November,2020

Rahimia Magazine

November,2020

Nov 10, 2020 7 articles Download Download EPUB

1 / 7

صبر و استقامت اور نماز کی اہمیت

صبر و استقامت اور نماز کی اہمیت

 وَاستَعينوا بِالصَّبرِ وَالصَّلاةِ ۚ وَإِنَّها لَكَبيرَةٌ إِلّا عَلَى الخاشِعينَ

الَّذينَ يَظُنّونَ أَنَّهُم مُلاقو رَبِّهِم وَأَنَّهُم إِلَيهِ راجِعونَ(45-46:2) 
(اور مدد چاہو صبر سے اور نماز سے۔ اور البتہ وہ بھاری ہے، مگر انھی عاجزوں پر، جن کو خیال ہے کہ وہ روبرو ہونے والے ہیں اپنے ربّ کے۔ اور یہ کہ اُن کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔) 
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی کھلی اور واضح خرابیاں اِجمالی طور پر بیان کی گئی ہیں۔ ان آیات میں ان خرابیوں سے نجات اور صحیح فکر و عمل پر استقامت کا طریقہ بتلایا جا رہا ہے۔ ایمان کے بعد صبر و استقامت اور خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ سے تعلق قائم کرنے سے انسان ان خرابیوں اور بُرائیوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔ 
 وَاستَعينوا بِالصَّبرِ وَالصَّلاةِ ۚ : جو آدمی اپنے غلط فکر و عمل سے رجوع کرکے صحیح راستے پر آنا چاہتا ہے، تو اُسے صبر و استقامت اور نماز کی پابندی کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ جب کوئی آدمی اپنی بُری حالت کو بدلنا چاہے اور ایسا فکر و عمل، صحیح نظریہ اور عملی طریقۂ کار اختیار کرنا چاہتا ہے تو اُس کے راستے میں بڑی مشکلات کھڑی ہوجاتی ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں اور گناہوں سے رجوع کرے، لیکن بسا اوقات ظالم قوتیں اُس پر جھپٹتی ہیں اور اُس کا سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے، جس سے اس کی معیشت کا نظام خراب ہوجاتا ہے۔ اُسے اپنی زندگی کی ضروریات کو حاصل کرنے میں بڑی مشقت اُٹھانی پڑتی ہے۔ ایسے ماحول میں جو آدمی پختہ طور پر اپنی ماضی کی حالت کو بدلنے کے لیے تیار ہے تو اُسے ان مصائب پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اُسے ان مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ وہ صبر اور نماز کے ذریعے سے اللہ سے مدد طلب کرے۔ اس لیے کہ حق پر صبر و استقامت سے انسان میں ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کا واحد اور کامل وسیلہ صرف نماز ہے۔ 
صبر کا لغوی معنی ہمت سے کام لینا اور ڈٹ جانا ہے۔ اس کی تین صورتیں ہیں: 
1۔     ’’صبر علٰی الطّاعات‘‘ (نیکیوں پر جماؤ)؛ یعنی ’’البِرّ‘‘ کے اُصول پر جن نیکیوں کا حکم دیا گیا ہے، اُن پر استقامت کے ساتھ عمل کرنااور صحیح فکر و عمل پر جماؤ اختیار کرنا۔ 
2۔     ’’صبر عن المعاصی‘‘ (گناہوں سے رُک جانا)؛ یعنی ’الإثم‘‘ پر مبنی جن گناہوں اور بُرائیوں سے روکا گیا ہے، اُن سے پوری استقامت سے رُکے رہنا۔ 
3۔     ’’صبر علیٰ المصائب‘‘ (مصیبتوں پر صبر کرنا)؛ یعنی نیکی کی حالت قائم کرنے اور بُرائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انسان تیار ہوجائے تو اس راستے میں آنے والی مصیبتوں کو پوری ہمت کے ساتھ برداشت کرنا۔ 
اس سے ارادے کی پختگی اور انسانی ہمت کی طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ ہمت اور جرأت اس کی مددگاربنتی ہے۔ اسی لیے صبر و استقامت سے مدد لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ انسان کے لیے مددگار دوسری چیز نماز ہے۔ جب انسان صبر و استقامت کے ساتھ اپنے صحیح ایمان اور نظریے کے مطابق عملی کام کرنے کے لیے پُرعزم ہوجاتا ہے تو مصیبتیں آتی ہیں، پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں اللہ کی طرف رجوع کرکے نماز پڑھنا بہت مددگار بنتا ہے۔ نماز کے ذریعے سے اللہ کی تجلیات نازل ہوتی ہیں، جس سے انسان کی روح طاقت ور بنتی ہے۔ روح کی طاقت انسان کی حالت بدلنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ صحیح ربط اور تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔ نبی اکرمؐ کے بارے میں ہے: ’’کان النّبیّ ﷺ إذا حزبہٗ أمر صلّیٰ‘‘ (سنن ابی داؤد: 1319) (نبی اکرمؐ کو جب کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو آپؐ نماز پڑھتے تھے)۔ 
وَإِنَّها لَكَبيرَةٌ إِلّا عَلَى الخاشِعينَ: ان دونوں چیزوں سے مدد لینا بہت مشکل ہے۔ اس مشکل سے نمٹنا تبھی ممکن ہے کہ جب انسان اپنی پوری قوتِ عقلیہ کے ساتھ یہ سمجھے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے، اُسی کے سامنے خشوع و خضوع اختیار کرنا ہے اور وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کا بالکل اسی طرح محتاج ہے، جیسا کہ کھانا پینا بلکہ اُس سے بھی زیادہ رجوع الیٰ اللہ کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف خشوع اور خضوع اختیار کرنے والوں کے لیے ان سے مدد لینا آسان ہوتا ہے۔ 
الَّذينَ يَظُنّونَ أَنَّهُم مُلاقو رَبِّهِم وَأَنَّهُم إِلَيهِ راجِعونَ: اللہ کی طرف خشوع و خضوع کی وضاحت کرتے ہوئے دو بنیادی اَساسی اُمور بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اُن کے دلوںمیں یہ خیال پختہ ہوجائے کہ انھیں اپنے ربّ کے روبرو حاضر ہونا ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پختہ ہوجاتا ہے، وہ ضرور اللہ کے سامنے جواب دہی کی وجہ سے صبر و استقامت اور نماز کے ذریعے سے مدد طلب کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اُن کے ذہن میں یہ واضح ہوجائے کہ انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔ دنیاکے تمام اُمور کا آخری نتیجہ یہی ہے کہ انھیں واپس اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف جانا ہے۔ وہاں حساب و کتاب ہونا ہے۔ گناہوں اور ظلم میں مبتلا لوگوں کے لیے سزا ہے اور عدل و انصاف، امن و امان اور اچھی حالت اختیار کرنے والے عمدہ اَخلاق کے حامل لوگوں کے لیے انعامات اور جنت کی ترقیات حاصل ہونا ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ سے تعلق اور نماز اور صبر سے استعانت حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار کی جائے، جو وصول الیٰ اللہ کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو اور ہدایتِ انسانی کے تمام شعبوں میں کامل اور مکمل ہو۔ اپنی اجتماعی طاقت سے اللہ کے احکامات کو دنیا میں غالب کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔ اسی لیے نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا گیا اور اجتماعیت ہی کی صورت میں صبر و استقامت اختیار کرنا آسان ہوتا ہے۔ یہودیوں سے کہا جا رہا ہے کہ اپنی بداَخلاقی چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاکر اُن کی جماعت کا حصہ بنیں۔ تبھی کامیابی ممکن ہے۔ 

2 / 7

مال کے استعمال کے آداب  (2)

مال کے استعمال کے آداب  (2)


حَدَّثَنَا شَدَّادٌ قَالَ: سمعتُ أَبَا أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ: ’’یَااِبْنَ آدَمَ إِنَّکَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَیْرٌ لَکَ، وَأَنْ تُمْسِکَہُ شَرٌّ لَّکَ، وَلَا تُلاَمُ عَلٰی کَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مَّنَ الْیَدِالسُّفْلٰی۔‘‘ 
(سیّدنا ابواُمامہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اے اولادِ آدم! ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنا تیرے لیے بہتر ہے۔ اور روک کر رکھنا تیرے لیے شرّ ہے۔ ہاں! اس قدر بچانا قابلِ ملامت نہیں، جو تیری ضرورت کے لیے کافی ہو۔ اور انفاق کا آغاز ان سے کر، جن کی ذمہ داری تجھ پر عائد ہوتی ہے۔ اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے کے ہاتھ سے۔‘‘ (الصحیح المسلم، 2388) 
(3) اس حدیث کے آخری جملے میں حضورﷺ نے فرمایا کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ یہ لینے والا ہاتھ خوا ہ فقر کی وَجہ سے ہو یا حرص، لالچ اور استحصال کی وَجہ سے ہو۔ یہ اِنفرادی صورت میں ہو یا اجتماعی شکل میں ہو۔ بہر صورت حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں انسانی معاشرے کے لیے خیر کا باعث نہیں ہے۔ انسان کا ہاتھ اوپر والا یا دینے والا تب بنتا ہے، جب مالی فراوانی ہو، مال پرستی کا خاتمہ ہو اور انسان دوستی کا ماحول ہو۔ اگر کوئی فرد یا معاشرہ مفلوک الحال ہوجائے تو افلاس انسان کو ہاتھ پھیلانے پہ مجبور کردیتا ہے۔ ایسے میں اَخلاق کی بلندی قائم نہیں رہ سکتی، بلکہ عقائد تک میں فساد کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ حضوؐر نے فرمایا کہ ’’فقر انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے‘‘۔ (سنن نسائی) اس لیے ضرورت ہے کہ ایسا اقتصادی نظام قائم ہو جو افراد و معاشرے کو خوش حال کردے، تنگ دستی اور محتاجی سے چھٹکارا دِلائے، تاکہ لوگ مانگنے والوں کے بجائے دینے والے بن جائیں۔ خوش حالی اور فراوانی میں انسان اپنے عز و شرف اور وقار کو قائم کرنے کی طرف طبعی اور جبلی طور پر مائل ہوتا ہے۔ جب یہ فضا عمومی ہوجائے تو اس سے معاشرتی استحکام، بلندفکری اور ذہنی بالیدگی کی راہیں کھلتی ہیں۔ اس کے بعد ہر وہ طریقہ قانوناً ممنوع قرار دیا جائے، جو چھینا چھپٹی اور حرص و طمع کا ہو۔ اس کے ساتھ اِصلاح و تربیت کا ایسا نظام ہو، جو انسان کو نفس کے اغوا اور استحصال پسندوں سے محفوظ کردے۔ 
آج سرمایہ دارانہ اور استحصال پسند نظام کے ماحول میں ہم جی رہے ہیں۔ آج اصلاح و تربیت اور وعظ و نصیحت اس لیے بے اَثر ہے کہ اس کی پرورش کا ماحول موجود نہیں ہے۔ معروضی صورتِ حال میں ہمیں اِنفرادی سطح پر اپنے قرب و جوار کے لوگوں کا ممکنہ خیال رکھنے کے ساتھ اجتماعی سطح پر اس نظام کا متبادل ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کرنی ہے، جو اس حدیث کے تقاضے پورے کردے۔ سرمایہ پرستانہ نظام ختم ہوجائے۔ ایثار، ہمدردی اور اجتماعیت پر مبنی معاشی نظام قائم ہوجائے۔ مال کے درست استعمال کا عمومی اور اجتماعی ماحول بن جائے۔ 

3 / 7

حضرت سعید بن العاص اُموی قریشی رضی اللہ عنہٗ

حضرت سعید بن العاص اُموی قریشی رضی اللہ عنہٗ

رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما تے وقت حضرت سعید بن العاصؓ کی عمر 9 سال تھی۔ آپؓ یتیم تھے اور آپؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کی گود میں پرورش پائی۔ فتحِ شام پر حضرت امیرمعاویہؓ کے پاس تعلیم کی غرض سے رہنے لگے۔ حضرت عمرؓ نے افرادِ قریش کو یاد کیا اور حضرت سعیدؓ کا تذکرہ ہوا تو حضرت امیرمعاویہؓ کو حکم دیا کہ انھیں (میرے پاس) مدینہ بھیج دو۔ جب ملاقات ہوئی تو حضرت عمرؓ نے آپؓ کی قابلیت و صلاحیت کی تعریف کی اور فرمایا: ’’اپنی صلاحیتوں کو اَور بڑھاؤ‘‘۔ حضرت عثمانؓ نے انھیں واپس بلاکر شادی کرائی۔ آپؓ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت ۳۰ھ میں ہی کوفہ کے گورنر بنے اور طبرستان اور وسط ایشیا کے کئی علاقے فتح کیے۔ اسی دوران حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے اختلافِ قرأت کی طرف توجہ دلائی اور کوفہ میں مجلس بیٹھی، مگر نتیجہ نہ نکلا تو حضرت عثمانؓ نے جمع قرآن کے لیے ایک کمیٹی بنائی، جس میں حضرت سعیدؓ بھی تھے۔ آپؓ کے ذمے اس کی عربیت کی نوعیتوں کا خیال رکھنا تھا۔ آپؓ ’’أفصحُ النّاس‘‘ اور ’’أعربُ النّاس‘‘ مشہور تھے۔ (تاریخ ابن خلدون) 
حضرت ثعلبہ بن زہدم الیربوعی کہتے ہیں کہ ہم طبرستان کی جنگ میں امیرِلشکر حضرت سعیدؓ کے ساتھ تھے۔ انھوں نے پوچھا کہ آپؐ کی نماز ِخوف کسے یاد ہے؟ تو حضرت حذیفہؓ نے کہا مجھے یاد ہے۔ آپؓ نے ایک صف حضرت حذیفہؓ کے پیچھے کھڑی کی اور دوسری دشمن کے مقابل۔ اس طرح نماز ِخوف سنت کے مطابق ادا کروائی۔ (بغوی) 
حضرت سعیدؓ کی نسلوں میں بھی علم و تفقّہ کا سلسلہ جاری رہا، جن کو اہلِ علم نے ثقات کا درجہ دیا ہے۔ حضرت سعیدؓ کریم، سخی اور قابلِ تعریف تھے۔ آپؓ لوگوں میں سے لہجے کے اعتبار سے رسول اللہؐ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ ( تفسیر ابن کثیر) حضرت سعیدؓ کا قول ہے کہ: ’’میرے شریکِ مجلس کے مجھ پر تین حق ہیں: (1) جب قریب آئے تو خوش آمدید کہوں۔ (2) جب بات کرے تو پوری توجہ دوں۔ (3) جب بیٹھ جائے تو اس کے لیے وسعت اختیار کروں‘‘۔ آپؓ نے اپنے بیٹے عمرو کو وصیت کی کہ: ’’میری بیٹیوں پر سختی مت کرنا‘‘۔ فرمایا کہ: ’’اگر میں اپنے بچے کو قرآن حکیم پڑھا دوں، دلائل سے بات کرنا سکھلادوں اور اس کی شادی کرادوں تو میں نے اس کا حق اداکردیا اور میرا حق اس پر ابھی باقی ہے‘‘۔ حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت میں آپؓ مدینہ کے گورنر بنے اور اسی عہد میں آپؓ نے ۵۸ھ میں وفات پائی۔ جب حضرت سعیدؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپؓ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ: ’’میرے بعد میرے بھائیوں کو مت کھو دینا۔ ان کے ساتھ وہی رویہ رکھنا، جو میں ان کے ساتھ رکھتا تھا اور وہی کرنا جو میں کرتا تھا۔ ایسی نوبت مت آنے دینا کہ وہ تمھارے آگے دستِ حاجت دراز کریں۔ کیوںکہ جب کوئی آدمی اپنی کسی ضرورت کا ذکر کرتا ہے تو وہ بہت گھبرایا ہوا اور شرم سار ہوتا ہے۔ اس کی زبان لڑکھڑاتی ہے اور ضرورت اس کے چہرے سے جھلکتی ہے۔ ان کے سوال کرنے سے پہلے ان کی ضرورت پوری کر دینا‘‘۔ 

4 / 7

پھر اتحادوں کی سیاست!

پھر اتحادوں کی سیاست!

آج کل ایک بار پھر پاکستانی قوم اتحاد کی سیاست کی زد میں ہے۔ پاکستانی سیاست میں اس طرز کا سیاسی کھیل پہلی بار نہیں ہورہا۔ یہ کھیل ہماری قومی تاریخ میں ہر چند سال بعد دُہرایا جاتا ہے، لیکن تاریخ اور سیاست کے طالبِ علم کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ ایسے اتحاد کب، کیسے اور کیوں بنتے ہیں؟ ہماری سیاسی جماعتیں اصل کام کیوں نہیں کرنا چاہتیں؟ کیا اصل کام کے راستے میں کوئی رکاوٹ ہے؟ یا یہ جماعتیں خود اس کام کے راستے کا سب سے بھاری پتھر ہیں؟ یہ بات تاریخی مسلمات کا درجہ اختیار کر چکی ہے کہ ایسی تحریکیں اوراتحاد کوئی ٹھوس نتیجہ پیدا نہیں کرسکتے، جیساکہ ہم اِنھیں صفحات پر ملک میں وقفے وقفے سے اٹھنے والی تحریکات کے حوالے سے بار ہا عرض کرچکے ہیں۔ 
آج کا سب سے اہم قومی سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس طرح کی تحریکیں اپنی منزلِ مراد تک کیوں نہیں پہنچ پاتیں؟ دراصل بات یہ ہے کہ ان کی کوئی قومی اور اجتماعی منزل ہی نہیں ہوتی، البتہ ان پارٹیوں پر قابض شخصیات نے اپنے شخصی اور انفرادی مفادات کے حوالے سے جو کچھ طے کررکھا ہوتا ہے، اگر وہ مل جائے تووہ درپردہ حاصل کرکے تحریکیں ختم کردی جاتی ہیں۔ 
پنجاب میں ملک خضرحیات ٹوانہ کے خلاف قیامِ پاکستان سے چند ماہ قبل چلنے والی سول نافرمانی کی ایک تحریک میں جب ایک پارٹی نے ’’خضری کتا ہائے ہائے‘‘ کے نعرے لگوائے اور پھر سر ظفراللہ خاں کے ذریعے جب خضرحیات کو استعفیٰ اور مسلم لیگ سے تعاون کا پیغام دیا گیا اور خضرحیات پنجاب کی وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہوگئے اور یہ خبر خضرحیات کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں پہنچائی گئی اوریہ مشہور کردیا گیا کہ خضرحیات نے مسلم لیگ جوائن کرلی ہے تو وہاں سٹیج سے ایک نعرہ بلند ہوا کہ ’’ابھی ابھی خبر آئی ہے، خضر ہمارا بھائی ہے‘‘۔ یہ نعرہ ہمارے اس طرح کے سیاسی اتحادوں اور تحریکوں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کچھ لوگوں کے مفادات کو تحفظ مل جانے کے بعد دفعتہ پوری تحریک کا رُخ بدل دیا جاتا ہے اور سیاسی دشمنوں کوبھی بھائی بنالیا جاتا ہے۔ شرم ناک بات یہ ہے کہ ایسی تحریکوں کوکامیاب بنانے کے لیے انسانی خون سے سینچاجاتا ہے۔ اس کے لیے معصوم انسانوں کی لاشیں گرائی جاتی ہیں۔ 
جہاں دنیا میں منظم عوامی تحریکوں کو کامیاب بنانے کے لیے قیادتیں نظام کے خلاف اپنے عوام کے حق میں ریلیف کے منصوبے اور ان کی حیات کی بقا کو زیربحث لاتی ہیں، وہاں ہماری نام نہاد سیاسی قیادت تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے عوام ہی میں سے چند لاشوں کے حصول کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ پاکستان میں ایسے ہی حکومتیں گرانے کے ایک مرحوم ماہر سیاست دان نے ایوب خاں کے خلاف اپنے سیاسی اتحادیوں سے حکومت گرانے کویقینی بنانے کے لیے ایک اجلاس میں چند لاشوں کے حصول کی حکمتِ عملی پر غور کیا تھا کہ اگر ہمیں اس تحریک کے آغاز ہی میں چند لاشیں مل جائیں تو پھر ایوب کی حکومت کو ہم سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہماری سیاست کا یہ انسان دشمن پہلو ہمارے آج کے نوجوانوں کے سامنے ہونا انتہائی اہم ہے۔ 
ان اتحادوں سے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کی عمارت بہت ہی خوب صورت ناموں پر کھڑی کی جاتی ہے، جس میں قومی اتحاد اور نظامِ مصطفی کی اینٹوں سے اس کا صدر دروازہ چنا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ان کی اپنی پارٹیاں تحریکی جذبے اور جمہوریت سے بالکل خالی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی حقیقی اتحاد نہیں ہوتے، بلکہ ایک وقتی انبوہ ہوتا ہے، جو اپنے اپنے مفادات کو لاحق خطرات کی وجہ سے جمع ہوجاتا ہے۔ ملک اور قوم کے مفاد میں کوئی طویل المدتی عمل اور منصوبہ بندی ان کے پیشِ نظر نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا تو اب تک کی بیسیوں ایسی تحریکیں اور اتحاد ہمارے دُکھوں کا مداوا کرچکے ہوتے، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ایسی تحریکوں کے اختتام پر قوم ایک نئے عذاب اور بحران سے دوچار ہوجاتی ہے۔ گویا ان کا معاملہ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ والا ہی رہتا ہے۔موجودہ اپوزیشن اتحاد ’’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘‘ کا سیاہ ترین پہلو کرپشن اور بدعنوانی میں لتھڑی لبِ گور سیاست کو مذہبی کارکنوں کے دینی جوش وخروش سے آ کسیجن فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جوکرپٹ سرمایہ داروں کو مذہب کے سہارے تحفظ دینے کے مترادف ہے۔ جو دینِ اسلام کے عوام دوست نظریے کے چہرے پر کلنک کا ٹیکا لگانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ 
ان تحریکوں کی بنیاد نظریے کے بجائے نعرے پر ہوتی ہے۔ ان کے نعروں میں موجود حتمیت اور قطعیت (definitiveness) عوام کے لیے سب سے بڑا فریب ہوتا ہے، حال آںکہ یہ اپنے ہی اعلانات کے علیٰ الرغم محاذ چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے خیال میں ’حکومت اس وقت تک قائم ہے، جب تک یہ تحریک شروع نہیں کرتے۔ جس دن انھوں نے جلسہ گاہوں کو رونق بخش دی، اس کے بعد حکومت چند گھنٹوں کی مہمان رہ جائے گی‘۔ لیکن ان نعروں کی قطعیت کی حقیقت سابقہ دھرنوں اور جلسوں میں ان نعروں اور دعوؤں سے سمجھی جاسکتی ہے کہ جس میں یہ انبوہ ہفتوں سر پھٹول کرکے واپس لوٹے تھے۔ ان کی قیادت چند گھنٹوں میں لگژری گاڑیوں میں آرام دہ کمروں تک پہنچ جاتی ہے، جب کہ کارکن ہفتوں خجل خوار ہوکر اپنے گھر کی دہلیز پر قدم رکھنے میں کہیں جاکر کامیاب ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال کو 2015ء میں مسند ِاقتدار پر براجمان جماعت کے دھرنے اور اکتوبر 2019ء کے ایک مذہبی جماعت کے اسلام آباد دھرنے کے تناظر میں بہ خوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ 
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہمارا نوجوان ان وقتی مفاداتی تحریکوں کے میکنزم کو سمجھے اور اس کی پشت پر موجود تانے بانے کے خوف ناک مقاصد کے خلاف اپنا قومی شعور بیدار کرے۔ قومی آزادی کے حقیقی مشن کو اپنا نصب العین بناکر انسانیت کی ترقی کا ایک ایسا نظام قائم کر دکھائے، جو دنیا کے لیے زندہ مثال بن سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے ملکی ترقی کے حقیقی سیاسی شعور اور مشن کے لیے قبول فرمائے (آمین!)۔    (مدیر) 

5 / 7

اَخلاقِ اربعہ کے حصول کا طریقہ

اَخلاقِ اربعہ کے حصول کا طریقہ

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’جاننا چاہیے کہ ان چاروں اَخلاق (طہارت، اِخبات، سماحت اور عدالت) کو حاصل کرنے کی دو تدبیریں ہیں:         

1۔    تدبیرِ علمی            2۔     تدبیرِ عملی 
تدبیرِ علمی : اس کی اس لیے ضرورت ہے کہ انسان کی طبیعت اُس کی علمی اور ذہنی قوتوں کے تابع ہوتی ہے۔ اس لیے تم نے دیکھا ہوگا کہ جب انسان میں ذہنی طور پر کوئی خوف یا شرم کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس کی جنسی شہوت اور جوش ختم ہوجاتا ہے۔ پس جب (ان چاروں اَخلاق سے مرکب) فطرتِ انسانی سے اُسے علمی مناسبت پیدا ہوجاتی ہے تو یہ علم اُسے اعلیٰ اَخلاق کی طرف کھینچ کر لے جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ 
تدبیرِ علمی کی حقیقت یہ ہے کہ جب انسان یہ اعتقاد رکھے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو: 
(1)     تمام بشری پستیوں سے بہت پاک ہے۔

(2) آسمان و زمین میں ایک ذرے کے برابر کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔

(3) تین آدمی کوئی سرگوشی اور مشورہ کریں تو چوتھا اُن کا خدا ہوتا ہے اور پانچ آدمی ہوں تو چھٹا اُن کا خدا ہوتا ہے۔

(4) وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو ارادہ کرتا ہے وہ فیصلہ جاری کرتا ہے۔ اس کے فیصلوں کو اور اُس کے حکم کو کوئی روکنے والا نہیں۔

(5) وہی ہمارے اصل وجود اور اُس کے تابع تمام جسمانی اور روحانی نعمتوں کو عنایت کرنے والا ہے۔

(6) وہی انسان کے اعمال کی جزا دینے والا ہے، اگر انسان اچھے کام کرے تو اچھا نتیجہ اور اگر بُرے کام کرے تو بُرا نتیجہ ہے۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ کا قول (حدیث ِقدسی) ہے کہ: ’’میرا بندہ گناہ کرتا ہے۔ پس اگر اُسے یہ علم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور گناہوں پر پکڑتا ہے تو (اس علم کی بنیاد پر) میں اپنے بندے کو معاف کردیتا ہوں‘‘۔ (رواہ مسلم: 7617) 
خلاصہ یہ ہے کہ بندے کو: 
(1)     ایسا پختہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی ہیبت و جلال اور اُس کی انتہا درجے کی عظمت اس میں پیدا ہو۔ اُس کے دل میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کسی غیر کا رُعب اور اُس کے سامنے جھکنے کی حالت باقی نہ رہے۔ 
(2)     اسی طرح وہ یہ اعتقاد بھی رکھے کہ انسان کا کمال یہ ہے کہ: 
(الف) وہ اپنے ربّ کی طرف متوجہ رہے اور اُسی کی عبادت کرے۔ 
(ب)    یہ کہ انسان کے حالات و کیفیات میں سب سے بہترین حالت ملائکہ کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے یا اُن کے قریب ہونے کی ہو۔ 
(ج) یہ چاروں اَخلاق اُس کو اپنے ربّ تعالیٰ کی طرف قریب کرنے والے ہیں۔ 
(د) یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان اَخلاق کی وجہ سے اُن لوگوں سے راضی ہوتا ہے۔ 
(ہ) یہ کہ بندے پر اللہ کا یہ حق ہے، اسے پورا کرنا اس کے لیے ضروری ہے۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ وہ یہ بات علمی طور پر اس طرح جان لے اور اس کی ضد کا کوئی احتمال بھی اس کے ذہن میں باقی نہ رہے کہ اُس کی کامیابی انھی اَخلاق حاصل کرنے میں ہے۔ اور اس کی بدبختی ان اَخلاق کو چھوڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ علمی تدبیر ایسے کوڑے کی مانند ہو، جو انسان کی بہیمیت اور حیوانیت پر برسے تو اُسے بہت زیادہ تنبیہ حاصل ہو اور وہ اپنے بہیمی تقاضوں کو جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دے۔ 
اس سلسلے میں انبیا علیہم السلام کے طریقۂ کار میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سب سے عمدہ ترین طریقہ وہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل کیا کہ انھوں نے اللہ کی پُرعظمت نشانیوں اور نعمتوں سے لوگوں کو تذکیر اور نصیحت کی۔ اللہ کی بلند صفات بیان کیں اور اُس کی آفاقی اور روحانی نعمتوں کا تذکرہ کیا۔ یہاں تک کہ انسانی روح کو صحت مند بنانے کے لیے اس ’’علم التّذکیر بآلاء اللّٰہ‘‘ میں مزید کسی اضافے کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ بات اس قدر تحقیقی طور پر ثابت ہوگئی کہ انسان اُسی ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے اپنی لذتوں کو چھوڑیں اور اُس کے ذکر کو باقی ہر چیز پر ترجیح دیں۔ اُس ذاتِ باری تعالیٰ سے شدید محبت کریں اور انتہا درجے کی اپنی جدوجہد کرکے صرف اُسی ہی کی عبادت کریں۔ 
اللہ تبارک و تعالیٰ نے (حضرت ابراہیم ؑکے بیان کردہ اس علم التّذکیر بآلاء اللّٰہ) کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ’’علم التّذکیر بأیّام اللّٰہ‘‘ شامل کردیا۔ اس علم میں اللہ تعالیٰ نے اُن انعامات کا بیان کیا ہے، جو مطیع اور فرماں بردار لوگوں کے لیے ہے۔ اس سزا کا بیان ہے، جو دنیامیں نافرمان لوگوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں اور مصیبتوں کو لوگوں میں بدلتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اُن کے دلوں میں گناہوں کا خوف پیدا ہوجائے اور عبادات کی طرف شدید رغبت پیدا ہوجائے۔ 
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں علوم کے ساتھ ہمارے نبی اکرمؐ کے لیے دو باتوں کا مزید اضافہ کیا: 
(1)     علم الموت و ما بعدہٗ یعنی قبر اور حشر وغیرہ میں پیش آنے والے واقعات بیان کرکے لوگوں کو (عذابِ الٰہی سے) ڈرایا اور (انعاماتِ الٰہی کی) خوش خبری دی۔ 
(2)     علم البِرّ و الإثم یعنی نیکی اور بدی کا علم اور اُس کے خواص بیان کیے۔ 
ان تینوں علوم سے متعلق اُمور کا صرف علمی طور پر جان لینا کافی نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ ان علمی باتوں کا باربار بیان کیا جائے اور ہر وقت ان کو ملاحظہ کیا جائے اور انھیں اپنی نگاہوں کے سامنے ہر وقت رکھا جائے، یہاں تک کہ انسان کی تمام علمی قوتیں ان امور سے بھر جائیں اور انسانی جسم اور اس کے اَعضا ان کے فرماں بردار بن جائیں۔ 
یہ تینوں علوم (1۔ علم التّذکیر بآلاء اللّٰہ 2۔ علم التّذکیر بأیّام اللّٰہ 3۔ علم التّذکیر بالموت و ما بعدہٗ) دیگر دو علوم یعنی (1) ایک واجب اور حرام پر مشتمل ’’علم الأحکام‘‘ اور (2) دوسرا کافروں کے شکوک و شبہات دور کرنا یعنی ’’علم مخاصمہ‘‘، یہ کل پانچ قرآن عظیم کے عمدہ ترین علوم ہیں‘‘۔ 
(باب طریق اکتساب ہذہ الخصال و تکمیل ناقصہا و رد فاعلہا) 

6 / 7

حجاج بن یوسف ثقفی  (1)

حجاج بن یوسف ثقفی  (1)

ابومحمدحجاج بن یوسف ثقفی ۴۰ھ /660ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد طائف کے معزز لوگوں میں سے تھے۔ طائف کے پُرفضا ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، جو کہ ایک مدرّس تھے۔ طائف کے ماحول کے مطابق قرآن کریم حفظ کیا۔ قرآن و حدیث کی تفسیر و تفہیم کے لیے اکابر علما سے کسب ِفیض کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد تدریس کا پیشہ اختیار کیا، تاہم وہ اپنے اس منصب سے مطمئن نہ تھے۔ وہ کسی طرح طائف سے دارالخلافہ دمشق پہنچے اور خلیفۂ وقت تک رسائی حاصل کی۔ خلیفہ عبدالملک نے ان کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے پہلے اُن کو فوج میں اہم منصب عطا کیا۔ پھر شورش زدہ صوبہ عراق کا گورنر بنایا، جہاں سے آئے دن بغاوت کی خبریں آتی رہتی تھیں۔ عراقی باشندے جو ہمیشہ باغیانہ کارروائیوں میں سرگرم رہتے تھے، حجاج نے اپنے دورِ حکومت میں اُن باغیوں کی سرکوبی کی اور پورے علاقے میں امن و امان قائم کیا۔ وہ نہایت فصیح و بلیغ اور شعر و خطابت پر بے پناہ دسترس رکھتے تھے۔ 
تاریخ میں حجاج بن یوسف کے بارے میں بہت کچھ رطب و یابس ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جب خطے میں عادلانہ نظام کے خلاف کچھ لوگ بغاوت پر اُتر آئیں، اُس بغاوت کو فرو کرنا بھی حکمران کی ذمہ داری ہوتی ہے، تاکہ معاشرے میں امن و امان قائم رہے اور انارکی نہ پھیلے۔ جو قوم سرکشی اور بغاوت کی عادی ہوجائے اور کسی حکمران کو ٹکنے نہ دے، اُسے حاکمِ وقت کی نرمی مزید سرکش بنا دیتی ہے۔ حجاج بن یوسف کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے خوارج کے خلاف مؤثر کارروائی کی۔ خود لشکر کی کمان کرتے ہوئے شعیب خارجی کو شکست دی، باغیوں کو ٹھکانے لگایا اور بغاوتوں کا سر کچلا۔ 
حجاج بن یوسف کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے ہندوستان کی فتح کے لیے محمدبن قاسم کو روانہ کیا۔ اس کے حکومت کرنے کا طریقہ محمدبن قاسم کے نام ۲۰؍ رجب ۹۳ھ / 2؍ مئی 712ء کو لکھے گئے اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ: ’’جاننا چاہیے کہ ہمارے دل کے ارادے اور ہمت کا یہی تقاضا ہے کہ تمھیں ہر حال میں کامیابی حاصل ہو اور (انشاء اللہ تعالیٰ) تم کامیاب اور فتح مند ہوگے اور اللہ عز و جل کے احسان سے دشمن دنیا کی سزا اور عاقبت کے عذاب میں ہمیشہ گرفتار اور مغلوب رہیں گے۔ اور ہرگز یہ بدگمانی نہ کرنا کہ دشمن کے یہ ہاتھی، گھوڑے اور سامان و اسباب تمھارے آڑے آئیں گے۔ ۔۔۔ جو بھی قلعہ فتح ہو (اس میں سے) لشکر کی ضروریات کی جو بھی چیز ہاتھ آئے، وہ (لشکر پر) خرچ اورتیاری میں صَرف کرنا۔ کھانے پینے کی ضروری چیزوں سے جتنا ممکن ہوسکے (کسی کو) روک ٹوک نہ کرنا۔ ارزانی اور فراوانی کے لیے سعی بلیغ کرنا، تاکہ لشکر میں غلہ سستا رہے۔ دیبل میں جو کچھ بچایا گیا ہے، اسے قلعہ میں ذخیرہ کرکے رکھنے کے بجائے لوگوں پر صَرف کرنا بہتر ہے۔ کیوںکہ ملک فتح ہونے اور قلعوں کے قبضے میں آنے کے بعد رعایا کے آرام اور باشندوں کی دلجوئی کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر کسان، صنعت کار، دست کار اور تاجر آسودہ ہوں گے تو ملک سرسبز اور آباد رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ‘‘   (چچ نامہ) 
 

7 / 7

ڈالر کا زوال

ڈالر کا زوال

لین دین کے نظام میں نت نئی اختراعات اور ان میں چھپے ہوئے سٹے کی سکیمیں دراصل ایک ایسا جال ہے، جو آج کے دور میں عالمی تنازعات اور معاشی بربادی کی وجہ بن چکا ہے۔ Legal Tender کا تصور دنیا میں بہت قدیم ہے۔ اٹھارہویں صدی میں اس تصور نے لین دین کے نظام میں کافی سہولیات فراہم کیں۔ اس تصور کی وجہ سے ایک بڑی مقدار میں سونا و دیگر قیمتی دھاتوں کی ترسیل کے مشکل ترین اُمور کو سہل بنایا گیا۔ بین الاقوامی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوسکا۔ لیکن ہوا وہی کہ اس سہولت کو بھی تدریجاً انسانیت کے لیے وبالِ جان بنا دیا گیا۔ 
چناں چہ Legal Tender کی صورت میں کرنسی نوٹوں کی بھرمار کر دی گئی اور اس امر کو ضروری نہیں سمجھا گیا کہ مطلوبہ قیمتی دھات اس کے بدلے میں محفوظ رکھی جائے۔ بعد ازاں اس قیمتی دھات کے تصور میں پیداوار کو بھی ڈال دیا گیا اور قرار پایا کہ اب کرنسی کی چھپائی پیداوار اور اس کی مطلوبہ قیمت کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس پر طُرّہ یہ کہ ڈالر کو تمام کرنسیوں کی ماں اور دنیا میں تجارتی لین دین کی بنیاد قرار دے دیا گیا۔ سب نے اس تصور کو قبول نہیں کیا، لیکن ایشیا و افریقا کی غریب اور مغلوب اقوام کی تابع داری، تیل اور اسلحے کی عالمی تجارت میں امریکی اجارہ داری نے ڈالر کو قانونی حیثیت دلوا دی اور عالمی تجارت کا غالب حصہ ڈالر کا مرہونِ منت رہا۔
حالیہ دہائیوں کے دوران عالمی تجارت میں چین جیسے نئے کھلاڑیوں کی آمد کی وجہ سے امریکا اور ڈالر کی اجارہ داری کو کافی دھچکا لگا ہے۔ خصوصاً آخری پانچ سالوں میں ڈالر کی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے سونا، چینی یوآن اور کریپٹوکرنسی ہر گزرتے دن میں مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ ان متبادل ذرائع کے مضبوط ہونے کی دو وجوہات ہیں: ایک دنیا میں تازہ دم اور آزاد معاشی قوتوں کا استحکام اور دوسرا امریکی معیشت پر پیداوار سے زائد قرضوں کا بوجھ اور ریکارڈ ادائیگیوں کا خسارہ ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ امریکا پر کُل 220 کھرب ڈالر کا اندرونی اور بیرونی قرضہ ہے، جس میں صرف چین کا حصہ 11 کھرب ڈالر سے زائد کا ہے۔ 
امریکا کی مقامی قرضوں کی فراہمی کرونا وبا کے بعد اس قدر زوال کا شکار ہو چکی ہے کہ اب ڈالر چھاپنے یا چین جیسے بیرونی سرمایہ کاروں سے مزید قرض لینے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا۔ چناںچہ ان عالمی حالات میں صرف چین ہی ہے جو معاشی حوالے سے اس قابل ہے کہ امریکا کے مرکزی بینک کو قرض دیتا رہے۔ گویا امریکا کی محدود مدتی معاشی بقا کا دارومدار چین پر ہے۔ موجودہ عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پہلے سے ہی زائد الرسد ڈالر جو دراصل اپنی 32 فی صد حیثیت کھو چکا ہے، عالمی سطح پر بھی اپنی قدر کھو سکتا ہے۔       ڈالر کی قدر کھونے کے نتیجے میں چین کے ساتھ ساتھ ان معیشتوں کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے، جہاں ڈالر کے ذخائر قدرے زیادہ مقدار میں موجود ہیں، لیکن چین جیسی معیشت کے لیے یہ دھچکا جزوقتی ہوگا۔ کیوںکہ وہ پہلے ہی معاشی تنوع پر کام کرتے ہوئے دیگر عالمی مالیاتی و تجارتی اثاثے بنا چکا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسے میں پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے اور اگر ہماری مقتدرہ کی مفاد پرستی اور چالاکی آڑے نہ آئی تو پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بہتر ہو سکے گی۔ یہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد فراہم کرے گی۔

End of issue

Back