ڈالر کا زوال

Muhammad Kashif Sharif
Muhammad Kashif Sharif
Nov 13, 2020 - Economics
ڈالر کا زوال

لین دین کے نظام میں نت نئی اختراعات اور ان میں چھپے ہوئے سٹے کی سکیمیں دراصل ایک ایسا جال ہے، جو آج کے دور میں عالمی تنازعات اور معاشی بربادی کی وجہ بن چکا ہے۔ Legal Tender کا تصور دنیا میں بہت قدیم ہے۔ اٹھارہویں صدی میں اس تصور نے لین دین کے نظام میں کافی سہولیات فراہم کیں۔ اس تصور کی وجہ سے ایک بڑی مقدار میں سونا و دیگر قیمتی دھاتوں کی ترسیل کے مشکل ترین اُمور کو سہل بنایا گیا۔ بین الاقوامی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوسکا۔ لیکن ہوا وہی کہ اس سہولت کو بھی تدریجاً انسانیت کے لیے وبالِ جان بنا دیا گیا۔ 
چناں چہ Legal Tender کی صورت میں کرنسی نوٹوں کی بھرمار کر دی گئی اور اس امر کو ضروری نہیں سمجھا گیا کہ مطلوبہ قیمتی دھات اس کے بدلے میں محفوظ رکھی جائے۔ بعد ازاں اس قیمتی دھات کے تصور میں پیداوار کو بھی ڈال دیا گیا اور قرار پایا کہ اب کرنسی کی چھپائی پیداوار اور اس کی مطلوبہ قیمت کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس پر طُرّہ یہ کہ ڈالر کو تمام کرنسیوں کی ماں اور دنیا میں تجارتی لین دین کی بنیاد قرار دے دیا گیا۔ سب نے اس تصور کو قبول نہیں کیا، لیکن ایشیا و افریقا کی غریب اور مغلوب اقوام کی تابع داری، تیل اور اسلحے کی عالمی تجارت میں امریکی اجارہ داری نے ڈالر کو قانونی حیثیت دلوا دی اور عالمی تجارت کا غالب حصہ ڈالر کا مرہونِ منت رہا۔
حالیہ دہائیوں کے دوران عالمی تجارت میں چین جیسے نئے کھلاڑیوں کی آمد کی وجہ سے امریکا اور ڈالر کی اجارہ داری کو کافی دھچکا لگا ہے۔ خصوصاً آخری پانچ سالوں میں ڈالر کی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے سونا، چینی یوآن اور کریپٹوکرنسی ہر گزرتے دن میں مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ ان متبادل ذرائع کے مضبوط ہونے کی دو وجوہات ہیں: ایک دنیا میں تازہ دم اور آزاد معاشی قوتوں کا استحکام اور دوسرا امریکی معیشت پر پیداوار سے زائد قرضوں کا بوجھ اور ریکارڈ ادائیگیوں کا خسارہ ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ امریکا پر کُل 220 کھرب ڈالر کا اندرونی اور بیرونی قرضہ ہے، جس میں صرف چین کا حصہ 11 کھرب ڈالر سے زائد کا ہے۔ 
امریکا کی مقامی قرضوں کی فراہمی کرونا وبا کے بعد اس قدر زوال کا شکار ہو چکی ہے کہ اب ڈالر چھاپنے یا چین جیسے بیرونی سرمایہ کاروں سے مزید قرض لینے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا۔ چناںچہ ان عالمی حالات میں صرف چین ہی ہے جو معاشی حوالے سے اس قابل ہے کہ امریکا کے مرکزی بینک کو قرض دیتا رہے۔ گویا امریکا کی محدود مدتی معاشی بقا کا دارومدار چین پر ہے۔ موجودہ عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پہلے سے ہی زائد الرسد ڈالر جو دراصل اپنی 32 فی صد حیثیت کھو چکا ہے، عالمی سطح پر بھی اپنی قدر کھو سکتا ہے۔       ڈالر کی قدر کھونے کے نتیجے میں چین کے ساتھ ساتھ ان معیشتوں کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے، جہاں ڈالر کے ذخائر قدرے زیادہ مقدار میں موجود ہیں، لیکن چین جیسی معیشت کے لیے یہ دھچکا جزوقتی ہوگا۔ کیوںکہ وہ پہلے ہی معاشی تنوع پر کام کرتے ہوئے دیگر عالمی مالیاتی و تجارتی اثاثے بنا چکا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسے میں پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے اور اگر ہماری مقتدرہ کی مفاد پرستی اور چالاکی آڑے نہ آئی تو پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بہتر ہو سکے گی۔ یہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد فراہم کرے گی۔

Tags
No Tags Found
Muhammad Kashif Sharif
Muhammad Kashif Sharif

محمد کاشف شریف 1999ء میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے MBA کرنے کے بعد اڑھائی سال تک محمد علی جناح یونیورسٹی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے. اس کے بعد انہوں نے 18 سال DHA  اسلام آباد میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس وقت وہ متعدد تعمیراتی اور ترقیاتی کام کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ بطور ایڈوائیزر برائے فائنانس و ٹیکسیشن خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نظام معیشت، معاشی منصوبہ بندی اور تعمیراتی شعبے میں ماہر ہیں۔ ایک عرصہ سے حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری کی سرپرستی میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور کے تعلیمی و تدریسی پروجیکٹ میں اعزازی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ مجلہ رحیمیہ لاہور میں معیشت کے موضوع پر مستقل مضامین لکھ رہے ہیں۔