عالمی مالیاتی بحران ابھی ٹلا نہیں

محمد کاشف شریف
محمد کاشف شریف
نومبر 15, 2021 -
عالمی مالیاتی بحران ابھی ٹلا نہیں

ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی، برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے جدید مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی تھی۔ مشترکہ سرمائے کی طاقت سے ان کمپنیوں نے برصغیر، مشرقِ بعید اور چین میں سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھا۔بے پناہ دولت جمع کرلینے کے باوجود یہ دونوں کمپنیاں انیسویں صدی کے وسط تک عملی طور پے بے اثر ہوچکی تھیں۔ اس کی بڑی وجہ اجارہ داری کی نہ ختم ہونے والی جنگ بنی۔ چناں چہ حصہ داروں کا لالچ اور کمپنی کی قرض حاصل کرنے کی لامحدود صلاحیت نے ایسے مالیاتی ڈھانچے کو جنم دیا، جس نے بالآخر ان بہ ظاہر ناقابلِ تسخیرکاروباری اکائیوں کو دیوالیہ کرکے رکھ دیا۔ یورپ میں ان کمپنیوں کی طرز پر دھیرے دھیرے کئی چھوٹے بڑے کاروبار جنم لیتے رہے اور ان پر دیوالیہ ہونے کے خطرات بڑھتے چلے گئے۔ چناں چہ ان خطرات سے نبردآزما ہونے اور اس طرح کی کمپنیوں سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کے لیے 1694ء میں بینک آف انگلینڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ آج پوری دنیا کے مرکزی بینک ’’بینک آف انگلینڈ‘‘ کی طرز پر ہی قائم کیے جاتے ہیں۔

آج پوری دنیا کے مرکزی بینک معیشت میں ترسیلِ زر کی روانی کو ممکن بناتے ہیں، تاکہ پیداوار کا پہیہ چلتا رہے۔ جدید دور میں حکومتوں کے پاس زر کی صورت میں وسائل فراہم کرنے کے دو ہی ذرائع ہوتے ہیں: ایک ٹیکس وصولی اور دوسرا بینکوں سے قرض۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں ذرائع عوام کی خون پسینے کی کمائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اوّل الذکر لوگوں کی آمدن سے اس لیے وصول کیا جاتا ہے، تاکہ بدلے میں انھیں یکساں طور پر امن، انصاف، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ بعد الذکر بینک میں جمع ہونے والی وہ بچت ہے، جسے لوگ اپنے اخراجات کے بعد مستقبل کے لیے بچا کر رکھتے ہیں۔ بینکوں سے قرض لے کر حکومتیں دراصل اس بچے کھچے زر کو بھی استعمال کرلیتی ہیں اور دھیرے دھیرے کُل معیشت کو کنگال کردیتی ہیں۔ اگر ایسے میں اخراجات نہ رُکیں اور لالچ بڑھتا جائے تو جو اصول ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے تھا، وہ بدل نہیں سکتا۔ اب بھی ایسا ہی ہو گا اور مالیاتی نظام کو بکھرنا ہی ہوگا۔

مالیاتی نظام کی اس تباہی کو عموماً متعلقہ نام دیے جاتے تھے، جیسے ’’عالمی قدرتی تیل کا بحران‘‘، ’’ایشین کرنسی بحران‘‘ اور ’’سب پرائم مارٹ گیج بحران‘‘، لیکن اب غالباً سرمایہ داری نظام کی بقا کے پیشِ نظر اسے کرونا کی وبا کا نام دیا گیا ہے۔ چناں چہ کرونا وبا کی آمد کے بعد مغربی ممالک نے بڑی بڑی مالیاتی سہولتوں کا اعلان کیا۔ بے پناہ نوٹ چھاپے گئے، تاکہ اخراجات کی رفتار تھمنے نہ پائے۔ اس مقصد کے لیے بینکوں سے بڑی مقدار میں قرضے حاصل کیے گئے۔ اس طرز پر پاکستان جیسے ممالک نے بھی عمل کیا اور اربوں روپے اس مقصد کے لیے خرچ کیے گئے۔

اب اس رقم کی واپسی کا وقت شروع ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بنیادی ضرورت کی اشیا مہنگی ہوتی چلی جارہی ہیں ۔ اس کی وجہ معیشت میں موجود کثرتِ زر ہے، جو نسبتاً کم پیداوار کی طلب کو بڑھا رہی ہے۔ اس کادوہرا اَثر پاکستان پر پڑے گا۔ ایک عالمی منڈی میں مہنگائی کی صورت میں اور دوسراپاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں۔

متعلقہ مضامین

وسط مدتی رپورٹ

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ملکی معاشی ڈھانچے میں بہتری اور اس کے نتیجے میں معاشی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کے بیانیے میں کتنی حقیقت ہے؟ اس بات کا اندازہ …

محمد کاشف شریف اپریل 27, 2021

وسط مدتی رپورٹ  (2)

4۔ سالانہ پیداوار: پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ مقامی پیداوار کا ایک بہت بڑا حصہ مقامی سطح پر ہی استعمال ہو جاتا ہے، لیکن اس عمل کو مستحکم ہونے ک…

محمد کاشف شریف مئی 16, 2021

خودمختار مرکزی بینک؟

غلامی کے بھی کئی ڈھنگ ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ کسی کو قید ہی کرلیا جائے تو وہ غلام قرار پائے گا۔ گزشتہ اڑھائی سو سال میں جہاں ہمارے آقاؤں نے اجارہ داری اور آدابِ حکمران…

محمد کاشف شریف جون 14, 2021

معاشی پھیلاؤ کا بجٹ

آمدہ سال حکومت 131 کھرب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خود حکومتی اندازے کے مطابق قریباً 79 کھرب روپے وصول کیے جاسکیں گے۔ باقی رقم اندرونی اور بیرونی قرض…

محمد کاشف شریف جولائی 08, 2021