گناہ کے کام

Maulana Dr Muhammad Nasir

Maulana Dr Muhammad Nasir
Maulana Dr Muhammad Nasir
Nov 16, 2024 - Dars-e-Hadith
گناہ کے کام

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:

’’سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَّقِتَالُہُ کُفْرٌ‘‘۔ (صحیح مسلم، حدیث: 221)

(حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’مسلمان کو گالی دینا گناہ کا کام ہے اور اس سے لڑائی کرنا اسلام سے انکار کرنا ہے‘‘۔ )

’’سِباب‘‘ کہتے ہیں: گالی دینا، بُرے الفاظ بولنا، جس سے دوسرے کی توہین اور بے عزتی ہو۔ اس عمل کو فسق کہا گیا ہے۔ ’’فسق‘‘ کہتے ہیں: شریعت کے احکامات سے انحراف اور گریز کرنا۔ یعنی: دین کو ماننے کے باوجود عملی لحاظ سے غفلت کا شکار ہوجانا اور قتال کا معنی: فریقین کا اس طرح لڑنا کہ ہر ایک دوسرے کی جان لینے کے درپے ہوں۔

دونوں اعمال کے نتائج میں فرق ہے۔ پہلا عمل اسلام کو مانتے ہوئے، اس کے احکامات کو نظرانداز کرنا ہے۔ اس سے انسان اسلام کے دائرے میں رہتا ہے، مگر ایک گناہ گار کی حیثیت سے، جب کہ قتال‘ کفر کے مترادف ہے۔ گویا ایسے شخص نے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ امن کا دشمن بن کر سامنے آیا ہے۔

رسول اللہﷺ کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو عملی زندگی میں باوقار طریقہ اپنانا ہے۔ ایسا طریقہ جو دوسرے کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو۔ انسان کے باوقار ہونے کے دو پہلو ہیں: ایک یہ کہ وہ خود ایسے کام نہ کرے، جن سے اس کی عزت متأثر ہو اور دوسرا یہ کہ وہ دوسرے کے ساتھ ایسا طرزِعمل نہ اپنائے کہ اس کی عزت پامال ہوجائے۔ ایسا طرزِتکلم جو دوسرے کی بے عزتی کا باعث ہو اور خود اپنے وقار کو بھی متأثر کرے، مؤمن کی شان کے خلاف ہے۔ جو لوگ دوسروں کی عزتوں کو اُچھالتے ہیں، توہین کرتے ہیں اور ان کو دوسروں کے سامنے ذلیل کرنے اور گِرانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کا مقام و مرتبہ متأثر ہوتا ہے۔ اس طرزِعمل کو ’’فسق‘‘ کہا گیا ہے، یعنی: ایسا شخص گویا شریعت کے انسانی تقاضوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ اور اگر یہ رویہ اجتماعی شکل اختیار کرلے تو یہ قومی وجود کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس مرض کا شکار ہے۔ اس ضمن میں ’’سورۂ حجرات‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ یہ سورت مسلمانوں کے باہمی معاملات اور تعلقات کے سماجی آداب کو بیان کرتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں قتال کا مرض بھی بڑھ رہا ہے۔ اس قبیح عمل کے شکار لوگوں میں بے رحمی اور بے حسی بے انتہا ہوچکی ہے۔ اور قانون نافذ کرنے والے ایسی گماشتہ قوتوں کے سامنے بے بس ہیں، بلکہ اکثر اوقات سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں مقتول اور مظلوم بالکل بے دست و پا ہوجاتا ہے جو معاشرتی استحکام کے لیے خطرناک علامت ہے۔ اس مرض کا علاج وقت کا اہم تقاضا ہے۔

Related Articles

چار بنیادی انسانی اَخلاق حاصل کرنے کے طریقے

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جاننا چاہیے کہ ان چار اَخلاق (طہارت، اِخبات، سماحت، عدالت) کے: (الف)…

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri Nov 12, 2023

چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار  (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’(اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے مسنون ذکر و اذکار کی اہمیت پر چوتھی حدیث:)…

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri Mar 18, 2022

The fundamentals of human collectivity after the civilization of morality

​تہذیبِ اَخلاق کے بعد انسانی اجتماعیت کے بنیادی اُمورگزشتہ آیات ( 2 - البقرہ: 151تا 162) میں ملتِ ابراہیمیہ کی اَساس پر افرادِ انسانی کے اَخلاق کی تہذیب کے لیے بنیادی اَساسی اُصو…

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri Jul 01, 2026

چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جب تم نے (ان چاروں اَخلاق؛ طہارت، اِخبات، سماحت اور عدالت کے) اصول ج…

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri Feb 11, 2022