Nov-2022

Rahimia Magazine

Nov-2022

Nov 10, 2022 12 articles Download Download EPUB

1 / 12

تہذیبِ نفس کے عہد و میثاق کی خلاف ورزی

تہذیبِ نفس کے عہد و میثاق کی خلاف ورزی

گزشتہ آیات (البقرہ: 80-82) میں یہودیوں کی تحریفات، ظنون و اَوہام اور ظلم و فساد کا تذکرہ تھا۔ اس آیتِ مبارکہ  (البقرہ: 83) سے یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ بنی اسرائیل کو تورات میں دینِ حنیفی کے بنیادی اُمور عدل و احسان پر مشتمل قوانین دیے گئے تھے، انھوں نے اس میں تفریق پیدا کی، چند مذہبی رسومات اپنا لیں اور سماجی زندگی کے اجتماعی حقوق کو نظرانداز کرکے اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے اور گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے۔

دینِ حنیفی میں دو بنیادی علم ہیں: ایک تصحیحِ عقائد کے ساتھ تہذیبِ نفس اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے تہذیبِ اَخلاق کرنا ہے، جسے اصطلاح میں ’’احسان‘‘ کہا جاتا ہے۔ دوسرے علم کا تعلق اجتماعی حقوق کے ساتھ ہے، گھریلو زندگی، محلے، بستی، ملک، قوم کے قومی اور بین الاقوامی نظام کے ساتھ ہے، جسے اصطلاح میں ’’عدل‘‘ کہا جاتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے کہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمھیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے‘‘۔ (-16النحلـ: 90)

بنی اسرائیل کو بھی تورات میں ان دونوں علوم کی اَساس پر دینِ حنیفی کے اُصولوں کا پابند کیا گیا تھا۔ چناں چہ ان سے ان دونوں علوم کی پابندی کے حوالے سے دو میثاق اور     عہد نامے لیے گئے تھے۔ اگلی آیات (83-84) میں ان دونوں عہود و مواثیق کا ذکر ہے۔

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَـٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ   (اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد و میثاق لیا): انسانی سماج معاہدات سے عبارت ہے۔ عہد و میثاق کے ذریعے سے کسی قوم کی ترقی کا پروگرام نافذ کیا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل سے پہلا میثاق تہذیبِ نفس کے حوالے سے بنیادی انسانی حقوق کی ادائیگی سے متعلق تھا۔ اس عہد کے مطابق اُن پر لازم تھا کہ وہ درجِ ذیل اُمور کو اپنی زندگی کی تہذیب و ترتیب کے لیے اختیار کریں:

1۔  لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ  (کہ عبادت نہ کرنا‘ مگر اللہ کی): دینِ حنیفی کی بنیاد ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت اور صرف اُسی ذاتِ واحد کی عبادت پر استوار ہے۔ اس لیے تہذیبِ نفسِ انسانی کے لیے پہلا بنیادی کام یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اَور کی غلامی اختیار نہ کی جائے۔ صدقِ دل کے ساتھ اللہ وحدہٗ لاشریک کی وحدانیت پر پختگی کے ساتھ ایمان و ایقان رکھا جائے اور اُسی کی عبادت کی جائے۔

2۔ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَانًۭا وَذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ (اور ماں باپ سے سلوک نیک کرنا، اور کنبہ والوں سے، اور یتیموں اور محتاجوں سے): اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرنے کے بعد انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا تہذیبِ نفس کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ ان میں سب سے پہلا حق اپنے والدین کا ہے کہ جن کے ذریعے سے انسان اس دنیا میں آیا اور انھوں نے اسے پالا پوسا اور بڑا کیا ہے۔ والدین کے بعد اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم ہے۔ اُن کے بعد سب سے بڑا حق سوسائٹی کے پِسے ہوئے طبقات؛ یتیم اور مسکین کے حقوق ادا کرنا ہے۔ تہذیبِ نفس اور سلوک و احسان میں حقوق اللہ، حقوقِ والدین اور حقوقِ انسانیت کا بڑا بنیادی کردار ہے۔ اس کے بغیر تہذیبِ نفس اور احسان کی سچی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔

3۔   وَقُولُوا۟ لِلنَّاسِ حُسْنًۭا (اور کہیو سب لوگوں سے نیک بات): مذکورہ بالا حقوق کی ادائیگی کے بعد تمام انسانیت کی بھلائی کے لیے اچھے خیالات کا اظہار اور اُن کے ساتھ اچھی گفتگو، بہترین مکالمہ اور اُن کی دل جوئی ضروری ہے۔ یہ بات انسانی حقوق میں سے ہے۔ تہذیبِ نفس کے لیے انسانیتِ عامہ کا احترام کرنا اور اُن کی بھلائی کی فکر اور سوچ رکھنا اور اُس کا اظہار کرنا انسانیت کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔

4۔ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ  (اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو): حقوق اللہ اور حقوقِ انسانیت ادا کرنے کے لیے دو بنیادی اُمور ضروری ہیں:

(۱) ایک اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر صرف اُسی کے لیے نماز ادا کرنا۔ باجماعت نماز کا ایسا اجتماعی نظام قائم کرنا کہ جس کے ذریعے سے انسانی دلوں میں اللہ کے سامنے مناجات کرنے کا سلیقہ پیدا ہوجائے اور اپنی زندگی کے تمام اُمور میں اُسی سے ہدایت کا سیدھا راستہ حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ اور انعام یافتہ حضرات؛ انبیاؑ، صدیقین، شہدا اور صالحین کے سیدھے راستے پر چلنے کی طلب اور تڑپ کا پیدا ہونا ہے۔

(۲) دوسرے یہ کہ حقوقِ انسانیت کی ادائیگی کے لیے اپنی کمائی ہوئی محنت میں سے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنا، جسے ’’زکوٰۃ‘‘ کے نظام کی صورت میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس میں وہ تمام فرض اور نفل پر مشتمل مالی صدقات و خیرات شامل ہیں، جن میں پِسے ہوئے طبقات کے حقوق کی ادائیگی کی صورت پیدا ہو۔

دینِ حنیفی میں نماز اور زکوٰۃ ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حقیقی نماز دراصل وہی ہے، جس میں یتیم و مسکین کے حقوق ادا کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ اور حقوقِ انسانیت کے لیے مال خرچ کرنے میں نفس کی پاکیزگی تبھی ہوتی ہے، جب اُس کے ساتھ اللہ کی رضا کا جذبہ موجود ہو، جو کہ نماز سے پیدا ہوتا ہے۔امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں کہ: ’’اسی لیے قرآن حکیم کے بہت سے مقامات میں زکوٰۃ کو نماز اور ایمان کے ساتھ ملا کر بیان کیا گیا ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ج: 2) جیسا کہ سورت البقرہ، الماعون اور المدثر وغیرہ میں اس حقیقت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ (پھر تم پھرگئے مگر تھوڑے سے تم میں، اور تم ہو ہی پھرنے والے): بنی اسرائیل سے تہذیبِ نفس اور صفتِ احسان پیدا کرنے کے لیے درجِ بالا اُمور پر عہد و میثاق کیا گیا تھا، لیکن انھوں نے ان حقوق کی ادائیگی پر پورے طور پر توجہ نہیں دی اور اس میثاق کی خلاف ورزی کی۔ اس طرح چند تھوڑے لوگوں کے علاوہ باقی لوگ تہذیبِ نفس اور عمدہ اَخلاقیات سے عاری ہوگئے، جو زوال کا سبب بنا۔ ملتِ موسوی، جو ایک زمانے میں سب سے ترقی یافتہ قوم تھی، اَخلاقیات سے عاری ہوگئی اور تہذیبِ نفس سے محروم ہو کر انسانیت دشمنی کے راستے پر اُتر آئی، جس کی تفصیل اگلی آیت (84)میں آرہی ہے۔

2 / 12

غیرمسلم کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم

غیرمسلم کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم

عَنْ أَسْمَائَ، قَالَتْ: قَدِمَتْ أُمِّی وَ ھِی مُشْرِکَۃٌ فِیْ عَھْدِ قُرَیْشٍ و مُدَّتِھِمْ، إِذْ عَاھَدُوْا النَّبِیِّ ﷺ، مَعَ أَبِیْھَا، فَاسْتَفْتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّی قَدِمَتْ وَ ھِیَ رَاغِبَۃٌ، أفأصِلُھا؟ قَالَ: ’’نَعَمْ صِلِیْ أُمِّکِ‘‘۔ (صحیح بخاری: 5979)

حضرت اسما رضی اللہ عنہا (دختر حضرت ابوبکرصدیقؓ) فرماتی ہیں کہ میری والدہ مشرکہ تھیں۔ وہ نبی کریمﷺ کے قریش کے ساتھ صلح کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ (مدینہ منورہ) آئیں۔ میں نے نبی اکرمﷺ سے پوچھا: میری والدہ آئی ہیں اور وہ اسلام سے لاتعلق ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں؟ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں! اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو‘‘۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ایک اہلیہ مسلمان نہیں ہوئی تھیں۔ ان کے بطن سے آپؓ کی بیٹی حضرت اسماؓ تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ میری والدہ مشرکہ تھیں اور صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی مخالف فریق میں شامل تھیں۔ ایک بار میرے پاس مدینہ منورہ آئیں تو میں نے حضورﷺ سے پوچھاکہ میں اپنی والدہ کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ تو حضورؐ نے فرمایا: ’’اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘‘۔ اس حدیث سے تین باتیں واضح ہوتی ہیں:

(1) دینِ اسلام خونی رشتوں کا لحاظ کرنے کا حکم دیتا ہے، یہاں تک کہ ماں باپ اگر کافر بھی ہوں، تب بھی ان کے دُنیوی حقوق ادا کرنے ضروری ہیں۔ یہی بات حضرت لقمان علیہ السلام اپنے صاحب زادے کو نصیحت کے پیرائے میں کہتے ہیں۔ (القرآن: لقمان: 13-15)

(2) اگر ماں باپ دینی نظریے اور دینی تصور سے اولاد کو منحرف کرنا چاہیں تو ان کی بات ماننے کا انسان پابند نہیں، جیسے حضرت اَسماؓ کی ماں صلح حدیبیہ میں مخالف فریق میں شامل تھیں اور حضرت اَسماؓ اس معاملے میں اپنی ماں کے ساتھ نہیں تھیں، لیکن نبی اکرمﷺ یا حضرت ابوبکرؓ نے حضرت اَسماؓ کو نہیں کہا کہ اس امر میں اپنی ماں کی بات کی تعمیل کرو۔

(3) مذکورہ گفتگو سے یہ عیاں ہوا کہ دینِ اسلام کا معاشرتی تصور‘ حقوق کی فراہمی اور انسانی ہمدردی پر مبنی ہے۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے، جس سے دینِ اسلام کے عدل پسند اور انسانیت گیر نظریے کو قبولیت ملی۔ دینِ اسلام کی اسی خوبی نے قوموں کو اپنا نظریہ اور سوچ بدلنے پر مجبور کردیا۔ آج مسلمانوں کو یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان کے ہاں انسانی رشتوں کا احترام کس قدر ہے؟ آج عقائد، علاقائی اور سماجی بنیاد پر مسلمانوں میں تقسیم روا رکھی جاتی ہے، حال آں کہ اسلام میں مذہب کی بنیاد پر منافرت کا کوئی تصور نہیں، بلکہ مخالفت کی بنیاد صرف عدل اور ظلم ہے، البتہ باطل عقیدے کے خلاف دعوت ہے۔ تفریق و تقسیم کے نظریے نے مزید پستی اختیار کی تو مسلکی بنیادوں پر مسجدیں تک الگ ہوگئیں۔ اس اختلاف پر خونی رشتوں کا احترام پامال کیا جاتا ہے اور خاندانوں میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ وہ بنیادی نقطۂ نظر جو کافر قوموں کے لیے دینِ اسلام کی طرف کشش کا باعث بنا، آج اسی نقطے پر مسلمانوں میں اختلافات ہیں اور رشتے پامال ہورہے ہیں۔ اس لیے یہ رویہ قابلِ غور ہے۔

3 / 12

حضرت ابوحذیفہ ہَیثم بن عُتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ

حضرت ابوحذیفہ ہَیثم بن عُتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ

حضرت ابوحذیفہ ہَیثم یا ہاشم بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اصحابِ بدر، السابقون الاولون ، مہاجرینِ حبشہ اور مہاجرینِ مدینہ میں سے ہیں۔ آپؓ سردارِ قریش عتبہ کے بیٹے ہیں، جوکہ حضور اقدس ﷺ کا بدترین دشمن تھا۔ آپؓ کی والدہ فاطمہ بنت صفوان بن اُمیہ تھیں۔ آپؓ ’’ابوحذیفہ‘‘ کی کنیت سے مشہور ہیں۔ آپؓ طویل القامت، خوش چہرہ، آنکھ میں نقص اور بڑی عمر کے لوگوں میں سے تھے۔ بعثتِ نبویؐ کے وقت آپؓ کی عمر 30 یا 32 سال تھی۔ آپؓ حضوؐر کے قیامِ دارِ ارقم سے پہلے اپنی اہلیہ سہلہ بنت سہیلؓ سمیت حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ اس پر عتبہ نے آپؓ اور آپؓ کی اہلیہ سے قطع تعلق کر لیا۔

حضرت ابوحذیفہؓ فضلا صحابہ کرامؓ میں شامل ہیں۔ آپؓ۵نبوی میں ہجرتِ حبشہ کے پہلے قافلے میں شریک ہوئے۔ مسلمانوں اور سردارنِ مکہ کی صلح کی افواہ پر مکہ واپس آئے۔ پھر۶نبوی میں دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ وہیں آپؓ کے ایک صاحبزادے محمد بن ابی حذیفہ پیدا ہوئے۔ ہجرتِ مدینہ سے کچھ عرصہ قبل مکہ واپس تشریف لے آئے۔ پھر آپؐ کے حکم پر مدینہ منورہ ہجرت کی اور حضرت عباد بن بِشرؓ کے مہمان بنے اور ان سے آپؓ کا سلسلۂ مواخات جوڑا گیا۔

حضرت ابوحذیفہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی۔ غزوۂ بدر میں آپؓ اپنے خونی رشتے داروں کے مقابلے میں اُترے۔ اس دوران آپؓ کا اپنے والد عتبہ، بھائی ولید بن عتبہ اور بہن ہندہ بنت عتبہ کے علاوہ کئی دیگر رشتہ داروں سے بھی مقابلہ ہوا۔ عتبہ، حضرت حمزہؓ کے ہاتھوں مارا گیا، جس کا بدلہ اُحدکی جنگ میں اس کی بیٹی ہندہ نے حضرت حمزہؓ کو شہید کرکے لیا، جوکہ وہ بھی بعد میں فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئیں۔ جنگِ بدر کے اختتام پر جب سردارانِ قریش عتبہ، شیبہ اور ابوجہل وغیرہ کی لاشیں کنوئیں میں پھینکی گئیں تو آپؐ نے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے سردارانِ قریش! تم سے اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا، وہ پورا ہوگیا کہ نہیں؟! ہمارے ساتھ جو فتح وغلبہ کا وعدہ کیا تھا، وہ تو پورا ہوگیا‘‘۔ آپؐ نے جب یہ الفاظ فرمائے اور حضرت ابوحذیفہؓ کے چہرے کی طرف دیکھا کہ آپؓ کے چہرے کا رنگ ذہنی پریشانی سے پھیکا پڑ ا گیا ہے، تو آپؐ نے فرمایا: ’’ابوحذیفہ! تم اپنے والد کی اس حالت سے افسردہ ہوگئے ہو؟‘‘ آپؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! میرے اندر اپنے والد اور اس کے قتل کے بارے میں کوئی پریشانی یا افسردگی پیدا نہیں ہوئی، بلکہ میں اسے صائب الرائے، بردبار اور سلجھا ہوا آدمی سمجھتا تھا اور مجھے ان صلاحیتوں کی بنیاد پر قوی امید تھی کہ اس کے یہ اوصاف اسے اسلام کے قریب تر لے آئیں گے۔ جب میں نے اس کے انجام کو دیکھا کہ کفر پر موت ہوئی ہے اور میری آرزو اور خواہش پوری نہ ہوسکی تو مجھے اس کا رنج ہے‘‘۔ جب حضوؐر نے یہ بات سنی تو آپؓ کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔

آپ۱۱ہجری میں جنگِ یمامہ میں 54 برس کی عمر میں شہید ہوئے۔ آپؓ نے اپنے ورثا میں تین بیویاں اور دو بیٹے محمد اور عاصم چھوڑے۔ (حوالہ: اسد الغابہ، الاستیعاب )

4 / 12

عوام اور نوجوانوں کے سیاسی شعور کی اہمیت

عوام اور نوجوانوں کے سیاسی شعور کی اہمیت

کسی ملک میں مضبوط اور مستحکم سیاسی نظام وہاں کے عوام کے سیاسی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔ باشعور قوم کے عوام سیاست دانوں کے جھوٹے وعدوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنتے اور سیاست دانوں کو اپنے جذبات سے کھیلنے بھی نہیں دیتے، بلکہ وہ سیاست دانوں کے غلط فیصلوں میں سب سے بڑی رُکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں غربت، جہالت، بے روز گاری اور امن و امان کی ابتر صورتِ حال کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق کی عدمِ دستیابی نے عوام کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ روزمرّہ کی ضروریات پورا کرنے کی مصروفیات اور پریشانیوں نے ان کے سماجی شعور کو گہنا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ معاشی اور سیاسی طور پرانتخابات میں منتخب ہونے والے نمائندوں کے ہاتھوں بار بار نقصان اٹھا چکے ہیں، جس کے بعد یہاں کے سیاسی نظام میں ان کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں بچا۔

عوام میں سیاسی شعور کی کمی کے باعث آئے دن سیاست دان ان کے جذبات سے کھیلتے اور انھیں نئے وعدوں سے بہلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ سیاسی شعور میں کمی کے باعث عوام کا صرف سیاست دان ہی استحصال نہیں کرتے ،انتظامیہ بھی ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک روا رکھتی ہے۔ پاکستان کے عوام‘ خصوصاً نوجوان آئین میں موجود اپنے حقوق سے متعلق آگہی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے ادارے انھیں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہانکتے ہیں۔ تقسیم کے بعد جس طرح اس ملک کے پورے اثاثے اسے نہیں ملے، اسی طرح اس کے حصے میں آنے والے سیاست دان بھی ترقی پسند سیاسی نظریات سے محرومی کے باعث قوم کے لیے سیاسی میدان میں کسی صحت مند روایت کی بنیاد نہ رکھ سکے، بلکہ سرمایہ دارانہ نظریات اور جاگیر دارانہ نفسیات کے ساتھ انھوں نے قوم پر حکمرانی شروع کی، جس کے بعد اب ہمارے ملک میں بچگانہ سیاسی عہد کا آغاز ہوچکا ہے، کیوں کہ اس فرسودہ قیادت نے اپنی تیسری نسل کو میدان میں اُتار کر طفلانہ سیاست کا آغاز کرکے اسے ’’لُعبۂ صِبیان‘‘ (بچوں کا کھیل) بنا کر رکھ دیا ہے۔

ان بچوں کو سیاست کی کوئی شدبد نہیں، لیکن عوام کے جذبات سے کھیلنا انھیں ورثے میں ملا ہے۔ یہ حادثاتی رہنما پاکستان میں تباہی کے اصل ذمہ دار ہیں، مگر تاثر یہ دے رہے ہیں کہ سب اچھا چل رہا ہے۔یہ ’بچگانہ‘ ذہنیت کے حامل خود پسند سیاست دان نوجوانوں کی ملکی سیاست سے مایوسی کا سبب بن رہے ہیں۔

پاکستان اپنے قیام کے بعد سے ہی بوجوہ بہت سے سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی مسائل کے حوالے سے گہری کھائی میں جا گرا تھا۔ اب یہ مسائل عوام کے لیے چیلنج کا روپ دھارچکے ہیں۔ کچھ عناصر نے ان مسائل کو مزید اس قدر پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ملک کی خوش حالی کو برباد کرنے والے یہ لوگ دیمک زدہ نظام کے ڈھانچے سے کچھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں کہ ان عفریتوں سے انقلاب کے بغیر چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے۔ کمزور معاشی حالات، خراب تعلیم، غربت، روزگار اور ترقی کے کم ہوتے مواقع، منفی مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ، امن و امان کی خراب صورتِ حال اور ناانصافیوں نے عوام میں سے نوجوان نسل کو بنیاد پرستی، انتہا پسندی، جرائم، جہالت اور نفرت کی طرف ایسا مائل کردیا ہے کہ جو طبقہ عوام کی اُمنگوں کا ترجمان بن سکتا تھا، وہ خود رَوگی ہوتا چلا جارہا ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد نوجوانوں کو یہاں کے نظام نے خصوصی طور پر اپنا ہدف بنایا اور انھیں نہ صرف سیاسی اور سماجی ترقی کے شعور سے محروم رکھا گیا ہے، بلکہ حکومتِ وقت اور عسکری اداروں نے انھیں مذہبی عسکریت پسندوں کی جھولی میں ڈال دیا، جنھوں نے ان کے سماجی، معاشی، شہری، سیاسی اور ثقافتی حقوق اور شناخت کو پامال کرکے رکھ دیا۔ آج ان مذہبی عسکریت پسند جماعتوں نے اپنے اس جرم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن وہ لکھی تاریخ کو نہیں مٹا سکتے۔

ہمارے نوجوان کا سیاسی شعور بہت اہمیت کا حامل ہے: (1) اسے سیاست میں حصہ لینا چاہیے۔ کیوں کہ سیاست معاشرتی ترقی کا اہم جز ہے ہم دیکھتے ہیں کہ خراب سیاسی نظام کے نتیجے میں ہر روز ہزاروں لوگ اپنی جان اور ذریعۂ معاش سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ (2) ہمارے نوجوان کو آگاہ رہناچاہیے کہ آج ماحول میں کیا ہو رہا ہے؟ کیوں کہ اگر آپ اپنی ریاست میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے خود کو اپ ڈیٹ نہیں رکھیں گے کہ اس نظام میں کون سے نئے قوانین اور پالیسیاں متعارف کرائی گئی ہیں اور اس نظام کی خرابی کی حقیقی نوعیت کیا ہے؟ تو آپ کبھی بھی اپنی سیاسی جد وجہد کی صحیح سمت کا انتخاب نہیں کرسکیں گے۔

(3) پاکستان کے نوجوانوں کو اندھا دُھند سیاسی تقلید سے بچنا چاہیے۔ اسے اپنے شعور کو صیقل کرنا چاہیے اور سیاسی جد وجہد کا درست فیصلہ کرنے کے لیے معاشرے میں موجود تمام بیانیوں اور نظریات کے بارے میں درست معلومات بہم پہنچانی چاہئیں۔ ہمارے ملک میں بہت سی جماعتیں اور لیڈر موجود ہیں۔ زیادہ تر سیاست دانوں کیPRٹیمیں عوام کا دل جیتنے کے لیے اپنے لیڈر کے بارے میں مبالغہ آمیز پروپیگنڈہ کرتی ہیں اور لیڈر روایتی تقاریر میں عوام کا دل پرچانے کے لیے ان کی مانگ اور طلب کے مطابق اپنی تقریروں میں مختلف ’’ٹچ‘‘ دیتے رہتے ہیں۔ سیاسی اور سماجی طور پر ایک باشعور نوجوان خوب صورت ماسک کے پیچھے چھپے اصل چہرے کو پہچان لیتا ہے۔

آج اور کل جن سیاسی لیڈروں نے ایک خاص ردِ عمل میں اپنے آپ کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہا تھا، ہر ایک کے اقتدار کی رِم جھم نے ان کے چہرے کا غازہ (میک اپ) اُتار دیا ہے۔ محض اپنے مفادات کے تضاد کی بنیاد پر کسی ادارے کی چند شخصیات سے شکررَنجی کوئی نظریہ نہیں ہوتا، جب تک اس نظام کے حقیقی کردار کو چیلنج نہ کیا جائے۔ہماری آج کی سیاسی دنیا میں انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے جو معلومات ہم پڑھ رہے ہیں، بغیر شعوری نظریہ رکھے ان پر انحصار تباہ کن ہے۔ لہٰذا ملک، معاشرے اور اس میں موجود جماعتوں، بیانیوں اور نظام کے متعلق ایک شعوری تجزیاتی اندازِ فکر اپنائے بغیر درست قیادت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ معاشرے اور ریاست باشعور لیڈرشپ کے اقدامات سے ہی بنتے ہیں۔          

(مدیر)

5 / 12

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اذکار  (7)

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اذکار  (7)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

(نبی اکرمؐ کی مخصوص دعاؤں سے متعلق احادیثِ نبویہؐ کی تشریح)

(1) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہر ایک نبی کو ایک مقبول دعا عطا کی گئی تھی، جو انھوں نے اس دنیا میں ہی مانگ لی (اور قبول ہوگئی)۔ میں نے اپنی دعا اپنی اُمت کی سفارش کے لیے قیامت کے دن کے لیے محفوظ کرکے رکھ لی ہے۔ اور وہ ان شاء اللہ میری اُمت میں سے ہر اُس اُمتی کو ضرور حاصل ہوگی، جسے اس حال میں موت آئی کہ اُس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2223)

(تشریح:) مَیں کہتا ہوں کہ: انبیا علیہم السلام کی بہت سی دعائیں قبول کی گئی ہیں۔ اور ایسے ہی ہمارے نبی اکرمؐ کی بھی بہت سے مواقع پر دعائیں قبول کی گئی ہیں، لیکن ہر نبیؑ کو ایک ایسی خاص دعا عطا کی گئی ہے، جو اللہ کی اُس رحمت سے پھوٹتی ہے، جو اُس نبیؑ کی نبوت کی بنیاد اور اُس کا مبدأ ہے کہ (الف) اگر لوگ اُس پر ایمان لائیں تو اُس رحمت کے سبب سے اُن پر برکات نازل ہوتی ہیں اور نبیؐ کے قلب سے اُن کے فائدے کے لیے دعا پھوٹتی ہے۔ (ب) اور اگر وہ اُس نبی کی تعلیمات سے روگردانی کریں تو اُس کے سبب اُن پر ذلت کا عذاب مسلط ہوتا ہے اور نبی کے دل میں اُن کے لیے بددعا پھوٹتی ہے۔

ہمارے نبی اکرمؐ نے یہ بات شعوری طور پر جان لی کہ آپؐ کی بعثت کے عظیم مقاصد میں سے یہ ہے کہ: (الف) آپؐ کل انسانوں کی سفارش کرنے کے لیے (اس لیے کہ ارشادِ خداوندی ہے: ’’اے محمدؐ! آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم تمام کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘۔ -7 الاعراف: 158) (ب) اور آپؐ حشر کے دن میں اللہ کی خاص رحمت کے نزول کے لیے واسطہ بنیں گے۔ چناں چہ آپؐ نے وہ دعا محفوظ کرلی، جو حشر کے دن آپؐ کی نبوت کے اصل مبدأ سے پھوٹنے والی عظیم ترین دعا تھی۔

(مترجم عرض کرتا ہے کہ: امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ’’فیوض الحرمین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’میں کہتا ہوں کہ: یہ دعا اُن دعاؤں میں سے نہیں ہے، جو کسی طالب کی کسی چیز میں خاص رغبت سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ وہ دعا ہے کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربانی اور اُن پر رحمت کرتے ہوئے کسی رسول کو بھیجتا ہے تو بندوں کی حالت دو پہلوؤں سے خالی نہیں ہوتی۔ اگر وہ اُس نبی کی اطاعت کریں تو اللہ کی یہ رحمت اُن کے حق میں برکات کے نزول کا سبب بنتی ہے اور اگر وہ نافرمانی کریں تو اللہ کی یہ رحمت ناراضگی میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن پر سخت ناراض اور غضب ناک ہوتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں اُس قوم کے نبی پر الہام کیا جاتا ہے کہ وہ (فرماں برداروں کے لیے) دعا کریں اور (نافرمانوں کے لیے) بددعا کریں۔ ایسی دعا ہر نبیؑ کو صرف ایک ہی دی جاتی ہے، جو دراصل اللہ کے اُس لطف و مہربانی سے پیدا ہوتی ہے، جو اُس نبیؑ کی بعثت کا سبب ہوتا ہے۔ ہمارے نبی اکرم ﷺ نے اپنے نفسِ قدسیہ سے یہ پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی بعثت کا یہ مقصد قرار نہیں دیا کہ آپ انسانوں پر صرف دنیا میں مہربان ہوں، بلکہ آپؐ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ آپؐ قیامت کے دن اللہ کی عمومی رحمت کا سبب بھی بنیں۔ اور یہ بات ہمیں بتائی جاچکی ہے کہ: ’’نبی اکرمؐ آخرت میں تمام انبیا علیہم السلام کی اُمتوں پر گواہ ہوں گے‘‘۔ (بخاری، حدیث: 4487) اور تمام اُمتوں پر گواہی دینا آپؐ کی خصوصیات میں سے ہے۔ چناں چہ آپؐ کے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آپؐ اُس دعا کو _ جو آپؐ کے منشائِ نبوت سے پیدا ہوئی ہے _ قیامت کے دن کے لیے محفوظ رکھ لیں۔ اس راز کو پورے تدبر کے ساتھ محفوظ رکھیے‘‘۔ فُیوضُ الحَرَمَین، مَشْہَد: 40)

(2) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اے اللہ! میں نے آپ سے ایک عہد لیا ہے۔ بے شک آپ اُس کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ میں ایک انسان ہوں، پس اگر مسلمانوں میں سے کسی کو میں نے کوئی تکلیف دی ہو، اُس کو بُرا بھلا کہا ہو، اُس پر لعنت بھیجی ہو، اس کی پٹائی کی ہو تو میرے ان اعمال کو اُس بندۂ مؤمن کے لیے رحمت اور پاکیزگی اور ایسی قربت کا باعث بنا، جس کی وجہ سے تُو اسے اپنا مقرب بنا لے‘‘۔ ( مشکوٰۃ: 2224)

(تشریح:) میں کہتا ہوں کہـ: نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام کی اپنی اُمت پر رحمت اور اُن پر شفقت کا تقاضا ہوا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے سامنے پہلے سے ایک عہد و پیمان بھیجیں اور اس طرح آپؐ کی ’’ہمت‘‘ ’’حظیرۃ القدس‘‘ میں ایک مثالی وجود اختیار کرلے کہ جس سے مسلسل احکامات صادر ہوتے رہیں۔ یہ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپؐ کی قوم کے لیے آپؐ کی دلی طلب اور تمنا سے پھوٹنے والی پوشیدہ ہمت کا اعتبار کرتے ہیں، نہ کہ اُس ظاہری ہمت کا، جس کا تعلق گفتگو یا عمل سے ہے۔

(مترجم عرض کرتا ہے کہ: امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’القول الجمیل‘‘ میں ’’ہمت‘‘ کی تعریف یوں کی ہے: ’’ہمت‘‘ نام ہے انسانی خیالات کا ایک مقصد کے لیے ایک جگہ جمع ہوجانا اور تمنا اور طلب کی صورت میں عزم کا کچھ اس طرح سے پختہ ہوجانا کہ اس مقصد کے علاوہ کسی اَور چیز کا خیال بھی دل میں باقی نہ رہے۔ جیسا کہ ایک شدید پیاسے آدمی کا پانی طلب کرنا‘‘۔ القول الجمیل، فصل: 6)

یہ اس لیے کہ نبی اکرمؐ کا اپنے قول یا فعل سے کسی مسلمان کو کوئی سزا دینے کا ارادہ کرنا صرف اس لیے ہوتا ہے کہ انسانوں کے فائدے کے لیے اللہ کے پسندیدہ دین کا عملی نظام قائم کریں، لوگ بالکل سیدھے ہوجائیں، اُن کی کجی اور کمزوری دور ہوجائے۔

آپؐ کا کافروں کو سخت سزا دینے کا ارادہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ انھوں نے کفر اختیار کیا اور اُن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ اس طرح آپؐ نے اللہ کے حکم کی موافقت کی۔ اس لیے مسلمانوں اور کافروں کو دی جانے والی سزاؤں کی وجوہات الگ الگ اُمور ہیں، اگرچہ ظاہری شکل و صورت میں یہ ایک جیسی ہی کیوں نہ نظر آتی ہوں‘‘۔ (باب الاذکارِ وما یتعلّق بھا)

6 / 12

فلسفۂ تاریخ و عمرانیات کا بانی؛ علامہ ابن خلدونؒ   (1)

فلسفۂ تاریخ و عمرانیات کا بانی؛ علامہ ابن خلدونؒ   (1)

علامہ ابن خلدونؒ ہماری تاریخ کی اہم ترین شخصیت ہیں۔ آپؒ کا تعلق اگرچہ یمن کے علاقے ’حضرموت‘ سے تھا، ان کا سلسلۂ نسب بنی کندہ کے بادشاہوں سے ملتا ہے، جن کی عظمت اپنے علاقے میں مُسلَّم تھی، لیکن اَندلُس کی فتح کے بعد ان کے خاندان نے اَندلُس میں سکونت اختیار کر لی۔ جب اَندلُس کے حالات خراب ہوئے تو ان کا خاندان تیونس آ کر آباد ہو گیا۔ ابنِ خلدونؒ کی پیدائش تیونس ہی میں۷۳۲ھ / 1334ء میں ہوئی۔ تحصیلِ علم کی عمر کو پہنچے تو تیونس میں ہی رائج شدہ متداولہ علوم حاصل کیے۔ پہلے اس وقت کی روایت کے مطابق قرآن کریم حفظ کیا، پھر دیگر علومِ صرف و نحو، منطق و فلسفہ، ریاضی اور قرآن و حدیث میں علمی رُسوخ حاصل کیا۔

آپ کے نام کی وجہ تسمیہ: خلدون‘ خالد کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ خالد آپؒ کے خاندان کے پہلے شخص تھے، جو سرزمینِ عرب چھوڑ کر پہلی صدی ہجری کے آخر میں اندلس میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب مشہور یمنی صحابی حضرت وائل بن حجرؓ سے ملتا ہے۔ خلدون میں واؤ، نون کا اضافہ ہسپانوی زبان میں اسم مُکبَّر بنانے کے لیے ہوتا ہے۔ گویا خلدون کا مطلب ہے خالدِ اکبر۔ اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو خاندان اَندلُس میں آباد ہو گئے تھے، ان کی یہ عادت تھی کہ آباؤاجداد کے سلسلے سے نسبتاً کم معروف شخص کو منتخب کر کے اس کی طرف اپنی نسبت کرتے اور نام کے آخر میں واؤ نون کا لاحقہ بڑھا دیتے، تا کہ ان میں اور مقامی خاندانوں میں امتیاز ہو جائے۔ آپؒ کا پورا نام اس طرح ہے: ابو زید عبد الرحمن بن محمد بن محمد بن خلدون التونسی الحضرمی الاشبیلی المالکی۔

علامہ ابن خلدونؒ نے اپنے حالات پر مشتمل کتاب ’’رِحلۃ ابن خلدون فی المغرب و المشرق‘‘ لکھی۔ اس میں اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’میں نے اس زمانے کے مروّجہ نصاب پر پورا عبور حاصل کر لیا تھا۔ قرآن کریم حفظ کرنے کے ساتھ سبعہ قرأت پڑھیں۔ احادیث میں ’’مؤطا امام مالکؒ‘‘ اور ’’صحیح مسلم‘‘ کی تکمیل کی، تا ہم ’’صحیح بخاری‘‘ کے بعض اجزا تک رسائی ہو سکی۔ فقہ مالکی کی مشہور کتاب ’’المدوّنہ‘‘ کا مطالعہ کیا‘‘۔ ادبیات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: ’’ابو الفرج اصفہانی کی ’’کتابُ الأغالی‘‘ کا بہت بڑا حصہ یاد تھا‘‘۔

تاریخِ عرب سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ادوار میں علوم و فنون میں اس قدر تنوع اور پھیلاؤ نہیں تھا، لوگوں کے حافظے بھی اس دور کے تقاضوں کے مطابق اتنے زبردست اور مضبوط تھے کہ لاکھوں روایات اور ہزاروں اشعار‘ بلکہ دیوان کے دیوان یاد کر لینا‘ اس وقت کے تعلیمی تقاضوں میں داخل تھا۔ اسی طرح فقہ اور اصولِ فقہ میں بھی گہرائی حاصل کی اور ان دونوں فنون پر انھوں نے اپنے ’’مقدمہ‘‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے، جس سے اس کے مجتہدانہ خیالات اور دقتِ نظر کا پتہ چلتا ہے۔

اسی دوران تیونس میں طاعون کی بیماری پھیلی تو آپؒ کے والدین اور اکثر اساتذہ اس بیماری میں انتقال کر گئے۔ معاشی حالات ناگفتہ بہ ہوئے تو امیرِ تیونس کے دربار سے وابستہ ہو گئے اور وزارت کے عہدے تک پہنچے، لیکن درباری حاسدوں اور سازشوں سے تنگ آ کر غرناطہ (اندلس) چلے گئے۔ یہ سرزمین بھی راس نہ آئی تو مصر کارخ کیا۔ آپؒ کی شہرت مصر پہنچنے سے پہلے پہنچ چکی تھی۔ چناں چہ آپؒ مصر کی شہرۂ آفاق یونیورسٹی جامعہ ازہر میں درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ مصر کی حکومت نے فقہ مالکی میں خصوصی مہارت کی وجہ سے فقہ مالکی کا منصبِ قضا بھی تفویض کیا۔

7 / 12

معاشی بقا میں آفت زدہ پاکستانیوں کا کردار

معاشی بقا میں آفت زدہ پاکستانیوں کا کردار

اگست 2022ء میں سب مشکل میں تھے۔ ڈالر اور مہنگائی بے لگام تھے۔ آئی ایم ایف سرکار نالاں تھی کہ پاکستان وعدہ خلاف ہے۔ اس تناظر میں سب سانس روک کر بیٹھے تھے کہ کہیں 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی ادائیگی میں مشکلات نہ حائل ہوجائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مالیاتی سال میں آئی ایم ایف کے بعد 40ارب ڈالر کے لگ بھگ قرض چاہیے، تاکہ پہلے سے لیے گئے ڈالر سود سمیت واپس کیے جاسکیں اور کچھ اپنی گزران بھی کرلی جائے۔ سیاسی ابتری تازہ دم تھی اور اس میں روز افزوں ترقی ہورہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ 2022-23ء کا مالیاتی سال گزارنا شاید مشکل ہوجائے۔

پھر منظر یک دم تبدیل ہونے لگتا ہے اور پاکستانی مقتدرہ کا محبوب ترین تحفہ سیلاب کی تباہ کاری اور آفت میںمتشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔ آفات قدرتی ہوں یا انسانوں کی پیدا کردہ، اس میں ہم خاصے خود کفیل ہیں اور ملک پاکستان کسی بھی صورت ان سے چھٹکارا نہیں پاتا۔ اور 2022ء جیسے سیلاب تو صدیوں میں آتے ہیں۔ ان کا ڈیٹا اور تباہ کاریاں دکھا کر ناراض ساہوکاروں اور ڈونرز کو آسانی سے راضی کیا جاسکتا ہے۔ اب ایسی تباہی قسمت والوں کو ہی ملتی ہے۔ کوئی کیسی ہی کوشش کرلے، اس سطح کا انسانی المیہ پیدا کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ اس کے لیے معلوم نہیں کتنے افسران کو گالیاں سننی پڑیں اور نااہلی کا تاج سر پر سجانا پڑے، اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ قدرتی آفت کو انسانی المیے میں بدل دیا جائے اور امداد کے خشک چشموں کو پھر سے آباد کردیا جائے۔ اس طرح دو مسئلے حل ہو جائیں گے: ایک امدادی پیسہ آئے گا، جو قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہوجائے گا اور دوسرا پہلے سے کمزور اور ناقص کام پر بھی پردہ پڑجائے گا اور نئے سرے سے ترقیاتی کام شروع کیے جاسکیں گے۔

مسئلہ یہ ہے کہ 2020ء میں ہمیں کرونا کی صورت میں ایک موقع ملا تھا، لیکن اس وقت کی نااہل حکومت نے اس سے اتنا فائدہ نہیں اٹھایا جتنا حق بنتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں انتظامیہ صرف اموات کی گنتی ہی پوری کرتی رہی، تاکہ مقامی بجٹ اور عالمی امداد کے چشمے خشک نہ ہونے پائیں، لیکن عوام الناس اس بات سے بے خبر و بے اثر اپنی معمول کی زندگی گزارتی رہی اور ایک نادر موقع ہاتھ سے جاتا رہا۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاری میں کل 32 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور حالیہ سیلاب 2010ء کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ تباہ کن ہے۔ ایسے میں ایشین ڈیویلپمنٹ بینک ڈیڑھ ارب ڈالر، ایشین انفراسٹرکچر بینک نصف ارب ڈالر، ورلڈ بینک دو ارب ڈالر قرض کی سہولت پر تیزی سے کام کررہے ہیں۔ گویا چار ارب ڈالر اگلے ایک سے ڈیرھ سال میں ہماری معیشت کو مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کو پھر نرمی دکھانی ہوگی اور یوں دیگر امیر ممالک ہماری حالتِ زار پر آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ کچھ عطا بھی کردیں گے۔    

اس کی بدولت موجودہ مالی سال کے دوران جو ادائیگیوں کا عدم توازن اور قرضوں کی ادائیگیوں کا چیلنج موجود تھا، نہ صرف قابو میں آجائے گا، بلکہ مزید قرض بھی غریب پاکستانیوں کی امیر مقتدرہ کو مل سکے گا۔ گویا پہلے سے موجود قرض کے عظیم بھنڈار میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اسے اُتارے گا کون؟ وہ اگلے سال دیکھیں گے! کیوں کہ ہمارے پاس بے چاری عوام ہے جو قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور شاید ایک اور آفت ہماری منتظر ہو!

8 / 12

خوف کے بیوپاریو ں کی اصلیت

خوف کے بیوپاریو ں کی اصلیت

دوسری  جنگِ عظیم کے بعد امریکا نے یورپ کو اپنے تابع اور فرماں بردار رکھنے کے لیے اسے ایک نام نہاد معاہدے میں جکڑ لیا، جس کا نام ’’نیٹو‘‘ رکھا گیا۔ رکن ملکوں کو پا بند کیا گیا کہ وہ اپنی جی ڈی پی کا 2 فی صد نیٹو کے فنڈ میں جمع کروائیں گے۔ بدلے میں رُکن ملک پر حملہ تما م ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ امریکا نے یورپ کو روس کے ڈر اور خوف میں مبتلا کررکھا ہے۔ ڈر اور خوف کی کیفیت پیدا کر نے کے لیے ہر خطے کے اعتبار سے علاحدہ علاحدہ دہشت گرد جتھے تیار کر رکھے ہیں۔ عدمِ تحفظ کے احساس کو پروان چڑھانے کی مختلف حکمتِ عملیوں پر کام کر تا رہتا ہے۔ جتنا ڈر اور خوف کا ماحول بنانے میں کام یاب ہوتا ہے، اس کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے کاروبار کو فروغ ملتا ہے۔ ان کی پیداوار کی طلب بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔ یعنی جتنا زیادہ ڈر اور خوف‘ اتنے ہی زیادہ کاروباری منافع جات۔ ملک عدمِ تحفظ کے علاج کے لیے اسلحہ خریدتے ہیں اور ساتھ ہی ایسی جکڑ بندیوں کے پھندوں میں پھنس جاتے ہیں، جس کے تدارُک کے لیے ان کی اسلحے کی خریداری بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔

RD (رپورٹ اینڈ ڈیٹا) کے مطابق 14 ملکوں میں 2300 افراد اسلحے کی تیاری میں ملوث ہیں۔General Dynamic Corporation  امریکا کی پبلک سیکٹر میں اسلحہ بنانے والی سب سے بڑی فرم ہے، جو اسلحہ تیار کرکے دہشت گرد تنظیموں کو فراہم کرتی ہے۔ 2020ء تک اس میں ملازمین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ انھوں نے 90ہزار ملازمین کی مدد سے 37.9 ارب امریکی ڈالر کا اسلحہ تیار کیا تھا۔ ر یسر چ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مطابق 2019ء میں 20 ارب امریکی ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا گیا۔

3؍ ستمبر 2022ء کو چیک ریپبلک میں 70 ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا۔ یورو سٹی کی رپورٹ کے مطابق لوگ حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے کہ حکومت مستعفی ہو۔ کیوں کہ نیٹو کے مبینہ اقدامات کے باعث ہمارے لیے سردیوں میں گیس اور تیل کی قلت اور کمرتوڑ مہنگائی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ دوسری طرف جرمنی کے شہر پراگ اور فرانس کے مختلف شہروں میں ہنگامے دیکھنے میں آئے۔ اس کے علاوہ یورپ کے دیگر شہروں کے مظاہروں میں دن بہ دن شدت بڑھتی جارہی ہے۔

5؍ اکتوبر 2022ء کو اوپیک کا ایک اہم اجلا س آسٹریا کے شہر ’ویانا‘ میں منعقد ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اوپیک 2 ملین بیرل تیل کی یومیہ پیداوار کم کرے گا، تا کہ عالمی منڈی میں تیل کی پیداوار میں توازن قائم کرکے تیل کی عالمی قیمتوں پر قابو پایا جاسکے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے تیل کی عالمی منڈی میں پیداوار کم کرکے روس کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے، جس کی اسے سزا دی جائے گی۔ امریکا دنیا میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کے پاس تیل اور گیس کی جتنی مقدار موجود ہے، اسے چاہیے کہ اپنے اتحادیوں کی مذ کورہ پہلوؤں سے ہونے والی قلت کو پورا کرے۔ آج اس کے اتحادیوں کو تیل اور گیس کی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف امریکا اور یورپ مل کر روس پر پابندیاں عائد کرتے ہیں اور دوسر ی طرف تقاضا ہے کہ روس انھیں گیس اور تیل فراہم کرکے ان کے معاشی اور سماجی مسائل بھی حل کرے۔ یعنی ’’چوپڑیاں اور دو دو‘‘ ( نہ صرف فائدے اٹھائیں، بلکہ قیمت بھی دوسرے برداشت کریں)۔ عالمی منڈی میں امریکا کا مقابلہ پہلی دفعہ کسی طاقت ور قوت کے ساتھ ہے۔ 

npr کی 19؍ اکتوبر 2022ء کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ سٹریٹجیک آئل ریزور (Strategic Oil Reserve) کی مد میں 15 ملین بیرل تیل عالمی منڈی میں جاری کرے گا۔ یہ تیل اس مد کا حصہ ہے، جو صدر نے سال کے شروع میں 180 ملین بیرل کے کوٹے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ تیل کا اِجرا دسمبر میں متوقع ہے، تاکہ اس دوران ہونے والی گیس کی شدید قلت پر قابو پایا جاسکے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہر خاندان معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ دی گارڈین (The Guardian) اخبار 19؍ اکتوبر 2022ء کے مطابق جوبائیڈن نے الزام لگایا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیو ٹن کے یوکرین پر حملے کی وجہ سے گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر شاید بھول گئے ہیں کہ انھیں کے ایما پر سعودی عرب نے تیل کی قیمتوں کو غیر فطری طریقے سے گرا کر جو 2014 میں 98.97 ڈالر فی بیرل تھیں، 2015ء میں محض 52.32 ڈالر فی بیرل کردی تھی۔ اس کے بعداگلے سال 2016ء میں اسے 43.67 ڈالر فی بیرل پر لے آیا تھا۔ یہ ایک کھلی جنگ تھی۔ ا س وقت امریکی مؤقف تھا کہ ایک ہی جھٹکے میں تینوں ملکوں کی معیشتوں کو تباہ برباد کردیا جائے۔ کیوں کہ تینوں ملکوں کی معیشتوں کا دار و مدار تیل اور گیس کی فروخت پر مبنی تھا۔ دوسرے لفظوں میں اگر ان کے بجٹ پر حملہ کردیا جائے تو وہ معاشی طور پر تباہ و برباد ہو کر امریکا کے تلوے چاٹیں گے۔

روس اور ایران آزاد قومیں تھیں۔ انھوں نے معروضی حالات کے پیشِ نظر فیصلے کرکے اپنی اپنی قوم کو معاشی بحران سے نکال لیا، جب کہ سعودی عرب کی معیشت آج تک نہیں سنبھلی۔ اسے طرح طرح کے ٹیکس عائد کرکے اپنی عوام پر عرصۂ حیات تنگ کرنا پڑا۔ اس وقت امریکا نے سعودی عرب کو بحران سے نکالنے کی رتی برابر کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ اُلٹا اسے 10 ارب امریکی ڈالر کے اسلحے کا معاہدہ کرکے اس کی اقتصادیات کا جنازہ نکال دیا۔ وہ معاشی دلدل میں پھنس گیا۔ دوسری طرف ایران اور روس کو بھی معاشی بحرانوں میں سے گزرنا پڑا۔ آج امریکی صدر سعودی عرب کو دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ سعودی عرب کو امریکی نافرمانی کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اس کا جرم کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے کیوں سوچتا ہے؟ آج امریکی نظام بھی ایسے ہی لڑکھڑا رہاہے، جیسے جوبائیڈن چلتے ہوئے لڑکھڑاتا ہے۔ دھمکیاں دینے کا دور گزر چکا ہے۔ سعودی عرب کی بادشاہت کی طرف سے ایک شہزادے نے امریکا کو جواب میں کہا ہے کہ: ’’ہماری شہنشایت کو دھمکیاں نہ دی جائیں‘‘۔ (فاکس نیوز 18اکتوبر 2022ء)

2021ء کے اعدادوشمار کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی یومیہ پیداوار 89.9 ملین بیرل تھی۔ اوپیک کے اعلان کے مطابق یومیہ دو ملین بیرل تیل عالمی منڈی میں کم کر دیتا ہے اور امریکی تیل کی کمپنیاں ایک ماہ کے دوران صرف 15 ملین تیل کا اجرا کرتی ہیں تو عالمی تیل کی منڈی کی طلب کے تقاضا کے تحت ’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘ کے مترادف ہوگا۔

9 / 12

پشاور کیمپس کا قیام اور حضرت شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی خدمات کا اعتراف

پشاور کیمپس کا قیام  اور حضرت شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی خدمات کا اعتراف

۲۴؍ ربیع الاوّل۱۴۴۴ھ / 21؍ اکتوبر 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) پشاور کیمپس کے افتتاح کے موقع پر خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:

’’معزز دوستو! ہمارے لیے یہ بہت ہی مبارک باد کا موقع ہے کہ ہم یہاں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ پشاور کیمپس کی افتتاحی تقریب میں جمع ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کے غلبے کے لیے جو مشن اور فکر حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد  رائے پوریؒ نے شروع کیا تھا، وہ آج پھلتا پھولتا ہوا مسلسل ترقیات کی منازل طے کر رہا ہے۔ الحمد للہ! حضرتؒ کی دعاؤں، توجہات، سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے فیض اور حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و عمل کے فروغ کی برکات ہیں کہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا فکر، جس کا عزم آج سے تین چار سو سال پہلے ولی اللّٰہی سلسلے کی جماعت نے کیا تھا، وہ پاکستان میں بالخصوص ترقیات کے مراحل طے کر رہا ہے۔ نوجوانوں میں جو دین کی طلب اور تڑپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ نے محسوس کی تھی، اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے پہلے جمعیت طلبائے اسلام (1967ء)، پھر تنظیمِ فکرِ ولی اللّٰہی (1987ء) اور پھر 2001ء میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کی صورت میں اولیاء اللہ کے اس فکر کو پھیلانے کے لیے جو جدوجہد اور کوشش کی تھی، آج وہ تن آور درخت بن چکا ہے۔ اس سے یقینا حضرت اقدس رحمۃ اللہ علیہ کی روح ضرور خوش ہوگی۔

پھر پشاور کیمپس کا افتتاح ایک ایسے مبارک مہینے ربیع الاوّل میں ہو رہا ہے، جو نبی اکرم ﷺ سے نسبت رکھتا ہے۔ آپؐ اسی ماہِ مبارک میں دنیا میں تشریف لائے،ا سی ماہِ مبارک میں وحیٔ الٰہی کی ابتدائی صورت سچے خوابوں کی شکل میں آپؐ پر ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ اسی مبارک مہینے میں آپؐ نے مدینہ منورہ ہجرت کرکے ریاستِ مدینہ کی تشکیل کی۔ اور یہی مبارک مہینہ ہے، جس میں نبی اکرمؐ اپنا مشن مکمل کرکے اللہ کے حضور تشریف لے گئے۔ رسول اللہؐ کی بعثت کا بنیادی مقصد دنیا میں دینِ حق کو تمام باطل ادیان پر غالب کرنا تھا۔ (-9 التوبہ: 33) دشمن چاہتا ہے کہ وہ اللہ کے اس نور کو اپنے منہ سے بجھا دے، اس چراغ کو گُل کردے، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نور کو کامل کرکے چھوڑے گا۔ (التوبہ: 32) اللہ کے نور کو روشن کرنا اور پھر اسے مکمل کرنا اور پھر اسے غالب کرنا‘ اس کا واحد ذریعہ تبلیغ ہے، جس کا رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا۔ (-5 المائدہ: 67)

ادارہ رحیمیہ پشاور کیمپس کا قیام اسی تبلیغ کے تسلسل کا اگلا پڑاؤ ہے۔ اس پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم ملک کے ایک اہم ترین شہر پشاور میں تعلیم و تعلّم اور تربیت کے سلسلے کو مزید منظم کرنے، دوستوں کے ذہن اور فکر کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی پوزیشن میں آچکے ہیں‘‘۔

آپؐ کو حقِ رسالت کی ادائیگی کا حکمِ خداوندی

اور نصرتِ الٰہی کا وعدہ

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! جو آپ پر ہمارا حکم نازل کیا جاچکا ہے، اس کی آپ تبلیغ کیجیے‘‘۔ (-5 المائدہ: 67) رسول اُس ذات کو کہا جاتا ہے کہ جو انسانوں پر باقاعدہ حکمران بنا کر، اتھارٹی بنا کر بھیجا جائے اور وہ احکامات کا نفاذ کرنے اور نظام قائم کرنے والا ہو۔ حکمرانِ حقیقی اور فرماں روائے کائنات کا پیغام لوگوں تک پہنچا دینا‘ آپؐ کی ذمہ داری ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ مشہور تابعی مجاہد ابن جبرؒ فرماتے ہیں کہ ہم سے صحابہؓ نے یہ بات بیان کی ہے کہ رسول اللہؐ پر جب یہ آیت ’’ ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغۡ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۖ ﵞ  ‘‘ (-5 المائدہ: 67) کا اتنا ٹکڑا نازل ہوا تو رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’إنّما أنا واحد، کیف أصنع؟‘‘ (میں تو اکیلا ہوں، یہ کام میں کیسے کر پاؤں گا؟) سارے انسان میرے مخالف ہو کر میرے خلاف جمع ہوچکے ہیں۔ یہ کام کرنا تو بڑا مشکل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا۔ اس کے جواب میں اللہ پاک نے اگلی آیت نازل کردی کہ: اے محمدؐ! اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا، آپ نے اس ذمہ داری کا عزم نہ کیا تو آپ کو جو ہم نے رسالت اور حکومت دی ہے، اور جو اتھارٹی دی ہے، آپ نے اُس کا حق ادا نہیں کیا۔

باقی رہی یہ بات کہ آپ کہتے ہیں کہ میرے خلاف سارے لوگ جمع ہیں، تو ’’ان تمام انسانوں کی مقابلے پر اللہ آپ کی حفاظت کا ذمہ دار ہے‘‘۔ (-5 المائدہ: 67) آپ کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمے لے لی ہے۔ ساری دنیا مخالف ہے تو ہوتی رہے۔ سارے قبیلے آپ کے مخالف ہوں تو ہوتے رہیں۔ آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ جو جو حکم اس کتاب میں نازل ہوا ہے، آپ کو وہ ٹھیک ٹھیک آگے پہنچانا ہے۔ اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی۔ اور اگر ایک ذرا سا بھی حکم آپ نے آگے نہیں پہنچایا، تو آپ رسالت کا حق ادا کرنے والے نہیں ہیں۔ یہ نہیں کہ اس دینِ حق کی کچھ باتیں آپ پہنچا دیں اور کچھ باتیں اس لیے بیان نہ کریں کہ شاید اس کے نتیجے میں لوگ آہستہ آہستہ دین میں آجائیں گے! نہیں! جو حکم اللہ نے دے دیا ہے، آپ کو ہر حال میں یہ پہنچانا ہے۔

رسول اللہؐ کے نائبین حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرفاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت امیر معاویہؓ، حضرات حسنینؓ اور بعد میں آنے والے اولوالعزم اولیاء اللہ اور علمائے ربانیین نے ہر دور میں جب دعوت کا آغاز کیا اور اللہ تعالیٰ کے کامل و مکمل پیغام کو منتقل کیا تو دراصل وہ اکیلے تھے۔ ان کی کیفیت ایسی ہی تھی کہ: ’’إنّما أنا واحد، کیف أصنع؟‘‘ (میں تو اکیلا ہوں، یہ دین آگے منتقل کیسے ہوگا؟)۔ لیکن انھوں نے مخلصین کی جماعت تیار کی اور جماعت کی اجتماعی طاقت نے مل کر اس پیغام کو آگے مکمل منتقل کیا۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ نے قیامِ پاکستان کے بعد جب دین کے مکمل پیغام کو آگے منتقل کیا تو وہ بھی اکیلے تھے، ہر طرف مخالفت اور جعلی فتوؤں کا سیلاب تھا، لیکن آپؒ ڈٹے رہے، جماعت تیار کی، ادارے بنائے، جس کا تسلسل پشاور کیمپس اور دیگر شہروں میں ادارے کے کیمپسز (campuses) کا وجود ہمارے سامنے ہے‘‘۔

سوادِ اعظم کا حقیقی مفہوم

اور حضرت شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی مثالی استقامت

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’حضرت مجدد الف ثانیؒ نے جب دین (شریعت، طریقت اور سیاست) کے مکمل پیغام کو آگے منتقل کرنے کا کام شروع کیا تو یہاں سارے بڑے بڑے پیر اور مولوی مخالف ہوگئے۔ فتوے لگانے شروع کردیے۔ حدیثیں سنانی شروع کردیں کہــ’’سوادِ اعظم کی اتباع کرو‘‘۔ کیوں کہ سوادِ اعظم تو ہمارے ساتھ ہے، آپ اکیلے ہیں۔ تو مجدد صاحبؒ نے یہی جواب دیا کہ: ’’ایک اللہ والا، جو اللہ کے دین کے مکمل پروگرام کے غلبے کے لیے کام کرے، وہ خود ہی سوادِ اعظم ہے‘‘۔ (مکتوباتِ امامِ ربانی حضرت مجددؒ)

بنیادی بات یہ ہے کہ کامل تبلیغ کا یہ وہ تسلسل ہے، جو رسول اللہ ﷺ سے چل کر حضرت مجدد الف ثانیؒ، امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے ہوتے ہوئے حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسن، امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ، حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مفتیٔ اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ دہلویؒ تک پہنچا۔

پاکستانیو! تم اللہ کا شکر ادا کرو کہ اُن تمام بزرگوں کے اس تسلسل کو ایک آدمی حضرت مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی جماعت نے تم تک پہنچایا۔ حال آںکہ اپنے بھی مخالف، باہر کے بھی مخالف، ساری طرف سے فتوؤں کی یلغار، انھوں نے کہا کہ اگرچہ میں اکیلا ہوں، لیکن رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ذمہ داری ہے کہ دینِ اسلام کا پورا پیغام نئی نسل تک منتقل کرنا ہے۔ 1950ء میں پاکستان آئے تو اکیلے تھے۔ ان کی جدوجہد کی پوری تاریخ ہے۔ پہلے جمعیت طلبائے اسلام کی چھتری بنا کر نوجوانوں کو دینِ حق کا یہ پیغام دیا۔ شرپسندوں نے اُس میں تخریب پیدا کردی۔ پھر تنظیم فکرِ ولی اللّٰہی بنائی اور شرپسند دائرے کو باہر نکال کر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے ایک منظم جدوجہد کی، ایک بلند فکر اور نظریے پر اس کے لیے کردار ادا کیا۔

پھر اس فکر اور نظریے کو درست منہج پر رکھنے کے لیے مراکز قائم کیے۔ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کا مرکز بنایا، تاکہ ان تمام جدوجہد کو منظم اور مربوط کرکے اُس کے لیے کردار ادا کیا جائے کہ وہ جامع اور مکمل فکر جو رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کو دیا تھا، اور اُس کا عقائد سے لے کر جہاد و قتال تک، ایمان سے لے کر فرائض تک، تمام دین کا مکمل اور جامع پروگرام امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فلاسفی کی روشنی میں انسانیت کے سامنے رکھا جائے۔

آپؒ کی پچاس سال کی جدوجہد کے نتیجے میں جو سمجھ دار لوگ آپ کے ساتھ وابستہ ہوئے، اُن کو شاہ صاحبؒ کی براہِ راست کتابوں اور تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزارنے کے عمل، اُس کے فروغ اور نشر و اشاعت کے لیے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کی بنیاد رکھی۔ پورے علومِ قرآنیہ کے پھیلانے کا انسٹیٹیوٹ بنایا۔ چناں چہ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے لیے 27؍ جولائی 2001ء کو ایک جگہ خریدی گئی اور 14؍ ستمبر 2001ء کو درسِ قرآن حکیم سے اُس کا افتتاح ہوا‘‘۔

 

 

 

پاکستان میں ولی اللّٰہی فکر و نظریے کی حامل اجتماعیت

کے دائرۂ کار کا جامع خلاصہ

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’2001ء میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کی افتتاحی تقریب میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی موجودگی میں ادارہ کے مقاصد و اہداف واضح کرتے ہوئے ہم نے (درجِ ذیل) دس اُمور واضح کیے تھے، جو دینِ اسلام کی مکمل جامعیت کے حامل ہیں۔ اور انھیں مقاصد و اہداف پر آج بھی ادارہ عمل پیرا ہے:

الف:       علومِ قرآنیہ کی بنیادی اور حقیقی تعلیمات نوجوان نسل کے سامنے پیش کرنا ، اس کے لیے علومِ قرآنیہ کے چار بنیادی شعبوں؛ تفسیر، حدیث، فقہ اور سلوک و طریقت کے حوالے سے:

                                1۔           قرآن حکیم کی مستند تفسیر کا شعور پیدا کرنا

                                2۔           احادیث ِنبویہؐ کی مسلمہ تشریح سے آگہی دینا

                                3۔          فقہ اور قانونِ اسلامی کی اجماعی تفہیم واضح کرنا

                                4۔            دینی تصوف اور سلوک و طریقت کی اساس پر باطنی تربیت اور تزکیۂ قلوب

                                                                کے لیے انسانیت کے بنیادی اخلاق پر تربیت کرنا

ب:                         انسانی سماج کی تشکیل کے بنیادی علوم اور ان کے قرآنی اصول سے واقفیت بہم پہنچانا:

                                5۔           عمرانیات (Sociology) اور اس کے قرآنی اصول

                                6۔           سیاسیات (Political Science) اور اس کے قرآنی اصول

                                7۔          معاشیات (Economics) اور اس کے قرآنی اصول

                                8۔           تاریخ (History) اور اس کے قرآنی اصول

                                9۔           فلسفہ (Philosophy) اور اس کے قرآنی اصول

                                10۔ حالاتِ حاضرہ اور قرآنی نقطۂ نظر سے ان کا تجزیہ کرنا

یہ ادارے کے قیام کا دس نکاتی ایجنڈا ہے۔ الحمد للہ! ان بیس بائیس سالوں میں اس ایجنڈے کے مطابق تمام مراکز میں علومِ قرآنیہIاورIIکے نصاب کے مطابق تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔ نیز اب علومِ قرآنیہIIIکا نصاب بھی تیار ہے۔

یاد رکھئے! عمارتیں اصل نہیں ہوتیں۔ حضرتؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’عمارت تو ایک مورچہ ہوتا ہے۔ اصل تو وہ کام اور مقصد ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر جدوجہد اور کوشش کی جاتی ہے‘‘۔ الحمد للہ! اب ہمارے پاس یہ جگہ دستیاب ہوگئی۔ اب اس جگہ میں ہمارا کام مزید بڑھنا چاہیے۔ اور اس اُصول پر علومِ قرآنیہ کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ ضرور بڑھنا چاہیے اور بڑھے گا ان شاء اللہ! ہم سب مل کر اجتماعی طور پر پوری لگن، ذوق شوق کے ساتھ اس کے لیے مزید آگے کام کریں گے تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی روح بھی خوش ہوگی۔ اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کا پیغام منتقل ہوگا تو آپؐ کی محبت اور عشق اور ربیع الاوّل کے مہینے کی برکات بھی ہمیں حاصل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پوری توانائی اور شعور کے ساتھ، منظم انداز میں جدوجہد اور کوشش کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔

10 / 12

امینُ المِلّت سردار محمد امین خان کھوسو ؒ

امینُ المِلّت سردار محمد امین خان کھوسو ؒ

حریت و آزادی کی تحریکات میں وادیٔ مہران کسی طور بھی وطنِ عزیز کے کسی بھی حصے سے پیچھے نہیں رہی۔ اس نے ہمیشہ ہراوَل دستے کا کام سر انجام دیا ہے۔ سندھ دھرتی کے حریت پسندوں میں ایک اہم نام سر دار محمد امین خان کھوسو ہیں۔ وہ حاجی عبد العزیز خان کھوسو کے ہاں 11؍ دسمبر 1910ء میں جیکب آباد (سندھ) کے ایک قصبے عزیز آباد میں پیدا ہوئے۔ آپؒ ایک بلوچ زمین دار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔

1934 ء میں علی گڑھ سے بی۔ اے پاس کیا اور پھر ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ وہیں سٹوڈنٹس یونین میں عہدے پر بھی رہے۔ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں انھیں کافی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں انھیں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ سے تعارف ہوچکا تھا۔ وہ حضرت سندھیؒ کے سیاسی فکر و عمل کے دل و جان سے معترف تھے۔ اسی واسطے سے ہی وہ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و نظریات سے متعارف ہوئے۔ انھیں امامِ انقلابؒ کے ساتھ عشق کی حد تک لگائو تھا۔ یہ محبت یک طرفہ نہ تھی، بلکہ مولانا سندھیؒ کو بھی ان سے اسی قدر تعلقِ خاطر تھا۔ مولاناؒ ان پر بہت اعتماد فرماتے تھے۔ انھیں اپنا کہتے تھے۔ فرماتے تھے کہ: ’’خان میرا ہے، میرا خان مجھے جانتا ہے‘‘۔ جو کوئی بھی امامِ انقلابؒ پر تنقید کرتا تو وہ اس کا مدلل ردّ پیش کرتے تھے۔ امامِ انقلابؒ کے بارے میں موصوفؒ کی رائے یہ تھی کہ: ’’جب تک مولانا (سندھیؒ) سے ملاقات نہ ہوئی تھی تو اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ اسلام کیا ہے؟ اس کی تعلیمات کیا ہیں؟ اسلام کا مطالبہ کیا ہے؟ ہم چند رسومات و روایات کو ہی اسلام سمجھے ہوئے تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ زمانے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اسلام ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے؟ مولانا سندھیؒ سے ملے تو ہمیں پتہ چلا کہ اسلام در حقیقت ہے کیا؟‘‘

آپؒ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نظریۂ ’’فک کل نظام‘‘ سے متأثر تھے اور وطنِ عزیز سے انگریز سامراج کو نکالنے میں پیش پیش رہے۔ آپؒ نے اپنی تحریروں اور خاص طور پر تقاریر کے ذریعے ہر خاص و عام تک مولانا سندھیؒ کا پیغام پہنچایا۔ 

علی گڑھ سے واپسی پر جیکب آباد میں تشریف لائے۔ 1937ء میں کاشت کاروں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود اور اُن کی مشکلات کو حل کر نے کے لیے بنائی گئی ’ہاری کمیٹی‘ کے صدر منتخب ہوئے۔ 1938ء میں سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان کی تقریباً تمام بڑی جماعتیں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو اپنے وطن ہندوستان واپس لانے کے لیے تحریکات چلا رہی تھیں۔ انھیں کاوشوں میں ایک نمایاں نام سردار محمد امین خان کھوسو کا بھی تھا۔ انھوں نے اپنے قریبی دوست اور اس وقت کے سندھ کے وزیر اعلیٰ شہید‘ اللہ بخش سومرو کے ساتھ مل کر یہ ضمانت دلوائی کہ مولانا واپسی پر عدم تشدد کے پابند ہو کر سیاسی کام کریں گے۔ تب کہیں جا کر مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو وطن واپسی کی اجازت ملی۔ موصوفؒ فرماتے ہیں کہ: ’’حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو وطن واپس بلانے میں جو کوششیں میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کی ہیں، وہ بارآور ہوئیں تو یہ میرے لیے بہت بڑی خوشی کی بات ہے‘‘۔

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ سردار موصوفؒ کی کاوشوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’جب مجھے معلوم ہوا کہ حکومتِ سندھ میری جلا وطنی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہے تو میں سوچتا تھا کہ اس معاملے میں حکومت کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ اس نظام اور مشینری کے پیچھے کوئی شخص ہے جو اسے حرکت دے رہا ہے۔ حجاز میں اس بات کا پتہ لگانا میرے لیے ممکن نہیں تھا، لیکن وطن واپس آکر پتہ چلا کہ وہ ’میرا خان ہے‘۔‘‘

سردار موصوفؒ کا ایک اور اہم کام یہ بھی تھا کہ انھوں نے سندھ میں موجود ان تمام اکابرین کے درمیان رابطوں کا کام بھی کیا، جنھوں نے حریت و آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان حضرات میں مولانا محمد صادق کراچویؒ، مولانا دین محمد وفائیؒ اور حکیم فتح محمد سہوانیؒ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

1941ء میں برٹش حکومت کی جانب سے بغاوت کے الزام میں ان پر مقدمہ چلایا گیا، جو تقریباً ایک سال تک جاری رہا۔ 1946ء میں سندھ مسلم لیگ کا جوائنٹ سیکرٹری بنایا گیا، لیکن ان سے رہنمائی لینے کے بجائے مسلم لیگی قیادت کی جانب سے ان پر حملہ کرایا گیا۔ یہاں تک کہ تقسیم کے بعد ان کو اپنے ہی گھر میں نظر بند کردیاگیا۔ یہ سلسلہ تقریباً دو سال تک چلتا رہا۔ انھی الم ناک واقعات کے بعد 1950ء تا 1970ء انھوں نے یکسو ہوکر زندگی گزاری۔ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لیا۔ زیادہ تر وقت مطالعے میں گزرتا تھا۔ اگست 1969ء میں لاہور میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ پر ہونے والے سیمینار میں آپؒ نے امامِ انقلابؒ کو جن الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور جو اپنی یاد داشتیں بیان کی ہیں، وہ قابلِ مطالعہ اور تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔

وہ سندھی ادب کے بہترین ادیب اور مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کے  خطیب بھی تھے۔ تحریکِ پاکستان کے بعد جب انھوں نے ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو برسرِ اقتدار دیکھا، جن کے خلاف ان کی تمام تر جدوجہد رہی تو بہت زیادہ تکلیف محسوس کی۔ انھوں نے پاکستان کے مستقبل کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا، جو کہے تو گئے تھے طنزیہ طور پر، لیکن آج حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ آپؒ نے لکھا ہے: ’’سربراہِ مملکت کاقصر عالی شان‘ سو ایکڑ زمین میں فنِ تعمیر کا شاہکار ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر عوام کے غم میں گھلا جارہا ہوگا اور اسلامی خدمت کے جذبے سے نرم و گداز بستروں پر بے چینی کی کروٹیں لے رہا ہوگا۔ اور اس کے قصرِ عالی شان کی طرف جانے والے تمام راستے عوام کے لیے بند ہوں گے‘‘۔

سردار محمد امین خان کھوسوؒکا انتقال 5؍ دسمبر 1973ء کو کراچی میں ہوا۔ تدفین ان کے آبائی گائوں عزیزآباد، ضلع جیکب آباد میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اکابرین کے فکر و عمل کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

11 / 12

افتتاحی تقریب ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور، پشاور کیمپس

افتتاحی تقریب ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور، پشاور کیمپس

اِدارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کا 2001ء سے شروع ہونے والا سفر کراچی، سکھر، صادق آباد، ملتان اور راولپنڈی کی منزلیں طے کرتا ہوا پشاور آ پہنچا ہے! الحمدللہ علیٰ ذالک۔۲۴؍ربیع الاول۱۴۴۴ھ / 21؍اکتوبر 2022ء بروز جمعہ وہ مبارک دن ہے کہ جس روز ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور مین کیمپس کے بعد ایسے پہلے کیمپس کے افتتاح کا دن تھا‘ جسے مکمل طور پر باقاعدہ نقشے کے تحت تعمیر کیا گیا۔ اس سے قبل تمام ریجنل کیمپسز پہلے سے تعمیر شدہ بلڈنگ کی صورت میں خرید کیے گئے تھے۔ سال 2016ء میں پشاور کیمپس کے لیے زمین خریدی گئی تھی۔ 5؍جون 2021ء کو گراؤنڈ بریکنگ کا آغاز ہوا۔ ستمبر 2021ء میں باقاعدہ طور پر کھدائی کے بعد تعمیراتی کام کا آغاز ہوا اور آج بتاریخ 21؍اکتوبر 2022ء الحمد للہ! باقاعدہ باضابطہ طور پر افتتاحی تقریب کا انعقاد ہوا۔

جمعرات کی نمازِ عصر حضرتِ اقدس مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے پشاور کیمپس میں ادا کی۔ ملک بھر سے احباب کی آمد شب جمعہ سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ نمازِ جمعہ کی تقریب کے ساتھ ہی افتتاحی تقریب رکھی گئی تھی۔ ادارہ رحیمیہ لاہور کے ڈائریکٹر ایڈمن حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن نے ’’اجتماعی تعلیم و تربیت میں مراکز کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے افتتاحی تقریب کا آغاز فرمایا۔ اُن کے بعد صدر ادارہ حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی نے خطاب فرمایا۔ بعد ازاں سرپرست ادارہ حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن نے حاضرین سے ’’سماجی تبدیلی کی نبویؐ جدوجہد میں دارِ ارقم کی مرکزی اہمیت‘‘ کے حوالے سے خطاب فرمایا۔اس کے بعد نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے قبل حضرتِ اقدس مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن، مفتی عبد المتین نعمانی، مفتی محمد مختار حسن، مفتی عبد القدیر، مولانا صاحبزادہ سید رشید احمد اور محترم جناب قاری محمد ایاز جدون مدظلہم کے ہمراہ پشاور کیمپس کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی فرمائی۔

اس تقریبِ سعید میں ملک بھر سے سینکڑوں احباب نے شرکت فرمائی۔ جے ٹی آئی کے سابق مرکزی ناظمِ عمومی حضرت سیّد مطلوب علی زیدی، مولانا مفتی محمد اشرف عاطف، جی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر جناب حافظ محمد طاہر، ادارہ رحیمیہ لاہور کی مجلسِ شوریٰ کے اراکین میں سے مولانا ڈاکٹر محمد ناصر، مولانا محمد عباس شاد اور ادارہ کی مجلسِ منتظمہ کے چنیدہ اراکین نے شرکت کی۔ ادارہ رحیمیہ خیبر پختونخواہ کے صوبائی کوآرڈینیٹر جناب انجینئر ساجد علی اور ان کی ٹیم اور ادارہ رحیمیہ پشاور کے ریجنل کوآرڈینیٹر جناب سیّد عمیر بابر زیدی اور اُن کی ٹیم نے سینکڑوں احباب سمیت شرکت فرمائی اور تمام لوگوں کی میزبانی کی۔

ادارہ رحیمیہ پنجاب کے صوبائی کوآرڈینیٹر جناب شہزاد احمد شاہ اور اُن کی ٹیم، ادارہ رحیمیہ راولپنڈی کیمپس کے ایڈمنسٹریٹر جناب جاوید حمید، ادارہ رحیمیہ لاہور کے ریجنل کوآرڈینیٹر جناب محمد عبد اللہ فہدرضا، جناب ڈاکٹر محمد آصف نوید اور اُن کی ٹیم نے شرکت کی۔

نمازِ جمعہ کے بعد حضرتِ اقدس مدظلہ، سرپرست ادارہ اور صدر ادارہ کی طرف سے تعمیرات میں حصہ لینے والی ٹیم میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ ادارہ کی تعمیرات کے سول ورک پر جناب انجینئر مدثر ستار، آرکیٹکچرل ورک پر جناب انجینئر علی ندیم خالد، الیکٹریکل ورک پر جناب انجینئر علی رضا، سٹرکچرل ورک پر جناب انجینئر محمد ساجد اور پروجیکٹ منیجر جناب انجینئر واجد اللہ کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا۔

نمازِ جمعہ کے بعد حضرتِ اقدس مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ’’تبلیغِ حق میں رسول اللہ ﷺ کا بے لاگ کردار؛ اُمت میں آپؐ کے اُسوہ کی اتباع کی روشن روایت اور اس کے عصری اہداف‘‘ کے موضوع پر پُرتاثیر خطاب فرمایا۔ اور حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی جد و جہد کو زبردست خراجِ عقیدت و تحسین پیش فرمایا کہ جن کی بدولت آج اس دور میں ہم امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور اُن کی فکر سے روشناس ہوئے اور آج اس مقام تک پہنچے۔ آخر میں حضرتِ اقدس مدظلہ کی دعا کے ساتھ یہ مبارک تقریب تکمیل پذیر ہوئی۔

12 / 12

تقریب ِافتتاح صحیح بخاری شریف

تقریب ِافتتاح صحیح بخاری شریف

مورخہ۱۳؍ شوال المکرم۱۴۴۳ھ / 15؍ مئی 2022ء بروز اتوار کو ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر ادارہ میں دورۂ حدیث شریف کے طلبا کا صحیح بخاری شریف کا پہلا سبق ہوا۔ اس سلسلے میں ادارہ رحیمیہ میں ’’تقریبِ افتتاح صحیح بخاری شریف‘‘ منعقد ہوئی۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ پھر نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔ اس کے بعد سب سے پہلے حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن مدظلہ (ڈائریکٹر ایڈمن ادارہ) نے عید ملن کے حوالے سے گفتگو کی ، جس کا موضوع ’’اجتماعی مسرت کے لیے سماجی استحکام کی اہمیت‘‘ تھا۔

ان کے بعد حضرت مولانا مفتی عبدالمتین نعمانی مدظلہ (صدر ادارہ) نے ’’فہمِ حدیث میں ولی اللّٰہی جماعت کا اُسلوب‘‘ کے موضوع پر خطاب ارشاد فرمایا۔ تقریب کے آخر میں حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے دورۂ حدیث شریف کے طلبا کو پہلے سبق کا آغاز کراتے ہوئے صحیح بخاری شریف کی پہلی حدیث پر جامع اور مفصل خطاب ارشاد فرمایا۔ اور اس پر مفصل روشنی ڈالی کہ کس طرح سے امام بخاریؒ نے دین کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کو مرتب و مدوّن کیا، جس کی ایک بنیادی جھلک اور خاکہ خود صحیح بخاری کے مکمل نام ’’الجامع المسند الصّحیح المختصر مِن اُمور رسول اللّٰہ ﷺ و سننہ و أیّامہ‘‘ کے اندر خود موجود ہے۔ اور صحیح بخاری نے تاریخ اسلام کے ہر دور میں اُمت کی جس طرح رہنمائی فرمائی، اُس پر روشنی ڈالی۔ نیز حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے برعظیم پاک و ہند کو اس عظیم کتاب سے کیسے روشناس کروایا، اس پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔

اس تقریب میں کثیر تعداد میں علما، نوجوان طلبا ، پروفیسرز، ڈاکٹرز، و کلا اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں حضرت مولانا مفتی عبدالقدیر (ناظمِ تعلیمات ادارہ)، حضرت مولانا ڈاکٹر محمد ناصر (جھنگ)، حضرت مولانا قاضی محمد یوسف (حسن ابدال)، حضرت مولانا ڈاکٹر تاج افسر (اسلام آباد)، حضرت مولانا عبد اللہ عابد سندھی (شکار پور)، مولانا مفتی محمداشرف عاطف (ساہیوال)، پروفیسر حافظ ظفرحیات (راولپنڈی) اور مولانا عبدالرحیم طاہر (ہارون آباد)، مفتی امجدعلی (ساہیوال)، مولانا زاہدمحمود قاسمی اورمولانا محمدجمیل و دیگر حضرات شامل تھے۔ تقریب کے آخر میں حضرت اقدس مدظلہ نے دعا فرمائی۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکا کی تواضع کی گئی۔

مندرجہ بالا تمام خطابات ادارے کے یوٹیوب چینل اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے سنے جاسکتے ہیں۔

End of issue

Back