سوسائٹی کے افتراق و انتشار کا سبب ؛ پست علوم و افکار

سورت البقرہ کی آیت 102 (حصہ اوّل) میں بنی اسرائیل نے شیطانی قوتوں سے انسان دشمن علم سیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہوا تھا، جو سراسر غلط اور خلافِ حقیقت ہے۔ انبیا علیہم السلام اس طرح کے پست علوم نہیں سکھاتے۔
اسی آیت کے اس دوسرے حصے میں ایسے ساحرانہ علوم اور مخلوط افکار و خیالات کے انسانی سوسائٹی پر پڑنے والے بُرے اثرات کی نوعیت واضح کی جا رہی ہے:
﴿فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ﴾
(پھر ان سے سیکھتے وہ جادو جس سے جدائی ڈالتے ہیں مرد میں اور اس کی عورت میں) :
بنی اسرائیل کے لوگ شیاطین اور فرشتوں دونوں سے مِلا جُلا کر جادو کا ایسا علم سیکھتے تھے کہ جس سے خاندانی نظام میں میاں بیوی کے درمیان افتراق و انتشار پیدا ہوتا تھا۔
انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی خاندانی نظام ہے اور اس کی اَساس میاں بیوی کے درمیان باہمی محبت اور تعلق پر ہے۔ دونوں کے تعلقات درست ہوں تو اولاد کی پرورش، خاندانی رشتوں کے درمیان باہمی احترام، رشتہ داروں کے حقوق اور سوسائٹی میں موجود دیگر خاندانوں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار ہوتے ہیں، لیکن جس سوسائٹی میں میاں بیوی کے جھگڑوں کے نتیجے میں فیملی سسٹم تباہ و برباد ہوجائے، وہ معاشرہ اپنی اجتماعی زندگی میں منتشر ہو کر بکھر جاتا ہے۔ اس کی سیاسی اور معاشی طاقت باہمی اختلافات کا شکار ہو کر ختم ہوجاتی ہے۔ انبیا علیہم السلام کی سچی تعلیمات انسانوں کو دنیا اور آخرت میں زندگی بسر کرنے کا صحیح سلیقہ اور طریقہ سکھاتی ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسولوں نے میاں بیوی کے باہمی حقوق کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
انبیا علیہم السلام کی تعلیمات کے برعکس سِفلی علوم و افکار، شیطانی تگ و تازپر مبنی اعمال، انسانوں کے درمیان خود غرضی، مفاد پرستی اور نفسانی خواہشات کو اُبھار کر انسانی اجتماعیت کو توڑنے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں شیطانِ اکبر ابلیس سمندروں پر اپنا تخت بچھا کر اپنے شطونگڑوں کو انسانوں کے درمیان لڑائی جھگڑوں اور انھیں گناہوں میں مبتلا کرنے کے لیے بھیجتا ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک شیطان‘ ابلیس سے کہتا ہے: ’’مَا تَرَکْتُہُ حَتّٰی فَرَّقْتُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَ امْرَأَتِہِ، قَالَ: فَیُدْنِیہِ مِنْہُ، وَیَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ‘‘۔ (صحیح مسلم، حدیث: 7106) (میں نے اس شخص کو (جس کے ساتھ میں تھا) اس وقت تک نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی۔ ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: تم سب سے بہتر ہو۔)
﴿وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ ﴾ اور وہ اس سے نقصان نہیں کرسکتے کسی کا بغیر حکم اللہ کے۔ اور سیکھتے ہیں وہ چیز جو نقصان کرے ان کا، اور فائدہ نہ کرے):
بنی اسرائیل کی مزید خرابی بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانیت کو نقصان پہنچانے والے علوم و افکار سیکھنے کی طرف بڑی توجہ کرتے تھے۔ ایسے پست علوم کسی صورت انسانیت کے نفع اور بھلائی کے نہیں ہوتے۔
حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے علموں سے آخرت کا کچھ نفع نہیں، بلکہ سراسر نقصان ہے اور دنیا میں بھی ضرر ہے اور بغیر حکم خدا کے کچھ نہیں کرسکتے اور علم دین اور علم کتاب سیکھتے تو اللہ کے ہاں ثواب پاتے‘‘۔
انسانی معاشروں میں جب فکری اور عملی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں تو اُن کا علمی مزاج بھی بگڑ جاتا ہے۔ ان کے پیش نظر انسانیت کو نقصان پہنچانے والے علوم سیکھنا سکھانا اور غلامی پر مبنی نظامِ تعلیم و تربیت کو قبول کرلینا ہوتا ہے۔ سامراجی اور طاغوتی قوتوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ انسانوں کو غلام رکھنے کے لیے اپنے مطلب کے غلط افکار و خیالات پر مبنی نظامِ تعلیم بناتے ہیں اور اس طرح معاشروں میں افتراق و انتشار پیدا کرکے ڈیوائڈ اینڈ رول (لڑاؤ اور حکومت کرو) کی سیاست کو فروغ دیتے ہیں۔
﴿وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴾ (اور وہ خوب جان چکے ہیں کہ جس نے اختیار کیا جادو کو، نہیں اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ، اور بہت ہی بُری چیز ہے، جس کے بدلے بیچا انھوں نے اپنے آپ کو، اگر ان کو سمجھ ہوتی) : حضرت شاہ محمداسماعیل شہیدؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ: ’’یہودیوں نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علوم کو پس پشت ڈال دیا اور شیطانوں اور فرشتوں سے ایسے زائد علوم حاصل کرنے میں لگ گئے، جن کا آخرت کی کامیابی میں کوئی عمل دخل نہیں تھا‘‘۔ (ایضاح الحق الصریح)
یہ حقیقت بنی اسرائیل کے لوگ جان چکے کہ انھوں نے الٰہی تعلیمات پر مبنی بلند علوم و افکار کے بدلے میں جادو وغیرہ پر مبنی ایسے پست افکار و خیالات خرید لیے ہیں، جن کا دنیا اور آخرت میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس طرح انھوں نے اپنے لیے بہت ہی بُرا سودا کیا ہے۔ جو معاشرے ترقی کن بلند علوم و افکار کو قبول نہیں کرتے اور سطحی مفادات کے لیے سِفلی علوم اور گروہی مفادات پورا کرنے کی طرف اپنے ذہنوں اور خیالات کو متوجہ کرلیتے ہیں تو اس طرح نفع کا سودا کرنے کے بجائے اجتماعی نقصان اُٹھاتے ہیں۔
﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ خَيْرٌ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ (اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ کرتے تو بدلہ پاتے اللہ کے ہاں سے بہتر اگر ان کو سمجھ ہوتی): حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتابِ الٰہی کے اعلیٰ علوم پر پختہ ایمان و یقین رکھتے اور اللہ سے ڈر کر عدل و انصاف قائم کرنے کی جدوجہد اور کوشش کرتے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اور آخرت میں بہت اچھا بدلہ پاتے۔ اُن کے لیے دنیا میں بھی خیر اور بھلائی کا نظام قائم ہوتا اور آخرت میں بھی خیر کے اعلیٰ مقام جنت الفردوس میں داخل ہوتے۔ کاش کہ ایسی پستی میں پڑے ہوئے لوگوں کو یہ حقیقت سمجھ میں آجاتی اور بلند افکار و خیالات پر مبنی علم و شعور حاصل کرکے الٰہی تعلیمات کا علمی اور عملی نظام قائم کرتے اور دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتے۔
علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ (2)

عَن ابنِ عبّاسؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:
’’إنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِيْ سَیَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّیْنِ، وَ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُوْلُونَ: نَأتِي الْأُمَرَائَ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاھُمْ، وَ نَعْتَزِلُہُمْ بِدِیْنِنَا، وَ لَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا یُجْتَنٰی مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْکُ، کَذٰلِکَ لَایُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِہِمْ إِلَّا۔۔۔‘‘۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: کَأَنَّہُ یَعْنِي: الْخَطَایَا۔ (السّنن لابن ماجۃ، حدیث: 255)
(حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میری اُمت کے کچھ لوگ دین کا علم خوب حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم دنیا کے حکمرانوں اور مال دار لوگوں سے مل کر ان سے دنیا کی چیزیں لیتے ہیں اور اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں، مگر واقع میں اس طرح نہیں ہوتا، بلکہ جیسے کانٹے دار درخت سے سوائے کانٹوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا والوں کی قربت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، سوائے۔۔۔۔‘‘ راوی محمد بن صباح کہتے ہیں: گویا کہ سوائے گناہوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔)
نمبر2: زیرِنظر حدیث میں نبی اکرمؐ نے دوسری رہنمائی یہ فرمائی کہ اہلِ دین کا دنیا پرستوں کے ساتھ اپنے مالی مفادات وابستہ کرنا، درست نہیں ہے۔ اہلِ حق علما کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ دین کی حفاظت ان لوگوں سے وابستہ کرلیں جو دنیادار ہوں، اور پھر یہ خیال قائم کرلینا کہ ایسے لوگوں سے وابستہ مالی اغراض کے باوجود ہمارا دین محفوظ رہے گا، یہ بہت بڑی نادانی ہے۔ ایسے سرمایہ پرست بلامقصد اور آسانی سے کسی کو کچھ نہیں دیتے۔ سرمایہ پرست کا ذہن محض سرمایہ جمع کرنے کا ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ یہ سوچ کر پیسہ خرچ کرتا ہے کہ میں نے اس سے مالی فائدہ اُٹھانا ہے۔
حضورﷺ اس موقع پر شاید کوئی سخت جملہ فرمانا چاہتے تھے، مگر بہ وجوہ خاموش رہے، تو راوی نے اس کا مطلب یہ لیا کہ آپﷺ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ دنیاپرستوں سے ہم اپنا دین بچا لیں گے اور دنیا لے لیں گے۔ بھلا وہ جو خود دُنیا کا طالب ہو، کسی دوسرے کو بلاعوض اپنا مال کیسے دے سکتا ہے۔ وہ خود دنیا کی خاطر ہی حکمران ہیں۔ اگر علما ان سے مالی مفادات وابستہ کر کے ان کی دنیاپرستی کے لیے ڈھال بنتے ہیں اور لوگوں میں یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دین دار لوگ ہیں، تو اہلِ دین بہت سستے بِکے، بلکہ انھوں نے اپنے لیے اور دین کے لیے بہت توہین آمیز طریقہ اپنا لیا۔ وہ نہ صرف دنیا میں خسارے میں ہیں، بلکہ آخرت کا بھی بڑا خسارہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ حق کی پہچان اور ان سے وابستگی کی قدروقیمت کا لحاظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)
علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ(2)
عَن ابنِ عبّاسؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:
’’إنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِيْ سَیَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّیْنِ، وَ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُوْلُونَ: نَأتِي الْأُمَرَائَ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاھُمْ، وَ نَعْتَزِلُہُمْ بِدِیْنِنَا، وَ لَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا یُجْتَنٰی مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْکُ، کَذٰلِکَ لَایُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِہِمْ إِلَّا۔۔۔‘‘۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: کَأَنَّہُ یَعْنِي: الْخَطَایَا۔ (السّنن لابن ماجۃ، حدیث: 255)
(حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میری اُمت کے کچھ لوگ دین کا علم خوب حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم دنیا کے حکمرانوں اور مال دار لوگوں سے مل کر ان سے دنیا کی چیزیں لیتے ہیں اور اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں، مگر واقع میں اس طرح نہیں ہوتا، بلکہ جیسے کانٹے دار درخت سے سوائے کانٹوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا والوں کی قربت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، سوائے۔۔۔۔‘‘ راوی محمد بن صباح کہتے ہیں: گویا کہ سوائے گناہوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔)
نمبر2: زیرِنظر حدیث میں نبی اکرمؐ نے دوسری رہنمائی یہ فرمائی کہ اہلِ دین کا دنیا پرستوں کے ساتھ اپنے مالی مفادات وابستہ کرنا، درست نہیں ہے۔ اہلِ حق علما کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ دین کی حفاظت ان لوگوں سے وابستہ کرلیں جو دنیادار ہوں، اور پھر یہ خیال قائم کرلینا کہ ایسے لوگوں سے وابستہ مالی اغراض کے باوجود ہمارا دین محفوظ رہے گا، یہ بہت بڑی نادانی ہے۔ ایسے سرمایہ پرست بلامقصد اور آسانی سے کسی کو کچھ نہیں دیتے۔ سرمایہ پرست کا ذہن محض سرمایہ جمع کرنے کا ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ یہ سوچ کر پیسہ خرچ کرتا ہے کہ میں نے اس سے مالی فائدہ اُٹھانا ہے۔
حضورﷺ اس موقع پر شاید کوئی سخت جملہ فرمانا چاہتے تھے، مگر بہ وجوہ خاموش رہے، تو راوی نے اس کا مطلب یہ لیا کہ آپﷺ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ دنیاپرستوں سے ہم اپنا دین بچا لیں گے اور دنیا لے لیں گے۔ بھلا وہ جو خود دُنیا کا طالب ہو، کسی دوسرے کو بلاعوض اپنا مال کیسے دے سکتا ہے۔ وہ خود دنیا کی خاطر ہی حکمران ہیں۔ اگر علما ان سے مالی مفادات وابستہ کر کے ان کی دنیاپرستی کے لیے ڈھال بنتے ہیں اور لوگوں میں یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دین دار لوگ ہیں، تو اہلِ دین بہت سستے بِکے، بلکہ انھوں نے اپنے لیے اور دین کے لیے بہت توہین آمیز طریقہ اپنا لیا۔ وہ نہ صرف دنیا میں خسارے میں ہیں، بلکہ آخرت کا بھی بڑا خسارہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ حق کی پہچان اور ان سے وابستگی کی قدروقیمت کا لحاظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)
علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ(2)
عَن ابنِ عبّاسؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:
’’إنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِيْ سَیَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّیْنِ، وَ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُوْلُونَ: نَأتِي الْأُمَرَائَ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاھُمْ، وَ نَعْتَزِلُہُمْ بِدِیْنِنَا، وَ لَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا یُجْتَنٰی مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْکُ، کَذٰلِکَ لَایُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِہِمْ إِلَّا۔۔۔‘‘۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: کَأَنَّہُ یَعْنِي: الْخَطَایَا۔ (السّنن لابن ماجۃ، حدیث: 255)
(حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میری اُمت کے کچھ لوگ دین کا علم خوب حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم دنیا کے حکمرانوں اور مال دار لوگوں سے مل کر ان سے دنیا کی چیزیں لیتے ہیں اور اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں، مگر واقع میں اس طرح نہیں ہوتا، بلکہ جیسے کانٹے دار درخت سے سوائے کانٹوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا والوں کی قربت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، سوائے۔۔۔۔‘‘ راوی محمد بن صباح کہتے ہیں: گویا کہ سوائے گناہوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔)
نمبر2: زیرِنظر حدیث میں نبی اکرمؐ نے دوسری رہنمائی یہ فرمائی کہ اہلِ دین کا دنیا پرستوں کے ساتھ اپنے مالی مفادات وابستہ کرنا، درست نہیں ہے۔ اہلِ حق علما کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ دین کی حفاظت ان لوگوں سے وابستہ کرلیں جو دنیادار ہوں، اور پھر یہ خیال قائم کرلینا کہ ایسے لوگوں سے وابستہ مالی اغراض کے باوجود ہمارا دین محفوظ رہے گا، یہ بہت بڑی نادانی ہے۔ ایسے سرمایہ پرست بلامقصد اور آسانی سے کسی کو کچھ نہیں دیتے۔ سرمایہ پرست کا ذہن محض سرمایہ جمع کرنے کا ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ یہ سوچ کر پیسہ خرچ کرتا ہے کہ میں نے اس سے مالی فائدہ اُٹھانا ہے۔
حضورﷺ اس موقع پر شاید کوئی سخت جملہ فرمانا چاہتے تھے، مگر بہ وجوہ خاموش رہے، تو راوی نے اس کا مطلب یہ لیا کہ آپﷺ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ دنیاپرستوں سے ہم اپنا دین بچا لیں گے اور دنیا لے لیں گے۔ بھلا وہ جو خود دُنیا کا طالب ہو، کسی دوسرے کو بلاعوض اپنا مال کیسے دے سکتا ہے۔ وہ خود دنیا کی خاطر ہی حکمران ہیں۔ اگر علما ان سے مالی مفادات وابستہ کر کے ان کی دنیاپرستی کے لیے ڈھال بنتے ہیں اور لوگوں میں یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دین دار لوگ ہیں، تو اہلِ دین بہت سستے بِکے، بلکہ انھوں نے اپنے لیے اور دین کے لیے بہت توہین آمیز طریقہ اپنا لیا۔ وہ نہ صرف دنیا میں خسارے میں ہیں، بلکہ آخرت کا بھی بڑا خسارہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ حق کی پہچان اور ان سے وابستگی کی قدروقیمت کا لحاظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)
ابو عمارہ، سیّدِ شہدا ء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہٗ

ابو عمارہ، سیّدِ شہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہٗ مہاجرینِ اوّلین میں سے ہیں۔ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے چچا، رضاعی بھائی اور آپؐ سے صرف دو سال بڑے تھے، گویا آپؐ کے ہم عمر تھے۔ حضرت حمزہؓ حضوؐر سے بہت زیادہ مناسبت و محبت اور انتہائی قرب رکھتے تھے، جس کی وجہ سے آپؐ اور حضرت حمزہؓ ہمیشہ اکثر اُمور میں باہم شریک رہتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ارادہ کیا تو پیغامِ نکاح اور بات چیت کے لیے حضرت حمزؓہ کو بھیجا اور جب بارات گئی تو اس میں ابو طالب کے ساتھ حضرت حمزہؓ بھی ساتھ شریک تھے۔ خاندانی معاملات میں حضرت حمزہؓ اور رسول اللہؐ عموماً ایک رائے رکھتے تھے۔ حربِ فِجار میں بھی دونوں اکٹھے تھے۔ آپؐ نے براہ راست لڑائی میں شرکت تو نہ کی‘ لیکن حضرت حمزہؓ کو تیر پکڑاتے رہے۔
حضرت حمزہؓ پُرعزم، انتہائی سلیقہ مند اور عقل مند نوجوانوں میں سے تھے اور قریش کے بہادر اور سربرآوردہ لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس اعتبار سے مکہ میں آپؓ کو ایک بڑا وجیہ اور بلند مقام حاصل تھا۔ آپؓ نبوت کے پانچ سال بعد مسلمان ہوئے۔ حضرت عمرؓ بھی اسی عرصے میں مسلمان ہوئے۔ ان دونوں کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت زیادہ حوصلہ ملا اور حرم میں جا کر جماعت کے ساتھ اعلانیہ نماز پڑھی اور مسلمانوں نے اس زور سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا کہ پورے مکہ مکرمہ میں اس کی گونج سنائی دی۔ سردارانِ قریش پر حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کی دھاک بیٹھ گئی اور اُن پر رعب پیدا ہو گیا۔
حضرت حمزہؓ جہاں ایک طرف تاجر تھے، تو دوسری طرف وہ شکار کھیلنے اور فنِ سپہ گری میں ماہر تھے۔ اسی طرح سماجی اور قومی زندگی کی ضروری صلاحیتوں سے آپؓ مسلح تھے۔ اپنی شخصی وقبائلی اور قومی خوبیوں اور خدمات کی وجہ سے آپؓ ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔ آپؓ کے اسلام لانے کے بعد امتحان اور قربانیوں کا دور شروع ہوا۔ آپؓ ’’شعبِ ابی طالب‘‘ میں رسول اللہؐ کے ساتھ رہے۔ وہاں سے نکلنے کے بعد بھی قریشِ مکہ کی طرف سے مشکلات کو مسلسل برداشت کیا۔ آپؓ نے رسول اللہؐ کے حکم سے مدینہ طیبہ ہجرت کی۔ مدینہ میں بعد آپؐ نے حضرت حمزہؓ اور حضرت زید بن حارثہؓ دونوں کو آپس میں مواخات کے طور پر جوڑ دیا، جب کہ دونوں مہاجر تھے۔
حضرت حمزہؓ نے آپؐ کے ساتھ غزوۂ بدر میں شرکت کی اور بڑی بہادری سے جنگ کی۔ غزوۂ اُحد میں شریک ہوئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ آپؓ کو مُثلہ کیا گیا (ناک، کان کاٹے گئے اور پیٹ چیرا گیا)۔ آپ ﷺ پر اس کا بڑا اثر تھا۔ حضرت حمزہؓ کی شہادت، قربانی اور جدوجہد نے تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں بڑے گہرے نقوش و آثار چھوڑے ہیں، جس سے اسلام کو ترقی و عروج ملا، جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
پاکستان میں سودے بازی کی ’’جمہوریت‘‘، ایک جائزہ

آج پاکستان حکمرانی کے عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ قوم الیکشن کا بڑی بے تابی سے انتظار کررہی ہے۔ نگران سیٹ اپ بھی جلد الیکشن کے اقدامات کے اعلانات دُہراتا رہتا ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست کے نبض شناس اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ الیکشن اسی وقت ہوں گے جب ’طاقت کا مرکز‘ چاہے گا۔ اب دیکھئے ’طاقت کے مرکز‘ کے ساز گار حالات کا اونٹ کب اور کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ مستقبل کے اصل حالات کا درست اندازہ اسی وقت ہوپائے گا۔ تاہم جاری سیاسی حالات میں 21؍ اکتوبر کو پاکستانی سیاسی نظام کی یکے از گُرْگِ باراں دِیدہ شخصیت کی آمد نے کسی قدر حالات کے سیاسی دھارے کے رُخ پر قیاس آرائیوں کا سامان فراہم کردیا ہے۔
پاکستانی سیاسی تاریخ کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں حقیقی سیاسی اور جمہوری پراسس کے نہ پنپ سکنے کے نتیجے میں کوئی حقیقی قومی لیڈر شپ نہیں اُبھر سکی، بلکہ یہاں قوم کو منصوبہ سازوں نے کھلونوں کی طرح سیاسی لیڈر فراہم کیے۔ پھر جب کبھی قوم سے وہ کھلونا لے کر دوسرا کھلونا دینے کی کوشش کی گئی تو جیسے بچے سے زبردستی کھلونا چھینا جائے تو چھیننے والے کو بچے کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے ہی ہمارے منصوبہ ساز کئی بار ایسے غصے اور مزاحمت کا سامنا کرچکے ہیں۔ ہماری سیاسی رجیم میں موجود پارٹیاں اور ان کی لیڈرشپ، جو بڑی شدومد سے ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، نہ ان کی پارٹیوں میں جمہوریت ہے اور نہ ہی ان کے اپنے رویے جمہوری ہیں، بلکہ یہاں سیاست پر چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے۔ یہاں کی جمہوریت آلۂ کار سرمایہ داروں اور طفیلی جاگیر داروں کی جیب کی گھڑی ہے۔ اس ملک کے سیاست دان خود منصوبہ سازوں کے ساتھ مل کر اپنے طبقاتی مفادات کی خاطر کئی بار جمہوریت کو اپنے ہاتھوں قتل کرچکے ہیں۔ انھیں جمہوریت صرف اس وقت یاد آتی ہے جب انھیں اقتدار سے باہر کردیا جاتا ہے۔ ہمارے سیاست دان خود حقیقی جمہوریت نہیں چاہتے۔ ان کے غیر حقیقی کردار کے سبب قوم ہمیشہ سے حقیقی جمہوریت کے ثمرات سے محروم رہی ہے۔
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے نام نہاد جمہوری دور میں جمہوریت کی طرز پر ادارے تو قائم کر لیے، لیکن ان اداروں کا حقیقی کردار ان کو نہیں دے سکے۔ جس کے نتیجے میں یہ ادارے اپنے نام کی حد تک تو موجود ہیں، لیکن ان کا حقیقی عملی کردار اور نتائج بالکل ناپید ہیں۔ آج ہماری ریاست کا سارا نظام انھی نام نہاد اداروں پر کھڑا ہے، لیکن یہ عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ بُری طرح کھوچکے ہیں۔ جن ملکوں میں سسٹم کے بنیادی ادارے جیسے عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں متعین طرزِ عمل اور اپنی حدود کا خیال رکھتے ہوئے اُمور سر انجام دیتے ہیں وہاں، اور جہاں یہ ادارے صرف نام کی حد تک ہوتے ہیں، ان دونوں جگہوں پر نتائج کے حوالے سے زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
ہماری سیاسی جماعتوں کی بیش تر قیادت مرغ باد نما اور ابن الوقتی کا مظہر ہے۔ اس لیے آج ’طاقت کے مرکز‘ کی پُرانی فرماں بردار جماعتوں کے سیاست دان اپنے مفادات اور اقتدار کے لیے بڑھ چڑھ کر اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ نہ ان کی اپنی کوئی سوچ ہے اور نہ نظریہ! اور ریاست پہ کنٹرول رکھنے والے اداروں کو آج ایسے ہی سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو اپنی کوئی سوچ اور ویژن رکھنے کے بجائے صرف ان کی حکمتِ عملی کا سول (civil) چہرہ بن سکیں۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ ایسی سیاسی شخصیات کے بارے میں جن کا اپنا کوئی ویژن نہ ہو، ایسے اداروں کو سوچنا چاہیے کہ وہ آنکھیں بند کیے تانگے کے آگے جتنے کے سوا نیا کچھ نہیں کر سکیں گے۔
چرخ لندن سے خصوصی پرواز کے ذریعے اُترنے والے پاکستانی سیاسی سرکس کے شیر‘ رِنگ ماسٹر کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔ باوجود اس کے کہ وہ سزا یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی مقدمات میں عدالتوں کو مطلوب تھے، لیکن پاکستان میں ’طاقت کے مراکز‘ جب مطلع کا رنگ بدل دیتے ہیں تو وہی کورٹس، وہی دلائل، وہی شواہد ہوتے ہیں، جن پر پہلے ملزم کو سزا سنادی جاتی ہے، پھر اسی ملزم کو بری کروالیا جاتا ہے۔ اب کی بار بھی وہی پیٹرن اور وہی طریقۂ کار ہے جس کے تحت ماضی کی ڈیلز ہوتی رہی ہیں۔ مختلف اوقات کی ان سیاسی اقساط سے نظام کا چہرہ بے نقاب ہوتا رہتا ہے۔
پاکستانی سیاست کی اصل روایت ڈیل (deal) ہے۔ یہاں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہماری قومی سیاست حالات کے جبر کا شکار رہی ہے اور اس کا پینڈُلَم ڈیلز کے گرد گھومتا رہا ہے۔ اس کا اپنا آزادانہ تشخص کبھی نہیں رہا۔ آج بھی پاکستان میں کسی سیاست دان اور پارٹی کی سمجھوتے کے بغیر بقا ممکن نہیں۔ جس سے ڈیل ہوگی‘ اسے ہیرو بنالیا جائے گا اور جس سے نہیں ہوگی‘ اسے زیرو کردیا جائے گا۔ منصوبہ ساز جو چاہ رہے ہیں ویسا ہوجائے گا، یعنی مرضی کی ایک حکومت قائم کرلی جائے گی۔ کیوں کہ پولیس، انتظامیہ اور عدالتی نظام سمیت ہر جگہ اس رجیم کے لیے ہمدردی اور تعاون کی فضا قائم کردی گئی ہے۔ میڈیا؛ جس کا نان و نفقہ ہمیشہ چڑھتے سورج سے وابستہ ہوتاہے، وہ بھی انھی کے گن گا رہا ہے۔ سوچنے کی اصل بات یہ ہے اب جس طرح سے نیا ڈھانچہ کھڑا کیا جارہا ہے، کیا یہ چل پائے گا؟ اور ملک کوئی قدم آگے بڑھا سکے گا؟ اور کیا اس فرسودہ نظام کی استعمال شدہ سیاسی قوتیں کسی نئے سوشل کنٹریکٹ (social contract) کی صلاحیت رکھتی ہیں؟
موجودہ صورتِ حال میں کسی کی بھی جیت نظر نہیں آتی۔ سب ہی وقت کو دھکا دینے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ مقتدرہ کو افراد اور شخصیات سے بالاتر ہوکر یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ موجودہ صورتِ حال سے نکلنے کے لیے جن نظریات کا سہارا لے کر پالیسیاں بنارہے ہیں، کیا ماضی میں اس ویژن کے فیصلوں نے ہمیں بحران سے نکالا؟ یا بحران زیادہ سنگین ہوتے رہے ہیں؟ ہماری داخلی کمزوری ہمارے نظام کی فرسودگی ہے۔ قوم کے نوجوانوں کو اس نام نہاد لیڈر شپ کے سپرد کرنے کے بجائے فیصلے اب اپنے تاریخی شعور کی بدولت خود کرنے اور آگے بڑھ کر قوم کو ایک حقیقی لیڈر شپ فراہم کرنے کی تیاری کرنی چاہیے، تاکہ قوم اس گہرے کُہر سے نکل کر درست سمت سفر کے آزادانہ فیصلے کرسکے۔ (مدیر)
چار بنیادی انسانی اَخلاق حاصل کرنے کے طریقے

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’جاننا چاہیے کہ ان چار اَخلاق (طہارت، اِخبات، سماحت، عدالت) کے:
(الف) ایسے اسباب اور طریقے ہیں کہ جن سے انھیں حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(ب) ایسی بداَخلاقیاں ہیں، جن سے یہ اَخلاق منع کرتے اور روکتے ہیں۔
(ج) ایسی علامات ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اَخلاق پیدا ہوگئے ہیں۔
(1۔ اِخبات الی اللہ کے حصول کے اسباب اور طریقہ)
o اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرنا،
o اور اُس کی کبریائی کی طرف متوجہ رہنا،
o اور ملائِ اعلیٰ کے رنگ میں رنگا ہوا ہونا،
o اور انسان کی بشری بداَخلاقیوں سے نجات حاصل کرنا،
o اور دُنیوی زندگی کی صورتوں اور نقوش کو نفس کا قبول نہ کرنا اور اُس پر مطمئن نہ ہونا۔
ان تمام اُمور کے حصول کے لیے اس سے بہتر اَور کوئی بات نہیں کہ انسان تفکر اور غور و فکر کی حالت میں رہے۔ اور یہ بات نبی اکرم ﷺ نے اس طرح ارشاد فرمائی ہے: ’’فکرُ ساعۃٍ خیرٌ مِن عبادۃ سِتّین سنۃ‘‘ (ایک گھڑی غور و فکر کرنا‘ ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔) (کنز العمال، حدیث: 57)
غور و فکر اور تفکر کی چند اقسام ہیں:
1۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کے بارے میں غور و فکر کرنا: انبیا علیہم الصلوٰۃ و السلام نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس لیے کہ عام لوگ ذاتِ باری تعالیٰ میں غور و فکر کی طاقت نہیں رکھتے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ’’تفکّروا فی آلاء اللّٰہ و لا تفکّروا فی اللّٰہ‘‘۔ (مجمع الزوائد، ج: 1، ص: 81) (اللہ کی نعمتوں کے بارے میں غور و فکر کرو، اللہ کی ذات کے بارے میں غور و فکر مت کرو۔)
یہ بھی (حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے) روایت کیا گیا ہے کہ: ’’تفکّروا فی کلّ شیء و لا تفکّرو فی ذات اللّٰہ‘‘۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری، ج: 13، ص: 383) (ہر چیز میں غور و فکر کرو، لیکن اللہ کی ذات میں غور و فکر مت کرو۔)
2۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں غور و فکر کرنا: جیسے اللہ کی صفات میں علم، قدرت، رحمت، سب چیزوں کا احاطہ کرنا، یہ غور و فکر وہی ہے، جسے سلوک و تصوف کے رہنماؤں نے ’’مراقبہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس میں اُصولی بات وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے: ’’صفتِ احسان یہ ہے کہ تُو اللہ کی عبادت ایسے کر، گویا کہ تُو اُسے دیکھ رہا ہے۔ اور اگر تُو اُسے دیکھ نہیں سکتا تو یہ سمجھ کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے‘‘۔
(متفق علیہ، مشکوٰۃ، حدیث: 2)
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے (حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے) ارشاد فرمایا: ’’احفَظِ اللّٰہَ تجِدْہ تُجاہَک‘‘۔ (رواہ الترمذی، ابواب القیامہ، حدیث: 2516) (اللہ کی حفاظت کر، تُو اُسے پائے گا جدھر بھی تُو توجہ کرے گا۔)
جو آدمی اللہ کی صفات میں غور و فکر کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو اُس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ درجِ ذیل آیات کے معانی پر غور و فکر کرے:
﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ ﴾ (-57 الحدید: 4)
(اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو۔)
یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ (-10 یونس: 61)
(اور نہیں ہوتا تُو کسی حال میں اور نہ پڑھتا ہے اس میں سے کچھ قرآن، اور نہیں کرتے ہو تم لوگ کچھ کام کہ ہم نہیں ہوتے حاضر تمھارے پاس جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں، اور غائب نہیں رہتا تیرے ربّ سے ایک ذرّہ بھر زمین میں اور نہ آسمان میں، اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا، جو نہیں ہے کھلی ہوئی کتاب میں‘‘۔)
یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ﴾ (-58 المجادلہ: 7)
(تُو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں، کہیں نہیں ہوتا مشورہ تین کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چوتھا، اور نہ پانچ کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چھٹا، اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ جہاں وہ نہیں ہوتا ان کے ساتھ جہاں کہیں ہوں۔)
یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
﴿وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ﴾ (-50 ق: 16)
(اور ہم اس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ۔)
یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
﴿وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ (-6 الانعام: 59)
(اور اسی کے پاس کنجیاں ہیں غیب کی کہ ان کو کوئی نہیں جانتا اس کے سوا، اور وہ جانتا ہے جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے، اور نہیں جھڑتا کوئی پتا مگر وہ جانتا ہے اس کو، اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز، مگر وہ سب کتابِ مبین میں ہے۔)
یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
﴿أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ﴾ (-41 حم السجدہ: 54)
(سنتا ہے! وہ گھیر رہا ہے ہر چیز کو۔)
یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ﴾ (-6 الانعام: 18)
(اور اسی کا زور ہے اپنے بندوں پر)
یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
﴿وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (-5 المائدہ: 120)
(اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)‘‘۔
علم دوست و علم نواز عباسی خلیفہ

ہارون الرشید
خلافتِ بنوعباس کے تیسرے خلیفہ، ابوجعفر منصور کے بیٹے محمد مہدی تقریباً دس سال مسند ِخلافت پر فائز رہے۔ محمدمہدی فرض شناس حکمران کے طور پر مشہور ہوئے۔ ان کا دورِ خلافت امن و امان کا دور تھا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے موسیٰ ہادی تخت نشین ہوئے، جو کہ ہارون الرشید کے بڑے بھائی تھے، لیکن وہ سال سوا سال ہی حکمرانی کرسکے کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی ہارون الرشید تخت نشینِ خلافت ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 22 سال تھی۔ عباسی خلفا میں مختلف حوالوں سے سب سے زیادہ شہرت انھیں کو حاصل ہوئی۔
ہارون الرشید دین دار، پابند ِشریعت حکمران تھے۔ وہ علم دوست اور علما کے قدردان کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا دورِ خلافت علم و فن کے اعتبار سے سنہری دور کہلاتا ہے۔ انھوں نے بغداد میں لائبریریاں قائم کیں۔
سائنسی و ثقافتی ترقی کے لیے بیت الحکمت کی بنیاد رکھی، جس کی وجہ سے بغداد ادب و فن اور سائنس و ثقافت کا گہوارہ بنا۔ بیت الحکمت میں دارالترجمہ قائم ہوا، جس میں یہودی، عیسائی، پارسی اور ہندو مترجمین مختلف علوم و فنون کی کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کرتے۔ اس وقت بیش تر سائنسی و ادبی کتابوں کو عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔ ہندوستان کے علوم و فنون کو عربی زبان میں منتقل کرنے کے کام کا آغاز بھی ہارون الرشید کے زمانے میں ہوا۔
ہارون الرشید نے حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگردِ رشید امام ابویوسفؒ کو ’’قاضی القضاۃ‘‘ (چیف جسٹس) مقرر کیا اور ان سے مملکت کے مالیاتی نظام، خصوصاً مالی محاصل کے بارے میں رہنمائی کی درخواست کی۔ چناں چہ امام ابویوسفؒ نے اسلام کے مالیاتی نظام کی تفصیلات قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں بڑی وضاحت کے ساتھ مرتب فرما کر خلیفہ کی خدمت میں میں پیش کیں، جو آج ’’کتاب الخراج‘‘ کے نام سے ہمارے پاس ہے۔
قاضی ابویوسفؒ اسی کتاب میں رقم طراز ہیں کہ:
’’امیر المؤمنین ہارون الرشید نے مجھ سے ایک جامع دستاویز کی فرمائش کی، جس کو وہ خراج، عشر اور دیگر محصولات کے وصول کرتے وقت اپنے پیش نظر رکھ سکیں۔ ۔۔۔ اس سے امیرالمؤمنین کا مقصد اپنی رعایا سے ہر طرح کے معاشی ظلم کا ازالہ کرنا اور اُن کے مالیاتی معاملات کو سلجھانا تھا‘‘۔
(کتاب الخراج، ص:11، طبع: پشاور)
یہ سب کون کرے گا؟

کسی بھی ملک کی عالمی تجارت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی خاندان کے پاس خرچ کرنے کے لیے مجموعی رقم ہو، جو خاندان کے تمام ارکان مل جُل کر اکٹھا کرتے ہیں اور ان جمع شدہ وسائل سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ملکی سطح پر فرق صرف کرنسی کا ہوتا ہے، جہاں دیگر ممالک کا زرِ مبادلہ دراصل ملکی قوتِ خرید کا تعین کرتا ہے۔ پاکستان میں ڈالر اور دیگر ممالک کا زرِ مبادلہ چار طریقوں سے آتا ہے، جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر، ملکی برآمدات، بیرونی سرمایہ کاری اور ضرورت پڑنے پر عالمی مالیاتی اداروں اور ممالک سے قرض۔ اور یہ زرِ مبادلہ کہاں خرچ کیا جاتا ہے؟ ان مدّات میں ملکی درآمدات، ملٹی نیشنل سرمایہ کاروں کے منافع کی واپسی اور عالمی مالیاتی اداروں سے وصول شدہ قرض اور اس پر سود کی واپسی۔ گویا زرِ مبادلہ کمانے کے اوّلین دو ذرائع یعنی برآمدات اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر دراصل ایسی آمدنی ہے جو بنیادی طور پر خود مختاری پر مبنی قرار پاتی ہے۔ کیوں کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کو منافع سمیت بالآخر واپس جانا ہوتا ہے۔ اس لیے آزادی اور خودمختاری کی خواہش رکھنے والی قوموں کو اپنی برآمدات اور دیگر ممالک میں بسنے والے شہریوں پر زیادہ انحصار کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان کی درآمدات زیادہ تر اُن اشیا پر مشتمل ہیں، جن کی ڈیمانڈ مستقل یا غیر لچک دار (Inelastic) ہے، ان میں ایندھن اور خوراک سے متعلق درآمدات ایسی ہیں جن میں ایک تواتر کے ساتھ اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ بیس سال کا ڈیٹا یہ بتاتا ہے کہ ایندھن کی درآمدات کُل درآمدات کے 18 فی صد سے بڑھ کر 35 فی صد تک آن پہنچا ہے۔ اس کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمت میں اضافہ اور پاکستانی معیشت میں بڑھوتری ہے۔ جب کہ خوراک سے متعلق درآمدات ایک مستقل رُجحان کے تحت بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ چناں چہ بیس سال قبل یہ کل درآمدات کے 9 فی صد سے بڑھ کر اب 16 فی صد تک آن پہنچی ہیں۔ یہاں ایک وجہ بلاشبہ خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے، لیکن یہ اضافہ محدود وقت کے لیے تھا، اب قیمتوں کا عالمی سُپر سائیکل مدھم ہوتا جا رہا ہے، لیکن ہماری خوراک سے متعلق درآمدات کم نہیں ہو رہیں۔ اس کی ایک اَور وَجہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے، جس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب ہماری خوراک پیدا کرنے کی صلاحیت بھی کم پڑتی جارہی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر ممالک سے قرض لینے کی رفتار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ صرف خوراک سے متعلق درآمدات کو نسبتاً بہتر منصوبہ بندی سے کم کیا جائے اور خودانحصاری کو اختیار کرلیا جائے تو ان درآمدات کو 16 فی صد سے کم کرکے 5 فی صد تک لایا جاسکتا ہے۔ گویا قریباً 7 ارب ڈالرکی بچت کی جاسکتی ہے، جو بالآخر قرض کی طلب کو بھی کم کرسکتا ہے۔ یہ وہ کام ہے جو پاکستان محنت اور لگن سے دو سال میں پایۂ تکمیل تک پہنچاسکتا ہے۔ ایسا ہو جائے تو ہمارا کام صرف پہلے سے لیا ہوا قرض اور اس پر سود کی ادائیگی ہوگا، جو بذاتِ خود ایک مشکل اور کٹھن کام ہے اور ممکن ہے کہ اس میں ایک اَور دہائی لگ جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کون کرے گا؟
تنازعۂ فلسطین کا حالیہ مظہر

نباتاتی زندگی اپنے اندر ایک مربوط اور مضبوط نظام رکھتی ہے، جس کا اَساسی تعلق اس کی جڑوں سے ہوتا ہے، جو زمین میں مخفی ہوتی ہیں۔ یہ نظام انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اگرچہ اس کا ظاہری حصہ ہر انسان کو نظر آتا ہے، اس لیے اس پر اظہارِ خیا ل بھی ہوتا ہے۔ درخت اس زندگی کا عملی مظہر ہوتا ہے، جو اپنی طبعی عمر گزار نے کے بعد لڑکھڑانا شروع کردیتا ہے۔ پہلے اس کی جڑیں کھوکھلی ہوتی ہیں۔ زمین اور جڑوں کے درمیان ایک باریک پردہ حائل ہوتا ہے، جو طبعی عمر کو پہنچ کر آہستہ آہستہ دونوں سے علاحدگی اختیار کرنے لگتا ہے۔ ظاہر میں اظہار پتوں کی رنگت میں تبدیلی سے ہوتا ہے، جس کا اثر اس کی شاخوں اور پھولوں پر پڑتا ہے۔ سب سے آخر میں تنا بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ طویل عرصے تک وہ لوگوں کی نظروں میں تو رہتا ہے، لیکن مزید شاخیں اور پتے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ جو ا س درخت کی بڑھوتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کیوں کہ جب جڑیں کھوکھلی ہوجائیں تو پھر تنا بھی خشک ہوکر بڑھوتری کے عمل سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے۔ مسافروں، راہگیروں اور پھل سے مستفید ہونے والوں کے لیے تنا مفید ہونے کے بجائے مسائل، مشکلات اور رُکاوٹیں پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ بالآخر معاشرہ تنگ آکر اسے راستے سے ہٹا دیتا ہے۔ اسی قسم کا طریقۂ کار اور انداز معاشرے میں انسا نوں کے تشکیل کردہ سماجی نظا م کے ساتھ ہوتا ہے۔ ذیل میں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
ایران نے 10؍ اکتوبر 2023ء بروز منگل سے ’’مد افعان آسمان ولایت‘‘ ایئر ڈیفنس فوجی مشقوںکا آغاز کردیا ہے، جس میں ایران کی برّی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ائیر ڈیفنس فورس کے مختلف یونٹ حصہ لے رہے ہیں۔ نمائش میں ایرانی ماہرین کے تیار کردہ میزائل ڈیفنس سسٹم، ریڈار، الیکٹرانک جنگی اور مواصلاتی آلات اور وسائل کا استعمال دکھایا گیا ہے۔ (سحر نیوز، 10؍ اکتوبر 2023 ء)
ایک رپورٹ کے مطاابق ایران نے طویل فاصلے پر زمین سے زمین تک مار کرنے والے (ہائی پر سونک میزائل جس کی سپیڈ 18 ہزر کلو میٹر فی گھنٹہ ) میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ تجربہ بین ا لاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ: ’’اس میزائل کے تجربے نے امریکا کی میزائل دفاع شیلڈ کی اہمیت کو اُجاگر کردیا ہے‘‘۔ (الجزیرہ، 7؍ جون 2023ء)یمن کے وزیرِ دفاع نے صنعا میں مسلح افواج کی فوجی پریڈ کی عظیم الشان تقریب میں اعلان کیا ہے کہ: ’’ملک کی فوج آنے والے دنوں اور ہفتوں میں اپنی جنگی تیاریوں کو دوگنا کرے گی‘‘۔ (فارس نیوز، 21؍ ستمبر 2023 ء)
غزہ کی حکمران جماعت اور مزاحمتی تنظیم حماس نے ’’ طوفان الا قصیٰ‘‘ آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ کارروائی کا آغاز 6؍ اکتوبر سے کیا گیا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب یہودیوں نے مقدس ترین ’’یوم کیپور‘‘ مناتے ہوئے 6؍ اکتوبر 1973ء کو مصر، شام اور ان کے اتحادیوں کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، جو 26؍ اکتوبر تک جاری رہی تھی۔ حماس نے ٹھیک 50 سال بعد اسی دن کا انتخاب کر کے اسی حملے کا جواب دیا ہے۔ یا د رہے یہودیوں کا مقدس ترین یوم کیپور ’’عشرۂ توبہ‘‘ کے آخری روز منایا جاتاہے۔ اس روز سورج ڈوبنے سے اگلے دن سورج غروب ہونے تک طویل روزہ رکھا جاتا ہے، جس کا مقصد سال بھر کی توبہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی روز یہودی ایک دوسرے سے معافی مانگتے ہیں، ناراضگیاں دور کرتے ہیں۔ یوم کیپور کے ایام ہر سال اکتوبر یا ستمبر میں آتے ہیں اور 1973ء میں یہ دن 6 اکتوبر کو آیا تھا۔ (ایکسپریس نیوز 8؍ اکتوبر 2023ء)
استعماری قوتوں نے اپنے غلبے سے مشرقِ وسطیٰ کو مستقل بداَمنی کا شکار کر رکھا ہے۔ خطے کی نمائندہ قوتوں کو غلامی کے طوق میں جکڑا گیا، جسے برقرار رکھنے کے لیے مستقل آگ کا جلاؤ جلایا گیا۔ جس میں ایندھن جھونکنے کا مستقل بندو بست ہوتا رہا۔ گزشتہ 70 سالوں سے آگ کے گولے برسنے اور خون کی ندیاں بہنے سے پورا مشرقِ وسطیٰ کوئلوں کا ڈھیر بن چکا تھا۔ ایسی سرزمین سے پھول پیدا ہونے کی توقع کرنا بھی عبث کہلاتا ہے۔ عدمِ تشد د کی حکمتِ عملی پر کام کرنے والوں کو حرفِ غلط کی طرح صفحۂ زیست سے مٹا دیا گیا۔ دوسری اہم بات یہ کہ استعمار کے مقابلے کی عالمی قوت کے ناپید ہونے کے باعث یہ غنڈہ گردی بلا تعطل جاری تھی۔ یہ قوتیں اتنی بے دھڑک اور بے خوف تھیں کہ انھیں اپنے ظلم کی پردہ پوشی کے لیے بھی کسی حکمتِ عملی کی ضرورت نہ تھی۔ علاقائی قوتیں جب تک کمزور رہیں، عسکریت پسند طبقے بھی ناتواں رہے۔
آج دنیا نئی کروٹ لے رہی ہے۔ ایران ایسی تما م قوتوں کا نمائندہ بن کر سامنے آیا ہے جس کی حمایت میں استعمار دشمن طاقتیں جمع ہیں۔ اس نے مستقل دباؤ میں رہنے کے گُر سیکھ لیے ہیں۔ مشکل حالات میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے ناممکن حصول کو ممکن کرکے دکھایا۔ جوہری ٹیکنالوجی کے آلات کایوکرین جنگ میں استعمال اور اپنے ملک میں مظاہرے سے طاغوتی طاقتوں کی نیند یں حرام کردی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا یہ کہنے پر مجبو ر ہوگیا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے دفا ع کے لیے دفاعی شیلڈ کا اہتمام کرنا ضروری ہوگیا۔ جنگ یورپ میں ہو یا ا یشیا اس کی جولان گاہ بنے، سامراج چت ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ استعمار ی مرکز کے ارد گرد بسنے والی اقوام آج حملہ آور ہونے کا عندیہ دے رہی ہیں۔ سامراجی نظام انسانیت پر ظلم ڈھانے کے باعث اپنی جڑیں کھوکھلی کرچکا ہے۔ اس کے پتے اور شاخیں رنگت بدل رہی ہیں۔ ایران کا یہ کہنا کہ جنگ کی نوعیت کیاہوگی؟! اس کا دارومدار اسرائیلی اقدامات پر منحصر ہے۔ گویا ایر ان نے ایک ہی پیغام سے امریکاکو میزائل بنا کراور اسرائیل کو مشاہدے سے چیلنج کر دیا ہے کہ میدانِ جنگ اور آلاتِ جنگ جس کا انتخاب اسرائیل کرنا چاہے ، ایران تیار ہے۔ آج غزہ کی جنگ انسانیت پر ہونے والے تاریخی ظلم ،زیادتی، دہشت گردی، خوف و ہراس اور نا انصافی کا عملی مظہر ہے۔
دینِ اسلام کی جامع تعلیمات

22؍ ستمبر 2023ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’معزز دوستو! کتابِ مقدس قرآن حکیم وہ عظیم الشان کتاب ہے جو رہتی دنیا تک انسانی مسائل کے حل کے لیے ایک کامل اور مکمل نظامِ حیات انسانیت کے سامنے پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب انسانیت کے نام اللہ کا جاری کردہ آئین و دستور ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ یہ انسانیت کے نام اللہ کے خطوط ہیں۔ ہر سورت ایک نیا خط ہے۔ جیسے دنیا بھر کی حکومتیں نظم و نسق چلانے کے لیے سرکلر جاری کرتی ہیں، نظامِ مملکت چلانے کے لیے عوام کو ہدایات دیتی ہیں، فرامین اور احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔ ایسے ہی شہنشاہِ مطلق ذاتِ باری تعالیٰ نے انسانیت کے نام یہ فرامین جاری کیے ہیں۔ اس دنیا میں جو اللہ کے نمائندے اور ترجمان ہیں، ان کی زبانی اللہ نے اپنے یہ فرامین و احکامات انسانیت کے نام جاری کیے ہیں کہ انسان ان احکامات اور آئین و دستور پر عمل کرکے دنیا میں بھی کامیابی حاصل کرے اور آخرت کی کامیابی بھی حاصل کرے۔
مسلمان کو اسی لیے دعا سکھلائی گئی کہ:
﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ﴾ (-2 البقرہ: 231)
کہ دنیا کی ترقی اور کامیابی بھی ہے اور آخرت کی ترقی اور کامیابی بھی مطلوب ہے۔ صرف دنیا کی ترقی ہو اور آخرت کی ناکامی ہو، یا صرف آخرت میں کامیابی کی بات کی جائے اور دنیا میں کامیابی اور ترقی کو نظرانداز کر دیا جائے۔ دونوں باتیں غلط ہیں۔ دین دونوں دائروں کے بارے میں واضح ہدایات جاری کرتا اور احکامات بتلاتا ہے۔ فرامین و ارشاداتِ نبوی انسانیت کی دونوں حوالوں سے رہنمائی کرتے ہیں۔
دوسری بڑی اہم ترین بات یہ سمجھنا چاہیے کہ دین اسلام وہ واحد دین ہے جو تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہونے والے نبی الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ خود رسول اللہؐ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے کے انبیاؑ اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں اور اور میری بعثت تمام انسانیت اور اقوامِ عالم کی طرف ہے۔ تمام اقوام و ملل، تمام معاشرے، تمام قومیں دین اسلام کی مخاطب ہیں۔ اس لیے کتابِ مقدس قرآن حکیم کا آغاز جس پہلی سورت ’’الفاتحہ‘‘ سے ہوا ہے، اس میں انسانوں کو سب سے پہلے یہ بات سکھلائی گئی کہ اللہ تمام جہانوں کا رب ہے۔ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ ’’رب العالمین‘‘ کا مطلب ’’رب الاقوام‘‘ ہے۔ کیوں کہ انسانیت کا ہر عالَم الگ قوم پر مشتمل ہے۔ ہر ایک قوم اپنی ایک خاص شناخت رکھتی ہے۔ اس کی اپنی ایک تہذیب، ثقافت، زبان، اس کی اپنی ایک دھرتی، اپنا آسمان، اپنی زمین ہے۔ یہ بین الاقوامی کتاب ہے۔ تو کوئی بھی عالَمِ انسانیت میں کوئی قوم، انسانوں کا کوئی گروہ جب تک اپنی قومی شناخت قائم نہیں کرتا، وہ اقوامِ عالم میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکتا‘‘۔
’آزادی‘ تمام مذاہب میں بنیادی انسانی حق ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ملّتِ طبیعیّین (مادیت) کی اساس پر بنے ہوئے نظام ہائے حیات ہوں، یا ملّتِ نَجّامین (علمِ نجوم) کی اساس پر اقوامِ عالم نے اپنے اپنے مذاہب اور نظام وجود میں لائے ہوئے ہوں، یا ملتِ حنیفیت کی اساس پر ابراہیمی اُصول اور ضابطوں پر اپنے اپنے معاشروں کی تشکیل کی ہو اور پھر ملت حنیفیہ میں ملتِ یہود، ملتِ نصاریٰ اور ملتِ محمدیہ کا تنوع ہو، یہ تمام تنوعات ہیں۔ انھیں سے اُمم اور اقوام بنی ہیں۔ اسی طرح آج کے جدید دور میں اقوامِ عالم میں ریاستوں کی تشکیل کے لیے لوگوں نے اپنی زبان، تہذیب، ثقافت، جغرافیے کی بنیاد پر جو آج ریاستیں تشکیل دی ہیں، وہ کوئی دو سو کے قریب ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایک سو ترانوے ممالک رُکن ہیں۔ کسی زمانے میں سات اقلیم تھے۔ چند ملتیں اور اقوام تھیں۔ ان سب میں ایک بات طے ہے کہ قدیم زمانے سے اب تک انسانیت ایک ہے۔ اس کے مسائل مشترک ہیں۔ اور ان مشترک مسائل میں ہر قوم نے انسانیت کے اُن بنیادی اَساسی اُصولوں کو ضرور اختیار کیا ہے جو انسانیت کے ضمیر کی آواز ہیں۔
’انسان‘ نامی اس مخلوق کا بنیادی اَساسی اُصول یہ ہے کہ وہ آزاد پیدا ہوا ہے۔ آزادی اُس کی بنیادی قدر اور ویلیو ہے۔ ایک انسان کو اس کی جان، مال، عزت آبرو کے حوالے سے امن چاہیے۔ یہ ایک مشترکہ اُصول ہے۔ انسانوں کے درمیان معاملات، معاہدات اور سوشل کنٹریکٹ وجود میں آئیں، تو اُس کی اَساسیات عدل کی ہوں گی تو سوسائٹی کی ضرورت پوری ہوگی، یہ ایک آفاقی اُصول ہے۔ اسی طرح انسان کی روٹی روزی کا بندوبست، معاشی ضروریات کی کفالت تمام انسانوں کی مشترکہ ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جب انسانیت کو تخلیق کیا تو اس کے ساتھ ساتھ اُن نوامیسِ کلیہ کو بھی انسانیت پر نافذ کیا، جو تمام انسانوں میں مشترکہ پائی جاتی ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ انسانیت کے نوامیسِ کلیہ وہ بنیادی پرنسپلز ہیں جو تمام انسانوں میں یکساں اور مشترکہ طور پر پائے جاتے ہیں۔ وہ اللہ نے انسانیت پر نقش کر دیے ہیں۔ معاشی ترقی، عدل و انصاف، امن و امان، آزادی اور حریت ایسی بنیادی اقدار دنیا کے ہر آئین و قانون، دستور، مذہب و ملت، تہذیب اور ثقافت کا حصہ ہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب یہ نہیں سکھاتا کہ انسانوں پر ظلم کیا جائے، اُنھیں غلام بنایا جائے، اُن پر قبضہ کیا جائے۔ سرکشی اور طغیانی، فرعونیت اور قارونیت، جس کے ذریعے سے انسانیت کو یرغمال بنایا جائے، دنیا کا کوئی مذہب اپنی مذہبی تعلیم میں یہ بات نہیں کہتا۔ چاہے وہ سماوی مذہب ہوں یا غیرسماوی۔ ہر مذہب کی بنیادی خصوصیت انسانی اقدار پر مشترک ہے۔ یہ ’’ناموسِ کلی‘‘ ہے‘‘، جو دنیا کے ہر مذہب، قوم، آئین اور ہر دستور کا حصہ ہے‘‘۔
انسانی افعال و اعمال کے احتساب کا دینی نظریہ
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آج اقوامِ متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر میں ان حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے کہ افراد کو غلام بنانا، ممالک کو یرغمال بنانا، آزادی کے اظہارِ رائے پر قدغن لگانا‘ انسانیت کی توہین ہے۔ انسانوں کا مل کر اپنا اجتماعی نظام بنانا اُن کا حق ہے۔ پچیس تیس کے قریب بنیادی انسانی حقوق اقوامِ عالم نے تسلیم کرلیے ہیں۔ کسی قوم اور کسی اُمت کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے، اپنی ضرورتوں اور تقاضوں کی بنیاد پر اپنے لیے ایک آئین اور دستور بنائے۔ اور پھر اس آئین و دستور کے مطابق اپنے ادارے، سسٹم، طریقۂ کار، پروسیجرز تشکیل دیں۔ یہی اُس قوم اور اُمت کا اُصول، ضابطہ اور طریقۂ کار ہے، اگر وہ تحریری ہے تو اسے ـ’’الکتاب‘‘ کہیں گے۔
قرآن حکیم نے کہا ہے کہ یہ جو اصولِ کلیہ ہم نے انسانیت کے مقرر کیے ہیں، ان کی اساس پر دنیا کی ہر قوم کا احتساب ہوگا۔ اور دنیا میں اس احتساب کو یقینی بنانے کے تناظر میں اللہ نے ’’سورت الجاثیہ‘‘ میں فرمایا ہے: ’’اور تُو دیکھے (گا) ہر فرقے کو کہ بیٹھے ہیں گھٹنوں کے بل، ہر فرقہ بلایا جائے (گا) اپنے اپنے دفتر (اعمال نامہ) کے پاس، آج بدلہ پاؤ گے جیسا تم کرتے تھے‘‘۔ (-45 الجاثیہ: 28) آدمؑ سے لے کر آخری انسان تک اربوں کھربوں جو انسان وجود میں آئیں گے، سب کی سب اُمتیں وہاں جمع ہوں گی۔ سب اقوام جمع ہوں گی۔ نبی اکرمؐ فرماتے ہیں کہ: ’’کأنِّی انظُرُ إلیہم‘‘ (گویا کہ میں ابھی بھی اس وقت دیکھ رہا ہوں کہ سب قومیں گھٹنے ٹیک چکی ہیں۔) ’’جُثوت‘‘ پنجوں اور گھٹنوں کے بل کھڑے ہونے کو کہتے ہیں۔ جب آدمی کسی حساب کتاب کے انتظار میں پریشانی کے عالم میں ہو تو سیدھا کھڑا ہونے کے بجائے گھٹنوں کے بل زمین پر اُس کے پاؤں کے پنجے اور گھٹنے لگے ہوئے ہوں تو اُسے ’’جاثیہ / الجثو‘‘ کہتے ہیں۔
پھر اُنھیں ان کی ’’کتاب‘‘ کی طرف بلایا جائے گا۔ کتاب سے مراد کیا ہے؟ مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے دونوں معنی اور مطلب ہوسکتے ہیں: (1) وہ کتاب جو فرشتوں نے ’’نامہ اعمال‘‘ کے طور پر لکھی ہے، (2) یا وہ کتاب جو ہر قوم اور اُمت کے لیے اللہ نے نازل کی، مثلاً تورات، انجیل، زبور اور قرآن حکیم۔ سزا یا جزا کا تعلق انسان کے کسب کے ساتھ ہے۔ انسان نے جو کسب کیا ہے، اُس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر انسان یا قوم کا کسب اُس الکتاب کے مطابق ہو، جو اللہ کی طرف سے نافذ کی گئی ہے۔ اگر تو اُس کے مطابق وہ عمل ہوا تو پھر ٹھیک ہے، جو ایمان لائے اور صحیح عمل کیا، اُن کے لیے جنت ہے۔ اور جنھوں نے کفر کیا اور کتاب پر عمل نہیں کیا، اُس کے خلاف کسب کیا تو پھر سزا کا مستحق ہے۔ دونوں کتابوں: فرشتوں کی لکھی ہوئی کتاب ’’اعمال نامہ‘‘ اور انسانوں پر نازل کردہ کتاب کے درمیان موازنہ کیا جائے گاکہ انسانوں کا اعمال نامہ ہماری نازل کردہ کتاب کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس کے مطابق انھیں سزا اور جزا دی جائے گی‘‘۔
قرآنی بین الاقوامی انسانی اُصول اور سامراج کا استعماری کردار
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’سورت الجاثیہ‘‘ میں انسانیت کے لیے بین الاقوامی سطح کے بنیادی اساسی اُصول بیان کیے گئے ہیں۔ ہر قوم ان اُصولوں پر متفق ہے۔ اُن بنیادی اَساسی اُصولوں پر کیا انسانیت نے مشترکہ طور پر کام کیا ہے یا نہیں؟ یہ ہے بنیادی سوال۔ آج کے حالات کے تناظر میں ہمیں یہ شعور حاصل کرنا ہے کہ کیا ہر قوم جو اپنی ایک قومی شناخت پیدا کر چکی ہے، اپنی ریاست بنا چکی ہے، اپنی سرحدیں متعین کرچکی ہے، اپنی قوم کی سیاست، معیشت، سماجی تعلقات کو اُستوار کرنے کی الگ سے ایک منفرد شناخت پیدا کرچکی ہے، اور اُس کی اَساس پر دنیا کی ہر قوم نے اپنے اپنے آئین اور دساتیر بنا لیے ہیں، اقوامِ عالم کے دو سو کے قریب سربراہانِ مملکت اور اُن کے نمائندگان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ کیا اُن کامعاشرہ، اُن کی قوم، بلکہ کل انسانیت بنیادی انسانی حقوق کے مطابق تمام اُمور پورے کر رہی ہے یا نہیں؟
آج دنیا کا بدمعاش ملک‘ ریاستوں کو غلام بنانے کے لیے اُن کی سیاست میں مداخلت کرتا ہے، اُن کے حکمران بدلتا ہے۔ اُن کی معیشت کو تباہ و برباد کرتا ہے، اُن کی منڈیوں پر قبضہ کرتا ہے، اُن کے انسانوں کو یرغمال بناتا ہے، انسانی حقوق پامال کرتا ہے۔ اُن کے معدنی ذخائر پر قبضہ کرتا ہے۔ حال آں کہ اقوامِ متحدہ کا آئین خود بنایا، کہ ریاستوں اور اقوامِ عالم کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ تحفظ کرنے کے بجائے لوٹ کھسوٹ مسلط کرنا درست ہے؟ پھر کیا یہ ملک جو وجود میں آئے، یہ کسی نیچرل طریقے سے وجود میں آئے؟ وہاں کی اقوام نے اپنی آزادی اور حریت کی بنیاد پر یہ ریاستیں تشکیل دیں؟ یا عالمی سامراج نے اپنے مفادات کے مطابق اس دنیا کی بندربانٹ کی ہے۔
ہمیں سو سال پہلے کا وہ معاہدہ یاد رکھنا ہے جب 1916ء میں جنگِ عظیم اوّل کے دوران برطانیہ اور فرانس نے معاہدۂ سائیکوٹ پائیکوٹ(Sykes Picot Agreement)کے ذریعے خلافتِ عثمانیہ کے ملکوں کی بندربانٹ کی تھی کہ یہ ملک میرا، یہ ملک تیرا۔ مسلمان ملکوں اور ریاستوں کے حصے بخرے کیے گئے۔ کُردوں کو چار ملکوں میں بانٹ دیا۔ پٹھانوں کو دو تین ملکوں میں بانٹ دیا۔ عربوں کی چودہ ریاستیں بنا دیں۔ ایک ہندوستان کی سات ریاستیں بنا دیں۔ جب کہ یورپ کے پچیس ملکوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے یورپی یونین بنا دی۔ کیا قوموں کی آزادی کی حفاظت کا یہ بنیادی قانون یا ناموسِ کلی جو انسانیت کا بنیادی حق تھا، خود اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھا؟ جب تمام کی تمام انسانی اقوام آزادی اور حریت کا حق رکھتی ہیں تو پھر یہ پانچ ویٹو پاور کہاں سے آگئیں کہ جو باقی ملکوں کی قسمت کا فیصلہ کریں؟ اُن میں سے ایک ملک جو بھی ویٹو کردے، پوری دنیا کے انسانی مسائل، تمام اقوام متفق ہوجائیں، وہ ایک ملک دو سو ملکوں کو یرغمال بنا لیتا ہے۔ کیا اسے عدل کہتے ہیں؟‘‘
مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ایک عظمت افروز واقعہ

مولانا عبیداللہ سندھیؒ ہمارے مطلع تاریخ کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ ان عالی ہمت بزرگوں کا کردار آج کی نسلوں کے لیے مَشعَلِ راہ ہے۔ جمیل مہدی کی کتاب ’’افکار و عزائم‘‘ سے حضرت سندھیؒ کی زندگی کا ایک نادر واقعہ ہم قارئینِ ’’رحیمیہ‘‘ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ جمیل مہدی نے ایک ایسے خانوادے میں آنکھ کھولی جو جدوجہدِ آزادی میں دل وجان سے شریک تھا۔ ان کے والدِ محترم مہدی حسنؒ ’’تحریکِ ریشمی رومال‘‘ سے وابستہ تھے اور اس تحریک کے قائد شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے خاص رُفقا میں تھے۔ جمیل مہدی کو لڑکپن میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ جیسی عظیم المرتبت شخصیتوں کے قریب رہنے اور ان سے کسبِ فیض کا بھی موقع ملا۔ درجِ ذیل واقعہ بھی انھوں نے مولانا عبیداللہ سندھیؒ سے اپنی رفاقتِ سفر کی یادداشت سے پیش کیا ہے۔ مدیر)
’’سردی کی ایک شام بلکہ رات کو، کیوں کہ 7 بجے رات ہی ہو جاتی ہے۔ ہم دو آدمی؛ ازہرشاہ قیصر مرحوم اور میں لاہور جانے کے لیے دیوبند کے اسٹیشن پر پہنچے تو وہاں ہم نے مولانا (عبیداللہ) سندھیؒ کو پلیٹ فارم پر کھڑے ہوئے دیکھا۔
میں نے سلام کیا تو وہ اس طرح خالی نظروں سے مجھے دیکھنے لگے، جیسے پہچانتے تک نہیں۔ ان کی بے نیازی اَجنبیت سے مجھے اتنا صدمہ پہنچا کہ میں آگے بڑھ گیا۔ اِدھراُدھر دھیان بٹانے کی کوشش کی، لیکن آزردگی دُور نہیں ہوئی۔ میں نے چور نظروں سے دیکھا تو وہ پلیٹ فارم کے اِس سِرے سے اُس سِرے تک ٹہل رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ گھنٹی بج گئی، جو ٹرین کے قریب ترین اسٹیشن سے چھوٹنے کے بعد بجتی ہے۔ گھنٹی کی آواز سنتے ہی وہ پلیٹ فارم کے باہر چلے گئے، لیکن دو تین منٹ بعد میں نے دیکھا کہ واپس چلے آرہے ہیں۔ اس بار وہ سیدھے ہماری طرف آئے اور پوچھا: ’’کہاں جار ہے ہو؟‘‘ میری آزردگی اس وقت تک باقی تھی، میں نے بے رُخی سے کہا: لاہور جارہے ہیں۔’’ کتنے پیسے ہیں تمھارے پاس؟‘‘ 52 روپیہ ہیں۔ میں نے مختصراً جواب میں کہا۔ ’’ایک ٹکٹ لاہور کا اَور لے آؤ!‘‘ میں بھاگ کر ٹکٹ لے آیا تو انھوں نے یہ تک نہیں پوچھا کہ ٹکٹ لے آئے یا نہیں؟ بلکہ اب وہ بہ دستور مخدوم اور میں خادم بن گیا۔
’’یہ بستر اٹھاؤ ، اسے یہاں رکھو، یہاں بیٹھو!‘‘ ریل چل پڑی تو انھوں نے بڑی گہری نظر سے مجھے دیکھ کر کہا: ’’بُرا مان گیا تُو؟‘‘ اس کے بعد کہنے لگے کہ: ’’مجھے لاہور جانا تھا، لیکن میرے پاس پیسے نہیں تھے، اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ ایک آنہ دے کر تا نگے میں اسٹیشن آجاتا، لیکن لاہور تو مجھے جانا تھا، میں نے خطوط لکھ دیے تھے کہ میں اسی ریل سے آ رہا ہوں، اس لیے میں نے بستر کندھے پر رکھا اور اسٹیشن آگیا۔ انقلابیوں کا کوئی کام پیسے کی وجہ سے نہیں رُکتا۔ میرے سامنے سوال ہی نہیں تھا کہ پیسے ہیں یا نہیں ہیں، یہ بات طے شدہ تھی کہ مجھے اس گاڑی سے جانا ہے۔ اس لئے میں اسٹیشن پر چلا آیا۔ اور اس تلاش میں رہا کہ کوئی جانکار ملے تو اس سے ٹکٹ منگوالوں، لیکن پلیٹ فارم پر اِس سِرے سے اُس سِرے تک ڈھونڈنے کے باوجود کوئی واقف کار نظر نہیں آیا، یہاں تک کہ گھنٹی بج گئی تومیں پلیٹ فارم سے باہر جا کر بھی دیکھ آیا۔ کوئی نہ ملا تو مجبوراً تجھ سے ہی ٹکٹ لانے کو کہا۔ کافی دیر تک پس و پیش میں رہا کہ تجھ سے کہوں یا نہ کہوں۔ اور یہ بھی سوچتا تھا کہ تیرے پاس پیسے ہوں گے بھی یا نہیں ہوں گے‘‘۔
میری عمر ہی کیا تھی، یہ غالباً 1941ء کی بات ہے، لیکن اتنی بات تو جانتا ہی تھا کہ اس بے سرو سامانی کی بات وہ کر رہا ہے،جو ہندوستان کی جلا وطن حکومت کا وزیرِ داخلہ رہ چکا ہے، جو افغانستان میں وزیرِ خارجہ اور ترکی میں افغانستان کا سفیر تھا، اور جو رُوس میں اشتراکی لیڈروں کا ہم نوالہ اور ہم پیالہ رہ چکا تھا۔ لیکن اب وہ کہہ رہا تھا کہ: اس نے بستر کندھے پر رکھا اور اسٹیشن آگیا۔ کیوں کہ اصل مسئلہ لاہور پہنچنے کا تھا۔ یہ کوئی بات ہی نہ تھی کہ پیسے ہیں یا نہیں ہیں۔ لیکن ابھی حیرانی ختم کہاں ہوئی تھی، کیوں کہ اصل حیرانی تو اس وقت شروع ہوئی جب سہارن پور کا اسٹیشن گزر تے ہی ہر اسٹیشن پر ملاقاتی ملنے شروع ہوئے اور چھوٹے سے چھوٹے اسٹیشن پر بھی ایک ہجوم پہلے سے منتظر دکھائی دیا، جو مولانا سندھیؒ کا نعرہ بھی کبھی کبھار لگا دیتا۔ اسی میل ملاقات کے درمیان انبالہ کا اسٹیشن آیا تو وہاں غیر معمولی مجمع تھا اور اس مجمع میں سب سے ممتاز شخصیت ’نواب غلام بھیک نیرنگ‘ کی تھی، جنھوں نے مولاناؒ سے مصافحہ کرتے ہوئے ایک پتلا لفافہ ان کے ہاتھ میں دیا تو انھوں نے اسے بائیں ہاتھ دوسری اور تیسری اُنگلی کے درمیان پکڑ لیا۔ اور جالندھر تک تو مجھے یاد ہے کہ وہ اس لفافے کو اسی طرح پکڑے رہے اور اس درمیان ہر اسٹیشن پر لوگ ان سے ملنے اور ان کا استقبال کرنے کے لیے آتے رہے۔ اس کے بعد نیند آگئی، اس لیے کچھ یاد نہیں کہ کیا ہوا، لیکن اتنا یاد ہے کہ صبح سویرے لاہور اسٹیشن آیا تو وہ لفافہ اسی طرح ان کی انگلیوں میں پھنسا ہوا تھا۔
اسٹیشن پر ان کے استقبال کرنے والوں کا سب سے بڑا ہجوم تھا، جن لوگوں کی صورتیں اب تک یاد ہیں، ان میں میاں افتخار الدین، غلام رسول مہر، عبد المجید سالک، مولانا ظفر علی خاں، ان کے صاحبزاد ے اختر علی خان، شیخ حسام الدین، مولانا مظہر علی اظہر، مولانا داؤ د غزنوی، شورش کشمیری اور درجنوں دوسرے لوگ تھے۔ اتنا ہجوم تھا کہ بیسیوں آدمی ہمارے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ یہاں تک کہ خود انھوں نے ہی اِدھر اُدھر دیکھ کر کہا: ’’دو لڑکے ہمارے ساتھ تھے!‘‘ جی ہم یہاں ہیں! ازہرشاہ قیصر نے کہا۔ اس آواز پر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو لوگوں نے اِدھراُدھر دب کر راستہ بنا دیا۔ ہم قریب پہنچے تو انھوں نے وہ لفافہ میری طرف بڑھایا: ’’دیکھو اس میں کیا ہے؟‘‘ میں نے دیکھ کر کہا اس میں نوٹ ہیں۔ سو (100) سو (100) روپے کے پانچ نوٹ ہیں۔
’’رکھو!‘‘ جی جی، میں گھبرا گیا، یہ آپ رکھیے، یہ بہت زیادہ ہیں۔ ’’ہم گولی ماردیں گے‘‘۔ انھیں واقعی جلال آگیا۔ بچہ ہے! کئی آدمیوں نے ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ ’’بچہ نہیں، کوڑ مغز ہے۔ بے ادب، سارے راستے سمجھاتا آیا ہوں کہ بڑوں کا حکم بے چوں و چرا مان لینا چاہیے۔ ساری تعلیم بے کار گئی۔ پہلا ہی اثر حکم عدولی کی صورت میں ظاہر ہوا‘‘۔ میں دم بخود کھڑا رہ گیا۔ وہ تو ’انقلاب زندہ باد‘، ’مولانا سندھی زندہ باد‘ کے نعروں کی گونج میں رخصت ہو گئے اور مجھے زندگی بھر کے لیے سبق دے گئے۔
’’انقلابیوں کا کوئی کام پیسے کی وجہ سے نہیں رُکتا۔ اصل کام یہ ہے کہ مجھے لاہور جانا ہے‘‘۔ اور وہ لاہور اس طرح پہنچے کہ ان کے پاس تانگے کے لیے بھی ایک آنہ نہیں تھا۔ لیکن سارے راستے بادشاہوں کی طرح استقبال ہوا۔ راستے میں پیسہ ملا تو اس آدمی نے یہ تک نہیں دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں سو (100) سو (100) کے نوٹ ہیں‘ یا ردّی کاغذ ہیں۔ اور جب معلوم ہوا تو اس خطیر رقم کو ردّی کاغذوں کے پُرزوں کی طرح اس لڑکے کے ہاتھ میں دے کر رُخصت ہو گیا، جس نے اس کے لیے پانچ روپیہ کا لاہور تک کا ٹکٹ خرید لیا تھا۔ جس زمانے میں یہ واقعہ بیان ہو رہا ہے، اس زمانے میں پانچ سو روپیہ کی کوئی حیثیت نہیں، لیکن 45 برس پہلے کے جس زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا تھا، اس زمانے میں سو (100) کے نوٹ کی اتنی بڑی قیمت تھی کہ اس کے بھنانے والے کو دستخط کر نے پڑتے تھے۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن! روپیہ پیسے کی پرواہ کبھی نہیں ہوئی۔ جو کام چاہا کرلیا، جتنا بڑا کام چاہا، اس میں ہاتھ ڈال دیا۔ کبھی بھول کر بھی خیال نہیں آیا کہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔
(افکارو عزائم، از جمیل مہدی، مرتبہ ڈاکٹر ذکی کاکوری، ص: 19 تا 23، ناشر: آل انڈیا میر اکادمی، لکھنؤ)
End of issue
Back