معاشی آزادی کی قیمت

محمد کاشف شریف
محمد کاشف شریف
اپریل 12, 2022 -
معاشی آزادی کی قیمت

رُوس اور یوکرین جنگ نے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو اس سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز کے بھنورپر لاکھڑا کیا ہے۔ اس جنگی ماحول میں وزیر اعظم کا روس پہنچنا اور اندرونِ ملک عدمِ عتماد کی تحریک کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے ایک اور ایمینیسٹی سکیم کا اجرا، مہنگائی ریلیف پیکج، جس کے تحت ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میںکمی کا اعلان، جب کہ معیشت پرIMFکی گہری چھاپ ہو، معاملے کو بے حد پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عالمی کشمکش میں رُوس کی جانب قدم اور اندرونِ ملک اس سیاسی کھینچا تانی کے معاشی مضمرات آخر کیا ہوں گے؟ اور بہ قول شخصے: کیا آزادی کی طرف یہ ہمارا فیصلہ کن قدم ہے؟ ہماری غلامی کی جڑیں کافی گہری اور مضبوط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہمارے آقا کو ہماری ضرورت پڑی تو ہماری اشرافیہ اور بااَثر سیاسی خانوادے فوراً متحرک ہوگئے ہیں۔ ایسے میں ہمیں یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا اِن اعلانات کی کوئی بنیادیں ہیں؟ یا یہ کسی وقتی چیلنج سے مقابلہ کرنے کی ایک حکمتِ عملی ہے؟ یہ جو بھی ہے، لیکن تجربہ اور قرائن یہ بتا تے ہیں کہ اس کی قیمت بھی ہر دفعہ کی طرح قوم کو چکانی پڑے گی۔ اس بات کا غالب امکان ہے کہ نہ ہمیں آزادی ملے اور نہ ہی اس مہنگائی سے ریلیف۔ رہی بات ایمینیسٹی سکیم کی‘ تو ایسی سکیمیں ہر حکومت اپنے آخری دنوں میں ضرور لاتی ہیں، جو کرپٹ مقتدرہ کی سہولت کار ہوتی ہیں اور اس کا عام پاکستانی کی زندگی پر خاص اثر نہیں ہوتا۔

اس جنگ کی وجہ سے تیل کی درآمد میں 6 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ریلیف پیکج کی وجہ سے تیل کی مقامی کھپت میں اضافہ اس صورتِ حال کو مزید خراب کرسکتا ہے۔ اسی طرح ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدی بل میں 40 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ریلیف پیکج کی وجہ سے خزانے کو 350 ارب روپے کا خرچ برداشت کرنا ہوگا، جسے ترقیاتی بجٹ کم کرکے اور مقامی بینکوں سے مزید قرض لے کر پورا کیا جائے گا۔ یوں ہی 6 سے 7 ارب ڈالر کا اضافی درآمدی بل دراصل پہلے سے موجود ضرورت میں اضافی ہوں گے۔ ملکی برآمدات کا 60 فی صد مغربی ممالک اور اُن کے اتحادیوں کو جاتا ہے۔ اسی طرح ان ممالک سے ترسیلاتِ زر کُل 30 فی صد وصول ہوتا ہے۔ یہ دونوں مدات مل کر سالانہ 27 ارب ڈالر بنتی ہیں۔ اس جنگی صورتِ حال اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایسی وصولیوں میں معمولی تبدیلی بھی پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اورIMFسے کیے گئے وعدوں کی دوبارہ سے خلاف ورزی کی سزا کے طور پر اورFATFکے شکنجے میں مزید شدت کی صورت میںہمارا جاری کھاتوں کا خسارہ 17 سے 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو پاکستانی روپے کو گرائے گا اور ممکن ہے کہ یہ 200 روپے فی ڈالر تک پہنچ جائے، جو مہنگائی کی ایک نئی لہر لائے گا اوراسے قابو میں لانے کے لیے آزاد مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کرے گا، جو بجٹ کے خسارے میں مزید اضافہ کرے گا۔ اسے پورا کرنے کے لیے حکومت مزید ٹیکس لگائے گی اور مہنگائی پھر سے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ ڈالے گی۔ گویا وہ قوم جو گزشہ سال بیماری کی قیمت ادا کرتی رہی ہے، اب آزادی کی قیمت ادا کرے گی۔

متعلقہ مضامین

وسط مدتی رپورٹ  (2)

4۔ سالانہ پیداوار: پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ مقامی پیداوار کا ایک بہت بڑا حصہ مقامی سطح پر ہی استعمال ہو جاتا ہے، لیکن اس عمل کو مستحکم ہونے ک…

محمد کاشف شریف مئی 16, 2021

خودمختار مرکزی بینک؟

غلامی کے بھی کئی ڈھنگ ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ کسی کو قید ہی کرلیا جائے تو وہ غلام قرار پائے گا۔ گزشتہ اڑھائی سو سال میں جہاں ہمارے آقاؤں نے اجارہ داری اور آدابِ حکمران…

محمد کاشف شریف جون 14, 2021

معاشی پھیلاؤ کا بجٹ

آمدہ سال حکومت 131 کھرب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خود حکومتی اندازے کے مطابق قریباً 79 کھرب روپے وصول کیے جاسکیں گے۔ باقی رقم اندرونی اور بیرونی قرض…

محمد کاشف شریف جولائی 08, 2021

وسط مدتی رپورٹ

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ملکی معاشی ڈھانچے میں بہتری اور اس کے نتیجے میں معاشی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کے بیانیے میں کتنی حقیقت ہے؟ اس بات کا اندازہ …

محمد کاشف شریف اپریل 27, 2021