے لیے پوری انسانیت کے خلاف پِل پڑے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں ہوں، یا کسی فرانسیسی کمپنی کی صورت میں ہوں، یا کسی اٹالین یا سپینش سفاکوں کی صورت میں ہوں، اپنے اپنے علاقوں میں انھوں نے لوٹ مار کی بندربانٹ کی۔

بدقسمتی سے ہمارا یہ خطہ برطانوی سامراج کے زیرِتسلط رہا۔ افغانستان سے لے کر بنگال تک غلام بنا۔ اس خطے میں طاغوت نے ڈیوائڈ اینڈ رول کی سیاست کی۔ قتلِ عام کی ایک تاریخ رقم کی۔ 1757ء سے بنگالیوں کا قتلِ عام کیا، اسی صدی کے آخر میں بیس لاکھ بنگالی قحط سے مار دیے گئے۔ زرخیز سونا اُگلتی ہوئی زمین کی پیداوار سے گودام بھرے ہوئے تھے، لیکن عوام کو فاقے پر مجبور کردیا گیا۔ کاشت کاروں پر ظالمانہ ٹیکس لگا کر زمینیں چھین لی گئیں۔ جب تین صوبوں کی دیوانی انگریز سامراج کے قبضے میں آئی تو ہندوستان سے ظالمانہ ٹیکس لگا کر دولت نچوڑ لی گئی اور برطانیہ لے جا کر عیاشیاں کی گئیں۔ یہ تو بنگال کی حالت ہے، آگے جہاں جہاں انگریز بڑھتے چلے گئے؛ 1803ء میں دہلی پر، 1843ء اور 1839ء میں سندھ اور پنجاب پر، جہاں جہاں پہنچے، علاقے کنگال کردیے۔ غربت پیدا کردی، بھوک پیدا کردی، بدحالی اُتار دی۔ بعینہٖ فرعون والا کام کیا۔ کوئی اس تاریخ سے انکار کرسکتا ہے؟ 1857ء آیا تو 55 ہزار علما تو صرف دہلی میں شہید کیے۔ لاکھوں انسان قتل کیے۔ بنگال سے لے کر پشاور تک۔ سولیوں پر چڑھایا گیا۔ نسلوں کی نسلیں تباہ کردیں۔ غلام بنایا۔ معاشی وسائل لوٹے۔ انہ کان من المفسدین۔ ہر طرف، ہر ہر مرحلے پر فساد مچایا۔ نئے نئے طریقوں سے فساد مچایا اور تقسیم کیا۔

وہ نسلیں اور مذاہب جو پچھلے ہزار سال سے رواداری کے ساتھ ایک خطے میں رہ رہے تھے، جہاں اولیاء اللہ بھی تھے، اور اپنے اپنے ذہن کے مطابق عبادت کرنے والے رشی اور منو بھی تھے۔ کبھی جھگڑا نہیں ہوا، کبھی لڑائی نہیں ہوئی، انگریز سامراج نے ان میں افتراق و انتشار پیدا کیا۔ طاغوت کی تمام علامتیں جو قرآن حکیم اور احادیث میں بیان کی گئی ہیں، وہ مکمل اور کامل طو رپر اس انگریز سامراج پر فٹ آتی ہیں‘‘۔

افغانستان میں عالمی طاغوت کی سامراجی تاریخ

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’19؍ اگست 1919ء کو افغانستان میں آزادی کی دستاویز پر دستخط کرکے افغانستان کو ایک خود مختار حکومت کے طور پر برطانیہ کو تسلیم کرنا پڑا۔ اس موقع پر برطانیہ کا سفیر سر فرانسس ہمفرے تقریر کرتے ہوئے امان اللہ خاں کو مخاطب کرتا ہے کہ یہ تمھاری کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ عبیداللہ سندھی اور اس کے استاذ مولانا محمودحسن کی کامیابی ہے۔ اُن کی جدوجہد ہے، اُن کی تحریک ہے۔ تم تو خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ مال بناتے تھے، کھاتے پیتے تھے۔ آج افغانستان آزادی کی ایک 102 ویں سالگرہ مناتا ہے۔ اس آزادی کے پیچھے شیخ الہندؒ اور اُن کی جماعت جو انبیا کے سچے جانشین ہیں، جو اس آیت کے مطابق اللہ کی عبادت کرنے والے اور طاغوت کے دشمن تھے، اُن کی قربانیاں ہیں۔

افغانستان کی آزادی بہت بڑی کامیابی تھی، لیکن اب سامراج نے دیکھا کہ یہ تو گیم ہاتھ سے نکل رہی ہے، تو اُس نے بڑا مکارانہ چال چلی کہ مولانا سندھیؒ اور اُن کے ساتھیوں کا افغانستان میں رہنا مشکل بنا دیا۔ انگریز نے امان اللہ خان پر دباؤ ڈالا کہ ہم تمھیں وظیفہ اس شرط پر دیں گے کہ جو ہندوستانی آزادی پسند تمھارے پاس موجود ہیں، اُن کو ہمارے حوالے کرو۔ اگر ہمارے حوالے نہیں کرتے تو ان کو اپنے ملک سے نکال دو۔ حضرت سندھیؒ امیر امان اللہ خان کو سیاسی اقدامات کرنا سکھا رہے تھے، جس کی وجہ سے برطانیہ آزادی دینے پور مجبور ہوا۔ اس لیے مولانا سندھیؒ کو افغانستان سے نکالنے کی کوششیں تیز ہوئیں اور آپؒ کو وہاں سے روانہ ہونا پڑا۔ مولاناؒ نے روس کا راستہ اختیار کیا، وہاں کا انقلاب دیکھا، ترکی کا انقلاب دیکھا اور حرم مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔

آپ دیکھئے کہ جب تک مولانا سندھیؒ کابل میں موجود رہے تو امیر امان اللہ خان وہ فیصلے کرتا رہا، جن سے طاغوت کی جڑ کٹتی ہے۔ جیسے ہی مولانا سندھیؒ وہاں سے تشریف لے جاتے ہیں تو امیر امان اللہ خان ایسے لایعنی فیصلے کرتا ہے، جس کے نتیجے میں آخر کار 1928ء میں بچہ سقہ کے ذریعے برطانوی سامراج افغانستان پر قبضہ کرلیتا ہے۔ پھر اُس کے بعد نادر شاہ آگیا، پھر ظاہر شاہ، پھر داؤد شاہ آگیا، پوری تاریخ ہے۔ پھر پوری گیم کھیل کر روسی طاقتوں کا حملہ ہوا۔ اُن کو پھانس لیا گیا کہ آؤ یہاں کا کیک کاٹو۔ پھر اُن کو ختم کرنے کے لیے یہاں سے علما کو بھرتی کیا گیا۔ جہاد کا نام دے دیا گیا۔ اس طرح افغانستان میں تفریق، بدامنی، ناانصافی اور معاشی بھوک پیدا کی گئی۔

آج سو سال ہوگئے۔ ہر کچھ عرصے بعد کابل فتح ہوتا ہے۔ پھر کابل ڈھایا جاتا ہے۔ افغانستان تعمیر ہوتا ہے اور پھر توڑ دیا جاتا ہے۔ آج بھی عام افغان اُسی طرح بھوکا ننگا ہے، جیسے سو سال پہلے تھا۔ آج بھی افغانستان میں بداَمنی ہے، جیسے سو سال پہلے تھی۔ معاہدات ہوتے ہیں اور معاہدات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے ملکوں کی پراکسیز وہاں پر موجود ہیں، وہ اپنے اپنے گروپوں کو لڑاتی ہیں۔ قرآن نے کہا: ’’زمین میں سیر کرو‘‘ (العنکبوت: 20)۔ تین سو سال کی پوری تاریخ کا مطالعہ کرو۔ تمھیں معلوم ہوگا کہ یہ برطانوی سامراج کی گریٹ گیم ہے‘‘۔

حقیقی آزادی کے لیے قرآنی تعلیمات کی اتباع ضروری

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’آزادی کے لیے شرط ہے کہ دو کام ہونے چاہئیں: اللہ کی عبادت اور طاغوت سے اجتناب۔ اجتنابِ طاغوت کے لیے تین کام ہونے چاہئیں: عدل، امن اور معاشی خوش حالی۔ تب تو یومِ آزادی ہے، اور اگر یہ تین باتیں نہیں ہیں، بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب، عدل و انصاف نہیں ہے، فرقہ واریت اور تفرقہ ہے، انتشار اور بداَمنی ہے، معاشی بھوک و افلاس ہے، تو وہ حقیقی طور پر قومی آزادی نہیں ہے۔

قرآن حکیم نے بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ اگر حقیقی اور واقعی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں، رسولوں اور انبیا کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو طاغوت سے اجتناب کرو۔ طاغوت کے اجتناب کے لیے عدل، امن اور معاشی خوش حالی کو حقیقی معنوں میں قائم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ جب یہ قائم کریں گے تو طاغوتی سرمایہ داری نظام ہلے گا۔ سرمایہ داری نظام کو چوٹ پہنچے گی۔ جب چوٹ پہنچے گی تو کیا وہ آپ کو اپنے قطری سینٹرل کمانڈ کے مرکز العُدید ائیربیس  (Al Udeid Air Base)کے پڑوس میں دفتر بنانے کی اجازت دے گا؟ وہ اپنے زیرتسلط افغانستان کے بنائے ہوئے صدارتی محل اور اپنے گورنروں کے بنائے ہوئے محلات پر قبضہ کرنے دے گا؟ وہ تبھی ایسا کرنے دے گا کہ جب اُن محلات کی سود کی قسط ادا کرنے کے لیے آپ پابند ہوں گے۔ دوحہ معاہدہ پڑھ لو کہ آپ تمام اثاثوں کی حفاظت کریں گے۔ تمام وسائل کی حفاظت کریں گے، اور تمام معاہدات کی پاسداری کریں گے، اس لیے حکومت تمھیں دی جارہی ہے۔ تو پھر رہ کیا گیا؟ تو کیا محض تمناؤں اور آرزوؤں اور حرص و لالچ سے مسئلے حل ہوتے ہیں؟

یہ عذاب اس خطے پر اس لیے ہے کہ شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ ایسے حریت پسند، مولانا عبیداللہ سندھیؒ ایسے دلیر، بہادر، عقیل و فہیم انقلابی انسان، مولانا حسین احمد مدنی ایسے اولوالعزم انسان، اس خطے کے سچے حریت پسند علما کی تکذیب کے نتیجے میں آج ان حالات کے شکار ہیں۔ ان جرائم سے توبہ کرنی پڑے گی۔ صرف سرسری طور پر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت سندھیؒ کا نام لینے، یا تحریکِ شیخ الہند سے مصنوعی طور پر ناطہ جوڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان بزرگوں کی توہین سے توبہ کرو۔ انھوں نے جو عقل دی تھی، جو انبیا اور صحابہؓ کی تعلیمات بتلائی تھیں، ہم نے اُن کو پسِ پشت ڈالا ہے۔ یہ خطہ آج بھی بداَمنی، بھوک، افلاس اور غلامی کی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ جب تک توبہ نہیں کرتے، اور صحابہؓ کے بنائے ہوئے اور نبی اکرمؐ کے بنائے ہوئے اس طریقۂ کار کے مطابق حقیقی معنوں میں آزادی کی جدوجہد نہیں کرتے، اُس وقت کامیابی نہیں ہے۔ تبھی یومِ آزادی حقیقی طور پر منایا جاسکتا ہے۔ تبھی اُس آزادی کے ثمرات حاصل ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن حکیم کو سمجھنے، شعور کو بلند کرنے اور حقائق کا درست تناظر میں اِدراک کرنے، اصلاح اور فساد کے مناظر میں درست نقطہ نظر سے تفریق اور امتیاز پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک اور ہمارے خطے کو سامراجی طاغوتی اثرات سے پاک فرمائے۔ حقیقی آزادی منانے کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ آمین!

10 / 10

دوحہ امن معاہدہ

دوحہ امن معاہدہ

امریکا اور طالبان کے درمیان ’’دوحہ امن معاہدہ‘‘ کا مکمل متن

مترجم: پروفیسر ڈاکٹر شاہ زیب خان، لاہور

(سال 2020ء کے آغاز میں مسئلۂ اَفغانستان کے حوالے سے طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ امریکا اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 29؍ فروری 2020ء بروز ہفتہ کو ایک مقامی ہوٹل میں طے پایا۔ امن معاہدے پر دستخط کی اس تقریب میں دنیا بھر کے 50 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ معاہدے پر افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر (جن کو 2018ء میں امریکی درخواست پر پاکستان نے جیل سے رہا کیا تھا) اور افغان نژاد امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے درمیان ہوا، جس پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بہ طورگواہ دستخط کیے۔

طالبان امریکا امن معاہدے کی اصل حقیقت، جسے سمجھنا ضروری ہے۔ اس میں پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ اس معاہدے میں مختلف جگہوں پر ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ کے بارے میں 16 دفعہ یہ جملہ لکھا گیا ہے کہ ’’جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں‘‘۔ دوسری چیز جو اس سے بھی زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ اسی معاہدے میں دس مرتبہ یہ لکھا گیا ہے کہ: ’’امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات‘‘ کے خلاف اٹھنے والے ہر اقدام اور عمل کو روکنے کی طالبان نے مکمل یقین دہانی کرائی ہے اور ضمانت دی ہے۔ اسی طرح درجِ ذیل جملے ایک سے زیادہ مرتبہ اس معاہدے کا حصہ ہیں:

(1)معاہدے کی سب سے پہلی شق ہی یہ ہے کہ: ’’کسی فرد اور گروہ کو افغانستان کی سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے‘‘۔ (2)امریکا سے رہائی پانے والے طالبان قیدی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے۔ (3) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں، افغانستان میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ (4) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہوں، طالبان کو ان کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی بالکل اجازت نہیں ہے۔ (5) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں، انھیں طالبان نہ بھرتی کرسکتے ہیں، نہ ان کی تربیت کر سکتے ہیں، نہ ہی ان کو فنڈ اکٹھا کرنے اور سر زمینِ افغانستان میں رہنے کی اجازت ہے۔ (6) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں، انھیں افغانستان میں کسی قسم کی کوئی پناہ اور رہائش گاہ نہیں دی جائیگی۔ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ کا باعث نہ بنیں۔(7) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں، ان کو ویزا، پاسپورٹ، سفری اجازت یا کوئی قانونی دستاویزات دینے کی بالکل اجازت نہیں ہے‘‘۔

گویہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ممکنہ جتنے اندرونی و بیرونی خطرات ہوسکتے ہیں، ان کی طالبان سے ضمانتیں لی گئی ہیں اور اگر ایسا کوئی خطرہ پیدا ہوتا ہے تو انھیں ان خطرات سے نمٹنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

تیسری اہم چیز اس معاہدے میں یہ ہے کہ جو بھی اقدامات کیے جائیں گے، وہ اپنے طے شدہ طریقۂ کار اور وقت پر ہوں گے۔ مثلاً ’’افغان اسلامی حکومت‘ افغانستان میں تمام شرکا کے اندرونی مذاکرات کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی‘‘ کہ لوٹ کھسوٹ کی ایک ایسی جامع حکومت قائم کی جائے، جس سے افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے مفادات اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے کردار بھی ادا کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ تا حال نہ افغان حکومت کا باقاعدہ اعلان ہو سکا ہے اور نہ ہی یومِ آزادی حکومتی سطح پر منایا گیا ہے۔

دوحہ معاہدے کے اصل متن کے عنوانات اور ذیلی نمبرات کو مِن و عَن انگریزی سے نقل کیاگیا ہے۔ قارئین کے لیے اس کے انگریزی متن کا اُردو ترجمہ پیش ہے۔ ادارہ)

’’دوحہ امن معاہدہ‘‘

’’افغانستان میں امن لانے کے لیے ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کے درمیان معاہدہ 29؍ فروری 2020ء __ بہ مطابق۵؍ رجب۱۴۴۱ہجری قمری تقویم اور 10؍ حوت 1398 ہجری شمسی تقویم __ کوہوا۔

یہ جامع امن معاہدہ چار حصوں پر مشتمل ہے:

1۔          ضمانتیں اور ان کو پورا کرنے کا طریقۂ کار، جن کے ذریعے سے کسی گروہ یا فرد کی طرف سے افغانستان کی سر زمین کو امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے سے روکا جائے گا۔

2۔           ضمانتیں اور ان کے نافذ کرنے کے طریقۂ کار اور ٹائم لائن، جس کے تحت افغانستان سے تمام بیرونی افواج کا انخلا ہوگا۔

3۔          بیرونی فورسز کے مکمل انخلا کی ضمانتوں اور ان کی ٹائم لائن کے اعلان کے بعد اور بین الاقوامی گواہان کی موجودگی میں اس اعلان کے بعد کہ افغانستان کی سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ افغانستان کے اندر افغانیوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز 10؍ مارچ 2020ء کو کریں گے۔ جو کہ ہجری قمری کیلنڈر کے مطابق۱۵؍ رجب۱۴۴۱ھ بنتا ہے اور ہجری شمسی کے مطابق 20؍ ہوت 1398 بنتا ہے۔

4۔           افغانستان کے اندرونی ڈائیلاگ اور مذاکرات کی لسٹ میں ایجنڈے کا ایک اہم نکتہ دائمی اور جامع جنگ بندی کا ہوگا۔ افغانستان کے اندرونی مذاکرات کے تمام شرکا دائمی اور جامع امن کے حوالے سے عمل درآمد کی تاریخوں کے تعین کو زیرِبحث لائیں اور مشترکہ طور پر اُن کے اطلاق کا طریقۂ کار بھی طے کریں، جس کا اعلان افغانستان کے سیاسی مستقبل کے روڈمیپ کی تکمیل اور اتفاق کے ساتھ ہی کیا جائے گا۔

درجِ بالا چار حصے آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کا اطلاق ان میں سے ہر ایک کی اپنی طے شدہ حالت اور ٹائم لائن کے مطابق ہوگا۔ پہلے دو حصوں پر اتفاق، دوسرے دو حصوں کی راہ ہموار کرنے کی شکل میں ہوگا۔

پہلا اور دوسرا حصہ

پہلے اور دوسرے حصے پر عمل درآمد کے طے شدہ اُمور یہ ہیں:

فریقین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں حصے آپس میں مربوط ہیں۔

(فریقِ اوّل) امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ پر اس معاہدے کی رُو سے لازم ہے کہ جو علاقے ان کے دائرۂ اختیار میں ہیں، ان پر اس (معاہدے) پر عمل درآمد کروائیں، یہاں تک کہ نئے بندوبست کے بعد ’افغان اسلامی حکومت‘ __ جس کا تعین افغانستان کے اندر افغانیوں کے مذاکرات اور تبادلۂ خیال کے نتیجے میں ہوگا__  قائم ہوجائے۔

(فریقِ ثانی) متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اس بات پر پُرعزم ہے کہ وہ افغانستان سے متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادیوں اور شریک پارٹنرز کی تمام مسلح افواج سمیت غیر سفارتی عملے، پرائیویٹ سیکیورٹی کنٹریکٹر، تربیت کار، مشیران اور معاونت کاروں کا اِنخلا معاہدے کے اعلان کے چودہ (14) مہینوں میں کرے گا اور اس کے بارے میں درجِ ذیل اقدامات کرے گا:

A۔         متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادیوں اور شریک پہلے 135 دنوں میں درجِ ذیل یہ اقدامات کریں گے:

1۔          وہ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد گھٹا کر 8600کریں گے اور اسی تناسب کے ساتھ اپنے اتحادیوں اور شریکوں کی فورسز میں بھی کمی کریں گے۔

2۔           پانچ ملٹری بیسز (فوجی ہیڈ کوارٹرز) سے متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادی اور شریک پارٹنرز اپنی تمام فورسز ہٹا لیں گے۔

B۔          اس معاہدے کے دوسرے حصے میں درج فرائض پر، عزم اور عمل کے ساتھ، امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اور متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادی اور شریک درج ذیل پر عمل کریں گے:

1۔          متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادی اور شریک افغانستان سے اپنی تمام بقیہ فورسز کا انخلا 5 سے 9 مہینوں میں کریں گے۔

2۔           متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادی اور شریک اپنی تمام فورسز بقیہ تمام بیسز (فوجی مراکز) سے ہٹالیں گے۔

C۔          متحدہ ہائے ریاست (امریکا) تمام متعلقہ اَطراف کے ساتھ ایسے منصوبے پر __ جس کے ذریعے حربی اور سیاسی قیدیوں کو تمام متعلقہ اَطراف کی ہم آہنگی اور اجازت کے بعد بحالیٔ اعتماد کی غرض سے رہا کیا جا سکے __ فوراً کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ کے 5000 قیدیوں اور دوسری طرف کے 1000 قیدیوں کو 10؍ مارچ 2020ء __ بہ مطابق ہجری قمری تقویم۱۵؍ رجب۱۴۴۱ء اور بہ مطابق ہجری شمسی تقویم 20؍ ہوت، 1398 __  جو کہ افغانستان کے داخلی مذاکرات کے آغاز کا پہلا دن ہے،دونوں متعلقہ اطراف کا ہدف یہ ہے کہ اس تاریخ سے اگلے تین ماہ میں تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) بھی اس ہدف کو مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اس بات کا عزم کرتی ہے کہ اس کے رہائی پانے والے قیدی اس معاہدے میں درج ذمہ داریوں پر عمل کریں گے، تاکہ وہ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

D۔         افغانستان کے داخلی مذاکرات کے آغاز کے ساتھ متحدہ ہائے ریاست (امریکا)  امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __کے ممبران پر موجود امریکی پابندیوں اور اُن کی گرفتاری پر مقرر انعامات کی فہرست پر ایک انتظامی نظرِثانی کا آغاز کرے گا، تاکہ ان پابندیوں کو ختم کرنے کے ہدف کو 27؍ اگست 2020ء __بہ مطابق ہجری قمری تقویم کے۸؍ محرم۱۴۴۲ء اور ہجری شمسی تقویم کے 6؍ سنبلہ 1399 __تک حاصل کیا جاسکے۔

E۔          افغانستان کے داخلی مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی متحدہ ہائے ریاست (امریکا)  اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے دوسرے ممبران اور (حکومتِ) افغانستان کے مابین سفارتی بات چیت کا آغاز کیا جائے گا، تاکہ امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ کے ممبران کے نام پابندیوں والی فہرست سے 29؍ مئی 2020ء __بہ مطابق۶؍ شوال۱۴۴۱ء قمری ہجری تقویم اور 9؍ جوزا 1399 بہ مطابق ہجری شمسی تقویم __ تک نکلوائے جاسکیں۔

F۔          متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اس کے اتحادی افغانستان کی علاقائی سا  لمیت اور سیاسی خودمختاری اور اس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کے خلاف طاقت کے استعمال اور اس کی دھمکیاں دینے سے گریز کریں گے۔

تیسرا حصہ

اس معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی، امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ درجِ ذیل اقدامات کریں گے، تاکہ کوئی فرد یا گروہ، القاعدہ سمیت، افغانستان کی سرزمین کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال نہ کریں:

1۔          امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اپنے کسی بھی ممبر، فرد یا گروہ، القاعدہ سمیت کو افغانستان کی سرزمین کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

2۔           امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ ان تمام افراد اور گروہوں کو ایک واضح پیغام دیں گے کہ جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، ان کے لیے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ کے ممبران کو ہدایت دیں گے کہ وہ ایسے گروہوں سے تعاون نہ کریں، جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں۔

3۔          امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ افغانستان میں کسی ایسے فرد یا گروہ کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرہ پہنچانے سے روکیں گے۔ اور ان کو بھرتی کرنے، تربیت دینے اور پیسہ اکٹھا کرنے سے منع کریں گے۔ ان کو اس معاہدے کی ذمہ داریوں کے مطابق اپنے ہاں رہنے بھی نہیں دیں گے۔

4۔           امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اس بات پر پُرعزم ہیں کہ جو افغانستان میں بین الاقوامی قوانینِ ہجرت اور اس معاہدے کے عزائم کے مطابق پناہ یا رہائش چاہتے ہوںگے، ان کے ساتھ اس طرح معاملات کریں گے کہ وہ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث نہ بنیں۔

5۔          امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ ایسے لوگوں کو ویزا، پاسپورٹ، سفری اجازت، یا اور قانونی دستاویزات جاری نہیں کریں گے، جو متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں۔

چوتھا حصہ

1۔          متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کرے گا کہ وہ اس معاہدے کو تسلیم کرے اور اس کی تائید کرے۔

2۔           متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اماراتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ ایک دوسرے سے مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اور اُمید کرتے ہیں کہ متحدہ ہائے ریاست اور نئے بندوبست کے بعد ’افغان اسلامی حکومت‘ __ جس کا تعین افغانستان کے داخلی ڈائیلاگ کے بعد ہوگا __ کے مذاکرات کامیاب ہوں گے۔

3۔          متحدہ ہائے ریاست (امریکا) نئے بندوبست کے بعد ’افغان اسلامی حکومت‘ __ جو کہ افغانستان کے داخلی ڈائیلاگ اور مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آئے گی __ کے ساتھ تعمیرِنو کے حوالے سے معاشی تعاون چاہے گا اور اس کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دے گا۔

دوحہ میں 29؍ فروری 2020ء __ بہ مطابق۵؍ رجب۱۴۴۱ھ ہجری قمری تقویم اور 10؍ ہوت 1398 ہجری شمسی تقویم __ کو دستخط ہوئے، جس کی نقل پشتو، درّی اور انگریزی زبانوں میں بھی تیار کی گئی ہیں اورجن کا متن مساوی طور پر مستند ہے‘‘۔

End of issue

Back