تمام نیکیوں کا بُنیادی اساسی اُصول؛ توحید ِالٰہی  (1)

تمام نیکیوں کا بُنیادی اساسی اُصول؛ توحید ِالٰہی  (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

[توحید کی عظمت اور اہمیت]

’’نیکیوں کے تمام اُصولوں میں سے سب سے بنیادی اساسی اُصول اور نیکیوں کی تمام قسموں میں سب سے عمدہ ترین توحید ِالٰہی ہے۔ اس لیے کہ توحید ہی کی بنیاد پر ربُّ العالمین کے سامنے ’’اِخبات‘‘ (خشوع و خضوع اور عجز و اِنکساری) کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ ’’اخبات‘‘ انسانی کامیابی حاصل کرنے والے اَخلاق میں سب سے عظیم تر ہے۔

توحید ِالٰہی ہی اصل میں (سعادت حاصل کرنے کی) وہ علمی تدبیر ہے، جو (گزشتہ بیان کردہ) دو تدبیروں میں سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ اسی کے ذریعے سے انسان کو غیب کی طرف مکمل توجہ حاصل ہوتی ہے۔ او رانسانی نفس میںیہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ توحید کے ذریعے سے ذاتِ مقدس کے غیب کے ساتھ لاحق ہوجائے۔

بے شک نبی اکرمؐ نے توحید کی عظمت ِشان پر متنبہ کیا ہے۔ اور اِسے تمام نیکیوں کی اقسام میں سے دل کی طرح کی مرکزی حیثیت قرار دیا ہے۔ اور یہ کہ جب دل ٹھیک ہوجائے تو پورا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اور جب دل خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ قول بالکل مطلق ہے کہ:

’’من مات لا یشرک باللّٰہ شیئا ’’انّہ دخل الجنّۃ‘‘ (مشکوٰۃ، حدیث: 26 و 38)۔ (جو آدمی ایسی حالت میں فوت ہوا کہ اُس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ ’’جنت میں داخل ہوگا‘‘)

یایہ کہ: ’’حرّمہ اللّٰہ علیٰ النّار‘‘ (مشکوٰۃ، حدیث: 25 و 36)۔ 

                    (اُس پر اللہ نے جہنم کو حرام قرار دیا)۔

اوریہ کہ: ’’لا یُحجَب من الجنّۃ‘‘ (مسلم، ج:1، ص226)

                    (جنت اور اُس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوگا)۔

اور اسی طرح کے جملے آپؐ نے ارشاد فرمائے (مثلاً آپؐ کا یہ قول کہ:’’أدخلہ اللّٰہ الجنّۃ علیٰ ما کان من العمل‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ، حدیث: 27)۔ (اللہ اُسے جنت میں داخل کرے گا اس بنیاد پر کہ اُس نے جو عمل کیے تھے)

اسی طرح نبی اکرمؐ نے ربّ تبارک و تعالیٰ سے یہ بات نقل فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:

’’من لقینی بقراب الأرض خطیئۃ لا یشرک بی شیئاً، لقیتہٗ بمثلہا مغفرۃ‘‘ (رواہ مسلم، کتاب الذکر و الدّعاء و التّوبۃ، حدیث: 6833)۔ (جو آدمی پوری زمین کی مقدار کے برابر گناہوں کو لے کر مجھ سے اس حال میں ملا کہ اُس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا تو میں بھی اُس سے اُسی درجے مغفرت کے ساتھ ملوں گا) 

[توحید کے چار مرتبے]

جاننا چاہیے کہ توحید کے چار مرتبے ہیں:

(1۔ توحید کا پہلا مرتبہ)

ان میں سے ایکیہ کہ ’’واجب الوجود‘‘ (لازمی وجود) صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کا وجود ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے علاوہ کوئی وجود لازمی اور واجب نہیں ہے۔

(2۔ توحید کا دوسرا مرتبہ)

عرش، آسمانوں، زمینوں اور تمام جواہر (جسمانی وجود رکھنے والی مخلوقات) کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے۔

[توحید کے ان دو مرتبوں پر تمام فرقے متفق ہیں]

توحید کے یہ دو مرتبے ایسے ہیں کہ کتب ِالٰہیہ میں ان کو ثابت کرنے کے لیے کوئی بحث نہیں کی جاتی۔ اس لیے کہ مشرکینِ عرب میں سے توحید کے ان دونوں مرتبوں کا کوئی بھی مخالف نہیں ہے۔ نہ ہییہود اور عیسائی ان دو مرتبوں کا انکار کرتے ہیں، بلکہ قرآن عظیم واضح طور پریہ بیان کرتا ہے کہ توحید کے دونوں مرتبے ان تمام فرقوں کے نزدیک تسلیم شدہ بنیادی اُمور اور مقدمات میں سے ہیں۔

(جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورت زخرف میں ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’

‘‘ (الزخرف: 9) ’’اگر تُو ان سے سوال کرے کہ کس نے آسمان و زمین پیدا کیے ہیں؟ تو ضرور بالضرور کہیں گے کہ انھیں زبردست اور جاننے والے اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا ہے‘‘)

 

(3۔ توحید کا تیسرا مرتبہ)

توحید کا تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اُس کی عالم گیر تدبیر اور نظام صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کی ذات چلا رہی ہے۔

(4۔ توحید کا چوتھا مرتبہ)

توحید کا چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے علاوہ کوئی ذات کسی طرح کی بھی عبادت کی مستحق نہیں ہے۔

[توحید کے یہ دونوں درجے ایک دوسرے سے مربوط ہیں]

توحید کے یہ دونوں مرتبے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اور جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے طبیعی ربط اور تعلق میں لازمی طور پر بندھے ہوئے ہیں۔

(مولانا عبیداللہ سندھیؒ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’یعنی تدبیرِ الٰہی اور اللہ کے لیے عبادت کے درمیان فطری ربط اور تعلق پایا جاتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایسا لازمی تعلق ہے، جو کائنات کی دیگر تمام لازم و ملزوم اشیا میں ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوتے‘‘۔)                                                                                            (جاری ہے۔۔۔)

(المبحث الخامس، مبحث البرّ و الإثم، باب 1: توحید)

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین
فطری ترقی کے حِجَابات کو دور کرنے کا طریقہ  (1)

(گزشتہ باب میں انسانوں کی فطری ترقی کے لیے اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے راستے کے تین حجابات اور رُکاوٹوں کا تذکرہ تھا۔ اس باب میں ان حجابات کو دور کرنے کے علمی اور عملی طریقے ب…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری فروری 17, 2021

کائنات میں موجود کثرتِ اشیا کی حقیقت!

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور 15؍ جنوری 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری فروری 17, 2021

فطری ترقی کے حِجَابات کو دور کرنے کا طریقہ(2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : (حجاب سوء المعرفہ دور کرنے کا طریقہ) ’’حجاب سوء المعرفہ (بدفہمی کے حج…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مارچ 14, 2021

اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے راستے کی رُکاوٹیں

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جاننا چاہیے کہ (اَخلاقِ اربعہ کو حاصل کرنے میں) تین بڑے حِجابات ہیں: …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جنوری 09, 2021