احکام ومسائل قربانی و عیدالاضحی

1۔ ہر ایسے مسلمان عاقل، بالغ مرد و عورت پر قربانی کرنا واجب ہے، جو عیدالاضحی کے دن مقیم ہو اور صاحب ِنصاب‘ یعنی شریعت کی مقرر کردہ مال کی مقدار کا مالک ہو۔
2۔ صاحبِ نصاب وہ آدمی ہے، جس کے پاس شرعی نصاب: (الف) ساڑھے سات تولہ خالص سونا، یا اُس کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد مال ہو۔ (ب) یا ساڑھے باون تولہ (52.5) خالص چاندی کا مالک ہو۔
3۔ اس مال کی ملکیت پر پورا سال گزرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر۱۰؍ ذی الحج کی صبح صادق سے لے کر۱۲؍ ذی الحج کے غروبِ آفتاب تک کے تین دنوں میں اتنے مال کا مالک بن گیا تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔
4۔ گھر میںموجود تمام افراد الگ الگ نصاب کے بقدر مالک ہوں تو ہر ایک پر علاحدہ سے قربانی کرنا واجب ہے۔ صرف گھر کے سربراہ کی طرف سے قربانی کر دینا سب کے لیے کافی نہ ہوگا۔
5۔ قربانی فقط اپنی طرف سے کرنا واجب ہے۔ بیوی اور اولاد کی طرف سے واجب نہیں، بلکہ اگر نابالغ اولاد مال دار بھی ہو، تب بھی اس کی طرف سے قربانی کی جائے تو وہ نفل ہوگی، لیکن اس کے مال میں سے قربانی کرنا ہر گز جائز نہیں۔
6۔ فقیر، محتاج اور مسافر پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے۔
7۔ ایسا قرض دار کہ اس کے پاس موجود مال کے عوض اس کا قرض ادا کیا جاسکتا ہو، اس پر بھی قربانی واجب نہیں ہے، لیکن اگر قربانی کر لے تو ہو جائے گی۔
8۔ جس نے قربانی کرنے کی نذر مانی پھر وہ کام ہوگیا جس کی نذر مانی تھی تو اب قربانی کرنا واجب ہے، خواہ وہ مال دار ہو یا نہ ہو۔
قربانی کے جانوروں سے متعلق مسائل
1۔ شرعی طور پر درجِ ذیل عمروں کے صرف یہی جانور قربانی کے لیے مقرر ہیں:
ان کے علاوہ کسی دوسرے جانور کی قربانی درست نہیں، البتہ اگر بھیڑ، یا دُنبہ چھ ماہ سے بڑا اور سال بھر سے کم کا ہو، لیکن موٹا تازہ اتنا ہو کہ سال والے جانوروں میں چھوڑ دیا جائے تو فرق محسوس نہ ہو، تو اس کی قربانی بھی ہوسکتی ہے۔
2۔ گائے، بھینس اور اونٹ میں اگر سات آدمی شریک ہو کر قربانی کر لیں تو بھی درست ہے، لیکن شرط یہ کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو۔ اور اس کی نیت قربانی کرنے کی یاعقیقہ کی ہو۔ اگر کسی ایک حصے دار کی نیت صرف گوشت کھانے کی ہو یا تجارت کی ہو تو کسی حصے دار کی بھی قربانی درست نہ ہوگی۔
3۔ چھوٹے جانور؛ بھیڑ، بکری، وغیرہ میں کئی آدمی شریک نہیں ہوسکتے، بلکہ ایک شخص کی جانب سے صرف ایک ہی جانور قربان ہوسکتا ہے۔
4۔ اگر گائے، بھینس، اونٹ میں سات آدمیوں سے کم شریک ہوئے، مثلاً پانچ آدمی یا چھے آدمی شریک ہوئے اور کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہیں، تب سب کی قربانی درست ہے۔ اور اگر آٹھ آدمی شریک ہوگئے تو کسی کی قربانی صحیح نہیں ہوئی۔
5۔ اگر کسی آدمی پر قربانی واجب ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے نے اس کا حصہ گائے وغیرہ میں رکھ دیا تو کسی کی قربانی جائز نہ ہوگی، البتہ اگر نفلی ہو تو جائز ہوگی۔
6۔ سات آدمی گائے میں شریک ہوئے تو گوشت کے سات حصے بناتے وقت اندازے سے تقسیم نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اچھی طرح ٹھیک تول کر تقسیم کرنا چاہیے۔ اگر کوئی حصہ زیادہ یاکم رہا تو سود ہوجائے گا اور گناہ ہوگا۔
7۔ قربانی کا جانور صحیح اور بغیر کسی جسمانی عیب کے ہونا چاہیے۔ لہٰذا ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، جن میں درج ذیل عیب یا خرابیاں ہوں:
۱۔اندھا یا کانا ہو۔
۲۔بہت بیمار، بہت دُبلا پتلا، جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔
۳۔اتنا لنگڑا کہ صرف تین پائوں پر چلتا ہو، چوتھے پائوں سے چل نہ سکتا ہو۔
۴۔تمام یا اکثر دانت گر گئے ہوں یا سرے سے دانت ہی نہ ہوں۔
۵۔پیدائشی کان ہی نہ ہوں یا کان تو ہوں، لیکن اکثر حصہ کٹا ہوا ہو (البتہ اُس جانور جسکے کان تو ہیں، لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں تو اس کی قربانی جائز ہے)
۶۔ مادہ جانور کے تھن بالکل نہ ہوں یا دوائی وغیرہ لگا کر خشک کر دیے گئے ہوں۔بھیڑ، بکری کا صرف ایک تھن ہو۔ گائے، بھینس اور اونٹنی کے صرف دو تھن ہوں۔
۷۔ جس جانور کا سینگ جڑ سے اُکھڑ گیاہو (البتہ جس جانور کے پیدائشی ہی سینگنہ تھے یا سینگ تھے اور ٹوٹ گئے تو اس کی قربانی جائز ہے)۔
۸۔ جانور خنثیٰ ہو، یعنی اُس کے نر یا مادہ ہونے کا پتہ نہ چلتاہو۔
قربانی کرنے کے ایام اور اوقات
1۔ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ سے لے کر بارھویں تاریخ کے شام (غروب آفتاب) تک قربانی کرنے کا وقت ہے۔ جس دن چاہے قربانی کرے لیکن بہترین دن دسویں تاریخ کا دن ہے۔ پھر گیارھویں تاریخ اور پھر بارھویں تاریخ ہے۔
2۔ نماز ِعیدالاضحی ہونے سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ہے۔ جب لوگ نماز ِعید الاضحی پڑھ لیں، تب قربانی کرنی چاہیے۔
3۔ قربانی کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ یکم ذوالحجہ سے لے کر قربانی سے فارغ ہونے تک حجامت نہ بنوائے تاکہ حاجیوں سے مشابہت ہوجائے۔
ذبح اور گوشت سے متعلق مسائل
1۔ اپنی قربانی کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہتر ہے۔ اگر خود ذبح کرنا نہ جانتا ہو تو ذبح کے وقت سامنے کھڑ اہونا بہتر ہے۔ اگر خود ذبح نہ کرے یا ذبح کے وقت سامنے نہ کھڑا ہو تو قربانی کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ ہوگی۔
2۔ قربانی کا گوشت خود کھائے، اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کرے اور فقیروں اور محتاجوں کو خیرات کر دے سب جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کم ا زکم ایک تہائی حصہ خیرات کرے۔
3۔ قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا بھی جائز ہے۔
4۔ نذر کی وَجہ سے واجب ہونے والی قربانی کا سارا گوشت فقیروں اور محتاجوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے ، نہ خو د کھائے نہ امیروں کو دے۔
5۔ قربانی کی کھال یا اس کی قیمت یا گوشت چربی / چھیچھڑے وغیرہ قصاب کو ذبح کرنے اور کھال اُتارنے کے عوض دینا جائز نہیں ہے۔
6۔ قربانی کی کھال، جانور کے گلے کی رسّی وغیرہ سب چیزیں اللہ کے راستے میں خیرات کرنا چاہیے۔اگر یہ چیزیں فروخت کر دیں تو ان کی قیمت خیرات کرنا لازم ہے، البتہ قربانی کی کھال اگر خود استعمال کرے، مثلاًجائے نماز بنا لے تو جائز ہے۔
تکبیر تشریق کے احکام
1۔ عرفہ یعنی نو ذوالحجہ سے تیرہ ذوالحجہ تک پانچ دن ’’ایام تشریق‘‘ کہلاتے ہیں۔ ان ایام میں با جماعت اد اکی جانے والی ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ایک مرتبہ تکبیرِ تشریق کہنا واجب ہے۔ تکبیرِ تشریق یہ ہے: ’’اَللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَرلَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَر وَلِلّٰہِ الْحَمْد‘‘ البتہ عورتیںیہ تکبیر آہستہ آواز سے پڑھیں۔
2۔ ۹؍ ذوالحجہ کی نماز فجر سے لے کر۱۳ذوالحجہ کی نماز ِعصر تک ہر فرض نماز کے بعد یہ تکبیرات کہی جائیں گی۔ یہ کل 23 نمازیں ہوئیں۔
3۔ نمار کے فوراً بعد تکبیرات کہنی چاہئیں۔ اگر امام تکبیر کہنا بھول جائے تو مقتدیوں کو چاہیے کہ فوراً تکبیر کہہ دیں۔ یہ انتظار نہ کریںکہ جب امام کہے، تب کہیں۔
4۔ نماز ِعید الاضحی کے لیے گھر سے نکلیں تو راستے میں بلند آواز سے تکبیرِ تشریق کہنی چاہیے۔
5۔ نماز ِعید الاضحی کے بعد بھی تکبیرِ تشریق کہنا بعض ائمہ کے نزدیک واجب ہے۔
عید الاضحیٰ کے احکام و مسائل
1۔ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ عید الاضحی ہے۔ جس مسلمان پر جمعۃ المبارک کی نماز پڑھنا واجب ہے، عید الاضحی کے دن اس پر جماعت کے ساتھ دو رکعت نمازِ عیدالاضحی بطورِ شکریہ کے پڑھنا واجب ہے۔
2۔ عید الاضحی کے دن درجِ ذیل اعمال مسنون اور مستحب ہیں:
۱۔ صبح کو بہت سویرے اٹھنا۔ ۲۔ شریعت کے مطابق اپنی آرائش کرنا۔
۳۔ غسل کرنا۔
۴۔ مسواک کرنا۔
۵۔ عمدہ سے عمدہ کپڑے، جو پاس موجود ہوں، پہننا۔
۶۔ خوشبو لگانا۔
۷۔ عید کی نماز سے پہلے کوئی چیز نہ کھانا۔
۸۔ عید گاہ میں عید کی نماز پڑھنا۔
۹۔ عید گاہ صبح سویرے جانا۔
۱۰۔ عید الاضحی کی نماز اوّل وقت پڑھنا۔
۱۱۔ عید گاہ جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیر تشریق، یعنی:’’اَللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُاَکْبَرلَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَر وَلِلّٰہِ الْحَمْد‘‘کہنا۔
۱۲۔ عیدگاہ کی طرف پیدل جانا۔
۱۳۔ دوسرے راستے سے واپس گھر آنا۔
3۔ جہاں نماز ِعید پڑھی جائے، وہاں اس دن اور کوئی نما زپڑھنا مکروہ ہے، نماز ِعید سے پہلے بھی اورنماز ِعید کے بعد بھی۔ ہاں نماز ِعید کے بعد گھر آکر نفل نماز پڑھنا مکروہ نہیں اور نماز ِعید سے پہلے گھر میں بھی نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
4۔ عورتیں اور جو لوگ کسی وَجہ سے نماز عید نہ پڑھیں، ان کا نماز عید سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
5۔ ایک شہر میں عیدین کی نماز بالاتفاق متعدد جگہوں پر جائز ہے۔
نماز ِعید الاضحیٰ کا طریقۂ کار اور اس سے متعلق مسائل
1۔ سب سے پہلے نیت کرے کہ: ’’دو رکعت واجب نماز عید الاضحی چھ واجب تکبیروں کے ساتھ ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہوں۔‘‘ نماز کی ادائیگی کا طریقۂ کار یہ ہے:
پہلی رکعت: تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ لے۔ امام اور مقتدی سبحانک اللّٰھم آخر تک پڑھیں۔ اس کے بعدامام تین مرتبہ اللّٰہ اکبر کہہ کر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور ہاتھ چھوڑ دے۔ آخری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لے۔ مقتدی بھی اس کی اقتدا کریں۔ اس طرح تین تکبیرات ادا کی جائیں گی۔ہر دو تکبیروں کے درمیان اتنا وقفہ ضروری ہے کہ تین مرتبہ سبحان اللّٰہ کہہ لے۔ اس کے بعد دیگر نمازوں کی طرح سورتِ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھی جائے اور رکوع و سجود کیے جائیں۔
دوسری رکعت: امام پہلے قرأت کرے گا، اس کے بعد پہلی رکعت کی طرح تین تکبیراتِ زائدہ ادا کی جائیں۔ ہر دفعہ کانوں تک ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دیے جائیں۔ آخری تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑے ہوئے ہی رکوع کی تکبیر کہہ کر رکو ع میں جائیں اور سجدوں کے بعد حسب ِمعمول تشہد پڑھ کر نماز مکمل کریں۔
2۔ نماز عید الاضحی کے بعد امام دو خطبے پڑھے گا۔ خطبہ پڑھنا سنت ہے اور خطبہ سننا واجب ہے، یعنی اس وقت بولنا، چلنا پھرنا اور نماز پڑھنا وغیرہ سب ناجائز ہے۔
3۔ اگر کسی کو عید کی نماز نہ ملی ہو اور سب لوگ پڑ ھ چکے ہوں تو وہ شخص تنہا نماز ِعید نہیںپڑھ سکتا۔ اس لیے کہ نماز ِعید میں جماعت شرط ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص نماز ِعید میں شریک ہوا، پھر کسی وَجہ سے اس کی نماز فاسد ہوگئی ہو تو وہ بھی اس کی قضا نہیں پڑھ سکتا، نہ اس پر قضا واجب ہے۔ البتہ اگر فاسد ہونے والی نماز میں کچھ اَور لوگ بھی شریک ہیں تو پھر اُن کے لیے جماعت سے پڑھنا واجب ہے۔
عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت

۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! یہ عید الاضحی کا بہت ہی مبارک دن ہے۔ اس کا شمار دینِ اسلام کی تاریخ میں عظیم ترین دنوں میں ہوتا ہے۔ اس دن کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جدوجہد سے ہوتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کل انسانیت کے امام ہیں۔ اُن کی امامتِ انسانی کے تقاضوں اور اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کا سب سے پہلا اظہار اسی عظیم ترین دن میں ہوا ہے، جسے یَومُ النَّحَر (قربانی کا دن) کہا جاتا ہے۔ اس دن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپؑ کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے قربانی کی لازوال مثال رقم کی ہے۔
یہ دن مسلمانوں میں اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صدقِ قلب اور خلوصِ نیت کو سمجھا جائے۔ اُس کی اتباع کے لیے مسلمان جماعت تیار کی جائے۔ مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر، اپنے محلے کی مسجدیں چھوڑ کر، بلکہ اپنی جامع مسجد بھی چھوڑ کر باہر کھلے میدان کے اندر اجتماعِ عام کریں۔ مسلمانوں کی عظمت کی ابتدائی تاریخ جس سے اپنے نظریے کا خلوص اور اُس نظریے اور فکر کے مطابق کام کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، اس کا اظہار کریں۔ یہ کوئی رسمی عید نہیں ہے، بلکہ اس عید کا مطلب اپنے فکر اور نظریے کی یادداشت ہے۔ ہر سال جو نئے بچے ہوش کے دائرے میں قدم رکھتے ہیں، بلوغ اور شعور کی منزل کو پہنچتے ہیں، وہ اس دینِ متین کے بانی ابراہیمی ملت کی عظیم شخصیت، اُن کے عمل اور کردار کو دیکھیں، سمجھیں اور عمل کریں۔ جانور قربان کرنے کا عمل اور اس حوالے سے اس کی تاریخ سے آگہی حاصل کریں۔ جو قوم اپنی قومی اور ملّی تاریخ سے آگاہ نہیں ہوتی، وہ کبھی بھی اپنی شناخت قائم نہیں کرسکتی۔ اپنی عزت اور ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی۔ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں، جو اپنے نظریے کا تاریخی تسلسل سمجھتی ہوں۔ اپنی تاریخ سے واقف ہوں۔ اپنے بنیادی فکر و عمل کو عملی طور پر انسانیت کے سامنے رکھنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہوں۔
پھر قربانی محض یہ نہیں ہے کہ اللہ کے راستے میں پیسے خرچ کردیے جائیں۔ آج کل کا سب سے بڑا فتنہ یہ بھی ہے کہ جی بس جانور ذبح کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ محض رقم اللہ کی راہ میں دینے، محتاجوں اور غریبوں کے لیے صدقہ اور خیرات کیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات الگ سے ایک مد ہے کہ مالی قربانی آپ نے ادا کرنی ہے۔ اس کے لیے تو زکوٰۃ ہے، صدقہ اور خیرات ہے۔ عیدالاضحی کے روز تو دراصل اپنی حیوانیت اور بہیمیت __ جو سرمایہ پرستی کے حیوانی اور نفسانی تقاضے دل کے اندر اُبھارتی ہے __ پر جانور کو ذبح کرتے ہوئے چھری پھیرنا ہے‘‘۔
قربانی کے لیے حلال جانور قرار دینے کی حکمت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ انسان جو حیوان بن چکا ہو، اسے اپنی حیوانیت خود ہی ذبح کرنی چاہیے۔ لیکن اللہ نے یہ کرم کیا کہ اُس کی جگہ پر آپ کے مال سے خریدا ہوا وہ جانور، جو دراصل انسانی حیوانیت کی شکل اور تمثیل ہے، اُس کو اللہ کے راستے میں، اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ قربانی کے لیے جانور بھی ایسا ہونا ضروری کہ جس میں کچھ مَلَکِیّت کے آثار پائے جاتے ہوں۔ ایسے جانور ذبح کرنے کا نہیں کہا گیا کہ جو ایسی خالص حیوانیت رکھتے ہیں، جن میں انسانیت کی نسبت سے کوئی اچھائی کے آثار نہیں ہیں۔ یہ جو قرآنی اصطلاح کے مطابق ’’ثمانیۃ اَزواج‘‘ (الانعام: 143) نر اور مادہ آٹھ جانور، چار نسلیں (بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے) ہیں، اللہ نے انھیں حلال قرار دیا ہے، یہ سب دراصل وہ تمام جانور ہیں، جن میں مَلَکِیّت کا کچھ نہ کچھ حصہ موجود ہے کہ انھیں اللہ پاک نے انسان کے رزق کے لیے اوپر سے نازل کیا ہے (الزُّمر: 6)۔
ورنہ وہ تمام جانور جو خالصتاً ارضی اور حیوانی ہیں، وہ تو انسان کی صحت کے لیے مضر ہیں۔ شیر ہو یا چیتا جتنے بھی درندے ہیں، بھیڑیا اور دیگر نوچ کر کھانے والے جتنے بھی جانور ہیں، انسانیت کی نسبت سے اُن میں کوئی خیر کا پہلو نہیں ہے۔ اس لیے ان کو بطور رزق اور بطور قربانی ذبح کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اُن کو اگر ذبح کریں بھی تو مَلَکِیّت کے ساتھ کوئی رابطہ پیدا نہیں ہوگا۔ مَلَکِیّت کے ساتھ رابطہ انھی جانوروں کے ذریعے ہوگا کہ جن کا ذبح کرنا حلال قرار دیا گیا ہے، وہ انسانیت کی ضرورت ہیں۔ اس کے جسم کی ضرورت ہیں۔ ایسے جانوروں کی روح ایک درجے میں انسان کی روح کے مشابہ ہے۔ انسان کی روحِ حیوانی اور روحِ مَلَکُوتی کے ساتھ ایک گونہ مناسبت رکھتی ہے۔ اس مناسبت کی وجہ سے اس جانور کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے ایسے جانوروں کا گوشت بڑا پاک، پاکیزہ اور بہت ہی بابرکت ہوتا ہے۔
مشائخ اولیاء اللہ کے ہاں قربانی کے گوشت کی ہمیشہ سے بڑی قدر اور عظمت رہی ہے۔ ہمارے حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’یہ قربانی کا گوشت بہت بابرکت ہوتا ہے۔ اس کو سنبھال کر احتیاط کے ساتھ بڑی عظمت کے ساتھ کھانا چاہیے‘‘۔ اس لیے کہ اس جانور نے اللہ کے لیے اپنی جان قربان کی ہے۔ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی عظمت اور اُن کے مشن کے غلبے کے لیے اپنی جان کو سپرد کیا ہے۔ اس لیے قربانی کا گوشت انتہائی بابرکت، بہت ہی عظمت والا، بہت ہی اہمیت والا ہے۔ یہی جانور اگر عام دنوں میں اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے، تب بھی پاکیزہ ہے، لیکن ایسے خاص دن میں، جس میں ابراہیم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک انبیا علیہم السلام کی ہمتیں، اُن کی جرأتیں، اُن کے عزائم، اُن کے ارادے، اُن کی نسبت اس جانور کو حاصل ہے۔ اس سے اس کا گوشت اَور زیادہ متبرک اور عظمت والا بن جاتا ہے‘‘۔
قربانی کے عمل میں دلوں کا تقویٰ مطلوب ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’دین کے تمام اعمال تربیت کے لیے ہیں، رسم نہیں ہیں۔ پانچوں وقت میں ہر وقت کی نماز اُس وقت میں اپنے عزائم کو اور نیت کو درست کرنے، اخلاص اور للہیت کو پیدا کرنے کے لیے ہے۔ ہر سال کے روزے تربیت کے لیے ہیں۔ اسی طرح ہر سال عیدالاضحی کے دن جانور کی قربانی ادا کرنے سے انسان کو اپنی حیوانیت کو ذبح کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے بڑی اَور بات کیا ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ سال بھر میں جو حیوانی تقاضے تمھاری روح کے اندر داخل ہوگئے، تمھارے قلب، عقل اور نفس کے اندر پیوست ہوگئے، آج عیدالاضحی کے موقع پر جانور قربان کرکے اُنھیں دور کرنا ہے۔
اسی لیے نبی اکرم ْﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جب ایک مسلمان عید کے روز جانور ذبح کرتا ہے اور اُس کا خون زمین پر بہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی قربانی کو فوراً قبول کرلیتا ہے۔ اُس خون کے بہانے سے دراصل دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ ضروری ہے کہ قربانی کرنے والے کا یہ عمل خلوصِ نیت کے ساتھ ہو۔ اسی لیے قرآن حکیم میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کو تمھارا یہ ظاہری گوشت اور خون کو مطلوب نہیں ہے۔ تمھارے دلوں کا تقویٰ اور ادب، اخلاص اور للہیت اللہ کو مطلوب ہے‘‘ (الحَجّ: 37) کہ تم کتنے مخلص ہو۔ کتنے مخلصانہ جذبے کے ساتھ تم نے قربانی کی ہے۔ کتنی چاہت اور محبت کے ساتھ کی ہے۔ تم نے اپنی حیوانیت اور بہیمیت پر کتنی طاقت اور قوت سے چھری پھیری ہے۔
جب تم نے خون بہا دیا، نیت کا اخلاص ظاہر ہوگیا اور جانور نے بھی اپنے آپ کو ذبح ہونے کے لیے پیش کردیا اور وہ ذبح ہوگیا۔ اب دونوں کے اخلاص کے نتیجے میں اُس جانور کے گوشت میں وہ برکات آگئیں کہ جن کا مقابلہ کسی دوسرے جانور کا گوشت نہیں کرسکتا۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ یہ گوشت تم انسانوں میں تقسیم کرو، رشتہ داروں میں تقسیم کرو، خود قربانی کرنے والا کھانا چاہے تو اُس کے لیے بھی کھانا جائز قرار دے دیا کہ بابرکت ہے۔ اس لیے برکت کو خود بھی کھاؤ، دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ ورنہ جو خالص صدقہ ہے، یا جو کوئی نذر کا جانور ذبح کیا جاتا ہے، اس میں کوئی مال دار یا ذبح کرنے والا خود نہیں کھا سکتا۔ وہ صرف غریبوں اور یتیموں ہی کو دینا پڑتا ہے۔ لیکن قربانی کے گوشت میں کوئی فرق نہیں ہے کہ مال دار ہے، غریب ہے، یتیم ہے، مسکین ہے، خود ہے، تمام اس بابرکت گوشت کو کھائیں اور انسانیت کے لیے اس کو خرچ کریں۔ اس کے چمڑے کو بھی خود استعمال کرسکتا ہے۔ کسی کو استعمال کے لیے دے سکتا ہے۔ کسی غریب کو دے سکتا ہے۔ اُجرت کے بدلے میں نہ چمڑا دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی گوشت دیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ قصاب نے دراصل تمھاری طرف سے جانور ذبح کرنے کا عمل کیا ہے۔ اُس کی اُجرت علاحدہ سے دینی پڑے گی۔ اس جانور کے گوشت یا اُس کے چمڑے کے ساتھ اُجرت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ احکام اور ہدایات دراصل نیت کو خالص کرنے کے لیے ہیں‘‘۔
قربانی کا عمل اعلیٰ ترین مقاصد کے لیے ٹریننگ ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’قربانی کا عمل غلبہ دین کے اعلیٰ ترین مقاصد کے لیے ٹریننگ ہے۔ ایسا انسان جو خلوصِ نیت کے ساتھ صرف انسانیت کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھتا ہے، اپنی حیوانیت، ذاتی لذات و خواہشات کو انسانیت کی خاطر قربان کردیتا ہے، ایسا فرد جب حکمرانی قائم کرے گا تو عدل و انصاف اور میرٹ پر انسانیت کے لیے فیصلہ کرے گا۔ قومی بیت المال اُس کے سپرد ہوگا تو وہ انسانوں پر خرچ کرے گا، خود اپنے اور اپنے رشتہ داروں کو نوازنے کا کام نہیں کرے گا۔ اُسے کوئی سیاسی عہدہ ملے گا تو اُس عہدے میں وہ خدمتِ انسانیت کے جذبے سے کام کرے گا، نہ یہ کہ اُس عہدے سے ناجائز مفادات حاصل کرے گا۔ گویا قربانی کا جذبہ ایک ایسی ٹریننگ اور تربیت پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں تیار ہونے والی جماعت کُل انسانیت کے مفادات کے لیے کردار ادا کرتی ہے۔ اگر قربانی کے باوجود بدانتظامی ہو، مالی بدعنوانی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قربانی نہیں تھی، وہ رسم تھی۔ وہ قربانی رشوت اور لوٹ مار کے پیسوں سے محض نمود و نمائش کے لیے ہوئی تھی۔
جب سسٹم خراب ہوتا ہے اور لوگ رشوت اور ظلم کے مال سے قربانیاں کرتے ہیں تو وہ قربانیاں کوئی اثر اور نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔ اس لیے اصل چیز ’’تقویٰ القلوب‘‘ ہے۔ دلوں کے تقویٰ کا مقصد حضرات ابراہیم و اسماعیل اور حضرت محمد مصطفی صَلوَاتُ اللّٰہ علیہم اَجمعین کے اُس نظریے کو زندہ کرنا ہے، جس کے ذریعے سے ایسی ’’حزب اللہ‘‘ جماعت تیار ہو، جو دنیا میںلِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(الصّف: 9) کا کردار ادا کرے۔ سچے اور پکے مخلص انسان ہوں اور انسانیت کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے کردار ادا کریں۔
آج ہم قربانی کرنے چلے ہیں تو ہمیں اپنے دلوں کی حالت کو درست کرنا ہے۔ عزائم اور اِرادے صحیح کرنے ہیں۔ نیت ٹھیک کرنی ہے۔ نیت کا فساد ختم کرنا ہے۔ زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ اپنے جانور پر خود اپنے ہاتھ سے چھری پھیریں۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم اپنی آنکھوں کے سامنے جانور ذبح کرائیں، تاکہ اُس کے ذریعے سے وہ کیفیت اپنے دل میں پیدا کریں کہ اس کے ذریعے سے میری نفسانی خواہشات پر چھری چل رہی ہے۔ اُس کو ذبح کرنے کا عزم اور ارادہ ہو اور اب خالصتاً ایمان کے تقاضے سے، انسانیت کے لیے اور انسانی ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کا عزم اور ارادہ کرے۔ اسی لیے ذبح کے وقت یہ دعا اُسے پڑھنی ہے کہ:اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ(انعام: 79)۔ پھر یہ دعا بھی پڑھے: اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ (انعام: 162) کہ میری نماز، میرا یہ قربانی کا عمل، میرا جینا، میرا مرنا، میری تمام چیزیں خالصتاً اُس اللہ کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا مسلمان بنوں۔ اس عزم، اس ارادے کے ساتھ جب ہم جانور ذبح کریں تو پھر تو اس کے فوائد اور ثمرات ہوں گے۔ اخلاص اور للہیت پیدا ہوگی‘‘۔
ایشیا سے امریکی اِنخلا کا آغاز؛ افغانستان

عالمی اَخبارات کی فراہم کردہ خبریں دنیا میں خبر کا معیار سمجھی جاتی ہیں۔ خطے میں تربیت یافتہ صحافی اور اَخبارات اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ امریکا کی کسی بھی ناکامی کو کامیابی اور بالادستی بنا کر پیش کریں۔ امریکا کی کہی اور کہلوائی گئی ہر بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ معاوضے کی خاطر اسے حقیقت بنا کر پیش کرنا صحافت کی صحت کا معیار بن چکا ہے۔ چوں کہ انھیں اس کام کا بے انتہا معاوضہ ملتا ہے، اس لیے وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں سے اس کام پر مامور صحافت نے خوب مال بنایا۔ بڑی بڑ ی ایمپائر کھڑی کیں۔ صحافیوں کے اس طبقے نے سچائی کے بنیادی تصور کو ہی بدل ڈالا۔ عام مصنوعات کی طرح سچائی بھی ایک کموڈٹی بن چکی ہے۔ جو صحافی جتنے مؤثر انداز سے ان مصنوعا ت کا استعمال کرسکتے ہیں، ویسی ہی قیمت وصول کرتے ہیں۔ رائے عامہ بنانے کے لیے اَخبارات ایسی سوچ کی تشہیرکے لیے منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں۔ ان حالات میں میڈیا بھی غیرپیداواری صنعت کا درجہ حاصل کرچکا ہے ا ور ریاستی بجٹ میں اپنے لیے مخصوص فنڈز مختص کرواتا ہے۔
روس‘ افغانستان میں شکست کھانے کے بعد اپنی کمزوریوں پر غور و فکر کرتا رہا۔ بالآخر اس کے تدارُک کا بندوبست کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ آج وہ ہاری ہوئی جنگ کو جیتنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف امریکا جنگ جیت کر بھی آج سب کچھ ہارچکا ہے۔ کیوں کہ وہ جنگی ٹیکنالوجی میںمات کھا چکا ہے۔ روس کے تحقیقاتی ادارے(Almaz Central Design Bureau of Russia)(المازمرکزی آفس برائے ڈیزائن) نےS-400دفاعی نظام اپریل 2007ء میںتخلیق کر کے روسی فوج کے حوالے کیا تھا۔ عالمی سطح پر بشا رالاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے 2015ء میں پہلی دفعہ روس نے امریکا کے خلاف شام کے محاذ پر اس سے بھی ابتدائی درجے کی ٹیکنالوجی یعنیS-300کا استعمال کیا تھا، جس نے امریکی نام نہاد سپر پاور کی قلعی کھول کے رکھ دی تھی۔ روس نے محض اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ساتھ ہی دفاعی میزائل کا مزید ترقی یافتہ ورژنS-500کو 2021ء تک متعارف کروانے کا بھی اعلان کردیا۔ دنیا میں جنگ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر لڑی اور جیتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس آج میدانِ سیاست کی بازیاں اپنے حق میں بدلتا جارہا ہے۔
امریکا نے اپنی بالادستی کے عہد میں جاپان پر ایٹم بم، فلسطین پر اسرائیل، ویت نام پر دہشت گردی، افغانستان کو تاراج کرنے، عراق کی تباہی، لیبیا کے سماجی ڈھانچے کو مسمارکرنے، شام میں قتل غارت گری اور یمن میں عدمِ استحکام پیدا کرکے جو مقاصد حاصل کیے تھے، آج وہ اس سے کئی گنا زیادہ کھو چکا ہے۔ امریکا اور اس کے تھنک ٹینکس جس طرح ماضی کے مزار بنے ہوئے ہیں، اسی طرح اس کے لکھاری بھی ماضی میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ وہ آج بھی دنیا کو یہ تأثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر امریکا افغانستان سے نکل گیا تو علاقہ جنگ و جدل کا شکار ہوجائے گا۔ گویا افغانستان میں امریکی موجودگی امن کی علامت ہے۔ حال آں کہ امریکا کا افغانستان سے بھاگنا ہی اس کی جنگی ٹیکنالوجی کی شکست ہے۔ گزشتہ ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکا جہاں اپنا تسلط مسلط کرتا ہے، اس کے ارد گرد خوف کی دیواریں کھڑی کرتا ہے۔ خوف پیدا کرنے کے لیے دہشت گردی، قتل و غارت، انتہا پسندی جیسے عفریت میدان میں اتارے جاتے ہیں، جو اس کی حکمتِ عملی کا لازمی تقاضا ہیں۔ تاریخ کا ایک ایسا عہد جس میں درج ذیل اِقدامات اختیارکیے گئے؛ امریکا اور طالبان کے درمیان پہلا ’’معاہدہ برائے امن‘‘ فروری 2020ء، جس کے نکات میں فوج کی واپسی، قیدیوں کا تبادلہ اور علاقے کو تشدد سے پاک بنانا۔ دوسرا معاہدہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان 12؍ ستمبر2020ء کو دوحہـ،قطر،جسے’’انٹرااَفغانڈائیلاگ‘‘ کا نام دیا گیا، جس میں افغان فریقین کے مابین ملک چلانے کے معا ملات وغیرہ، یہ سب واقعات تاریخ میں گم ہونے جارہے ہیں۔ کیوں کہ ان کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ہے۔ یہ محض التو اکے ہتھکنڈے تھے، جو آج غیرمؤثر ہوچکے ہیں۔
افغانستان سے باہر چار بڑے پلیئرز ہیں، جو اِنخلا کے عمل پر اثر انداز ہوں گے۔ سارے پلیئرز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ امریکا انتقالِ اقتدار کی ذمہ داری صرف پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق روس، چین اور انڈیا کے مقابلے میں وہی اس کی اتباع اختیار کرسکتا ہے۔ پاکستان گزشتہ پچاس برس سے افغانستان کے علاوہ عالمی معاملات میں اس کا شریکِ سفر رہا ہے: پہلی افغان وار ہویا دوسری جنگ، طالبان کا اقتدار، امریکی قبضہ، القاعدہ، متحارب گروپوں میں مذاکرات وغیرہ۔ اپنے ہی دیے ہوئے اِنخلا کے شیڈول سے روگردانی کرتے ہوئے قبل از وقت واپسی کا اعلان کررہا ہے۔ بگرام ائیر بیس جون کے اختتام تک افغان فورسز کے حوالے کر دی جائے گی۔ جولائی کے وسط تک تما م اڈے خالی کردیے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ مسئلے کی نزاکت کے تناظر میںیہ انتہا ئی عجلت اور لاپرواہی کا فیصلہ ہے، جو کہ غیر ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔ دنیا کے معاشروں کو تباہ برباد کرنا، ان کے سماجی ڈھانچوں کو مسل کے رکھ دینا، انھیں بے یارو مدد گار چھوڑ دینا آج امریکی روِش بن چکی ہے، جو اس کے زوال کی طرف پیش خیمہ ثابت ہونے جارہی ہے۔
امریکا کا اچانک انخلا کا فیصلہ کسی نیک مقصد یا جذبۂ خیر سگالی کا عکاس نہیں، بلکہ حملہ آور ہونے کی استعداد سلب ہونے کے سبب ہے۔ کیوں کہ اس کے تمام ہوائی حملےS-400دفاعی نظام کے باعث غیر مؤثر ہوچکے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس کے حواریوں کے لیے بھی خطر ناک ہے۔ آج وہ سارے حلقے یتیم ہونے جارہے ہیں۔ ایشیائی طاقتوں نے جدید معاشی اقدامات اور سیاسی اتحادوں کے ذریعے دنیا کے رُجحانات کو تبدیل کر دیا ہے۔ چین عالمی سطح پر معاشی غلبے کے لیے ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشییٹو‘‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ گویا ان کے پاس مستقبل میں عالمی غلبے کا مربوط پروگرام موجود ہے، جب کہ دوسری طرف ماسوائے قلاشی کے کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ استعمار کے تمام اتحاد بے وقعت ہوچکے ہیں۔ ترکی نیٹو کا اتحادی ہونے کے ناطے افغانستان میں رُکنے کا تقاضا کررہا تھا، جسے طالبان نے رد کردیا (رائٹر 11؍ جون 2021ء)۔ لہٰذا ان حالات میں امریکا کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنی ساری توجہ متحدہ ریاستوں کے مفادات کی طرف مبذول کرے، ورنہ اس کا اپنا وجود بھی سوویت یونین کی طرح تحلیل ہوجائے گا اور دنیا متحدہ امریکا کا ذکر تاریخ میں تلاش کرے گی۔ کیوں کہ قوموں کے اجتماعی اقدامات اور ان کے حاصل نتائج کا اندرا ج ہی تاریخ کہلاتا ہے۔
معاشی پھیلاؤ کا بجٹ

آمدہ سال حکومت 131 کھرب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خود حکومتی اندازے کے مطابق قریباً 79 کھرب روپے وصول کیے جاسکیں گے۔ باقی رقم اندرونی اور بیرونی قرضوںاور امداد پر مشتمل ہوگی۔ گزشتہ سالوں میں اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی 31 کھرب روپے ہوگی، جس میں 27 کھرب ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں کا ہے۔ اس کے علاوہ 34 کھرب صوبوں کو دے دیا جائے گا۔ 14 کھرب روپے دفاع کو دے دیا جائے تو ملکی آمدنی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کا خرچ 52 کھرب روپے قرض لے کر کیا جائے گا، جس میں قابلِ ذکر اِخراجات میں انتظامیہ 20 کھرب، ترقیاتی اِخراجات 11.4 کھرب، پنشن 5 کھرب، سماجی بہبود 2.5 کھرب، مقامی اَمن و امان 1.8 کھرب، کرونا ویکسین 1 کھرب، تعلیم 0.9 کھرب اور صحت 0.3 کھرب شامل ہے۔ موجودہ حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے۔ اس کی اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک معاشی پھیلاؤ کا بجٹ ہے۔ اس میں حکومت خود اعتمادی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ مقامی پیداواری شعبے کو ٹھوس مراعات دیتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس کے ساتھ ایف بی آر کی طاقت کو انفرادی و صوابدیدی اختیارات سے نکال کر اجتماعی شکل دی جارہی ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی ہدایات پر مِن و عَن عمل نہیں کیا جارہا۔ چناں چہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، تنخواہوں پر مزید ٹیکس اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کی شرائط مان کر بھی اس بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ حکومت کے مطابق قومی معیشت اگلے سال 4.8 فی صد بڑھے گی۔ چناں چہ کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے ٹیکس وصولی بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے وہ اسے ایک اِمکان کے طور پر بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔
اہم بات یہ کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 6.5 کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو اس ٹیکس کو لگایا جاسکتا ہے، جو تیل کی قیمتوں کو بڑھانے کی وجہ بن سکتاہے۔ جو نتیجتاً مہنگائی کو مزیدبڑھائے گا اور آزاد سٹیٹ بینک اس صورت میں سود کی شرح بڑھا سکتا ہے، جو بالآخر مالیاتی خسارے میں مزید اضافے کی وجہ بن سکتا ہے، جس میں پاکستان پہلے سے پھنسا ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکا کو اڈے فراہم نہ کرنے کے حوالے سے دوٹوک اعلان اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی سکیم کی محدود وقتی معطلی اور امریکا کی جانب سے امداد یا خصوصی تجارتی سہولیات کے خاتمے کا امکان خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیوں کہ پاکستانی روپے پر آمدہ سال 65 ارب ڈالر کی درآمدات اور 18 ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی کے دباؤ کی وجہ سے مزید 20 سے 25 ارب ڈالر کے قرض کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے امریکا بہادر کی ضرورت کلیدی ہوگی۔ ایسا لگتا ہے کہ مقامی قوتوں کی آشیرباد اور افغانستان میں پاکستان کا کلیدی کردار وہ پَتّے ہیں جن پر پاکستان حکمتِ عملی بنا رہا ہے، لیکن یہ ایک خطرناک کھیل ہے جس میں ممکن ہے کہ پاکستان سرخرو ہوجائے۔
بنواُمیہ اَندلُس میں

عبدالرحمن الداخل نے اندلس پر نہ صرف عظیم الشان اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی، بلکہ ایک ایسی تہذیب کی بنیاد ڈالی، جو قرونِ وسطیٰ میں دنیا کی معیاری تہذیب کی حیثیت سے تسلیم کی گئی۔ عبدالرحمن الداخل کے بعد ابوالولید ہشام اور ان کے بعد حکم بن ہشام حکمران بنے۔ اور نہایت کامیابی کے ساتھ ملک کا نظم و نسق چلایا۔ ابن خلدونؒ لکھتے ہیں کہ: ’’ہشام کے دورِ حکومت میں بہت سے علاقے فتح ہوئے۔ سلطنت کی ترقی کے کاموں کی وہ خود نگرانی کرتے۔ اس کے پاس چند دیکھنے والی آنکھیں تھیں، جو لوگوں کے حالات سے ان کو مطلع کرتی تھیں۔ اس نے اَندلُس کو اپنے جانشینوں کے لیے اچھی حالت میں چھوڑا‘‘۔ (تاریخ ابن خلدون، ج:4، ص: 125، 127)
ان کے بعد عبدالرحمن ثانی اندلس کے امیر بنے۔ ساحلی ممالک ہونے کی مناسبت سے انھوں نے جہاز سازی کو خاصی ترقی دی۔ سواحلِ اندلس کے بحری ماہرین کو جمع کیا۔ ان کے معاوضوں میں اضافہ کیا۔ سمندری حالات سے آگاہی کے آلات مہیا کیے، جس سے ملکی دفاع مضبوط ہوا۔ اس کے زمانے میں اندلس کا سالانہ خراج 6 لاکھ دینار سے 10 لاکھ دینار تک پہنچ گیا تھا۔
عبدالرحمن ثانی کو علمِ دین، علومِ عقلیہ اور ادب و شعر سے خاصی مناسبت تھی۔ ابن اثیرؒ لکھتے ہیں: وہ ادیب و شاعر تھا۔ علومِ شرعیہ و علومِ فلسفہ کا عالم تھا۔ اس لیے وہ اہلِ علم اور اَربابِ شعر و ادب کی عزت افزائی کرتا اور انھیں عطایا و ہدایات سے نوازتا۔ ان کے عہد میں اندلس میں ممتاز اہلِ علم و فضل جمع تھے، جن سے دینی و عصری علوم کی شمعیں روشن ہوئیں۔ شیخ غازی بن قیسؒ اندلس میں علم کے پروانوں کے لیے شمع کی حیثیت رکھتے تھے۔ قرطبہ میں درس و تدریس کے منصب پر فائز تھے۔ مزید حصولِ علم کے لیے مشرق کا سفر اختیار کیا۔ مدینہ منورہ پہنچے اور امام مالکؒ سے ’’مؤطا‘‘ کی سماعت کی۔ قرأت کے امام نافع بن ابونعیمؒ سے علم قرأت حاصل کیا۔ اندلس کے اہلِ علم میں ان کو دو حیثیتوں سے برتری حاصل ہے: ایک تو یہ کہ ان ہی کے ذریعے ’’مؤطا‘‘ پہلی مرتبہ اندلس میں پہنچی۔ دوسرے یہ کہ امام نافعؒ کی قرأت بھی یہی بزرگ اندلس میں لائے۔
عبدالرحمن ثانی جمالیات سے بھی خاصی دلچسپی رکھتے تھے، جس کے اثرات اندلس کی مدنی زندگی میں نمایاں ہوئے۔ چناں چہ عام تہذیب و معاشرت میں نت نئے تکلّفات اور شان و شکوہ ظاہر ہوئے۔ عبدالرحمن نہایت پابند ِصوم و صلوٰۃ، شرعی اوامر و نواہی کا پاس و لحاظ رکھتا تھا۔ وہ اپنی انتظامی صلاحیتوں اور فضائلِ حمیدہ کی وجہ سے عوام کی نظروں میں بہت محبوب تھا۔ اس کا دورِ حکومت اکتیس سال اور تین مہینوں پر مشتمل ہے۔
عبدالرحمن ثانی نے وسط ماہ ربیع الثانی۲۳۸ھ / 852ء میں باسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
احسان و سلوک کی ضرورت اور اہمیت (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’جاننا چاہیے کہ شریعت نے انسان کو سب سے پہلے حلال و حرام کے حوالے سے جن چیزوں کا پابند بنایا ہے، وہ ایسے اعمال ہیں کہ جن کے ذریعے سے انسان کے نفس میں اعلیٰ اَخلاق پیدا ہوں۔ چناں چہ اُن کاموں کو واجب اور لازم قرار دیا گیا ہے، جو آخرت میں انسانی نفوس کے لیے فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کو حرام قرار دیا گیا کہ جن کے نتیجے میں وہ سزا کے مستحق بنیں (اس طرح پہلے درجے میں اعمال کی ظاہری شکل و صورت کا پابند بنایا گیا اور دوسرے درجے میں ان اعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اَخلاق حاصل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے)۔
شریعت کے لازم کردہ اعمال پر دو پہلوؤں سے بحث ضروری ہے:
(1) جمہور انسانوں پر جن اعمال کا کرنا لازمی ہے، اُن کی بہترین صورت یہ ہے کہ:
(الف) ایسے اعمال کو اختیار کیا جائے کہ جن سے اَخلاق پیدا ہوں۔
(ب) اُن اعمال کو کرنے کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ جو تمام لوگوں کے سامنے ہو اور اس حوالے سے اُن کا مواخذہ کیا جاسکتا ہو، تاکہ لوگوں کو ان اعمال کی ادائیگی کے وقت اِدھر اُدھر کھسک جانے اور عذرِ لنگ کرنے کا موقع نہ ملے۔
(ج) یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اعمال میانہ روی اور طے شدہ منضبط اُمور پر مشتمل ہوں۔
(2) اعمال کا اس حوالے سے جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس کے نتیجے میں تہذیب ِنفس پیدا ہو اور ان اعمال کے ذریعے سے مطلوب اَخلاق و اَقدار تک پہنچا جاسکے۔
اس سلسلے میں عمدہ ترین بات یہ ہے کہ:
(الف) اُن اَخلاق اور اَقدار کی پہچان اور معرفت حاصل کی جائے۔
(ب) ایسے اعمال کی پہچان حاصل کی جائے کہ جن کے ذریعے سے ان اعلیٰ اَخلاق و اَقدار تک رسائی حاصل ہوتی ہو۔
اِن دونوں باتوں کی بنیاد ’’وِجدان‘‘ پر ہے۔ وِجدان کے ذریعے سے اعمال کے بنیادی اُمور کا تعین کرنا اُس اتھارٹی (اللہ کے رسول) کا کام ہے، جو اِن اعمال کا انسانوں کو پابند بناتی ہے (جیسا کہ تمام انبیا علیہم السلام نے کیا اور خاص طور پر نبی اکرم ﷺ نے وِجدانِ الٰہی کے ذریعے شریعت ِمحمدیہ کے اعمال متعین کیے ہیں)۔
جمہور انسانوں کے لیے شریعت کے اعمال کی ادائیگی کے حوالے سے پہلی بحث کا تعلق ’’عِلمُ الشَّرائع‘‘ (شریعتوں کے علم) سے ہے۔ اور تہذیبِ نفس کے حوالے سے اعمال کی نوعیت کے بارے میں بحث کرنا ’’علمُ الإحسان و السُّلوک‘‘ سے ہے۔
(علم الاحسان کا دائرۂ کار)
احسان و سلوک سے متعلق مباحث پر نظر و فکر کرنے والے کے لیے لازمی ہے کہ وہ دو باتوں کی طرف توجہ دے:
(1) اپنے اعمال کو اس پہلو سے دیکھے کہ وہ انسانی نفس پر کس طرح کے اثرات اور اَخلاق مرتب کر رہے ہیں؟ اس لیے کہ اعمال:
(الف) بسا اوقات ریاکاری، کسی کو سنانے کے لیے یا محض عادت پوری کرنے، یا عُجب و تکبر اور کسی پر احسان جتانے اور کسی کو تکلیف پہنچانے کی نیت سے بھی کیے جاتے ہیں۔ اس طور کیے گئے اعمال سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔
(ب) بسا اوقات اعمال اس طرح ادا کیے جاتے ہیں کہ جن سے انسانی نفس میں صفتِ احسان رکھنے والے لوگوں کی طرح پورا فائدہ اور نفس کو تنبیہ حاصل نہیں ہوتی۔ اگرچہ ان اعمال کی ادائیگی سے انسانی نفوس میں کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور حاصل ہوتا ہے، مثلاً کوئی آدمی صرف اصل فرض عمل ادا کرے اور اُسے معیار اور مقدار سے متعلق کیفیات حاصل نہ ہوں تو ایسا آدمی اعلیٰ درجے کا محسن اور صاف ستھرا نہیں ہوتا۔
(2) احسان و سلوک کی مباحث کے حوالے سے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ اَخلاق و اَقدار کیا ہیں؟ تاکہ اُن کا پورا پورا حق ادا کیا جاسکے اور پوری بصیرت کے ساتھ اس طرح اعمال کیے جائیں کہ جن سے اعلیٰ اَخلاق پیدا ہوں۔ اور وہ اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنی روح کے امراض کو دور کرنے کی سلیقہ مند سیاست اختیار کرے۔ بالکل ایسے ہی جیسے انسانی طبیعت کا علاج کرنے والا طبیب جسمِ انسانی کو بہتر کرنے کی حکمت اور سیاست کرتا ہے۔ ان اَخلاق کی معرفت اور پہچان اس لیے بھی ضروری ہے کہ جو آدمی اپنے مقصد کے حصول کے ذرائع و وسائل اور آلات و اوزار نہیں جانتا تو ممکن ہے کہ ایسا آدمی جب انھیں استعمال میں لائے گا تو وہ گویا کہ اندھی اونٹنی پر سوار کی طرح بھٹکتا پھرے، یا جیسے رات کے اندھیرے میں لکڑیاں چننے والا بھٹکتا ہے۔
(انسانیت کے بنیادی اَخلاق)
احسان و سلوک کے فن میں جن اصولی اور بنیادی اَخلاق سے بحث کی جاتی ہے، وہ چار ہیں، جیسا کہ ہم گزشتہ ’مباحث‘ (چوتھے مبحث کے چوتھے باب) میں بیان کرچکے ہیں:
(1) طہارت: ایسی طہارت حاصل کرنا، جس سے عالَمِ مَلَکُوت (ملائِ اعلیٰ اور وہاں موجود فرشتوں) کے ساتھ مشابہت پیدا ہوجائے۔
(2) اِخبات: اللہ کے سامنے ایسی عجز و اِنکساری اختیار کرنا کہ جس کے نتیجے میں عالَمِ جَبَرُوت (صفاتِ باری تعالیٰ اور عرشِ الٰہی) کی طرف توجہ حاصل ہوجائے۔
’’طہارت‘‘ کے حصول کے لیے شریعت نے وضو اور غسل جیسے اعمال، جب کہ ’’اِخبات‘‘ کے حصول کے لیے نماز، ذکر و اَذکار اور تلاوت ایسے اعمال لازمی قرار دیے ہیں۔ یہ دونوں اَخلاق جب کسی انسان میں جمع ہوجائیں تو ہم نے اس کا نام ’’سکینت‘‘ اور ’’وسیلہ‘‘ رکھا ہے۔ یہی مطلب ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمانؓ کے اُس قول کا جو انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارے میں کہا تھا کہ: ’’حضرت محمد ﷺ کے محفوظ اَصحاب کو اس بات کا علم تھا کہ بے شک وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف وسیلے کے طور پر سب سے زیادہ اس کے قریب ہیں‘‘۔ (رواہ الحاکم و الترمذی) (جاری ہے)
(من أبواب الإحسان، باب(1): علمُ الشّرائع و الإحسان)
وفاق المدارس، نئے تعلیمی بورڈزاور جدید وقدیم نصابِ تعلیم کا مسئلہ !

پاکستان کے علمی و اَدبی اور دینی حلقوں میں آج کل ایک نیا معرکہ بپا ہے۔ وہ اس طرح کہ کچھ دینی مدارس نے مذہبی مدارس کے سابقہ اتحاد ’’وفاق المدارس‘‘ کو خیر باد کہتے ہوئے اپنے اپنے نئے تعلیمی بورڈز کی رجسٹریشن شروع کروا دی ہے، جس پر مدارس کے کہنہ نصابِ تعلیم سے وابستہ اربابِ مدارس اسے دین کے خلاف کسی سازش سے تعبیر کررہے ہیں۔ نئے تعلیمی بورڈز کے عَلم بردار اپنے نئے مجوزہ نصابِ تعلیم کو جدید و قدیم کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے اسے حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کے خواب کی تعبیر بتا رہے ہیں۔ اس معاملے پر چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔
اوّلاً تو نصاب کے حوالے سے جدید و قدیم کی بحث ہمارے ہاں کوئی نئی بحث نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستان میں ہمارے آزادانہ تعلیمی نظام کے خاتمے سے لگ بھگ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے جاری وساری ہے۔ ہردور میں لوگ اپنے اپنے مؤقف کے حق میں لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔ ماضی کے لٹریچر کی ایک اچھی خاصی تعداد اِس کا ثبوت ہے، جس میں ہر نوع کے خیالات موجود ہیں۔
ثانیاً: لکیر کے دونوں طرف کھڑے طبقے اپنے اپنے مقدمے میں ابہامات کا شکار ہیں۔ ان کا ماضی طبقاتی مفادات پر قائم ریاستی ڈھانچے سے ہم آہنگ رہا ہے۔ ان کے درمیان نصاب کی بحث اس اصل بحث اور مقدمے سے کوئی تعلق نہیں رکھتی، جس کے تناظر میں ہم اس مسئلے کے حقیقی پہلوؤں سے واقف ہوسکیں۔ یہ طبقے اپنی اپنی باری پر ریاست کی خواہش پر نظام کی خدمت بجا لاتے رہے ہیں اور اب بھی اسی سطح پر کھڑے ہیں۔
کسی قوم کا اصل مسئلہ کسی بھی نصابِ تعلیم میں چند مضامین کا اضافہ یا کمی نہیں ہوتا، بلکہ اس نصابِ تعلیم کی پشت پر کارفرما وہ نظریات، مقاصد اور نتائج اہمیت رکھتے ہیں، جن کے ذریعے سے ایک آزاد قوم تیار ہوسکے، کیوں کہ ہمیشہ نظریات اور مقاصد اہم ہوتے ہیں۔ جس نصاب کو ہمارے ہاں سرسیّد مرحوم کا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے اور اس کی بیساکھی سے آج اپنے آپ کو ’’جدید‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، آیا وہ جدید بھی تھا؟ یا وہ کلونیل عہد کا مخصوص نظامِ تعلیم اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک غلام قوم پر مسلط کیا گیا تھا؟ یہ کلونیل تعلیم اس ملک کے باشندوں کو باشعور بنانے کے لیے تھی یا یہ نام نہاد جدید تعلیم استعماری نظام کا وہ کارخانہ تھا، جہاں اس ظالمانہ اور استحصالی نظام چلانے کے لیے کَل پُرزے ڈھالنے کا کام لیا جاتا تھا؟
کسی بھی تعلیم کے ظاہری ڈھانچے پر بحث سے زیادہ اس کے مقاصد اور نتائج پیش نظر رہنے چاہئیں۔ ایک استعماری نظام کی چھتری تلے غیرطبقاتی، انسان دوست، حریتِ فکر سے لیس قومی نظامِ تعلیم کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟ ریاستیں ہمیشہ اپنی پالیسیوں سے ہم آہنگ تعلیمی پالیسیوں میں اپنی بقا سمجھتی ہیں۔
ثالثاً: جو طبقہ اپنی کاوش کو حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کے خواب کی تعبیر قرار دے رہا ہے، ان کو خبر ہو کہ حضرت شیخ الہندؒ نے صرف آزاد تعلیمی حکمتِ عملی ہی نہیں دی، بلکہ وہ ایک جامع نظامِ فکر کے داعی تھے، جس کے قلابے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکر سے جاملتے ہیں۔ کل تک ان کی سیاسی فکر سے اِعراض کرنے والے محض اپنے مفاد کے لیے ان کے جدید و قدیم کے ملاپ کے نعرے کو اپنے گروہی اور طبقاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ حضرت شیخ الہندؒ جاری سامراجی نظام کے لیے کسی بھی نصابِ تعلیم کے ذریعے کَل پُرزے فراہم کرنے کے سخت مخالف تھے، خواہ وہ اسلام ہی کے نام پر کیوں نہ ہو۔ چناںچہ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے داموں (نظام کے لیے) غلام پیدا کرتے رہیں، بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہئیں بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں کے اور ان عظیم الشان مدارس کے، جنھوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا، اس سے پیشتر کہ ہم اس کو اپنا استاد بناتے‘‘۔ (افتتاحی خطبہ صدارت جامعہ ملیہ دہلی از حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ)
جب سے استعمار نے مذہب سے آلہ کاری کا کام لینا شروع کیا ہے، وہ اس حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے کہ کوئی بھی نظام خواہ کسی بھی مذہب کے نام پر بنالیا جائے، لیکن اس کے نتائج اس کے سامراجی مقاصد کے حق میں نکلنے چاہئیں۔ آج اسی نظام کو جدید نوآبادیاتی نظام میں اسلام کے نام پر ایسے افراد کی ضرورت ہے، جو اِن کے سیاسی و معاشی ایجنڈے اور پالیسیوں کو مذہب کے رنگ و روغن کے ساتھ نافذ کرکے ان کے لیے مطلوبہ نتائج کی فصل کاٹنے کے بہم مواقع فراہم کرے۔
ہمارے ہاں دونوں نظام ہائے تعلیم کے عَلم بردار پہلے گزشتہ ستر سالوں کا حساب دیں کہ انھوں نے اپنے نصاب ہائے تعلیم سے قوم کو کون سے افراد فراہم کیے ہیں؟ کیوں کہ کسی بھی نصابِ تعلیم کے اثرات و نتائج کا اندازہ اس ملک کی صنعتی، سماجی ترقیات اور موجود قیادتوں ہی سے کیا جاتا ہے، جو اس نظام تعلیم کا ثمر ہوتی ہے۔ آج پاکستان میں مدارسِ عربیہ اور عصری تعلیم کے دعوے دار دونوں تعلیمی نظاموں کی کھیتی پک کر ہمارے سامنے انتظامیہ (بیوروکریسی) مذہبی اور سیاسی لیڈروں کی شکل میں موجود ہے۔ کیا ان قیادتوں نے مجموعی طور پر ملک کی ترقی کے لیے کردار ادا کیا ہے؟
آج ہمارے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کا نظامِ تعلیم کیسا ہونا چاہیے جو ہمارے قومی تقاضوں اور روح عصر سے ہم آہنگ ہو؟ ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ کلونیل عہد کے سامراجی ڈھانچے کی ذہنیت اور نفسیات سے چھٹکارہ پائے بغیر ہم کوئی آزادانہ نظامِ تعلیم پیدا نہیں کرسکتے۔اصل ضرورت اپنے قومی اور ملّی تقاضوں کی اَساس پر خود مختاری پر مبنی نظریۂ تعلیم کو متعین کرنا اور اس کے مطابق نصاب اور نظامِ تعلیم اُستوار کرنا ہے۔ اس کے لیے شعوری طور پر سنجیدہ کوشش ہی کامیابی کا زینہ ہے۔ (مدیر)
اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بنتِ حارث

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قبیلہ قریش سے تھیں۔ آپؓ کے والدین نے آپؓ کانام ’’برّہ‘‘ رکھا تھا۔ جب حضورؐ کے نکاح میں آئیں تو آپؐ نے ان کا نام بدل کر میمونہ رکھ دیا۔ حضرت میمونہؓ کا نکاح پہلے مسعود بن عمروبن عمیرثقفی سے ہوا، لیکن کسی وجہ سے علاحدگی اختیار کرنی پڑی۔ پھر ابورہم بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں آئیں۔ ان کی۷ھ میں وفات کے بعد آپؓ حضوؐر کے نکاح میں آئیں۔ یہ آں حضرتؐ کا آخری نکاح تھا اور حضرت میمونہؓ سب سے آخری بیوی تھیں۔اسلامی تاریخ کے عظیم جرنیل خالدبن ولید حضرت میمونہؓ کے بھانجے تھے۔ آپؓ کی دیگر صحابہؓ کے ساتھ بھی رشتہ داریاں بنتی ہیں۔ آپؓ سے 46 حدیثیں مروی ہیں۔ سات صحیحین میں ہیں، جن میں بعض سے ان کی فقہی اور علمی بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: ’’حضرت میمونہؓ خدا تعالیٰ سے بہت ڈرتیں اور صلہ رحمی کرتی تھیں‘‘۔ آپؓ کوغلام آزاد کرنے کا بہت شوق تھا۔ آپؓ غریبوں کی ہمدردی اور تعاون کرتی رہتی تھیں۔ اسی لیے کبھی کبھی قرض لیتی تھیں اور وہ رقم مستحقین میں تقسیم کردیتی تھیں۔ ایک بار زیادہ رقم قرض لی توکسی نے کہا کہ آپ اس کوکس طرح ادا کریں گی؟ فرمایا: حضوؐر کا ارشاد ہے کہ: ’’جوشخص قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کا قرض ادا کردیتا ہے‘‘۔ میں ضروری اُمور کی تکمیل کے لیے قرض لے رہی ہوں۔ میرا مقصد نیک ہے اور نیت ادائیگی کی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ضرور بندو بست کردے گا‘‘۔
احکامِ نبویؐ کی تعمیل ہروقت حضرت میمونہؓ کے پیشِ نظر رہتی تھی۔ ایک دفعہ ان کی کنیز بدیہ‘ حضرت ابن عباسؓ کے گھر گئی تودیکھا کہ میاں بیوی کے بستر دور دور بچھے ہیں، خیال ہوا کہ شاید کچھ رنجش ہوگئی ہے، لیکن دریافت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباسؓ (بیوی کے ایام کے زمانے میں) اپنا بستر ان سے الگ کرلیتے ہیں۔ کنیز نے آکر حضرت میمونہؓ کو یہ ماجرا سنایا تو آپؓ نے فرمایا: ’’ان سے جاکر کہو کہ رسول اللہؐ کے طریقے سے اس قدر کیوں اعراض ہے؟ آپؐ ہم لوگوں کے بچھونوں پر برابر آرام فرماتے تھے‘‘۔ (مسنداحمد) حضرت میمونہؓ دینی مسائل کی بہت بڑی عالمہ تھیں۔ ایک بار ایک عورت بیمار پڑی تواس نے منت مانی تھی کہ شفا ہونے پربیت المقدس جاکر نماز پڑھے گی۔ خدا کی شان کہ وہ صحت مند ہوگئی اور سفر کی تیاریاں شروع کیں۔ جب رخصت ہونے کے لیے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو حضرت میمونہؓ نے اُسے فرمایا: ’’تم یہیں رہو اور مسجد ِنبوی میں نماز پڑھ لو۔ کیوں کہ یہاں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں کے ثواب سے ہزارگنا زیادہ ہے‘‘۔
حضرت میمونہ کا آپؐ سے نکاح مکہ سے 10 میل کے فاصلے پر مقامِ ’’سرف‘‘ میں ہوا تھا۔ عجیب اتفاق ہے کہ آپؓ کا انتقال بھی اسی جگہ پر ہوا۔ خود ہی فرمایا کہ: ’’مجھے مکہ سے لے چلو، کیوں کہ آپؐ نے فرمایا ہے کہ: ’’تیری موت مکہ میں نہیں ہوگی‘‘۔ اور اسی طرح ہوا کہ جیسے ہی ’’سرف‘‘ میں پہنچیں تو داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ حضرت ابن عباسؓ نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور قبر میں اُتارا۔ آپؓ کے سالِ وفات کے متعلق اگرچہ اختلاف ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ انھوں نے۱۵ھ میں وفات پائی۔
گناہگاروں پر دُنیا کی فراوانی کا مقصد

عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامرٍ عَنِ النَّبِيِّﷺ: قَالَ إذا رَأَیْتَ اللّٰہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلٰی مَعَاصِیہِ مَا یُحِبُّ فَإِنَّمَا ھُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّہُﷺ:فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ
(الانعام: 44) (مسند احمد: 17311)
(حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود دُنیا میں اسے وہ کچھ عطا فرما رہا ہے جو وہ چاہتا ہے تو یہ اِستدراج (ڈھیل) ہے۔ پھر نبیﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ: ’’جب انھوں نے ان چیزوں کو فراموش کردیا، جن کے ذریعے انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے۔ حتیٰ کہ جب وہ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اِترانے لگے تو ہم نے اچانک انھیں پکڑ لیا اور وہ نااُمید ہوکر رہ گئے‘‘۔)
زیرِنظر حدیث کے مطابق اللہ کے نافرمانوں کے پاس کثرتِ دولت ان کی آزمائش کے لیے ہوتی ہے۔ ان کی مجرمانہ زندگی کے باعث یہ مالی فراوانی بالآخر ان کے لیے عذاب کا سبب بن جاتی ہے۔ چناں چہ قرآن میں ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کی نافرمانی میں اتنے بڑھے کہ خدا کو بھول گئے تو پھر اللہ نے ان پر نعمتوں کے دروازے کھول دیے، حتیٰ کہ وہ اس میں مگن ہوگئے۔ اسی غفلت میں پڑے ان لوگوں کو اللہ اچانک پکڑ لیتے ہیں، پھر ان کی خوشیاں ہَوا ہوجاتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ اصول دُنیوی کامیابی اور ناکامی کے لحاظ سے ہے، جب کہ اُخروی کامیابی کاتعلق عمدہ اَخلاق اور درست عقائد سے ہے۔
یہ قانونِ قدرت فرد اور اَقوام دونوں کے لیے ہے۔ اسی لیے آپﷺ نے قرآن سے جماعت اور قوم کی مثال دی ہے۔ گویا کسی فرد پر محض دنیا کی فراخی‘ اللہ کے ہاں رضامندی کی علامت نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے بعض نیک بندوں حتیٰ کہ انبیا علیہم السلام پر بھی دنیا بڑی تنگ ہوتی ہے۔ وہ فاقوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس لیے رسول اللہؐ نے یہ امر واضح کردیا کہ کسی کے پاس دنیا کی کثرت‘ اللہ کے ہاں اس کے مقبول ہونے کا معیار نہیں ہے۔ بالخصوص جب کہ وہ مال استحصال اور ظلم کے ذریعے حاصل کیاگیا ہو۔ اللہ کے ہاں قبولیت کا معیار یہ ہے کہ انسان کی ذاتی اور اجتماعی کل زندگی راہِ ہدایت پر ہو۔
اسی طرح اجتماعی دائرے میں کسی قوم سے خدا کے راضی ہونے کی علامت یہ ہے کہ ان کی قومی زندگی عدل و انصاف، اجتماعیت پسندی اور انسان دوستی کی ہو۔ آج جب ہم اپنی قومی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو اجتماعی زندگی کے ہر شعبے کی حالت دِگرگوں ہے۔ حاکم و محکوم دونوں بداَخلاق اور قانون شکن ہیں۔ گویا ہمیں اجتماعی زوال کا سامنا ہے۔ لہٰذا جزوی ترقی یا محدود دائرے میں کوئی کامیابی، اصل کامیابی نہیں ہے۔ مکمل کامیابی یہ ہوگی کہ فرد اور قوم خدا پرستی اور انسان دوستی کی راہ پر گامزن ہوجائے۔
اجتماعیت کے بنیادی قوانین اور خلاف ورزی کی سزا

وَإِذ قُلنَا ادخُلوا هٰذِهِ القَريَةَ فَكُلوا مِنها حَيثُ شِئتُم رَغَدًا وَادخُلُوا البابَ سُجَّدًا وَقولوا حِطَّةٌ نَغفِر لَكُم خَطاياكُم ۚ وَسَنَزيدُ المُحسِنينَ
فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا قَولًا غَيرَ الَّذي قيلَ لَهُم فَأَنزَلنا عَلَى الَّذينَ ظَلَموا رِجزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَفسُقونَ
(اور جب ہم نے کہا: داخل ہو اس شہر میں، اور کھاتے پھرو اس میں جہاں چاہو فراغت سے، اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، اور کہتے جاؤ بخش دے، تو معاف کردیں گے ہم تمھارے قصور اور زیادہ بھی دیں گے نیکی والوں کو۔ پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو کہہ دی گئی تھی ان سے۔ پھر اُتارا ہم نے ظالموں پر عذاب آسمان سے ان کی عدولِ حکمی پر۔)
گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت کے لیے صحرائی زندگی میں اجتماعیت سے متعلق اُمور واضح کیے گئے تھے۔ ان آیات میں بنی اسرائیل کے لیے ابتدائی درجے کی شہری تربیت کے اُمور اور اُس سے متعلق مسائل بیان کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے بنی اسرائیل نے جس طرح اِن اُمور میں تبدیلی کی، اس کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔
وَإِذ قُلنَا ادخُلوا هٰذِهِ القَريَةَ:بنی اسرائیل کو صحرائی زندگی میں اجتماعی اُمور سے متعلق مراحل سے گزارنے کے بعد شہری اجتماعیت قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ گویا جماعتی حوالے سے تربیت کی اَخلاقی تہذیب و اِصلاح کے بعد اب اگلے دور میں انھیں شہری زندگی میں داخل ہونے سے متعلق آداب بتلائے جا رہے ہیں۔ کسی بستی میں رہنے کے لیے اجتماعیت سے متعلق تشریعی قوانین کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر اس اجتماعیت کے لیے اپنے بنیادی فکر پر یکسوئی بھی لازمی ہوتی ہے۔ چناںچہ بستی کی اجتماعیت شروع کرتے ہوئے درجِ ذیل احکامات اور قوانین کی پابندی کرنا لازمی ہے:
(1)فَکُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا:بہترین اجتماعیت کے لیے عمدہ، متنوع اور من پسند غذا بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اب تک بنی اسرائیل صحرائی زندگی میں مسلسل مَن و سلویٰ کی صورت میں یکساں غذا کھاتے رہے تھے، اب انھیں شہر میں داخل ہو کر ہر طرح کی کھانے پینے کی چیزیں وافر مقدار میں مہیا کی جائیں گی۔ جس کے ذریعے سے جسمانی مضبوطی اور طاقت پیدا ہو اور وہ اجتماعی اُمور کو پوری توانائی کے ساتھ سرانجام دیں۔
(2)وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا:اس موقع پر یہ بھی لازمی ہے کہ انبیا علیہم السلام کے زیرنگرانی قائم ہونے والی اجتماعیت میں ابراہیم علیہ السلام کی تحریکِ حنیفیت کو سامنے رکھا جائے۔ چناں چہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے یکسوئی کے ساتھ سجدہ ریز ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے بستی کے دروازے میں داخل ہوتے وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اس لیے کہ دیہاتی اور صحرائی لوگ جب کسی آبادی میں داخل ہوتے ہیں تو اُن کی بہیمی طبیعت انھیں ضرورت سے زائد کھانے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ اندھا دھند کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایسے موقع پر بنی اسرائیل کو حکم دیاگیا کہ جب وہ بستی کے دروازے پر پہنچیں تو تھوڑا رُکیں، اپنے ربّ کو یاد کریں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں، تاکہ اُن کی طبیعت میں اعتدال پیدا ہوجائے اور توجہ الیٰ اللہ کرنے سے اُن میں سے زیادہ کھانے پینے کی حرص ختم ہوجائے۔ اس طرح بہیمیت اور مَلَکِیَّت میں ایک توازن پیدا ہوگا۔
(3)وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ:بنی اسرائیل کو تیسرا حکم یہ دیا گیا کہ چوں کہ اب آئندہ زندگی شہر میں اجتماع کے طور پر گزارنی ہوگی، تو آنے والی طویل اجتماعی زندگی میں ’’حِطّۃٌ‘‘ یعنی ’’اے ہمارے ربّ! ہمیں معاف کردے‘‘ کہتے رہیں، تاکہ وہ اپنے ربّ کی طرف متوجہ رہیں اور اس دوران ہونے والی انفرادی اور اجتماعی غلطیوں اور گناہوں سے استغفار اور معافی مانگتے رہیں۔ اُن کی توجہ صرف کھانے پینے ہی کی طرف نہ رہے۔ وہ ضرورت سے زائد کھانے پینے میں مشغول نہ ہوں۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے، جیسے کوئی آدمی اپنے بچے کو کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے اور بسم اللہ پڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ جب کھانے پر بیٹھتا ہے تو اُس کو اچھے واقعات اور عمدہ گفتگو میں لگائے رکھتا ہے، تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ کھانا نہ کھائے۔ وہ صرف کھانے پینے ہی کی لذت میں مشغول نہ رہے۔ اگر بچہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اور خوب پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتا ہے تو پیٹ خراب ہوجاتا ہے، جسمانی مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو آدمی اپنی طبیعت پر کنٹرول کرتے ہوئے قوانین کی پابندی کرتا ہے، اس کی طبیعت ٹھیک رہتی ہے، ورنہ وہ بیمار پڑ جاتا ہے۔ اجتماعی قوانین کی پابندی سے معاشروں میں عمدہ ڈسپلن اور بہترین نظام قائم ہوتا ہے۔ شریعت کا بنیادی مقصد دراصل ایسے ہی قوانین کے ذریعے بہیمی اور حیوانی تقاضوں کو اعتدال کے ساتھ پورا کرکے قوموں کی اجتماعی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔
فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ:بنی اسرائیل کی اجتماعی ترقی کے لیے ان تمام تر اُمور کی قانون سازی کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا اور جس استغفار کرنے اور اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہونے کا انھیں حکم دیا گیا تھا، انھوں نے اسے بدل دیا۔ انھوں نے اپنے مَلَکی اور روحانی تقاضوں کو نظرانداز کرکے صرف گندم خوری کی اور محض حیوانی تقاضوں کو پورا کرنے کی حرص میں مبتلا ہوکر رہ گئے۔
فَاَنۡزَلۡنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ:اس طرح وہ قانون شکنی کرتے ہوئے فسق و فجور میں مبتلا ہوگئے۔ چناںچہ خوب ڈٹ کر کھانے سے اُن کے پیٹ خراب ہوگئے۔ اُن میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوگئیں۔ اس وجہ سے اُن کے جسموں میں تعفن پیدا ہوا، جس نے طاعونی وبا کی صورت اختیار کرلی، جس میں بہت سے اسرائیلی ہلاک ہوگئے۔ ان قوانین کی سب لوگوں نے پابندی نہیں کی اور خود اپنی بدعملی کی وجہ سے عذابِ الٰہی میں مبتلا ہوئے۔
End of issue
Back
