معاہدات کی خلاف ورزی؛ انعاماتِ الٰہی سے محرومی کا سبب

يا بَني إِسرائيلَ اذكُروا نِعمَتِيَ الَّتي أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَوفوا بِعَهدي أوفِ بِعَهدِكُم وَإِيّايَ فَارهَبونِ (40:2)
(اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے وہ احسان جو میں نے تم پر کیے۔ اور تم پورا کرو میرا اقرار تو میں پورا کروں تمھارا اقرار۔ اور مجھ ہی سے ڈرو۔)
شروع سورت سے آیت 39 تک یہ حقیقت واضح کی گئی کہ قرآن حکیم متقین کی ایک ایسی جماعت تیار کرتا ہے، جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق خلافت اور حکومت کا نظام قائم کرے۔ آیت 21 سے انسانیت پر ہونے والے انعامات کا ذکر ہے۔ پھر آیت 30 سے حضرت آدمؑ کی پیدائش کا مقصد؛ خلافتِ ارضی کی ذمہ داریاں دینے اور اس حوالے سے علوم عطا کرنے کا تذکرہ تھا۔ اس طرح آغاز ِآدمیت سے لے کر بنی اسرائیل تک کی انسانی تاریخ کے بنیادی اساسی امور واضح کر دیے گئے۔
يا بَني إِسرائيلَ: اس آیت (40) سے انسانی تاریخ کی ایک اہم جماعت بنی اسرائیل کا تذکرہ ہے۔ اسرائیل‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام ہے۔ اس کا معنی ’’عبداللہ‘‘ہے۔ ان کی اولاد کو ’’بنی اسرائیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ چناںچہ پہلے اُن پر ہونے والے انعاماتِ الٰہیہ کا ذکر ہے۔ پھر ان انعامات کے باوجود انھوں نے خلافتِ ارضی کی ذمہ داریوں سے جس طرح روگردانی کی، اُس کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت میں تین دفعہ ’’یا بنی اسرائیل‘‘ آیا ہے۔ سب سے پہلے اس آیت (40) سے لے کر 46 تک بنی اسرائیل کی اصولی خرابیوں اور کوتاہیوں کا ذکر ہے۔ پھر آیت 47 سے دوسری دفعہ ’’یا بنی اسرائیل‘‘ کہہ کر آیت 121 تک ان اصولی خرابیوں کی مزید تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ پھر تیسری دفعہ ’’یا بنی اسرائیل‘‘ کہہ کر آیت 122 تک 150 تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اصل تحریک سے روگردانی اور نبی اکرمؐ کی مخالفت سے متعلق بنی اسرائیل کی گمراہیوں اور خرابیوں کو واضح کیا گیا ہے۔
قرآن حکیم میں بنی اسرائیل سے متعلق ان تمام تر تفصیلات کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اب اس دور میں تورات اور انجیل جیسی کتابوں کے حاملین یہود و نصاریٰ اس قابل نہیں رہے کہ وہ دنیا کی قیادت اور رہنمائی کے فرائض سرانجام دے سکیں۔ اس لیے کہ ان میں انسانیت دشمن رویے، بداَخلاقیاں اور بدکرداری کی ایسی حالتِ بد پیدا ہوچکی ہے، جو کسی طرح بھی کسی قومی نظام یا بین الاقوامی حکومت و خلافت کی اہلیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس لیے قرآن حکیم کی صورت میں ایک جامع کتابِ مقدس کا نزول اس دور کا تقاضا ہے، تاکہ اعلیٰ اَخلاق کے حامل متقین کی جماعت پیدا کی جائے، جو قوموں کی قومی اور بین الاقوامی اجتماعیت کو خلافتِ خداوندی کی اساس پر استوار کرے اور دینِ حق کو دنیا میں غالب کرنے کے لیے جدوجہد کرے۔ چناںچہ آیت 151 سے آخر سورت تک قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اعلیٰ اَخلاق اور ترقی یافتہ ارتفاقات کی تفصیلات کا بیان ہے۔
اذكُروا نِعمَتِيَ الَّتي أَنعَمتُ عَلَيكُم : بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے سب سے پہلے انھیں اپنے انعامات یاد کرائے گئے۔ قرآن حکیم میں ’’نعمت‘‘ سے مراد علم و حکمت اور اُس کی اساس پر قائم نظام اور قانون ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیا علیم السلام بھیجے گئے۔ ان میں اولوالعزم انبیا کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (22:12) (ہم نے انھیں حکم اور علم عطا کیا) چناںچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر علم و حکمت کی بارش کرتے ہوئے تورات، حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل کا نزول ہوا۔ پھر ان کتبِ مقدسہ پر عمل کرنے کی صورت میں فرعون صفت حکمرانوں سے نجات دلائی اور حکومت اور خلافت عطا کی۔ اس طرح یکے بعد دیگرے ایک طویل عرصے تک شام کے علاقے میں انھیں حکمرانی حاصل رہی۔ دیگر بہت سے انعاماتِ الٰہیہ ہیں، جن کا تذکرہ آگے آرہا ہے۔
وَأَوفوا بِعَهدي أوفِ بِعَهدِكُم: بنی اسرائیل کو دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ وہ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کریں۔ انسانی سماج اللہ سے کیے ہوئے عہد اور دیگر انسانوں سے ہونے والے سماجی معاہدات کو پورا کرنے سے ہی ترقی کرتا ہے۔ بنی اسرائیل سے تورات میں خدا پرستی اور انسان دوستی سے متعلق احکاماتِ الٰہیہ کو پورا کرنے کا پختہ عہد اور معاہدہ ہوا تھا۔ وہ اللہ کے حکم کو پورا کریں گے تو اللہ بھی انھیں علم و شعور اور حکمرانی عطا کیے رکھے گا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’توریت میں (اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے) یہ قرار کیا تھا کہ تم توریت کے حکم پر قائم رہو گے اور جس پیغمبر کو بھیجوں، اُس پر ایمان لا کر اُس کے رفیق رہو گے تو ملکِ شام تمھارے قبضے میں رہے گا۔ بنی اسرائیل نے اس کو قبول کرلیا، مگر پھر وہ (اس) اقرار پر قائم نہ رہے۔ (1) بدنیتی کی۔ (2) رشوت لے کر مسئلے غلط بتلائے۔ (3) حق کو چھپایا۔ (4) اپنی ریاست جمائی۔ (5) پیغمبرؑ کی اطاعت نہ کی، بلکہ بعض پیغمبروں کو قتل کیا۔ (6) توریت میں جہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صفت تھی، اُس کو بدل ڈالا۔ اس لیے گمراہ ہوئے۔‘‘
اس آیت میں بنی اسرائیل کی گمراہیوں میں اُصولی خرابیاں؛ نعمتوں کی ناشکری اور معاہدات کی خلاف ورزی کو قرار دیا ہے۔ جن اقوام اور جماعتوں میں معاہدات کی خلاف ورزی کی عادت پیدا ہوجائے، وہ خلافت اور حکومت کی اہلیت کھو بیٹھتی ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا مقصد انسانیت سے یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف کی اساس پر خلافت قائم کرنے کی اپنے اندر اہلیت اور استعداد پیدا کرے۔ اس آیت میں زوال پذیر قوموں کی پہلی بنیادی خرابی معاہداتِ عمرانی کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
وَإِيّايَ فَارهَبونِ : اللہ تعالیٰ سے ڈریں۔ مال و دولت یا کسی فرعون صفت ظالم طاقت ور سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ کتابِ مقدس قرآن حکیم پر ایمان لائیں۔ اس دور میں یہی وہ کتاب ہے، جو علم و حکمت اور عدل و انصاف کا قانون اور نظامِ زندگی بیان کرتی ہے۔ اللہ سے ڈریں اور اس کتابِ مقدس کی تعلیم پر عمل کریںاور اپنے اندر خلافت و حکومت کی اہلیت پیدا کریں۔ اس دور کی کامیابی اسی بات میں مضمر ہے۔
ظالم حکمران کی سزا

عَنْ اِبْنِ عُمَرَؓ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّہِﷺ عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ یَقُوْلُ: ’’یُنْصَبُ لِکُلَّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا غَدْرَۃَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَۃِ إِمَامِ عَامَّۃٍ۔‘‘ (مسند احمد، 5378)
(حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبیﷺ کو حجرئہ حضرت عائشہؓ کے قریب یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ’’قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور سربراہِ مملکت کے دھوکے سے بڑھ کر کسی کا دھوکا نہ ہوگا۔‘‘)
عادل حکمرانوں کے فضائل کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں ملتا ہے۔ روز ِمحشر عادل حکمران کو اللہ عرش کے سائے تلے بُلا لیں گے۔ (رواہ البخاری) لیکن زیرِغور حدیث میں اس حکمران کو تنبیہ کی گئی ہے، جو دھوکے بازی سے کام لیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ روز ِقیامت ایک ایسا جھنڈا جو سب سے بڑا ہوگا، اُس حکمران کے لیے گاڑا جائے گا جو عوام کو دھوکا دیتا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عوام کے حقوق کی ادائیگی، ان کے مفادات کا تحفظ اور اجتماعی مسائل کے حل کے بجائے ان کو جھوٹے وعدوں پہ ٹرخایا جاتا رہے۔ ان کے حقوق کی فراہمی سے روگردانی کی جائے۔ بدیسی لوگوں، غیرملکی حکمرانوں کے ساتھ درپردہ یا اعلانیہ ایسے معاہدات کیے جائیں جو قوم کے لیے نقصان، غلامی، محتاجی اور ان کی بے عزتی کا باعث ہوں۔ حکمرانوں کا یہ طرز ِعمل نبی اکرمؐ کو بہت ناپسند ہے۔
نبی اکرمؐ کی نبوی ذمہ داریوں اور خصوصیات میں سے ایک بات قرآن نے یہ بیان کی ہے کہ آپؐ اپنی قوم کے بوجھوں کو اُتار دیں گے اور ان کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دِلائیں گے۔ (الاعراف: 157) یعنی جن مفادپرست اور دھوکے باز حکمرانوں نے ایسے معاہدات کرلیے کہ جس سے قوم معاشی، سیاسی، سماجی غلامی میں مبتلا ہوگئی تو نبیؐ کے اہم مقاصد ِنبوت میں سے یہ مقصد بھی تھا کہ وہ ان کو اس غلامی اور محتاجی سے نکالیں۔ ظاہر ہے سیرتِ طیبہ کا یہ پہلو ہمیشہ کے لیے ہے۔ دینِ اسلام کی یہ امتیازی شان ہے کہ وہ انسانوں کو ظلم و ستم اور حق تلفی سے محفوظ رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔ دین اختیار کرنے کا مطلب دوسروں کی غلامی سے نکل کر اللہ کی غلامی قبول کرکے بااَخلاق بننا ہے، جس کا نتیجہ مخلوقِ خدا کے حقوق ادا کرنا اور ان کی مدد و نصرت کرنا ہے۔
لہٰذا جو حاکم عوام کے ان مسائل سے روگردانی کرے، ان پہ ظلم کرے، غیرذمہ دار اور دھوکے باز ہو تو اس کا یہ عمل بُرے اعمال میں سب سے زیادہ بُرا عمل ہے۔ ایسے حکمرانوں کے اعمال کا بدلہ دیوار پہ لکھا ہوا ہے۔ روز ِقیامت اس کی یہ غداری دھوکے بازی سب سے بڑی دھوکہ دہی قرار پائے گی۔ اس کے برعکس قوم کو مسائل کی گرداب سے نکالنا، ان کے حقوق محفوظ کرنا‘ اللہ کے نزدیک بہت محبوب عمل ہے کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی عزت اور ترقی دیتے ہیں اور آخرت میں بھی جنت عطا کردیں گے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہٗ ؛ ایک مدبر (3)

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: حضرت عمرؓ کے آخری حج کے موقع پر میں عبدالرحمن بن عوفؓ کے خیمے میں موجود تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک آدمی حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ فلاں آدمی کہہ رہا تھا اگر عمرؓ فوت ہو گئے تو میں فلاں کی بیعت کروں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’میں کل رات عوام کو خطاب کروں گا اور سازشی عنصر جو عوام سے ان کی رائے چھیننا چاہتا ہے، اس کے بارے میں آگاہ کروں گا۔‘‘ حضرت عبدالرحمنؓ نے مشورہ دیا کہ امیرالمومنین! ایسا مت کریں۔ اس لیے کہ یہ موسمِ حج ہے۔ یہاں عام لوگ بھی جمع ہیں۔ عوام مزدور وغیرہ ہر قسم کی ذہنیت کے لوگ یہاں موجود ہیں۔ جو آپ کی مجلس میں غالب رہتے ہیں وہ بھی ہیں، یہ مخلوط اجتماع ہے۔ جب لوگوں میں آپ خطاب کریں گے تو مجھے ڈر ہے کہ عام لوگ آپ کی کوئی بات پورے طور پر نہ سمجھ پائیں۔ وہ کچھ باتوں کو یاد رکھیں، کچھ باتوں کو بھول جائیں گے اور کچھ باتوں کی رہنمائی صحیح طریقے سے حاصل نہ کرسکیں۔ غلط اور صحیح میں فرق نہ کر سکیں اور کوئی اَور چیز ذہن نشین کر بیٹھیں۔ اس لیے اس واقعے پر آپ جلدی مت کریں۔ ہاں! آپ جب مدینہ طیبہ تشریف لے جائیں تو مدینہ دارُ الہِجرہ و السُّنّہ ہے اور وہاں خالص اہلِ علم، قوم کے بڑے سرداران، نظام کو چلانے والے اور اس کی نوعیت کو سمجھنے والے موجود ہوں گے۔ اس وقت آپ جو بات کہیں گے، وہ بات مضبوط ہوگی۔ پوری جماعت کو آپ کی بات سمجھ آئے گی۔ وہ اس کو صحیح محل پر رکھ کر غوروفکر کریں گے اور اس سے رہنمائی لیں گے۔‘‘
حضرت عمرؓ نے اس رائے کو قبول کرلیا اور فرمایا: ’’اگر میں مدینہ گیا اور ٹھیک ہوا تو میں یہ باتیں لوگوں سے ضرور کروں گا۔ سب سے پہلا خطاب یہی کروں گا۔‘‘ چناںچہ حضرت عمرؓ نے اپنا پالیسی ساز خطاب مدینہ پہنچنے کے بعد ارشاد فرمایا، جو تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔ اس واقعے سے ہمیں فتنوں کے دور میں کام کرنے اور دین کے اصل معاملات کو سمجھنے کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اجتماعی اور سیاسی معاملات میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی مدبرانہ مہارت و صلاحیت ان کے حضرت عمرؓ کو دیے گئے اس مشورے میں جھلک رہی ہے۔ آپؓ نے اس بات کی بہ خوبی نشان دہی فرمائی کہ نظام کی تشکیل اور اس کے حوالے سے آرا بیان کرنے کا مقام مدینہ منورہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں عوام نظام اور اس کی پالیسی سازی کے حوالے سے شکوک و شبہات ذہنوں میں لے کر نہ جائیں، تاکہ ارضِ خلافت میں انتشار پیدا نہ ہو۔ یہ اصول ہمیں معلوم ہوگیا کہ ہر بات ہر جگہ نہیں کی جاسکتی، بلکہ مقام اور مخاطب کی ذہنی سطح کا تعین بھی ضروری چیز ہے۔ دوسری اہم بات جو معلوم ہوئی، وہ یہ کہ صحابہ کرامؓ انفرادی نیکی کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور سیاسی ذمہ داریوں کو ادا کرنا اور اس میں غوروفکر کرنا، سیاسی کاموں میں مصروف رہنا، شرکت کرنا، اپنی توانائیاں صرف کرنا بھی دین کا حصہ سمجھتے تھے کہ اس کے بغیر دین مکمل نہیں ہو سکتا۔
تبدیلی کا ادھورا خواب

پاکستان میں بسنے والی قوم کی اُمیدوں پر پانی پھرنے کی ایک پوری تاریخ ہے۔ کبھی ہم نے علاحدہ ملک بنانے پر سارے مسائل حل ہوجانے کی امیدیں باندھیں تو کبھی سرمایہ داروں کی جمہوریت کو اپنے دُکھوں کا مداوا سمجھا۔ کبھی مقتدر طبقوں کے انقلاب کو اپنے زخموں کا مرہم جانا اور اب تبدیلی نے ہمارے کَس بَل نکال دیے ہیں۔
حکمران پارٹی نے حکومت میں آنے سے پہلے تبدیلی کا ایسا شور مچایا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور جذباتی کارکن سنبھالے نہ سنبھلتے تھے کہ جی بس اگر اوپر ایک لیڈر ایمان دار آ جائے تو سب ٹھیک ہوجائیں گے۔ گویا نہ مضبوط کردار کی حامل جماعت کی ضرورت اور نہ نظام بدلنے کا جھنجٹ، یعنی وہ صدیوں کے سماجی اور تاریخی تجربات کو جھٹلانے پر مُصِر ہورہے تھے۔ پھر دورانِ الیکشن گانوں اور ترانوں کی دُھنوں پر تبدیلی کے متوالوں کے والہانہ رقص و سرود نے ایسا سماں باندھا کہ ایسی جذباتی فضا میں عقل و خرد کی بات کرنا ’’تبدیلی‘‘ سے دشمنی مول لینے کے مترادف سمجھا جانے لگا۔
پھرحکمران پارٹی نے Entry کچھ ایسے دی، یعنی شروعات ایسے کیں کہ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں اور بھینسیں نیلام کردی گئیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کر دینے کے چرچے ہونے لگے۔ کہیں تبدیلی گورنر ہاؤس کی دیواروں پرحملہ آور ہوئی اور کہیں حکمرانوں کے کمرشل فلائٹس میں سفر ، وزرا کی سادگیوں کے تذکرے اور نہ جانے کیا کیا کچھ نہ کہا گیا۔ یوں باور کروایا گیا کہ لو ’’تبدیلی آئی رے‘‘۔
پھر منتخب وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں جس طرح کمزور طبقوں کے حقوق اور انسانیت کی ہمدردی کا سہارا لیا، اس سے تو سالوں سے تبدیلی کی راہ تکنے والی قوم سمجھ بیٹھی کہ اب کے تو تبدیلی کی قرعہ اندازی میں ان کا نام نکل ہی آیا ہے۔ تبدیلی چاہنے والے اگر نظام کے اندر کی خرابی کا اِدراک رکھتے ہوتے تو شاید وہ تبدیلی کا یہ ادھورا خواب نہ دیکھتے۔ کیوںکہ نظام کی رکھوالی قوتیں جب دیکھتی ہیں کہ اب نظام چلانے کے لیے اس میں جتے ہوئے گھوڑے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو وہ اس محدود تبدیلی کا ایجنڈا خود تیار کرتی ہیں۔ جیسے یہاں پرانی دو سیاسی پارٹیوں کی جگہ تیسری سیاسی قوت کا فلسفہ کھڑا کیا گیا اور اسے وقت کی ضرورت قرار دے کرمقبولِ عام بنانے کی باقاعدہ مہم چلائی گئی۔
ایسی محدود تبدیلی میں نظام کی مالک قوتوں کوباشعور سیاسی قیادت کے بجائے چابی والے کھلونے کی مانند کٹھ پتلی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، جسے وہ حسبِ ضرورت استعمال کرسکیں۔ سیانے کہتے ہیں جب کوئی کسی کو استعمال کرتا ہے تو ضروری نہیں استعمال ہونے والے کو یہ شعور ہو کہ میں استعمال ہورہا ہوں۔ کسی زنجیر میں بندھے انسان کی زنجیر جتنی بھی لمبی ہو، بالآخر کھونٹے سے بندھی زنجیر ہی اس کی آزادی کی حدود کا فیصلہ کرتی ہے۔
ہماری ساری حکومتیں چیخ چیخ کر اپنی آزادی اور خود مختاری کے تذکرے کرتی رہی ہیں، لیکن ان کے کام کے نتائج عالمی زنجیر سے بندھے نظام کے تحت ہی نکلتے رہے ہیں۔ مثلاً ہمارے وزیراعظم لاک ڈاؤن کے حامی نہ ہونے کے باوجود کیوں لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہوئے؟ اگر وہ خود ہی بتائیں تو زیادہ بہتر ہے۔
پرانی حکومتوں کو بیرونی ایجنڈے پر چلنے کے طعنے دینے والی اس حکومت نے ’’کرونا وبا‘‘ کے نام پر جس طرح عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری ہیں، وہ دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔ آج ہرسُو موجودہ حکومت کے تبدیلی کے دعوے کی ناکامی کی وجوہات زیر بحث ہیں۔ یعنی اسباب و وجوہات میں تو اختلاف ممکن ہے، لیکن ناکامی پر سب متفق ہیں۔ ناکامی کا یہ تأثر اب صرف حکومت مخالف حلقوں کی آواز نہیں رہی، بلکہ اب اندر سے بھی اس سے ملتی جلتی آوازیں گاہ بہ گاہ اُٹھتی رہتی ہیں۔ ایسی تبدیلی کے پُر جوش حامیوں کو پورا موقع دیا گیا کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلیں، تاکہ ان کی یہ حسرت باقی نہ رہے کہ اگر ایک بار موجودہ قیادت کو موقع مل جاتا تو وہ ضرور پاکستان کو ان کرائسس سے نکال کر پاکستان کی تقدیر بدل دیتی۔ تبدیلی سرکار کے حوالے سے یہ تبدیلی بھی مقتدر قوتوں کی صدائے بازگشت ہی لگتی ہے۔ شاید اس سے اُن کا یہ مطلب ہو کہ نظام کے پُرانے خدمت گزاروں کو دوبارہ موقع دے دیا جائے۔ ان حالات میں پرانی پارٹیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جیسے ہم نظام کی حقیقی تبدیلی کے بغیر تیسری سیاسی قوت کے فلسفے کو قوم سے دھوکا سمجھتے ہیں، ایسے ہی پرانی سیاسی قوتوں کو بھی اس نظام کی محافظ قوتیں سمجھتے ہیں، جو چلا ہوا کارتوس تو ہیں، لیکن کسی حقیقی تبدیلی کے لیے قطعاً بھی موزوں نہیں۔
قوم کی کسی مایوسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں دوبارہ قوم پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور نہ ہی مستقبل کے لیے ریزرو (reserve) قیادت میں سے کسی نئے نوخیز لیڈر کو سامنے لاکر قوم سے مذاق کیا جائے۔ موجودہ تبدیلی نے جو کچھ اب تک قوم سے مذاق کرلیا ہے، وہ کافی ہے۔ اس کا قرض بھی قوم نے یہ کہتے ہوئے ادا کردیا کہ ؎
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
اب تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قوم کے نوجوان اس ظالمانہ نظام کی کٹھ پتلیوں کا آلہ کار بننے کے بجائے درست نظریے کا شعوری ادراک، پُرخلوص جدوجہد اور نظم و ضبط کے تقاضوں کی تکمیل کریں۔ ہمارے ملک کے باشعور نوجوانانِ ملک و ملت دینی شعور کی اَساس پر خود اپنے اوپر اعتماد کریں۔ قومی کردار ادا کرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائیں۔ وقت ایسا آن پہنچا ہے کہ وہ قوم کو اس بوسیدہ ،گلے سڑے نظام سے نجات کے لیے شعوری بنیادوں پر کوئی انقلابی حکمتِ عملی طے کریں۔
انسانی ترقی اور حقیقی کامیابی کا نبویؐ طریقۂ کار (2)

(امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس باب کے شروع میں انسان کی ترقی اور کامیابی کے حوالے سے دو طریقہ ہائے کار کی نشان دہی کی تھی: ایک یہ کہ انسان اپنی حیوانیت کو سِرے سے ختم کردے اور صرف اپنی ’’مَلَکیت‘‘ کو ترقی دے۔ دوسرا طریقۂ کار یہ کہ حیوانی تقاضوں کی اصلاح کرتے ہوئے مَلکی تقاضوں کی تکمیل کی جائے۔ اس دوسرے طریقۂ کار کے بارے میں شاہ صاحبؒ نے بتلایا کہ یہ انبیا علیہم السلام کا طریقۂ ترقی ہے اور انسان کی یہی حقیقی ترقی اور کامیابی ہے۔
اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں :)
’’اس کی تفصیل یہ ہے کہ اپنی حیوانیت کو سِرے سے ختم کرنے کا پہلا طریقۂ کار مجذوب لوگ اختیار کرتے ہیں۔ اور اُن کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے۔
[کامیابی کے پہلے طریقے کے نقصانات]
(نیز اس طریقۂ کار میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:)
1۔ یہ طریقۂ کار بڑی مشقت والی ریاضات برداشت کرنے، دنیا کی ہر چیز سے بہت زیادہ بے تعلق اور فارغ رہنے کا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔
2۔ اس طریقۂ کار کے اہم رہنما وہ لوگ ہوتے ہیں، جنھوں نے اپنی معاشی زندگی کو فضول اور مہمل بنا کر رکھ دیا۔ اُن کے لیے دنیا میں کوئی کشش اور چاہت نہیں ہوتی۔
3۔ یہ لوگ اُس وقت تک اس طریقۂ کار کو اختیار نہیں کرسکتے، جب تک کہ دوسرے طریقۂ کار کے مطابق کچھ نہ کچھ اپنے کھانے پینے اور معاش کا انتظام نہ کریں۔
4۔ پھر یہ لوگ کامیابی کے درجِ ذیل دو راستوں میں سے ایک راستے کو بالکل مہمل چھوڑ دیتے ہیں:
(الف) کامیابی کا ایک راستہ؛ دنیا میں ارتفاقات کی اصلاح کا ہے۔
(ب) دوسرا راستہ آخرت کے لیے اپنے نفس کی اصلاح کا ہے۔
5۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر مجذوبوں کے اس طریقۂ کار کو اکثر لوگ اختیار کرلیں تو دنیا کا سارا نظام خراب ہو کر رہ جائے گا۔
6۔ اگر تمام لوگوں کو اس طریقۂ کار کا پابند بنایا جائے تو ایسا کرنا انھیں ایک ناممکن بات کا پابند بنانا ہوگا۔ اس لیے کہ ارتفاقات انسانی جبلت کا بنیادی حصہ ہیں۔
[حقیقی کامیابی کے دوسرے طریقے کے فوائد و ثمرات]
انسانی ترقی کے دوسرے راستے کی درجِ ذیل خصوصیات اور فوائد ہیں:
1۔ اس طریقۂ کار کے رہنما اور ائمہ ’’مُفَہَّمون‘‘ (سمجھ دار لوگ) ہوتے ہیں۔ ان کی ملکیت اور بہیمیت میں باہمی مصالحت ہوتی ہے۔
2۔ یہ سمجھ دار لوگ بہ یک وقت دین اور دنیا دونوں کی حکمرانی اور ریاست قائم کرتے ہیں۔
3۔ انسانیت میں ان کی دینی دعوت بہت زیادہ مقبول ہوتی ہے۔
4۔ ان کے جاری کردہ طریقۂ کار کی ہی عام طور پر اتباع کی جاتی ہے۔
5۔ اس طریقۂ کار پر عمل کرنے سے ملکیت اور بہیمیت میں مصالحت کے حامل لوگوں کے کمالات منحصر ہوتے ہیں، جو دینی کاموں میں سبقت لے جانے والے اور دائیں ہاتھ میں نامۂ اَعمال لینے والے ہیں۔ ایسے لوگ اکثریت میں ہوتے ہیں۔
6۔ یہ طریقۂ کار ایسا ہے کہ ایک ذہین اور کند ذہن آدمی بھی اس پر عمل کرکے کامیاب ہوجاتا ہے۔ نیز معاشی سرگرمیوں میں مشغول اور فارغ رہنے والا فرد بھی اس طریقۂ کار سے مستفید ہوتا ہے۔ اس سے انھیں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔
7۔ یہ طریقۂ کار ایک بندے کو درجِ ذیل اُمور میں بہت کافی ہوتا ہے:
(الف) اس سے استقامتِ نفس پیدا ہوتی ہے۔
(ب) اس کے ذریعے سے وہ اپنے نفس کی کجی اور کوتاہی دور کرلیتا ہے۔
(ج) وہ آخرت میں متوقع مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچ جاتا ہے۔
اس لیے کہ ہر انسانی نفس کے کچھ ایسے مَلکی افعال ہوتے ہیں کہ اگر انھیں کیا جائے تو انسان کو لذت کی نعمت حاصل ہوجاتی ہے۔ اگر اُن افعال کو وہ نہ کرسکے تو اُس کے نفس کو تکلیف اور اذیت حاصل ہوتی ہے۔‘‘
[دوسرے طریقۂ کار پر ایک سوال کا جواب]
(سوال: دوسرا طریقۂ کار اختیار کرنے سے معاشی اُمور میں آدمی ایسا اُلجھ جاتا ہے کہ اُسے ماورائے مادہ عالَم کی طرف پوری توجہ نہیں رہتی۔ وہ معاشی ارتفاقات میں مشغول ہو کر ذاتِ باری تعالیٰ میں پورا استغراق حاصل نہیں کرسکتا۔ اور اُسے وہاں کے علوم حاصل نہیں ہوپاتے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں:)
’’باقی رہا ماورائے مادہ عالَم کے احکامات اور علوم کہ جنھیں انسان اپنی جبلت کے سبب نہیں جان پاتا، تو وہ عنقریب قبر اور حشر کے مختلف مراحل میں اُس کے سامنے کھل کر آجائے گا، اگرچہ کچھ زمانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ستُبدی لک الأیّامُ ما کُنتَ جاہلاً
و یأتیک بالأخبار من لم تُزوّدٖ
(عنقریب تجھ پر (آئندہ آنے والے) دنوں کی اصل حقیقت ظاہر ہوجائے گی کہ جن سے تو جاہل ہے۔ اور جن باتوں سے تُو باخبر نہیں ہوا، وہ باتیں تیرے سامنے آکر رہیں گی۔)
خلاصہ یہ ہے کہ خیر کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا اور تمام علوم پر حاوی ہونا اکثر لوگوں کے لیے قطعی طور پر محال ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ (آنے والے عالَم کے بارے میں) ’’جہلِ بسیط‘‘ یعنی مطلق جہالت نقصان دہ نہیں ہوتی۔ و اللہ اعلم‘‘
(باب توزُّع النّاس فی کیفیۃ تحصیل ہٰذہٖ السّعادۃ)
فاتحِ سندھ ؛ محمد بن قاسم ثقفیؒ (2)

محمد بن قاسمؒ کی جانب سے سندھ پر حملے کی وجہ مظلوموں کی داد رسی تھی، نہ کہ اَملاک کا حصول اور مملکت کی توسیع پسندی تھی۔ محمد بن قاسمؒ خداداد صلاحیتوں سے مالا مال اور قابل لیڈر تھے۔ سندھ کو فتح کرنے کے بعد وہاں نظامِ عدل قائم کیا۔ مالگزاری کے وصول کرنے کے حق کو بھی مقامی باشندوں کے ذمہ ہی رہنے دیا۔ اس رعایت سے مقامی باشندے نہ صرف خوش ہوئے، بلکہ انھوں نے اس عفو و کرم اور حسن سلوک کا بہت چرچہ کیا۔ جس سے ماحول خوش گوار ہوتا گیا۔ اس طرح وہاں کے لوگوں نے نہ صرف محمد بن قاسمؒ کی اطاعت قبول کی، بلکہ اپنے ہم قوم افراد کو یہ کہہ کر اطاعت پر آمادہ کیا کہ ہماری سلطنت تباہ ہوگئی، فوجی طاقت جاتی رہی، اب ہم میں مقابلے کی ہمت نہیں۔ اگر ہم اپنے گھروں سے اور جائیداد سے محروم کردیے جاتے تو ہمارے لیے کہیں ٹھکانہ نہ ہوتا۔ ان فاتحین کی مروّت و عدل سے ہمارا سب کچھ محفوظ ہے۔ مزید یہ کہ محمد بن قاسمؒ نے دیگر مذاہب کے لوگوں کو ان کی عبادت گاہوں میں عبادت کی اجازت دی۔ سیّد طفیل احمد منگلوری لکھتے ہیں کہ: ’’محمد بن قاسم کا برہمنوں کے ساتھ حسن سلوک اور اُن کی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کا اس دور کے ہندو مؤرخوں نے بھی اعتراف کیا ہے۔‘‘
محمد بن قاسمؒ نے یہاں کے غیرمسلم باشندوں کو وہی حیثیت دی، جو صحابہ کرامؓ نے اہلِ ایران کو دی تھی، یعنی نکاح اور ذبیحہ کے علاوہ تمام امور میں ان کے ساتھ اہلِ کتاب کا سا برتاؤ کیا۔ محمد بن قاسمؒ نے تمام مفتوحہ علاقوں میں مسلمانوں کی بستیاں قائم کیں۔ مساجد تعمیر کیں۔ عوام کو اُن کے حقوق سے آشنا کیا۔ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کی اہمیت و حرمت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان اقدامات سے انسانی حقوق کے حوالے سے اسلام کا پیغام یہاں کے لوگوں تک پہنچا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے۔ محمد بن قاسمؒ کے فتح سندھ اور واپس عراق روانگی کے بعد تقریباً تین سو سال کا زمانہ، جس میں بنواُمیہ اور بنوعباس کے خلفا سندھ پر حکمران ہوتے رہے، انھوں نے عرب اور سندھ و ہند کے تعلقات کو علمی و تہذیبی بنیادوں پر اُستوار کیا۔ سندھ کی فتح گویا اس خطے میں سیاسی، تہذیبی اور علمی روشن خیالی کے دور کا آغاز تھا۔
گرفتاری و وفات: جب سلیمان بن عبدالملک خلیفہ بنے اور ادھر حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا تو خلیفہ نے عراق پر یزید بن مہلب ازدی اور صالح بن عبدالرحمن تمیمی کو حکمران مقرر کیا۔ ان دونوں کو حجاج اور ان کے خاندان سے سخت عداوت تھی۔ کیوںکہ حجاج نے یزید بن مہلب کو خراسان کی امارت سے معزول کرکے قتیبہ بن مسلم باہلی کو خراسان کا امیر بنا دیا تھا۔ چناںچہ صالح بن عبدالرحمن نے سندھ کے امیر یزید بن ابوکبشہ کو لکھا کہ چوںکہ محمد بن قاسم بھی آلِ ابوعقیل میں سے ہے، اسے گرفتار کرکے عراق روانہ کردو۔ عراق پہنچے تو دیگر آلِ ابوعقیل کے ساتھ محمد بن قاسمؒ کو واسط کے قید خانے میں بند کردیا گیا اور وہ وہیں 18؍ جولائی 715ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔
اس طرح وہ ایک گروہی عصبیت اور انتقامی سیاست کا شکار ہوگئے۔ اندھی عداوت میں کسی امیر کو یہ نظر نہ آیا کہ وہ اپنی داخلی سیاست و عداوت کی بھٹی میں اسلام کے کتنے بڑے فاتح کو جھونک رہے ہیں۔ اس کے بعد نہ صرف اسلامی فتوحات کا سلسلہ رُک گیا، بلکہ اکثر مفتوحہ علاقے باغی بن گئے اور مسلمانوں کو سخت پریشانی اٹھانی پڑی۔
کرونا بجٹ؟

بجٹ 2020-21ء قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں، تجزیہ نگاروں اور ماہرین نے حکومت کی نااہلی اور عوام کی مشکلات کے تناظر میں غیرسنجیدگی کے رویے پر خوب تنقید کی۔ ہم سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ شاید ہی ان میں سے کوئی عوام کی حالتِ زار کا درد رکھتا ہو۔ دراصل حکومتی پارٹی، بیوروکریسی اور سیاسی پارٹیوں سمیت یہ سب ناقدین دراصل ایک ہی ٹرائیکا کا حصہ ہیں، جس میں جاگیردار، سرمایہ دار اور ہر قسم کی بیوروکریسی شامل ہے۔ پاکستان میں معیشت کے دو رُخ ہیں؛ ایک کا تعلق اس ٹرائیکا کی معاشی طاقت سے ہے اور دوسرے کا تعلق عام عوام سے ہے۔ ہر آفت اور مشکل کی گھڑی میں یہ لوگ غریب، بھوکے، آفت زدہ اور بیمار لوگوں کودکھا کر امداد اور قرضے حاصل کرتے ہیں اور ان قرضوں میں سے بہت کم عام عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ چناںچہ کرونا کی آفت کے بعد اس عمل میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے بڑے سرمایہ دار متحرک ہو چکے ہیں۔ اُن کی طرف سے کاروبار میں آسانی کے لیے مراعات پر مراعات کا تقاضا بڑھتا جارہا ہے۔ دوسری جانب بیوروکریسی اعلان کی جانے والی مراعات کو پروسیجر کی بھول بھلیوں میں ڈال کر اپنا حصہ وصولنے کی حکمتِ عملی پر کارفرما نظر آتی ہے۔ یوں معیشت کے وہ شعبے جو عام انسان کی زندگی کے لیے بہت ضروری ہیں، ان میں نت نئے مافیاؤں کاراج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بحران کے بعد دوسرا بحران جنم لے رہا ہے۔
ایسا کہنا کہ بجٹ ایک ایسی دستاویز ہے، جو سب مسئلے حل کردے تو یہ درست نہیں۔ ہمارے ماحول میں تو یہ ایک مجبوری ہے، جسے ہر سال دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے اور بعد میں کچھ شعبوں کے علاوہ اس پر عمل ہوا یا نہیں؟ اتنا اہم نہیں ہے۔ اس لیے یہ بات غور طلب ہے کہ گزشتہ سال کے بجٹ کے تناظر میں کیا کرونا وبا کے بعد مقامی بینکوں کو سود کی ادائیگی، دفاع اور انتظامیہ کے خرچوں میں کمی آئی؟ ایسا نہیں ہے، لیکن ترقیاتی کاموں اور تعلیم کے شعبوں میں ضرور کمی لائی گئی۔ یہی منظر نئے بجٹ کا بھی ہے، جہاں بینکوں کو سود کی ادائیگی گزشتہ سال 27.1 کھرب روپے سے بڑھا کر 29.5 کھرب روپے، دفاع 12.3 کھرب سے بڑھا کر 12.9 کھرب اور انتظامیہ کا بجٹ 4.5 کھرب سے بڑھا کر 4.8 کھرب کردیا گیا ہے۔ یوں تو ترقیاتی بجٹ بھی 7.6 کھرب سے 8.9 کھرب کردیا گیا ہے، لیکن شاید ہی کوئی سال گزرتا ہو، جب ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہ کی جاتی ہو۔ چناںچہ گزشتہ سال اس بجٹ میں 322 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی اور مندرجہ بالا تمام مدات میں دورانِ سال بجٹ سے زائد ادائیگیاں کی گئیں۔ دراصل حکومتوں کا تبدیل ہونا، نت نئی پارٹیوں کی صورت میں سیاسی کھیل، دوسری جانب عوام سے تعاون کا مطالبہ اور ان کی ترقی و خوش حالی کے نعرے‘ طویل مدت قبل لکھے جانے والے ڈرامے کا پلاٹ اور ڈائیلاگ ہیں، جس میں موجودہ نظام کی موجودگی میں تبدیلی دیوانے کا خواب ہی رہے گا۔
امریکی غلبے کے شاخسانے؛ لیبیا

بحیرۂ روم کا وہ علاقہ جو چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلاتا ہے، یعنی وہ ممالک جو بحیرۂ روم کے مشرقی کنارے پر واقع ہیں، لیبیا ان میں سے ایک ہے۔ معمر قذافی نے 1969ء میں یورپین سامراج کے نمائندے ادریس سنوسی کے خلاف فوجی بغاوت کرکے انقلاب قائم کیا تھا۔ فوجیوں کا وہ دستہ، جس نے بغاوت میں حصہ لیا تھا، اس میں سے ایک فوجی آفیسر خلیفہ ابوالقاسم حفتر کو 1973ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا ٹاسک سونپا گیا۔ 1987ء میں ان کی فوجی خدمات کے اعتراف کے طور پر چاڈ کے خلاف فوجی کارروائی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کی سربراہی میں لیبیا کی فوج کو چاڈ کی فوج کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسٹر حفتر اور اس کے 300 سپاہیوں کو 1987ء میںچاڈ کی فوج کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ جنگی قیدی بنا لیے گے۔ معمر قذافی نے اس کی اس شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اسے فوجی عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ اس پر وہ معمر قذافی کے خلاف ہوگیا۔ حفتر یہاں سے امریکا چلا گیا اور اس نے اگلے 20 سال معمر قذافی کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے وقف کردیے۔ وہ اگلے 20 سال کے لیے امریکی ریاست ورجینیا میں جلا وطنی کی زندگی گزارتا رہا۔ وہاں اس کی سرپرستی سی آئی اے نے کی۔ جہاں سے معمر قذافی پر متعدد قاتلانہ حملے کروائے گئے۔ (بی بی سی 8؍ اپریل 2019ئ) معمر قذافی کو اس کے بیالیس سالہ اقتدار کے خونی اختتام پر بروز جمعرات کو ان کے آبائی گاؤں سرت کے قریب گرفتار کرکے 20؍ اکتوبر 2011ء کو شہید کردیا گیا۔ اس کے بعد حفتر لیبیا واپس آگیا۔
معمر قذافی کی شہادت کے بعد لیبیا کی وحدت کو پارہ پارہ کردیا گیا۔ بن غازی شہر کے آزادی چوک میں اتوار کو عبوری حکومت کے رہنما مصطفی عبدالجلیل کی تقریر سننے کے لیے بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ عالمی غنڈوں کی پشت پناہی سے ملک کا سماجی ڈھانچہ تباہ و برباد کردیا گیا۔ آج دس برس بیت چکے ہیں۔ اس شام کی تقریب کو جس طرح قرآن پاک کی تلاوت سے مزین کیا گیا تھا، ان محبانِ وطن کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ آج تک لیبیا کے اندر کون سی ایسی شان دار تبدیلیاں متعارف کروائی گئی ہیں، جن سے اس سے قبل لیبیائی سماج محروم تھا۔ ہیلری کلنٹن کے مطابق؛ ’’لیبیا میں نیٹو کی مد اخلت کا سبب لیبیا کا سونے پر بنیاد کردہ کرنسی پلان تھا، جو یورو اور ڈالر کا مقابلہ کرسکتا تھا۔‘‘ امریکی مصنف براڈہوف نے اپنے ایک آرٹیکل (Hillary Email Reveal True Motive for Libya Intervention) اور ایک مغربی مصنف ایس آوان نے اپنے ایک مضمون (The Libya Conspiracy) میں لکھا ہے کہ: ’’سب سے پہلے قذافی کا تختہ اُلٹنے اور لیبیا کے معاشرے کے جبری اختتام کی بنیادی وجہ وہ عالمی اور نو آبادیاتی طاقتیں تھیں، جو لیبیا کے نظام پر کنٹرول اور لیبیا کے وسائل، تیل، پانی، سونے پر قبضہ کرنا چاہتی تھیں۔‘‘ (مراہ العارفین انٹر نیشنل، ستمبر 2017ئ) زمبابوے نژاد برطانوی وکیل لویڈ مسیپا نے اپنے ایک آرٹیکل "The Assassination of Mummar Gaddafi illegal under International Law" میں لکھاہے: ’’قذافی کا اصل جرم یہ تھا کہ انھوں نے آئی ایم ایف وغیرہ جیسے عالمی اداروں سے قرضہ لینے سے انکار کیا تھا۔ اس نے بین الا قوامی بینکاروں کے کلب میں شامل ہونے سے انکار کردیا اور اپنا ’پان- افریقی بینک‘ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا، جو افریقی ممالک کو قرض فراہم کرے۔ قذافی کے دورِ حکومت میں افریقی عرب ممالک میں لیبیا واحد ملک تھا، جو کسی بھی ملک یا ادارے کا مقروض نہیں تھا۔‘‘
قذافی کی موت کے بعد لیبیا کو دو حصوں بانٹ دیا گیا۔ قبائیلی سرداروں کو باہمی جنگ و جدل میں اُلجھا دیا گیا۔ ایک کا مرکز ’بن غازی‘ بن گیا تو دوسرے کا طرابلس یعنی تریپولی (Tiripoli)۔ یہ ملک کی سب سے بڑی، قدیم اور اہم بندر گاہ اور تجارتی ومالیاتی مرکز ہے۔ ملک کے مشرقی علاقے میں حزبِ اختلاف کے گروپوں کی سربراہی حفتر کو حاصل ہوگئی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ یہ سارے گروپ سی آئی اے کی پشت پناہی سے ہی چل رہے تھے۔ بن غازی اور مسلح اسلامی گروپوں کے خلاف مشرقِ وسطیٰ میں اخوان المسلمین کے قریبی گروہوں سمیت لیبیا میں اسلام پسندوں کے مخالف ہونے کے طور پر اپنے آپ کو متحدہ عرب امارات اور مصر کی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ اچنبھے کی بات نہیں تھی، کیوںکہ یہ سارے جتھے ایک ہی مرکز کی پیداوار تھے۔
حفتر نے 15؍ جنوری 2020ء کو ماسکو کا دورہ کیا تھا۔ Bloom berg کی 15؍ جنوری 2020ء کی رپورٹ کے مطابق اسے توقع تھی کہ روس اس کے لیے ریڈ کارپٹ کا اہتمام کرے گا، جب کہ اسے صرف وزارتِ خارجہ کے دفتر تک محدود رکھا گیا، جس کا اسے سخت صدمہ ہوا۔ المونیٹر کی 13؍ مئی 2020ء کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر کا مؤقف تھا کہ ہم لیبیا کے اندر ایک ایسا سیاسی نظام متعارف کروانا چاہتے ہیں، جو حقیقی معنوں میں عوام کا نمائندہ ہو۔ اس حوالے سے اس کے سامنے ایک مسودہ رکھا، جس پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا۔ حفتر کے مقابلے میں اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت ہے، جسے GNA (Government of National Accord) کہا جاتا ہے۔ اس حکومت کا سربراہ فیاض السراج ہے۔ اس نے جنگ بندی کے اس معاہدے پر دستخط کردیے، جب کہ حفتر نے غور و فکر کے لیے مزید وقت مانگا۔ روس اور ترکی کی مشترکہ کوشش ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو لیبیا کا سربراہ بننے کا موقع نہ دے، جو ماضی میں امریکی حساس ادارے سی آئی اے کی تربیت سے پروان چڑھا ہو۔ حفتر کا ماضی سی آئی اے کی ایجنٹی سے بھرا پڑا ہے۔ روسی صدر جو اپنے حساس ادارے کا خود سربراہ رہ چکا ہے، اس سے توقع کرنا کہ وہ اپنے مخالف ادارے کے لیبیائی سر براہ کو لیبیا کا سربراہ بنا دے گا، خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
حزب الشیطان کا کام

19؍ جون 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’معزز دوستو! اللہ تبارک و تعالیٰ کو انسانیت بہت محبوب ہے۔ انسانیت کی ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایات کو حرز ِجان بنائے۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ جو اس کی ہدایت سے کام لے گا، وہ نہ تو خوف زدہ ہوگا اور نہ غم زدہ ہوگا۔ جو اِس پر عمل نہیں کرے گا، شیطان کی اتباع کرے گا تو وہ دنیا میں بھی خوف زدہ رہے گا، مصیبت اور مشقتوںمیں مبتلا ہوگا اور اس کے لیے آخرت کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: (شیطان تم انسانوںکا دشمن ہے، تم بھی اُسے اپنا دشمن سمجھو) (6:35)۔ دشمن کو دشمن سمجھنا ایمان کی علامت ہے۔ دشمن کو دوست سمجھنا کفر کی علامت ہے۔ اپنے دشمن سے دوستی لگانا، اُس کی باتوںمیں آجانا، اس کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈے کے زیراثر چلے جانا اور دشمن کو اپنا خیرخواہ سمجھ کر اُس کے ساتھ معاملات طے کرنا، پرلے درجے کی حماقت اور کفر و منافقت ہے۔ پھر اگلی اہم بات یہ فرمائی کہ: (6:35) یعنی شیطان تمھارا ایسا دشمن ہے، جو انسانوں کو اذیت اور تکلیف پہنچانے کے لیے اپنی پوری حزب، پارٹی اور ٹیم ورک سے کام لیتا ہے۔ اس کا ایک لشکر ہے؛ ’’حزب الشیطان‘‘۔ وہ اپنے لشکر کو اس کام پر لگاتا ہے کہ جو لوگ بھی اُس کی پارٹی میں شامل ہوتے جائیں، انھیں وہ جہنم والا بناتا چلا جائے۔ اس کے مقابلے میں ایک لشکر اللہ تعالیٰ کا بھی ہے؛ ’’حزب اللہ‘‘ اور اللہ کا حزب اور پارٹی بھی بڑے منظم انداز سے کام کرتی ہے۔ اس لیے تم اللہ کے حزب اور لشکر کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرو۔
اس آیتِ مبارکہ میں مسلمانوں کو ایک ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ دیکھو اپنے دشمن کی پہچان پیدا کرو۔ اس کی خوش نما باتوں میں نہ آؤ۔ باتیں تو خوب صورت ہی کی جاتی ہیں، جن سے انسانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ کیوںکہ بات اگر بُری ہوگی تو کون اُس کی دعوت کو قبول کرے گا؟ اسی کا نام تو دجل و فریب ہے کہ بات بڑی خوب صورت ہو، بہ ظاہر اُس پر کوئی عقلی اعتراض نہ ہوتا ہو، کوئی منطقی سوال اُس پر نہ کیا جاسکے۔ لیکن کیا بہ ظاہر اس کے سائنٹفک ہونے پر اُسے قبول کر لیا جائے؟ نہیں! کیوںکہ اگر غور و فکر اور تدبر سے جائزہ لیا جائے تو اُن عقلی و منطقی باتوں میں بہت سی بے عقلیاں بھی ہوتی ہیں، اُس کی کوئی علمی بنیاد نہیں ہوتی، البتہ عام آدمی اُسے نہیں سمجھ پاتا۔ اس لیے ایسے موقع پر لوگوں سے کہا ہے کہ: (42:16) اگر تم نہیں جانتے تو جو اہلِ علم ہیں، ان سے پوچھ لو۔ پھر پتہ چلے گا کہ یہ جو منطق جھاڑی جا رہی ہے، یہ جو سائنس بیان کی جا رہی ہے، یہ جو تجربات اور مشاہدات بتلائے جا رہے ہیں، ان کے اندر کون سی غیرعلمی بات ہے؟ منطق کا کون سا مقدمہ جھوٹا اور غلط ہے؟ جس سے یہ نتائج اخذ کیے گئے۔‘‘
شیطانی ذُریت کا شرم ناک نظام
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابلیس پانی پر اپنا تخت رکھ کر بیٹھتا ہے۔ پھر وہاں سے زمین پر اپنے لشکر بھیجتا ہے۔ ان میں سے جو لشکر جتنا زیادہ فتنہ پھیلاتا ہے، اتنا ہی وہ شیطان کے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، 7106) شیطان اور اس کے شطونگڑوں کا سمندروں پر ایک بہت بڑا نظام موجود ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ شیطانوں کا یہ نظام ایسا ہے جیسے گند میں پیدا ہونے والا کیڑوں کا طبعی نظام ہوتا ہے۔ کیڑا اپنی طبیعت کے تقاضے سے گند کھاتا ہے۔ اُس کی بقا کا راز گند کھانے میں ہی ہے۔ کیوںکہ اُسی گندگی سے وہ نکلا ہے اور گندگی کھا کر بڑا ہوا ہے۔ اُس نے گند ہی کھانا ہے، وہ اس کی فطرت میں داخل ہے۔ اسی طرح شیطان کے لشکر __ جن میں شیاطین الجن و الانس دونوں شامل ہیں __ وہ جب کوئی بھی منطقی دلیل دے گا، وہ جب بھی کوئی سائنس بیان کرے گا، حتیٰ کہ کسی مذہب کی بھی کسی آیت کو پڑھ کر سنائے گا تو اُس میں اُس کی گندی ذہنیت ہی کار فرما ہوگی۔ کوئی حدیث بھی پڑھ کر سنائے گا تو اُس کے پیچھے بھی اُس کے اپنے مقاصد ہوں گے۔ ورنہ شیطان کا کیا کام کہ نماز پڑھنے کا کہے۔ نیکی کی بات بتلائے۔ قرآن پڑھوائے۔ وہ آیتیں پڑھ پڑھ کر شیطانی منطق کے دلائل دے گا۔ کیوںکہ اس کی فطرت اور اس کی نشو و نما ہی اس پر ہے۔
پچھلے ڈھائی سو سال سے شیطان نے جب سے انسانوں کا خاندانی نظام تباہ و برباد کیا ہے، جس کاآغاز یورپ میں ہوا، مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط، میاں بیوی کے حقوق اور فرائض سے ہٹ کر عورتوں کا غیر مردوں سے تعلق اور مردوں کا غیر عورتوں سے تعلق، آج تمام تر تغیرات اور موڈی فکیشن کے ساتھ اُس کی بدترین نسل ایسی زہریلی بن گئی ہے کہ وہ گند ہی کھاتی ہے، گند ہی پھیلاتی ہے، گند سے ہی پلی ہے۔ رشوت، لوٹ مار، انسان دشمنی کے رویوں پر پلنے والی یہ آٹھویں دسویں نسل اس وقت دنیا پر حکمران ہے۔ یہ اُسی شیطان کے زیراثر ہے۔ وہی منطقی مقدمے، وہی سائنٹفک انداز و اُسلوب جو انسانیت کی تباہی اور بربادی کے لیے ہے، اسی کے مطابق ان کا دماغ پلتا ہے۔
پھر اس شیطان کے ذیلی نظام میں سمندروں پر وہ سامراجی اڈے ہیں، جو اپنے اپنے علاقے میں انسانیت کی تباہی اور بربادی کے فیصلے کرتے ہیں۔ قوموں کو غلام بنانے کے لیے سمندروں کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ ڈیگو گارشیا کا اڈہ کس کے قبضے میں رہا ہے؟ قطر کے اس چھوٹے سے جزیرے سے شیطانِ اکبر جو اپنی سنٹرل کمانڈ کے تحت پورے سنٹرل ایشیا کو کنٹرول کرنے کے لیے بیٹھا ہوا ہے، وہ ان تمام حکومتوں کے نتھنوں میں لگام ڈال کر ان کا رُخ متعین کرتا ہے کہ تم نے یہ کرنا ہے۔ کیا ساری دنیا کو نہیں پتہ کہ وہ یہ شیطان ہے؟ یہ شیطان دنیا کو سات خطوں میں تقسیم کرکے ہر خطے کا ایک کمانڈر شیطان مقرر کرکے پوری دنیا کے انسانوں کو یرغمال بنانے، شیطان کا آلہ کار بنانے، سود خوری کرنے، سرمایہ پرستی کو پھیلانے کا پورا نظام قائم کیے ہوئے ہے۔‘‘
شیطانی نیٹ ورک کے مقابلے کی حکمت ِعملی
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’شیطان اپنے نیٹ ورک کو کام میں لا کر خوف پھیلاتا ہے، جس کے ذریعے آج مسلسل فحاشی، عریانی، سرمایہ پرستی، سود خوری، لوٹ مار، دولت کو اکٹھا کرنے کی تمام تر منصوبہ بندی پوری سوسائٹی پر مسلط کی جا رہی ہے۔ اب اس کا حل کیا ہے؟ حل یہ ہے کہ آج شیطان جس انٹرنیٹ کو ذریعہ بنا کر قوموں پر مسلط ہے، ہم اس سے بڑے اور طاقت ور نیٹ ورک کو زندہ کریں۔ یہ سامراجی نیٹ ورک تو زیادہ سے زیادہ دماغ کے ذریعے سے کام کرتا ہے، لیکن جو محمدی نیٹ ورک ہے، وہ قلب کے ذریعے سے کام کرتا ہے۔ عشقِ محمدی، اولیاء اللہ کا عشق اور حزب اللہ سے وابستگی دل کی طاقت اور بہادری کا ذریعہ بنتی ہے۔ دماغ کے ذریعے سے لاکھ خیالات ڈالے جائیں، لیکن دل کی مضبوطی اُن تمام خیالات کو جھٹک کر دشمن کا رُعب ختم کرکے رکھ دیتی ہے۔ وہ انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ کسی بھی چیز کے خوف اور ڈر کا فتنہ شیطان اور اس کی ذریت کا پھیلایا ہوا ہے اور شیطان انسان کا دشمن ہے، ایک سچا مسلمان اس کے چکروں میں نہیں آتا۔
یاد رکھیں! یہ بات بڑی متفقہ ہے اور سائنٹفک طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ گزرتے لمحوںکے ساتھ ہر طاقت ور ٹیکنالوجی پہلے والی ٹیکنالوجی سے آگے نکل جاتی ہے۔ پہلے جب کمپیوٹر ایجاد ہوا، وہ کمرے جتنا بڑا تھا اور آج وہ پورا کمپیوٹر اس چھوٹی سی ڈیوائس (mobile) میں آگیا۔ پہلے تاروں (ٹیلی فون) کے ذریعے سے رابطہ قائم کیا جاتا تھا، پھر وائرلیس آیا، پھر اس کے بعد بڑے سائز کے موبائل آئے۔ پھر 2G، 3G، 4G اور اب 5G ٹیکنالوجی آرہی ہے۔ ہر آنے والی ٹیکنالوجی نے پہلے والی ٹیکنالوجی کو فیل کردیا۔ رسول اللہ ؐاور اولیاء اللہ کے ساتھ جڑنے والی مضبوط قلبی طاقت تمھاری سب ٹیکنالوجیز کی خرابیوں کو سمجھتی ہے۔ اس کے غلط استعمال کو ختم کرے گی۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود تو بری نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی تو اللہ تعالیٰ ہی تمھیں امتحان کے لیے دے رہا ہے کہ تم اس کو انسانیت کے حق میں استعمال کر رہے ہو یا انسانیت مخالف مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہو۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسی ٹیکنالوجی کو شیطانی اثرات توڑنے، اس کے فتنوں کا مقابلہ کرنے اور اس کے نیٹ ورک کا غلط استعمال ختم کرنے کے لیے جدوجہد کرے۔
اب آپ انسانیت کو واپس پتھر کے دور میں نہیں دھکیل سکتے، آپ سائنسی ترقیات کا انکار نہیں کرسکتے۔ آج اس 4G اور 5G کے زمانے میں آپ 2G کے فضائل نہیں بیان کرسکتے۔ اب تو آپ نے آگے بڑھنا ہے۔ جو قلبی جرأت کے ساتھ میدان میں آئے گا اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال کرے گا تو وہی کامیاب ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے فوائد سے انکار نہیں ہے، اس کے ذریعے سے انسان نما شیطانوں نے جو خوف کا فتنہ پیدا کیا ہے، اس کا توڑ بھی آپ نے اسی کے ذریعے کرنا ہے۔ اور اس سے اوپر والی ٹیکنالوجی، جس کا تعلق روحانی طاقت اور ایمانی قوت سے ہے، اسے استعمال میں لانا ہے۔‘‘
انسانی حقوق سے متصادم شیطانی حربہ
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آج انسانیت کی تباہی کے لیے شیطان نے بالکل ہی نیا طریقہ ایجاد کیا ہے، جو پچھلے آٹھ دس ہزار کی انسانی تاریخ میں نہیں ہوا۔ اس نئے فتنے کا سب سے پہلے شیطانوں نے تعارف کرایا، جس کا عنوان ہے؛ لاک ڈاؤن۔ یہ شیطان کے انسانیت دشمن کردار کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ اس وقت کے شیطان اور اِبلیس نے پانی پر تخت بچھا کر سی آئی اے کے اُن اڈوں کے ذریعے جنھوں نے ہر علاقے کی کمانڈ سنبھالی ہوئی ہے، اپنے علاقے کی حکومتوں کو آرڈر کیا ہے کہ لاک ڈاؤن مسلط کرکے ان کی معیشت تباہ و برباد کردو۔ اس سے بڑی شیطنت کیا ہوگی؟ کیا کبھی دنیا میں ایسا لاک ڈاؤن ہوا کہ پوری انسانیت کو بند کردیا گیا ہو؟ کسی آئین، دستور، مذہب اور نظریے میں لاک ڈاؤن نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ بنیادی انسانی حقوق سے بالکل متصادم کام ہے۔ لیکن یہاں شیطانی نیٹ ورک نے انسانوں کو یرغمال بنا لیا، خوف زدہ کردیا، انھیں لاک لگا کر بند کردیا، تاکہ اُن کی معیشت تباہ ہو، ملکوں کے حکمران طاقت ور بنیں اور عوام معیشت کے اُلجھاؤ میں مبتلا ہوں۔ وہ خوف زدہ ہو کر یا تو دنیا سے رخصت ہوجائیں، یا اُن کے ڈھب پر ڈھل جائیں اور ان کے آلہ کار اور ایجنٹ ہوجائیں۔ لوگوں کو اتنا تنگ کرو کہ ہر انسان اپنی انسانیت سے محروم ہو کر جانور کی طرح اپنی نکیل اُن کے ہاتھ میں دے دے، وہ جیسے چاہیں اپنی ڈگڈگی پر نچائیں۔ جس طرح آج لاک ڈاؤن کی ڈگڈگی بجائی جا رہی ہے، ایسے ہی کل کو ملکوں کو قرضوں میں دھکیل کر اُن کی معیشت کو تباہ و برباد کرکے قرضوں کے ذریعے سے کنٹرول کیا جائے گا۔ اس شیطانی نیٹ ورک کے ذریعے سے انسانی دماغوں کو ہائی جیک کر کے اُن کو اپنے عالمی سامراجی مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔
ایسے حالات میں ایک مسلمان کو گھبرانا نہیں، مایوس نہیں ہونا۔ کیوںکہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: میری اُمت میں قیامت تک ہمیشہ ایسی جماعت ضرور رہے گی، جو اس شیطانی نیٹ ورک کا مقابلہ کرے گی۔ اگر اس جماعت کو شیطان تکلیف پہنچانے کی کوشش بھی کریں گے تو اُن کی مخالفت انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ (صحیح مسلم: 4950) کیوںکہ وہ انسانیت کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہوگی۔ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر یقین نہیںہے؟
یاد رکھیے! شیطانی قوتوں کا نیٹ ورک ٹوٹنا ہے۔ انسانیت بحال ہوگی۔ وہ اپنے حقوق کے لیے نکلی ہوئی ہے۔ پھر جس بیماری کو بہانہ بنا کر لاک ڈاؤن کیا گیا، یہ بیماری اصل نہیں، بلکہ اصل بیماری دلوں کا مرض ہے کہ انسانوں کو غلام اور یرغمال بنایا جائے۔ اس لیے دشمن کو دشمن سمجھیں۔ سرمایہ پرستوں کی میڈیکل سائنس اور رسمی مذہب کی کہانیوں، حکمرانوں کی تقریروں اور اُن کے بہ ظاہر خوش نما الفاظ کے پیچھے مت جائیں۔ حقائق کا شعور حاصل کریں۔ نبیؐ کی تعلیمات اور آپؐ کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو سمجھنے، اپنے دشمن کو دشمن سمجھنے اور اس کا مقابلہ اور مزاحمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)‘‘
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ

حریت و آزادی کے ایک عظیم مجاہد اور بر عظیم پاک و ہند کی بیسویں صدی کی متحرک شخصیات میں ایک نمایا ں نام رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کا ہے۔ ان کا شمار مولانا ابوالکلام آزادؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مفتیٔ اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، حکیم اجمل خاںؒ، ڈاکٹر مختار احمدانصاریؒ کے ممتاز رفیقوں میں ہوتا ہے۔ وہ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے مخلص متوسل اور مرید تھے۔ سیاسی طور پر انھی سے رہنمائی لیتے تھے۔
رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ ۱۱؍ صفر ۱۳۱۰ھ /3؍ جولائی 1892ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حضرت مولانا محمد زکریاؒ لدھیانہ کے معروف عالمِ دین اور مفتیٔ اعظم پنجاب تھے۔ موصوفؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے دادا مولانا شاہ محمد لدھیانویؒ سے حاصل کی۔ 1903ء میں دادا جان کے وصال کے بعد مولانا نور محمد لدھیانویؒ کے ’مدرسہ حقانی‘ لدھیانہ میں داخل کروائے گئے، جہاں ابتدائی کتابیں پڑھنے کے بعد وہ جالندھر اور امرتسر میں بھی زیرِ تعلیم رہے۔
جنگِ بلقان کا آغاز ہوا تو مولانا حبیب الرحمن کے دل میں انگریزوں کے خلاف نفرت نے شدت اختیار کرلی تھی۔ اسی دوران اپنے ہم مکتبوں کے ساتھ مل کر مولانا نور محمد لدھیانویؒ کے ’اسلامیہ سکول‘ کے میدان میں ایک جلسے کا اہتمام کیا۔ 1857ء کے بعد اپنی نوعیت کا یہ پہلا جلسہ تھا۔ اس جلسے میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے اور تمام مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی تھی۔ یہ جلسہ ان کی زندگی میں ایک سنگِ میل تھا، جہاں سے ان کی سیاسی زندگی کا آغاز بھی کہا جا سکتا ہے۔ 1917ء میں تعلیم کی غرض سے دار العلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں ان کا تعارف اس دور کی اکابر شخصیات سے ہوا۔ ان میں حضرت اقدس شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ اور شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے نام سرِفہرست ہیں۔
1919ء میں تحریکِ خلافت کے ابتدائی دور سے ہی جلسوں میں شرکت کرنے لگے۔ جلیانوالہ باغ کے سانحے نے مولاناؒ کی تحریکی سرگرمیوں کے لیے مہمیز کا کام دیا۔ وہ 1920ء سے 1950ء تک جمعیت العلمائِ ہند کے رکن رہے۔ اپنے سیاسی تدبر کی بنیاد پرمجلسِ احرار اور جمعیت العلماء ہند کوآپس میں ملائے رکھنا یقینا ان کا کمال تھا۔ وہ پنجاب میں تحریکِ خلافت کے روحِ رواں سمجھے جاتے تھے۔ نیز تحریکِ خلافت کی سینٹرل کمیٹی تمام اہم امور میں بذریعہ خط و کتابت ان کے ساتھ رابطے میں رہتی تھی۔ 1920ء میں تحریکِ خلافت اور 1921ء میں تحریکِ عدم تعاون میں سرگرم کردار ادا کرنے کی پاداش میں انھیں پابندِ سلاسل ہونا پڑا۔ اس کے بعد تحریکاتِ آزادی میں کام کرنے کی وجہ سے وقتاً فوقتاً قید کا سامنا کرنا پڑا۔ 1921ء سے 1947ء تک انگریز سامراج نے انھیں متعدد بار گرفتار کیا۔ انھوں نے مجموعی طور پر 13 سال 6 ماہ جیلوں میں گزارے۔
لدھیانہ کے عوام مولانا حبیب الرحمنؒ سے بے پناہ عقیدت اور محبت رکھتے تھے، جس کا ایک شان دار مظاہرہ 1922ء میں اس وقت دیکھنے میں آیا، جب لدھیانہ کی جیل میں انگریز سامراج نے انھیں پھانسی کی کوٹھڑی میں بند کر دیا۔ اس کے بعد پورے شہر لدھیانہ سے ہزاروں کی تعداد میں عوام جلوس کی شکل میں احتجاج کے لیے نکلے، جن میں 5000 خواتین بھی شامل تھیں۔ اس جلوس نے حکومت پر ایک رعب قائم کردیا۔
1926ء میں لدھیانہ کی شاہی مسجد پر جب قادیانیوں نے قبضہ کرلیا تو اس کو چھڑوانے میں بھی مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کا کردار نمایاں رہا۔ بعد میں اس مسجد کی تولیت بھی مولانا موصوفؒ کے سپرد کردی گئی، جسے انھوں نے بہ خوبی نبھایا اور آج تک ان کے خاندان کے پاس ہی ہے۔ 29؍ دسمبر 1929ء کو ’مجلس احرارِ اسلام‘ کے نام سے مسلمانانِ بر عظیم کے ایک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی۔ امیرِشریعت حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، چودھری افضل حقؒ، مولانا سیّد محمد دائود غزنویؒ اور مولانا مظہر علی اظہرؒ وغیرہ کا شمار اس تحریک کے بانیان میں کیا جاتا ہے۔ رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ برسوں مجلسِ احرار ہند کے صدر رہے، جو ملک کی مقبول ترین جماعت بن چکی تھی۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ ’’سوانح شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’اَحرار کی تحریک اگرچہ مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ اور چوہدری افضل حق مرحوم کی سیاسی ذہانت اور مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے اخلاص، جوش اور سحربیانی کا نتیجہ تھی، لیکن اس کے قالب میں جو دینی روح تھی، وہ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے تعلق اور اخلاص و درد کا پرتَو تھی۔‘‘
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒؒ کا روحانی تعلق خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور سے تھا۔ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ پھر پوری زندگی اپنی انفرادی و اجتماعی اور خاص طور پر سیاسی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے حضرت رائے پوری ثانیؒ کی رہنمائی کو مشعلِ راہ بنا لیا۔ حضرت اقدسؒ کی مجالس میں بھی مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کا تذکرہ کثرت سے ملتا ہے۔
1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد لدھیانہ سے دہلی منتقل ہو گئے تھے۔ بقیہ زندگی کی تمام تر سرگرمیاں دہلی میں رہ کر سر انجام دیں۔جمعیت علمائِ ہند، تحریکِ خلافت، تحریکِ عدمِ تعاون، تحریکِ اَحرار اور ان سے متعلقہ متعدد پلیٹ فارمز پر اپنا بھرپور اور اَن تھک کردار ادا کیا۔ اپنی تمام زندگی وطن و ملت کی خدمات کے لیے وقف کردی۔
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کا وصال بھی ٹھیک 66 سال بعد ۱۱؍ صفر المظفر ۱۳۷۶ھ / 2؍ ستمبر 1956ء کو ہوا۔ مجاہد ِملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ نے ان کی شخصیت کا ذکر اس طرح کیا ہے:
’’رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن صاحبؒ اپنے سیاسی شعور، جوشِ عمل، اولوالعزمی اور جدوجہد کے امتیاز سے ہمیشہ نمایاں رہے۔ تحریکِ آزادی میں سرگرم حصہ لیا اور اس راہ میں بارہا قیدوبند کی شدید صعوبتیں برداشت کیں‘‘۔
End of issue
Back
