اللہ تعالیٰ کی جناب مںس بے باکی کی سزا اور معافی

وَإِذ قُلتُم يا موسىٰ لَن نُؤمِنَ لَكَ حَتّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهرَةً فَأَخَذَتكُمُ الصّاعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُرونَ-55
ثُمَّ بَعَثناكُم مِن بَعدِ مَوتِكُم لَعَلَّكُم تَشكُرونَ-56
(اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم ہرگز یقین نہ کریں گے تیرا جب تک کہ نہ دیکھ لیں اللہ کو سامنے۔ پھر آلیا تم کو بجلی نے اور تم دیکھ رہے تھے۔ پھر اُٹھا کھڑا کیا ہم نے تم کو مرگئے پیچھے، تاکہ تم احسان مانو۔)
گزشتہ آیات میں واضح کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات ایسی عظیم کتاب دی گئی۔ اُن کے طُور پہاڑ پر جانے کے موقع پر بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا کرکے اللہ کی جناب میں تفریط اور کوتاہی کی تھی۔ انھوں نے ذاتِ باری تعالیٰ کی عظمت کی خلاف ورزی کی تھی۔ یوں اللہ کی ذات کے بارے میں کوتاہی اور تفریط کے مرتکب ہوئے تھے، جس پر انھیں سزا اور معافی دی گئی۔
ان آیات میں ذاتِ باری تعالیٰ کے حوالے سے بنی اسرائیل کی طرف سے بہت زیادہ بے باکی اور اِفراط کے اظہار کا بیان ہے۔ پھر اس کو معاف کرکے اُن پر احسان جتلایا گیا ہے۔ اس لیے کہ کسی قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے ضروری ہے کہ اُن میں اِفراط و تفریط سے ہٹ کر اعلیٰ اَخلاق کا توازن پیدا ہو۔ توحید ِالٰہی کے ساتھ سچا تعلق قائم ہو۔
وَإِذ قُلتُم يا موسىٰ لَن نُؤمِنَ لَكَ حَتّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهرَةً : اس آیت کا پسِ منظر یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا کے جرم کی سزا کے بعد معافی دے دی گئی تھی، جیسا کہ گزشتہ آیات میں گزرا ہے۔ طُور پہاڑ سے واپس آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انھیں بتلایا کہ تورات اللہ کا کلام ہے۔ اس کے ساتھ شرک اور کفر کرنے کے بجائے اس کلامِ الٰہی کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں۔ انھوں نے تورات کی تعلیمات کے مطابق ذاتِ باری تعالیٰ کی وحدانیت اور توحید کی اہمیت بتلائی، تاکہ اُن میں صفتِ احسان پیدا ہو۔ اس سلسلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کے ستر آدمی منتخب کیے اور انھیں طُور پہاڑ پر لے گئے، تاکہ انھیں کلامِ الٰہی سنائیں۔ جیسا کہ سورت الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اور چُن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وعدے کے وقت پر لانے کو‘‘ (الاعراف: 155)۔ پھر جب انھوں نے کلامِ الٰہی کو سنا تو ان ستر آدمیوں نے کہا کہ اے موسیٰ! پردے میں سننے کا ہم اعتبار نہیں کرتے۔ آنکھوں سے خدا کو دکھاؤ۔ اس طرح انھوں نے ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں بڑی بے باکی اور اِفراط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: ’’ہم ہرگز تمھارا یقین نہ کریں گے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، جب تک آنکھوں سے صریحاً خدا تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں‘‘۔
فَاَخَذَتۡکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ: اُن کی اس بے باکی اور زیادتی پر اُن کے دیکھتے ہی دیکھتے بجلی نے پکڑ لیا اور وہ اُس سے ہلاک ہوگئے۔ سورتُ الاعراف میں ’’الصّاعقۃ‘‘ کی جگہ ’’الرّجفۃ‘‘ کا ذکر ہے کہ زلزلے نے انھیں آپکڑا۔ ’’تفسیرِ عثمانی‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’اس گستاخی پر نیچے سے سخت بھونچال آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک ہوئی۔ آخر کانپ کر مر گئے یا مُردوں کی سی حالت کو پہنچ گئے۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو اُن کے ساتھ نتھی کرکے نہایت مؤثر انداز میں دعا کی‘‘۔
اُن ستر آدمیوں کی موت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے عرض کیا کہ: ’’اے میرے ربّ! اگر تُو چاہتا تو پہلے ہی مجھ کو اور ان کو ہلاک کردیتا۔ کیا ہم کو ہلاک کرتا ہے اُس کام پر جو ہماری قوم کے احمقوں نے کیا؟یہ سب تیری آزمائش ہے ۔۔۔ تُو ہی ہمارا ولی ہے۔ پس ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما دے۔ اور تُو اچھا معاف کرنے والا ہے‘‘ (الاعراف: 155)۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی صفتِ احسان کے حوالے سے بڑھی ہوئی بے باکی کی سزا کو معاف کرنے کی درخواست پیش کی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں دوبارہ معاف کردیا۔
ثُمَّ بَعَثۡنٰکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِکُمۡ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس سفارش کے بعد موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کیا اور انھیں دوبارہ زندگی بخشی۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں کہ: ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم جب طور پہاڑ پر پہنچی تو اُن کے دلوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف شوق کی حالت بڑھی۔ اس موقع پر انھوں نے وہی مطالبہ کیا، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پہلے ’’رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ‘‘ (الاعراف: 143) (اے میرے رب! تُو مجھ کو دکھا کہ میں تجھ کو دیکھوں) کی صورت میں کرچکے تھے۔ اس پر حق تبارک و تعالیٰ نے بجلی کی کڑک کی صورت میں اپنی تجلی ڈالی، جس نے انھیں ہلاک کردیا۔ پھر اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے انھیں زندہ کردیا‘‘ (تاویل الاحادیث)۔
لَعَلَّكُم تَشكُرونَ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا۔ اس پر تم شکر ادا کرو۔ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں: ’’اَخلاق کے حصول میں کبھی اِفراط ہوتا ہے، کبھی تفریط ہوتی ہے۔ جب کوئی طالبِ علم کسی خُلق کے دونوں پہلوؤں کے تجربے سے گزر جائے تو اُس میںیہ صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ اِفراط و تفریط سے ہٹ کر اُس خُلق میں میانہ روی اختیار کرے۔ بنی اسرائیل نے اللہ کی جناب میں کوتاہی اور تفریط کی۔ اس کے نتیجے میں سزا او رپھر معافی کا معاملہ ہوا جیسا کہ آیت 52 میں ہے تواللہ تعالیٰ نے ’’لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ‘‘ کا جملہ استعمال کیا۔ پھر جب بنی اسرائیل نے اللہ کی جناب میں بے باکی اور اِفراط سے کام لیا تو اُس وقت بھی انھیں معاف کرنے کے بعد آیت 56 میں بھی ’’لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ‘‘ کا جملہ استعمال کیا۔ معافی کے بعد شکر سے مقصد یہی ہے کہ بنی اسرائیل اللہ کی جناب میں اِفراط و تفریط سے ہٹ کر صفتِ احسان کے حصول میں اعتدال اور توازن کی راہ پر آئیں۔ اس سے بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت مقصود تھی‘‘۔
رمضان المبارک میں حضورﷺ کے دو خصوصی معمولات

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: ’’کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَکَانَ أَجْوَدُ مَا یَکُونُ فِي رَمَضَانَ حِینَ یَلْقَاہُ جِبْرِیلُ، وَکَانَ یَلْقَاہُ فِي کُلِّ لَیْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَیُدَارِسُەُ الْقُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّہِﷺ أَجْوَدُ بِالْخَیْر، مِنَ الرِّیحِ الْمُرْسَلَةِ‘‘۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6)
(حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ: ’’رسول اللہﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ اور رمضان میں جب جبرائیل ؑآپؐ سے ملتے تو دوسرے اوقات کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے۔ جبرائیل ؑ رمضان کی ہر رات میں آپؐ سے ملاقات کرتے اور آپؐ کے ساتھ قرآن کا دَور کرتے۔ غرض! نبی کریمؐ لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا‘ سے بھی زیادہ جودوکرم فرمایا کرتے تھے۔)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ رسول اللہﷺ کے رمضان المبارک کے دو معمولات کو خصوصیت سے بیان کر رہے ہیں:
(1) ایکیہ کہ آپﷺ کا عام حالات میں سخی دل اور فیاض ہونا تو معروف ہے، مگر رمضان المبارک میں آپؐ کا یہ وصف اپنے پورے عروج پر ہوتا تھا۔ ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرنے میں آپؐ نہایت مستعد ہوجاتے۔ گرمی کی شدت اور گھٹن کے وقت بارش لانے والی ٹھنڈی ہوا اور تیز بارش جس طرح موسم کو یکسر بدل دیتی ہے، آپؐ اسی طرح اعزّہ و اقربا اور ضرورت مندوں کی ضرورت کو پوری کرتے۔ اللہ کی راہ میں مال خوب خرچ کرتے۔ گویا دیگر مہینوں کے برعکس آپؐ رمضان المبارک میں اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی طرف بہت متوجہ رہتے۔
(2) دوسرا یہ کہ رمضان المبارک کی ہر رات جبرائیل امین ؑ تشریف لاتے اور حضوؐر کے ساتھ قرآن کا دَور کرتے (یعنی دونوں حضرات باری باری ایک دوسرے کو قرآن سناتے)۔ گویا رمضان المبارک میں آپؐ کا کثرتِ تلاوت کا معمول ہوتا اور اس مبارک عمل میں جبرائیل ؑبھی آپؐ کے ساتھ شریک ہوتے۔ یوں رمضان المبارک میں کثرتِ تلاوت اور آپس میں دَور کرنا امام الانبیاؑ اور امام الملائکہ ؑکی مشترکہ سنتِ مبارکہ ہے۔
زیرِنظر حدیث کی روشنی میں رمضان المبارک کے معمولات میں مذکورہ بالا دو اُمور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے: ایک اللہ کے راستے میں خرچ اور دوسرا تلاوتِ قرآنِ حکیم۔ احادیث کی روشنی میں رمضان کی برکت سے ہر عمل کا اَجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ مخلوقِ خدا کو مشکلات سے نکالنا اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ انسانی مشکلات میں معاشی تنگ دستی اور محتاجی بے شمار مسائل کی ماں ہے۔ اس لیے رمضان کے مبارک اوقات میں کمزور معیشت کے حامل لوگوں کی طرف خصوصی توجہ کرنی چاہیے۔ تلاوتِ قرآن مجید کی ایک عمدہ صورت نماز ِتراویح میں قرآن کا سننا اور سنانا ہے۔ اولیائے کرام تہجد اور اوّابین کے نوافل میں بھی تلاوت و سماعِ قرآن کا اہتمام کرتے چلے آئے ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ اور عید الفطر

حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ جلیل القدر صحابی ہیں۔ بدر و اُحد کے علاوہ تمام 19 غزوات میں حضور اقدس ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ 540 احادیثِ نبویہؐ کے راوی ہیں۔ علمِ حدیث کی اشاعت آپؓ کا محبوب مشغلہ تھا۔ حضوؐر کے بعد مسجدِ نبویؐ میں حضرت جابرؓ کا بڑا حلقۂ درس قائم تھا، جس میں طلبا کی بڑی تعداد آپؓ سے علومِ نبوت کا کسبِ فیض کرتی تھی۔ تابعینؒ کا ہر طبقہ آپؓ کا شاگرد ہے۔ آپؓ تفسیر، حدیث اور فقہ کے علوم پر دسترس رکھتے تھے۔ آپؓ نے طویل عمر پائی۔ ۷۴ھ میں مدینہ منورہ میں وفات ہوئی۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ عید کے دن راستہ بدل لیتے تھے۔ مطلب یہ کہ رسول اللہؐ عید کی نماز کے لیے جس راستے سے تشریف لے جاتے تھے، واپسی میں اس کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے تشریف لاتے تھے۔ زیادہ قرینِ قیاسیہ ہے کہ آپؐ یہ اس لیے کرتے تھے کہ اس طرح شعائرِ اسلام اور مسلمانوں کی اجتماعیت و شوکت کا زیادہ سے زیادہ اظہار اور اعلان ہو۔ عیدین کے تہواروں میں جشن اور تفریح کا جو پہلو ہے، اس کے لیے بھییہ زیادہ مناسب ہے کہ مختلف راستوں اور بستی کے مختلف حصوں سے گزرا جائے، تاکہ سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی بھی حاصل ہو اور سب لوگوں سے رابطہ بھی ممکن ہوسکے، تاکہ سب لوگوں کو ملنے سے ان کو خوشی اور اپنائیت حاصل ہو، بڑی علمی رہنمائی اور حقیقی خوشیاں حاصل ہوجائیں اور ہر ایک دوسرے تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ اسی لیے اجتماعی زندگی کی تکمیل کے مظاہر کے لیے اسلام میں دو عیدیں رکھی گئی ہیں۔ ہجرت کے بعد سے اس کو مسلسل قائم رکھا گیا، بلکہ اس کے اصول و ضوابط بھی متعین کیے گئے، تاکہ ان تہواروں سے قومی و اجتماعی زندگی کے بھرپور فوائد حاصل ہوسکیں۔ عیدوں کے موقع پر خوشی کا اظہار شعائر ِدین میں سے ہے۔
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں عیدین کے دن نماز کے لیے رسول اللہؐ کے ساتھ عیدگاہ حاضر ہوا تو آپؐ نے بغیر اذان اور اقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔ جب نماز پڑھ چکے تو حضرت بلالؓ پر سہارا لگا کر کھڑے ہوئے۔ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، لوگوں کو پند و نصیحت فرمائی اور اللہ کی فرماں برداری کی ترغیب دی۔ پھر آپؐ خواتین کے مجمع کی طرف گئے۔ حضرت بلالؓ آپؐ کے ساتھ ہی تھے۔ وہاں پہنچ کر آپؐ نے ان کو اللہ سے ڈرنے اور تقویٰ والی زندگی گزارنے کے لیے فرمایا اور ان کو بھی پند و نصیحت فرمائی۔ (سنن نسائی) حضوؐر کا خطبۂ عید مسلمانوں کی تمام مصالح پر مشتمل ہوتا۔ اس میں ایک جامع شعوری رہنمائی ہوتی۔ آپؐ زندگی کے اہم ترین مسائل اُجاگر کرتے، تاکہ قومی زندگی لہو و لعب سے نکل کر انسانی اجتماعی مقاصد کا مظہر بن جائے۔ حضرت جابرؓ نے رسول اللہؐ کے عید اور حج کے سفرکے متعلق ارشادات اور واقعات کے حوالے سے آپؐ کی رہنمائی کو محفوظ کیا اور اُمت تک منتقل کیا، تاکہ آنے والی نسلیں حضوؐر کی سیرتِ مقدسہ کی روشنی میں خوشیوں سے بھر پور مستقبل تعمیر کرسکیں۔
ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہ دھکیلا جائے

گزشتہ دنوں 14؍ اپریل 2021ء کواچانک پورا ملک پُرتشدد مظاہروں اور احتجاجی دھرنوں کی لپیٹ میں آگیا، جس کے باعث ملک کی اہم شاہراہوں پر رُکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ جس سے ملک کے مختلف حصوں میں ٹریفک جام ہوگئی۔ کئی شہروں میں آمد و رفت مفلوج اور ایمبولینسز تک کی نقل وحرکت جامد ہوکر رہ گئی۔ سفرکے دوران بے چارے عوام پریشانی کا شکار ہوئے۔ سڑکوں پر بسوں میں خواتین، بچے اور بوڑھے محصور ہو کر بھوک، پیاس اور ذہنی اذیت کا شکار ہونے لگے۔ مزید برآں راستے بند ہونے سے ہسپتالوں کو آکسیجن سلنڈرز، ادویات کی سپلائی میں مشکلات پیدا ہوگئیں اور مختلف امراض میں مبتلا مریض جانی خطرات میں گھر گئے۔ گویا پورا نظامِ زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ یہ سارا ہنگامہ ایک مذہبی پارٹی کے نوخیز لیڈر کی گرفتاری کے بعد ہوا۔
یاد رہے کہ یہ پارٹی 2017ء میں ختمِ نبوت کے بِل کے معاملے پراس وقت کے وزیرِ قانون کا استعفیٰ طلب کرنے کے نام پر ملک کے چوکوں، چوراہوں کی زینت بنی۔ ملک میں اس وقت کے مخصوص سیاسی حالات کے تناظر میں بعض سیاسی قوتوں اور اداروں کی درپردہ حمایت بھی اس کو حاصل تھی۔ ان دنوں اس کے ڈنڈہ بردار حمایتیوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ کر کے وفاقی دارالحکومت کو تین ہفتوں تک بند کیے رکھا۔ بعد ازاں مذاکرات کے نتیجے میں دھرنا ختم کردیا گیا تھا۔ پھر 2018ء کے انتخابات میں اس جماعت کو سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن نے رجسٹر کرلیا اور انتخابات میں پورے ملک میں ایک سیاسی قوت کے طور پر اسے متعارف کروایا گیا۔ اس موقع پر ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک بحث چلی تھی کہ ایک خاص فرقہ وارانہ پسِ منظر رکھنے والی جماعت کا ایک سیاسی جماعت کے رُوپ میں الیکشن کمیشن جیسے ادارے میں رجسٹرڈ ہونا مستقبل کے لیے ایک خطرے کی علامت ہے۔ ایسی قوت کو کسی بھی وقت ملک کے امن کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ اس وقت کی وزارتِ داخلہ نے ایک درخواست کی شکل میں الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہاربھی کیا تھا کہ اسے رجسٹر نہ کیا جائے، لیکن الیکشن کمیشن نے وزارتِ داخلہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
موجودہ حالات اور یہ پسِ منظراپنے تناظر میں ہمیں غور و فکر کا بہت سارا سامان فراہم کرتا ہے کہ ہم ملک میں جاری پُرتشدد مظاہروں اور نقضِ امن کی ان کارروائیوں کے پیچھے موجود حقائق و واقعات کو جان سکیں۔ چشم کشا حقائق ہیں کہ 2017ء میں اس جماعت کی پیٹھ ٹھوکنے والی آج کی حکمران جماعت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اس پر پابندی لگا چکی ہے، جب کہ ڈوبتی نبض کے ساتھ حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے مولانا بھی بول پڑے کہ اس شدت پسند ’’جتھے‘‘ کی ہر صورت حمایت کریں گے، حال آںکہ 2017ء میں ان کا اور ان کی اتحادی حکومت کا مؤقفیہ تھا کہ اس شدت پسند جماعت کو حکومت گرانے کے لیے بعض قوتیں اپوزیشن کے ساتھ مل کر استعمال کررہی ہیں۔
یہ قابلِ غور موڑ ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ان وقتی جماعتوں کا ایجنڈا کیا ہوتا ہے ؟ ان کے نعرے کہاں تیار ہوتے ہیں؟ اور ان مقدس نعروں کے پیچھے خوف ناک عزائم کو کیسے عملی جامہ پہنایا جاتا ہے؟ لگتا ہے ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ یہ ایک قوت پیدا کرلی گئی ہے۔ اب اس قوت کو مختلف اوقات میں ضرورت کے مطابق کچھ عرصے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ خصوصاً آئندہ آنے والے انتخابات میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ اس سے قبل ’’جہاد‘‘ کے نام پر ایک قوت کو تین دہائیوں تک استعمال کیا گیا اور پھر دہشت گرد قرار دے کر اُس کے پَر کاٹ دیے گئے۔
پاکستانی تاریخ میں مذہبی قوتوں سے فرقہ واریت کی ایک خاص شکل کو کشید کیا جاتا ہے۔ اسے عوام میں مقبول بنایا جاتا ہے۔ ایک خاص انداز سے اسے قومی منظر نامے پر نمودار کرکے ایک عرصے کے لیے اس کی نشوونما کی جاتی ہے۔ پھر اسے میدان میں اُتار دیا جاتا ہے۔ ہمارا نظام متضاد قوتوں کا مجموعہ ہے۔ ان قوتوں کی آپسی لڑائی میںیہی تیار شدہ عناصر مذہب، عقیدے، نسل اور قومیت کے نام پر اس جنگ کا ایندھن اور چارہ بنائے جاتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے، جسے باشعور حلقے گزشتہ ساٹھ ستر سال سے نوجوان نسل کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ سرمایہ داری کی نمائندہ اورانسان دشمن قوتیں پاکستان میں مذہب اور اہلِ مذہب کو آلۂ کار کے طور پر استعمال کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔ حضرت مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری نور اللہ مرقدہٗ سے ان کے ایک بے تکلف قانون دان اور وکیل دوست نے پوچھا کہ: حضرت! آپ گاہ بہ گاہ پاکستان میں اُٹھنے والی تحریکوں پر نوجوانوں کے سامنے تنقید کرتے اور ایک خاص اینگل سے ان کے نتائج پر بحث و مباحثے کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ آپ کے اس کام کے دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں کیا نتائج ہیں؟ اور ہم اس تناظر میں آپ سے سوال کرسکتے ہیں کہ آپ نے اب تک پاکستان میں کیا کام کیا ہے؟ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے مختصراً جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ: ’’میرا کام یہ ہے کہ میں نے اس ملک اور قوم کے نوجوانوں کو قتل ہونے سے بچایا ہے‘‘! پھر قدرے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: ’’جب آپ کے ادارے، مذہبی و سیاسی جماعتیں اور حکومت یہاں کے نوجوانوں کو اَفغان جنگ کی بھٹی میںاسلام کے نام پر ایندھن بناکر جھونک رہے تھے، اس وقت مَیں اور میرے ساتھی نوجوانوں کو بین الاقوامی سیاست سمجھا کر قتل ہونے سے بچارہے تھے‘‘!
ہماری پاکستان کے منظر نامے پر موجود ایسی قوتوں سے بھی گزارش ہے کہ اب انھیں اس خوف ناک کھیل کو ترک کر دینا چاہیے۔ قوم میں نیچرل طریقے سے قومی اور جمہوری تصورات پر مبنی نظریات کو پنپنے کا راستہ دینا چاہیے۔ ورنہ بالآخر مذہبی بنیادوں پر یہ فرقہ وارانہ چنگاریاں ہمارے خرمن کو جلاکر خاکستر کردیں گی۔
سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی جان لیں کہ لیڈرشپ جذباتی تقریریں، جلسے جلوس اور دھرنے دینے کا نام نہیں ہوتا۔ حقیقی لیڈر شپ اپنے پیروکاروں میں ایک عظیم مقصد کی تکمیل کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ ایسی لیڈر شپ کی طاقت بندوقیں، اسلحہ اور جلاؤ گھیراؤ کی ڈنڈا بازی نہیں ہوتی، بلکہ انسان دوست سچا نظریہ اور قوم کا اعتماد ہوتا ہے۔ لہٰذا اِن جماعتوں کو چلتے پھرتے خودکش بمبار اور مرنے مارنے والے جنونی پیدا کرنے کے بجائے اپنے کارکنوں کی شعوری تربیت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ (مدیر)
تمام نیکیوں کا بُنیادی اساسی اُصول؛ توحید ِالٰہی (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
[توحید کی عظمت اور اہمیت]
’’نیکیوں کے تمام اُصولوں میں سے سب سے بنیادی اساسی اُصول اور نیکیوں کی تمام قسموں میں سب سے عمدہ ترین توحید ِالٰہی ہے۔ اس لیے کہ توحید ہی کی بنیاد پر ربُّ العالمین کے سامنے ’’اِخبات‘‘ (خشوع و خضوع اور عجز و اِنکساری) کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ ’’اخبات‘‘ انسانی کامیابی حاصل کرنے والے اَخلاق میں سب سے عظیم تر ہے۔
توحید ِالٰہی ہی اصل میں (سعادت حاصل کرنے کی) وہ علمی تدبیر ہے، جو (گزشتہ بیان کردہ) دو تدبیروں میں سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ اسی کے ذریعے سے انسان کو غیب کی طرف مکمل توجہ حاصل ہوتی ہے۔ او رانسانی نفس میںیہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ توحید کے ذریعے سے ذاتِ مقدس کے غیب کے ساتھ لاحق ہوجائے۔
بے شک نبی اکرمؐ نے توحید کی عظمت ِشان پر متنبہ کیا ہے۔ اور اِسے تمام نیکیوں کی اقسام میں سے دل کی طرح کی مرکزی حیثیت قرار دیا ہے۔ اور یہ کہ جب دل ٹھیک ہوجائے تو پورا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اور جب دل خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ قول بالکل مطلق ہے کہ:
’’من مات لا یشرک باللّٰہ شیئا ’’انّہ دخل الجنّۃ‘‘ (مشکوٰۃ، حدیث: 26 و 38)۔ (جو آدمی ایسی حالت میں فوت ہوا کہ اُس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ ’’جنت میں داخل ہوگا‘‘)
یایہ کہ: ’’حرّمہ اللّٰہ علیٰ النّار‘‘ (مشکوٰۃ، حدیث: 25 و 36)۔
(اُس پر اللہ نے جہنم کو حرام قرار دیا)۔
اوریہ کہ: ’’لا یُحجَب من الجنّۃ‘‘ (مسلم، ج:1، ص226)
(جنت اور اُس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوگا)۔
اور اسی طرح کے جملے آپؐ نے ارشاد فرمائے (مثلاً آپؐ کا یہ قول کہ:’’أدخلہ اللّٰہ الجنّۃ علیٰ ما کان من العمل‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ، حدیث: 27)۔ (اللہ اُسے جنت میں داخل کرے گا اس بنیاد پر کہ اُس نے جو عمل کیے تھے)
اسی طرح نبی اکرمؐ نے ربّ تبارک و تعالیٰ سے یہ بات نقل فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:
’’من لقینی بقراب الأرض خطیئۃ لا یشرک بی شیئاً، لقیتہٗ بمثلہا مغفرۃ‘‘ (رواہ مسلم، کتاب الذکر و الدّعاء و التّوبۃ، حدیث: 6833)۔ (جو آدمی پوری زمین کی مقدار کے برابر گناہوں کو لے کر مجھ سے اس حال میں ملا کہ اُس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا تو میں بھی اُس سے اُسی درجے مغفرت کے ساتھ ملوں گا)
[توحید کے چار مرتبے]
جاننا چاہیے کہ توحید کے چار مرتبے ہیں:
(1۔ توحید کا پہلا مرتبہ)
ان میں سے ایکیہ کہ ’’واجب الوجود‘‘ (لازمی وجود) صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کا وجود ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے علاوہ کوئی وجود لازمی اور واجب نہیں ہے۔
(2۔ توحید کا دوسرا مرتبہ)
عرش، آسمانوں، زمینوں اور تمام جواہر (جسمانی وجود رکھنے والی مخلوقات) کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے۔
[توحید کے ان دو مرتبوں پر تمام فرقے متفق ہیں]
توحید کے یہ دو مرتبے ایسے ہیں کہ کتب ِالٰہیہ میں ان کو ثابت کرنے کے لیے کوئی بحث نہیں کی جاتی۔ اس لیے کہ مشرکینِ عرب میں سے توحید کے ان دونوں مرتبوں کا کوئی بھی مخالف نہیں ہے۔ نہ ہییہود اور عیسائی ان دو مرتبوں کا انکار کرتے ہیں، بلکہ قرآن عظیم واضح طور پریہ بیان کرتا ہے کہ توحید کے دونوں مرتبے ان تمام فرقوں کے نزدیک تسلیم شدہ بنیادی اُمور اور مقدمات میں سے ہیں۔
(جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورت زخرف میں ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’
‘‘ (الزخرف: 9) ’’اگر تُو ان سے سوال کرے کہ کس نے آسمان و زمین پیدا کیے ہیں؟ تو ضرور بالضرور کہیں گے کہ انھیں زبردست اور جاننے والے اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا ہے‘‘)
(3۔ توحید کا تیسرا مرتبہ)
توحید کا تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اُس کی عالم گیر تدبیر اور نظام صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کی ذات چلا رہی ہے۔
(4۔ توحید کا چوتھا مرتبہ)
توحید کا چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے علاوہ کوئی ذات کسی طرح کی بھی عبادت کی مستحق نہیں ہے۔
[توحید کے یہ دونوں درجے ایک دوسرے سے مربوط ہیں]
توحید کے یہ دونوں مرتبے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اور جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے طبیعی ربط اور تعلق میں لازمی طور پر بندھے ہوئے ہیں۔
(مولانا عبیداللہ سندھیؒ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’یعنی تدبیرِ الٰہی اور اللہ کے لیے عبادت کے درمیان فطری ربط اور تعلق پایا جاتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایسا لازمی تعلق ہے، جو کائنات کی دیگر تمام لازم و ملزوم اشیا میں ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوتے‘‘۔) (جاری ہے۔۔۔)
(المبحث الخامس، مبحث البرّ و الإثم، باب 1: توحید)
عبدالرحمن الداخل - یورپ میں آزاد اُمَوی ریاست کے بانی (1)

یورپ میں آزاد اُمَوی ریاست کے بانی
جب مشرق میں بنواُمیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور بنوعباس برسرِ اقتدار آئے تو بنواُمیہ کے ایک نامور فرزند عبدالرحمن بن معاویہ بن ہشام نے اَندلُس میں مستقل حکومت قائم کی۔ اس سے پہلے اَندلُس کے اکثر علاقے طارق بن زیادہ اور موسیٰ بن نصیر کے ہاتھوں فتح ہوچکے تھے۔ بنوعباس حکمران ہوئے تو انھوں نے بنواُمیہ کے چنیدہ افراد کی پکڑدھکڑ شروع کردی۔ اس دوران عبدالرحمن الداخل چھپتے چھپاتے دریائے دجلہ کو تیر کر پار کرتے ہوئے پہلے فلسطین پہنچے او رپھر وہاں سے افریقا کا رُخ کیا۔ افریقا میں خلافتِ بنواُمیہ کے زمانے کے گورنر عبدالرحمن بن حبیب الفہری تھے، جنھوں نے عبدالرحمن الداخل کو اپنے ہاں پناہ دی۔
ادھر اُموی خلافت کے سقوط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عبدالرحمن بن حبیب الفہری نے افریقا پر اپنی حکمرانی کو خودمختار بنا لیا۔ عبدالرحمن الداخل کو اپنی حکمرانی کے لیے خطرہ سمجھنے لگا۔ الداخل کو بھی اس کا احساس ہوگیا تو انھوں نے اَندلُس میں داخل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ پہلے اس نے اپنے ایک اہل کار کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے اَندلُس بھیجا، جس کا نام بدر تھا۔ اس نے حالات کے سازگار ہونے کی اطلاع دی تو عبدالرحمن ربیع الثانی۱۳۸ھ / 755ء میں ابنائے جبل الطارق کو عبور کرتے ہوئے اَندلُس میں داخل ہوئے۔ (البدایہ و النہایہ، حافظ ابن کثیر، ص: 330)
اَندلُس میں اُموی دور کی شاہی افواج موجود تھیں۔ بربر قوم جو کہ عبدالرحمن کے ننہیال ہوتے ہیں، انھوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ عبدالرحمن الداخل نے شاہی افواج میں بھی اپنا اثر و رسوخ پیدا کرلیا،یہاں تک کہ انھوں نے عبدالرحمن الداخل کو اپنا کمانڈر بنا لیا۔ اَندلُس کے مشہو رشہر اشبیلیہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اَندلُس کا گورنر یوسف جو عبدالرحمن الفہری کا بیٹا تھا، وہ مقابلے پر آیا تو اس کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔۱۰؍ ذی الحجہ۱۳۸ھ / 756ء کو الداخل نے قرطبہ دارالحکومت بھی فتح کرلیا۔ اس طرح پورا اَندلُس ان کی حکمرانی میں آگیا۔ اس طرح بنواُمیہ کی حکومت یورپ کے اہم ترین ساحلی علاقے اَندلُس پر قائم ہوئی۔ تقریباً 800 سال اَندلُس پر اُمویوں نے حکومت قائم رکھی۔
عبدالرحمن الداخل __ جن کو ’’صقرِ قریش‘‘ (قریش کا باز) کا خطاب دیا گیا،یہ خطاب بھی ان کے سیاسی مخالف عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور نے دیا تھا __ نے اَندلُس پر کامیاب حکمرانی کی۔ ملک کا انتظام نہایت خوبی سے چلایا۔ علم و فن کی سرپرستی کی۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے۔ قرطبہ کی مشہور مسجد کی اپنے ذاتی پیسے سے تعمیر کرائی۔۱۷۰ھ / 786ء میں مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی اور تعمیر پر تقریبا 900 ہزار دینار خرچ کیے۔ نمازوں کی امامت خود کرتے، خصوصاً نماز ِجنازہ خود پڑھاتے۔ (جاری ہے۔۔۔)
وسط مدتی رپورٹ (2)

4۔ سالانہ پیداوار: پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ مقامی پیداوار کا ایک بہت بڑا حصہ مقامی سطح پر ہی استعمال ہو جاتا ہے، لیکن اس عمل کو مستحکم ہونے کے لیے غربت میں کمی اور عمومی پیداواری صورتِ حال میں بہتری ناگزیر ہے۔ چناں چہ پاکستانیروپوں میں ملکی پیداوار اور اس میں بڑھوتری کی شرح بالترتیب 2005ء میں 65 کھرب اور 9 فی صد سالانہ، 2010ء میں 149کھرب اور 2.6 فی صد سالانہ، 2015ء میں 291 کھرب اور 4.1 فی صد سالانہ اور 2020ء میں 417 کھرب اور منفی 0.4 فی صد سالانہ رہی۔ ان اعدادوشمار سے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ گزشتہ چند سال پاکستان پر کافی بھاری رہے ہیں، جہاں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، ملکی پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور غربت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں کرونا کی وبا اور عالمی کساد بازاری کے رُجحانات کو بتایا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کی پیداواری صلاحیت اس وبا کی آمد سے پہلے ہی کافی گراوٹ کا شکار رہی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق سال 2021ء کے اختتام پر پاکستانی معیشت 456 کھرب یعنی 300 ارب ڈالر تک بڑھ جائے گی اور اس کی شرح 2.1 فی صد رہے گی۔ یہ بات اہم ہے کہ صنعتی شعبے میں اب تک 9 فی صد کی بڑھوتری ریکارڈ کی جاچکی ہے ۔
5۔آمدن و اخراجات میں توازن: پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ ہی آمدن اور اخراجات میں عدمِ توازن ہے۔ یہی عدمِ توازن دراصل پاکستان پر بے پناہ قرضوں کی وجہ ہے۔ ہمارا سالانہ بجٹ قرضوں پر سود کی ادائیگی، دفاع، ترقیاتی کام اور انتظامیہ کے بڑے بڑے اخراجات پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر سال ان خراجات کو پورا کرنے کے لیے ضروری مالی وسائل میسر نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بھاری مقدار میں اندرونی اور بیرونی قرض لیے جاتے ہیں۔ چناں چہ گزشتہ بیس سالوں میں اخراجات کچھ اس ترتیب سے آمدن سے زائد رہے اور اس سال کے آخر میں اندرونی و بیرونی قرضوں کی کیا صورت حال رہی:
جب سٹیٹ بینک شرح سود میں ایک فی صد کا اضافہ کرتا ہے تو عوام کی جیب سے 231 ارب روپے اضافی ٹیکس کی صورت میں بینکوں کو ادا کرنے پڑ جاتے ہیں۔ کرنسی میں ایک روپے کی گراوٹ دراصل عوام پر 100 ارب روپے کے اضافی قرض کی صورت میں منتج ہوتی ہے۔ یہاں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سٹیٹ بینک اور حکومت کی مالیاتی پالیسی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس میں ربط اور ترتیب کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چناں چہ آمدن و اِخراجات میں خسارہ جتنا زیادہ ہوگا، اتنا ہی حکومت کو قرض لینا پڑے گا۔ اور جتنا حکومت قرض لے گی، اتنی ٹیکسز کی صورت میں مہنگائی بڑھے گی۔ اور مہنگائی بڑھنے کے عمل کو لگام ڈالنے کے لیے سٹیٹ بینک کو مقامی شرح سود میں اضافہ کرنا ہوگا ، جس کی وجہ سے آمدن و اخراجات میں خسارہ اَور بڑھے گا۔ اسے پاٹنے کے لیے مقامی کرنسی گرائی جائے گی اور مہنگائی کا ایک اَور طوفان آتا رہے گا۔ یہ ایک ایسا گھن چکر ہے، جس میں سے نکلنا ہماری مقتدرہ __ خواہ وہ فوجی ہو یا سویلین __ کے بس کی بات نہیں۔
حکومتِ پاکستان اس وقت 168 تجارتی اور 44 عوامی بہبود کے ادارے چلا رہی ہے۔ سال 2019ء میں ان اداروں نے مجموعی طور پر 4.8 کھرب روپے کا نقصان کیا۔ ان میں سرِفہرستNHA، ریلوے،PIA، بجلی کی کمپنیاں،PTV، ریڈیو پاکستان اور پاکستان پوسٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنشن کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق ایک کھرب روپے سالانہ خرچ ہوجاتے ہیں، لیکن دوسری جانب سٹیٹ بینک نے گزشتہ سال 7 کھرب روپے کا منافع حکومت کو دیا۔ غیرٹیکس آمدن جیسے نجکاری وغیرہ مل کرایک مناسب مجموعہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بشرطیکہ ایسے اداروں کو اور نجکاری کے عمل کو پیشہ وارانہ انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
5۔ مہنگائی اور بے روزگاری: مندرجہ بالا تمام اعشاریئے مہنگائی اور بے روزگاری پر منتج ہوتے ہیں۔ گیس اور بجلی کی مدات میں سرکولر قرضے بالترتیب 3.5 کھرب اور 30 کھرب سے تجاوز کرگئے ہیں۔ مندرجہ بالا چیلنجز کے پیشِ نظر آمدہ مالی سال میں 13 کھرب کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے، جن میں سب سے زیادہ بجلی کے نرخوں میں قریباً 35 فی صد اضافے کی صورت میں ہوگا۔ تنخواہوں پر ٹیکس کی زیادہ شرح، تیل، گیس کی قیمت میں اضافہ اور دیگر اشیا پر زیادہ سیلز ٹیکس پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملہ طے ہوگیا ہے۔ آمدہ سال کے دوران 31 کھرب روپے کا سود اور اصل زر بینکوں کو واپس کیا جائے گا اور ترقیاتی کاموں پر کم سے کم پیسہ لگایا جائے گا۔ گویا سرمایہ پاکستان کے ضرورت مند نوجوانوں کی جیب میں نہیں، بلکہ طاقت ور مقتدرہ اور سرمایہ داروں کی تجوریوں میں واپس چلا جائے گا۔ ایسے میں کنسٹرکشن پیکیج اور نئے شہروں کو بسانے کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
ایران چین جامع تزویراتی اشتراک کا معاہدہ

[ 25سالہ پروگرام ]
استعماری قوتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی انھوں نے مخالف طاقتوں کے ساتھ معاہدے کیے، ان کا مقصد معاہدوں پر عمل درآمد کے بجائے محض وقتی طور پر حالات کا اِلتوا رہا ہے۔ جوں ہی حالات بدلتے ہیں تو یہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتی ہیں۔ وہ موقع کی تلاش میں رہتی ہیں۔ جوں ہی حالات اپنے حق میں محسوس کرتی ہیں، مخالف فریق پر حملہ کرکے تہس نہس کردیتی ہیں۔ جب تک استعمار کی طاقت سلب نہیں ہوتی، اس کا رویہ تبدیل نہیں ہوتا، وہ ڈنگ مارنے کی عادت سے باز نہیں آتا۔ دوسری طرف انسانی اقدار کی حامل قوتیں معاہدات کرتی ہیں۔ باوجود طاقت و قوت کے جنگ و جدل کو ختم کرکے امن وسلامتی کو یقینی بناتی ہیں۔ کیوں کہ اس کے بغیر ارتقائے انسانیت کا عمل بحال نہیں ہوسکتا۔ یہی امن و سلامتی عبادت کہلاتی ہے۔ اس صورتِ حال کو مستقل بنیادوں پر اُستوار رکھنے کے لیے معاہدات کیے جاتے ہیں۔ معاہدہ بنیادی طور پرفریقین کے باہمی مفادات کے تحفظ کی ضمانت ہوتا ہے۔ انسانی اقدار کی حامل قوتیں ان معاہدات کا احترام اور پاسداری کرتی ہیں۔ اس دوران اگر جانی و مالی قربانی بھی دینی پڑے تو گریز نہیں کرتیں۔ ا س کے برعکس استعمار اپنے قابلِ مذمت مقاصدکے لیے بعض اوقات ایسے حلقوں کا تعاون بھی حاصل کر لیتا ہے، جن کا دنیا میں معاہدات کے احترام کا بھرم قائم ہوتا ہے۔ حال آںکہ حقیقت میں وہ ان کی حیثیت کا ناجائز استعمال کررہا ہوتا ہے۔ کیوںکہ جب کبھی انھیں اندیشہ ہو کہ مخالف فریق کے تقاضے پورے ہورہے ہیں، وہ فوراً ان معاہدات کو طاقِ نسیاں پر رکھتے ہوئے، علاحدگی اختیار کرکے اپنے وعدوں سے مکر جاتا ہے۔ ان کا یہی فعل شیطانی اور انسانی اقدار کے حاملین کے مابین فرق کو واضح کرتا ہے۔
رائٹر کی 27؍ مارچ 2021ء کی رپورٹ کے مطابق اسی دن دوپہر3 بج کر 44 منٹ پر ایران کے دارلحکومت تہران میں چین اور ایران کے درمیان 25 سالہ جامع تعاون سمجھوتے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ اسی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی اقتصادی پابندیوں کے باوجود چین اور ایران نے 25 سالہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ اس کے نتیجے میںدونوں قوموں کے درمیان طویل عرصے پر محیط معاشی اور سیاسی اتحاد مزید مضبوط ہو جائے گا۔ مذکورہ نیوز ایجنسی کے مطابق اگرچہ دونوں قوموں کے درمیان تعلقات تو پُرانے چلے آرہے ہیں، لیکن ا س معاہدے سے یہ تعلقات تزویراتی اشتراک (مشترکہ جغرافیائی دفاع) کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ: ’’دونوں ممالک کے درمیان تعلقات آج تزویراتی اشتراک کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، اور چین چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات نہ صرف مزید بہتر ہوں، بلکہ جامعیت کے ساتھ آگے بڑھیں‘‘۔ چینی وزیر خارجہ وانگ جی نے کہا ہے کہ ’’ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات حالیہ صورتِ حال کی وجہ سے متأثر نہیں ہوں گے‘‘۔
اسرائیلی اخبار ’’ٹائمز آف اسرائیل‘‘ کی 27؍ مارچ 2021ء کی رپورٹ کے مطابق چین ایران میں 400 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جارہا ہے اور بدلے میںتیل حاصل کرے گا۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ: معاہدے سے فوجی تعلقات مستحکم ہوں گے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رُسوخ ماند پڑ جائے گا۔ امریکی اقتصادی پابندیاں غیرمؤثر ہوکر رہ جائیں گی۔ امریکی اخبار ’دی ڈِپلومیٹ‘ کے مطابق چینی وزیر خارجہ مشرقِ وسطیٰ کے 6 ملکی دورے پر پہلے مرحلے میں ایران پہنچے تھے۔ اس کے بعد سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، بحرین اور عمان جائیںگے۔ ایران میں قیام کے دوران چینی وزیر خارجہ نے ایران چین 25 سالہ تز ویر اتی تعاون کا معاہدہ کرکے امریکی اقتصادی پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے تدارُک کا بندوبست کیا ہے۔ چینی وزیرِ خارجہ نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا: ’’دنیا کے حالات جو بھی رُخ اختیار کریں، کوئی مسئلہ نہیں۔ ایران کے ساتھ تعلقات اسی طرح مضبوط اور مستحکم رکھنے میں چین اپنے ارادے میں مصمم ہے‘‘۔ انھوں نے امریکی پابندیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ: ’’یک طرفہ اور نامناسب اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں تھیں‘‘۔ امریکی خبررساں ایجنسی ’بلوم برگ‘ لکھتا ہے کہ: تہران میں فتح کے ساتھ اعلان کردہ اس معاہدے کومغرب کے حلقوں میں خطرے کی گھنٹی کے طور پر لیا گیا ہے۔ معاہدے سے امریکی پابندیوں کی ایرانی خلاف ورزی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنا مقصود ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانیوں کا کہنا ہے کہ: اس معاہدے کی تیاری میں پانچ سال کا عرصہ لگا ہے، جس کے نتیجے میں 24؍ مارچ 2021ء کو تہران میں چین نے 400 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔ ایک اَور حلقے کا کہنا ہے کہ: ’’ایران چین معاہدہ واشنگٹن کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے‘‘۔
ہے،عالمی سیاست میں مشرقِ وسطیٰ کا کردار ایک سیاسی آئینے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں اقوامِ عالم میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا عکس نظر آتا ہے۔ جو قومیں معاہدات کا احترام کرتی ہیں، انھیں کے کردار سے دنیا روشن ہے۔ ایسی قومیں پہلے قومی مفادات کا تحفظ کرتی ہیں، جس کے باعث اقوامِ عالَم میں ان کا اعتماد بڑ ھنا شروع ہوجاتا ہے۔ چین اور ایران آج کے عہد میں انھیں میں شمار ہوتے ہیں۔ جو قوتیں معاہدات کا احترام نہیں کرتیں، ان کا اثر و رُسوخ سکڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ وہ تاریخ کے اوراق میں غائب ہوجا تی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اُبھر نے والی قوتوں میں ایرانی سرِفہرست ہیں۔ انھیں اپنی عوام کے ساتھ کیے گئے معاہدات کی پاسداری کی سزا دی گئی۔ اگر چہ آج ایرانی انقلاب کو آئے 40 سال بیت چکے ہیں، چوں کہ استعماری طاقتوں کی سازشوں کے باعث اسے نہ صرف اپنی سرحدوں میں ہی محدود ہونا پڑا، بلکہ اس نے سخت ابتلائیں بھی برداشت کیں۔ آج حالات اس سمت بڑھنا شروع ہو گئے ہیں کہ استعماری طاقتیں اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں اُلجھنا شروع ہوگئی ہیں۔ آج یورپی طاقتوں کا برملا اظہار کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ نظروں سے اوجھل ہوتا دکھائی دیتا ہے، اسی کا عملی ثبوت ہے۔ کیوں کہ استعمار نے اپنے آلہ کار حلقوں کو اپنی حکمتِ عملی سے اتنا نااہل اور ناتواں بنا دیا ہے، جس کے باعث آئندہ ان سے کسی قسم کے کردار کی توقع نظر نہیں آتی۔
انبیا علیہم السلام کے مشن کے دو کام

۲۶؍ رمضان المبارک۱۴۳۸ھ / 22؍ جون 2017ء کی شب حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں ’’تکمیل قرآن حکیم‘‘ کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’میرے محترم دوستو! یہ بہت ہی مبارک لمحات ہیں۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے۔ ستائیس ویں شب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اس رات میں اس کرۂ ارض پر موجود انسانیت پر برس رہی ہیں۔ ایسے موقع پر ہمارا اللہ کے لیےیہاں جمع ہونا، دُور دَراز سے سفر کرکے آنا، قرآن حکیم کی تکمیل کی اس مجلس میں شریک ہونا‘ انتہائی مبارک باد کی بات ہے۔ اس کی بہت سی برکات ہیں۔ ہم یہاں حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی نسبت سے جمع ہیں۔ ہم ان کے ساتھ اپنی نسبت جوڑتے ہیں۔ انھوں نے ہمیں اپنی ذات کے بجائے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒاور ان کے سلسلے کی جماعت کے ساتھ جوڑا ہے۔ ان تمام بزرگوں نے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے ساتھ جوڑا ہے۔ اور نبی اکرمؐ نے تمام مسلمانوں کو اللہ کے ساتھ جوڑنے کا کام کیا ہے۔ اولیاء اللہ کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے قرآن حکیم میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ‘‘ (آلِ عمران: 79) (ربّ والے ہوجاؤ)۔ ربّ والے وہ ہوتے ہیں، جو ربّ کے ساتھ انسانوں کو جوڑتے ہیں۔ ہم ایسے ہی بزرگوں کی نسبت سے یہاں پر اس عزم اور ارادے کے ساتھ جمع ہیں کہ ہمیں ان بزرگوں کی وساطت سے دین کی صحیح سمجھ آجائے۔ قرآن حکیم کا صحیح فہم پیدا ہوجائے۔ ہمارے اَخلاق درست ہوجائیں۔ انبیا علیہم السلام والے کام کی عظمت اور اہمیت ہمارے دلوں میںپیدا ہوجائے۔
انسانیت کی نسبت سے انبیا علیہم السلام کے دو ہی کام ہیں: (1) اَخلاق کو درست کرنا، نفس کی تہذیب کرکے اُسے اعلیٰ اَخلاق کا خوگر بنانا۔ (2) ملکوں اور قوموں کی سیاست اور اُن کی اجتماعیت کو برقرار رکھنا۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’انبیا علیہم السلام کی سیرتیہ ہے کہ وہ کبھی کسی ایسے کام میں مشغول نہیں ہوئے کہ جن کاموں کا تعلق تہذیبِ نفس اور سیاستِ اُمت کے علاوہ ہو‘‘۔ انبیا علیہم السلام کی سیرت صرف ان دو دائروں میں ہوتی ہے۔ ایک انسانی نفوس کو مہذب بنانا کہ وہ حیوانیت کے دائرے سے نکل کر اُونچے درجے کے انسان بن جائیں۔ وہ اپنے گناہوں پر ندامت اور توبہ کرکے اللہ کے حضور میں پاک صاف دل کے ساتھ متوجہ ہوجائیں۔ پھر اس جماعت کے ذریعے سے انسانوں کی قومی اور بین الاقوامی سیاست کو منظم اور اجتماعیت کو درست کرنا ہے۔ اُن میں اگر زوال ہے، غلامی ہے، پستی ہے، وہ مغلوبیت کی حالت میں ہیں، بزدلی ہے، اجتماعیت ٹوٹی ہوئی ہے تو اُس کو دوبارہ اس طریقے سے سربلند کردینا کہ وہ غالب آجائے‘‘۔
انقلاب اور تبدیلی کا حقیقی مفہوم
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’بعثتِ نبویؐ سے پہلے جزیرۃ العرب کے رہنے والے لوگ اپنی اجتماعیت میں گوناگوں مسائل سے دو چار تھے۔ عام انسان غلامی کی حالت میں تھے۔ پستی، معاشی بدحالی اور سیاسی بدنظمی تھی۔ نبی اکرمؐ نے آکر صحابہ کرامؓ کے اَخلاق درست کیے۔ انھیں مہذب بنایا، اور صحابہؓ کی جماعت کے ذریعے سے اس خطے کے بسنے والے تمام انسانوں کا ایسا سیاسی نظم و نسق قائم کردیا کہ امن قائم ہوگیا، کوئی بداَمنی نہیں رہی۔ ڈاکوؤں اور چوروں کے جو قبیلوں کے قبیلے مشہور تھے، وہ توبہ تائب ہوگئے۔ سسٹم کی طاقت نے اُن کی چوری اور ڈاکے کی عادت ختم کردی۔ جان، مال، عزت آبرو کا تحفظ ہوگیا۔ تمام انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا اجتماعی نظام قائم ہوگیا۔ نبی اکرمؐ کی سیرت اور صحابہؓ کی جدوجہد اور کوشش سے اس پورے معاشرے کے اندر ایک انقلاب آگیا۔
انقلاب اور تبدیلی اسی کو کہتے ہیں کہ انسانوں کے اندر سے اَخلاقِ رذیلہ نکل جائیں، اعلیٰ اَخلاق پیدا ہوجائیں۔ انقلاب یہی ہوتا ہے کہ کوئی قوم بدنظمی، بداَمنی، ظلم اور ناانصافی کے ماحول سے تبدیل ہوکر عدل و انصاف کے ماحول میں آجائے۔ حضور ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو ابوجہل کا جہالت، ظلم، ناانصافی پر مبنی نظام موجود تھا۔ جب حضوؐر دنیا سے تشریف لے گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کا علم، عدل اور امن کی بنیاد پر نظام دنیا میں قائم تھا۔ یہ کتنا بڑا انقلاب ہے! کتنی بڑی تبدیلی ہے کہ پورے کا پورا معاشرہ بدل دیا! جو لوگ انبیا علیہم السلام کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُن کی اس سیرت کو اپنے پیشِ نظر رکھیں۔
ہم سب یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ ہم اپنے ان تمام بزرگوں کی نسبت سے نبی اکرمؐ کے اس انقلابی کام کو سمجھ سکیں۔ اس کا شعور پیدا کریں۔ یہ اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس وقت ان دو ہی خرابیوں کے اندر مبتلا ہیں۔ دو ڈھائی سو سال کی غلامی کے نتیجے میں ہمارے اَخلاق بگڑ گئے ہیں۔ بداَخلاق بن گئے۔ کم تولنا، کم ناپنا، جھوٹ بولنا، فراڈ کرنا، بداَمنی پیدا کرنا، دہشت گردی کو فروغ دینا، قتل و غارت گری کرنا، یہ رویے ہماری مجموعی سوسائٹی کے اندر سرایت کر گئے ہیں۔ ہمارے سیاسی لیڈر، عدلیہ کے ذمہ داران، بیوروکریٹ، معیشت دان، سیکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے، ہمارے مذہبی نمائندوں کے اندر یہ بداَخلاقی سرایت کرگئی۔ وہ باقاعدہ اس دور میں فتنے کے طور پر سسٹمائز ہوگئے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ: دو جماعتیں اگر درست ہوجائیں تو سب لوگ درست ہوجاتے ہیں۔ اور وہ دو جماعتیں خراب ہوجائیں تو پوری انسانیت خراب ہوجاتی ہے: ایک حکمران طبقہ اور دوسرے مذہبی رہنما۔ لوگ حکمرانوں کی اتباع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور مذہبی نمائندوں کی مذہب کی نسبت سے عزت کرتے ہیں۔ اب اگر ان کے رویے جھوٹ کے ہوں، بداَخلاقی کے ہوں، غلط سیاست کی آلہ کاری کے ہوں، وہ اسی نظام کا حصہ ہوں تو وہی رویے عوام میں منتقل ہوتے ہیں‘‘۔
ظلم کے نظام سے برأت کا اعلان
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’رمضان المبارک کے روزے، قرآن حکیم کی تعلیم، انبیا علیہم السلام کی سیرت پر مبنی موضوعات، جو ہم نے ادارہ رحیمیہ کے قیامِ رمضان میں سنے، صحابہؓ کی جدوجہد اور کوشش کے حوالے سے جو باتیں ہم نے یہاں پر سنیں، اس کا ایک ہدف یہ ہے کہ ہم بداَخلاقی کے اس نظام سے برأت کا اعلان کرکے انبیاؑ کے اَخلاق، ان کے طریقۂ کار اور تعلیم و تربیت کے مطابق اپنے نفوس اور اپنے دلوں کو ڈھالیں۔ ہمیں اس بات کا عزم کرنا ہے کہ ہم یہاں کی سرمایہ پرستانہ معیشت کی بداَخلاقی کو قبول نہیں کرتے۔ یہاں کی سیاست کی بداَخلاقی سے ہم برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہاں کی عدالت کی ناانصافیوں سے ہم برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم یہاں کے رجعت پسند مذہبی رہنماؤں کی رجعت پسندی اور مذہب فروشی سے انکار کرتے ہیں۔
یہ وہی بات ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دور کے ایسے ہی اُمرا، فقہا اور مذہبی رہنماؤں کے خلاف کہی تھی کہ ہم تم سے اور جن کی بھی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو، چاہے وہ ملکی طاقتیں ہوں یا جن عالمی سامراجی طاغوتی قوتوں کے تم غلام بنے ہوئے ہو، ہم ان تمام سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ حضرت ابراہیم نے کہا کہ: ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ہمارے اور تمھارے درمیان دشمنی اور بغض و عداوت ہے، جب تک کہ تم اعلیٰ اَخلاق نہیں اپناتے۔ (ممتحنہ: 4) ہماری تمھاری ذات سے، تمھارے جسموں سے لڑائی نہیں ہے۔ ہماری لڑائی تمھاری بداَخلاقی اور انسان دشمن رویوں سے لڑائی ہے، تمھارے قائم کردہ ظلم و ناانصافی کے نظام سے لڑائی ہے۔
دوسری بڑی بنیادی بات یہ ہے کہ انبیا علیہم السلام کا طریقہ پوری اُمت کی اجتماعیت کو سامنے رکھ کر کام کرنے کا تھا۔ صرف کسی ایک فرد یا چند افراد کو مہذب بنانے کے تناظر میں نہیں ہے، بلکہ سیاسۃُ الاُمّۃیعنی پوری اُمت، پوری اجتماعیت، پوری قوم کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کی بات ہے۔ انفرادی طور پر صرف ذاتی کامیابی ہی کی بات نہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جب تک کوئی خُلق یا عادت عملاً کسی اجتماعی نظام میں نہیں ڈھلتا تو وہ نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ کیوںکہ لوگ اپنے حکمرانوں اور رجعت پسند مذہبی طبقوں کے پیچھے چلتے ہیں۔ جیسے حضوؐر نے ابوجہل جو وہاں کا سردار بھی تھا، سیاسی حکمران بھی تھا، اور وہاں کے جو مذہبی نمائندے ہیں، ان کے ساتھ حج کروانے میں مدد اور تعاون کرتے تھے، جیسے اُن تمام کو راستے سے ہٹا کر ایک نئی اجتماعیت قائم کی، ایسی اجتماعیت قائم کرنے کی جدوجہد کرنا انبیا علیہم السلام کی سیرت کا دوسرا اہم ترین پہلو ہے۔ اس لیے دین کا نظام قائم کرنا مسلمان جماعت پر لازمی اور ضروری ہے۔ یہ کائنات اللہ کے ایک نظام کے تحت چل رہی ہے۔ ہم اللہ کی حکمرانی مانتے ہیں تو اللہ نے ہمیں دنیا میں اعلیٰ اَخلاق و افکار اور شریعت کے مطابق سسٹم اور نظام قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے‘‘۔
معمولاتِ رمضان المبارک کا بنیادی پیغام
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ادارہ رحیمیہ میں قیامِ رمضان اور معمولاتِ رمضان کا بنیادی پیغام وہی بات ہے، جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمائی تھی کہ: ’’روزہ صرف کھانے پینے اور خواہشات کو روکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزہ تو جھوٹ، لغو اور باطل سے رُکنا ہے‘‘۔ ہمیں ہر لغو کام سے برأت کا اعلان کرنا ہے۔ ہر جھوٹ اور باطل کا انکار کرنا ہے۔ یہ بنیادی ہدف ہے۔ الحمد للہ! پورے رمضان آپ نے انھی اہداف کی روشنی میںیہاں رمضان المبارک بسر کیا۔ اب یہ مطلب نہیں ہے کہ یہاں جو کچھ سنا ہے، وہ یہاں سے جانے کے بعد ہم سب کچھ بھول جائیں، نہیں! جو کچھ یہاں آپ نے سیکھا ہے، یہاں سے جانے کے بعد دراصل اپنے اپنے علاقوں، اپنی اپنی سوسائٹی اور اپنے اپنے ماحول میں رمضان کے ان اثرات کو محفوظ رکھنا ہے۔ وہ باتیں جو نبی اکرمؐ نے رمضان کے حوالے سے ارشاد فرمائی ہیں کہ یہ چار اعمال کثرت سے کرو: (۱)اللہ کا ذکر، (۲)استغفار، (۳)جنت کی طلب اور (۴)جہنم سے چھٹکارے کی دعا۔ شروع رمضان میںیہ بات عرض کردی گئی تھی کہ یہ معمولات ہمارے یہاں پر رہنے چاہئیں اور الحمد للہ! اس کے مطابق ہم نے اپنے معمولات جاری رکھے۔ ہم یہاں ذکر و اَذکار میں مشغول رہے، کثرت سے استغفار کیا۔ ہم نے اپنے انفرادی گناہ بھی سمجھے، اور اجتماعی گناہ بھی سمجھے کہ کون کون سے ہم سے اجتماعی حوالے سے گناہ ہو رہے ہیں۔ اور اُن سے ہم نے برأت کا اعلان کیا، اللہ سے دعا مانگی کہ اے اللہ میاں! ہمارے یہ گناہ معاف کردے۔
یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ ہمیں دنیا کی جہنم سے بھی بچا اور آخرت کی جہنم سے بھی بچا۔ دنیا کو جنت بنا اور آخرت کو بھی جنت بنا۔ دنیا اعلیٰ اَخلاق سے جنت بنتی ہے۔ جب سوسائٹی میں امن ہو، عدل ہو، تمام انسانوں کے حقوق ادا ہوں تو لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا۔ اس طرح دنیا حسنہ اور جنت بن جائے گی۔ لیکن اگر جھوٹ ہو، بددیانتی ہو، بداَخلاقی ہو، دوسروں کے حقوق ٹوٹیں تو آپس میں لڑائی ہوگی۔ اس طرح دنیا جہنم بن جاتی ہے۔
ہم نے ان چاروں چیزوں کو اپنا معمول بنایا۔ اسی معمول کو اب جاری رکھنا ہے، تاکہ یہ جو عادت بن گئی ہے، یہ جو مشق ہم نے تیس دن میں کی ہے، اس مشق کو ہم برقرار رکھیں۔ جو بنیادی چیزیں ہم نے یہاں سیکھی ہیں، ہم اپنے علاقوں میں جا کر بھی ان کی پابندی کریں، تاکہ ہمارے اَخلاق بھی درست ہوں، اور ہم اجتماعی نقطہ نظر سے ایک سوچ قائم کرکے ایک نتیجے تک پہنچیں۔ ہماری نمازیں رسمی نہ ہوں، ہمارے اعمال رسمی نہ ہوں۔ ہماری سوچ رسمی نہ ہو۔ بلکہ ہماری سوچ، ہمارا عمل انقلابی ہو، تبدیلی کے نقطہ نظر سے ہو، اپنے آپ کو بدلنے، سوسائٹی کو بدلنے، معاشرے کو بدلنے، اپنی قومی اجتماعیت کو بدلنے کی جدوجہد اور کوشش کے ساتھ ہو، تو یقینا دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی برکات نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین!)‘‘۔
حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم سجاولی ؒ

ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح سندھ دھرتی کے لوگوں نے بھی ہندوستان کی تحریکاتِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی کاوشوں سے وادیٔ مہران کے علما اور عوام کی کثیر تعداد شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ کے مشن سے وابستہ ہوئی اور تحریکِ ریشمی رومال میں اپنا کردار ادا کیا۔ انھیں شخصیات میں ایک اہم شخصیت حضرت مولاناشاہ عبدالرحیم سجاولیؒ کی ہے۔
شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ کا تعلق سندھ کے مشہور سادات خاندان ’’مٹیاری سادات‘‘ کی شاخ ’’جرار پوتہ‘‘ سے تھا۔ ان کے والد ِگرامی سیّد محمد رحیم شاہؒ علاقے میں قدر و منزلت کے حامل بزرگ تھے۔ ان کا پیشہ زمین داری تھا۔ شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ 18؍ مارچ 1878ء میں ٹھٹھہ کے قریب ایک شہر سجاول میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سجاول اور مٹیاری میں میاں عبدالکریمؒ سے حاصل کی۔ مٹیاری میں قرآنِ حکیم اور فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سجاول میں مولانا حامد اللہؒ سے دیگر کتب کی تحصیل فرمائی۔ 1888ء میں اپنے والدِ گرامی کے وصال کے بعد اپنے بہنوئی سیّد قادر ڈنہ شاہ کی کفالت میں آئے۔ انھوں نے بھی شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ سیّد قادر شاہ انتظامی صلاحیت میں ماہر تھے۔ ان کی زیر تربیت شاہ عبدالرحیمؒ کو مختلف سماجی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
اپنے علاقے کے ہاریوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی حضرت شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی انھی خدمات کی بدولت بہت جلد ان کا شمار کراچی ضلع کے معروف زمین داروں میں ہونے لگا۔ اسی دوران تحریکِ ریشمی رومال کا آغاز ہوا۔ وہ اس تحریک میں شامل ہوگئے اور سرگرم کردار ادا کیا۔ حریت و آزادی کی اس تحریک میں امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی رہنمائی میں شاہ عبدالرحیمؒ کے ساتھ حضرت مولانا تاج محمود امروٹیؒ، مولانا عبدا للہ لغاریؒ، مولانا حامد اللہؒ، شیخ عبدالرحیمؒ اور کئی دیگر احباب نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ تحریک کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ عوام میں اس تحریک کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میں انھوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔
1917ء تا 1944ء سندھ میں موجود مختلف فلاحی اور تعلیمی اداروں کی رقوم کی صورت میں امداد بھی کرتے رہے، جس میں سکھر کا مسلم اخبار ’’الحق‘‘، ’’الوحید‘‘، ’’جمعیۃ الاخوان‘‘ کراچی کے علاوہ دیگر کئی ادارے شامل ہیں۔
شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ 1918ء میں سجاول سینٹری کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 1945ء تک اس ذمہ داری پر فائز رہے۔ ان کی خواہش تھی کہ دینِ اسلام کی سربلندی اور قرآن فہمی کے لیے ایک ادارہ قائم کیا جائے، جو علاقے کے نوجوانوں اور نئی نسل میں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرے۔ اس مقصد کے لیے اپنے بڑے بھائی شاہ محمد ہاشمؒ کے نام کی نسبت سے 30؍ جون 1921ء کو سجاول شہر میں ’’مدرسہ دارالفیوض الہاشمیہ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے 100 ایکڑ زرعی زمین اور دکانیں وقف کیں۔ جب اس ادارے کی سرپرستی کی ذمہ داری کا سوال پیدا ہوا تو اس کے لیے انھوں نے سب سے زیادہ اعتماد ’’تحریکِ ریشمی رومال‘‘ کی اہم شخصیت حضرت مولانا محمد صادق کھڈویؒ اور حضرت حکیم فتح محمد سیوہانیؒ پر کیا۔ 1923ء کو جب جمعیۃ العلما کی جانب سے فتنۂ اِرتداد کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تو ’’انسدادِ ارتداد و تبلیغ فنڈ‘‘ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1920ء میں ’’تحریکِ خلافت‘‘ کے سلسلے میں دیگر عمائدینِ علاقہ کے ساتھ مل کر 19؍ مارچ 1920ء کو جامع مسجد سجاول میں عوامی اجتماع کا بھی انعقاد کیا گیا۔
1925ء میں زمین دار ایسوسی ایشن ضلع کراچی کے صدر منتخب ہوئے۔ 1931ء میں شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ کی سربراہی میں ہاریوں اور زمین داروں کا ایک وفد بمبئی بھی گیا، تاکہ اس وقت کے ظالمانہ زرعی بل کے حوالے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جاسکے۔ شاہ عبدالرحیمؒ نے عوام کی خدمت کے لیے لوکل بورڈ میں بھی خوب کردار ادا کیا۔ 1925ء تا 1929ء تحصیل لوکل بورڈ کے چیئرمین اور 1928ء تا 1930ء ضلعی بورڈ کے ممبر رہے۔ نہ صرف یہ کہ دینی تعلیم کی فراہمی میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا، بلکہ عصری تعلیم کے فروغ میں بھی پیش پیش رہے۔ اس مقصد کے لیے ضلع سکول بورڈ کے ممبر کے طور پر کردار ادا کرتے رہے۔ تحریکِ ریشمی رومال کے دوران امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ جب حجاز تشریف لے گئے تو اسی دورانیہ میں حج کے موقع پر ایک بار پھر سے شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ کی حضرت سندھیؒ سے ملاقاتوں کا آغاز ہوا۔ حجاز شریف میں انھوں نے امامِ انقلابؒ سے حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتب کا مطالعہ شروع کیا۔ وہ حضرت شاہ صاحبؒ کے فلسفے سے اس قدر متأثر ہوئے کہ حضرت سندھیؒ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ شاہ صاحبؒ کی کتب کو سندھی زبان میں بھی ترجمہ کرایا جانا چاہیے، تاکہ سندھ دھرتی کے نوجوان ولی اللّٰہی فکرو فلسفے سے آگاہ ہوسکیں اور اپنا سماجی کردار ادا کرسکیں۔
حضرت سندھیؒ کی وطن واپسی کے بعد 12؍ جولائی 1940ء کو ضلع کانگریس کمیٹی ٹھٹھہ کی جانب سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد بھی شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ اس کانفرنس میں حضرت سندھیؒ نے افتتاحیہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اسی عرصے کے دوران مولانا شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فلاسفی کو سندھی زبان میں پیش کرنے کے لیے ایک ادارے کے قیام کا منصوبہ تیار کرچکے تھے۔ اس مقصد کے لیے موصوفؒ نے اپنی 1100 ایکڑ زمین بھی اس ادارے کے قیام کے لیے وقف کردی تھی۔ آج بھی یہ ادارہ ’’شاہ ولی اللہ اکیڈمی‘‘ کے نام سے حیدرآباد میں قائم ہے۔ اسی ادارے کے زیر اہتمام امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نسبت سے ’’الولی‘‘ اور مولانا موصوفؒ کے نام کی نسبت سے ایک رسالہ ’’الرحیم‘‘ شائع ہوتا رہا۔
اس ادارے کی جانب سے شاہ صاحبؒ کی متعدد کتب کا ترجمہ سندھی زبان میں ہوچکا ہے، جس میں سب سے زیادہ نمایاں نام حضرت سندھیؒ کے ایک نام ور شاگرد مولانا غلام مصطفی قاسمیؒ کا ہے۔ وہی شاہ ولی اللہ اکیڈمی کے روحِ رواں رہے۔ اُن کی زندگی تک اس ادارے نے حضرت شاہ صاحبؒ کی کتابیں شائع کرنے کا بیڑا اُٹھائے رکھا۔ مجلس علمی ڈابھیل کے بعد شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد ہی وہ واحد ادارہ ہے، جس نے حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی کتابیں شائع کی ہیں۔ بلاشبہ ولی اللّٰہی علوم و معارف اور افکار و نظریات کے فروغ میں اس اکیڈمی کا بڑا کردار ہے۔ اس کے ذریعے سے پاکستان کے نوجوانوں میں علومِ ولی اللّٰہی کا شوق اور جذبہ بیدار ہوا۔
حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم سجاولیؒ نے ولی اللّٰہی اَفکار کے فروغ اور تحریکِ آزادی میں بہت قربانیاں پیش کیں اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکرو فلسفے کو عام کرنے کے مشن کے دوران ہی۲؍ شعبان۱۳۶۶ھ / 20؍ جون 1947ء کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی تدفین سندھ کے تاریخی قبرستان مکلی میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین یا ربّ العالمین)!
End of issue
Back
