ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کا قیام و پس منظر، بنیادی مقاصد، تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں

ایڈمن
ایڈمن
فروری 10, 2021 -
ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کا قیام و پس منظر، بنیادی مقاصد، تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کا قیام

ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)ایک دینی، تعلیمی اور تربیتی مرکز ہے۔ یہ اپنی وقیع علمی حیثیت اور دین اسلام کے نظامِ فکروعمل کی شعوری تربیت کے حوالے سے ایک منفرد دینی شناخت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ 2001ء میں قائم ہوا۔ اس ادارے کا مین کیمپس اور ہیڈآفس پاکستان کے تاریخی شہر لاہور میں ہے، جب کہ اس کے ریجنل کیمپس کراچی، سکھر، ملتان، راولپنڈی، پشاور، صادق آباد اور کوئٹہ میں واقع ہیں۔ یہ ادارہ نوجوانانِ پاکستان میں دینی تعلیم و تربیت اور اس کے شعور و فکر کے پھیلاؤ کے لیے بڑی استقامت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے بانی حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوری قدس سرہ 

            اس ادارہ کے بانی اور سرپرست اعلیٰ برعظیم پاک وہند کے مسلمہ دینی سلسلے ’’سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور‘‘ کے چوتھے مسند نشین حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ تھے۔ وہ حضرت رائے پوری ثانی ؒ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری قدس سرہ کے خلیفہ مجاز اور اپنے والد گرامی حضرت رائے پوری ثالث حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوری قدس سرہٗ کے جانشین تھے۔

حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوری قدس سرہ کا مختصر تعارف

            حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوری رابع قدس سرہٗ جنوری 1926ء میں پیدا ہوئے۔ پانچ سال کی عمر سے ہی خانقاہِ رائے پور میں حضرت اقدس مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہٗ کی صحبت اور اپنے والد ِگرامیؒ کی معیت میں ’’رائے پور‘‘ رہے۔ جہاں انھوں نے اپنے والد ِگرامیؒ سے ابتدائی دینی کتب پڑھیں، جب کہ دیگر جید علمائے کرام سے علومِ قرآنیہ کی تعلیم حاصل کی۔ اور پھر 1949ء میں مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلویؒ سے دورۂ حدیث پڑھ کر ظاہری دینی تعلیم کی تکمیل کی۔ اس کے بعد حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ سے باطنی تربیت حاصل کی۔ انھوں نے 1950ء میں آپؒ کو ’’سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور‘‘ میں خلافت و اجازت عنایت فرمائی۔ اس کے بعد آپؒ پاکستان تشریف لے آئے تھے۔

حضرت بانی ؒکی تعلیمی اور تربیتی کاوشیں

            حضرت بانی محترمؒ 1951ء سے ہی حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے حکم کے مطابق پاکستان میں عصری تعلیمی اداروں؛ کالجز، یونیورسٹیز اور مدارسِ دینیہ کے طلبا اور نوجوان نسل کی دینی و اَخلاقی تعلیم وتربیت اور عصری تقاضوں کے شعوروآگہی کا کام بڑی ہمت اور استقامت سے کرتے رہے۔ انھوں نے زوال کے دور میں انسانی معاشروں کے اہم ترین مسائل، خاص طورپر سیاسی، معاشی اور عمرانی مسائل، کا قرآنی نقطۂ نگاہ سے تجزیاتی شعور پر زور دیا۔ نیز دینی حوالے سے ان مسائل کے حل کی رہنمائی کے فرائض بڑی عمدگی سے سرانجام دیے۔ حضرت بانی محترمؒ نے تمام عمر بڑے عزم و ہمت کے ساتھ نوجوان نسل کو فرقہ وارانہ ماحول سے نکالنے اور ان میں قرآنی تعلیمات سے شعوری وابستگی پیدا کرنے کے لیے اَنتھک محنت اور جدوجہد کی ہے۔

 

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے قیام کا پس منظر

            قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی اس با ت کی بڑی ضرورت تھی کہ مسلمان اکثریتی ملک میں نوجوان نسل کی تعلیم وتربیت کے لیے قومی اور ملّی تقاضوں کے مطابق دینی تعلیمات کو بہ طورِ نظامِ زندگی پڑھایا جاتا۔ انھیں اس بات کا شعور دیا جاتا کہ دینی نقطۂ نگاہ سے خداپرستی اور انسان دوستی کے حوالے سے انسانی معاشروں کے بنیادی مسائل کیسے حل کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن ہمار ے ملک میں سرمایہ داری اور جاگیرداری نظام کے تسلط کی وَجہ سے نوآبادیاتی دور کے رجعت پسندی پر مبنی تعلیمی نظام میں ان اُمور کو سامنے نہیں رکھا گیا، بلکہ افسوس ناک امر یہ ہے ملک کے تعلیمی نظام کو دو الگ الگ طبقات کی صورت میں تقسیم کردیا گیا۔

            کتنا بڑا المیہ ہے کہ ملک میں کچھ تعلیمی ادارے ’’دینی تعلیم‘‘ کے نام پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر اپنی مذہبی شناخت رکھتے ہیں۔ جب کہ دیگرتعلیمی ادارے ’’دنیاوی تعلیم‘‘ کے نام پر سکولوں اور کالجوں پر مشتمل عصری نظامِ تعلیم کے طورپر متعارف ہیں۔ یوں ایک اسلامی ملک کے نوجوانوں کو ’’دین‘‘ اور ’’دنیا‘‘ کے نام پر تقسیم کرکے دو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا گیا۔ حال آںکہ یہ تقسیم دین اسلام کے گیارہ سوسالہ غلبے کے زمانے میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ ہندوستان کے مغل اسلامی دورِ حکومت کے وزیراعظم علامہ سعداللہ خان جس تعلیمی نظام کے ذریعے تعلیم حاصل کرتے ہیں، اُسی تعلیمی نظام سے عظیم دینی شخصیت حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہٗ بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

تعلیمی حوالے سے اجتماعی کوتاہی

            پھر اس پر ہماری اجتماعی کوتاہی کا عالم یہ ہے کہ خالصتاً مذہب کے نام پر قائم تعلیمی ادارے بڑے محدود دائرے میںرہ کر دین کی تعلیم دے رہے ہیں۔ وہ صرف دینی عقائد اور اصلاحِ اعمال کے حوالے سے دینی تعلیم وتربیت کا کام کرتے ہیں۔ نیز یہ کام بھی مسلم اجتماعیت کو نظرانداز کرکے صرف اپنے اپنے فرقے اور گروہی مسلک کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ مروّجہ مذہبی تعلیمی نظام میں کوئی فکرمندی نہیں پائی جاتی کہ انسانی معاشروں کے سیاسی، معاشی اور عمرانی تقاضوں کی تکمیل میں دین اسلام کا کیا کردار ہے۔ آج انسانیت بھوک وافلاس، ذلت اور خوف کے عالم میں ہے۔ اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ روایتی مذہبی تعلیمی اداروں میں ان سوالات کے حل کے لیے تعلیم وتربیت کا نہ کوئی نصاب ہے اور نہ کو ئی نظام ہے، بلکہ ایسے سوالات کو ’’دنیا‘‘ قرار دے کر پیچھا چھڑالیا جاتا ہے۔

            اسی طرح ’’دنیاوی تعلیم‘‘ کے نام پر پرائیویٹ اور حکومت کے زیراہتمام چلنے والے ہمارے ملک کے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں نوجوانوں کو مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) کے اصول پر مختلف شعبوں میں محض پیشہ ورانہ تعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن دینی اور قرآنی نظریے کی اساس پر قومی اور بین الاقوامی نظام کے سیاسی، معاشی اور عمرانی مسائل پر رہنمائی کا کوئی طریقۂ کار اُن کے سامنے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے برخلاف یہ تعلیمی ادارے غلامی کے دور کی طرح لارڈمیکالے کے نظریۂ تعلیم کی اساس پر قائم ہیں۔ یوں سرمایہ دارانہ نظام کے لیے آلۂ کار طبقات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

            اس طرح تعلیمی حوالے سے ملکی سطح پر کوتاہی یہ ہے کہ یہاں دوہرے نظام ہائے تعلیم کی اساس پر ’’دینی‘‘ اور ’’دنیاوی‘‘ دومتضاد اورباہم برسرِپیکار طبقات پیدا کر رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ہم دین کی اساس پر قومی وحدتِ فکری، اجتماعی شیرازہ بندی، سیاسی استحکام اور معاشی خوش حالی سے کوسوں دور اور دینی نظام سے بیگانہ ہیں۔

ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کا قیام

            ان حالات میں بڑی ضرورت تھی کہ ایسی تعلیمی تربیتی جدوجہد اور کوشش شروع کی جائے کہ جس کے ذریعے سے نوجوانوں میں دینی اور قرآنی تعلیمات کی اساس پر انسانی سماج کے اہم ترین سیاسی، معاشی اور عمرانی مسائل کا شعور پیدا ہو۔ ہمارے ملک کے نوجوان دین اسلام کو بہ طورِ نظامِ زندگی سمجھنے کے لیے قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں۔

            حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ گزشتہ نصف صدی سے یونیورسٹیز اور کالجز کے نوجوانوں اور دینی مدارس کے فارغ التحصیل علما اور طلبا میں اس حوالے سے شعوروآگہی پیدا کرنے کے لیے بڑی محنت اور جدوجہد سے کام کر رہے تھے۔ بڑے عرصے سے یہ ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ حضرت اقدس رائے پوری قدس سرہٗ کی تعلیمی، تربیتی اور شعوری جدوجہد کو بہتر انداز سے مربوط کرنے کے لیے پورے ملک میں جامع دینی مراکز اور ادارے قائم کیے جائیں۔ خاص طور پر ’’سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور‘‘ کی دینی مرکزیت اور اس کے تربیتی سلسلے سے وابستہ افراد کی روحانی، علمی، دینی اور اَخلاقی تربیت کے لیے یہ مراکز اہم کردار ادا کریں۔ چناںچہ حضرت اقدس  رائے پوری رابعؒ کی ان تمام کاوشوں کو مربوط کرنے کے لیے 2001ء میں پاکستان کے تاریخی شہر لاہور میں ’’ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور‘‘ کا قیام عمل میں لایاگیا۔

مرکزی کیمپس لاہور

ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کا مرکزی کیمپس تین عمارات، القادر بلاک، العزیز بلاک اور السعید بلاک پر مشتمل ہے  ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کے مرکزی کیمپس میں خطبات جمعۃ المبارک کے علاوہ قیام رمضان المبارک، دورہ تفسیر ، دورہ حدیث اور تخصص فی الفقہ الاسلامی کی کلاسز باقاعدگی سے ہورہی ہیں، اس کے علاوہ دارالافتاء، دارالتحقیق اور دارالاشاعت بھی کام کررہے ہیں، ان کے تحت کئی کتب، منصہ شہود پر آچکی ہیں۔ ماہانہ "رحیمیہ" اور سہ ماہی تحقیقی مجلہ "شعور و آگہی" کا تسلسل بھی قائم ہے۔

ریجنل کیمپسز

            الحمدللہ اب تک پاکستان کے دیگر اہم شہروں کراچی، سکھر، صادق آباد، ملتان، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں اس کے ریجنل کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں۔ یہ ادارہ تقریباً بارہ سال (2001ء تا 2012ئ) تک حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد    رائے پوریؒ کی سرپرستی اور نگرانی میں کام کرتا رہا ہے۔ حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کے وصال (26؍ ستمبر 2012ئ) کے بعد سے ان کے جانشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے قیام کے بنیادی مقاصد

 

            ادارہ کے پیش نظر تعلیمی اور تربیتی حوالے سے بنیادی اہداف درج ذیل ہیں:

الف:       علومِ قرآنیہ کی بنیادی اور حقیقی تعلیمات نوجوان نسل کے سامنے پیش کرنا

             اس کے لیے علومِ قرآنیہ کے چار بنیادی شعبوں:

            تفسیر، حدیث، فقہ اور سلوک و طریقت کے حوالے سے:

            1۔          قرآن حکیم کی مستند تفسیر کا شعور پیدا کرنا

            2۔          احادیث ِنبویہؐ کی مسلمہ تشریح سے آگہی دینا

            3۔          فقہ اور قانونِ اسلامی کی اجماعی تفہیم واضح کرنا

            4۔          دینی تصوف اور سلوک و طریقت کی اساس پر باطنی تربیت اور تزکیۂ قلوب

                        کے لیے انسانیت کے بنیادی اخلاق پر تربیت کرنا

ب:        انسانی سماج کی تشکیل کے بنیادی علوم اور ان کے قرآنی اصول سے واقفیت بہم پہنچانا:

            5۔          عمرانیات (Sociology) اور اس کے قرآنی اصول

                        6۔  سیاسیات (Political Science) اور اس کے قرآنی اصول

            7۔          معاشیات (Economics) اور اس کے قرآنی اصول

            8۔          تاریخ (History) اور اس کے قرآنی اصول

           9۔         فلسفہ (Philosophy) اور اس کے قرآنی اصول

            10۔     حالاتِ حاضرہ اور قرآنی نقطۂ نظر سے ان کا تجزیہ کرنا

ج:         علومِ قرآنیہ کی اساس پر روحانی، اَخلاقی اور شعوری تربیت کا اہتمام کرنا:

            11۔  مجالس ذکروفکر کا اہتمام کرنا

            12۔  مشائخ رائے پور کی صحبت اور ان کے معمولات کی پابندی کرنا

            ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور کے بنیادی مقاصد و اہداف میں مذکورہ بالا ’’علومِ قرآنیہ‘‘کی تعلیم و تربیت اور روحانی و اَخلاقی تربیت کے بنیادی اُمور کو قرآنی تعلیمات کے تناظر میں سمجھنا سمجھانا ہے۔ خاص طور پر درست سماجی تشکیل کے لیے قرآنی احکامات کی تفہیم اور دینی علوم کے حوالے سے سماجی شعور بلند کرنا اس کے پیش نظر ہے۔ اسی طرح ادارہ کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کو بہ طورِ نظامِ زندگی سمجھنے سمجھانے، دینی شعور بیدار کرنے اور اَخلاقی جرأت و ہمت پیدا کرنے کے حوالے سے تعلیم و تربیت کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔

 

ادارہ میں تعلیمی اور تربیتی سرگرمیاں

            ان مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کے تمام مرکزی اور ریجنل کیمپسز میں درجِ ذیل تعلیمی اور تربیتی سرگرمیاں جاری ہیں:

            1۔          قرآن حکیم کی باترجمہ تعلیم کا اہتمام

            2۔         علومِ قرآنیہ (دورۂ تفسیر، دورۂ حدیث، فقہ اور تصوف وغیرہ) کی تدریس  

            3۔          گریجویٹس کے لیے چارسالہ ’’علومِ اسلامیہ کورس‘‘ کا انتظام

            4۔          علومِ قرآنیہ کی روشنی میں جدید عمرانیات وسماجیات کی اصولی تفہیم

            5۔          شریعت، طریقت اور دینی سیاست کی اصولی تعلیم و تربیت کا اہتمام

            6۔          دینی دعوت کے فروغ کے لیے تربیتی مجالس کا انعقاد

            7۔         دینی شعور کے پھیلاؤ کے لیے سیمینارز اور سمپوزیم کا انعقاد

            8۔         روحانی تربیت اور ذکراللہ کے لیے مجالس ذکر و فکر کا اہتمام       

            9۔          دینی مسائل واحکام اور دینی اکابر کے علوم وافکار پر مشتمل لٹریچر کی اشاعت

            10۔       قومی آفات میں متأثرہ افراد کی سماجی اور مالی اعانت کی تدابیر اختیار کرنا

 

ادارہ سے شائع ہونے والے مجلات

ادارہ رحیمیہ کی جانب سے ایک ماہ نامہ رحیمیہ  اور ایک تحقیقی سہ ماہی مجلہ ’’شعور و آگہی‘‘  باقائدگی کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔

ٹیگز
متعلقہ مضامین
مذہب لڑائی کا ذریعہ نہیں ہے

’’1920ء کے بعد دنیا نے یہ طے کرلیا کہ ریاستیں قومی تناظر میں وجود میں لائی جائیں گی۔ قوم کی جان، مال، رنگ، نسل، مذہب کا تحفظ ہوگا اور جمہوری اور ادارتی بنیاد…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2020

ادارہ رحیمیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کیمپس کا افتتاح

۲۱؍ ربیع الثانی ۱۴۴۰ھ / 7؍ دسمبر 2020ء بروز پیر وہ بابرکت دن تھا، جب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جناب ڈاکٹر محمدعنبر فرید اور اُن کے خاندان کی عطیہ کردہ جگہ پر ادارہ رحیمیہ علومِ قر…

انیس احمد سجاد جنوری 08, 2021

قرآن حکیم کی تعلیم و تربیت

18؍ دسمبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ میں 17 روزہ دورۂ تفسیرِ قرآن کے افتتاح کے موقع پر خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: &…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جنوری 09, 2021

آج کی مذہبی جماعتیں اور دو بنیادی سوال

آج ہمارے گردوپیش جدوجہد کے بہت سے ماڈل موجود ہیں، جن کے کردار اور نتائج کے حوالے سے کئی ایک سوال بھی ایک حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں۔ مثلاً مذہب کے نام پر قائم جماعتوں کے حوا…

محمد عباس شاد فروری 17, 2021