بنی اسرائیل کی تربیت کا ایک اہم واقعہ

وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تَذبَحوا بَقَرَةً ۖ قالوا أَتَتَّخِذُنا هُزُوًا ۖ قالَ أَعوذُ بِاللَّهِ أَن أَكونَ مِنَ الجاهِلينَ
قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما هِيَ ۚ قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ لا فارِضٌ وَلا بِكرٌ عَوانٌ بَينَ ذٰلِكَ ۖ فَافعَلوا ما تُؤمَرونَ
(اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کو: ذبح کرو ایک گائے۔ وہ بولے: کیا تُو ہم سے ہنسی کرتا ہے؟ کہا: پناہ خدا کی کہ ہُوں مَیں جاہلوں میں۔ بولے کہ: دعا کر ہمارے واسطے اپنے ربّ سے کہ بتا دے ہم کو کہ وہ گائے کیسی ہے؟ کہا: وہ فرماتا ہے کہ: وہ گائے ہے، نہ بوڑھی اور نہ بِن بیاہی، درمیان میں ہے بڑھاپے اور جوانی کے۔ اب کر ڈالو جو تم کو حکم ملا ہے۔) (-2 البقرہ: 67-68)
گزشتہ آیات میں بتلایا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کی اجتماعی زندگی کی ترقی کے لیے ہفتے کا دن اللہ تعالیٰ کی عبادت اور دینِ حق کی اجتماعیت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ اس قانون کی پابندی سے اُن کی ترقی کا راستہ کھلتا تھا۔ انھوں نے اس کی خلاف ورزی کی۔ اس قانون شکنی کی سزا کے طور پر انھیں انسانیت سے نچلے درجے میں بندر بنا دیا گیا۔
ان آیاتِ مبارکہ (67 تا 73) میں گائے کے ذبح کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے ضمن میں بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت اور قومی ترقی کے لیے اللہ تعالیٰ کے انعام کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے سے ان کے دلوں میں تعلق مع اللہ، اس کے احکامات کی پابندی اور انسانی حقوق کی پاسداری کی حقیقت واضح کی جا رہی ہے۔
وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ: تمام انبیا علیہم السلام اپنی قوم کی تعلیم و تربیت اور قومی ترقی کے لیے دنیا میں مبعوث کیے گئے ہیں۔ بنی اسرائیل کی قومی ترقی اور روحانی سربلندی کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھیجے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے ذریعے سے اس قوم پر انعامات کی بڑی بارش کی۔ انھوں نے ہر اہم مرحلے پر اُن کی قومی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے کردار ادا کیا۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ساس بنی اسرائیل سیاسۃً حسنۃً‘‘ (تاویل الاحادیث) (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی سیاست بہت عمدہ طریقے سے کی)۔ سیاست کا بنیادی ہدف کسی قوم کی اجتماعی شیرازہ بندی کو مضبوط بنانا اور مجموعی طور پر انھیں ترقی دینا ہوتا ہے۔ ایسی شیرازہ بندی‘ قوانین کی پابندی کے بغیر نہیں ہوسکتی اور قوانین کا بنیادی مقصد مالی بدعنوانیوں اور جسمانی ظلم و ستم سے سوسائٹی کو پاک کرنا ہوتا ہے۔ انبیا علیہم السلام اسی کے ساتھ ساتھ اللہ سے سچے تعلق اور اُس کی تجلیات کے نظام کے ساتھ انسانیت کو مربوط بنانے کے لیے آتے ہیں۔ اس تناظر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے کہا کہ:
إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تَذبَحوا بَقَرَةً ۖ : اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم گائے ذبح کرو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی خرابیوں کو سمجھا۔ اُن میں سے ایک بڑی خرابی جو فرعون کے زیر اثر قبطیوں اور مصریوں کے ذریعے سے اُن میں دَر آئی تھی، وہ گائے اور بچھڑے کی پرستش کا عقیدہ تھا، جیسا کہ ہندوؤں میں گائے کی پوجا کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ اس واقعے کے ذریعے سے ان میں گائے کی تقدیس کا جو تصور پایا جاتا تھا، اُس کا رد کرنا اور انھیں تجلی الٰہی کے ساتھ جوڑنا مقصود تھا۔ پھر مال کے لالچ میں ایک آدمی کو اُس کے چچازاد بھائیوں نے قتل کردیا تھا۔ اس طرح انھوں نے اجتماعی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مال اور جان کی حرمت کی پامالی کی تھی۔ اس آیت میں اس پر تنبیہ ہے۔
قالوا أَتَتَّخِذُنا هُزُوًا ۖ : صدیوں سے قبطیوں اور مصریوں کی صحبت میں رہنے کے نتیجے میں بنی اسرائیلیوں کو اپنے فرسودہ خیال کے مطابق ’’مقدس گائے‘‘ ذبح کرنے کا حکم بڑا عجیب لگا۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ گائے کی تقدیس کا عقیدہ ذہن میں رکھتے ہوئے اُسے ذبح بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ سمجھا کہ شاید وہ ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔ اور کہا کہ کیا آپ گائے کے ذبح کا حکم دے کر ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟
قالَ أَعوذُ بِاللَّهِ أَن أَكونَ مِنَ الجاهِلينَ : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واضح کیا کہ اوّل تو میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ نبی کبھی ایسا کام نہیں کرتے، جو اللہ کے حکم کے بغیر ہو۔ دوسرے یہ کہ مذاق اور ٹھٹھا کرنا جاہلوںکا کام ہوتا ہے۔ جو لوگ علم اور دانش نہیں رکھتے، وہ فضول کاموں، ٹھٹھا اور مذاق میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں: ’’ٹھٹھا کرنا احمق جاہل کا کام ہے اور وہ بھی احکامِ شرعیہ میں۔ پیغمبر سے یہ ہرگز ممکن نہیں‘‘۔ اس پر انھیں تنبیہ ہوئی کہ یہ مذاق نہیںہے، بلکہ واقعی اللہ کا حکم ہے کہ گائے ذبح کی جائے۔ اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں۔
قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما هِيَ ۚ : ایک جاہل اور غلط تصورات کے اسیر افراد کا حال ایسا ہی ہوتا ہے کہ کوئی حکم سمجھ میں نہ آئے تو سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چند سوالات کیے۔ شاید کہ اس حکم سے جان چھوٹ جائے۔ اس لیے انھوں نے پہلا سوال کیا کہ ہمارے سامنے گائے کی حالت واضح کی جائے ، یا ہمیں سمجھایا جائے، تا کہ قانون کی سمجھ اور فہم پیدا ہوجائے۔
قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ لا فارِضٌ وَلا بِكرٌ عَوانٌ بَينَ ذٰلِكَ ۖ : حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں کہ: انھوں نے پہلا سوال کیا ’’یعنی اس (گائے) کی عمر کتنی ہے؟ اس کے حالات کیا ہیں؟ نوعمر ہے یا بوڑھی؟‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ وہ نہ بوڑھی ہو اور نہ ہی جوان۔ درمیانی عمر کی ہو۔ یعنی عمر اور حالت سے زیادہ اس چیز پر توجہ دو کہ اللہ کی طرف سے جو تمھیں حکم دیا گیا ہے، اس کو کرگزرو۔
فَافعَلوا ما تُؤمَرونَ: اس پہلے سوال کے جواب میں انھیں گائے کے ذبح کرنے کا دوبارہ تاکیدی حکم دیا گیا۔ اس جواب سے اُن کا ’’حجابِ طبعی‘‘ توڑا گیا کہ گائے کے ذبح کرنے کے حوالے سے اُن کی طبیعت پر جو پردے چڑھے ہوئے ہیں، وہ ختم ہوں، اور حکم دیا گیا کہ فرمانِ الٰہی کو دل و جان سے پورا کیا جائے۔
عبادات اور اَخلاقیات کا باہمی ربط

عَنْ أبِي ہُرَیْرَۃَ، أِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ’’أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟‘‘ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِینَا مَنْ لا دِرْھَمَ لَہُ، وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: ’’إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي، یَأْتِي یَوْمَ الْقِیَاَمَۃِ بصَلَاۃِ، وَ صِیَامٍ، وَ زَکَاۃٍ، وَ یَأْتِي قَدْ شَتَمَ ھٰذَا، وَ قَذَفَ ھٰذَا، وَ أَکَلَ مَالَ ھٰذَا، وَ سَفَکَ دَمَ ھٰذَا، وَ ضَرَبَ ھٰذَا، فَیُعْطٰی ھٰذا مِنْ حَسَنَاتِہِ، وَ ھٰذا مِنْ حَسَنَاتِہِ، فَإِنْ فَنَیَتْ حَسَنَاتُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْضَیٰ مَا عَلَیْہِ أُخِذَ مِنْ خَطَایَاھُمْ، فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّار‘‘۔ (المسلم، حدیث 2581)
(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ـ‘‘ صحابہؓ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے، جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی سازوسامان۔ آپؐ نے فرمایا: ’’میری اُمت کا مفلس وہ شخص ہے، جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ (کی ادائیگی کا عمل) لے کر اس طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ تو اس کی نیکیوں میں سے اِس کو بھی دیا جائے گا اور اُس کو بھی دیا جائے گا۔ اور اس پر جو ذمہ ہے، اس کی ادائیگی سے پہلے اگر اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی، تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔)
یہ حدیث عبادات اور اَخلاقیات کا باہمی ربط بیان کررہی ہے۔ آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق اُمت کا مفلس وہ کہلائے گا، جس نے نماز، روزہ اور زکوٰۃ تو ادا کیا ہوگا، لیکن لوگوں کے ساتھ اس کا میل برتائو ٹھیک نہیں تھا۔ گالی گلوچ کرتا، ان پہ تہمت لگاتا، ناجائز مال حاصل کرتا، خون بہاتا، قتل کرتا اور مارپیٹ کرتا تھا۔ ایسا شخص روزِ قیامت جب حساب کتاب کے لیے اللہ کے دربار میں پیش کیا جائے گا، تو اس کے ظلم کے شکار لوگ اللہ کے رُوبرو شکایت کریں گے اور ہر ایک اپنے اوپر ہونے والا ظلم بیان کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائیں گے کہ اس کے ان جرائم کے بدلے میں اس کی نیکیاں ان ستم زدہ لوگوں کو دے دو، لیکن اس کی زیادتیوں کا بدلہ ابھی مکمل نہ ہوا ہوگا کہ اس کی ساری زندگی کی عبادات، معاملات کی خرابی کی نذر ہوجائیں گی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اَب شکایت کرنے والوں کے گناہ اس کے اوپر ڈال دو۔ تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور ان گناہوں کے بوجھ کے ساتھ اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
معلوم ہوا کہ عبادات کا اہم مقصد اَخلاق کی درستی ہے۔ ہر عبادت کا اپنا ایک مقصد اور الگ الگ نتائج ہیں۔ یہ مقاصد اِنسانی مزاج، رویوں اور اس کے اَخلاق کی درستی کے حصول کے لیے ہیں۔ یوں عبادات انسان کے لیے ایک اچھا انسان بننے میں مددگار ہوتی ہیں۔ اس لیے مؤمن کو اس امر پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے کہ اس کے اخلاق کیسے ہیں؟ یوں اس کے رویوں سے ظاہر ہوجائے گا کہ عبادات کا اس پر کیا اَثر ہورہا ہے۔
حضرت حسان بن ثابت خزرجی نجاری انصاری رضی اللہ عنہٗ (1)

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہٗ جلیل القدر صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوالولید‘‘ اور آپؓ کا لقب ’’شاعر رسول اللہ‘‘ تھا۔ آپؓ مدینہ میں قبیلہ بنوخزرج کے ایک گھر میں پیدا ہوئے۔ آپؓ کا سلسلۂ نسب یہ ہے: حسان بن ثابت بن منذر بن حرام بن عمرو۔ آپؓ کی والدہ کا نام فریعہ بنت خالدتھا، جو قبیلہ خزرج سے تھیں اور حضرت سعد بن عبادہؓ سردارِ خزرج کی چچا زاد بہن تھیں۔
حضرت حسانؓ بڑھاپے میں ایمان لائے۔ ہجرت کے وقت آپؓ کی عمر 60 برس تھی۔ آپؓ کی آدھی زندگی دورِ جاہلیت کی اور باقی آدھی عہد ِاسلامی کی یادگار ہے۔ آپؓ کی دینی و عملی خدمات تاریخِ اسلام کا اہم باب ہیں۔ قرآن حکیم کی فصاحت و بلاغت سن کر جو شعرا مسلمان ہو گئے، اس نے ان میں ایک نئی روح پھونک دی، حسان بن ثابتؓ بھی ان میں سب سے زیادہ حصہ لینے والے ہیں۔ آپ ؓسے چند احادیث مروی ہیں، جو کتب احادیث میں موجود ہیں۔ آپؓ اگرچہ عمر رسیدہ ہونے کے باعث کسی غزوے میں شامل نہ ہوئے، مگر اپنی شعر و شاعری اور زبان کے تیکھے استعمال سے دشمن کے خلاف مثبت پروپیگنڈے کے ذریعے خیال و عمل کی قوتوں کو مہمیز دیتے رہے۔ آپؓ طویل عمر اور تجربے کی وجہ سے دُور رَس نگاہ کے حامل اور صاحبِ بصیرت شخص تھے، جس کی نشان دہی آپؓ کے کلام میں جابہ جا محسوس ہوتی ہے۔ آپؓ قریش کے اسلام دشمن شعرا کی ’’ہجو‘‘ کا مسکت جواب دیتے تھے۔ اس دور کا سوشل میڈیا‘ شعری کلام ہوا کرتا تھا۔ کسی کے خلاف یا حمایت کے لیے اشعار کہے جاتے اور بہت جلد وہ پھیل جاتے اور زبان زدِ عام ہوجاتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات پر حضرت حسانؓ نے بڑے پُر درد مرثیے لکھے۔ شاعری کے لحاظ سے عہد ِجاہلیت اور دورِ اسلامی کے آپؓ بہترین شاعر تھے۔ کفار کی ہجو (بُرائی) اور مسلمانوں کی شان میں بے شمار اشعار کہے ہیں۔ شاعری ان کے خاندان میں نسلاً بعد نسلاً چلی آتی تھی۔ باپ، دادا، بیٹے عبد الرحمن اور پوتے سعید بن عبد الرحمن سب شاعر تھے، بلکہ اصحابِ مُذہَّبَات میں سے تھے، یعنی ایسے شاعر تھے کہ ان کی باتیں آبِ زر (سونے کے پانی) سے لکھی جائیں۔ شاعری آپؓ کی سیرت کا ایک مستقل عنوان ہے۔
عہد ِاسلام کی شاعری مبالغے سے خالی ہے۔ ظاہر ہے جو شعر مبالغے سے خالی ہو، وہ بالکل پھیکا، بے مزہ ہوگا۔ حضرت حسانؓ خود فرماتے ہیں کہ: ’’اسلام جھوٹ سے منع کرتا ہے، اس وجہ سے میں نے اِفراط (بڑھا چڑھا کر بیان) کو جو جھوٹ کی ایک قسم ہے، بالکل چھوڑ دیا ہے۔ حضرت حسانؓ کی ہجو دفاعِ دین پر مشتمل اور گالی گلوچ سے خالی ہے۔ اہلِ حق کی دینِ حق کے غلبے کی جدو جہد، جہاد کو واضح کرنے کے لیے تھی۔ صاحب ’’الروائع‘‘ نے آپؓ کو شعرِ اسلامی کا بانی و مؤسس قراردیا ہے۔ اس طرح وہ ایک تاریخ داں شاعر ثابت ہوئے۔ انھوں نے اپنے اشعار میں دین و سیاست کو جمع کیا ہے۔ ( دیوانِ حسان، دکتور عمر فاروق الطباع )
استحصالی نظام کی باسی کڑھی میں اُبال

آج کل پاکستان میں ہر طرف صدارتی نظام کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ اس پر ہرطرح کے میڈیا پر خوب لکھا اور بولا جارہا ہے۔ گویا یہ آج کل کا ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں قومی اور اجتماعی مسائل پر آزادانہ رائے کے بجائے ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے سازی کی باقاعدہ ایک مہم چلائی جاتی ہے۔ پھر اس سے اپنی مرضی کے نتائج لیے جاتے ہیں، بلکہ آج کل تو سوشل میڈیا پر ’’ہیش ٹیگ‘‘ کو باقاعدہ سوشل میڈیائی جنگ کا ایک مضبوط ہتھیار تصور کیا جاتا ہے، جس سے لوگ میڈیا پر اس مسئلے کو تلاش کرتے ہیں، جس پر سب سے زیادہ بات چیت چل رہی اور بحث و مباحثے ہورہے ہوتے ہیں۔ اسے سوشل میڈیا کی زبان میں ’’ٹاپ ٹرینڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس پر پھر کبھی سہی کہ آخر یہ کون سی قوتیں ہیں کہ کسی بھی وقت کسی مسئلے کو وہ ہاٹ ایشو بنادیتی ہیں اور پھر دھڑا دھڑ ہرطرف سے اس پر لکھا اور بولا جانے لگتا ہے اور عوام کی رائے کو ایک خاص نکتے پر مرتکز کیا جانا شروع ہوجاتا ہے۔آج ہمیں صرف اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ موجودہ نظام کی ناکامی سے توجہ کیوں ہٹائی جارہی ہے اور ایک نئی بحث کس لیے شروع کردی گئی ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کے بجائے صدارتی نظام ہونا چاہیے اور آخر اس نظام کی ناکامی کو کیوں بے نقاب نہیں کیا جارہا؟
خلط ِمبحث کے طور پر صدارتی طرز ِحکمرانی کے فضائل اور جمہوری طرز ِحکومت کے نقائص گنوانے والے اس سفاک اصل سرمایہ داری نظام کی ناکامی کو تسلیم کرنے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں، جو اِن دونوں نظاموں کی قبا میں چھپا ہوا ہے اور پچھلے تقریباً سو سال سے دنیا بھر کے ملکوں میں ’’جمہوری‘‘، ’’صدارتی‘‘ اور ’’بادشاہی‘‘ ناٹک کے ساتھ بہت سے ملکوں میں انسانیت کی تباہی اور بربادی کی منظر کشی کر رہا ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ در اصل آج ہمارے ملک میں گزشتہ چوہتر برسوں سے مسلط سرمایہ دارانہ نظام کی یہ ناکامی ہے اور اس نظام کی ناکامی کسی ایک حکمران جماعت یا کسی اعلیٰ عہدے پر براجمان کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں، بلکہ ملک میں موجود ساری سیاسی و مذہبی جماعتوں کی ناکامی ہے۔ کیوں کہ یہ ساری جماعتیں اسی نظام کی نمائندہ اور محافظ رہی ہیں۔ انھیں اپنی اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ کیوں کہ ان سب نے باری باری اقتدار کے مزے لوٹے ہیں۔ ان سب کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ یہ نظام کی حقیقت اور اس کے ظلم و استحصال کو چھوڑ کر صرف افراد کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں اور افراد ہی سے توقعات لگانا سکھاتی ہیں۔ گزشتہ چوہتر سالوں سے ان کی یہی رَوِش رہی اور ہمارے ہاں یوں ہی کاروبارِ سیاست جاری و ساری رہا ہے۔
ان طرز ِحکمرانیوں کی یہ بحث کوئی نئی نہیں۔ یہ تو زمانوں سے زیرِ بحث رہی ہیں۔ طرز ِ حکمرانی کا علم اور اس حوالے سے آرا تاریخ کا حصہ ہیں اور ماضی کا لٹریچر ان سے بھرا پڑا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پون صدی سے مسلط نظام کے قوم پر اثرات و نتائج کیا ہیں؟ اور جب وہ ہمارے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے تو آج تک ان جماعتوں نے اس سے قوم کی جان کیوں نہیں چھڑائی۔ لہٰذا ایسے موقع پر استحصالی اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھ کر صدارتی اور جمہوری نظام کی بحثیں‘ استحصالی نظام کی باسی کڑی میں اُبال کے سوا کچھ نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کی جماعتوں کی سیاست ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور یہ صرف لوٹنے کے لیے ملک پر مسلط ہیں۔ گویا باڑ ہی کھیت کو کھارہی ہے۔ آپ جائزہ لیجیے اگر ایک خاندان کے بعض افراد سیاست اور حکومت میں موجود رہے ہیں تو وہ اپنے خاندان کے ان افراد سے کہیں زیادہ امیر اور خوش حال ہیں جو سیاست میں نہیں یا انھیں حکومت میں آنے کا موقع نہیں ملا۔ یہاں کی سیاسی جماعتیں کلی طور پرموروثی ہیں۔ جماعتوں کو چلانے والے جماعتوں کے رہنما کم اور مالک زیادہ ہیں۔ وہ جماعتوں کو ایسے چلاتے ہیں، جیسے کمپنیوں کے مالکان اپنی کمپنیوں کو کاروباری اصولوں پر چلایا کرتے ہیں۔
یہ وقت دو طبقوں کے لیے بہت اہم ہے؛ پہلا: روایتی سیاسی نظام کو قبول کرکے اس کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کرنے والا طبقہ کہ وہ اب سوچے اور اسے اب اس مخمصے سے باہر نکلنا ہوگا کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے قوم کی کایا کلپ ہوسکتی ہے، بلکہ یہ ایک ناممکن امر ہے۔ اب اسے نظام کی تبدیلی کے نظریے کی dynamics پر سوچنا چاہیے، اور نظام کی تبدیلی کے نظریے پر کام کرنے والی قوتوں کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
دوسرا طبقہ جو شروع دن ہی سے اس نئے بننے والے ملک کے لیے ایک نئے نظام کی ضرورت کو محسوس کررہا تھا، اس نے اوّل دن سے اس نظام کے چہرے سے نقاب الٹی اور اس کی تبدیلی کا نظریہ دیا۔ ہر طرح کے نا مساعد حالات میں وہ اپنے سفر کے راہی رہے۔ راستوں کے سنگ و خار ان سے اُلجھتے رہے، لیکن وہ طَرح دے کر اپنے سفر پر گامزن رہے۔ آج جہاں حالات نے ان کے مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔ اور وقت نے تبدیلیٔ نظام کے نظریے کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر منوا لیا ہے۔
آج اس قافلے کے نوجوانوں سے قوم کو اُمیدیں بندھ رہی ہیں۔ لہٰذا اب انھیں تبدیلیٔ نظام کی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا اور اپنی جدوجہد کو تبدیلی اور انقلابات کے جدید معیارات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اس قافلے کے جواں ہمت افراد کی مستقل مزاجی روایتی جماعتوں سے مایوس ہوتے ہوئے نوجوانوں کو اپنے نظم میں جذب کرنے کا سبب بنے گی۔ یوں یہ انقلابی قوت ایک ایسی تحریک کا روپ دھار لے گی، جو قوم کی امیدوں کا مرکز بن جائے گی اور شعور و عمل کا صور پھونکنے کا سبب بنے گی۔
آج ملک میں موجود مسلط نظام پر کسی بھی چلمن ساز کی پردہ داری کو شعور کی آنکھ سے دیکھتے رہنے کی ضرورت ہے، تاکہ سفاک نظام کو اسلام اور جمہوریت کے پُرانے سابقے کے بعد کسی اَور لبادے میں ملفوف کرکے نئے سابقے اور لاحقے کے ساتھ قوم کو کسی نئی خوش فہمی میں مبتلا نہ کیا جاسکے۔
(مدیر)
چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’جب تم نے (ان چاروں اَخلاق؛ طہارت، اِخبات، سماحت اور عدالت کے) اصول جان لیے، اب ہم ان اَخلاق کی بنیاد پر بعض تفصیلات کو بیان کرنے میں مشغول ہوتے ہیں۔
(1) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی جماعت‘ ذکر اللہ کرنے کے لیے نہیں بیٹھتی، مگر یہ کہ انھیں فرشتے گھیر لیتے ہیں اور انھیں اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے‘‘۔ (صحیح مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 2261) میں کہتا ہوں کہ: اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اللہ کے ذکر میں مشغول ہونے والے مسلمانوں کا اجتماع بے شک اللہ کی رحمت اور اُس کی سکینت کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اور یہ کہ انھیں فرشتوں کے قریب کردیتا ہے۔
(2) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مُفرِّدون‘‘ (بوجھ کے بغیر دوڑنے والے لوگ) سب سے آگے بڑھ گئے۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہؐ! ’’مُفرِّدون‘‘ کون ہیں؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں‘‘۔ (صحیح مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 2262)۔
میںکہتا ہوں کہ: ذکر کرنے والے لوگوں کو ’’مُفرِّدون‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس لیے کہ ذکر اللہ سے اُن کے جسم پر حیوانیت کے تقاضوں اور گناہوں کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے (ان کے لیے بوجھ سے ہلکا پھلکا ہو کر دوڑنا اور چلنا آسان ہوجاتا ہے)۔
(3) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ: ’’میرا بندہ میرے بارے میں جو ظن اور گمان رکھتا ہے، میں اُس کے مطابق اُس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اُس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ پس اگر وہ اکیلے میں مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اُسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جب وہ مجھے کسی جماعت اور مجلس میں شامل ہو کر یاد کرتا ہے تو میں اُس کی مجلس سے زیادہ بہتر (فرشتوں کی) مجلس میں اُس کا تذکرہ کرتا ہوں‘‘۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ، حدیث: 2264)
میں کہتا ہوں کہ: انسان کی وہ جبلت اور فطرت، جس سے اُس کے اَخلاق اور علوم پیدا ہوتے ہیں اور وہ کیفیات اور حالتیں جنھیں انسانی نفس حاصل کرتا ہے، اللہ کی خاص رحمتوں کو نازل کرنے میں مخصوص کردار ادا کرتی ہیں:
(i) پس ایسا باوقار آدمی جو ’’سمیحُ الخُلق‘‘ یعنی سماحت کا خُلق رکھتا ہے اور اس میں لوگوں کی چھوٹی اور حقیر غلطیوں کو پکڑنے کی عادت نہیں ہوتی۔ وہ جب اپنے ربّ کے بارے میں یہ گمان اور یقین رکھتا ہے کہ وہ اُس کے گناہوں کو معاف کردے گا اور میری ہر چھوٹی اور انتہائی حقیر چیزکو نہیں پکڑے گا تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ اُس کے ساتھ بھی ایسا ہی عزت اور وقار کا ہوتا ہے۔ ’’سماحت‘‘ پر مبنی اس کی یہی باوقار اُمید اُس کے گناہوں کو ختم کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔
(ii) ایسا آدمی جو ’’شَحِیحُ الخُلق‘‘ یعنی بخل پر مبنی تنگ نظری کا خُلق رکھتا ہے، وہ اپنے ربّ کے بارے میں تنگ نظری پر مبنی یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کی ہر چھوٹی اور انتہائی حقیر چیز کو ضرور پکڑ لے گا۔ تو اللہ تعالیٰ بھی اُس کے ساتھ انتہاپسندوں کی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔ وہ اُس کے صغیرہ گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ ایسے آدمی کا دنیاوی معاملات کی نسبت آخرت سے متعلق اللہ کے بارے میں یہ زیادہ سخت تصور اُس کی موت کے بعد اُس کا گھیراؤ کرلیتا ہے اور اُس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
حدیث میں ان دونوں افراد سے متعلق جو فرق بیان کیا گیا ہے، یہ اُن چھوٹے اُمور اور صغیرہ گناہوں کے بارے میں ہے کہ جن کے بارے میں ’’حظیرۃ القدس‘‘ میں مقرر کردہ شریعت نے کوئی واضح حکم نہیں دیا۔ جہاں تک کبیرہ گناہوں اور اُسی طرح کے بڑے جرائم سے متعلق شرعی احکامات ہیں، وہاں اس فرق پر مبنی معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ شریعت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی پر سزا کا مستحق ہوگا۔ صرف اجمالی طور پر یہ ہوسکتا ہے کہ اچھے کاموں پر کسی فرد کو مقررہ نیکیوں سے زیادہ اچھا بدلہ مل جاتا ہے۔ یا کسی کی کچھ اچھائیوں کی وجہ سے اُس کے کسی گناہ کے عذاب میں تخفیف اور کمی ہوسکتی ہے۔
اس حدیث میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ’’أنا معہٗ‘‘ (میں اُس ذکر کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہوں)، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذکر کو قبول کرلیا۔ اس میں اُس کو عزت کے ساتھ حظیرۃ القدس میں داخل کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
پھر جب کوئی انسان اللہ کو اپنے دل میں یاد کرتا ہے اور اُس کی نعمتوں میں غور و فکر کرتا ہے تو اُس کا انعام اور بدلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف چلنے میں حائل اُس کے تمام پردے اور حجابات اُٹھا دیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ انسان سلوک طے کرتے ہوئے اُس ’’تجلیٔ الٰہی‘‘ کے قریب پہنچ جاتا ہے، جو ’’حظیرۃ القدس‘‘ میں قائم ہے۔
اگر کوئی انسان کسی مجلس میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، اس کا اہم مقصد ہو کہ وہ اللہ کے دین کی اشاعت کر رہا ہے اور اس کے دین کو غالب کرنا ہے، تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کی محبت ’’ملائِ اعلیٰ‘‘ (فرشتوں کی مقدس جماعت) کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ جو کہ ہر وقت ایسے لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور اُن پر برکات نازل کرتے ہیں اور پھر اُن کے لیے زمین میں لوگوں میں مقبولیت نازل کی جاتی ہے۔
کتنے ہی ’’عارِف باللّٰہ‘‘ (اللہ کی معرفت حاصل کرنے والے) ایسے لوگ گزرے ہیں، جو معرفتِ الٰہی کے مقام کو حاصل کرلیتے ہیں، لیکن انھیں دنیا میں زمین میں مقبولیت حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی اُن کا ملائِ اعلیٰ میں تذکرہ ہوتا ہے۔
اور کتنے ہی اللہ کے دین کی مدد کرنے والے اور اس کے غلبے کے لیے جدوجہد اور کوشش کرنے والے لوگ گزرے ہیں، جن کو دنیا میں بڑی عظیم مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی ہے اور اُن پر بڑی برکات نازل ہوئی ہیں، لیکن معرفت ِالٰہی کے حوالے سے اُن کے حجابات اور پردے دور نہیں ہوئے‘‘۔
(باب الاذکارِ و ما یتعلّق بھا)
ابوالقاسم عباس بن فرناس

دنیا کا سب سے پہلا ہوائی جہاز بنانے والا مسلم سائنس دان
قرونِ وسطیٰ میں مسلمانوں نے علوم و فنون کو وہ ترقی دی کہ تقریباً آج کی دنیا کی جتنی بھی ایجادات ہیں، ان کی ایجاد کا سہرا مسلمان سائنس دانوں کے سر سجتا ہے۔ جب کہ یورپ کے مؤرخین نے عربوں کی ہر ایجاد کا سہرا اس یورپی سائنس دان کے سر باندھنے کی کوشش کی ہے، جس نے پہلے پہل اس کا ذکر کیا، بلکہ یہاں تک گھپلابازی کی کہ عربوں کی بعض تصانیف پر اپنا نام لکھ کر چھپوا دیا۔ انسائیکلو پیڈیا آف برطانیکا میں لفظ جیبر (جابر) کے تحت ایک ایسے مترجم کا نام ہے، جس نے مشہور کیمیا دان جابر بن حیان کے ایک لاطینی ترجمے کو اپنی تصنیف بنا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آٹھویں صدی سے لے کر تیرہویں صدی تک اسلامی تہذیب و تمدن دنیا کا سب سے روشن اور ترقی یافتہ تمدن تھا۔ خصوصاً اندلس پانچ سو سال تک یورپ کا علمی و ثقافتی اور سیاسی مرکز رہا ہے، بلکہ سرزمین اندلس کے علما و دانش وروں کے فکری، علمی اور سائنسی کارناموں سے یورپ کے دیگر ممالک سے جہالت چھٹی۔ مسلمانوں کی تاریخ کے روشن دور‘ دورِ بنی اُمیہ کے علما کی ایک جامع ترین خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ ہمہ جہت ہوتے۔ یعنی وہ فلسفی بھی ہیں اور ریاضی دان بھی۔ وہ حکیم بھی ہیں اور ادیب بھی۔ وہ ماہرِ فلکیات بھی ہیں اور کیمیا دان بھی۔ غرض یہ کہ وہ تمام علوم و فنون کے ماہر ہوتے تھے۔
اِنھیں ہمہ جہت نامور سائنس دانوں میں سے ایک بہت بڑا نام عباس بن فرناس کا بھی ہے، جو تاریخ میں سب سے پہلے ’’طیارچی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ 810ء میں جنوبی اندلس کے ایک شہر ’’رندہ‘‘ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں قرطبہ میں رہائش اختیار کرلی۔ آپ بَربَر نژاد تھے اور 887ء میں 77 سال کی عمر میں وفات پائی۔ تاریخ میں وہ پہلے انسان تھے، جس نے فضا میں اُڑنے کی کوشش کی۔ وہ پرندوں کو فضا میں محو ِ پرواز دیکھتے تو گھنٹوں سوچتے کہ کیا انسان بھی اس طرح سے فضا میں اُڑ سکتا ہے؟ چناں چہ انھوں نے پرندوں کی پرواز کا بہ غور مطالعہ کیا اور ایک دن اعلان کیا کہ انسان بھی پرندوں کی طرح فضا میں اُڑ سکتا ہے اور پھر خود اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا، جس کے لیے انھوں نے پروں کا لباس بنایا اور کچھ دور تک ہوا میں اڑے بھی اور کسی حد تک یہ تجربہ کامیاب رہا۔ ان کی ایجادات بے شمار ہیں،لیکن خصوصی طور پر تین چیزیں نہایت مشہور ہوئیں اور دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ عینک کا شیشہ، وقت بتانے والی گھڑی اور ایک مشین جو ہوا میں اُڑ سکتی تھی۔ عباس بن فرناس کو علم ہیئت و فلکیات میں بھی بہت زیادہ مہارت تھی۔ انھوں نے اپنے گھر میں ایک ایسی رصد گاہ بنائی اور آلاتِ رصد تیار کیے اور ایک ایسا پلانیٹیریم (Planetarium) بنایا، جس میں بیٹھ کر ستاروں، بادلوں کی حرکت اور ان کے گرد پیدا ہونے والی چمک کا مشاہدہ کرتے اور ان سے نتائج اخذ کرتے۔ ان کی ایجادات میں پانی کی گھڑی اور کرسٹل بنانے کا فارمولا بھی مشہور ہے۔
ڈالر سے محبت ہی بہت ہے؟

پاکستان پر اندرونی و بیرونی قرضوں کا حجم 410 کھرب روپے کے لگ بھگ ہوچکا ہے۔ ایک سال کے دوران اس میں اوسطاً 30 کھرب روپوں کا اضافہ ہو ہی جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے اخراجات میں مستقل اضافہ ہے۔ مالی سال 2021-22ء کے نصفِ اوّل میں آمدن و اِخراجات کا یہ خسارہ بڑھ کر 1800 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ حال آںکہ اسی مدت کے دوران ٹیکس وصولی نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور 32.5 فی صد کے اضافے سے 29 کھرب کی وصولی ریکارڈ کی گئی، لیکن پھر بھی خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس خسارے کی بڑی وجہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کی اَقساط اور ان پر سود کی ادائیگی، عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، خوردنی اشیا کی درآمدات میں اضافہ اور کرونا ویکسین پر 1.4 ارب ڈالر کی ادائیگیاں ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہماری مقتدرہ بھی یہ جانتی ہے کہ ڈالر ہی میں قوت ہے، اس لیے ایسا قدم اُٹھانے سے یہ گریزاں رہتی ہے، جس میں ڈالر کی ریل پیل نسبتاً کم ہو۔
چناں چہ بیرونی قرض لینے سے ہم کبھی نہیں چوکتے۔ پاکستان میں ڈالر چار طریقوں سے آتے ہیں: ایک: برآمدات سے، دوسرا: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے، تیسرا: سرمایہ کاری سے، چوتھا: قرض کی صورت میں۔ ہمیں سالانہ بنیادوں پر تین طریقوں سے ڈالر ادا کرنے ہوتے ہیں: ایک: قرض اور اس پر سود کی صورت میں، دوسرا: درآمدات کی ادائیگیوں کی مد میں، تیسرا: سرمایہ کاری پراصل زر اور منافع کی صورت میں۔ ہوتا یوں ہے کہ مندرجہ بالا مَدّات میں ڈالر کی آمدن ہمیشہ ادائیگیوں سے کم ہی رہتی ہے اور اس خلیج کو پاٹنے کے لیے بیرونی دنیا سے ڈالر میں قرض لیا جاتا ہے، لیکن یہ ڈالر لے کر کسے ادا کیے جاتے ہیں؟ واپس بیرونی سرمایہ کار کو، کسی عالمی مالیاتی ادارے کو یا طاقت ور درآمد کنندہ کو جو اپنی عیاشی کے لیے موبائل فون گاڑی اور تعیش کا سامان خریدنا چاہتا ہے۔ یہ طاقت ور لوگ کون ہیں؟ یہ ہمارے حکمران اور سول اور فوجی بیوروکریٹ ہیں۔ ان لوگوں کے لیے پوری قوم سالانہ بنیاد پر لگ بھگ 30 سے 40 کھرب کی مقروض ہوجاتی ہے۔
درآمدات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مالی سال 2021-22ء کے نصفِ اوّل کے دوران گاڑیوں پر 1.9 ارب ڈالر، موبائل فونز پر ایک ارب ڈالر، گندم، چینی، دالوں اور چائے پر مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر، اور خوردنی تیل پر 1.6 ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ یہ برآمدات پانچ سے چھ ارب ڈالر کی بنتی ہیں۔ ان پر قابو پالیا جائے اور انھیں پاکستان میں ہی تیار کرلیا جائے تو نہ صرف قیمتی زرِ مبادلہ بچے گا، بلکہ ہماری برآمدات میں اضافے کی وجہ بھی بنے گا۔ مذکورہ شعبوں کو پاکستان میں بہ آسانی فروغ دیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ ان سے متعلق مقامی طلب بھی ہے اور پیداوار کا بنیادی ڈھانچہ بھی، لیکن حکومت کا حالیہ اعلان کہ پاکستان کی معیشت اب 295 ارب ڈالر سے بڑھ کر 345 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے، مزید قرض لینے کی راہ ہموار کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ گویا ہماری مقتدرہ کا موڈ قرضوں پر زندہ رہنے کا ہے۔ کیوں کہ ڈالر سے محبت ہی اصل ایمان ہے؟!
OICکا کھو کھلا پن

معاہدات قوموں کی زندگی میں بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ معاہدے کے مقاصد کا واضح ہونا اَساسی تقاضوں میں شمار ہوتا ہے۔ فریقین کا کردار مرکزی نوعیت کا ہوتا ہے، جن کا آزاد اور خود مختار ہونا اوّلین شرط ہے۔ فریقین کا ہم پلہ ہونا معاہدے کو مؤثر بناتا ہے۔ انسانی تاریخ میں دو طرح کی جماعتوں کا کردار رقم ہے؛ معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملی شکل دینے والی جماعت اور محض التوائے وقت کی حامل گروہیت یا جتھہ۔ اگر ایک فریق کمزوراور دوسرا طاقت ور ہے تو معاہدہ برقرار رہنے کے امکانات مخدوش ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ معاہدے کی اصل روح عمل درآمد سے نمایاں ہوتی ہے۔
57 اسلامی ممالک نے مراکو کے شہر رباط میں شاہ حسن دوئم کے ذریعے 25؍ ستمبر 1969ء کو OIC تنظیم اسلامی کانفرنس (Organization of Islamic Conferenece) کے نام سے ایک فورم قائم کیا۔ 28؍ جون 2011ء کو وزرائے خارجہ کے 38 ویں اجلاس منعقدہ قزاقستان کے شہر آستانہ میں اسے اسلامی تعاون تنظیم (Organization of Islamic Co-operation) سے بدل دیا گیا۔ ’’کانفرنس‘‘ کے نام کو ’’تعاون‘‘ کے ساتھ تو بدل دیا، لیکن C تو C ہی رہا۔ اس کے باوجود رُکن ممالک کے مابین تعاون کی روح پیدا ہوسکی اور نہ ہی اسے فروغ مل سکا۔ 1974ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں 22 تا 24؍ فروری کو تنظیم کا ایک غیرمعمولی سربراہ اجلاس منعقد ہوا، جسے ’’ لاہور سمٹ ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کی ایک اہمیت یہ بھی تھی کہ اس میں مسلم ممالک کے اکثر بادشاہ اور سربراہانِ مملکت شریک ہوئے تھے۔ انھوں نے مل کر پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو کانفرنس کا منتخب چیئرمین بنا دیا۔ ساتھ ہی 1971ء میں نئے وجود پانے والے اسلامی ملک بنگلادیش کو بھی تسلیم کروانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ کانفرنس میں بنگلادیش کے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن نے بھی شرکت کی تھی۔ یہ اہم اجلاس لاہور شہر کے اہم مرکز قذافی سٹیڈیم میں منعقد ہوا تھا، جس میں لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کی یادگار تقریر نے ’’لاہور سٹیڈیم‘‘ کو ’’قذافی سٹیڈیم‘‘ بنا دیا۔ شاہ فیصل کی تاریخی آمد اور پاکستان کے لیے ’’فیصل مسجد‘‘ کے شان دار تحفے نے اسے خطے میں یادگار حیثیت دے دی۔ یہ حضرات مستقبل میں مسلم اُمہ کے لیڈربننے جا رہے تھے۔
او آئی سی کے قیام کا بنیادی مقصد روز ِاوّل سے ہی استعماری عزائم کے مفادات کا تحفظ رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے ارکان ہمیشہ بے بس اور بے وقعت رہے ہیں۔ کبھی بھی رُکن ممالک کے مفادات محفوظ نہیں رہے۔ اگر کبھی کسی رُکن ملک کے سربراہ نے جذبۂ حریت کے تحت بسالت و بطالت کا قدم اُٹھانے کی دوڑ دھوپ و جدوجہد کی ہے تو اسے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنا پڑا ہے۔
1973ء میں پھر عرب اسرائیل جنگ شروع ہوگئی، جسے ’’جنگِ کپور‘‘ کہا جاتاہے۔ یہ جنگ 6 تا 26؍ اکتوبر یعنی 21روز تک جاری رہی ( یہودی مذہب میں اسے مقدس ایام کی جنگ کہا جاتا ہے)۔ اس جنگ میں امریکا نے اسرائیل کی مادی اور غیرمادی دونوں طرح سے حمایت کی تھی۔ جس کے ردِ عمل میں تیل پیدا کرنے والے ممالک نے امریکا پر (Arab Oil Embargo 1973-74) ’’تیل کی ترسیل پر پابندیاں‘‘ عائد کردیں۔ چناں چہ امریکی صدر رچرڈ نکسن 14 تا 15؍ جون 1974 کو دو روزہ دو رے پر سعودی عرب پہنچا، جس کا مقصد شاہ فیصل سے ملاقات کرکے پابندیاں اُٹھوانے کے لیے دبائو ڈالنا تھا۔ ایک غلام کی اتنی جرأت کے وہ آقا کے خلاف پابندیوں جیسا اقدام کرے اور آئندہ کوئی اور غلام ایسی حماقت کرے۔ تنبیہ کرنے کے لیے 25؍ مارچ 1975ء کو بالآخر اسے شہید کر دیا گیا۔ معمر قذافی نے بعد میں بھٹو کو اس کے جوہری پروگرام میں تعاون فراہم کیا تھا۔ لہٰذا وہ بھی مستوجبِ سزا ٹھہرا۔ چناں چہ 20؍ اکتوبر 2011ء کو اسے بھی شہید کردیا گیا۔ جذبۂ حریت سے سرشار افراد کا ایسی خواہش پالنا استعمار کے نزدیک ایک ناقابلِ معافی جرم ٹھہرایا گیا۔ اسی طرح کی زندگی پاکستان کے سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے لیے منتخب کی گئی۔ تعاونی تنظیم کی طاقت و قوت و ایمان کا اندازہ لگائیں کہ جب 1979ء میں پاکستان کے صدر ضیاالحق کے دور میں پاکستانی عدالتوں نے بھٹو کو موت کی سزا سنائی۔ اس وقت بھی وہ OIC کا چیئر مین تھا، لیکن کوئی بھی رُکن ملک اپنے سابق چیئر مین کی سزا میں تخفیف کروانے کی طاقت و اہلیت نہیں رکھتا تھا۔ حال آںکہ تمام ارکان یا تو بادشاہ تھے، یا اپنی اپنی حکومتوں کے سربراہ۔
حالیہ دنوں میں OIC کے وزرائے خارجہ کونسل کا 47 واں خصوصی اجلاس 19؍ دسمبر 2021ء کو پاکستان کے دارالحکومت اسلا م آباد میں منعقد ہوا، جس کا مقصد ’’افغانستان کے لیے امداد‘‘ کا حصول تھا۔ ارکان کے سامنے افغانستان میں انسانی المیے کا جائزہ پیش کیا گیا، تاکہ اس کے لیے کسی بھی قسم کی امداد حاصل کی جاسکے۔ ارکان کے علاوہ 4 مبصرین (اقوامِ متحدہ کانمائندہ، عالمی مالیاتی ادارے، علاقائی اتحاد اور یورپی یونین وغیرہ) بھی شریک ہوئے۔ یہ فورم اپنے رُکن ملک کے لیے خیر کا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔ کیوں کہ نیکی اور بھلائی کرنا اس فورم کی سرشت میں ہی شامل نہیں ہے۔
آج پاکستان کی مقتدرہ نے مسلم اُمہ کے سامنے افغانستان کا المیہ پیش کیا ہے۔ جس دکھ، درد اور کرب و بلا کا اظہار کیا وہ قابل ستائش ہے۔ حال آںکہ جب استعمار اس ملکِ افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ’’تورا بورا‘‘ بنا رہا تھا تو یہی دنیا چپ سادھ کر بے حسی سے بُت بنی ہوئی تماشہ دیکھتی رہی۔ کوئی بھی ملک طاغوت کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرأت نہیں رکھتا تھا۔ آج جب افغانستان کی تعمیرِنو کا قضیہ درپیش ہے توپاکستان نے ہمت کرکے مسلم اُمہ کا ضمیر، جو گہری نیند سویا ہوا تھا، جھنجوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یقینا یہ ایک جرأت مندانہ اور دلیرانہ قدم ہے، جسے بہت بڑا نام دیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے پاک مقتدرہ کے اپنے مفاد ات بھی پنہاں ہیں۔
1980ء میںافغانی پنا ہ گزین پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ وہ اور ان کی نسلیں آج پاک سرزمین پراپنے قدم جما چکی ہیں۔ ان کی اپنے ملک میں اخلاص سے واپسی کی کوئی کاوش نہیں ہوئی۔ بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ان کے نام پر پاک حکومتی اہل کار عالمی اداروں سے مستقل فنڈز وصول کررہے ہیں۔ امریکا نے افغانستان کو تورابورا بنایا تھا۔ چناںچہ اسی کی ذ مہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کی تعمیرِنو کے لیے فنڈز فراہم کرے۔ امریکا کی برائن یونیورسٹی کی تحقیق کہتی ہے کہ گزشتہ 20 سالوں میں افغانستان پر 8 ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین پر اتنی رقم خرچ کی گئی ہوتی تو یہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں سرِ فہرست ہوتا۔ امکان ہے کہ امریکا کی مقتدرہ نے افغانستان کے نام سے ایک اکاؤنٹ کھولا ہوا ہے۔ حکومت کے بجٹ سے ہر سال ایک مخصوص رقم نکلتی رہی اور افغان اکاؤنٹ میں ڈالی جاتی رہی ہے۔
حقیقت میں امریکا نے افغانستان پر ایک دھیلا بھی خرچ نہیں کیا۔ امریکاکی مقتدرہ جیسے باقی دنیا کے ساتھ چکر بازی کررہی، اس کا یہی رویہ اپنی عوام کے ساتھ ہے۔ اسے چاہیے کہ مزید ایک سال کے لیے ایک ٹریلین امریکی ڈالر حقیقی معنوں میں افغانستان کے اکاؤنٹ میں ڈالتے رہیں۔ کیوں کہ وہ گزشتہ 40 سالوں سے افغانستان کا اسی مقصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ غلاموں میں سے اگر کسی نے ایسی حماقت کی تو اسے نہ جانے کس قسم کی سزا کا سامنا کرنا پڑے۔
اسلام کی تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد

14؍ جنوری 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! دینِ اسلام کی تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد انسانیت کو اللہ کے ساتھ جوڑنا اور اُن میں ایسی اجتماعیت پید اکرنا ہے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے، خدا پرستی پیدا کرنے اور انسان دوستی کے لیے کردار ادا کرے۔ دین حق کے غلبے کے لیے جدوجہد اور کوشش کرے۔ اس لیے دینِ اسلام کی تمام تعلیمات میں اس حقیقت کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ جو کام بھی دین میں زیادہ فرض اور لازمی ہیں، وہ تمام کام اجتماعی طور پر سرانجام پانے چاہئیں، تاکہ اُن کی اجتماعی طور پر ادائیگی انسانوں کی زندگی کے ہر شعبے میں قائم ہوجائے۔ دنیا میں اجتماعیت کے بغیر کوئی کام سرانجام نہیں دیا جاسکتا۔ ہر انسان اپنی زندگی کے ابتدائی مرحلے سے لے کر موت تک اجتماع کا محتاج ہے۔ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تو پیدائش کے وقت بھی کسی دائی اور نرس کی ضرورت ہوتی ہے، ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے تو پرورش کے لیے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ ایک اجتماعی عمل ہے۔ اور جب دفنایا جاتا ہے تو تب بھی ایک اجتماع اُسے اٹھا کر قبر میں اُتارتا ہے۔ اُس کی نماز ِجنازہ پڑھتا ہے۔ گویا اوّل سے آخر تک انسان اجتماع کا محتاج ہے۔ اس لیے اجتماعیت اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ اکیلا انسان دنیا میں کچھ نہیں کرسکتا۔ کھانا پینا ہو، لباس تیار کرنا ہو، رہنا سہنا ہو، مکان بنانا ہو، ان تمام کے لیے اجتماعی عمل ہی ایک انسان کی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے۔
اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے وقت سے لے کر آدمیت کے اختتام تک کے ہر مرحلے میں اجتماع منعقد کیا۔ انسان پیدا کرتے وقت بھی فرشتوں کا اجتماع کیا تھا اور دنیا کے اختتام پر قیامت کا اجتماع بھی ہوگا۔ان تمام اجتماعات کی جمعہ کے دن سے نسبت ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ سیّد الایام (تمام دنوںکا سردار) ہے کہ اسی جمعہ کے دن میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا۔ پھر اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا۔ اسی جمعہ کے دن میں ہی جنت سے دنیا میں خلافت اور حکمرانی کے لیے روانہ کیا گیا۔ اسی جمعہ کے دن میں ہی صور پھونک کر پوری کی پوری انسانیت کو اس کرۂ ارض سے سمیٹ لیا جائے گا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 1356) انسان کے لیے اہم ترین چار مواقع ہیں: اس کی پیدائش کے، اس کے جنت میں داخل ہونے کے، جنت سے نکل کر اس دنیا میں خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے، اور اس کرۂ ارض سے واپس اپنے وطنِ اصلی کی طرف جانے کے، جسے یوم القیامہ کہا گیا ہے، یعنی قیامت کا دن۔ دینی تعلیمات اور ارشاداتِ نبوی کے مطابق یہ تمام مراحل جمعہ کے دن سرانجام پائیں گے‘‘۔
اجتماعِ جمعتہ المبارک اور اشاعتِ دین کے اُمور
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ’’اے ایمان والو! جب اذان ہو نماز کی جمعہ کے دن، تو دوڑو اللہ کی یاد کو‘‘۔ (-62 الجمعہ: 9) یعنی جمعہ کے دن جب اذان دے دی جائے تو تمھاری ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ کر پہنچو۔ دوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہانپتے کانپتے ہوئے، چھلانگیں مارتے ہوئے پہنچو، بلکہ کوشش اور سعی شروع کردو، تیاری شروع کردو۔ سعی کا لفظ عربی میں اس لیے بھی بولا جاتا ہے کہ اُس کے لیے کوتاہی مت کرو، مکمل تیار ہو کر مسجد میں اللہ کے ذکر کے لیے پہنچو۔ عرب لوگ تاجر تھے۔ ان کے ہاں سب سے زیادہ دلچسپی کی چیز کاروبار اور لین دین تھا۔ تو فرمایا: ’’اور چھوڑ دو خرید و فروخت‘‘۔ یعنی خرید و فروخت اور لین دین بند کردو اور اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔
یہ آیت ایک خاص تناظر میں نازل ہوئی ہے کہ ایک دفعہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ اُس زمانے میں نماز ِجمعہ کے بعد خطبہ دیا جاتا تھا۔ کافی دنوں سے مدینہ میں کوئی غلہ وغیرہ باہر سے نہیں آیا تھا۔ لوگ کھانے پینے کی اشیا کے سلسلے میں حاجت مند تھے۔ جیسے ہی آپؐ نے خطبہ دینا شروع کیا تو اتنے میں کسی نے آکر خبر دے دی کہ تاجروں کا قافلہ غلہ لے کر آگیا ہے۔ جیسے ہی لوگوں نے یہ سنا تو سوائے بارہ حضرات جن میں حضرت ابوبکر صدیق بھی تھے، کوئی باقی نہ رہا۔ سب خطبہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ’’اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم سب چلے جاتے، کوئی باقی نہ رہتا تو یہ پوری وادی تم پر آگ سے بھر جاتی‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں حکم دیا کہ جیسے ہی اذان ہوجائے تو دراصل تمھیں اب اللہ کے ذکر کی طرف جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل متوجہ ہونا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ تمھارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم علم رکھتے۔ تمھیں پتہ ہوتا کہ نبی اکرمؐ کی مجلس میں اور اس اجتماعیت میں بیٹھ کر ذکر اللہ کی طرف متوجہ ہونا کتنا اونچا کام ہے تو تم جمعہ میں حضوؐر کا خطبہ چھوڑ کر نہ جاتے۔
حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ خاص طور پر جمعہ کے دن میں انسانی اجتماع میں دین کی اشاعت کا ہدف ہے، تاکہ نبی اکرمؐ کی بعثت کے مقصد ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کو پورا کیا جائے۔ جمعہ کے چند بنیادی مقاصد ہیں: ایک تو یہ کہ اس اجتماع میں ہر طرح کے لوگ علم والے اور غیرعلم والے موجود ہوں، تاکہ جمعہ کے اجتماع میں لوگ اہل علم سے سیکھیں کہ کون کون سے دینی کام کرنا لازمی اور ضروری ہیں۔ مثلاً نماز کیسے پڑھی جائے گی؟ ذکر کیسے کیا جائے گا؟ عبادات کیسے کی جائیں گی؟ اور دین کے فرائض اور واجبات کیا ہیں؟ اس کی بنیادی تعلیمات کیا ہیں؟ نیز اس اجتماع کی طاقت سے دشمن پر رعب پیدا کرنا بھی مقصد ہے، تاکہ انسانیت دشمن طاقتوں پر دین کے سیاسی غلبے اور اجتماعی طاقت کا اظہار ہو، جو کہ اجتماع کے بغیر نہیں ہوتا‘‘۔
اجتماعِ جمعتہ المبارک کی وجہ جواز
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
جمعہ کی اہمیت پر بے شمار احادیث میں نبی اکرمؐ نے گفتگو فرمائی اور لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ جمعہ کے اجتماع میں ضرور شریک ہوں۔ اس لیے کہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ جب مسلمان صرف اللہ کی طرف توجہ کے ساتھ ایک اجتماع میں شریک ہو کر بیٹھتے ہیں اور ہر دل میں جو ایمان روشن ہے، اور اللہ کی تجلیات اُس قلبِ مؤمن پر آرہی ہیں تو اس سے سینکڑوں چراغ جلتے ہیں تو روشنی بہت پھیل جاتی ہے۔ اس اجتماع میں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے بیٹھنا مسلمان جماعت کے جوش اور جذبے کو بڑھاتا ہے۔ اُن کے اندر تحریک پیدا ہوتی ہے۔ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ انواراتِ الٰہیہ متوجہ ہوتے ہیں۔
فقہا کے ہاں جمعہ کا اجتماع وہیں پر فرض ہے، جہاں شہر ہو اور اس شہر کے اندر حاکمِ وقت جمعہ پڑھائے، تاکہ سیاسی طاقت کا اظہار ہو۔ اس لیے جمعہ ایک شہر میں ایک جامع مسجد میں ہونا چاہیے۔ یہ اُصول اور ضابطہ ہے۔ آج دورِ غلامی کے اثرات ہیں کہ ہر محلے کی مسجد میں جمعہ ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کے غلبے کے زمانے میں ایک شہر میں ایک بڑی جامع مسجد کے علاوہ کبھی کوئی جامع مسجد نہیں رہی۔ اس میں بادشاہ یا سرکاری نمائندہ اگر وہ عالم ہوتا، وہ خود، یا اُس کا نامزد کردہ سرکاری شاہی امام، جو دین کا سرکاری نمائندہ ہوتا تھا، وہ جمعہ پڑھاتا تھا۔ پرائیویٹ طور پر کوئی آدمی اپنا جمعہ شروع نہیں کرسکتا تھا۔
شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت الکثیب میں ہر جمعہ میں انبیا اور جنتیوں کا جب اجتماع کرتے ہیں تو اس وقت مالک الملک، شہنشاہِ مطلق، احکم الحاکمین اللہ تبارک و تعالیٰ اس میں اپنا نزولِ اِجلال فرماتے ہیں۔ تو جیسے اللہ تعالیٰ نزولِ اجلال فرماتے ہیں، ایسے ہی اللہ کا نمائندہ نبی یا خلیفۂ نبی یا اُس کا نائب، تو جو خلیفۃ اللہ فی الارض ہے اور وہ جب اپنے تخت پر نزولِ اِجلال فرمائے گا تو جنت الکثیب سے مماثلت ہوگی۔ اس لیے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی اتھارٹی ہے، ایسے ہی اُس کے نائب کی اتھارٹی بھی ہوتی ہے۔ وہ سیاسی طاقت بھی رکھتا ہے۔
آج کل یہ جو جمعہ کے چھوٹے چھوٹے اجتماعات ہمارے محلوں کی مسجدوں میں ہوتے ہیں۔ یہ صرف اس زمانے کے لیے تھا کہ جب ہندوستان غلام ہوا۔ اس وقت علما نے اجازت دی تھی کہ غلامی کے زمانے میں جمعہ کی اجتماعیت کا مزاج باقی رہے۔ اس کی عادت نہ چھوٹ جائے۔ جامع مسجد میں ایسا صاحبِ استعداد عالم جمعہ پڑھائے، جو علمی استعداد بھی رکھتا ہو، سیاسی استعداد بھی رکھتا ہو اور اُس میں طریقت اور قلب کی ایسی توجہ بھی ہو کہ وہ اُس جنت الکثیب سے ربط پیدا کرکے انسانی دلوں کو کھینچ کر اُس کے ساتھ جوڑنے کی اہلیت اور صلاحیت بھی رکھے۔ تاکہ ظاہری طور پر دنیا میں اگر خلافت یا حکومت اور دین کی سیاست نہیں بھی ہے تو احکم الحاکمین کی عدالت سے اُس کی روحانی سیاست کے اس دائرے سے لوگوں کو جوڑنے کی اہلیت اس میں ہو‘‘۔
جمعتہ المبارک کی اجتماعیت کے اثرات
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آج کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ کوئی نوجوان مسجد میں نہیں آتا۔ عین اُس وقت جب عربی کا خطبہ شروع ہوتا ہے تو لوگ پہنچتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جمعہ کے خطبات میں ان کے مسائل سے متعلق گفتگو نہیں ہوتی۔ یا ضعیف حدیثوں کی بنیاد پر حور و قصور کے قصے ہوں گے، یا پچھلے ماضی کے فخر و مباہات کے قصے ہوں گے۔ یا اَور کسی طرح کی بے کار سی باتیں کہی جاتی ہیں۔ دین سکھانے، دین سمجھانے، اس کا شعور پیدا کرنے، فہم پیدا کرنے، جنت اور جہنم سے تذکیر و تذکر اور دینی سیاسی شعور کی بلندی کی طرف متوجہ کرنے اور اُن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کا علم عام طور پر خطیبوں کی گفتگو میں نہیں ہوتا۔ جب کہ جمعہ کے اجتماع کا اصل مقصد دلوں کو ذاتِ باری تعالیٰ سے جوڑنا اور تعلیم و تربیت کا اہتمام ہے۔ اگر یہ نہیں، تو جمعہ کا اجتماع محض رسم ہے۔
معزز دوستو! جمعہ کے اجتماع کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس اجتماع میں شریک ہونا، اور پھر اس اجتماع کے ذریعے سے اہم ترین بات سیکھنا، یعنی سات دنوں بعد ایک دن دینی علم کو سیکھنے کے لیے، اپنے قلب کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے وقت نکالنا لازمی اور ضروری ہے۔ اپنا کاروبار بند کردیں، اپنا دفتر بند کردیں، اپنے کام کاج بند کردیں اور جمعہ کے لیے آئیں۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب ایک جمعہ میں شرکا کے دل و دماغ میں انواراتِ الٰہیہ اُس اجتماع کی برکت سے پیدا ہوتے ہیں تو اگلے جمعہ تک اُن کا اثر رہتا ہے۔ اگلے جمعہ تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ یا اُن گناہوں سے انسان بچتا ہے۔ (صحیح بخاری: 883) اُس نور کا اثر انسان کے ضمیر پر چوٹ لگاتا ہے کہ تُو غلط کام کر رہا ہے۔ بے شعوری کی بات کر رہا ہے۔ غلط بات کہہ رہا ہے۔ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ ایک آدھ دفعہ تو سمجھاتا ہے اور بہت ہی کوئی ڈھیٹ ہو تو وہ کہتا ہے کہ چھوڑو ضمیر ومیر کو اور اپنا غلط کام کرو۔ جمعہ کے نور کا یہ اثر اُسے غلط کاموں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جب اگلا جمعہ آتا ہے تو آدمی دوبارہ گویا نورِ الٰہی سے چارج ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر مزید انواراتِ الٰہیہ کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ اس لیے نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جس نے لگاتار تین جمعے چھوڑ دیے، خطرہ ہے کہ اُس پر غفلت کی مہر نہ لگ جائے۔ (سنن ابوداؤد: 1052) وہ گویاکہ اُس نورانی اجتماع سے محروم ہوگیا۔ اور اُس کے اثرات اس کے دل پر نہیں آئے تو غفلت کی وجہ سے اُس کا دل کہیں بند نہ کردیا جائے کہ بھئی! تم اس سے آگے بڑھنے کی استعداد نہیں رکھتے۔ اس لیے جمعہ کے اجتماع کی اہمیت سمجھ کر اس کی پوری تیاری کرکے اللہ کو راضی کرنے، اللہ کی طرف متوجہ رہیں۔ اس لیے یہاں آنے کے بعد بھی گپ شپ نہیں ہونی چاہیے۔ خاموشی سے قلب کو ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف متوجہ کریں۔ اللہ کے دین کی باتیں سننے اور سمجھنے کی طرف اپنے آپ کو متوجہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جمعہ اور اس اجتماعیت کی قدر کرنے اور اس سے انواراتِ الٰہیہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘‘ (آمین!)۔
حضرت مولانا محمداختر قاسمیؒ کا سانحۂ ارتحال

حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز
سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے چوتھے مسند نشین حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز اور جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاج پورہ، ضلع سہارن پور (انڈیا) کے مہتمم حضرت مولانا محمداختر قاسمیؒ مؤرخہ۲۷؍ جمادی الاولیٰ۱۴۴۳ھ / یکم؍ جنوری 2022ء بروز ہفتہ کو اِرتحال فرما گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سن کر ہندوستان بھر سے ہزاروں لوگ جنازے میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ مولانا مرحوم کے ہم سبق اور ساتھی حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی مدظلہٗ العالی (مہتمم دارالعلوم دیوبند) نے ان کی نماز ِ جنازہ پڑھائی اور جامعہ کے قبرستان میں ہی تدفین عمل میں لائی گئی۔ إنّا للّٰہ و إنّا إلیہ راجعون۔ إنّ لِلّٰہ ما أخَذَ و لہ ما أعطٰی و کُلُّ شَیٍٔ عندہٗ إلٰی أجلٍ مُسمّٰی۔
بلاشبہ حضرت مولانا قاسمیؒ گلشنِ رحیمی رائے پور کے ایک مہکتے ہوئے پھول تھے۔ ان کی روحانیت سے صدہا علما، طلبا اور متعلقینِ سلسلہ عالیہ رحیمیہ فیض یاب ہوئے۔ حضرت مولاناؒ نے جامعہ اسلامیہ کی پینتالیس سال خدمت کی، اس دوران ہزاروں طلبا ان سے فیض یاب ہوئے۔ حضرت مولاناؒ کی وفات سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے تمام متوسلین اور جامعہ کے فضلا اور طلبا کے لیے انتہائی حزن و ملال کا باعث بنی۔ ہندوستان اور پاکستان میں رائے پوری سلسلے کے متعلقین ہی نہیں، بلکہ تمام دینی مراکز کے علما اور مشائخ نے اُن کی کمی کو شدت سے محسوس کیا۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے اور لغزشوں کو معاف فرمائے۔ اس دوران ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں دورۂ تفسیر کے سلسلے میں سینکڑوں علما اور طلبا شریک تھے۔ حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کے دیگر مجازین اور خلفا یہاں جمع تھے۔ چناں چہ فوری طور پر حضرت مولاناؒ کے لیے ایصالِ ثواب کیا گیا۔
مولانا محمداختر قاسمیؒ کی ولادت قصبہ ریڑھی تاج پورہ ضلع سہارن پور میں محترم محمداسحاقؒ کے گھر 24؍ اپریل 1943ء کو ہوئی۔ والد ِمحترم اگرچہ پڑھے لکھے نہیں تھے، لیکن انھوں نے بڑی محنت و مشقت سے رزقِ حلال کما کر اپنے خاندان کی پرورش کی۔ اسی رزقِ حلال کے اثرات تھے، جو آپؒ کی سیرت کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ آپؒ کی والدہ نہایت نیک سیرت تھیں۔ انھیں دینی تعلیم دلوانے کا بڑا شوق تھا۔ ابتدائی طور پر انھیں خود قاعدہ بھی پڑھایا۔ اس کے بعد ستمبر 1951ء میں جامعہ اسلامیہ میں باقاعدہ داخل ہوئے اور مولانا محمدصدیقؒ سے ناظرہ قرآن پاک اور پھر حافظ رشیداحمدؒ سے حفظ مکمل کیا۔
حفظ کے بعد عصری تعلیم کے لیے جامعہ کے پرائمری کے شعبے میں داخل ہو کر پرائمری نصاب کے ساتھ ساتھ فارسی کی کتابوں کی تکمیل بھی کی۔ بعد ازاں اسی جامعہ میں درسِ نظامی کا آغاز کیا اور۱۳۸۳ھ/ 1964ء میں ’’شرح جامی‘‘ تک کتب پڑھیں۔ اس کے بعد درسِ نظامی کی تکمیل کے لیے دارالعلوم دیوبند شریف لے گئے اور چار سال بعد۱۳۸۶ھ / 1967ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ آپؒ کے اساتذہ میں حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ (مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مولانا سیّد فخرالدین احمدؒ، حضرت مولانا علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ جیسے جید علما اور مشائخ شامل ہیں۔ اس کے بعد آپؒ جامعہ اسلامیہ میں علومِ دینیہ کی تدریس میں مشغول رہے۔ پھر 14ا؍ نومبر 1976ء کو جامعہ کے منصبِ اہتمام پر فائز ہوئے، جس پر آپؒ اپنے انتقال تک متمکن رہے۔ اس طرح آپؒ نے پینتالیس سال علومِ دینیہ کے فروغ کے لیے بہت عمدگی سے نظم و نسق قائم کیا۔
آپؒ سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے تیسرے مسند نشین حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ سے ربیع الثانی۱۴۰۷ھ / نومبر 1987ء میں رائے پور ضلع سہارن پور میں بیعت ہوئے۔ اس موقع پر حضرت اقدس رائے پوریؒ کا ساڑھے تین ماہ (نومبر تا فروری 1987ء) گلشنِ رحیمی رائے پور میں قیام رہا تھا۔ راقم سطور کو بھی اس سفر میں حضرتؒ کی معیت حاصل رہی۔ اس موقع پر حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کا رائے پور آتے جاتے جامعہ اسلامیہ میں قیام ہوا۔ جامعہ کے علما اور طلبا آپؒ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ سے بیعت ہونے کے بعد پورے عزم و ہمت اور مجاہدے کے ساتھ سلسلے کے ذکر اور بتلائے گئے معمولات کو پورا کیا۔ اس کے بعد حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کے پاکستان سے رائے پور کے کئی اسفار ہوئے۔ اس دوران حضرت مولاناؒ بہت محبت اور عشق سے رائے پور میں قیام فرما ہوتے رہے۔
جون 1992ء میں حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کے وصال کے بعد آپؒ نے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ سے اُسی طرح اپنی تربیت اور تعلیم کا تعلق قائم رکھا۔ حضرت مولانا مرحوم کو حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ اور رابعؒ سے بڑی محبت تھی۔ اپنے حالات و کیفیات سے حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کو خطوط کے ذریعے آگاہ کرتے رہے۔ ٹیلی فون کے ذریعے بھی ہمیشہ حضرت رائے پوری رابعؒ سے رابطہ رکھتے تھے۔ حضرتؒ جب بھی رائے پور ہندوستان تشریف لے جاتے تو ان کے اِصرار پر جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاج پورہ میں ضرور تشریف لے جاتے تھے اور طلبا کے سامنے بیانات فرماتے تھے۔ چناں چہ حضرت اقدس رائے پوریؒ مولاناؒ کے نام اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ریڑھی کا مدرسہ ہمارا مدرسہ ہے۔ یہاں ہم اپنے دل کی بات کھل کر کہہ دیتے ہیں‘‘۔ حضرت مولاناؒ نے جب مشائخ رائے پور کی صحبت سے سلسلے کے معمولات میں کمال حاصل کیا تو حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ نے اپنے رائے پور کے سفر (صفر تا ربیع الثانی۱۴۲۰ھ/ مئی تا جولائی 1999ء) میں آپؒ کو اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کے حکم پر راقم سطور نے ہی اس کا مجمع عام میں اعلان کیا تھا۔ اس طرح حضرت مولانا محمداختر قاسمیؒ کو سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے فروغ کے لیے ایک اہم ذمہ داری خانقاہ کی طرف سے سونپی گئی، جسے انھوں نے بڑی خوبی سے نبھایا اور ہمیشہ ہندوستان بھر میں سلسلۂ رائے پور کے متوسلین کے لیے ایک چھتر سایہ کا کردار ادا کیا اور متعلقین کی سرپرستی کی۔ اس کے بعد آپؒ کئی بار حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کی صحبت کے لیے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور پاکستان تشریف لائے۔ حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کے وصال کے بعد لاہور کے ایک سفر میں حضرتؒ کے حوالے سے ایک انٹرویو دیتے ہوئے مولانا مرحوم فرماتے ہیں: ’’حضرت اقدس رائے پوریؒ کے اَخلاق بہت عمدہ تھے اور کوئی شخص آپؒ کے اعلیٰ اَخلاق سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ آپؒ نے اکابرین اور ان کی فکر و جدوجہد کا تعارف کروانا زندگی کا نصب العین اور مقصد بنا رکھا تھا۔ سخت سے سخت مشکل اور پریشانی بھی ان کی راہ میں حائل نہیں ہو سکی اور مکمل یقین اور اعتماد کے ساتھ آپؒ نے ولی اللّٰہی فکر و اصول پر جماعت کی تیاری کا عمل جاری رکھا۔ انھیں دیکھ کر اکابرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی‘‘۔
حضرت مولانا مرحوم‘ مشائخ رائے پور کے طریقۂ کار اور ولی اللّٰہی اُسلوب کے مطابق شریعت، طریقت اور سیاست کی جامعیت کے حامل شخصیت تھے۔ آپؒ ایک طرف جامعہ اسلامیہ میں درس و تدریس اور شریعتِ حقہ کی تعلیم و ترویج میں منہمک رہے اور بڑے عمدہ نظم و نسق کے ساتھ جامعہ کا نظام چلایا تو دوسری طرف رائے پوری سلسلے کے معمولات کی پابندی اور متوسلین کو سلسلۂ عالیہ رحیمیہ کے ساتھ جوڑنے اور سلوک و احسان کے فروغ کے لیے آپؒ نے بڑا کردار ادا کیا۔ اسی کے ساتھ آپؒ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کی قائم کردہ جماعت ’’جمعیت علمائے ہند‘‘ ضلع سہارن پور کے امارت کے منصب پر بھی فائز رہے۔ اس سلسلے میں آپؒ نے حضرت شیخ الہندؒ کی تحریک ِآزادی کے حوالے سے جدوجہد اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ کی سیاسی جدوجہد اور قومی کردار کو سامنے رکھ کر رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے جامع فکر و عمل کو فروغ دینے کے لیے بھی ہمیشہ کوشاں رہے۔
حضرت مولانا مرحوم کو راقم سطور سے بھی بڑا محبت کا تعلق تھا۔ 1987ء کے سفر سے ہی انھوں نے راقم کے ساتھ اعزاز و اِکرام کا معاملہ رکھا۔ رائے پور کے اَسفار کے دوران جب بھی حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ جامعہ اسلامیہ میں تشریف لے گئے تو حضرتؒ سے کہہ کر میرا بیان بھی طلبا کے سامنے ضرور کرایا کرتے تھے۔ ایک بار سفر میں بخاری شریف کے ختم کے موقع پر بھی بڑے اِصرار کے ساتھ بیان کرایا۔ حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کے وِصال (ستمبر 2012ء) کے بعد گویا آپؒ کی محبت اور تعلق مزید بڑھ گیا۔ مشائخ رائے پور کی نسبت کو سامنے رکھتے تھے، اس لیے ہمیشہ خط لکھنا اور آنے جانے والے لوگوں کے ہاتھوں اِکرام کی ہر شکل کو برقرار رکھنا ان کی خصوصیات رہیں۔اللہ تعالیٰ انھیں اپنے مشائخ اور بزرگوں کی معیت نصیب فرمائے اور جزائے خیر عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ اُن کے صاحبزادگان؛ مولانا محمدہارون، مولانا عبدالمنان، مولانا محمد میمون اور مولوی عبدالسبحان اور جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاج پورہ کے نائب مہتمم مولانا محمدجمشید صاحب اور دیگر اربابِ اہتمام و انتظام کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے اور ان کا صحیح اور سچا جانشین نصیب فرمائے۔ (آمین!)
End of issue
Back