Oct-Nov,2012

Rahimia Magazine

Oct-Nov,2012

Nov 01, 2012 3 articles Download Download EPUB

1 / 3

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ 

نقوشِ زندگی کا ایک مختصر خاکہ

تحریر:  مفتی عبدالخالق آزاد

٭   آپؒ کی پیدائش رجب 1344ھ / جنوری 1926ء کو حضرتِ اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہٗ کے گھر، اپنے آبائی وطن گمتھلہ، ضلع کرنال (اب صوبہ ہریانہ، انڈیا) میں ہوئی۔

٭   حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہٗ نے آپؒ کا اسم گرامی سعیداحمد رکھا۔

٭   پانچ سال کی عمر میں آپؒ کی والدۂ محترمہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد آپؒ اپنے والد ِ گرامی کے ہمراہ حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے سایۂ شفقت میں خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں قیام پذیر ہوگئے۔

٭   آپؒ کی تعلیم کا آغاز حضرت عالی شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے قائم کردہ مکتب ِقرآنی میں ہوا۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو پہلی ’’بسم اللہ‘‘ پڑھائی۔ اور خانقاہ رائے پور میں قائم مدرسہ فیض ہدایت درگلزارِ رحیمی میں شیخ القرآن حضرت مولانا خدابخش سے قرآنِ حکیم پڑھنا شروع کیا۔ جب آبائی وطن گمتھلہ جاتے تو حافظ مقصود احمد نوشہرویؒ سے پڑھتے اور جب اپنے ننہیالی گاؤں سکروڈھ ضلع سہارن پور میں تشریف لے جاتے تو حضرت قاری حافظ ولی محمد صاحبؒ سے قرآنِ حکیم کی تعلیم حاصل کرتے۔ حفظ ِقرآنِ حکیم کی تکمیل خانقاہِ رائے پور کے ’’مدرسہ فیض ہدایت‘‘ میں ہوئی۔

٭    ابتدائی فارسی اور عربی کی تعلیم سکروڈھ میں حضرت مولانا محمدیعقوب بن نور محمد حصارویؒ سے حاصل کی، جوکہ حضرت مولانا حسین احمد علویؒ کے بہنوئی ہوتے تھے۔

٭  درسِ نظامی کے ابتدائی درجات کی کتب آپؒ نے اپنے والد ِگرامی حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ سے پڑھیں۔ انھوں نے آپؒ کو ’’شرح جامی‘‘ تک کی تمام درسی کتابیں پڑھائیں۔ آپؒ کو جب بھی کوئی کتاب شروع کرواتے تو حضرت مولانا محمدالیاس دہلویؒ اگر خانقاہ میں موجود ہوتے تو ان سے کتاب کا آغاز کرواتے۔

٭  ’’تفسیر جلالین‘‘ تک کی کتابیں آپؒ نے حضرت مولانا محمداشفاق رائے پوریؒ (بھانجے حضرت عالی شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، متولی خانقاہ رائے پور و رُکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند) سے پڑھیں۔ تفسیر جلالین کا کچھ حصہ حضرت مولانا عبداللہ دھرم کوٹی اور مشکوٰۃ شریف کا کچھ حصہ حضرت مولانا عبداللہ رائے پوری شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ جالندھر (بعد میں ساہیوال) سے پڑھا۔

٭  رمضان المبارک 1367ھ / 1947ء میں حضرتِ اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو اپنا امامِ نماز مقرر فرمایا۔

٭  درسِ نظامی کے آخری دو سال کی تعلیم کے لیے آپؒ مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور تشریف لے گئے، جہاں آپؒ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلویؒ سے بخاری شریف، ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عبداللطیفؒ سے ترمذی شریف، حضرت مولانا منظوراحمدؒ سے مسلم شریف اور حضرت مولانا اسعداللہ صاحب (بعد میں ناظم مدرسہ) سے طحاوی شریف، ابن ماجہ اور حدیث کی دیگر کتابیں پڑھیں۔ مدرسہ مظاہر العلوم کے رئیس دار الافتا مفتی سعیداحمد صاحبؒ سے مشکوٰۃ شریف اور شمائل وغیرہ پڑھیں۔ اور حضرت مولانا محمد امیر کاندھلویؒ سے ہدایہ آخرین وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ اس طرح آپؒ نے 1368ھ / 1949ء میں مدرسہ مظاہر العلوم سے تمام علومِ دینیہ کی تعلیم سے فراغت حاصل کی۔

٭   آپؒ نے طالب ِعلمی ہی کے زمانے میں 1939ء میں حضرتِ رائے پوریؒ ثانی کی سرپرستی میں نوجوانوں کے لیے قائم ہونے والی جماعت ’’حزب الانصار‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ اس جماعت کے صدر، امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے شاگرد حضرت مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ تھے، جو بعد میں خانقاہ کے متولی بنے۔

٭  حضرت رائے پوریؒ کی زیرسرپرستی حضرت مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کے ساتھ وابستہ ہوکر ہندوستان کی آزادی کے لیے سیاسی جدوجہد کا شعور حاصل کیا۔ اس دوران خانقاہ میں تشریف لانے والے عظیم رہنمایانِ دین اور مشائخ حضرات، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ، مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، امیر تبلیغ حضرت مولانا محمدالیاس دہلویؒ، رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ وغیرہ کی صحبت سے مستفید ہوئے اور ان کی سیاسی مجالس میں شرکت کی۔

٭   ظاہری تعلیم و تربیت کے بعد آپؒ کو حضرتِ اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے اپنی خصوصی تربیت اور نگرانی میں لے لیا اور ایک سال میں سلوک کی تکمیل کروائی۔

٭  سلوک کی تکمیل اور سلسلۂ رائے پور کی نسبت کے حصول کے بعد 1369ھ / 1950ء میں آپؒ کو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔

٭  1950ء کے اواخر میں آپؒ ہندوستان سے پاکستان تشریف لائے۔ اور سرگودھا میں اپنے والد ِگرامی حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کے پاس قیام فرما ہوئے۔

٭  حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو پاکستان اور ہندوستان کے اپنے اسفار میں اپنے ساتھ رکھا اور سکولز اور کالجز کے نوجوانوں میں کام کرنے کا حکم دیا۔

٭   1950ء سے 1967ء تک آپؒ نے خانقاہی سلسلے کے فروغ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں دین کے غلبے کے فروغ کی جدوجہد اور کوشش کو بھی جاری رکھا۔

٭  16؍ اگست 1962ء کو آپؒ کے شیخ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کا وصال ہوا تو اس کے بعد آپؒ اپنے والد ِگرامی حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی زیرسرپرستی سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے فروغ اور مدارسِ دینیہ اور کالجز و یونیورسٹیز کے نوجوان طلبا میں دینی شعور کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔

٭  1967ء میں آپؒ نے سرگودھا میں کالجز اور مدارسِ اسلامیہ کے نوجوان طلبا کی تعلیم و تربیت اور ان میں تحریک پیدا کرنے کے لیے ’’جمعیت طلبائے اسلام‘‘ قائم کی۔ اس کے افتتاحی اجلاس میں حضرت رائے پوری ثانی کے مجازین حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحبؒ اور حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ صاحبؒ (تلمبہ) بھی تشریف فرما تھے۔

٭  1970ء میں جمعیت علمائے اسلام کے اجلاس منعقدہ سرگودھا میں جمعیت کے انتخابی منشور میں انقلابی دفعات شامل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

٭  1973ء سے 1976ء تک جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان رسالے ’’ترجمانِ اسلام‘‘ کی مجلس ادارت میں آپؒ نے کام کیا۔

٭  1974ء میں آپؒ کی سرپرستی میں جمعیت طلبائے اسلام کے نوجوانوں نے ’’تحریک تحفظ ختم نبوت‘‘ میں بھرپور کردار ادا کیا۔

٭  1974ء میں ہی آپؒ کی سرپرستی میں جمعیت طلبائے اسلام کا ترجمان ’’عزم‘‘ سیریز کی شکل میں شائع ہونا شروع ہوا، جو اب تک نامساعد حالات کے باوجود اپنا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے۔

٭  فروری 1987ء میں آپؒ نے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات اور ان کے سلسلے کے علما کی عظیم الشان انقلابی جدوجہد سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے اور دین اسلام کا انقلابی شعور پیدا کرنے کے لیے ’’تنظیم فکر ِولی اللّٰہی‘‘ کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔

٭  15؍ جنوری 1988ء /1409ھ بروز جمعۃ المبارک کو خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور (انڈیا) میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ نے آپؒ کو سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

٭  1990ء میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے سلسلے کے علمائے ربانیین کے تحریر کردہ دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کے لیے ’’شاہ ولی اللہ میڈیا فاؤنڈیشن‘‘ قائم کی۔ یہ فاؤنڈیشن اب تک علمائے ربانیین کے تحریر کردہ 70 کے قریب پمفلٹس شائع کرچکی ہے۔ جس سے نوجوان مستفید ہو رہے ہیں۔

٭  3؍ جون 1992ء کو آپؒ کے والد ِگرامی اور شیخ ثانی حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کا وصال ہوا۔ اس کے بعد سے سلسلۂ رائے پور کے فروغ کی تمام تر ذمہ داری آپؒ کے کاندھوں پر آگئی۔ اس ذمہ داری کو سرانجام دینے کے لیے آپؒ نے بڑا کام کیا۔

٭  اس دوران آپؒ نے ہندوستان اور پاکستان میں سلسلۂ عالیہ رائے پور کے وابستگان کی ظاہری اور باطنی تربیت کے لیے مسلسل اسفار فرمائے۔ اسی حوالے سے خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور ضلع سہارن پور (انڈیا) میں آپؒ کا متعدد مرتبہ قیام ہوا۔

٭  14؍ ستمبر 2001ء کو آپؒ نے لاہور میں ’’ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ‘‘ قائم فرمایا، جس میں آپؒ کی سرپرستی میں نوجوانوں میں قرآنی علوم کے فہم و شعور کی جامع تعلیم و تربیت کا نہایت عمدہ اہتمام کیا گیا۔ اسی مرکز میں بیٹھ کر آپؒ نے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے فروغ کے لیے بڑی جدوجہد اور کوشش فرمائی۔ پھر گزشتہ سالوں میں کراچی، سکھر، ملتان اور راولپنڈی میں بھی ادارہ رحیمیہ کے ریجنل کیمپسز آپؒ کی سرپرستی میں قائم ہوئے۔

٭  2001ء میں ہی ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ میں آپؒ کی سرپرستی میں دارالافتا قائم کیا گیا، جس میں دینی مسائل کے حوالے سے شریعت ِاسلام اور فقہ کی روشنی میں جید مفتیانِ کرام عوام الناس کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

٭  2002ء میں آپؒ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ سے الحاق کرنے والے مدارسِ دینیہ کا ایک بورڈ ’’نظام المدارس الرحیمیہ پاکستان‘‘ کے نام سے قائم کیا، جس میں ملک بھر کے پچاس سے ساٹھ کے قریب مدارس ملحق ہیں اور ان میں شب و روز حفظ ِقرآنِ حکیم، تفسیر، حدیث، فقہ اور علومِ دینیہ کی تعلیم کا عمدہ نظام قائم ہے۔

٭  2004ء میں آپؒ کی سرپرستی اور نگرانی میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و افکار سے نوجوان نسل کو متعارف کرانے کے لیے ملک بھر میں ’’شاہ ولی اللہ سیمینارز‘‘ کے عنوان سے بڑے سیمینارز کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و تعلیمات اور جدوجہد و کوشش سے نوجوان نسل کو آگاہ کیا گیا اور ان کے سلسلے کے سچے علمائے ربانیین کا تعارف کرایا گیا۔

٭ 2007ء میں آپؒ کی سرپرستی میں جنگ ِآزای 1857ء کے ڈیڑھ سو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں سیمینارز کا اہتمام کیا گیا۔ خاص طور پر لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، ملتان اور سکھر میں برعظیم پاک و ہند کی آزادی کی تحریک سے نوجوانوں کو متعارف کرانے کے لیے بڑے سیمینارز منعقد ہوئے۔

٭  آپؒ کی تعلیم و تربیت سے جہاں ہزاروں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد فیض یاب ہوئی، وہاں باصلاحیت علما اور فضلا نے بھی آپؒ سے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں سلوک و احسان کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور باطنی فیضان اور نسبت کے حامل بنے۔ تربیت کے بعد آپؒ نے تیس حضرات کو اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا۔

٭   رمضان 1367ھ /1947ء سے لے کر شوال 1429ھ / 2008ء تک، 63 سال تک آپؒ نے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے مشائخ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کے زمانے میں اور اپنے دورِ خلافت میں نمازوں کی امامت کرائی۔ شوال 1429ھ / 2008ء میں آپؒ عارضۂ قلب اور گھٹنوں کی تکلیف کے سبب معذور ہوگئے تو آپؒ نے راقم سطور کو امامِ نماز مقرر فرمایا۔

٭  جنوری 2009ء سے آپؒ کی زیرسرپرستی ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور سے ماہنامہ ’’رحیمیہ‘‘ کا آغاز ہوا، جو گزشتہ 4 سالوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ مقررہ تاریخ پر قارئین کی رہنمائی کے لیے شائع ہوجاتا ہے۔

٭   مئی 2009ء میں ’’رحیمیہ مطبوعات‘‘ کے نام سے نشر و اشاعت کا ایک ادارہ قائم کیا، جس میں علمائے حق کی کتابیں تحقیق کے ساتھ شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا۔

٭   جولائی 2009ء سے آپؒ کی زیرسرپرستی ایک تحقیقی سہ ماہی مجلہ ’’شعور و آگہی‘‘ کا آغاز ہوا، جو اب تک اپنی تحقیقی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بڑے اہتمام کے ساتھ ہر سہ ماہی میں تسلسل کے ساتھ بروقت شائع ہو رہا ہے۔

٭   2009ء میں آپؒ نے اپنے خلفا اور متوسلین کی تربیت کے لیے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ عمرہ کے دوران حرم کی پاک سرزمین میں ان حضرات کی تربیت کا سلسلہ چلتا رہا۔ اسی دوران حرمین شریفین، بالخصوص جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ اور مدینہ یونیورسٹی کے اساتذۂ حدیث نے آپؒ سے سلسلۂ حدیث کی سند حاصل کی۔

٭  آپؒ نے اپنی پوری زندگی پاکستان اور ہندوستان میں تعلیمی، تربیتی اور اصلاحی دورہ جات کا اہتمام رکھا۔ ہمہ وقت آپؒ نوجوانوں کی تربیت کے لیے اسفار کی صعوبت برداشت کرتے رہے۔ خاص طور پر آپؒ نے ہندوستان میں خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے 1999ء اور 2006ء تا 2009ء ہر سال مسلسل اسفار کیے اور وہاں قیام کیا۔

٭  2010ء میں آپؒ نے اپنے خلفا اور متوسلین کے ہمراہ اپنی زندگی کا آخری حج ادا فرمایا۔ اگرچہ اس سے قبل آپ کئی حج ادا کرچکے تھے، لیکن خلفا اور متوسلین کے اصرار پر باوجود ضعف اور کمزوری کے ان کی دل جوئی اور ان کی تعلیم و تربیت اور باطنی نسبت کی ترقی کے لیے یہ سفر حج فرمایا۔ اور اس دوران بہت کچھ باطنی فیوض و برکات سے اپنے متعلقین کو مستفیض فرمایا۔

٭ 9؍ ستمبر 2012ء کو آپؒ کو دوسری دفعہ دل کا عارضہ لاحق ہوا اور اس کے بعد تقریباً 18 روز تک بیمار رہ کر مؤرخہ 8؍ ذی قعدہ 1433ھ/ 26؍ ستمبر 2012ئ، بروز بدھ، بوقت صبح 9:35  پر تقریباً 90 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

 

2 / 3

حضرتِ اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا طریقۂ تعلیم و تربیت

حضرتِ اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا طریقۂ تعلیم و تربیت

حضرتِ اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا طریقۂ تعلیم و تربیت
از:  حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر سعیدالرحمن

 

اسلام کے اخلاقی نظام کا مطمح نظر:
اس دنیا میں انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی تعاون پر ہے۔ یہ بنیادی اساس ہے۔ اسلام کی تعلیمات نہایت جامع ہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں اور بڑی مفصل ہیں۔ ان تمام تعلیمات کا اگر مختصر ترین اور جامع ترین خلاصہ نکالا جائے تو وہ یہ ہے کہ انسان بااَخلاق ہوں۔ اب یہ اَخلاق کیا چیز ہوتی ہیں؟ یہ کسی کتاب کے پڑھنے کا نام نہیں ہے، کسی ڈگری کے حصول کا نام نہیں ہے۔ اَخلاق نام ہے اس کا کہ آپ کا اپنے جیسے دیگر انسانوں کے ساتھ کیا رویہ اور کیسا برتاؤ ہے؟ آپ کی نظر میں دوسرے انسان کا کیا مقام ہے؟ آپ کے دل میں اُس کے حقوق کا کتنا احساس ہے؟ کیا آپ اپنی ذات میں مگن ہیں یا دوسروں کے حقوق کو آپ کی ترجیحات میں کوئی دخل ہے؟ یہیں سے ایک انسان کی پرکھ ہوتی ہے۔ اور یہی چیز کسی بھی ادارے کی، کسی بھی معاشرے کی اور کسی بھی ملک کی بنیادی اساس ہوتی ہے۔ جس سوسائٹی میں باہمی حقوق کا نظام موجود ہو، ایک دوسرے کے لیے ایثار اور قربانی کا جذبہ ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کا رشتہ ہو، وہ انسانی سوسائٹی ہوتی ہے، ترقی یافتہ سوسائٹی ہوتی ہے اور بااَخلاق سوسائٹی ہوتی ہے۔ اور جس میں خود غرضی ہو، حقوق کی ادائیگی کے بجائے حقوق کا استحصال ہو، لوٹ مار ہو، خود غرضی ہو، مفادپرستی ہو، تو وہ  تباہ حال معاشرہ ہوتا ہے۔ ایسی قوم زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہتی، بلکہ جلد ختم ہوجاتی ہے۔


خانقاہی نظام کے مقاصد و اہداف: 
انبیاء علیہم السلام کی کل جدوجہد کا آخری نچوڑ یہی ہے کہ سوسائٹی بااَخلاق بن جائے، اس میں حقوق کی پہچان پیدا ہوجائے اور ایک ایسا معاشرہ ترتیب پاجائے کہ اس میں کسی کو کسی پر بالادستی اور برتری، ان معنوں میں حاصل نہ ہو کہ وہ کسی بڑے طبقے سے تعلق رکھتا ہے ، کسی مفاد پرست ٹولے سے تعلق رکھتا ہے اور اس نے وسائل یا اختیارات پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنا بڑا مشن اُس وقت تک پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچتا، جب تک کہ اعلی اَخلاق پر کوئی تربیت یافتہ جماعت نہ ہو۔ اس لئے سب سے پہلے اُس جماعت کو تیار کرنا ہوتا ہے۔ اور پھر جاکر سوسائٹی اس درجے کی تبدیلی کے قابل بنتی ہے۔ اصل میں تو یہ کردار خانقاہوں کا رہا کہ وہاں پر افراد سازی کی محنت ہوتی تھی۔ موجودہ دور میں عام طور پر خانقاہیں اپنا وہ کردار کھو بیٹھی ہیں۔ اب وہ خانقاہیں نہیں رہیں اور وہ تربیت کے ادارے نہیں رہے، بلکہ اُن کا عنوان بھی بدل گیا ہے، وہ دربار کہلاتے ہیں۔ جن کو کچھ لوگوں نے اپنے مفادات کا حصول کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ کتنی بد قسمتی ہے کہ بڑے بزرگوں کے نام پر آج جو لوگ  اُن کی جگہ پر بیٹھے ہیں، وہ معاشرے کا بدعنوان طبقہ کہلاتے ہیں۔ یہ معاشرے کا اتنا بڑا المیہ ہے کہ مذہب کے عنوان سے اور بڑے بڑے بزرگوں کے نام سے تو ان کا تعارف ہے، لیکن سوسائٹی میں وہ ظلم پیشہ طبقے کا حصہ ہیں۔ جس کی وجہ سے آج کا نوجوان خانقاہ کے ادارے کے نام سے ہی متنفر ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو فرسودگی کی علامت سمجھتا ہے ،ترقی دشمنی کی علامت سمجھتا ہے اور رجعت پسندی کی علامت سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ آج سوسائٹی میں اَخلاقی تربیت کے ادارے ختم ہوکر رہ گئے ہیں۔
 اسی طرح خاندان تربیتی ادارہ ہوتے ہیں ، خاندانی نظام میں ایک بچے کی نہ صرف پرورش ہوتی تھی، بلکہ اُس کی بنیادی تربیت کی چیزیں اس کو سکھائی جاتی تھیں اور بتائی جاتی تھیں، جس سے اُس کے مزاج میں بنیادی اخلاقیات کی اہمیت پیدا ہوتی تھی۔ اور آج کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ موجود نظام میں خاندان کے اس نظام کو برباد کردیا گیا۔ آج ایک چھت تلے ماں باپ اولاد موجود تو ہیں، لیکن آپس میں بیگانگی ہے۔ اُن کا آپس میں جو ایک تعلق ہونا چاہیے، وہ تعلق مفقود ہے۔ آج وہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ حالات کے مطابق سمجھوتہ کرتے ہیں۔اب اس کی جگہ پر میڈیا آگیا ہے اور اس کی جگہ پر انٹرنیٹ آگیا ہے جس نے ہر انسان کو اپنے گرد و پیش سے بیگانہ کردیا۔ اب ہر ایک کی اپنی انفرادی ترجیحات ہیں، پھر کہاں سے اس کو تربیت ملے۔ آج کے دور میں یہ اتنا بڑا بحران ہے، کہ جس کی طرف ہمارے معاشرے کے سوچنے والے طبقات کی کوئی توجہ نہیں۔ 


حضرت رائے پوری رابع ؒ کی تربیتی حکمتِ علمی:
اس اَخلاقی بحران کے ماحول میں ہمارے حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ نے یہ بنیادی کام کیا، کہ نوجوانوں کو اپنے سے مانوس کیا اور اپنے مقام اور اپنے مرتبے کو کبھی بھی اس مقصد میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اس کے نتیجے میں ہمیں بہت ساری وہ باتیں جو ہم صرف کتابوں میں پڑھتے ہیں، عملی طور پر سامنے آئیں۔ وہ باتیں جو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں ملتی ہیں، جن کو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ صرف آپؐ کا معجزہ ہیں، وہ زندہ ہوگئیں۔ یہ بھی آج مذہب کا ایک المیہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر جب بھی کوئی بات ہوتی ہے تو اس کو بیان کرنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ یہ آپ کے کچھ معجزاتی کارنامے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو کوئی بھی اختیار نہیں کرسکتا، ان کی پیروی نہیں کرسکتا۔ حالانکہ یہ واضح طور پر قرآنِ حکیم اور رسول اللہؐ ﷺ کی اپنی تعلیمات کے مخالف ہے۔ قرآن نے بار بار اطاعت ِرسول اور اتباعِ رسول کی بات کی۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کی زندگی کو اختیار کیا جائے، ان کے نقش قدم پر چلا جائے، لیکن آج کے دور کے مفاد پرست طبقے کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی نامناسب بات کرے، اس لیے ان کی حکمت ِعملی یہ بن گئی کہ آپؐ کی سیرت کو اس نظریہ کے ذریعہ  معاشرے سے کاٹ دیا جائے کہ یہ اللہ کا ایک معجزہ تھا کہ اللہ نے اس طرح کی ایک شخصیت دنیا میں بھیجی تھی اور آپؐ کے ساتھ ہی اُس زندگی کا دروازہ بند ہوگیا۔


صحبتِ صالح کے اثرات: 
حقیقت یہ ہے کہ ان عظیم شخصیات نے جو تاریخ میں موجود رہی ہیں، انھوں نے تو درحقیقت اسی تصور اور تأثر کو ختم کیا۔  رسول اللہؐ کی جو سیرت اور زندگی ہے، وہ تو معاشرے میں جاری ساری رہنے کے لیے آئی ہے۔ یہ تو معاشرے میں تحریک پیدا کرنے کے لیے آئی ہے۔ یہ تو معاشرے میں انقلاب پیدا کرنے کے لیے ایک نمونے کی زندگی ہے۔ اور اسی لیے آپ دیکھیں کہ رسول اللہؐ کے گرد و پیش جو لوگ جمع ہوئے، آپ کی صحبت میں رہے، آپ کی تربیت میں رہے اور آپ کی خدمت میں رہے، انھوں نے اس سیرت کو اپنی زندگیوں میں اتارنے کی کوشش کی۔ اور اسی و جہ سے وہ لوگ اُس راستے پر چل پڑے کہ اللہ کے رسول اپنی زندگی میں جزیرۃ العرب میں تبدیلی لاتے ہیں اور آپ کی صحبت یافتہ جماعت قیصر و کسریٰ کے نظام توڑتی ہے، یہ سیرت کا اعجاز ہے۔ بے عملی کا سیرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیرت کا اعجاز یہ ہے کہ وہ معاشرے میں تحریک پیدا کرے۔ انسانوں کی زندگیوں میں تبدیلی پیدا کرے۔ 


حضرت رائے پوری رابع ؒ کی جدوجہد کی خصوصیات:
حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ نے یہ بنیادی کام کیا کہ جو تاریخ کا ایک تسلسل ہے، اس کو نوجوان نسل تک منتقل کردیا۔ نوجوانوں کے ذہن میں یہ امید جگا دی، یہ عزم پیدا کردیا کہ سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ محض کتابوں کی چیز نہیں ہے، یہ تو آج بھی ایک رہنما حیثیت رکھتا بہے۔ آج بھی آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرنے والا سب سے بڑا محرک ہے۔ اور پھر جو بھی تبدیلی پیدا کرنے والا ہوتا ہے، اس کو سب سے پہلے جس تبدیلی کے لیے وہ کوشاں ہوتا ہے، اُس کا نمونہ بننا پڑتا ہے، اسی کو ’’مجاہدہ‘‘ کہتے ہیں۔ جو سوسائٹی میں تبدیلی کے لیے جدوجہد اور جہاد کرتا ہے، سب سے پہلے اس کو اپنی ذات کے ساتھ مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ پھر جاکر وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ سوسائٹی کی بڑی سے بڑی قوت چیلنج کرتا ہے، اس کے دباؤ سے وہ سوسائٹی کے لوگوں کو نکالتا ہے۔ اس کی عظمت یہی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کا حصہ ہوتا ہے۔ وہ سوسائٹی سے کٹا ہوا نہیں ہوتا۔ 
جس طرح رسول اللہؐ کی سیرت میں پڑھتے ہیں کہ مدینے کی گلی میں کبھی کبھار ایک خاتون جو مجنون اور دیوانی تھی ، اپنی بات سنانے کے لیے رسول اللہ کو روک لیتی۔ تو آپؐ کھڑے ہوجاتے، اُس کی لایعنی باتیں سنتے۔ جب تک وہ اپنی باتیں کرتی رہتی۔ صرف اس لیے کہ اس کا دل نہ ٹوٹے۔ یہ وہ اَخلاق ہیں، اور اسی کا ہم نے اپنے حضرت رحمۃ اللہ علیہ میں نمونہ دیکھا۔ کہ بسا اوقات ایک نوجوان کوئی کام کی بات نہیں کرتا اور اپنا قصہ کہانی لے کر بیٹھا ہوا ہے، کبھی حضرت نے اس کو محفل سے نہیں اٹھایا، کبھی اپنے معمولات کی بات نہیں کی کہ میرے معمولات متأثر ہو رہے ہیں۔ یوں آپ نے نوجوانوں کے دل موہ لیے۔ یہی وہ چیز ہے کہ جس کا اظہار حضرت کے جنازے کے موقع پر  آنے والے لوگ کر رہے تھے۔ عام طور پر جب ایک بزرگ خاندان سے اٹھتا ہے تو چند آدمی ہی ہوتے ہیں، جن کے دل میں افسوس ہوتا ہے۔ اکثر کی رائے میں اس کا وقت تھا تو چلا گیا۔ لیکن یہاں نوجوان تھے، جن کی آنکھیں تھم نہیں رہی تھیں۔ ایک عجیب منظر تھا کہ یہ نوجوان جن کا حضرت سے کوئی خونی رشتہ نہیں بلکہ صرف اور صرف ایک اَخلاق اور محبت کا تعلق ہے، آپ نے کتنے ہزاروں دلوں کو اپنی طرف کھینچ کر دین کی محبت سے جوڑا، اُن کے دلوں میں دین کے انقلاب کی تڑپ پیدا کی۔ یہی بڑی تبدیلی ہے۔ بزرگوں کو کسی مخصوص حوالے سے یا کشف و کرامت سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ ان کا سب سے بڑا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے قلوب میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ حضرت اقدس رائے پوریؒ نے نوجوانوں کو چاروں طرف سے مسلط فاسد اَخلاق کی بربادی کے ماحول سے نکال کر ان کو دین کے غلبے کے لیے نظریے اور اس پر محنت اور جدوجہد کی مصروفیت دی۔ 


حضرت رائے پوری رابعؒ کی تربیت کے اثرات:
آج حضرتؒ سے وابستہ ایک نوجوان غلبہ دین کی بات کر رہا ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جتنا وہ سمجھ چکا ہے، اتنا دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی اصل چیز ہوتی ہے کہ اپنی ذات کی نفی کی جائے۔ اپنے مقام و مرتبے کا کسی پر رعب قائم کرنے کی بجائے اُس سطح پر چلے جانا، جس سطح پر وہ شخص کھڑا ہے۔ اسوۂ نبی اسی چیز کا نام ہوتا ہے۔ نبی کے جانشین انھی لوگوں کو کہا ہے، کہ وہ نبوت کے اخلاق کو اپنے اندر  سمو لیتے ہیں۔ اور معاشرے میں دلوں کے اندر امن پیدا کرتے ہیں، دلوں کے اندر سکون پیدا کرتے ہیں، اطمینان کا درس دیتے ہیں۔ خوف سے نکالتے ہیں۔ جب حضرتؒ کی صحبت میں کوئی نوجوان آجاتا تو وہ اس کو ہمہ قسم کے دباؤ سے اور خوف سے نکال کر جرأت مند بناتے۔ یہی وہ بنیادی چیز ہے، جسے تربیت کہا جاتا ہے اور حضرت کی ساری محنت اسی چیز پر رہتی ہے کہ نوجوانوں کو دین کے نظام کے حوالے سے دین کی اجنبیت سے نکالا جائے اور ان میں یہ جذبہ پیدا کردیا جائے کہ وہ معاشرے میں اس دین کو غالب کرنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ 
کتنے ہی خاندانوں کے بزرگ ملے ہیں اور انھوں نے حضرت کی اس تحریک کا شکریہ ادا کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہت متفکر تھے، کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا تھا، بات ہماری وہ سنتے نہیں تھے، اور جب ہم نے ان میں یکایک تبدیلی محسوس کی تو ہمیں تجسس ہوا، ہماری بات تو کبھی سنتے نہیں تھے، ہمارا کہا سنا ہمیشہ ٹالتے تھے، یہ تبدیلی کہاں سے آئی؟ تو ہم کھوج لگاتے لگاتے حضرتؒ تک پہنچ گئے۔ انھوں نے کہا کہ: ہماری درخواست ہے کہ آپ ان نوجوانوں پر محنت جاری رکھیں۔ ہمارا تو مفت کا کام ہوگیا کہ کاہل تھا، کام کرنے والا بن گیا۔ بدزبان تھا، بات ماننے والا بن گیا۔ کسی کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار نہیں تھا، اب ہر کام میں آگے بڑھ کے تعاون کرتا ہے۔ یہ وہ تربیت ہے، جو حضرت نے نوجوانوں کے دروازوں پر پہنچ کر دی۔ عام تأثر تو یہی ہے کہ پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے، لیکن یہاں کیفیت یہ تھی کہ حضرت خود نوجوانوں کے پاس گئے۔ اور اُن کے ان اوقات میں پہنچے، جس کو مناسب دیکھتے۔ 


حضرتؒ سے متعلق ایک ناقابل فراموش واقعہ: 
بہت ہی ابتدائی بات ہے جب حضرت سے تعارف ہوا، 1974ء کی بات ہے، حضرت کراچی تشریف لائے۔ سید مطلوب علی زیدی صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔ جمعیت طلبائے اسلام کے ایک یونٹ کی ذمہ داری میرے پاس تھی۔ حضرت کی محفل میں بیٹھے ہوئے میں نے حضرت کو دعوت دے دی کہ حضرت! ہمارے یونٹ میں تشریف لائیں۔ کچھ نوجوانوں سے ملاقات ہوجائے۔ اس وقت نہ اتنی سمجھ تھی کہ کیسے تشریف لائیں گے، کیا طریقہ ہوگا،  ہے، ظاہر ہے حضرت کراچی کی سڑکوں سے واقف نہیں ہیں۔ مقررہ وقت پر ، اُس دن حضرتؒ، زیدی صاحب کو لے کر پہنچ گئے۔ جن نوجوانوں سے میں نے رابطہ کیا تھا، اُن میں سے صرف ایک نوجوان مل سکا۔ اُس کو بٹھا دیا۔ پریشانی بھی بہت ہوئی کہ حضرت تشریف لائے ہیں اور آدمی بھی کوئی نہیں ہے۔ میں اس نوجوان کو بٹھا کر پھر نکل پڑا کہ شاید ان میں سے کوئی اور بھی مل جائے کہ جن کو کہہ رکھا ہے۔ سوئے اتفاق سے کوئی نہیں ملا۔ اس پورے عرصے میں جو کہ ایک گھنٹے کا وقفہ ہوگا، حضرت اُس ایک نوجوان سے غلبہ دین کی بات کرتے رہے۔ جب میں نے آکر معذرت کی کہ کوئی اور نہیں ملا، تو فرمانے لگے کہ: "ایک نوجوان مل گیا ہے، یہی بڑی بات ہے، ایک مل گیا۔ ہم نے کیا کرنا ہے"۔ حضرت کیسے وہاں پہنچے، کیسے وہاں سے تشریف لے گئے، کچھ بھی یاد نہیں۔ اب یہی سمجھنے کی بات ہے کہ ایک نوجوان کو سمجھانے کے لیے حضرت نے سارا وقت صرف کردیا۔ اور اس پر بھی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔


حضرت اقدس رائے پوری رابع کا تربیتی معمول: 
یہ حضرت کی زندگی کا معمول تھا کہ کسی بھی موقع پر یہ نہیں جتایا کہ ان کا کوئی وقت ضائع ہوگیا۔ ہمیشہ یہی انداز رہا کہ جس سے بات کی جا رہی ہے، اُس کو اُس کی اہمیت کا احساس دلایا، جیسے وہ اہم شخص ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ  آج کے دور میں حضرت نے اپنے اس اندازِ تربیت سے پاکستان میں الحمد للہ اتنی بڑی تعداد نوجوانوں کی جمع کردی، جو اس وقت پورے پاکستان میں بلامبالغہ کسی بھی خانقاہ کے پاس نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیے حضرت نے اپنی زندگی کو ایک مثال بنایا، مجاہدے کی زندگی بسر کی۔ اور اپنے اس مشن کی خاطر انھوں نے ہر قسم کے الزام کو برداشت کیا، ہر قسم کی بدزبانی کو برداشت کیا۔ جو کچھ لوگ کہہ سکتے تھے، انہوں نے کہا۔ کسی کے ایمان پر حملہ سب سے آخری چیز ہوتی ہے، یہاں ایسا کرنے والے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ جن کو اتنا بھی احساس نہیں ہوا، اتنا بھی خوف نہیں آیا کہ یہ تو کسی کا شعبہ ہی نہیں ہے کسی کے ایمان کو جانچو۔ قرآن رسول ﷺ سے کہتا ہے: (22:88) کہ آپ داروغے نہیں ہیں۔ مگر آج افسوس کہ جو مذہب کے نام پر کام کرنے والے لوگ ہیں، وہ اپنے آپ کو اس منصب پر فائز کرچکے ہیں کہ جس کو چاہیں اسلام سے نکال دیں۔ یہ ساری صورتِ حال بڑا المیہ ہے، لیکن حضرتؒ نے اپنے عزم و استقامت سے اس ساری صورتِ حال کا مقابلہ کیا اور نوجوانوں سے تعلق قائم کیا۔ اصل تو درد ان لوگوں کو یہی تھا۔ چنانچہ کہا جاتا تھا کہ: "حضرت اپنے مقام کا خیال نہیں رکھتے، نوجوانوں میں گھل مل جاتے ہیں، ان کی لایعنی باتیں سنتے رہتے ہیں"۔ کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ حضرت نے اپنے اس انداز سے کتنے نوجوانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ کتنے خاندانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ اور اصل چیز تو یہی تھی کہ دلوں پر حکومت کی۔


حضرت رائے پوری رابع کے مشن کی ترو تازگی: 
الحمد للہ حضرتؒ کا یہ مشن زندہ ہے۔ اور اُن نوجوانوں کی صورت میں زندہ ہے، جن سے حضرتؒ کو توقعات تھیں۔ ظاہر ہے انسان کی ایک طبعی عمر ہے، اس کو اس نے پورا کرنا ہے، لیکن جو بنیادی فکر اور مشن ہوتا ہے، اُس کی بنیادی روح یہی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے یہ مشن حضرتؒ آپ کو سونپ گئے، اپنی جماعت کو سونپ گئے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس مشن کو اُسی عزم کے ساتھ، اُسی ولولے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ اور حضرت نے اپنے جن ساتھیوں پر اعتماد کیا، اُن سے بھی جڑے رہیں۔ حضرت مفتی عبدالخالق آزاد صاحب کو حضرت کا اعتماد حاصل رہا، اب ان شاء اللہ اس خانقاہی سلسلے کو وہ دیکھ رہے ہیں۔ اس طرح حضرت اقدس رائے پوری رابع رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت کا جو سلسلہ ہے، وہ جاری و ساری ہے۔ ہماری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ جو کچھ ہم نے حضرت اقدسؒ سے سیکھا، حضرتؒ کے جس مشن سے تعلق ہوا، وہ مشن اب بھی موجود ہے۔ ا س مشن کو جب تک ہم قائم و دائم رکھیں گے، حضرت اقدسؒ کی روح بھی ان شاء اللہ مسرور رہے گی۔ اور یہی حضرتؒ کے لیے سب سے بڑا ایصالِ ثواب ہے کہ ان کے مشن کو جاری و ساری رکھا جائے۔ یہی حضرت اقدسؒ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ 
( اللہ تعالیٰ ہمیں ولی اللہی اکابرین کے مشن پر کاربند رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)

ماخذ: ماہنامہ مجلہ رحیمیہ، لاہور۔ اکتوبر نومبر 2012ء

3 / 3

حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کے مشن کی اہمیت

حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ  کے مشن کی اہمیت

دنیائے انسانیت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ اقدس سے کوئی بڑا نہیں ہوا اور نہ ہوگا ۔ آپ دونوں جہانوں کے سربراہ ہیں۔ آپ ﷺپر شریعت اُتری ، کتاب اتری ۔ آپﷺکی ذاتِ اقدس رحمۃ للعالمین ہے۔ آپ ﷺنے اپنے مشن پر جماعت تیار کی۔ اور اس جماعت کے افراد میں کوئی صدیق کے مرتبے پر ہے، کوئی شہدا کے مرتبے پر ہے، اونچے مقام کے لوگ ہیں۔ آپ ﷺکی محبت میں اس قدر فنا ہیں کہ آپ ﷺکے اس دنیا سے تشریف لے جانے کی خبر تک سننے کے لئے تیار نہیں، غم سے نڈھال ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جیسے آدمی غصے میں فرما رہے ہیں کہ جو یہ کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے، میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ ہر صحابی پریشان ہے، لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حوصلہ سے کام لیتے ہیں، جو جانشین پیغمبر ہیں۔ جن کا انتخاب جماعتِ صحابہ کر رہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: اگر اللہ کی عبادت کرتے تھے تو وہ زندہ ہیں، وہ کبھی فوت نہیں ہوسکتے۔ اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتے تھے تو وہ فوت ہوگئے ہیں۔ گویا جانشین پیغمبر نے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لیے دنیا میں جو سب سے بڑی شخصیت آئی تھی، اُس کے مشن کا تعارف کرایا کہ جس اللہ نے  پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا اونچا مشن اور منصب عطا کیا، کہ انہوں نے اتنی باصلاحیت جماعت تیار کردی، جو سوسائٹی کے اندر اب پیغمبر کے پروگرام کی تکمیل کرے گی، تو اس ذاتِ خدا سے کیسے مایوس ہو جاؤ گے۔ پیغمبرؐ بھی تو اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں، اُن کے ساتھ اللہ کی مدد ہے۔ آپ دیکھئے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو حوصلہ ہے، جو آپ کا پیغام ہے، وہ کتنا اونچا ہے اور وہ جماعت کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ آپ کی تقریر سے صحابہ مطمئن ہو رہے ہیں۔ آپ نے توجہ دلائی کہ اعلی ترین شخصیت چلی گئی، لیکن جماعت تیار کر گئی اور جماعت کو ہدف بھی دے گئی۔ اس کے مقاصد بھی بتا دیے۔ اور اس جماعت کی تربیت بھی کردی۔ آپﷺاپنے منصب کے تقاضے کے اعتبار سے اپنا کام مکمل کرچکے۔ اس لیے اب نئے پیغمبر نہیں آئیں گے ، اب تو آپ کی جماعت نے اس کام کو آگے بڑھانا ہے۔ آپ دیکھئے جماعت پُرعزم ہے۔ جماعت اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے قربانی دے رہی ہے۔ جماعت اپنے مشن کو غالب کرنے کے لیے، جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے، اُس کے لیے منصوبہ بندی کر رہی تھی، پلاننگ کر رہی تھی، تیاری کر رہی تھی اور رفتہ رفتہ وہ آگے بڑھ رہی تھی۔

انبیاء کرام و اولیاء حق کے مشن کی جامعیت:

میرے عزیز دوستو!  جس اعلیٰ شخصیت کا پروگرام چلایا جاتا ہے، مشن آگے بڑھایا جاتا ہے، اس شخصیت کا زندگی میں جو فیضان ہوتا، اس دنیا سے چلنے جانے کے بعد بھی اس مشن پر اس کا فیضان اور توجہ رہتی ہے۔ یہ دنیا کا قصہ مادی ہے اور اس مادی جسم کی طاقت اور قوت، اس کی کوالٹی ایک دائرے کے اندر ہے۔  روحانیت کی طاقت تو اس سے بہت قوی ہے۔ یہ مادی دائرہ تو ہماری روح کے لیے قید خانہ بنتا ہے، لیکن اس دائرے کے بغیر اس کی تربیت بھی نہیں ہوتی۔ یہ بھی ضروری ہے۔ یہ جہان بھی ضروری ہے۔  یہ جسم نہ ہو، یہ انسان نہ ہو تو کس کی تربیت کرنی ہے؟ اب یہ ایک دائرے کے اندر ہے۔

حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: جب روح جسم سے پرواز کرتی ہے تو اس کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے۔ وہ اعلیٰ علیین میں چلی جاتی ہے۔ وہ عالم شہادت سے عالم غیب میں چلی جاتی ہے۔ اونچے مقامات پر چلی جاتی ہے۔ اُس مقام پر جاتی ہے، جس مقام پر وہ ارواح اکٹھی ہوتی ہیں، جنھوں نے دنیا کے اندر اللہ کے پیغام کو پہنچانے کے لیے کوئی کردار ادا کیا ہوتا ہے۔ ایک شخصیت یہاں تو محدود دائرہ میں ہوتی ہے اور اگر اُس مقام پر چلی جائے جہاں سارا ماحول ہی اُس مشن اور پروگرام کے تعارف  کا ہے تو آپ بتائیے کہ اُس کا دائرہ وسیع ہوگا یا اُس کا دائرہ محدود؟ ایسا نہیں ہوتا کہ شخصیت کے چلے جانے کے بعد اُس شخصیت کا پیغام دنیا سے ختم ہوجائے۔ اگر جماعت سست نہ ہو تو اُس کا فیضان دنیا سے کبھی ختم نہیں ہوتا۔ آج بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کا ویسے ہی فیضان ہے جیسے دورِ صحابہ میں تھا۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صفت ’’اسم ہادی‘‘ ہے۔ جس نے اس سے تعلق قائم کیا، یہ ممکن نہیں ہے کہ اُس کو ہدایت نہ ملے۔ یہی فیضان ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر ولی، پیغمبر کی ذات میں فنا ہوجاتا ہے۔ اور اس کے ’’اسم ہادی‘‘ کے فیضان کا وارث بن جاتا ہے۔ اب اپنی صلاحیت و استعداد کے مطابق اس کا اس ’’اسم ہادی‘‘ اور ’’فیضانِ نبوت‘‘ کے ساتھ جتنا گہرا تعلق بڑھتا چلا جائے گا، اللہ تبارک و تعالیٰ اُس سے اُتنا ہی اونچا کام لے گا۔

 انبیا کرام و اولیاء اللہ کا مشن؛ عدل کا قیام:

 انبیاء کرام دنیا میں جب تشریف لاتے ہیں تو اللہ کے پیغامبر بن کر آتے ہیں کہ ظلم نہیں ہونا چاہیے۔ عدل و انصاف غالب ہونا چاہیے۔ قوموں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ ہم جس رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ اُس رب نے ہمیں یہ سبق سکھایا کہ میں تمہاری قوم کا ہی رب نہیں ہوں، میں تو رب العالمین اور رب الاقوام ہوں۔ میرے لیے تو ساری اقوام برابر ہیں۔ میں نے تو سب کو روٹی دینی ہے، سب کو تعلیم دینی ہے۔ میرے لیے تو سب بیمار ایک ہی جیسے ہوتے ہیں، ان کو شفا دینی ہے۔ میں تو سب کی جہالت کے ختم کرنے کے لیے انبیاء کو بھیجتا ہوں۔ میں رب الاقوام ہوں۔ اب یہ پیغام انسانیت گیر ہے۔ اقوام گیر ہے، عالم گیر ہے۔ یہ اقوام کو اکٹھا کر لینا، اقوام کی اصلاح احوال کرنا، اقوام کے حقوق کا تحفظ کرنا، یہ انبیائے کرامؑ ایک ہی ذریعے سے بتاتے ہیں اور وہ ہے عدل و انصاف کہ ہر قوم کے ساتھ جب انصاف کیا جائے گا تو رب الاقوام آپ سے خوش ہوجائے گا۔ اور یہ اس کے تقاضے کو پورا کردے گا کہ اقوام کے رب نے ہمیں یہ توفیق دے دی کہ ہم انسانیت کو عدل و انصاف کے ساتھ وابستہ کریں۔

میرے عزیز دوستو!  جب اقوام میں ظلم غالب آتا ہے ، اُس وقت اسوۂ پیغمبر کیا ہوتا ہے کہ ظالم طاقت کا مقابلہ کیا جائے، اس کو شکست دی جائے۔ وہ پہلے تلوار اُٹھا کر مقابلہ نہیں کرتے، بلکہ وہ جماعت کو شعور دیتے ہیں، اس کی تربیت کرتے ہیں، اسے مشن سمجھاتے ہیں۔ اور ہر ایک کی صلاحیت کے اعتبار سے اس مشن کو منتقل کرتے ہیں کہ تم نے نظامِ عدالت میں ظلم ہے تو اس کو کیسے مٹانا ہے۔ نظامِ سیاست میں ظلم ہے تو کیسے مٹانا ہے۔ نظامِ اجتماعیت ٹوٹ چکا ہے، اس کو کن اصولوں پر جوڑنا ہے۔ دنیا میں نظامِ سیاست بداَمنی پیدا کر رہا ہے، اس کو امن کی طرف کیسے لانا ہے۔ دنیا کے اندر ظالم طاقتیں غالب آکر انسانیت پر مظالم کے پہاڑ ڈھا رہی ہیں، اُن سے آزادی کیسے حاصل کرنی ہے۔ یہ پیغمبر کا مشن  ہے۔ جب کسی سوسائٹی پر شیطان غالب آکر اُس کو قابو کرلے، اُس سوسائٹی کی تبدیلی کا نبوی طریقہ کیا ہے؟

بس یہ بات سمجھنی ہے کہ جب کسی سوسائٹی پر شیطان قابو پالے، زندگی کے ہر شعبے پر غالب آکر اُس کو راہِ حق سے بھٹکا دے، عدل و انصاف سے دور کردے، اُس وقت میں ہم نے سوسائٹی کو اُس سے کیسے بچانا ہے اور اس کو انصاف کے ساتھ کیسے جوڑنا ہے؟

میرے عزیز دوستو! یہ پیغمبر اور نبی کا ایک پیغام ہے۔ سب سے پہلے وہ اس پیغام کو اپنی جماعت میں منتقل کرتے ہیں، اس کو تیار کرتے ہیں اور پھر اس کے ذریعے سے تبدیلی لانے کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں۔پیغمبر ان میں شعور پیدا کرتے ہیں ، اس کو سکھاتے ہیں، حکمت سکھاتے ہیں، اب جو جماعت اس کے نتیجے میں اتنی باصلاحیت ہو، پُرعزم ہو، ترجیحات کا تعین کرسکتی ہو، صاحب ِعقل ہو، پیغمبر کے مشن کو آگے بڑھائے گی۔

حضرت رائے پوری رابعؒ کے مشن کا تاریخی تسلسل:

اس دورِ زوال میں، جس میں ہر طرف تاریکی ہے، گمراہی کا غلبہ ہے، ہدایت سے محرومی ہے، زوال کی انتہاؤں کو یہ اُمت چھو رہی ہے، اس تاریک ترین دور میں حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا ہم پر یہ بڑا احسانِ عظیم ہے کہ انھوں نے ہمیں حق کی پہچان کروائی، صراطِ مستقیم کو واضح کیا، دین کا عقل و شعور دیا، سوسائٹی میں تبدیلی لانے کے لیے ہمت اور جرأت اور تنظیم کی طاقت پیدا کی۔ یہ کوئی عام آدمی کا کام نہیں ہوتا اور نہ ہی آسان کام ہوتا ہے۔ حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اسلاف اور اکابرین امت کے راستے پر چلتے ہوئے جس طرح دین اسلام کی انقلابی تعلیمات کو لے کر چلنے والی جماعت ِحقہ کے تسلسل کا تعارف کرایا، اس پر ہم آپؒ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور آپؒ کے اس احسانِ عظیم پر آپؒ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور اللہ رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وہ آپؒ کو اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے۔

حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے مشن کا کمال؛ جماعت سازی:

حضرتؒ کا اس وقت کا بڑا کمال یہ تھا کہ انھوں نے دین اسلام کے عظیم مشن پر ایک جماعت پیدا کردی۔ جماعت کا پیدا کرلینا، شخصیت پرستی سے نکال دیتا ہے۔ جماعت پھر وہ کام کر رہی ہوتی ہے، جو اعلیٰ شخصیت اپنی زندگی کے دور میں سرانجام دیتی ہے۔ جماعت کا اداروں کی شکل میں آگے بڑھنا، اپنی تنظیمی مہارتوں کو بڑھانا، اپنے پروگرام کو ہمت، جرأت اور پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھانا، یہ اس وقت میں جماعت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ شخصیت چلی بھی جائے، اُس کا افسوس یقینا ہوتا ہے، خلا بھی ہوتا ہے، لیکن جماعت محنت کرے، جدوجہد کرے، پختہ عزم پیدا کرے، اس میں کسی کا خوف نہ رہے، تو وہ جماعت اس شخصیت کے قائم مقام بن کر اُس کے مشن کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہے۔

ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے لیے حضرتِ اقدس شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کون سی حکمت ِعملی دے کر گئے ہیں؟ کس نصب العین پر تعارف کرایا ہے؟ ہمیں کون سے راستے پر چلنے کی بات کی ہے؟ ہم نے اس کو لینا ہے۔ یاد رکھو! کبھی حضرت نے نہیں فرمایا کہ میں تمھیں اپنے سے جوڑنا چاہتا ہوں۔ جب بھی حضرت نے فرمایا تو یہ کہا: ’’میں تمھیں اپنے اکابر کی جماعت سے جوڑنا چاہتا ہوں۔ میں تمھیں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ، شاہ عبدالعزیز دہلویؒ، حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ، امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ سے جوڑنا چاہتا ہوں۔‘‘ آپؒ نے شخصیت پرستی کی نفی کردی اور جماعت کی بات کی۔ میں نے ایک مرتبہ تقریر کرتے ہوئے حضرت کا نام ایک دو دفعہ زیادہ لیا تو مجھے علاحدگی میں فرمایا کہ: ’’میرا نام نہ لیا کرو، اکابرین کا نام لیا کرو۔‘‘ آپ نے اس جانب رہنمائی کی کہ حق کا مشن شخصیت کا اپنا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس مشن کا تاریخی تسلسل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں جماعت شخصیت پرستی سے نکل کر مشن کی طرف آجاتی ہے۔ یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔

حضرت رائے پوری رابع کی اہم رہنما کلمات

حضرت نے ایک دفعہ ہمیں فرمایا تھا: ’’دیکھو! تم نے صلاحیت کا خیال رکھنا ہے۔ حق کے مسلک پر قائم رہنا ہے۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تبدیلی تلواروں سے نہیں آیا کرتی، ایٹم بموں سے نہیں آیا کرتی۔ دنیا میں تبدیلی صلاحیت اور مہارت سے آتی ہے کہ اس کی صلاحیت کتنی اونچی ہے۔ اسی طرح امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی جماعت  ہمارے لیے اپنے پروگرام اور مشن میں کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مسلک  اہل حق کو تم نے نہیں چھوڑنا۔ اس جماعت نے تو برطانوی سامراج کے خلاف آزادی و حریت کی جنگ لڑنے کی حکمت ِعملی اختیار کی۔ اگر کوئی جماعت اٹھ کر  یہ کہے کہ ہم نے تو سامراجی تعلیم حاصل کرکے سوسائٹی کے اندر خدمت کرنی ہے، وہ اہل حق کے مسلک پر نہیں ۔ وہ آزادی کی جدوجھد کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ آزادی کی حکمت ِعملی اختیار کرنے کے خلاف کوئی بھی رائے دی جائے، تو ہم کہیں گے کہ وہ اس مسلک سے ہٹنے کی بات کرتا ہے۔

ہم نے نام کو نہیں دیکھنا! نعرے کو نہیں دیکھنا! بلکہ مشن کی وراثت کو دیکھنا ہے۔ اسی طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا کہ: ’’تاریخی تسلسل کی اہمیت کو سمجھنا ہے اور اسی پر تم نے قائم رہنا ہے۔‘‘ تاریخی تسلسل کے اعتبار سے کہ تمہاری جو نسبت اوپر سے نیچے تک آ رہی ہے، اُس سے تعلق میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ تمہارے سامنے کلیئر ہونا چاہیے کہ نسبت ِپیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم، جو دین کی جامعیت کی نسبت ہے، تاریخی تسلسل رکھتی ہے، شریعت، طریقت اور سیاست ہے، اس کو تم نے نہیں چھوڑنا، اس پر قائم رہنا ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ: ’’تم نے اختلاف نہیں کرنا۔‘‘ دیکھئے! ایک جماعت کے لیے یہ سنہری اصول ہیں کہ اس کا فرد باصلاحیت ہو اور وقت کے تقاضے کے مطابق صحیح فیصلہ کرسکتا ہو۔ وقت کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا، اعلیٰ درجے کی فراست اور صلاحیت ہوتی ہے۔ اب جماعت کے افراد کے اندر اعلیٰ صلاحیت ہو، بروقت فیصلہ کرسکتے ہوں، اسی طریقے سے مسلک پر قائم رہنے سے فیوضات ملتے ہیں۔ استقامت حاصل ہوتی ہے، عقل بڑھتی ہے، شعور بڑھتا ہے۔

  تاریخی تسلسل سے قرآنِ حکیم، حدیث ِپاک، فقہائے امت، علمائے ربانی سے سچا تعلق قائم ہوتا ہے۔ تاریخی تسلسل سے دین کی جامعیت آتی ہے۔ جماعت اپنے فیصلے کرنے میں اختلافات کا شکار ہوکر اپنے مشن کو نقصان نہ پہنچائے تو کامیابی ہے۔ یاد رکھو! جس جماعت کا کوئی مشن نہ رہے، یا اختلافات کا شکار ہوجائے، وہ اپنی مقتدر رہنما شخصیت کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔ دنیا کی کوئی خانقاہ اور جماعت اس وقت تک فیل نہیں ہوتی، جب تک اس کا خلیفہ اور جانشین اور بعد والی قیادت نااہل نہ ہوجائے۔ قرآنِ حکیم بیان کرتا ہے کہ ناخلف لوگوں نے انبیا کے مشن کو خراب کیا۔ یہ انبیا کتنے اونچے تھے، لیکن جب ان کے بعد والے اور ان کی اولاد ناخلف ہوگئی، انھوں نے نمازوں کو ضائع کیا، اس کی قدر نہیں کی۔ شہوات، خواہشاتِ نفسانی کے پیچھے چل پڑے۔ مفاد پرست اور خود غرض بنے۔ تباہی اور بربادی میں ڈال دیے گئے۔

حضرت رائے پوری رابعؒ کی تیار کردہ اجتماعیت کی خصوصیات:

الحمد للہ! اللہ کے فضل سے حضرتِ اقدس نے اپنی جماعت کے بہترین افراد تیار کیے ہیں، جنھوں نے ہر مشکل وقت میں اچھے فیصلے کیے۔ الحمدللہ! حضرت نےجماعت کے اندر اپنی فراست  منتقل کی، جماعت کے اندر حق کا شعور پیدا کیا، جماعت کے اندر رہنمائی کی صلاحیت پیدا کی، اب جماعت کو اپنی اہلیت کا ثبوت دینا ہے۔ ان شاء اللہ العزیز ہم پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے یہ پوری توقع رکھتے ہیں کہ ہم حضرت کے مشن کو کامیاب بنائیں گے۔ عزم پختہ ہو، پہاڑوں کو انسان تسخیر کرلیتا ہے۔ عزم جتنا مضبوط ہو، شیطانی طاقتوں، فرعونی طاقتوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ دنیا میں ساری کامیابی ایک ہی چیز سے حاصل ہوتی ہے اور وہ پختہ عزم ہے۔ جتنا عزم و ارادہ مستحکم اور مضبوط ہوگا، اپنے مشن پر ہر چیز کو قربان کرنے کا جذبہ موجود ہوگا، دنیا کی کوئی طاقت حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر پر قائم ہونے والی اس جماعت کو کامیابی سے نہیں روک سکتی۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں حضرتِ اقدس شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے مشن کو، جو تاریخی تسلسل سے اکابرین کا مشن ہے، اس امانت کو ہمیں صحیح طریقے پر پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

ماخذ: ماہنامہ رحیمیہ لاہور، اکتوبر، نومبر 2012ء

End of issue

Back