حضرت آدمؑ کی توبہ اور اُس کی قبولیت

فَتَلَقّىٰ آدَمُ مِن رَبِّهِ كَلِماتٍ فَتابَ عَلَيهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ (37:2)
(پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے ربّ سے چند باتیں۔ پھر متوجہ ہوگیا اللہ اس پر۔ بے شک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان۔)
گزشتہ آیت میں بتلایا گیا کہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواؑ کو پھسلایا اور انھیں جنت سے نکلوایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک وقت کے لیے زمین پر رہنے کا حکم دیا۔ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ جنت سے نکلنے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کے دل میں توبہ کے جامع کلمات ڈالے۔ انھوں نے وہ کلمات پڑھ کر اللہ کے سامنے پوری ندامت کے ساتھ توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی۔ پھر زمین پر جاکر رہنے اور خلافتِ ارضی کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا حکم دیا۔
فَتَلَقّىٰ آدَمُ مِن رَبِّهِ كَلِماتٍ : کلمہ ایسے لفظ کو کہا جاتاہے، جو انسانی دل و دماغ میں موجود حالت اور کیفیت کو پوری جامعیت کے ساتھ الفاظ ادا کرے۔ چوںکہ حضرت آدمؑ اعلیٰ مَلَکیت پر پیدا ہوئے تھے، اس لیے اس غلطی کے سرز دہونے پر اُن کے دل و دماغ پر ندامت اور شرمندگی کی ایک کیفیت اور معنوی حالت طاری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حالت کے اظہار کے لیے خود اللہ نے ہی اُن کے قلب میں جامع کلمات ڈالے۔ اس طرح حضرت آدمؑ نے اپنے ربّ سے توبہ کے کلمات سیکھ کر توبہ کی۔
سورت الاعراف میں حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے اُن کلماتِ توبہ کا ذکر ہے کہ: (7:23) (ان دونوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور اگر تُو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے۔) اللہ تعالیٰ کی جانب سے توبہ کے یہ کلمات بہت جامعیت لیے ہوئے ہیں۔ انسان کا شرف اور اُس کی عزت اسی میں ہے کہ وہ ذاتِ باری تعالیٰ کے سامنے اپنی طرف سے ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف کرے اور انتہائی ندامت کے ساتھ اُس کے سامنے گڑگڑا کر توبہ کرے۔
انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیوانیت اور مَلَکیت کے درمیان اعتدال اور توازن قائم رکھے۔ کسی ایک طرف ایسا جھکاؤ، جس سے دوسری طرف کے تقاضوں کی ادائیگی میں کوتاہی پیدا ہو، ’’ظلم‘‘ ہے۔ بہیمی تقاضوں کے غلبے اور مَلَکی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کی اس غفلت پر حضرت آدمؑ کے سامنے عدل اور ظلم کی علمی حقیقت کھلی۔ یوں اپنے نفس کی مَلَکیت اور بہیمیت کے درمیان توازن و اعتدال قائم کرنے کی ذمہ داری کا فہم حاصل ہوا۔ اپنی غلطی سے ایک اہم علم سیکھنے اور سمجھنے کا دروازہ کھلا۔ انسان کا اپنی غلطیوں سے سیکھ کر صحیح راستے کا بہتر علم اور شعوری عمل اختیار کرلینا کامیابی کا راستہ ہے۔
حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ نے سب سے پہلے اپنی جان پر ہونے والے اس ظلم کی حقیقت کا ادراک کیا کہ نفسِ انسانی اپنے اندر توازن اور اعتدال پیدا کرنے کے بجائے خالص بہیمیت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مشغول ہوا اور ملکیت کے تقاضے چھپ کر رہ گئے۔ توبہ کے ان کلمات کے ذریعے سب سے پہلے انھوں نے اپنے نفس پر کیے ہوئے ظلم کا اعتراف کیا۔ پھر اس سبب سے اپنے نفس پر ہونے والے غلط اثرات کے تدارُک کے لیے اللہ تعالیٰ سے پردہ پوشی اور مغفرت کی درخواست کی اور اُس کی رحمت اور شفقت کے طالب ہوئے۔ حضرت آدمؑ کی اس جامع توبہ اور دعا نے مستقبل میں بھی غفلت سے سرزد ہونے والے گناہوں اور مظالم سے نجات حاصل کرنے اور اللہ کا خلیفہ اور نائب بن کر صحیح کردار اد اکرنے کا علمی اور عملی منہج واضح کردیا۔ انسان کی کامیابی تبھی ہے کہ اُس کے نفس پر غفلت سے گناہ اور ظلم کے اثرات پیدا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اُس کی طرف سے مغفرت کے سبب سے ہی نفس میں اعتدال پیدا ہوتا ہے۔ اللہ رحمن و رحیم کی صفتِ رحمت کا انسانی نفس پر ظہور‘ عدل و انصاف کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس دعا سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ خلافت کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے انسانی نفوس پر ہونے والے مظالم سے بچنا اور انسانوں کو رحمت کے عدل و انصاف کے ماحول کی طرف لانا ہے۔
فَتابَ عَلَيهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ : جب حضرت آدمؑ کا دل اللہ کی طرف ندامت سے متوجہ تھا تو اللہ تعالیٰ بھی اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں معاف کردیا۔ اور اپنی خاص رحمت کا اظہار اس طرح کیا کہ تجلیاتِ الٰہیہ نے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی طرف متوجہ ہو کر اُن کے قلوب کو گھیر لیا۔ اس موقع پر جو فہم اور سمجھ انھیں حاصل ہوا تھا، اسے آئندہ بروئے کار لانے کی صلاحیت اور استعداد پیدا کی۔ اس طرح زمین پر خلافت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کو عدل و انصاف کا رحمت پر مبنی ایسا نظامِ فکر و عمل سکھا دیا، جس سے نہ صرف اُنھیں دنیا میں درپیش معاملات اور ارتفاقات کی ادائیگی میں عدل و اعتدال پیدا ہوگیا، بلکہ اسی کے ساتھ قربِ بارگاہِ الٰہی حاصل کرنے کے طریقہ ہائے عبادت بھی عیاں ہوگئے۔
اس آیت میں خاص طور پر اللہ کی دو صفات ’’التّوّاب‘‘ اور ’’الرّحیم‘‘ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ وہ توّاب ہے، یعنی ذاتِ باری تعالیٰ انسانوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اگر انسان اپنی غلطی سے سیکھ کر آئندہ اُس سے بچنے کا سامان کرے اور اُس کی طرف متوجہ ہو رہے تو وہ سیدھے راستے پر قائم رہتا ہے۔ ان کی توبہ قبول کرکے انھیں آئندہ بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا دوسرا وصف ’’الرّحیم‘‘ ہے۔ یہی صفتِ رحمت انسانیت کو اپنی آغوش میں لے کر آئندہ کے لیے سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ اسی صفتِ رحمت کا اظہار انبیا علیہم السلام کی بعثت اور کتبِ مقدسہ کے نزول کی صورت میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ اگلی آیت میں اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی نبویؐ تعلیمات اور ہدایات کا ذکر ہے، جو اُس کی صفتِ رحمت کا انسانیت کے لیے اظہار ہے۔
حضورﷺ کی تین نصیحتیں

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاؓئِ، قَالَ: أَوْ صَانِی خَلِیْلِیﷺ أَنْ: ’’لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَ إِنْ قُطِّعْتَ وَ حُرِّقْتَ، وَلَا تَتْرُکْ صَلَاۃً مَکْتُوبَۃً مُتَعَمِّداً، فَمَنْ تَرَکَھَا مُتَعَمِّدًاً فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃ، وَلَا تَشْرَبِ الخَمْرَ، فَإِنَّھَا مِفْتَاحُ شَرٍّ۔‘‘
(حضرت ابودرداؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھ کو نصیحت کی ہے کہ: ’’تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا، اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائو اور جلا دیے جائو۔ فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیوںکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اُٹھ گئی۔ تم شراب مت پینا، کیوںکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے۔‘‘) (سنن ابن ماجہ: 4034)
اس حدیث مبارک میں نبی اکرمﷺ نے نہایت ہی اختصار کے ساتھ اعلیٰ درجے کی تین نصیحتیں ارشاد فرمائی ہیں۔
پہلی نصیحت شرک نہ کرنا۔ شرک ذ ہنی اُلجھائو اور عملی گمراہی کو جنم دیتا ہے اور انسان کو راہِ حق سے ہٹا دیتا ہے۔ توحید کا تصور انسان کو ہدایت کی روشن راہ دِکھاتا ہے۔ توحید اللہ کی ذات کو کائنات میں وحدہٗ لاشریک ماننا ہے۔ اور یہ ماننا کہ انسانوں کو نظامِ حیات دینا بھی اسی کا حق ہے، کسی اَور کا نہیں ہے۔ اللہ کو ماننا مگر اس کے احکامات کو نہ ماننا عملی شرک ہے۔ الٰہی احکامات کے خلاف اور متصادم نظام کو اختیار کرنا بھی شرک کی ایک صورت ہے۔ آج اللہ کی ذات کی توحید کے تذکرے کے ساتھ افعال و اعمال اور نظام کے شرک کو عمومی طور پر نظراَنداز کردیا جاتا ہے، یہ عصرِحاضر کی گمراہی اور بے عملی ہے۔
رسول اللہﷺ دوسری نصیحت میں ترکِ نماز کا نہایت ہی نقصان دہ نتیجہ بیان کررہے ہیں کہ بے نمازی پر سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ اُٹھ جائے گا۔ یہ اس لیے ہے کہ نماز انسان کی روح کی پاکیزگی، ترقی، خدا سے تعلق اور اس کے انوارات کے حصول کا اہم ترین ایک ذریعہ ہے۔ جو مسلمان نماز ادا کرنا چھوڑ دیتا ہے، گویا اس نے تباہی و بربادی کا ایک بہت بڑا راستہ اپنے لیے کھول لیا۔ ترکِ نماز کا نتیجہ اپنے آپ کو اللہ کی حفاظت اور پناہ سے نکال کر خطرات میں ڈالنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے کوئی شخص پہاڑ پر سے اپنے آپ کو لُڑھکا دے۔ اسے کوئی تحفظ دینے والا نہ ہو۔
رسول اللہﷺ تیسری نصیحت میں شراب خوری کو برائیوں کی چابی اس لیے فرما رہے ہیں کہ اس سے انسانی دماغ اور جسم کا نظام مختل اور غیرمتوازن ہوجاتا ہے۔ صحیح غلط کی تمیز ختم ہوجاتی ہے، جس سے اس کے افعال و اعمال اور رویوں پر بُرے اَثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے جو دین و دنیا کی تباہی وبربادی اور ناکامی کا سبب بنتی ہے۔
مذکورہ بالا تین چیزیں نہایت مختصر، مگر بہت اہم ہیں۔ وہ فرد اور معاشرہ جو اِن اُمور کا لحاظ کرلیتا ہے، وہ کامیابی اور کامرانی کی راہ پہ گامزن ہوجاتا ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور ریاست ِمدینہ کی سوشل قوت (1)

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ مدبرینِ امت اور ان دس صحابہؓ میں سے ہیں، جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت ملی۔ ہجرت کے بعد آپؓ کا سلسلۂ مواخات ایک انصاری صحابی حضرت سعد بن ربیعؓ کے ساتھ بنا۔ حضرت سعدؓ نے پورے جذبۂ اَخوت کے ساتھ اپنے مہاجر بھائی کو کہا کہ: ’’میںاپنی کُل دولت کو اپنے اور تمھارے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر لوںگا۔ میری دو بیویاں ہیں۔ ان میں سے جس سے تم نکاح کرنا چاہو، میں طلاق دینے کے لیے تیار ہوں۔ تم مقررہ مدت گزرنے کے بعد اس سے شادی کر لینا۔‘‘ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے اسی جذبے کے ساتھ حضرت سعدؓ کو جواب دیا کہ: ’’اللہ تمھارے مال اور تمھاری بیویوں کو تمھارے لیے باعثِ برکت بنائے۔ مجھے بازار کا راستہ دکھا دو۔ ‘‘
بلاشبہ اس بے مثال اخوت اور باہمی خلوص کی تصویر دیکھ کر انسان حیرت سے انگشت بہ دنداں رہ جاتا ہے، جس کی مثال تاریخِ انسانی میں دنیا کی کوئی قوم پیش نہیں کر سکتی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے شریفانہ اور غیرت مندانہ رویے اور اپنے مواخاتی بھائی سے فائدہ نہ اٹھانے کا جذبہ جس قدر قابلِ تحسین ہے، اسی طرح حضرت ابن ربیعؓ کی فیاضی اور ایثار قابلِ قدر ہے۔ حضرت ابن عوفؓ ایک لائق اور تجربہ کار تاجر تھے۔ اپنی نئی اجتماعی زندگی میں اپنا مقام خود پیدا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔ کچھ عرصے بعد آپؓ کی مالی حالت اس قدر مستحکم ہوگئی کہ انھوں نے نہ صرف شادی کرلی، بلکہ سونے کی کچھ مقدار بھی اپنی اہلیہ کو مہر کے طور پر ادا کی۔ حضرت عبدالرحمنؓ کہتے ہیں کہ ایک روز حضوؐر نے میرے چہرے پر زرد رنگ کی خوشبو کے آثار دیکھے تو پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ تو میں نے بتلایا کہ انصار کی ایک خاتون سے شادی کرلی۔ رسول اللہؐ نے برکت کی دعا دی اور فرمایا: ’’ولیمہ کرو! اگرچہ ایک ہی بکری ذبح کرو۔‘‘ پھر ایک وقت آیا کہ آپؓ کے کاروبار میں بہت برکت پیدا ہوئی۔ ان کے مال میں اتنا زیادہ اضافہ ہوگیا کہ آپؓ کا شمار مسلمانوں کے دولت مند ترین لوگوں میں ہونے لگا۔ تنگی کے دنوں میں آپؓ نے مانگنے سے ہمیشہ اجتناب کیا اور اپنے ہاتھ کو اوپر والا ہاتھ بنائے رکھا، جو دینے پر تو آمادہ رہتا ہے، مگر لیتا کبھی نہیں۔
آپؓ نے اپنی وفات ۳۲ھ کے وقت وصیت فرمائی تھی کہ: ’’میرے ترکے میں سے ہر بدری صحابی کو چار چار سو دینار دیے جائیں۔‘‘ اُس وقت فہرست تیار ہوئی تو یہ سو حضرات حیات تھے۔ ان میں آپؓ کی وصیت کے مطابق چار چار سو دینار حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ نے بھی قبول فرمائے۔ (البدایہ، ج: 7، ص: 164) حضوؐر اکرم ﷺ نے آپؓ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ کیوں کہ آپؐ نماز شروع ہونے کے بعد تشریف لائے تھے۔ گویا صحابہ کرامؓ مرتبہ، مقام، عقل و تدبر اور تقویٰ کی بنا پر امامت کے لیے آپؓ کو آگے کر تے۔ مستقبل کے تعلقات پر آپؓ کی گہری نظر تھی۔ آپؓ نے فرمایا کہ: میں گواہی دیتاہوں کہ آں حضرتؐ نے فرمایا: ’’ان مجوس کے ساتھ اہل کتاب کے قانون کا سا معاملہ کرو۔‘‘ اس طرح آپؓ نے علومِ نبوت اور اجتہادی حیثیت کو جمع کرکے رہنمائی دی۔
لاک ڈاؤن اور محنت کش طبقوں کی بے بسی

ملک میں مارچ کے آخری ہفتے سے شروع ہونے والا سزانما لاک ڈاؤن مئی کے آغاز یعنی محنت کشوں سے ہمدردی کے موقع یکم؍ مئی ’’یومِ مزدور‘‘ پر بھی برقرار ہے۔
پورا ملک دہشت کی فضا اور بے یقینی میں ڈوبا ہوا ہے۔ عوام سہمے ہوئے اور ہر چار سُو خاموشی اور اَن جانے خوف کی چادر تنی ہوئی ہے۔ کاروباری اوقاتِ کار کا اکثر حصہ بازار اور مارکیٹیں بند رہنے کے باعث صارف اور کاروباری طبقے دونوں ہی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔ سرمایہ داری نظام کی چکی میں پسنے والے تیسری دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان بھی عالمی سرمایہ داری نظام کے اس خوف ناک حربے کے باعث ایک گہرے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملک کے طول وعرض میں بے کس و بے یار و مددگار عوام مارے مارے پھرتے ہیں۔ ہماری گلیاں، چوراہے اور ٹریفک سگنلز کی جگہیں جو پہلے ہی مجبور و بے کس ہاتھ پھیلائے بھیک مانگتی عوام کی آ ماج گاہیں تھیں، اب وہاں مانگنے والوں کی تعداد دوچند ہوچکی ہے۔ مجبوری اور بھوک میں ہاتھ پھیلانے کے بجائے خونِ جگر پینے والے عوام اس کے علاوہ ہیں، جو اپنے گھروں میں بیٹھے زندگیاں نگلنے والے اس المیے اور بھوک کے خلاف کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔
ایسے موقع پر حسبِ سابق ہماری ماضی کی حکومتوں کی مانند موجودہ حکومت بھی امدادی منصوبوں سے عوام کے دلوں کو للچا رہی ہے، لیکن یہ کون نہیں جانتا کہ ایسے موقعوں پرجاری ہونے والی سکیموں پر ایک خاص طبقے کی رال ٹپکتی ہے۔ وہ عوام کے امدادی منصوبوں (relief packages) کو بھی اپنے ملازموں اور بیگمات کے ناموں پر ہڑپ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، یعنی اپنے غیر سرکاری ملازمین کے نام پر جھوٹے قرضے اور اپنی بیگمات کے نام سے غریب خواتین کے ماہانہ وظائف لگوا کر اصل مستحق لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ عوام بے چارے لمبی لمبی لائنوں میں دھکے کھانے کے بعد ناکام و نامراد رہتے ہیں۔
ویسے تو اس انسانیت دشمن سرمایہ دارانہ نظام میں ہمیشہ ہی ایسے مواقع مزدور طبقوں کے لیے مرگِ مفاجات ثابت ہوتے ہیں، لیکن ’کووِڈ19‘ نامی یہ اَن دیکھی آفت غریب اور محنت کش طبقوں پر ایک قیامت بن کر ٹوٹی ہے۔ جیسے ہی ہمارے میڈیا کے منہ میں عالمی ادارۂ صحت نے اپنی زبان ڈالی اور وہ سرمایہ دار دنیا کے میڈیا کا ہم نوا ہوا تو ہماری سوسائٹی کی اشرافیہ طبقے (elite class) نے سماجی فاصلے (social distance) کے نام پر ان محنت کش طبقوں کا معاشرتی انخلا شروع کردیا۔ انھیں اپنے درمیان سے آ ٹے میں سے بال کی طرح نکال باہر پھینکا اور خود isolate یعنی معاشرتی اور اجتماعی زندگی سے کٹ کر تنہا ہوگیا۔ ہندو معاشرت کے چھوت چھات کے رویوں کی ناقد قوم راتوں رات چھوت چھات کے فلسفے کی مبلغ بن گئی۔ ہم نے فیکٹریوں سے مزدوروں، گھروں سے کام والی ماسیوں، خانساماؤں اور ڈرائیوروں کو ایسے نکالا، جیسے ہمارے معاشرے کا سب سے خطرناک ’’وائرس‘‘ یہی اجتماعی زندگی کی چھت کو اپنے کندھوں سے سہارا دینے والے محنت کش طبقے ہیں۔ شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کے خوف زدہ مکینوں سے الگ کیے جانے کے بعد یہ طبقہ اپنے گھروں کو روانہ ہوا تو پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث اس طبقے کی سفری مشکلات پر کوئی بھی حساس دل خون کے آنسو روئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
کاش کوئی تو اس مشکل گھڑی میں اس طبقے کے لیے اپنی باہیں کھولتا اور انھیں سینے سے لگاتا۔ یہ کام ہمارے دینی حلقے بھی نہ کرسکے، جو پورا سال قوم سے زکوٰۃ اور صدقات کے مطالبے پر تو اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن اس تنگی کی گھڑی میں قوم کو کچھ واپس لوٹانے کے قابل نہیں۔ ہمارے مذہبی حلقے مسجدوں میں آمد کو محدود کیے جانے پر نالاں ہیں۔ ان کا یہ شکوہ بجا ہے، کیوںکہ یہ مشکل گھڑی خدا سے دوری کے بجائے خدا کے قریب آنے کی ہے۔ پھراوپر سے رمضان کا بھی مہینہ ہے، جو تراویح میں قرآن حکیم سننے اور اس پر غوروفکر کا اجتماعی موقع ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے مذہبی حلقوں کے لیے یہ ایک سوچنے کا بھی موقع ہے کہ آخر ایسی صورتِ حال کیوں پیدا ہوئی کہ مسجدوں میں جمعہ کی نماز موقوف ہوگئی؟ اور مسجدوں کی بندش کے مراسلے (notifications) جاری ہو نے لگے؟ جب کہ ہسپتال، بینک، سبزی اور مویشی منڈیاں پورے زور و شور سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے مذہبی احباب کو سازشی نظریات (conspiracy theories) سے ذرا اوپر اُٹھ کر سوچنا ہوگا۔ انھیں اپنی غلطیوں اور کمیوں کوتاہیوں کو دین کے خلاف سازش کے نام پرجواز فراہم نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم نے ان مسجدوں کا تعارف تقویٰ، خوفِ خدا، آزادی و حریت اور دُکھی انسانیت کے لیے خدمتِ خلق کا مرکز بنانے کے بجائے معاشرے میں ان کا تعارف فرقہ وارانہ جھگڑوں اور تفریق بین المؤمنین کے حوالے سے کروایا ہے۔ اگر آج مساجد بیماروں کے علاج معالجے، بھوکے لوگوں کے کھانے اور ضرورت مند غریب و لاچار اور محنت کش طبقوں کے حقوق کی آواز بنتیں اور ان کے لیے جدوجہد کا مرکز بنتیں تو ان پر کوئی پابندی لگنی محال تھی، کیوںکہ یہ مرکز زندگی کو سہارا دے رہے ہوتے۔ زندگی سے کٹنے والے ادارے محض قنوطیت کے مراکز بن کے رہ جاتے ہیں۔ ہمارے مذہبی طبقوں نے تو اپنی سیاست میں بھی خدمتِ خلق کو دیس نکالا دے رکھا ہے۔ وہ عوام کو ووٹ کے بدلے فلاحی منصوبوں، تعلیم اور صحت کی سہولیات کے بجائے صرف ’’اسلام‘‘ مانگنے کا حق دیتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے مذہبی طبقوں کو اس بے رحم لاک ڈاؤن، یکم مئی اور رمضان المبارک کی نسبت سے نہ صرف محنت کش طبقوں کے حقوق کی بات کرنی چاہیے، بلکہ اب تو مزدوروں اور محنت کشوں کے اس قاتل نظام ہی کو جڑ اور بنیاد سے اُکھاڑ پھینکنے کے نظریے کی دعوت دینی چاہیے۔ اس کام کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے لٹریچر اور ان کے نظریات کے شارح امام عبیداللہ سندھیؒ کی تشریحات کی طرف نوجوان نسل کو متوجہ کرنے کا کام کرنا چاہیے۔ (مدیر)
فتنوں کی اقسام اور اُن کی پہچان (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’(4۔ فتنۂ ملت:) ملت ِ(اسلامیہ) کا فتنہ یہ ہے کہ نبی اکرمؐ کے صحابہؓ اور اُن کے خاص تربیت یافتہ افراد دنیا سے چلے جائیں۔ اُن کے بعد دینی معاملات نااہل لوگوں کے سپرد ہوجائیں؛ چناںچہ علما اور صوفیا‘ دین میں انتہا پسندی کو فروغ دیں، اُن کے حکمران اور جاہل لوگ دین کا نظام قائم کرنے میں سستی کریں۔ وہ عدل و انصاف اور دینی احکامات کا نظام نہ بنائیں اور لوگوں کو برائیوں سے روکنے کا بندوبست نہ کریں۔ اس طرح لوگ زمانۂ جاہلیت کی عادات و اطوار پر دوبارہ لوٹ جائیں۔ (اس سے ملت ِ اسلامیہ میں فتنہ و فساد واقع ہوجاتا ہے)، جیسا کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
’’اللہ تعالیٰ نے جب بھی مجھ سے پہلے کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا تو اس قوم میں سے کچھ لوگ اس نبی کے حواری (خاص تربیت یافتہ) اور صحابہ ہوتے رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے نبی کی سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہتے ہیں اور اُن کے دیے ہوئے احکامات کی پوری پابندی کے ساتھ اتباع کرتے ہیں۔ پھر اُن کے بعد نااہل لوگ جانشین بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ جو کچھ زبان سے کہتے ہیں، اس کے مطابق عمل نہیں کرتے، اور جو کام کرتے ہیں، انھیں اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ پس جو آدمی ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرے، وہ مؤمن ہے۔ اور جو آدمی اپنی زبان سے ایسے لوگوں کا مقابلہ کرے، وہ مؤمن ہے۔ اور جو آدمی ان سے اپنے دل سے نفرت رکھے اور مزاحمت کرے، وہ مؤمن ہے۔ ان تین آدمیوں کے علاوہ کسی میں ایمان کا ایک ذرہ بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (مسلم: 179)
(5۔ فتنۂ انسانیت:) یہ ایسا فتنہ ہے، جو پوری انسانیت میں پھیل جاتا ہے، یہاں تک کہ لوگوں میں انسانیت اور اُس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے نظام میں تغیر و تبدل پیدا ہوجاتا ہے۔ اس طرح انسانی سسٹم کی خرابی کے نتیجے میں مندرجہ ذیل طبقے بن جاتے ہیں:
(۱) ایک طبقہ اپنے آپ کو زیادہ پاکیزہ اور متقی اور پرہیزگار سمجھتا ہے۔ یہ ایسے انتہا پسند لوگ ہوتے ہیں، جو اپنے جسمانی، طبعی اور مادی تقاضوں کا سِرے سے انکار کردیتے ہیں۔ اپنے حیوانی تقاضوں کی اصلاح کرنے کے بجائے انھیں جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیںکہ ماورائے مادہ روحانی چیزوں کی مشابہت اختیار کریں۔ اور کسی نہ کسی انداز میں خودساختہ روحانی اور جسمانی نزاکتوں کی طرف میلان رکھیں۔
(۲) دوسرا طبقہ عام لوگوں کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ (انسانیت کا بہتر سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے) خالص حیوانیت اور بہیمی عادات و اطوار کے عادی ہوجاتے ہیں۔
(۳) تیسرا طبقہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے، جو پہلے دو طرح کے لوگوں کے درمیان میں رہتے ہیں۔ نہ پورے طور پر اِس طرف اور نہ اُس طرف۔
(6۔ فتنۂ حوادث و واقعات:) چھٹا فتنہ وہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کو ڈرانے کے لیے ایسے عمومی اور پوری فضا میں پھیلے ہوئے واقعات وجود میں آئیں، جو انسانوں کی عمومی ہلاکت اور تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ مثلاً (قیامت کے قریب ہوائی اور سمندری) بڑے طوفانوں کا آنا، وباؤں کا پھیلنا، چیزوں کا زمین میں دھنس جانا، پوری زمین میں آگ کا لگ جانا وغیرہ۔
نبی اکرمؐ نے ان میں سے اکثر فتنوں کا تذکرہ فرمایا ہے:
(۱) آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے نقشِ قدم پر چلو گے، جیسا کہ ایک بالشت دوسری بالشت کے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر تم سے پہلے کوئی قوم کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئی تو تم بھی اس کے پیچھے داخل ہوگے۔‘‘ (مسلم: 6771)
(۲) نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’یکے بعد دیگرے نیک لوگ دنیا سے چلے جائیں گے۔ اُن کے بعد پھوکٹ رہ جائے گا، جیسا کہ جَو الگ کرنے کے بعد اُس کے چھلکوں کا پھوکٹ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہوگی۔‘‘ (بخاری: 6434)
میں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ: نبی اکرمؐ کو یہ علم تھا کہ جیسے ہی آپؐ سے زمانہ دور ہوتا جائے گا اور آپؐ کے صحابہؓ میں سے حواریّین دنیا سے چلے جائیں گے اور معاملات نااہلوں کے سپرد ہوجائیں گے تو لازمی طور پر اُن میں ایسی رسومات جاری ہوجائیں گی، جو نفسانی اور شیطانی جذبات کے مطابق ہوں گی۔ یہ تمام باتیں تمام لوگوں میں پھیل جائیں گی، سوائے اُن چند لوگوں کے، جنھیں اللہ تعالیٰ اس سے بچائے رکھے گا۔
(۳) نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’انسانی دلوں پر کچھ اس طرح سے فتنے آتے ہیں جیسا کہ چٹائی کی بُنتی کے وقت ہر ایک تنکے کے بعد دوسرا تِنکہ آتا ہے۔ پس جو دل ان فتنوں کا پانی پی لیتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اور جو دل ان فتنوں کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے تو اس کے دل میں سفید نقطہ لگ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کے دل دو طرح کے بن جاتے ہیں: (i) ایک دل سفید چکنے پتھر کی طرح صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔ جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، کوئی فتنہ ایسے دل کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (ii) دوسرے انسان کا دل سیاہ اور آلودہ کالی اُلٹی ہانڈی کی طرح ہوجاتا ہے۔ ایسا آدمی کسی نیک کام کی پہچان نہیں رکھتا اور کسی بُرے کام کو ناپسند نہیں کرتا۔ وہ اپنی خواہشات کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ: 5380)
میں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ نفسانی خیالات اور شیطانی وسوسے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور بُرے اعمال انھیں گھیر لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں حق کی جانب کوئی سچی دعوت اُن پر اثر نہیں کرتی۔ ایسے غلط فتنوں کا انکار صرف وہی انسان کرسکتا ہے، جس کے دل میں فطری طور پر اُن فتنوں سے متضاد کیفیت اور قلبی ہیئت وجود میں آجائے۔ ایسے لوگوں کے علاوہ باقی تمام لوگوں کو نفسانی خیالات اور شیطانی وسوسے گھیر لیتے ہیں اور وہ اُن فتنوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘ (باب الفتن)
خلافت ِبنواُمیہ کے ساتویں خلیفہ ؛ ولید بن عبدالملک (2)

یاقوت حموی کی کتاب ’’معجم البلدان‘‘ میں روایت ہے کہ مشہور و ثقہ محدث شیخ عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی بصری (۱۰۸ھ - ۱۹۴ھ) کے سامنے کچھ لوگوں نے حجاج کا برائی کے ساتھ تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا: ’’إنّما تذکرون المساوی، أما تعلمون أنّہ أوّل من ضرب درہماً علیہ: لا إلٰہ إلاَّ اللّٰہ محمّد رّسول اللّٰہ، و أوّل من بنی مدینۃ بعد الصّحابۃؓ فی الإسلام، و أوّل من اتّخذ المحامل، و أنّ امرأۃ من المسلمین سبیت بالہند فنادت یا حجاجاہ! فاتّصل بہ ذٰلک، فجعل یقول لبّیک لبّیک، و أنفق سبعۃ آلاف ألف درہم، حتّٰی افتتح الہند، و استنقذ المرأۃ، و أحسن إلیہا۔‘‘ (معجم البلدان، ص:382، ج:8)
(تم لوگ اس کی برائیوں کا تذکرہ کرتے ہو، مگر کیا تم کو معلوم ہے کہ اس کے عہد میں سب سے پہلے سکہ ڈھالا گیا، جس پر کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا نقشہ تھا۔ اور عہد ِ اسلام میں صحابہؓ کے بعد سب سے پہلے شہر آباد کیا۔ اور اس نے سب سے پہلے عورتوں کا محمل ایجاد کیا۔ اور ایک مسلمان عورت ہندوستان میں گرفتار کی گئی۔ اس نے حجاج کو دہائی دی۔ جب حجاج کو اس کی خبر ملی تو اس نے لبیک کہا اور ستر لاکھ درہم خرچ کرکے ہندوستان کو فتح کیا۔ اس عورت کو قید سے رہائی دلائی اور اس کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کیا۔)
فتح سندھ و ہند کا پس منظر: فتح سندھ و ہند کی تقریب یوں ہوئی کہ کچھ مسلمان تاجر سراندیپ کے جزیرے میں سفر کی حالت میں فوت ہوگئے تھے۔ ان کے یتیم بچے اور بیوہ عورتیں جو اس جزیرے میں رہ گئیں، ان کو سراندیپ کے حکمران راجہ نے عرب حکمرانوں کے ساتھ جذبۂ خیرسگالی کے تحت نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ واپس عرب بھجوانے کا انتظام کیا اور اپنے قابل اعتماد کارندوں کی زیرنگرانی کشتیوں میں بٹھا کر حجاج کے پاس روانہ کیا۔ اور بہت سے ہدایا اور تحائف بھی حجاج اور خلیفہ ولید کی خدمت میں بھجوائے۔ یہ کشتیاں اس وقت کے بادبانی جہاز سراندیپ سے روانہ ہو کر ساحل کے قریب قریب سفر کرتے ہوئے خلیجِ فارس کی طرف روانہ ہوئے کہ وہاں سے خشکی پر اُتر کر یہ لوگ مع اپنے سامان اور تحائف کے حجاج کے پاس کوفہ پہنچ جائیں گے، لیکن ہوا یوں کہ راستے میں سمندر کی مخالف ہوا نے ان کشتیوں کو سندھ کی بندرگاہ دیبل میں لا ڈالا۔ یہاں سندھ کے راجہ داہر کے سپاہیوں نے ان کشتیوں کو لوٹ لیا اور اس پر سوار لوگوں کو قید کرلیا۔ اس صورتِ حال کا جب حجاج کو علم ہوا تو اس نے سندھ کے راجہ کو خط لکھا کہ وہ کشتیاں ہمارے پاس آرہی تھیں، جن کو تمھارے لوگوںنے لوٹ لیا ہے۔ ان لٹیروں کو قرار واقعی سزا دو اور لوٹا ہوا سامان اور قید کیے ہوئے افراد کو ہمارے پاس بھیج دو۔ لیکن راجہ داہر نے حجاج کے اس مطالبے کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اُلٹا حجاج کے خط کا نامعقول جواب دیا۔ اس پر حجاج نے عبداللہ اسلمی کو چھ ہزار فوج دے کر سندھ کی طرف روانہ کیا۔عبداللہ اسلمی سندھ پہنچے اور راجہ داہر کی فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور یہ مہم ناکام ہوگئی۔ دوبارہ حجاج نے بدیل کی سربراہی میں چھ ہزار فوج بھیجی۔ اس مہم میں بھی خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ حجاج کو اس ساری صورتِ حال پر بہت تشویش تھی۔ چناںچہ تیسری مرتبہ اپنے سترہ سالہ بھتیجے محمد بن قاسم کی سربراہی میں چھ ہزار شامی سپاہی بھیجے۔ شامی فوج کا انتخاب اس لیے کیا کہ پہلی دونوں مہموں میں فوج میں زیادہ تر عراقی اور ایرانی سپاہی تھے، جن کے بارے میں حجاج کو شبہ ہوا کہ شاید انھوں نے راجہ داہر کے فوجیوں کے ساتھ سازباز نہ کرلی ہو۔ چناںچہ محمد بن قاسم کی سربراہی میں شامی فوج نے سب سے پہلے صوبہ مکران کو فتح کیا، جس پر سندھ کے راجہ نے قبضہ کر رکھا تھا۔ پھر دیبل پہنچے۔ معرکہ ہوا۔ اس لڑائی میں راجہ داہر مارا گیا۔ سندھ کے شہروں کو فتح کرتے ہوئے محمد بن قاسم ملتان تک پہنچے۔ سندھ کی فتح میں حجاج بن یوسف پورے طور پر متوجہ تھا۔ روزانہ کی بنیاد پر آگاہی حاصل کرتا اور محمد بن قاسم کو ہدایات بھیجتا۔ اس لیے حجاج کو اور ولید کو سندھ و ہند کا فاتح قرار دیا گیا ہے۔
ایک اور عالمی مالیاتی بحران

دنیا کے مانے جانے مالیاتی ادارے اور جریدے گزشہ ایک سال سے 2008ء کی طرز پر ایک بڑے مالیاتی بحران کی نوید سنا رہے تھے۔ اس کی وجہ عالمی معیشت پر کُل عالمی پیداوار کا تین گنا قرض ہے، جو 2470 کھرب ڈالر بنتا ہے۔ گویا ان سرمایہ داروں نے مفروضے کی بنیاد پر اصل پیداوار (جس کے تعین پر بھی سوالات اُٹھائے جاسکتے ہیں) کا تین گنا زیادہ قرض پیدا کردیا۔ چناںچہ اس سرمائے کی ریل پیل کو معانی پہنانے کے لیے ہر دس پندرہ سالوں میں عالمی معیشت کو نت نئے بحرانوں سے گزارا جاتا ہے۔ کہیں اسے ’’ایشین کرنسی بحران‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور کبھی اسے ’’سب پرائم مورگیج بحران‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے درمیان کبھی مڈل ایسٹ تیل کا بحران اور کبھی Y2K bug اور کبھی عراق امریکا جنگ، کبھی عرب سپرنگ، کبھی دہشت گردی کا نام دے کر دنیا کو بحرانی کیفیت سے نکلنے نہیں دیا جاتا۔ اس سے بھی کام نہ چلے تو طاقت ور میڈیا کا سہارا لے کر سارس، مرس، سوائین، ایبولا اور کرونا کو عالمی خطرہ قرار دے کر پوری دنیا کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ ان بیماریوں کی وجہ کچھ بھی ہو، لیکن ان سے پیدا ہونے والے نتائج کو سرمایہ دار اپنے حق میں استعمال کرلیتے ہیں۔
چناںچہ 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد صرف امریکا نے 15 کھرب ڈالراپنے معاشی سسٹم میں ڈالے۔ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ امریکی عوام کا یہ پیسہ بڑی بڑی کمپنیوں کو اس لیے دیا گیا، تاکہ وہ بند نہ ہو جائیں اور بہت بڑی تعداد میں امریکی بے روزگار نہ ہو جائیں، لیکن ہوا یہ کہ یہ پیسہ دوبارہ سٹاک ایکسچینج کے سٹے میں لگا اور ہر دو صورتوں میں سرمایہ کار کو فائدہ ہوا۔ یہی ماڈل یورپ میں اپنایا گیا۔ گزشتہ دس سالوں میں جن وجوہات کی وجہ سے یہ بحران بروئے کار آئے، وہی غلطیاں دہرائی جاچکی ہیں۔ چناںچہ یورپ اور امریکا میں حکومتی قرضوں کے علاوہ نجی شعبوں میں بے پناہ قرضے لیے جاچکے ہیں، جو صرف امریکا میں 2008ء کی سطح سے زیادہ ہیں۔ یہی وہ قرضے ہیں، جن کی وجہ سے پچھلا بحران آیا تھا، لیکن اب سب کو معلوم ہے کہ اگر تباہی آئی تو اس کا بوجھ پہلے کی طرح عوام پھر سے اٹھا لیں گے۔ گویا امدادی پیکیج کا پیسہ مالیاتی ڈھانچے کی بہتری اور دوبارہ ایسا بحران نہ آنے پائے، جیسے منصوبوں پر نہیں ڈالا گیا۔ اس پر طرّہ یہ کہ عوامی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خرچ پہلے سے کم کردیا گیا، تاکہ ادا شدہ امدادی پیکج کی ادائیگی سے پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کیا جاسکے۔ اس حکمتِ عملی نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کو ان مغربی ممالک میں اَور سنگین کردیا ہے۔
لیکن کرونا کے اس بحران نے عالمی مالیاتی اداروں اور حکومتوں کو ایک دفعہ پھر کھربوں ڈالر کے امدادی پیکج دینے کے حوالے سے موقع فراہم کردیا ہے، جس کی بدولت ڈوبتے ہوئے کاروبار ایک دفعہ پھر کھڑے ہو جائیں گے۔ امریکا اور یورپ مل کر اب تک 80کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کرچکے ہیں۔ لیکن اب ان حکومتوں پر دباؤ ہے کہ یہ امدادی پیکج شرائط کے ساتھ دیا جائے۔ اس دباؤ کے خلاف تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ پہلے 2008ء میں امدادی پیکج اور اب 2020ء میں اس کے ساتھ کڑی شرائط، جن میں ملازمین کی نوکریوں کا بحال رہنا، ان کی صحت اور مہارت پر خرچ کا اضافہ اور اس رقم کا سٹاک ایکسچینج میں دوبارہ نہ لگانا اور کمپنیوں کے شراکت داروں کو سالانہ منافع کی ادائیگی میں تعطل وغیرہ دراصل سرمایہ داریت اور آزاد منڈیوں کا اختتام ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کرونا کی آمد کے بعد اسے میڈیا کے ذریعے عفریت کا درجہ دینے کی وجہ یہی تھی، تا کہ اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی کو عوام کے ٹیکس کی مدد سے بچایا جاسکے۔ چناںچہ اکتوبر 2019ء میں برطانوی جریدے اکانومسٹ کے مطابق امریکی معیشت کساد بازاری کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کچھ ایسا ہی تجزیہ دسمبر2019ء میں کیا گیا ہے، جس کے مطابق امریکی حکومت گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک دفعہ پھر قرضوں کا رُخ کررہی ہے، جو بہ ذاتِ خود تباہی کی سمت ایک قدم ہے۔ یہ وہ رُخ ہے، جو آج ہر ترقی پذیر معیشت بہ شمول پاکستان کا ہے۔ جس کا طویل مدتی انجام معاشی کساد بازاری ہی ہے۔
دوسری طرف چین کے حوالے سے یہ کہا جارہا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کا فائدہ اٹھانے میں وہ سب سے آگے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وبا سے نبردآزما ہونے کے لیے چین کے اقدامات مثالی تھے اور اب پوری دنیا کے لیے مشعلِ راہ کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن یہ کہنا کہ چین نقصانات سے عاری رہا، غلط ہو گا۔ چین کو اب تک عالمی تجارت میں 7 کھرب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ دوسری جانب تیس سال میں پہلی دفعہ پیداوار میں 3 فی صد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ یہ وبا ایسی ہے، جس کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک متأثر ہوئے ہیں، لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے اس میں کئی مواقع وجود پاچکے ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو ٹیکس وصولی کی مد میں قریباً 40 کھرب روپے کا جھٹکا لگ سکتا ہے، جس کا مطلب دفاع، ترقی، صحت اور تعلیمی شعبوں پر کم سے کم اخراجات ہیں، لیکن اس مسئلے سے نبردآزما ہونے کے لیے پاکستان کی حکومت نے بہتر حکمتِ عملی بنائی ہے، جس میں سب سے اہم شرح سود میں کمی اور امکان ہے کہ مستقبل میں مہنگائی کی شرح مزید کم ہونے پر اس میں اَور کمی کردی جائے گی۔ اس کے ساتھ تعمیراتی شعبے میں انقلابی ٹیکس اصلاحات کا اجرا، جسے گزشتہ ایک سال سے آئی ایم ایف روک رہا تھا، اب اس ٹیکس میں وصولی اور روزگا رمیں اضافے کی وجہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اندرونی پیداوار بڑھائے، تعمیراتی شعبے میں گھروں کی قلت کے خلا کو اس صورتِ حال میں پُر کرے اور تیل و گیس کی گرتی ہوئی قیمتیں جو اَب 26 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں، کو معیشت پر منتقل کرتے ہوئے اس موقع کا فائدہ اُٹھائے۔ جہاں آئی ایم ایف اور جی 20 ممالک نے پاکستان کو دیے گئے قرضوں پر نہ صرف ایک سال کی چھوٹ دے دی ہے، بلکہ مزید امداد اور قرضوں کی فراہمی کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ دوسری طرف یورپ اور امریکا کا یہ کہنا کہ اب اُن کے چین کے ساتھ تجارتی روابط پہلے جیسے نہیں ہوں گے، میں پاکستان کے لیے امید کی ایک کرن ہے، جہاں کئی شعبوں میں اب پاکستان کی برآمدی صنعت مغربی ممالک کے لیے اوّلین حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔
عالمی معاشی ڈھانچے کو مفلوج کرنے کی امریکی جگاڑ

امریکی ناول نگار ڈیان رے کوون ٹز (Dean Ray Koontz) نے اپنے ایک ناول "The Eyes of Darkness" (دی آئیز آف ڈارکنیس) یعنی ’تاریکی کی آنکھیں‘ میں کورونا وائرس کا ذکر کیا تھا۔ جس میں ایک فرضی نام کے چینی سائنس دان کے بارے میں لکھا کہ وہ کیسے ’ووہان 400‘ نامی کیمیاوی وائرس تیارکرکے چین سے فرار ہوکر امریکا آیا تھا۔ یہ وائرس ووہان نامی شہر کے نزدیک ایک لیبارٹری میں تیارکیا گیا۔ 1981ء کے ایڈیشن میں وائرس کا نام ایک روسی شہر (GORKI.400) کے نام پر رکھا گیا تھا۔ 1989ء میں جب ناول کا دوسرا ایڈیشن آیا تو اس کا نام تبدیل کرکے ’ووہان 400‘ (WUHAN400) رکھ دیا گیا۔ ایک اور امریکی ناول نگا رسیلو یا برائون (Sylvia Browne) نے اپنے ناول "End of Days" (اینڈ آف ڈیز) یعنی ’’وقت کا اختتام‘‘ جو 2008ء میں شائع ہوا تھا، میںروشنی ڈالی کہ 2020ء میں کورونا نامی وبا دنیا میں پھیل جائے گی اور اس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوگا۔ گویا پہلا ہدف روس تھا، حالات کے تبدیل ہونے سے ہدف بھی تبدیل ہوگیا۔
اسی طرح 2011ء میں اسی موضوع پربننے والی فلم کینٹاجن (CANTAGION) یعنی ’’چھوت کی بیماری‘‘ میں وائرس کی تباہ کاریوں کا بالکل وہی منظر پیش کیا گیا تھا، جو اس وقت دنیا میں نظر آرہا ہے۔ امریکی مصنفہ سیلویا برائون جس کا 2013ء میں انتقال ہوا، وہ اپنے آپ کو روحانی عامل کہتی تھی۔ ٹی وی چینلز میں روحوںکو بلاتی تھی۔ اس نے اپنے ناول میں لکھا ہے کہ 2020ء میں ہم دیکھیں گے کہ لوگ ہاتھوں میں دستانے اور چہرے میں ماسک چڑھائے ہوئے ہوں گے۔ دنیا اس وقت نمونیا سے ملتی جلتی ایک بیماری میں مبتلا ہوگی، جو پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں پر اثرانداز ہوگی۔ یہ بیماری سردیوں کو بہت زیادہ مشکل اور خطرناک بنادے گی۔ پھر اچانک غائب ہو جائے گی۔ 10 سال کے بعد دوبارہ نمودار ہوگی۔ ایک مہینہ رہے گی۔ پھر ہمیشہ کے لیے غائب ہوجائے گی۔ مصنفہ کو عوام میں ایک سچی اور نیک عامل کے طور پر متعارف کروایا گیا کہ وہ روحانی قوتوں کی نمائندہ ہے، جو مستقبل میں جھانک کر پیش آنے والے واقعات کے بارے میں آگہی دے سکتی ہے وغیرہ۔
سائنسی ترقیات سے قبل یورپ میں جادو کا غلبہ ہوتا تھا۔ عوامی ذہن کو قابو میں رکھنے کے لیے جادو ٹونہ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ مغرب کی بالا دستی کے دور میں سائنسی ایجادات کا ظہور عمل میں آیا تھا، جو اس جادوئی دماغ کے خلاف بہت بڑی بغاوت تھی۔ وہاں کے بالادست طبقے نے وباؤں اور قدرتی آفات کی تباہ کاریاں دیکھ کر انھیں مرعوب رکھنے کی حکمتِ عملی اختیار کی۔ اسی موضوع پر کتابیں لکھائی جاتی تھیں۔ آفات و بلیات پر قابو پانے کے لیے سائنس کے کرشمے دکھائے گئے۔ یورپ میںپوپ کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے تمثیل کو ہی ذریعہ بنایا جاتا تھا۔ اسی عہد میں سینما ایجاد ہوگیا۔ کتب کی اشاعت اور فلموں کو فروغ دے کر عوامی سوچ کو تابع رکھنے کا طریقۂ کار اختیار کیا گیا۔
ایشیائی وسائل پرقبضہ جمانے کے لیے 1980ء کی دہائی میں افغانستان پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف نوجوان نسل کا قتلِ عام کیا، بلکہ علاقے کے قدرتی وسائل پر بھی ہاتھ صاف کرلیے۔ مشرقِ وسطیٰ کی مزاحمتی قوتوں کو اندوہ ناک طریقے سے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ جمال عبدالناصر، شاہ فیصل، بھٹو، اندرا گاندھی، یاسر عرفات، صدام حسین اور قذافی جیسی لیڈر شپ کہ جن سے امکانی طور پر خطرہ ہوسکتا تھا، کے خلاف سفاکانہ کردار ادا کیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں آخری ہدف حافظ الاسد کا نمائندہ بشارالاسد ہے۔ اس کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے داعش کا جال بچھایا گیا، لیکن روسی ساخت کے دفاعی نظام S-300 کی شام میں تنصیب سے امریکی منصوبہ دھرے کادھرا رہ گیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم میں سابقہ امریکی صدور پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے چین کے ساتھ خسارے کی تجارت کرکے امریکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ 2018ء کے دوران امریکا چین تجارتی مذاکرات کے جولائی، اگست، ستمبر تک تین دور ہوئے۔ جب کہ 2019ء میں مئی اور جون کے دوران پھر مزید دو اجلاس ہوئے، لیکن تمام مذاکرات امریکی تجارتی خسارہ کم کرنے میں زیادہ مفید ثابت نہ ہوسکے۔ امریکا تصورِ مذاکرات سے عاری ہے۔ کسی مد ِمقابل قوت کے سامنے دلائل کی بنیاد پر اپنا دعویٰ پیش کرنے میں اسے دقت ہو رہی تھی۔ کیوںکہ مذاکرات ہمیشہ ’’کچھ لو، کچھ دو‘‘ کے اصول کے تحت ہوتے ہیں، جب کہ اس سے پہلے توامریکا ہمیشہ اپنا ہی مؤقف منواتا چلا آرہا تھا۔ امریکی معیشت کو خسارے سے نکالنے میں ناکامی‘ ٹرمپ کے لیے ناقابلِ براشت تھی۔ اقدامی جنگ میں تو وہ پہلے ہی S-300 دفاعی نظام سے ذلت آمیز شکست کھا چکا تھا۔ مذاکر ات کی میز پر تجارتی جنگ ہارنے کے بعد آخری آپشن صرف بائیولوجیکل ہتھیاروں کا استعمال تھا۔ 1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی کا تاج آج بھی امریکا اپنے سر پر فخر سے سجائے ہوئے ہے۔ انسانیت کی تباہی کے لیے پہلے بھی جدید ہتھیاروں کا استعمال امریکا نے ہی ایشیا میں کیا تھا۔ آج بھی کیمیاوی وائرس کے استعمال کے لیے ایشیا کو ہی چنا گیا ہے۔ جہاں تک امریکا کا خود لپیٹ میں آنا ہے، یہ مسئلہ تو اُن کا ہے، جن کے ہاں انسانیت کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو کھنڈرات میں تبدیل کردینا جو انبیا ئے بنی اسرائیل کی مقدس سرزمین ہے اور اس قتل و غارت کے دوران بہنے والا انسانی خون ابھی منجمد نہیں ہوا، جو اس کے عملی کردار کا شاخسانہ ہے۔
سرمایہ داری نظام اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہاہے۔ آج کا عالمی لاک ڈائون اس عمل کو سست کرنے کی احمقانہ، عارضی اور طفلانہ سعی ہے۔ اصل ہدف چین تھا۔ سرمایہ دار دنیا کے وہ ممالک، جو کرونا وائرس حملے کے باعث وینٹی لیٹر پر منتقل ہوچکے ہیں، چین انھیں نہ صرف ما سک منتقل کررہا ہے، بلکہ وینٹی لیٹر بھی فراہم کرکے اقتصادی میدان میں بھر پور قوت و طاقت کے ساتھ اپنے سفر کو بحال کرچکا ہے۔
رمضان کے بابرکت ایام اللہ سے سچا تعلق قائم کرنے کے دن ہیں

۱۸؍ رمضان المبارک ۱۴۴۰ھ / 24؍ مئی 2019ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’علم و شعور حاصل کرنے کے بعد سب سے بڑی ضرورت اس علم کو اپنے عمل میں ڈھالنے کی ہوتی ہے کہ اس علم کے تقاضوں کے مطابق اپنا عزم اور ارادہ بلند کرنے اور نتائج کے حصول کے لیے کمربستہ ہوا جائے۔ رمضان المبارک کے یہ بابرکت ایام قرآنی افکار و تعلیمات پر عمل کرنے، کمرِ ہمت کسنے، اپنے افکار و خیالات کو مجتمع کرنے اور اللہ کے ساتھ اپنا سچا تعلق قائم کرنے کے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں ہمارے خیالات و افکار کا درست ہونا، نظریات اور مقاصد کا متعین ہوجانا، اور اُن افکار و نظریات کے مطابق اپنے آپ کو بدلنے، اپنی سوسائٹی اور اجتماع کو بدلنے کے لیے پُرعزم ہوجانا آج ہماری زندگی کا لازمی تقاضا ہونا چاہیے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمان بہ حیثیت ِمجموعی نااہلی، بزدلی اور کم ہمتی کا شکار ہے۔ بغیر کسی نظریے اور فکر کے زندگی بسر کرنے کا خوگر ہوچکا ہے۔ اس میں جمود اور ٹھہراؤ ہے۔ پستی کے ساتھ صلح ہے۔ غلامانہ ذہنیت اس پر مسلط ہوگئی۔ یہ ذلت میں خوش ہے۔ اسی پر قناعت اختیار کیے ہوئے ہے۔ عزم اور حوصلہ نہیں رہا۔ اگر کہیں عزم اور حوصلہ آتا ہے تو حالات کے دباؤ اور پریشر سے وہ ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ اپنے تئیں اپنی جدوجہد اور کوشش کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: آخر زمانے میں بڑی بڑی طاقتیں تم پر حملہ آور ہو کر تمھارے وسائل لوٹیں گی۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ کیا اُس زمانے میں ہم تھوڑی تعداد میں ہوں گے؟ حضوؐر نے فرمایا کہ: نہیں! تم مسلمان بہت کثیر تعداد میں ہو گے، لیکن تم میں ’’وہن‘‘ پیدا ہوچکا ہوگا۔ صحابہؓ نے پوچھا: وہن کیا ہے؟ تو حضوؐر نے فرمایا: ’’حُبُّ الدُّنْیَا وَ کَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ‘‘ (ابوداؤد: 2297) (دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند کرنا)۔ دنیا کی محبت تمھارے اندر غالب آجائے گی۔ دنیا کا لالچ، خواہشات، کھانے پینے کی لذات میں منہمک ہونے اور دنیوی مفادات اُٹھانے کی عادت بن جائے گی۔ دین کے غلبے کے لیے موت قبول کرنے سے تم بھاگو گے۔ اعلیٰ مقاصد کے لیے جان قربان کرنے کی تمھارے اندر عادت نہیں رہے گی۔
رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں اور برکت کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جو عمل کیا جائے، اس میں کئی گنا اضافہ ہوجائے۔ آج سے ہی ہم یہ ارادہ کرلیں کہ جن غلط افکار و خیالات اور وہن زدہ نظام کے زیراثر جو تمام بُرے کام ہم سے انجام پائے ہیں، ان سے ہم توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔ یہ عزم کریں کہ قرآن حکیم جو مقاصد ہمارے سامنے متعین کرتا ہے، روزے کے جو مقاصد و اہداف اور اس کے نتائج اور آثار ہیں، وہ ہماری زندگی کا حصہ بنیں گے۔‘‘
جب معاملات نااہلوں کے سپرد کردیے جائیں تو قیامت کا انتظار کیجیے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’مسلمان پچھلے دو ڈھائی سو سال سے ’’وہن‘‘ سے دوچار ہے۔ دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی کی حالت میں ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ شیاطین الانس و الجن پوری انسانیت پر مسلط ہوچکے ہیں۔ ظلم کا نظام ہے۔ انسانیت دشمنی کی حالت ہے۔ شیطانی اور طاغوتی قوتوں نے انسانیت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو مسلمان سے کہا تھا کہ تم ’’شُہَدَائَ عَلٰی النّاس‘‘ (القرآن 143:2) یعنی انسانیت کے نگران اور چوکیدار ہو۔ آج مسلمان انسانیت کا نگران کیا بنے، خود اس کی حالت یہ ہے کہ وہ بزدل ہے، بہادر نہیں۔ وہ انسانیت کی حفاظت کے لیے موت قبول کرنے سے ڈرتا ہے۔ ایسا چوکیدار رکھا جائے کہ جو بزدل ہو تو وہ چوری کرنے والوں سے مقابلہ کیسے کرے گا؟ موت کا اُسے خوف ہو اور دنیا کا لالچ اور محبت اُس میں پیدا ہوجائے تو چور ڈاکو نے جو چوری کی ہو، کچھ نہ کچھ اُس کے منہ میں بھی ڈال دیں، تو وہ تمھاری چوکیداری کیا کرے گا؟
حضوؐر سے سوال کیا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: قیامت اُس وقت آئے گی، جب امانتیں ضائع کردی جائیں گی۔ یعنی جس پر جو ذمہ داری عائد کی جائے اور وہ اس کو پورا نہ کرے۔ صحابہؓ نے پوچھا: آدمی ذمہ داری قبول کرے تو یہ ضائع کیسے ہوجاتی ہے؟ حضوؐر نے فرمایا: جب کسی قوم کے معاملات نااہلوں کے سپرد کردیے جائیں تو وہ قوم اپنی قیامت کا انتظار کرے۔ (صحیح بخاری: 59) نااہل قیادت، نااہل ذمہ دار کسی قوم کے لیے قیامت سے کم نہیں۔ اس قوم کی تباہی اور بربادی اسی کے نتیجے میں واقع ہوگی۔ ہم سب لوگ غور کریں۔ آپ جس پروفیشن میں ہیں، کیا اس پروفیشن کی پوری ذمہ داری ادا کر رہے ہیں؟ ایک ڈاکٹر، انجینئر، سیاست دان، ماہر معیشت، تاجر اور ایک عام شہری پر جو ذمہ داریاں عائد ہیں، کیا اس نے انھیں پورا کرنے کی اہلیت کا مظاہرہ کیا ہے؟ کیا ہم نے سوسائٹی کی دیگر اجتماعی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟
ذمہ داری کا ایک دائرہ ذاتی ہوتا ہے اور ایک ذمہ داریوں کا دائرہ اجتماعی ہوتا ہے۔ ذاتی ذمہ داری نہ پوری کی جائے تو اسے قرآن نے کہا ہے: ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ‘‘ (32:35) کہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر آدمی اپنے اوپر ظالم ہے تو دوسروں کے لیے عادل کیسے ہوگا؟ اجتماعی ذمہ داری پوری نہ کرنے سے متعلق قرآن نے کہا: ’’اَلَّذِیْنَ إذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً‘‘ (3:135) وہ لوگ جنھوں نے ایک فاحشہ کا کردار ادا کیا۔ ہم فاحشہ صرف ایک رنڈی کو سمجھتے ہیں، جو اجتماع کو توڑتی ہے۔ کیا فاحشہ وہ نہیں جو سیاست، معیشت، مذہب اور سوسائٹی کے اجتماعی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اجتماعی ڈسپلن توڑنا، اجتماعی تقاضوں کے منافی کام کرنا بھی فاحشہ والا کردار ہے۔ گویا اجتماعی گناہ، انفرادی گناہ کے مقابلے میں زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور اس کی سزا بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘‘
رمضان المبارک میں دو باتوں پر عمل کرنے کا حکم
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ایک مسلمان انفرادی ظلم و زیادتی کرے یا اجتماعی تقاضے توڑے، اس کے علاج معالجے کے لیے قرآن حکیم نے دو باتیں ضروری قرار دی ہیں: ایک کثرت سے اللہ کا ذکر (ذَکَرُوا اللّٰہَ)۔ اور دوسرا اپنے گناہوں سے مغفرت (فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوْبِہِمْ)۔ (3:135) یہ آیاتِ مبارکہ غزوۂ اُحد کے موقع پر نازل ہوئی ہیں۔ نبی اکرمؐ نے رمضان المبارک میں انھیں دو باتوں پر عمل کرنے کا زور دیا ہے کہ اے مسلمانو! کثرت سے استغفار اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو۔ ذکر کے نتیجے میں اللہ کی ہیبت و جلال ہمارے دل و دماغ میں منتقل ہو۔ اللہ کے حکم سے انسانیت کے وہ تمام امور دور کرنے کی فکر پیدا ہو، جن سے اللہ نے منع کیا ہے اور جن کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان کے کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اللہ سے تعلق اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی محبت پیدا کرنا، انقلاب کی ضرورت ہے۔ اللہ کے دین کے لیے موت قبول کرنے کا عزم پیدا ہو۔ موت کو قبول کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی خودکش دھماکہ کریں۔ مرنے کے لیے نہیں لڑنا، فتح حاصل کرنے کے لیے لڑنا ہے۔ کامیابی اور نتائج کے حصول کے لیے مزاحمت کرنی ہے۔
آج ہمارے معاشرے کی ضرورت انقلاب ہے۔ انقلاب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہمارے دلوں کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ ہمارے دماغوں پر نوک (knock) کر رہا ہے۔ ہمارے جسم کو غفلت سے جگا رہا ہے۔ قرآن کی تعلیمات کا انقلابی پیغام جو اس پورے رمضان میں آپ سن رہے ہیں، خود روزے کی اہمیت و مقاصد دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ اپنے دل کے دروازے کھولیے، دماغ کے بند غلاف توڑیے، جسم جن غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، اس سے آزاد کرائیے اور اس انقلاب کی آواز کو سنیے۔ آپ کو تبدیل ہونا ہے۔ ظلم کے نظام کے خلاف مزاحمت کرنی ہے۔ اپنے دل میں بیٹھے ہوئے چور کے خلاف جدوجہد اور کوشش کرنی ہے، جس میں دنیا کی لذتیں اور خواہشات ہیں، جس میں مفادات اور ظلم و زیادتی کے ساتھ سمجھوتہ ہے۔ غلط اجتماعی نظام کی آلہ کاری کا جذبہ ہے۔ ظلم کے نظام کے لیے استعمال ہونے کی سوچ ہے۔
یہ تبدیلی کا مہینہ، جس نے انقلابات پیدا کیے۔ رمضان المبارک میں غزوۂ بدر کے بعد مدینہ منورہ کی ریاست اور اس کی طاقت و قوت بدل گئی۔ انقلاب پیدا ہوگیا۔ اسی مہینے میں فتح مکہ ہوا تو ریاست ایک نئے فیز میں داخل ہوگئی۔ گویا اس ماہِ رمضان کے گزرنے کے بعد ہمیں بھی ایک نئے فیز میں داخل ہونا ہے۔ ایک نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ اجتماعی گناہوں اور اجتماعی ظلم کے نظام کی آلہ کاری سے توبہ کرنی ہے۔ اس سے برأت کا اعلان اور اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرنا ہے۔ تمام عبادات اور تمام دینی اعمال کا یہی لازمی نتیجہ نکلنا چاہیے۔ روزہ ہو، حج، نماز، تلاوت، ذکر یا تمام دیگر اعلیٰ اَخلاق کے امور ہوں، ان تمام کا مقصد یہ ہے کہ ہماری کایا پلٹ جائے، ہماری زندگی میں انقلاب آجائے، معاشرہ اور اجتماعیت بدل جائے۔‘‘
علمائے حق کا انقلابی جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’1909ء میں سب سے پہلے شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسنؒ نے موت ہتھیلی پر رکھ کر انگریز سامراج کے خلاف آزادی اور حریت کا نعرہ بلند کیا۔ آپؒ نے یہی سلگتا ہوا جذبہ مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ اور اپنے دیگر سینکڑوں شاگردوں میں منتقل کیا۔ پھر جیسے جیسے آزادی کی یہ آواز بلند ہوئی، ویسے ویسے یہاں کی ساری جماعتوں کو مجبوراً اس طرف آنا پڑا۔ تحریکِ خلافت ہو، تحریکِ سول نافرمانی ہو یا آزادی اور حریت کے لیے انگریز سامراج کے خلاف دیگر جماعتوں نے کوئی اقدام کیا ہو، یہ سب حضرت شیخ الہندؒ کے بعد کی تحریکات ہیں۔
انبیا علیہم السلام کے سچے وارث، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سچے جانشین، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جرأت کے حامل اور حضرت یوسف علیہ السلام کی سنت کے مظہر حضرت شیخ الہندؒ کے قلب میں امام الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا عکس تھا۔ حضرت مدنیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ الہندؒ کے سینے میں انگریز سامراج کے خلاف آزادی کی جنگ کے لیے آگ کی انگیٹھی اُبلتی تھی۔ جو بھی شیخ الہندؒ کی صحبت میں گیا، اس تک یہ آزادی و حریت اور سامراج کے خلاف انقلاب لانے کی آگ پہنچی۔ یہ ہے رمضان کے مہینے کا اثر۔ یہی وہ جذبہ ہے، جو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے ذریعے حضرت شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ میں بیدار ہوا۔ 1950ء میں شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ پاکستان آئے اور 2012ء میں حضرتؒ کا وصال ہوا۔ باسٹھ سال کی پوری زندگی سامراج کے خلاف آزادی اور حریت کی اُس انگیٹھی کو جلانے کے لیے ہر وقت تیار رہے، جو شیخ الہندؒ کے سینے میں تھی، جو شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے چلی آرہی تھی، جو انبیا علیہم السلام کے سینوں میں موجزن تھی کہ اٹھو! اپنی دنیا میں انقلاب برپا کرو۔ آزادی اور حریت کے لیے آگے بڑھو۔ غلامی کی زنجیریں توڑ دو۔ بزدلی ختم کرو۔ حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ بارہا یہ حدیث سناتے تھے کہ ’’حُبُّ الدُّنْیَا وَ کَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ‘‘، آج یہ دو مرض ہیں، ان کو توڑنے کی ضرورت ہے۔ موت کی ناپسندیدگی کو ختم کرو۔ اٹھو! اور اپنے اس معاشرے کو بدلو۔ انقلاب کا جذبہ پیدا کرو۔ آزادی اور حریت کے لیے آگے بڑھو۔ جتنی تمھارے اندر طاقت ہے۔ عدمِ تشدد کے اصول پر کام کرو۔ خود کش دھماکے، تشدد اور قتل و غارت گری کا راستہ نہیں، بلکہ عقل و شعور اور فہم و بصیرت کا راستہ اپناؤ۔ ٹھنڈے مزاج کے ساتھ اپنے عزم، ارادے اور ہمت میں قوت پیدا کرو۔ سامراج سے صلح نہ کرنے کا اصول اپناؤ۔
یہ جتنا بھی ہمارا اجتماع ہے، یہ دراصل حضرت شیخ الہندؒ کے اُسی جذبے کا تسلسل ہے۔ حضرت رائے پوریؒ ہی کی یادگار ہے۔ حضرتؒ کے طریقۂ تربیت کو منتقل کرنے کا عمل ہے۔ ہم سب اپنے آپ کو یہ سمجھیں کہ ہم شیخ الہندؒ، مولانا سندھیؒ، مولانا مدنیؒ، شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ اور ان تمام کی جامع شخصیت حضرت شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے کے اُس جذبۂ اِیمانی کو اپنے اندر زندہ کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔‘‘
قطب الارشاد حضرتِ اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری ؒ

برعظیم پاک و ہند کی تحریکِ آزادی میں خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا قائدانہ کردار بلاشبہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔اس خانقاہ نے اکابرینِ رائے پور کی صورت میں شمعیں روشن کیں، جنھوں نے طالبینِ حق و صداقت اور آزادی کے متوالوں کو اندھیری راہوں میں شعور و فکر کی روشنی عطا کی۔
انھیں اکابرین میںبانی خانقاہِ عالیہ رائے پور حضرت عالی شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے حقیقی نواسے اور خانقاہ کے تیسرے مسند نشین قطب الارشاد حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ بھی ہیں۔ ان کی ولادت ۱۰؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۲۳ھ / 16؍ جولائی 1905ء بروز جمعتہ المبارک کو ہوئی۔ ان کے والد ِگرامی چوہدری تصدق حسینؒ، قطبِ ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے بیعت اور دینی فہم و بصیرت کے حامل فرد تھے۔ ان کا نام ’’عبدالعزیز‘‘ حضرت گنگوہیؒ کے ایما پر حضرت عالی رائے پوریؒ نے تجویز فرمایا تھا۔
حضرت رائے پوریؒ حفظ ِقرآنِ حکیم کی تکمیل کے بعد مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور میں تعلیم کی غرض سے تشریف لے گئے، جہاں سے 1924ء میں تعلیم سے فراغت حاصل کی۔ حدیث شریف کی تعلیم حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوریؒ سے حاصل کی۔ حضرت عالی رائے پوریؒ کی توجہِ باطنی مستقل ان کی جانب رہی۔ متعدد بار حضرت عالی رائے پوریؒ کو قرآنِ حکیم سنایا۔ حضرت عالیؒ کے آخری ایام میں انھوں نے خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ دن رات حضرتؒ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔ حضرت عالیؒ کے وصال کے بعد جب یہ تجویز رکھی گئی کہ اب خانقاہ کی ذمہ داری شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ سرانجام دیں تو حضرتؒ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ:’’ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ میں تو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کا ایک خادم بن کر رہنا چاہتا ہوں۔‘‘ مسلسل 45 سال انھوں نے حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خادم کی حیثیت سے امور سرانجام دیے۔
حضرت عالی رائے پوریؒ کے بعد خانقاہ کا مکمل انتظام و انصرام ان کے سپرد تھا۔ ان ہی کہ کوششوں سے خانقاہ کی نئی عمارت تعمیر کروائی گئی۔ خانقاہ میں ضرورت کی تمام اشیا اپنے گھر سے لاکر رکھوا دیں، تاکہ مہمانوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔ مہمانوں کی خدمت اور حضرت عالی رائے پوریؒ اور حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے ساتھ ان کی محبت، عقیدت اور وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے دونوں مشائخ کی مجسم تصویر بن گئے، یہاں تک کہ وہ اپنے شیخ شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی مکمل مشابہت اختیار کر گئے تھے۔
قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے وصال 1962ء کے بعد مسلسل 30 سال تک خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کی مسند پر رونق افروز رہے۔ اس دوران ولی اللّٰہی فکروعمل کی وارث اس خانقاہ کی جامعیت کو اپنے مشائخ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قائم و دائم رکھا۔ حریت و آزادی کے نظریے سے سرِمو انحراف نہیں کیا۔ قرآنِ حکیم کی انقلاب آفریں تعلیمات کو عام کرنے کے لیے جو مراکز اپنا کردار ادا کر رہے تھے، ان کی سرپرستی فرمائی اور مشاورت سے مستفید فرماتے رہے، جن میں مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور، دارالعلوم دیوبند اور جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سرِفہرست ہیں۔
وطنِ عزیز پاکستان کی تاریخ میں پچاس کی دہائی بڑا اہم دورانیہ تصور کیا جاتا ہے، جس میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے اسلام کے نام پر مختلف گروہوں کو پروان چڑھایا۔ فرقہ واریت اور بے شعوری کا دور دورہ تھا۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی تھی کہ باصلاحیت نوجوانوں پر مشتمل ایسا کیڈر تیار کیا جائے، جو مفاد پرستی اور منافقت کے بجائے اخلاص اور للہیت کی بنیاد پر سماج میں مثبت قائدانہ کردار ادا کرے۔ اس مقصد کے لیے حضرت رائے پوریؒ نے اپنے نوجوان صاحب زادے حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کو تیار کیا اور ان کے کاموں کی نگرانی و سرپرستی فرمائی۔
1967ء میں جب حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے ’’جمعیت طلبائِ اسلام‘‘ کے نام سے نوجوانوں کی ایک جماعت تیار کی تو انھوں نے اس جماعت کی مکمل سیاسی رہنمائی، نگرانی اور سرپرستی فرمائی اور نوجوانوں کو بروقت صحیح سمت میں لگایا۔ اس جماعت کی کامیابیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وطنِ عزیز کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس کے نمائندگان موجود تھے۔جمعیت طلباء اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو آپؒ نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ اس وقت حضرت شیخ الہندؒ کی توجہ نوجوانوں کے ساتھ ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ نے 1970ء کی دہائی میں پاکستان میں قادیانیت کے خلاف تحریک میں سرپرستی اور قائدانہ کردار ادا کیا۔
ولی اللّٰہی تحریک سے وابستہ ہونے کے لیے تشنگانِ حق کی تعداد بڑھتی گئی اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب کو بھی اس میں شامل کرنے کا موقع آیا تو اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ قائدانہ صلاحیتوں کی حامل ایک ایسی تنظیم کی بنیاد رکھی جائے، جو امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے مشن پر کاربند ہو اور ان کے بتلائے ہوئے نظریات پر علمی ڈھانچہ تشکیل دے سکے۔ اس مقصد کے لیے 1987ء میں ’’تنظیم فکر ِولی اللّٰہی پاکستان‘‘ کی بنیاد رکھی تو حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ نے تادمِ آخر اس تنظیم کی سرپرستی فرمائی۔
خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور ولی اللّٰہی فکرو عمل کی حقیقی وارث ہے۔ اسی نسبت سے حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ نے ہر اس عمل کی مذمت فرمائی، جو اکابرین کے بارے میں غلط فہمی کا باعث بنے۔ خاص طور پر امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے بارے میں ہر طرح کے منفی پروپیگنڈے کے آگے ڈھال بن کر ان اکابرین کے مشن کی تائید فرماتے رہے۔ ان کے 30 سالہ جانشینی کے دور میں خانقاہِ رائے پور سے وابستہ لاکھوں لوگ فیض سے مالامال ہوئے اور انسانیت دوستی کا شعور لے کر یہاں سے گئے۔ اس ولی اللّٰہی قافلے کی سربراہی کے لیے حضرت رائے پوریؒ نے اپنے بڑے صاحبزادے مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کو منتخب فرمایا۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کثرتِ امراض کے سبب علیل رہنے لگے تو خانقاہ کا تمام نظام شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے سپرد فرما دیا۔ علم و آگہی، حریت و آزادی اور تزکیہ و طریقت کی روشنی پھیلاتا یہ آفتاب 3؍ جون 1992ء کو غروب ہوگیا۔ حضرت رائے پوریؒ کی تدفین رائے پور میں ان کے نانا قطبِ عالم شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے پہلو میں عمل میں لائی گئی۔
End of issue
Back
