March,2021

Rahimia Magazine

March,2021

Mar 11, 2021 12 articles Download Download EPUB

1 / 12

انعاماتِ الٰہیہ اور غلطیوں کی معافی ؛ تربیت کا درست طریقہ

انعاماتِ الٰہیہ اور غلطیوں کی معافی ؛ تربیت کا درست طریقہ

وَإِذ فَرَقنا بِكُمُ البَحرَ فَأَنجَيناكُم وَأَغرَقنا آلَ فِرعَونَ وَأَنتُم تَنظُرونَ.

وَإِذ واعَدنا موسىٰ أَربَعينَ لَيلَةً ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظالِمونَ

ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ  (البقرہ: 50-52)
(اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمھاری وجہ سے دریا کو، پھر بچا دیا ہم نے تم کو اور ڈبا دیا فرعون کے لوگوں کو۔ اور تم دیکھ رہے تھے۔ اور جب ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے چالیس رات کا، پھر تم نے بنا لیا بچھڑا موسیٰ کے بعد، اور تم ظالم تھے۔ پھر معاف کیا ہم نے تم کواس پر بھی، تاکہ تم احسان مانو۔) 
گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل پر ایک بہت بڑے انعام کا تذکرہ تھا کہ انھیں فرعون کی ذلت آمیز غلامی سے نجات دلا کر آزادی اور حریت کی نعمت عطا کی گئی۔ آزادی کے بعد کسی قوم کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ دی گئی تعلیم و تربیت کے مطابق شخصی تہذیب اور ملکی نظام قائم کرے، لیکن بنی اسرائیل نے اس سلسلے میں غلطیاں اور کوتاہیاں کیں۔ ان آیاتِ مبارکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انھیں جو تعلیم و تربیت دی تھی، اس سے متعلق انعاماتِ الٰہیہ اور اُن کی کوتاہیوں اور معافی کو یاد کرایا جا رہا ہے۔ 
وَإِذ فَرَقنا بِكُمُ البَحرَ فَأَنجَيناكُم وَأَغرَقنا آلَ فِرعَونَ: بنی اسرائیل کو ایک بڑی نعمت یاد دلائی گئی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تمھارے آباؤ اجداد کو لے کر فرعون کی غلامی سے بچایا۔ وہ تمھیں مصر سے لے کر فلسطین کی طرف آرہے تھے، ان کے سامنے دریا تھا اور ان کا پیچھا کرتے ہوئے فرعون کا لشکر تھا۔ ایسی مشکل صورتِ حال میں ہم نے تمھیں نجات دلائی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دریا کے دو ٹکڑے کردیے۔ دریا میں خشک راستہ بن گیا اور تم لوگ بڑی آسانی سے دریا پار کر گئے۔ جب کہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کے بیچ میں پہنچا تو اس کے دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔ اس طرح فرعون اور اس کے پورے لشکر کو اللہ تعالیٰ نے غرق کردیا۔ 
وَأَنتُم تَنظُرونَ: تم اپنی آنکھوں سے اُس کا مشاہدہ کر رہے تھے کہ جب تم پر ظلم کرنے والا طبقہ اور خدائی کا دعوے دار فرعون دریا میں غرق ہو رہا تھا۔ یقینا وہ منظر تمھیں نہیں بھولا ہوگا۔ اپنے دشمن کو اپنی آنکھوں سے ڈوبتے ہوئے دیکھنا بھی ایک طرح کا انعام ہے۔ اس سے تمھیں یقین آگیا کہ اب کوئی ہم پر ظلم کرنے والا نہیں رہا۔ اس طرح تمھیں تمام تکلیفیں اور مشقتیں بھول گئیں اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملا۔ 
وَإِذ واعَدنا موسىٰ أَربَعينَ لَيلَةً: ایک اَور اہم نعمت بنی اسرائیل کو یاد دلائی گئی کہ جب اُن کی دُنیوی اور اُخروی ترقی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طور پہاڑ پر بلایا، تاکہ انھیں تورات ایسی عظیم کتاب عطا کی جائے، جس کے ذریعے سے دنیا میں بنی اسرائیل کو حکومت اور مملکت حاصل ہو، انھیں زمین کا وارث بنایا جائے، انھیں انسانیت کے لیے مفید تہذیب یافتہ قوم بنایا جائے، یہ بڑا انعام ہے۔ 
ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظالِمونَ:ـ اس موقع پر تم نے بڑی غلطی کی کہ تم نے سامری کے بھرّے (فریب) میں آکر بچھڑے کی پوجا شروع کردی، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ اُس ربّ تبارک و تعالیٰ سے روگردانی کی، جس نے تمھیں فرعون سے نجات دی تھی اور تمھارے دشمن کو تمھاری آنکھوں کے سامنے دریا میں غرق کیا تھا۔ حضرت موسیٰؑ کی طور پہاڑ سے واپسی کا انتظار بھی نہیں کیا۔ ان کی دی گئی تعلیم کا پورا فہم و شعور حاصل کرکے اپنی حکومت قائم کرنے کے بجائے بچھڑے کو پوجنے لگے۔ 
ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ : اتنی بڑی غلطی کرنے کے باوجود بھی اللہ پاک نے تمھیں معاف کردیا۔ غلطیوں کی معافی تعلیم و تربیت کا ایک صحیح طریقہ ہے۔ انسان کو تعلیم دینے کا درست طریقہ یہ ہے کہ اُسے کام سمجھا کر کام پر لگا دیا جائے۔ اس کام کے سرانجام دینے میں اس سے عموماً دو قسم کی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں: ایک یہ کہ بسا اوقات وہ پہلی مرتبہ اپنے کام کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتاہے۔ اس سے کام کو پورے طور پر سمجھنے میں کوتاہی ہوجاتی ہے اور وہ اُسے کر نہیں پاتا۔ دوسرے یہ کہ کام کی جو حدود مقرر کی گئی ہیں، ان کا خیال نہ رکھا جائے اور حد سے زیادہ آگے بڑھ جائے۔ 
بنی اسرائیل کو آزادی اور حریت کے بعد ذاتِ باری تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے اور اس کی طرف سے آنے والی تعلیمات کی اساس پر حکومت قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پہاڑ پر اس لیے گئے تھے کہ اُن کے لیے ایک بہتر حکومت قائم کرنے کا نظامِ فکر و عمل کتابِ مقدس کی صورت میں لے کر آئیں۔ بنی اسرائیل نے اس کا انتظار نہیں کیا اور توحید کے نظریے کو سمجھنے میں بڑی غلطی کی۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو نبھانے میں ناکام رہے۔ انھوں نے اپنے اوپر لدے ہوئے زیورات کے بوجھ کو اُتار کر پھینکا۔ اس بوجھ کو اٹھا کر سامری نے اُن کے لیے بچھڑا بنا دیا۔ اور کہا کہ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا الٰہ ہے‘‘۔ (طٰہٰ: 88) اس سے توحید کی اَساس پر زندگی بسر کرنے کی نااہلیت آشکارا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی غلطی کو معاف کردیا، تاکہ انھیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ملے اور دی گئی تعلیم کے مطابق کام کی اہلیت پیدا ہوجائے۔ 
لَعَلَّكُم تَشكُرونَ: کسی کام کو دی گئی تعلیم و تربیت کے مطابق پورے طور پر سرانجام دینا ’’شکر‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کام کرنے میں ابتدائی غلطیاں ہوجائیں تو انھیں معاف کرکے آگے بڑھا جائے۔ انسان غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ اگر ہر غلطی پر گرفت کی جائے، سخت سزا دی جائے تو سیکھنے کا عمل متأثر ہوتا ہے۔ انبیا علیہم السلام قوموں کو آزادی اور حریت دِلا کر دنیا اور آخرت کی کامیابی کا نظام سکھانے کے لیے آتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کی لغزشوں کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے، تاکہ وہ اس تعلیم کی قدر کریں۔ اللہ کا شکر ادا کریں۔ غلطی کو معاف کرکے اپنے آپ کو درست کرنے کا موقع فراہم کرنا بھی دیگر انعامات کےساتھ ایک بہت بڑا اِنعام ہے۔ 

2 / 12

معاہدۂ  حِلفُ الفُضول کی اہمیت

معاہدۂ  حِلفُ الفُضول کی اہمیت

عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بنِ عَوْفٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ’’شَھِدْتُ غُلَاماً مَعَ عُمُومَتِی حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ فَمَا اُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَالنَّعَمِ وَ انّی أَنْکُثُہُ‘‘۔ 
(حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں اپنے چچائوں کے ساتھ ’’جب کہ ابھی مَیں نوعمر تھا‘‘ حِلف المطیّبین (حلف الفضول) میں شریک ہوا تھا۔ مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اس معاہدے کو توڑ ڈالوں۔ اگرچہ مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ بھی دیے جائیں‘‘۔) (مسند احمد: 1676) 
زیرنظر ارشادِ مبارک رسول اللہﷺ معاہدۂ حلف الفُضول کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ یہ معاہدہ رسول اکرمؐ کی عمر مبارک کے بیسویں سال 590ء (ماہ ذی قعدہ) میں طے ہوا۔ یہ معاہدہ حربِ فجار کے بعد قریش اور بنو قیس کے درمیان ہوا، جو عرب معاشرے میں انسانی حقوق، امن و امان اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے تاریخ انسانیت کی اہم دستاویز ہے۔ یہ معاہدہ دینِ اسلام کی جامع سوچ سے ہم آہنگ ہے۔ ایک اَور موقع پر رسول اللہؐ نے فرمایا تھا کہ اگر آج بھی اس جیسے معاہدے کی طرف مجھے بلایا جائے، مَیں اسے فوراً قبول کرلوں گا (البیہقی، حدیث: 13080)۔ اس معاہدے کی شرائط میں عربوں نے یہ طے کیا کہ: 
1۔     ہم مظلوموں کا ساتھ اس وقت تک نبھاتے رہیں گے، جب تک ان کو ان کا حق نہ دلا دیا جائے، خواہ وہ کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ 
2۔     ملک میں امن و امان قائم کریں گے۔ 
3۔     مسافروں کی حفاظت اور غریبوں کی مدد کریں گے۔ 
4۔     کسی ظالم یا غاصب کو مکہ میں نہ رہنے دیں گے۔
یہ شرائط مقاصد ِنبوت کی عکاس ہیں اور ایک مستحکم معاشرے کے قیام کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔ اسی اہمیت کی بنا پر نبی اکرمﷺ اس معاہدے کو اپنی زندگی کا اہم ترین واقعہ قرار دیتے ہیں اور اپنے عہد ِمبارک میں اس جیسے معاہدے کے تشکیل پانے کو پسند فرماتے ہیں۔ دینِ اسلام جس معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے، اس کے یہی اصول ہیں۔ دینِ اسلام کی یہ حقیقی تصویر ہے۔ آج دینِ اسلام کا ایسا تعارف گہنا گیا ہے۔ مسلمان عملی طور پر ان اُمور سے متعلق اپنی ذمہ داری کو بھول چکے ہیں۔ مسلمانوں کی اس غفلت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دین دشمن اور ظلم پسند لوگ یہ باور کراتے ہیں کہ دینِ اسلام کی تعلیمات عدل و انصاف اور امن و آشتی پر مبنی معاشرے کے قیام کے بجائے انارکزم کا سبب ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس عہد ِنبویؐ، دورِ خلفائے راشدین ؓاور پوری تاریخِ اسلام ان ہی خطوط پر نظم مملکت کے قیام پر شاہد ِعدل ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ غلبۂ دین کے لیے ان خطوط پر مبنی علمی وعملی کوششوں کو بروئے کار لایا جائے۔ 

3 / 12

حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا

حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا

حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی دوسری صاحبزادی ہیں، جو۳۳ھ قبل نبوت میں پیدا ہوئیں۔ حضوؐر اکرمؐ کے زیرسایہ آپؓ کی تربیت اکسیرِ اعظم تھی، جو کمالاتِ حیات کا موجب بنی۔ پہلے آپؓ کا نکاح ابولہب کے بیٹے (عتبہ) سے ہوا، لیکن رُخصتی نہ ہوئی۔ یہ قبل ازنبوت کا واقعہ ہے۔ جب حضوؐر کی بعثت ہوئی اور آپؐ نے دعوتِ اسلام کا اظہار فرمایا تو ابولہب نے بیٹوں کوجمع کرکے کہا: اگرتم محمد کی بیٹیوں سے علاحدگی اختیار نہیں کرتے تو تمھارے ساتھ میرا اُٹھنا بیٹھنا حرام ہے تو عتبہ نے حضرت رُقیہؓ کو طلاق دے دی۔ محض نبی کی بیٹی ہونے کی وجہ سے حضرت رُقیہ کو اس اذیت ناک مرحلے سے گزرنا پڑااور دینِ حق کے اتباع میں اس صدمے پر صبر کیا۔ آپؐ نے بحکم الٰہی ان کا نکاح حضرت عثمان بن عفانؓ سے کردیا۔ 
حضرت رُقیہؓ نے دو ہجرتیں کیں۔ آپؓ سابقین اولین میں سے ہیں۔ نبوت کے پانچویں سال حضرت عثمانؓ نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی۔ حضرت رُقیہؓ بھی ساتھ گئیں اور سفر اور دیارِ غیر میں سکونت کی صعوبتیں برداشت کیں۔ جب واپس آئیں تومکہ کی سرزمین پہلے سے زیادہ خون خوار تھی۔ چناںچہ اس ہجرت کی مدت میں آں حضرتؐ کوان کا کچھ حال معلوم نہ ہوا تو بے قرار رہے۔ ایک عورت نے آکر خبردی کہ میں نے ان دونوں کودیکھا ہے۔ آںحضرتؐ نے دعادی اور فرمایا کہ: ’’ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے بعد عثمان رضی اللہ عنہٗ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے بی بی کو لے کر ہجرت کی ہے‘‘ (اُسدالغابہ: 5/457)۔ اس مرتبہ آپؑ حبشہ میں زیادہ عرصے تک مقیم رہیں۔ جب یہ خبر پہنچی کہ آپؐ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں توچند بزرگ جن میں حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ بھی تھے، مکہ آئے اور آپؐ کی اجازت سے مدینہ منورہ کوہجرت کرگئے۔ 
ایک مرتبہ حضوؐر اپنی بیٹی حضرت رُقیہؓ کے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت رُقیہؓ حضرت عثمانؓ کاسر دھو رہی تھیں تو آپؐ نے حسن معاشرت اور باہم خدمت کی تلقین کی اور فرمایا کہ: ’’اپنے خاوند ابو عبداللہ (حضرت عثمانؓ) کا خیال رکھنا۔ یہ اَخلاق میں مجھ سے سب صحابہؓ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے‘‘۔ 
۲ھ غزوۂ بدر کا سال تھا۔ اس سال حضرت رقیہؓ کو خسرہ کے دانے نکلے اور نہایت سخت تکلیف میں مبتلا ہوئیں۔ آںحضرتؐ بدر کی تیاریاں کررہے تھے، بدر کوروانہ ہوئے تو حضرت عثمانؓ کو تیمارداری کے لیے حضرت رُقیہ کے پاس چھوڑدیا۔ اور اس کے بدلے میں بدر کی شرکت، مالِ غنیمت کا حصہ اور اجر میں شرکت کی خوش خبری دی اور رقیہ کی تیمارداری جہادِ بدر کے برابر قرار پائی۔ عین اسی دن جس دن زید بن حارثہؓ نے مدینہ میں آکر فتح کا مژدہ سنایا، حضرت رقیہؓ نے وفات پائی۔ آںحضرتؐ غزوہ کی وجہ سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوسکے؛ لیکن جب واپس آئے اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تونہایت رنجیدہ ہوکر قبرپرتشریف لائے اور دعا فرمائی کہ: ’’اے اللہ! میری بیٹی کی قبر وسیع فرمادے‘‘۔  

4 / 12

پاکستان میں غلبۂ دین کے عصری تقاضے

پاکستان میں غلبۂ دین کے عصری تقاضے

ہم نے گزشتہ مہینے انھیں صفحات پر پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی جدوجہد کے تناظر میں دو اہم سوالوں کے جوابات کے ضمن میں دو انتہاؤں کا جائزہ لیاتھا کہ وہ کیوں کر غلط ہیں۔ آج ہمارے پیشِ نظر ایک تیسری انتہا ہے، جس میں پاکستان جیسے اکثریتی مسلمان ملک میں اپنی قومی و دینی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے اگر کوئی اپنی سماجی اور سیاسی جدوجہد کو دین کا عنوان دے دے تو اسے ایک جرم تصور کرلیا جاتا ہے ۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں غلبۂ دین کی جدوجہد از بس ہے تو اس پر ایک مخصوص حلقے کی طرف سے ایک طوفان بپا ہوجاتا ہے کہ یہ تھیوکریسی کی بات کی جارہی ہے، جو آج کے دور میں کسی بھی طرح روا نہیں رکھی جاسکتی۔ اس کی وجہ ہمارے ہاں مسلمہ دینی و سیاسی تصورات کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیاں ہیں۔ ان میں سے ایک غلط فہمی خود غلبہ دین کے تصور بارے پائی جاتی ہے۔ اس سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ شاید دین کے نام پر قائم کسی گروہ کی بالادستی کا نام غلبۂ دین ہے، حال آںکہ ایسا نہیں ہے۔ 
دینِ اسلام اللہ اور لوگوں‘ اور بندوں کے آپسی درست تعلقات کے تشریحی نظام کا نام ہے۔ انسانی زندگی مادے اور روح دو چیزوں سے مرکب ہے۔ اگر دین کی روح کو سامنے رکھا جائے تومذہب کا ایک پہلو انسان کی باطنی زندگی اور دوسرا اس کی خارجی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ جب تک ان دونوں پر کامل رہنمائی نہ موجود ہو تو انسانی معاشرے کامل ترقی سے محروم رہتے ہیں۔ آثارِ قدیمہ، علم الاخلاق اور جغرافیائی تحقیقات نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ قوموں کی جماعتی، قومی اور تہذیبی زندگی دین اور مذہب کی کسی نہ کسی شکل سے ہمیشہ وابستہ رہی ہے۔ دنیا کے جمہور انسانوں کے ہاں مذہب اور دین کو ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ لہٰذا ہمیں پہلے یہاں غلبۂ دین سے متعلق غلط فہمی دور کرلینی چاہیے کہ وہ معروف معنوں میں کوئی مذہبی حکومت (theocracy) نہیں ہے، بلکہ وہ اسلام کے اصولوں کے غلبے کا نام ہے۔ وہ انسانیت کے اجتماعی اَخلاق اور مسلمہ اقدار ہیں، جیسے عدل و انصاف، شورائیت، مساوات، اراکینِ حکومت کی جواب دہی اوراستصوابِ رائے وغیرہ۔ 
دینِ اسلام ظلم اور استحصال پر قائم اداروں اور نظاموں کو بدلنے کی بات کرتا ہے۔ قرآن حکیم نے ظلم پر قائم نظام اور اس کے محافظ انسانوں کے گروہ کو ’’طاغوت‘‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے، جس کا اطلاق ہر دور کے ظالم نظام پر ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں اس کے ہاں عقیدے کا اشتراک بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کے ہاں جنگ اور جدوجہد کا پیمانہ ظلم ہے، کیوں کہ ظلم اور شرک سے گروہتیں وجود میں آتی ہیں، جس سے معاشرے آگے بڑھنے کے بجائے جمود کا شکار ہوجاتے ہیں۔گویا مذہب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانیت کے ارتقا کے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔ خواہ وہ داخلی اَخلاقِ ذمیمہ کی شکل میں ہوں، یا خارجی طور پر غلط نظام اور رسم و رواج کی شکل میں ہوں۔ غلبۂ دین ہمارے دینِ اسلام کا بنیادی تصور ہے، کیوں کہ جب وہ باطن کے ساتھ ساتھ خارج کے ماحول کو بھی انسانی ترقی کے لیے سازگار بنانا چاہتا ہے تو وہ اپنا ماحول بھی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے مفکرین کے ہاں اَخلاق محض جاننے سے نہیں، بلکہ ماحول سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے دین اپناماحول اور نظام بھی پیدا کرتا ہے۔ 
وہ اپنی سیاست بھی قائم کرے گا تو قومی اور بین الاقوامی سیاست پر ظالم، طاغوت کے قبضے کو چیلنج کرے گا۔ جب معیشت میں مساوات قائم کرنا چاہے گا تو معیشت پر قارون صفت سرمایہ داروں کا قبضہ بھی چھڑائے گا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’کسریٰ اور قیصر تباہ وبرباد ہوگئے اور ان کے خزانے راہِ خدا میں تقسیم ہوجائیں گے‘‘ (بخاری)۔ کوئی بھی نظام جب اپنے فکر میں غلبے کا تصور رکھتا ہے تو مزاحمت اس کی جدوجہد کا لازمی حصہ ہوتی ہے، لیکن یہ مزاحمت مخالف عقیدے کے خلاف نہیں، بلکہ ظالم نظام اور طاغوت کے خلاف ہوتی ہے۔ اسلام کے غلبے کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ اس کے سیاسی معاشی اُصولوں کے غلبے کے ثمرات سے غیرمسلم بھی پوری طرح فیض یاب ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنے ہاں بسنے والے سب انسانوں کے حقوق کا تحفظ بلاتفریق مذہب و عقیدہ کرتا ہے۔ اس لیے اس معنی میں اسلام کا غلبہ دراصل انصاف اور راستی کا غلبہ ہے، جو سب انسانوں کی یکساں ضرورت و احتیاج ہے۔ 
ہمارے ہاں دانش وروں کی ایک قسم مغربی معاشروں کے تناظر میں لکھے جانے والے تجزیوں کو مِن و عَن اپنے ہاں منطبق کرنے کی روِش پر عمل پیرا ہے، جو درست روِش نہیں۔ مثلاً وہاں مسخ شدہ مذہب کی تباہ کاریاں ہوں، مطلق العنان شہنشاہیت کے نمونے یا ظالم جاگیرداری کی کارستانیوں کے نتائج ہوں، ان کو اپنے ہاں کے قومی حالات پر چسپاں کرکے قیاس آرائیاں کرنا ہمارے مسائل کے حل کا راستہ نہیں۔ قوموں اور خطوں کے درمیان جزوی مماثلت ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن کسی بھی علاقے اور خطے کا اپنا معروض ہوتا ہے، اسے نظر انداز کرکے درست حقائق تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ 
جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا دین ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام کا نقیب ہے۔ وہ آمریت پر مبنی شہنشاہیت اور ظالم جاگیرداری کا دشمن ہے تو ہم ایسے مظاہر کے خلاف جدوجہد کو ایک اکثریتی مسلمان ملک ہونے کے ناطے دینی عنوان کیوں نہیں دے سکتے؟ ہر خطے کی اقوام نے اپنی حریت و آزادی کی تحریکات اور سیاسی جدوجہد میں اپنی زمین سے پھوٹنے والے فکر، قومی روایات اور اپنے تہذیب و کلچر کے سہارے ہی اپنی منزل تک پہنچنے کا راستہ کھوجا ہے۔ ہم اپنے گزشتہ مہینے کے اداریے میں یہ عرض کرچکے ہیں کہ رجعت پسند مذہبی قوتوں کے بیانیے اور رویے ہمیں غلط راہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ہمیں دینِ اسلام کے حقیقی نظریے سے رہنمائی لینی ہے۔ 
لہٰذا ہمیں پاکستان میں اپنے حقوق کی جدوجہد کو اسلام سے منسوب کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے بزرگوں نے اس خطے کی آزادی کو اسی راہ سے حاصل کیا تھا اور انھوں نے اس کی معاشی اور تمدنی ترقی کے خواب بھی اسی نظریے میں دیکھے تھے، جن کو تعبیر دینا ہمارا ملّی اور قومی فریضہ ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو!        (مدیر) 

5 / 12

فطری ترقی کے حِجَابات کو دور کرنے کا طریقہ(2)

فطری ترقی کے حِجَابات کو دور کرنے کا طریقہ(2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
(حجاب سوء المعرفہ دور کرنے کا طریقہ)
’’حجاب سوء المعرفہ (بدفہمی کے حجاب) کی دونوں قسمیں؛ (۱) شِرک (اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا) اور (۲) تشبیہ (اللہ تعالیٰ کو کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دینا) درجِ ذیل دو اسباب کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں: 
(حجابِ سوئِ معرفت کا پہلا سبب اور اس کا علاج)
(1)     ایک سبب یہ ہے کہ ایک انسان اپنے ربّ کو پہچاننے کی پوری معرفت حاصل کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ انسانی صفات سے بہت ہی زیادہ بلند تر ہے۔ وہ مخلوقات اور محسوسات کی علامات سے بہت ہی زیادہ پاک ہے۔ 
    ایسے لوگوں کا علاج یہ ہے کہ انھیں ان کے ذہنوں کے مطابق ہی مخاطب کیا جائے۔ 
(چیزوں کے سمجھنے کا ضابطہ)
اس سلسلے میں اصل بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ہر چیز __ خواہ موجود ہو یا معدوم، وہ کسی مادی مقام پر ہو یا مادی دائرے سے باہر ہو __ انسان کے علم سے ضرور متعلق ہوتی ہے: 
(الف) یا اس چیز کی اصل صورت اس کے ذہن میں آتی ہے۔ 
(ب) یا اس چیز کی صورت کے ساتھ مشابہ رکھنے والی کوئی چیز ذہن میں ہوتی ہے۔ 
(ج) یا اس کو کسی دوسری چیز سے قیاس کرکے سمجھا جاتا ہے۔ 
یہاں تک کہ انسان معدومِ مطلق (بالکل وجود نہ رکھنے والی چیز) اور مجہولِ مطلق (بالکل معلوم نہ ہونے والی چیز) کا بھی تصور رکھتا ہے۔ چناںچہ وہ ’’عدم‘‘ کو بھی کسی ’’موجود‘‘ کی معرفت کے حوالے سے ہی جانتا ہے۔ اس موقع پر وہ ملاحظہ کرتا ہے کہ معدوم چیز میں موجودچیز کے اوصاف نہیں پائے جا رہے۔ اسی طرح کسی ’’مشتق‘‘ لفظ کے مفہوم کو مفعول کے صیغے کے ساتھ سمجھا جاتا ہے، اور مطلق چیز کے مفہوم کو بھی جانا جاتا ہے۔ پھر وہ اپنی ان اشیا کی تمام معلومات کو جمع کرتا ہے اور انھیں ایک دوسرے کے ساتھ ملاتا ہے۔ اس طرح اُس کے ذہن میں ایک ہیئت ِترکیبیہ پر مشتمل ایک شکل و صورت منظم ہوجاتی ہے۔ 
اس طرح یہ منظم صورت، اُس پیشِ نظر بسیط __ یعنی غیرمرکب مفرد چیز __ کے تصور کے لیے ایک آئینہ اور اس کی معرفت کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے، جو خارج میں کوئی وجود نہیں رکھتی اور نہ ذہنوں میں اس کا کوئی وجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ بسا اوقات انسان کسی چیز کے نظری مفہوم کو سمجھنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ پہلے اپنے خیال کے ذریعے سے اس کی ’’جنس‘‘ (مشترکہ خصوصیات) معلوم کرتا ہے اور اپنے خیال سے ہی اُس کی ’’فصل‘‘ (مشترکہ چیزوں سے الگ کرنے والی خصوصیت) کو سمجھتا ہے۔ اس طرح جنس اور فصل سے ملا کر (اس چیز کی تعریف کے طور پر) ایک مرکب صورت اُس کے ذہن میں حاصل ہوتی ہے، جو اس کے مطلوبہ تصور کو پہچاننے کے لیے آئینہ اور ذریعہ معرفت بن جاتی ہے۔ 
(اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا طریقہ)
پس اللہ کی معرفت سمجھانے کے لیے ایسے لوگوں کو یوں مخاطب کیا جائے گا کہ: 
(الف) ’’اللہ تعالیٰ موجود ہے، نہ اس طرح کہ جیسے ہمارا وجود ہے‘‘۔ 
(ب)  اور یہ کہ: ’’اللہ تعالیٰ زندہ ہے، نہ اس طرح کہ جیسا کہ ہماری زندگی ہے‘‘۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں اللہ کی ایسی صفات بیان کی جائیں جودیکھنے والے کی نظر میں انتہائی قابل تعریف ہوں۔ اس سلسلے میں ہم جن قابل تعریف چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، ان میں درجِ ذیل تین مفاہیم کا ضرور لحاظ رکھا جائے: 
(1)     ایسی شئے کو پیش نظر رکھنا جس میں یہ صفات پائی جاتی ہوں اور اس میں ان صفات کے اثرات و نتائج بھی ظاہر ہوتے ہوں۔ 
(2)     دوسری وہ شئے کہ جس میں ان صفات میں سے کوئی صفت پائی نہیں جاتی اور نہ ہی کبھی اس میں ان صفات کا پایا جانا ممکن ہو۔ 
(3)    تیسری وہ چیزیں جن میں ان صفات میں سے عملاً کوئی صفت نہیں پائی جا رہی، لیکن ان میں یہ صفات حاصل کرنے کی استعداد موجود ہو۔ 
مثلاً: (1) زندہ جسم (جس میں زندگی کی صفات اور اثرات پائے جاتے ہیں)۔ 
(2)     جامد جسم (نہ زندگی کی صفات و آثار ہیں اور نہ ہی پائے جانے کا امکان ہے)۔ 
(3)     مردہ جسم (جس میں زندگی کی صفت اور آثار نہیں ہیں، لیکن اس میں زندگی حاصل کرنے کی استعداد تھی)۔ 
پس اس طرح وہ شئے جس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں، اس کے ذریعے سے اللہ کے زندہ ہونے کی معرفت حاصل کی جائے گی۔ اس طرح کرنے سے دیگر زندوں کے ساتھ اللہ کی مشابہت پیدا ہونے کی وجہ سے جو خرابی آئے گی، اُسے ’’لیس کمثلنا‘‘ (وہ ذات ہماری طرح نہیں ہے) کے جملے سے دور کیا جائے گا۔ 
(حجابِ سوئِ معرفت کا دوسرا سبب اور اس کا علاج)
(2)  (حجابِ سوئِ معرفت کا پیدا ہونے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ) تمام محسوس صورتیں اپنی زیب و زینت اور خوب صورتی کے ساتھ انسان کے ذہن پر مسلط ہوں اور وہ اُن چیزوں کی لذتوں میں مبتلا ہو۔ اس کی قوتِ علمیہ ایسی محسوس اور خوب صورت صورتوں سے ہر وقت بھری رہے اور اس کا دل ان لذتوں اور زیب و زینت کے تابع فرمان رہے۔ وہ خالص حق تبارک و تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے سے قاصر ہو۔ 
اس کا علاج یہ ہے کہ ایسی ریاضتیں اور اعمال کیے جائیں کہ جن کے ذریعے سے انسان میں اونچے درجے کی تجلیات حاصل کرنے کی استعداد پیدا ہوجائے، اگرچہ آخرت میں ہی حاصل ہو اور اللہ کے لیے اعتکافات کیے جائیں اور ممکن حد تک اللہ سے غافل کرنے والی چیزوں سے دور بھاگا جائے، جیسا کہ نبی اکرمؐ نے نقش و نگار سے بنے ہوئے کپڑے کو اپنے سامنے سے اُتار دیا تھا (البخاری، حدیث 6109) اور ایسے لباس کو بھی آپؐ نے اُتار دیا تھا، جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے (البخاری، حدیث: 373) ۔ و اللّٰہ أعلم!     (باب طریق رفع ہٰذہ الحُجب)

6 / 12

طارق بن زیاد؛ فاتح اَندلُس  (2)

طارق بن زیاد؛ فاتح اَندلُس  (2)

طارق بن زیاد کی قیادت میں جب اسلامی لشکر جبل الطارق پر اُترا تو اس کے آس پاس کے جزیرے اور شہر بآسانی زیرنگیں ہوگئے۔ طارق نے ان شہروں کی فصیلوں اور قلعوں کو درست کرایا۔ وہ اندلس کے شاہی لشکر سے مقابلے کی تیاری کرنے لگے۔ اُدھر جو چند شہر قبضے میں آئے تھے، وہاں کے باشندوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ اس علاقے کا گورنر اِن اجنبی حملہ آوروں کو ساحل پر دیکھ کر خوف زدہ ہوگیا۔ اس نے مقابلے کی جرأت کی، لیکن ایک ہی حملے میں پسپا ہوگیا۔ اس نے اندلس کے بادشاہ راڈرک کے پاس ایک تیز رفتار قاصد بھیجا اور اس کو اطلاع دی کہ ہماری زمین پر ایک بلا اُتری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ آسمان سے نازل ہوئی ہے یا زمین سے نکلی ہے۔ 
بادشاہ کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ اس ناگہانی افتاد سے سخت گھبرایا اور مقابلے کی تیاری شروع کردی۔ حملہ آوروں کو ملک سے نکالنے کی ملک و قوم اورمذہب کے نام پر اپیل کی۔ اپنے مخالفین کو بھی بلایا۔ طارق نے دشمن کی اتنی بڑی فوج کے جمع ہونے کا حال سنا تو موسیٰ بن نُصَیر کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ موسیٰ بھی متوقع صورتِ حال سے غافل نہ تھے۔ وہ کمک کے لیے پہلے سے ہی کشتیوں پر کشتیاں تیار کروا رہے تھے۔ طارق کی امداد کی درخواست پر انھوں نے پانچ ہزار فوج بھیجی۔ اس طرح اسلامی لشکر کی مجموعی تعدادی بارہ ہزار ہوگئی۔ راڈرک ایک لاکھ مسلح فوج لے کر مقابلے پر آیا۔ دوسری طرف مسلمان لشکر دشمن کی اتنی بڑی فوج سے مرعوب ہو رہا تھا۔ طارق نے اس صورتِ حال کو دیکھا تو مجاہدین کے خوف کو دور کرنے کے لیے جنگ شروع ہونے سے پہلی رات ایک پرزور اور مؤثر تقریر کی: ’’مسلمانو! خوب سمجھ لو! اب تمھارے بھاگنے کی جگہ کہیں نہیں۔ سمندر تمھارے پیچھے اور دشمن تمھارے آگے ہے۔ اللہ کی قسم اب سوائے ہمت و استقلال کے تمھارے لیے کوئی راستہ نہیں۔ یہی دونوں اوصاف ہیں، جو شکست نہیں کھا سکتے۔ تمھارا دشمن اپنی فوج اور سامانِ جنگ کے ساتھ مقابلے پر آچکا ہے۔ اس کے پاس سامانِ رسد کا ذخیرہ بھی وافر ہے، مگر تمھارے پاس کچھ نہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے دشمن سے یہ اسباب چھین کر حاصل کرلو۔ اگر تم نے کوتاہی کی اور بزدلی دکھائی تو تمھاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ میں تمھیں ایسے مقام پر لایا ہوں، جہاں سب سے سستی چیز انسانوں کی جانیں ہیں۔ سب سے پہلے میں اپنے آپ سے شروع کرتا ہوں۔ مجھے تم جو کچھ کرتا ہوا دیکھو، اسی کی پیروی کرو۔ اگر میں حملہ کروں تو تم بھی ٹوٹ پڑو۔ لڑائی کے میدان میں سب مل کر ایک شخص واحد کی صورت اختیار کرلو‘‘۔ اس پُرجوش تقریر سے فوج کے دل عزم و ہمت، جوش و خروش اور فتح و ظفر کی امیدوں سے معمور ہوگئے۔ یہ ۲۷؍ رمضان ۹۲ھ/ 19؍ جولائی 711ء کی یادگار صبح کا سپیدہ نمودار ہوا تو طبل جنگ بجایا گیا۔ حملے کی ابتدا ہسپانیہ کے لشکر کی طرف سے ہوئی۔ گھمسان کا رن پڑا۔ ۲۷؍ رمضان سے ۵؍ شوال تک جنگ جاری رہی۔ طارق اور اس کی بہادر فوج نے بالآخر جنگ جیت لی اور اندلس کا اکثر حصہ فتح ہوگیا۔ 
 

7 / 12

اور آئی ایم ایف پھر مان گیا

اور آئی ایم ایف پھر مان گیا

آئی ایم ایف کی عالمی حیثیت ایک بینک کی سی ہے، جس کا کام دیگر ممالک کو اس لیے قرض دینا ہے، تاکہ لین دین کا عالمی نظام اضمحلال کا شکار نہ ہونے پائے اور اس تناظر میں مقامی کرنسیاں قابلِ استعمال رہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک بینک کی حیثیت سے آئی ایم ایف جب کسی ملک کو قرض دیتا ہے تو اس قرض کی واپسی کا سامان بھی طے کرتا ہے۔ پاکستان جیسے کمزور اور ضرورت مند ممالک آئی ایم ایف کی عموماً تمام شرائط مان جاتے ہیں اور قرض کی رقم مل جانے کے بعد پھر وہی طریقۂ کار اپنا لیا جاتا ہے، جہاں دنیا کی بڑی اور مشہور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں Credit Rating Agencies ان ممالک کی درجہ بندی بہتر کرتی چلی جاتی ہیں اور یوں دیگر ممالک اور بینک قرضوں کی رقوم کا بند کھول دیتے ہیں اور بڑے بڑے پراجیکٹس کی آڑ میں لوٹ مار کا ایک بازار گرم کیا جاتا ہے۔ قرض کی رقم سے حاصل ہونے والی لوٹ کی رقم دوبارہ ان ممالک اور بینکوں میں پہنچ جاتی ہیں جہاں سے وہ چلی تھیں، لیکن اس اثنا میں ایک طرف قوم مقروض اور غلامی میں دھنستی چلی جاتی ہے اور دوسری جانب اُس ملک کی اشرافیہ امیر سے امیر ہوتی چلی جاتی ہے ۔ نتیجتاً ملک کوایک نئے قرض کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ 
کرونا کی وبا سے قبل آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین غیر ٹیکس آمدن سے وصولیاں بڑھا کر خسارہ کم کرنے کے معاملات طے پاگئے تھے، لیکن کروناکی مہاماری نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا اور حکومت کو 1200 ارب روپے کا ریلیف پیکج دینا پڑا۔ اب اس پیکج کی واپسی کا ٹائم آن پہنچا ہے۔ چناںچہ حکومت پر دباؤ کے باوجود بجلی اور ایندھن کے نرخ بڑھا دیے گئے ہیں۔ کرونا کی دوسری لہر کے پیشِ نظر حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہیں کیا، جو ایک خوش آئند قدم تھا۔ دوسرا بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے سرکولر ڈیٹ کی ادائیگی کے حوالے سے بھی مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ 
دراصل ان ا قدامات نے معیشت پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں اور اس محدود مدت میں برآمدات میں اضافے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر نے کرونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹنے میں خاطر خواہ مدد کی ہے۔ رواں مالی سال میں اب تک ان مدات میں 3 ارب ڈالر تک ملکی معیشت میں آچکا ہے، لیکن یہ اب بھی ملکی اخراجات اور خرچ کی نسبت کا نصف ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف سرکار نے تعمیراتی پیکج (construction package) کی مشروط اجازت دے رکھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس سہولت سے کتنا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ اگر بجلی اور تعمیراتی پیکج سے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہوئے تو مہنگائی کی ایک بڑی اور تباہ کن لہر کے لیے تیار رہیں۔ 

8 / 12

ایشیائی بالا دستی کے تقاضے

ایشیائی بالا دستی کے تقاضے

[میانمار میں 2021ء کا فوجی انقلاب]
یورپ اور مغربی دنیا کے غلبے کے عہد نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بہ دولت انسانی زندگی میں بے پناہ سہولتیں تو پیدا کیں، لیکن ان کے ثمرات کا حامل صرف ایک مخصوص گروہ رہا۔ اسی گروہ کی بالادستی کو قائم ودائم رکھنے کے لیے مختلف قسم کی حکمتِ عملیاں مرتب کی گئیں، جس سے یورپ کی قتل و غارت کی عادت پختہ ہوتی گئی۔ یورپین قوتوں نے بلا روک ٹوک ملکوں کے ملک صفحۂ ہستی سے مٹا دیے۔ جمہوریت کے نام پر آمریت کو مسلط کیے رکھا۔ خدا کا شاہکار انسان جو تمام مخلوقات میں اشرف اور محنت کا سب سے فعال عنصر تھا، اسے کیڑوں مکوڑوں سے بدتر بنادیا۔ ماضی میں ایشیائی غلبے کے عہد میں پیداوار کا دارومدار اگرچہ انسانی محنت اور آلاتِ پیداوار پر منحصر تھا، لیکن اس عہد نے انسانوں سے ان کی قوتِ محنت چھینی اور نہ ہی برلانے والے اوزار علاحدہ کیے۔ دونوں اسی کی ملکیت میں رہے، جس کے سبب معاشرے میں محنت کش طبقے کی عزت و وقار کا بھرم بھی قائم رہا۔ 
تاریخ کے مطابق عالمی غلبہ کسی خطے کے لیے مختص نہیں رہا۔ یہ دنیا میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ آج پھریہ عہد تبدیل ہونے جارہا ہے۔ یورپین ادارے اپنے مستقبل کے تقاضوں کے تحت ایشیا پیسفک کی طرف منتقل ہوتے جارہے ہیں۔ مغربی حکمتِ عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایشیا پیسفک میں اپنے مورچے قائم کیے جائیں، تاکہ مستقبل میں اُبھرنے والی طاقتوں سے نبردآزما ہونے کا بھر پور بندو بست کیا جاسکے۔ روحِ عصر کو بھانپتے ہوئے ایشیا عالمی اُفق پر اُبھر رہا ہے۔ اس کی مقتدر قوتیں پیش بندی کرتی ہوئی کسی ایسی کھڑکی کے کھلنے اور آلہ کار قوت کو خود سر بننے سے روکنے کا تدارُک کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ 
یکم؍ فروری صبح 4 بج کر 10 منٹ پر ’ٹائم یونین‘ کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں فوج نے حکومت کا کنٹرو ل سنبھال لیا ہے اور ایک سال کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی 2؍ فروری 2021ء کی رپورٹ کے مطابق ملکی لیڈر آنگ سان سوچی کو نظر بند کردیا گیا ہے۔ ملکی آئین کی شق نمبر 417 کے مطابق اگر ملک میں حالات نازک ہوجائیں تو آئین فوج کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ملکی انتظام سنبھال لے۔ کورونا وائرس اور نومبر میں الیکشن کو ملتوی نہ کرنے کی وجہ سے ایمرجنسی لگائی گئی ہے۔ 
8؍ نومبر 2020ء کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی سے سوچی کی حکومت نے پارلیمنٹ کی 476 نشستوں میں سے 396 پر قبضہ کر لیا تھا۔ فوج نے پارلیمنٹ کے اجلاس کو ملتوی کرنے کو کہا تھا، جس کا نہ صرف الیکشن کمیشن نے انکار کردیا، بلکہ حکومت نے یکم؍ فروری کو اجلاس بھی طلب کرلیا تھا۔ 3؍ فروری 2021 کی ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ملکی حکمران آنگ سان سوچی کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ احتجاج کے بعد مظاہرین پُرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق فوج نے ان ریلیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان ریلیوں کے پیچھے 4 ڈاکٹروں کا ہاتھ ہے، جن کے نام صیغۂ راز میں رکھے گئے ہیں۔ 
چینی نیوز ایجنسی گلوبل انک (GLOBALink) کی یکم؍ فروری کی رپورٹ کے مطابق فوج نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے کہ وہ ایک سال کے بعد الیکشن کرائے گی۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یونین الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو کی جائے گی اور گزشتہ سال نومبر 2020ء میں ہونے والے پارلیمنٹ کے انتخابات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا۔ فرانس کی عالمی نیوز ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی 3؍ فروری 2021ء رپورٹ کے مطابق پولیس نے معزول رہنما آنگ سان سوچی کے خلاف غیر قانونی طور پر مواصلاتی آلات درآمد کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور الجزیرہ ٹی وی چینل کی 2؍ فروری 2021ء کی نشریات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ: ’’عالمی برادری کو مل کر برما کی فوج پر اقتدار واپس منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے، سیاسی قیدیوں اور سول حکام کی رہائی کے لیے دبائو بڑھانا چاہیے‘‘۔ دوسر ی صورت میں اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ 
برما کا مسئلہ دیرینہ ہے۔ مغربی طاقتوں کی حکمتِ عملی کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے نام پر خطوں میں عدمِ استحکام پید اکرنے کے لیے معروضی حالات کے تقاضوں کے مطابق سیاست کی آڑ میں تخریب کار جتھے تیار کیے جاتے ہیں، جنھیں پروان چڑھانے کے لیے مختلف طریقوں سے ان کی آبیاری کی جاتی ہے۔ آنگ سان سوچی کو بحالیٔ جمہوریت کی جدوجہد کے نام پر 1991ء میں امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ عالمی سطح پر اس کی جد وجہد کی پذیرائی کروائی گئی۔ ڈان نیوز کی 2؍ فروری 2021ء کی رپورٹ کے مطابق سوچی نے 1968ء میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور اس کے بعد امریکی ریاست نیویارک منتقل ہوگئیں۔ وہیں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ تین سال تک اقوامِ متحدہ میں کام کرتی رہیں۔ 1988ء میں وطن واپس آنے پر اس کے لیے نئی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (National League for Democracy)  بنوائی گئی۔ شروع میں حکومت مخالف تمام ریٹائرڈ فوجی افسران کی حمایت سے جدوجہد کی علامت کے طورپارٹی کی جنرل سیکرٹری بنوائی گئی۔ سرمایہ دار ملکوں نے تربیت دے کر انسانی حقوق کی بڑی عَلم بردار بناکر پیش کیا۔ جس کی پرورش پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے، مستقبل میں ان کی وصولی بھی ضروری ہے۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ جو جان جوکھوں میں ڈال کر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، وہ آمر اور ڈکٹیٹر کہلاتے ہیں۔ جو بیرونی قوتوں کی آلہ کاری کرتے ہوئے ’’چمک‘‘ سے ہاتھ چمکاتے ہیں، یورپ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے نام پر ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، وہ اپنے ملکوں میں معتبر، عزت دار اور جمہوریت پسند کے القابات سے نوازے جاتے ہیں۔ 

9 / 12

انسانی معاشرے میں معاہدات کی اہمیت

انسانی معاشرے میں معاہدات کی اہمیت

5؍ فروری 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 
’’معزز دوستو! انسانی معاشرے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ انسانی سماج معاہدات کا مجموعہ ہے۔ قدم قدم پر انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے میں جڑا ہوا ہے۔ معاہدات تحریری ہوں، یا اجتماعی شعور کے تحت انسانوں کے درمیان معاہدات طے کرنے کی اقدار و اَخلاق ہوں، انسان دونوں ہی کا پابند بنتاہے۔ گھر کے نظام سے لے کر قومی اور بین الاقوامی نظام تک انسانی سماج میںمعاہدات ہوتے ہیں۔ اور معاہدات اس لیے کیے جاتے ہیں کہ مختلف انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والے تضادات اور اختلافات کا حل تلاش کیا جائے۔ 
یوں تو تمام انسانیت ایک ہے۔ وحدتِ انسانیت کا بنیادی نظریہ دین اسلام کی تعلیمات کی اساسیات میں سے ہے۔ علمی اور عقلی طور پر بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسانیت 99.9 کے حساب سے یعنی ایک ہزار میں سے 999.9 انسانیت ایک ہے۔ صرف ایک فی ہزار کا اختلاف ہے۔ اس فی ہزار کے اختلاف کے اندر ہی یہ قومیں، نسلیں، تہذیبیں، زبانیں اور ان کے درمیان تنوع پایا جاتا ہے۔ اس ایک فی ہزار اختلاف کے نتیجے میں جو انسانوں میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں، ان کو حل کرنے اور ان کو درست خطوط پر آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ جو 999 اس کے اندر اتفاق کی چیزیں ہیں، اس کے مطابق اس کو حل کیا جائے۔ یہ اختلاف زیادہ سے زیادہ رنگ و نسل کا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ اس رنگ و نسل کے اختلاف کی وجہ بھی قرآن نے بیان کردی کہ ’لِتَعَارَفُوْا‘ کہ یہ جو ہم نے تمھارے قبائل بنائے ہیں، نسلی امتیازات اور خصوصیات پیدا کی ہیں، ان کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرو۔ کیوںکہ انتظامی نظم و نسق کے لیے افراد کی شناخت کا ہونا ضروری ہے کہ کون آدمی کس منفرد شناخت کے ساتھ، کن خصوصیات کا حامل ہے یا کس خطے میں بس رہا ہے؟ کس قوم اور نسل سے تعلق رکھتا ہے؟ تاکہ اس کے مطابق نظم و نسق درست طریقے سے قائم ہوسکے۔
انتظامی نظم و نسق میں اہم اور بنیادی چیز انسانوں کے درمیان سماجی معاہدات ہیں۔ نظم و نسق اس کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا، جب تک کہ کوئی سوشل کنٹیکٹ نہ ہو اور افراد کے درمیان معاملات طے کرنے کا کوئی معاہدہ وجود میں نہ آئے۔ کیوں کہ معاہدات ہی کی بنیاد پر معاملات اور مسائل حل ہوں گے۔ گویا معاہدات کی بنیادی روح یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے اختلافات نمٹیں۔ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کے حوالے سے کسی بات پر متفق ہوں۔ انسانیت ترقی کرے۔ انسانوں میں عدل، امن، معاشی خوش حالی ہو۔ اسی لیے معاہدات امن کی ضمانت ہوتے ہیں، معاشی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ معاہدات کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی میں رحم دلی، تعلقات اور باہمی پیار و محبت استوار ہوتا ہے۔‘‘ 


معاہدات کی روح؛ اختلافات اور جھگڑے نمٹانا ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’ہماری فقہ کی کتابوں میں دین اسلام کی تعلیمات کا یہ بنیادی اُصول بیان کیا جاتا ہے کہ معاہدہ ایسا ہونا چاہیے کہ جس کے نتیجے میں جھگڑے نمٹیں۔ خاص طور پر خرید و فروخت کے معاملات میں یہ باتیں طے ہوں کہ بیچنے والا کیا چیز بیچ رہا ہے؟ کتنی مقدار میں بیچ رہا ہے؟ اور کس وقت دے گا؟ ابھی یا کچھ وقت ٹھہر کے۔ اس کی مکمل تعیین ضروری ہے اور اس کے بدلے میں جو خرید رہا ہے، وہ کیا چیز دے گا؟ چاندی کے سکے دے گا، سونے کے دے گا، یا بارٹر سسٹم کے تحت اَور کوئی جنس دے گا؟ اس کا بھی تعین ہونا ضروری ہے۔ اگر معاہدہ گول مول ہے، کچھ اتہ پتہ نہیں چل رہا، تو وہ ’’مفضی الیٰ المنازعہ‘‘ یعنی جھگڑے کی طرف لے جانے والا ہے۔ وہ بیع فاسد ہے۔ کیوںکہ معاہدے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہر ایک فریق اس اختلاف اور جھگڑے کو ختم کرکے اپنے اپنے حقوق و فرائض کے تحت کام کرے۔ 
خرید و فروخت میں بھی یہی ہے اور معاہدۂ نکاح کا بھی یہی قانون ہے۔ اسی طرح ایک قومی سطح کے سیاسی اور سماجی معاہدے میں بھی یہ طے کرنا ضروری ہے کہ حکمران کے کیا فرائض ہوں گے اور عوام کے کیا فرائض ہوں گے؟ جو حکومت میں ہیں، جن کے پاس نظم و نسق ہے۔ انھوں نے کون کون سے کام کرنے ہیں؟ اور کون کون سے کام عوام نے کرنے ہیں؟ اجتماعیت کے بنیادی تقاضے کیا ہیں؟ پھر حکومت کا نظم و نسق کس پیٹرن پر چلے گا؟ کیا طریقۂ کار ہوگا؟ انتظامی فیصلے کیسے ہوں گے؟ انتظامات پر عمل درآمد کے پروسیجرز کیا ہوں گے؟ پھر اس کو چیک کرنے کا عدالتی نظام کیا ہوگا؟ جب تک مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، تینوں شعبے اور اُن کے مکمل قوانین اور ضابطے وجود میں نہ آئیں تو معاہدۂ عمرانی (social contact) نہیں کہلا سکتا۔ پھر اس کے ذیل میں جتنے بھی نیچے تک کے معاہدات ہیں، خرید و فروخت کے ہوں، لین دین کے ہوں، شادی بیاہ کے ہوں، دیگر اُمور سرانجام دینے کے ہوں، قومی ہوں، یا ایک ریاست اور قوم دوسری ریاستوں سے یا اقوام سے جو معاملات طے کرے گی، اس کے قوانین اور ضابطے کیا ہوں گے؟ 
پھر اقوامِ عالم مل کر بین الاقوامی سطح پر اپنے معاملات، خارجہ تعلقات کس طریقے سے سرانجام دیں گے؟ اس کے لیے بھی قوانین اور ضابطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان تمام معاہدات کا بنیادی مقصد اور ہدف انسانوں میں وہ جو ایک فی ہزار اختلاف ہے، اس اختلاف کو حل کرکے وحدتِ انسانیت کے تقاضے کے مطابق انسانوں میں امن، عدل، خوش حالی اور ترقی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔ کتابِ مقدس قرآن حکیم نے انسانی سماج کا اس نقطہ نظر سے تعارف کرایا ہے۔ معاہدات کے حوالے سے پورے قرآن حکیم میں سینکڑوں آیات میں گفتگو کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَ کَانَ عَہْدُ اللّٰہِ مَسْئُوْلاً‘‘ (الاحزاب: 15) اللہ تعالیٰ کے نام پر کیے گئے معاہدوں کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ 


معاہدات توڑنے کا سامراجی کردار
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’مسلمانوں نے دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں گیارہ سو سال تک معاہدات کی پاسداری کی اساس پر انسانیت میں عدل، امن اور معاشی خوش حالی کا نظام قائم کیا۔ جب سے یورپین انسانیت پر مسلط ہوئے ہیں اور اس برعظیم پاک و ہند پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ ہوا تو ہر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ ہر معاہدے میں دباؤ ڈال کر ایسا پریشر پیدا کیا گیا، جس کے ذریعے سے اختلافات حل ہونے کے بجائے اختلاف کی خلیج کو بڑھایا گیا۔ 1757ء کی جنگ ِپلاسی سے پہلے سراج الدولہ سے ہونے والے معاہدے سے لے کر آج تک کے تمام معاہدات کی پوری تاریخ آپ کے سامنے رہنی چاہیے کہ ہر معاہدے کے پیچھے مسئلہ حل کرنا نہیں، بلکہ مسئلہ پیدا کرنا رہا ہے۔ 
آج 5؍ فروری کو جو یومِ کشمیر آپ منا رہے ہیں، اس کی اساسیات بھی ایک معاہدے سے جڑی ہوئی ہیں۔ برعظیم پاک و ہند میں ایک معاہدے کے تحت دو ملک وجود میں آئے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں جھگڑے نمٹنے چاہئیں تھے یا جھگڑے پیدا ہونے چاہئیں تھے؟ اگر ایک معاہدے کے نتیجے میں کوئی جھگڑا پیدا ہو اور اس کی وجہ سے ایک پوری نسل اذیت، تکلیف، غلامی اور پستی کی حالت میں ہو تو اس معاہدے کی عقلی طور پر کیا وقعت ہے؟ انسانی حقوق اور دین و شریعت کے اعتبار سے کیا حیثیت ہے؟ دین اسلام کی تعلیمات کے حوالے سے کیا اہمیت ہے؟ معاہدے کا مطلب تو جھگڑے نمٹانا ہے۔ اگر معاہدے کے نتیجے میں جھگڑے پیدا ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاہدہ نہیں ہے، وہ انسانیت سے دھوکا اور فراڈ ہے۔ دین سے اور انسانیت سے غداری ہے۔ دین میں افتراق و انتشار پیدا کرنے کا سبب ہے۔ 
جب آپ نے ایک فارمولا تسلیم کرلیا کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر برٹش انڈیا کے علاقے دونوں ملکوں میں تقسیم ہوں گے تو 565 ریاستوں کی حیثیت متعین کرنے میں یہ فارمولا کیوں توڑا گیا؟ کیوں یہ تسلیم کیا گیا کہ ریاستوں کے راجے مہاراجے، نواب اور نظام فیصلہ کریں گے کہ ہماری ریاست کدھر شامل ہو؟ اِدھر شامل ہو یا اُدھر شامل ہو؟ کیوں؟ اس کا مطلب یہ کہ جھگڑا کھڑا کرنا مقصد ہے۔ انتشار پیدا کرنا ہدف ہے۔ اسی لیے محققین کی اجتماعی رائے یہ ہے کہ اسی معاہدے کا ایک تسلسل ہے، جس سے کشمیر کی تباہی اور بربادی ہوئی۔ یہ اسی معاہدے کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب تقسیم کا ایک فارمولا طے ہوگیا تو ہر مسلم اکثریتی علاقہ اور ریاست پاکستان میں شامل ہو اور ہندو اکثریتی علاقہ ہندوستان میں شامل ہو۔ پھر کشمیر پاکستان کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا جو مسلم اکثریتی علاقہ ہے؟ کیوں اس معاہدے پر سائن کیے گئے، جس میں مہاراجہ کشمیر کو الگ سے معاہدہ کرنے اور اپنی ریاست کا الحاق کرنے کے اختیارات دیے؟ کیوں اس معاہدے پر سائن کیے گئے کہ جو نظام حیدرآباد کو یہ اختیار دیتا تھا کہ وہ اپنی حیدرآباد یا جونا گڑھ کی ریاست کو اپنی مرضی کے تحت جدھر چاہے شامل کرے؟‘‘ 


انسانی بنیادوں پر معاہدات کا تجزیہ ضروری ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’قرآن حکیم اس بات پر باربار زور دیتا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنا، معاہدات کے اندر جھگڑے پیدا کرنے کے حوالے سے شقیں اور شرائط رکھنا، دراصل معاہدے کے وجود کا انکار ہے۔ اسی لیے نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ہر معاہدہ جس میں اس کی روح کے خلاف کوئی بھی شرط لگائی گئی ہو تو وہ باطل اور غلط ہے۔ معاہدے کی اصل روح انسانیت ہے۔ اگر کسی معاہدے کے سبب سے انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے، انسانیت کو نقصان ہو رہا ہے، انسانیت بھیڑیوں کے حوالے ہو رہی ہے، انسانیت پر ظلم ہو رہا ہے تو اس معاہدے میں کتنی ہی شقیں رکھ لی جائیں، وہ تمام شقیں باطل اور غلط ہیں۔ 
ہمارے فقہا اور علما خرید و فروخت کے لین دین میں تو اس قانون اور شریعت کے اس حکم کو لاگو کرتے ہیں، لیکن سیاسی معاہدات میں، سماجی معاہدات میں، قومی اور بین الاقوامی معاہدات میں یہ شرط کیوں عائد نہیں کی جاتی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اس برعظیم پاک و ہند میں سیاسی شعور مسخ کردیا گیا۔ مسجد میں لکھ کر لگا دیا گیا کہ سیاست پر باتیں کرنا ممنوع ہے۔ سیاست پر گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ حکمرانوں کا کام ہے کہ وہ سیاست پر بات کریں، جیسے چاہیں اُلٹے سیدھے معاہدے طے کریں، معاملات طے کریں۔ نہیں! عوام کا بھی حق ہے کہ وہ معاہدات پر گفتگو کریں۔ 
کیا نبیؐ سے بڑھ کر اس دنیا میں کوئی طاقت ہے؟ آپؐ صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کرتے ہیں تو حضرت عمرفاروقؓ اس معاہدے پر سوالات اُٹھاتے ہیں۔ حال آں کہ نبیؐ نے اللہ کے حکم سے ایک فیصلہ کرلیا، لیکن اللہ نے کہا کہ جب آیاتِ رب پڑھ کر بھی سنائی جائیں تو اللہ کے بندے وہ ہیں، جو اس پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گر پڑتے، سمجھتے ہیں، عمر فاروقؓ سمجھنا چاہتے ہیں کہ بھئی! یہ معاہدہ کیوں کیا آپ نے؟ کیوں ہم یہ ذلت کی صلح قبول کریں؟ اس معاہدے پر سوال ہے۔ نبی اکرمؐ نے سمجھایا، حضرت ابوبکرؓ نے سمجھایا تو تب جا کر انھیں بات سمجھ میں آئی۔ اسی طرح حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے دور میں صاف طور پر فرمایا کہ ہمارے مالیاتی معاملات اور ہمارے انتظامی اختیارات پر تم عوام کو سوال کرنے کا حق ہے۔ تم مجھ سے پوچھو کہ میں نے مالیاتی معاملات اور معاہدات کیسے سرانجام دیے؟ 
آج قوم کو بھی سوال کرنا چاہیے کہ آپ نے کشمیر پر جو معاہدہ کیا تو اس معاہدے کی یہ فلاں فلاں شق کس بنیاد پر ہے؟ کیا منطق ہے اس کی؟ ایسی شقوں کو کیوں قبول کیا، جن کے نتیجے میں آج 72 سال ہوگئے کشمیریوںکا خون بہہ رہا ہے۔ وہ ذلت اور رُسوائی کی حالت میں ہیں۔ اپنی قومی نسلوں کو تباہ و برباد کردینے سے بڑا ظلم کیا ہوگا؟ اس سے بڑی خلاف ورزی کیا ہوگی کہ سامراج ایسی ہڈی چھوڑ کر چلا گیا کہ جس کے نتیجے میں لڑتے رہو، مرتے رہو، ایک دوسرے کا خون بہاتے رہو۔ اس لیے آج سمجھ داری عقل و شعور اور تدبر کی بڑی ضرورت ہے، جو دین اسلام ایک مسلمان جماعت میں پیدا کرنا چاہتا ہے‘‘۔ 

 

10 / 12

حضرت مولانا ابو حامد محمدمیاں منصورانصاریؒ

حضرت مولانا ابو حامد محمدمیاں منصورانصاریؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے قائدین میں ایک اہم ترین نام حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ کا بھی ہے، جنھوں نے اس تاریخی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ مولانا انصاریؒ 10؍مارچ 1883ء کو مولانا محمد عبداللہ انصاریؒ (بھانجے اور داماد حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ) کے ہاں ضلع سہارن پور کے قصبہ انبیٹھہ میں پیدا ہوئے۔ مولانا موصوفؒ دارالعلوم دیوبند کے بانی اور 1857ء کی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد حضرت نانوتویؒ کے حقیقی نواسے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ منبع العلوم گلائوٹھی میں حاصل کی۔ 1903ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ تحصیلِ علم کے بعد کچھ عرصہ درس و تدریس میں مصروف رہے۔ دارالعلوم معینیہ اجمیر شریف میں صدر مدرّس کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ حضرت عالی مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے حسبِ منشا حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ نے ترجمہ قرآنِ حکیم کے کام کا آغاز فرمایا تو حضرت شیخ الہندؒ نے مولانا محمدمیاں انصاریؒ کو دیوبند بلا لیا، تاکہ اس کام میں وہ ان کے ساتھ تعاون کریں۔ 
یوں تو حریت و آزادی کی خاطر قربانیاں پیش کرنے کی ہمت و استقامت مولانا انصاریؒ کو وراثت ہی میں ملی تھی، لیکن طالبِ علمی کے دورمیں حریت پسند تحریک میں عملی کردار ادا کرنے کا بھی موقع مل گیا۔ حضرت شیخ الہندؒ کے زیرِ تربیت رہے اور آپؒ کی حصولِ آزادی کی تحریک ’تحریکِ ریشمی رومال‘ میں سر گرم کردار ادا کیا۔ 1909ء میں جمعیت الانصار قائم ہوئی تو امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ نائب ناظم کی ذمہ داریاں بہ خوبی نبھائیں۔ 1915ء میںحضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ حجاز تشریف لے گئے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے حجاز پہنچتے ہی مکہ معظمہ کے گورنر غالب پاشاؒ سے ملاقات کی اور انھیں ہندوستان کی صورتِ حال اور اپنے منصوبے سے آگاہ کیا۔ غالب پاشاؒ نے آپؒ سے تعاون کا یقین دلایااور اس سلسلے میں آپؒ کوکئی تحریریں دیں۔ ایک تحریر مسلمانانِ ہند کے نام تھی، جس میں انھیں ظالم انگریز کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی گئی تھی اور کہاگیاتھا کہ اہلِ ہند کو آزادیٔ کامل پر آمادہ ہوجانا چاہیے اور اپنی جدوجہدکو تیز کردینا چاہیے۔ یہی وہ تحریر ہے جو تاریخ میں’ غالب نامہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس تحریر کو ہندوستان اور کابل میں پہنچانے کا انتہائی اہم کام مولانا موصوفؒ ہی کے سپرد کیا گیا۔ 
اپریل 1916ء میں ’غالب نامہ‘ اور دوسرے ضروری کا غذات بہ حفاظت ہندوستان پہنچا نے کے لیے یہ طریقۂ کار اختیار کیا گیا کہ لکڑی کے ایک صندوق کے تختے کو کھود کر اس میں تمام کاغذات رکھ دیے گئے تھے، تاکہ کسی کو پتہ نہ چل سکے۔ یہ صندوق مولانا ہادی حسنؒ اور حاجی شاہ بخش سندھیؒ کے حوالے کردیا گیا۔ بمبئی میں جہاز پر سی آئی ڈی بھی موجود تھی، اس کے باوجود انتہائی رازداری سے یہ صندوق وہاں سے نکال لیا گیا۔ اسی سفر کے دوران ہی مولانا موصوفؒ نے اپنے اصل نام ’محمد میاں‘ کے بجائے ’منصور انصاری‘ رکھ لیا تھا۔ پھر اسی نام سے شہرت پائی۔ 
دہلی میں حاجی احمدمیرزا فوٹو گرافر نے ’غالب نامہ‘ کے متعدد فوٹو لیے، تاکہ ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچائے جاسکیں۔ دہلی میں جماعت کی مرکزی قیادت کو یہ تحریر دکھانے کے بعد مولانا موصوفؒ یاغستان روانہ ہوگئے۔ وہاں ایک ماہ قیام کے بعد امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے پاس کابل تشریف لے گئے۔ اس پورے سفر کے دوران ’غالب نامہ‘ کی کاپیاں مختلف جگہوں پر تقسیم کرتے رہے۔ کابل کی قیادت کو حضرت شیخ الہندؒ کے پیغامات پہنچائے گئے۔ حجاز سے روانگی سے قبل حضرت شیخ الہندؒ نے مولانا موصوفؒ سے تحریک کے خفیہ اُمور پر مشاورت فرمائی اور وطن واپسی کے بعد ان کے ذمے تحریک کے شعبوں کی نگرانی سپرد کی، جسے انھوں نے کمال رازداری سے سرانجام دیا اور اپنے تمام امور سے متعلق ایک تفصیلی خط حضرت شیخ الہندؒ کو تحریر کیا۔ انگریز کی سی آئی ڈی کی رپورٹ میںجن ریشمی خطوط کا تذکرہ ہے، اس میں یہ خط بھی شامل ہے۔ وطنِ عزیز کی آزادی کے لیے قائم کی جانے والی جماعت ’جنودِ ربانیہ‘ کی فہرست میں مولاناؒ کا عہدہ ’نائب سالار (لیفٹنٹ جنرل)‘ کے طور پر لکھا ہوا ہے۔
کابل میں قیام کے دوران افغانستان کے مقتدر حلقوں میں بھی مولانا انصاریؒ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ حکومتِ افغانستان نے انھیں وزیر مختار بنا کر سفارتی مشن کے ساتھ ترکی بھیجا تھا۔ ایک موقع پر ماسکو میں بھیجے گئے سیاسی مشن میں انھیں بہ طورِ مشیر نامزد کیا گیا۔ 1929ء میں افغانستان کے حالات کے پیشِ نظر چند ماہ تک روس میں جلاوطنی کی زندگی بسر کی۔ افغانستان میں اعلیٰ سطح کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے۔ 
 مولانا انصاریؒ سیاسی ذہن رکھنے والے ایک زیرک رہنما تھے۔ انھوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق عملی سیاسی نظام کا ڈھانچہ اپنے ایک رسالے ’’حکومتِ الٰہی: دستورِ اساسی امامت ِاُمت‘‘ میں بھی پیش کیا ہے۔ سیاسیات کے موضوع پر متعدد کتب اور رسائل تحریر فرمائے۔ وہ ایسی سماجی تشکیل کے داعی تھے، جس میں وطنِ عزیز کے باشندے نئے آنے والے دور کے مسائل کو بھی حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ان کی دور اندیشی اور مستقبل بینی کا اندازہ اس خط سے لگایا جاسکتا ہے، جو انھوں نے مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب قاسمیؒ کو لکھا، جس میں کہا گیا کہ: ’’دارالعلوم دیو بند نے گزشتہ 70 برس میں دین کو اتنا پڑھا دیا ہے کہ ہندوستان میں دین اگلے 100 برسوں کے لیے ان شاء اللہ محفوظ ہو گیا ہے۔ میری ادنیٰ رائے یہ ہے کہ اب آپ اس دار العلوم کو ٹیکنکل یونیورسٹی میں تبدیل کر دیں، اور یہ کام آپ بہ خوبی کر سکتے ہیں۔ دنیا کو سائنس کی تباہ کاریوںسے محفوظ و مامون دیکھنے کی خواہش کی تکمیل اس بات کی متقاضی ہے کہ ہمارے علمائے کرام دین کے ساتھ ساتھ سائنس کی ترقیات سے مثبت رُخ پر ایک عالَم کو مستفیض فرمائیں۔ اگر ایسا نہ کیا تو میں دیکھ رہا ہوں کہ آئندہ 50 برسوںمیں مسلمان حکومتیں پے بہ پے شکست سے دو چار ہوں گی۔ عام مسلمان اسے اپنے اعمال کی سزا گردانے گا، تاہم یہ ہزیمت سائنس سے عدم واقفیت کے سبب ہو گی‘‘۔ امامُ الہند مولانا ابو الکلام آزادؒ کی یہ رائے تھی مولانا انصاریؒ جیسے ذہین انسان کی وطنِ عزیز کو اشد ضرورت ہے، اس لیے انھیں واپس بلا لیا جائے، لیکن حریت و آزادی کی خاطر 31 سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے یہ عظیم رہنما 11؍ جنوری 1946ء کو جلال آباد (افغانستان) میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 
 

11 / 12

سونے کی چڑیا اور مغل حکمران

سونے کی چڑیا اور مغل حکمران

ایک دور تھا جب متحدہ ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان شروع دن سے ہی سونے کی چڑیا تھا، یا اِسے باقاعدہ سونے کی چڑیا بنایا گیا تھا؟ کیا مغلوں سے پہلے بھی ہندوستان سونے کی چڑیا تھا؟ یا اسے سونے کی چڑیا بنانے میں دریائے آمو کے اُس پار سے آنے والے مغلوں کا بھی کوئی کردار تھا؟ آئیے! حقائق تک پہنچنے کے لیے دنیا کے نامور محققین اور مؤرخین کی کتابیں کھنگالتے ہیں۔ 
مثال کے طور پر ڈاکٹر کارل جے شیمتھ کو ہی لے لیں۔ ڈاکٹر کارل امریکا کی سب سے قدیم جامعہ ساؤتھ ڈکوٹا یونیورسٹی میں علمِ تاریخ اور سیاسیات کے استاد، تاریخ دان اور محقق ہیں۔ڈاکٹر کارل نے اپنی کتاب ’’این اٹلس اینڈ سروے آف ساؤتھ ایشین ہسٹری‘‘ میں اُن لوگوں کو بالخصوص آڑے ہاتھوں لیا ہے، جو مغل شہنشاہوں اور مغلیہ سلطنت کا مذاق اُڑاتے نہیں تھکتے۔ اپنی کتاب کے صفحہ 45 پر ڈاکٹر کارل نے لکھا ہے کہ: ’’سترہویں صدی میں مغلوں کے دور میں ہندوستان کی معیشت دنیا کی ایک بڑی معیشت تھی، جس کی وجہ سے ہندوستان دنیا کا خوش حال ترین خطہ تھا‘‘۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اینگس میڈیسن نے ’’عالمی معیشت اور تاریخی اعداد و شمار‘‘ کے نام سے اپنی تحقیقی کاوش کے صفحہ 256 پر دیے گئے جدول میں بتایا ہے کہ: ’’سترہویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کی جی ڈی پی یعنی مجموعی ملکی پیداوار چین کی منگ سلطنت کے بعد دوسرے نمبر پر آتی تھی۔ اس وقت دنیا کی مجموعی پیداوار کا 22 فی صد ہندوستان میں پیدا ہوتا تھا اور یہ مجموعی ملکی پیداوار سارے یورپ کی مجموعی جی ڈی پی سے زیادہ تھی۔ سترہویں صدی کے اختتام تک یعنی اورنگزیب عالمگیر کے دور میں یہ جی ڈی پی 24 فی صد سے زیادہ ہوچکی تھی، جو کہ چین اور سارے یورپ کی مجموعی جی ڈی پی سے بھی زیادہ تھی‘‘۔ یہی وہ دور تھا، جب اہل مغرب نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہنا شروع کیا اور پھر اچھے مستقبل کی تلاش میں باقاعدہ ہندوستان کا رخ کرلیا۔ 
’’یورپ کیوں امیر ہوا؟ اور ایشیا امیر کیوں نہ ہوسکا؟‘‘ کے نام سے بوسٹن کالج کے پروفیسر ڈاکٹر پراسنان پراتھا سراتھی لکھتے ہیں کہ ’’مغل دور میں ہندوستان مینوفیکچرنگ کے شعبے میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتا تھا‘‘۔ اِسی طرح ہارورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر جیفری گیل ولیم سن نے ’’اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہندوستان میں صنعتی انحطاط‘‘ نامی اپنی تحقیقی کاوش میں بتایا ہے کہ: ’’مغل دور میں ساری دنیا کی 25 فی صد مینوفیکچرنگ صرف ہندوستان میں ہورہی تھیں‘‘۔      
ڈاکٹر اینگس میڈیسن نے ’’عالمی معیشت اور تاریخی اعداد و شمار‘‘ میں مزید لکھا کہ ’’مغل دور میں ہندوستان کی مجموعی ملکی پیداوار میں جس برق رفتاری سے اضافہ ہوا، اس کی مغلوں سے پہلے کے ہندوستان کی چار ہزار سالہ تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی! مغل دور کے پہلے دو سو سالہ دور میں ہونے والی ترقی ہندوستان کی معلوم تاریخ کی چار ہزار سالہ تاریخ کی ترقی سے سو گنا زیادہ تھی‘‘۔ اسی طرح ڈچ مؤرخ لیکس ہیرما وین واس نے ’’متحدہ ہندوستان کے ٹیکسٹائل یعنی کپڑے کی برآمدکنندگان اور گلوبلائزیشن‘‘ کے عنوان سے اپنی کتاب میں مغل دور کی معیشت کو جدید صنعتی دور کی اساس قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے صنعتی انقلاب سے پہلے یورپ انقلاب کی بنیادیں استوار کرچکا تھا‘‘۔
اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ہندوستان بلاشبہ سونے کی چڑیا بن چکا تھا، لیکن یہ سب کچھ ایسے ہی خود بہ خود نہیں ہوگیا تھا، بلکہ اس کے لیے مغلوں نے مضبوط بنیادیں فراہم کردی تھیں۔ جنوبی کیرولینا کی ڈیوک یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد اور امورِ مغلیہ کے معروف عالم جان ایف رچرڈز نے اس کی تفصیل اپنی تحقیقی کاوش ’’دی مغل ایمپائر‘‘ میں رقم کی ہے۔ جان ایف رچرڈز کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنانے کے لیے مغلوں نے تین بنیادی کام کیے: اوّل سلطنت کے اندر شاہراہوں کا جال بچھایا گیا۔ مختلف علاقوں کو آپس میں پختہ سڑکوں سے ایسے ملادیا گیا کہ دہلی سے سلطنت کے کسی بھی حصے تک محض دو دن پہنچا جاسکتا تھا۔ دوسرا کام یہ کیا گیا کہ ملک میں ایک یکساں کرنسی رائج کی گئی اور سابق بیرونی حکمرانوں کی طرح درہم یا دینار رائج کرنے کی بجائے تجارت اور لین دین کے لیے مقامی کرنسی ’’روپیہ‘‘ کو رائج کیا گیا۔ اس سے روپے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ معیشت کومضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں بھی بہت مدد ملی۔ جب کہ تیسرا اور سب سے اہم کام سارے ہندوستان کو متحد کرنا تھا‘‘۔
عالمگیر کے دور میں جب سارا ہندوستان تاجِ مغلیہ کے زیرنگیں آگیا تو ہندوستان حقیقت میں سونے کی چڑیا بن چکا تھا، جس کے بعد مغربی ممالک اپنی قسمت آزمانے کے لیے دھڑادھڑ ہندوستان پہنچنا شروع ہوگئے۔ ڈاکٹر کارل جے شیمتھ نے بھی اپنی کتاب میں جان ایف رچرڈز کی تائید کی ہے۔ ڈاکٹر کارل رقم طراز ہیں کہ ’’مغلوں نے دنیا کا پہلا پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ہندوستان میں قائم کیا، جس کا مقصد ہندوستان میں سڑکیں اور شاہراہیں تعمیر کے منصوبے تیار کرنا، شاہراہیں تعمیر کرنا اور بعد از تعمیر اِن سڑکوں کی مکمل دیکھ بھال اور باقاعدگی سے مرمت کرنا تھا۔مغل دور میں ہندوستان کا کوئی شہر یا قصبہ ایسا نہیں تھا، جو سڑکوں کے ذریعے اپنے اِردگرد کے شہروں اور قصبات کے ساتھ نہ ملا ہوا ہو۔ سڑکوں کی تعمیر کا مقصد تجارت میں آسانی، روانی اور تیزی لانا تھا ‘‘۔ 
گرینڈ ٹرنک روڈ کا بنیادی منصوبہ بابر کے دور میں بنا۔ شیر شاہ سوری نے اس پر عمل کیا اور بعد میں مغلوں نے جی ٹی روڈ کو اس دور کی ’’موٹروے‘‘ کے مطابق بنایا۔ یہی حال ملک میں بنائی جانے والی دوسری سڑکوں اور شاہراہوں کا بھی تھا۔ مغلوں نے متحدہ ہندوستان کو جن بنیادوں پر دنیا کی مضبوط، بڑی اور بہترین معیشت کے قالب میں ڈھالا، وہ کسی بھی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی اجزا اور عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ مغل سلطنت کے بنیادی اصول موجودہ پاکستان کو دنیا کی بہترین معیشت بنانے کے لیے آج بھی اُسی طرح قابلِ عمل ہیں۔ پاکستان میں مغل بادشاہوں کا مذاق تو بہت اُڑایا جاتا ہے، لیکن مغلیہ سلطنت میں جس طرح ہندوستان کی امارت اور ترقی و خوش حالی کو دیکھ کر اہلِ مغرب کی آنکھیں خیرہ ہوئی تھیں، وہ بھی ایسی ہی حقیقت ہے، جس سے صَرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اس تحریر کا مقصد وہ حقائق سامنے لانا ہے، جن کا اعتراف مکمل غیرجانب دار محققین نے اپنی کتب میں کیا ہے۔ ہندوستان بجاطور پر مغل دور میں سونے کی چڑیا بنا اور یہ کام مغلوں نے کیا، لیکن صرف اپنے لیے نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کے لیے، حتیٰ کہ غیر ہندوستانیوں کے لیے بھی۔ یہ سونے کی چڑیا آنے والی دو صدیوں میں کس طرح زوال اور انحطاط کا شکار ہوئی، آئندہ تحریروں میں اس پر بات ہوگی، فی الحال اس تحریر کا مقصد یہ بتانا بھی ہے کہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی کہانی بہت رفتہ بھی نہیں ہے، بلکہ یہ ابھی کل کے متحدہ ہندوستان کی بات ہے! ہمارا یہ روشن ماضی اتنا قدیم بھی نہیں ہے جسے چھوا نہ جاسکے! یہ ماضی بعید نہیں ماضی قریب کی ہی کہانی ہے! اور بالکل سچی کہانی ہے، جس کا اعتراف مخالفین بھی کرنے پر مجبور ہیں!
ا

12 / 12

تقریب ِتکمیل صحیح بخاری شریف

تقریب ِتکمیل صحیح بخاری شریف

ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں ہرسال دورۂ حدیث شریف کی کلاس ہوتی ہے۔ اس کلاس میں صحیح بخاری شریف کا درس ہوتا ہے۔ امسال حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ جانشین حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ نے اس کتاب کا درس دیا ہے۔ 
سال کے اختتام پر ادارہ رحیمیہ لاہور میں ’’صحیح بخاری شریف‘‘ کی تقریب ِتکمیل 
مؤرخہ:  14؍ مارچ 2021ء  /  ۲۹؍ رجب المرجب ۱۴۴۲ھ 
بروز: اتوار      بوقت: صبح 11 بجے 
منعقد ہوگی۔ جس میں حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن، حضرت مولانا مفتی عبدالمتین نعمانی، حضرت مولانامفتی عبدالقدیر مدظلہم (مجازین حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ) کے بیانات ہوں گے۔ نیز حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ صحیح بخاری شریف کی تکمیل کرائیں گے۔ تمام احباب سے اس بابرکت تقریب میں شرکت کے لیے التماس ہے۔ 
https://rahimia.org/events/takmeel-sahi-bukhari-shareef

End of issue

Back