کائنات میں موجود کثرتِ اشیا کی حقیقت!

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
فروری 17, 2021 - خطباتِ جمعتہ المبارک
کائنات میں موجود کثرتِ اشیا کی حقیقت!

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور
15؍ جنوری 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 
’’معزز دوستو! کتابِ مقدس قرآن حکیم قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے سامنے ایک واضح اور کامل اور مکمل پروگرام پیش کرتی ہے۔ یہ نہ تو جزوی ہے، نہ محدود ہے، نہ کسی ایک زمانے کے ساتھ خاص ہے، بلکہ حضور اکرم ﷺ کی آمد سے لے کر قیامت تک تمام انسانوں کی رہنمائی کا ایک مکمل پروگرام کتابِ مقدس قرآن حکیم میں دیا گیا ہے۔ اس کی چھوٹی سی سورت ’’التّکاثر‘‘ اپنی معنویت کے اعتبار سے دین اسلام کے ایک ایسے کامل اور مکمل نظریے کی وضاحت کرتی ہے، جو قیامت تک تمام انسانی معاملات کو پرکھنے اور خاص طور پر علوم و افکار، اعمال و کردار، اموال و اسباب اور زندگی کی تمام ضروریات سے متعلق ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:  (القرآن1:102) کثرتِ مال، کثرتِ افعال، کثرتِ علم، ہر چیز کی کثرت نے تمھیں غفلت میں مبتلا کردیا۔ یہاں تک کہ  (2:102) تم قبروں کی زیارت کروگے۔ 
یہ کائنات کثرت سے عبارت ہے۔ صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ایک ہے۔ باقی سب چیزیں ذاتِ باری تعالیٰ نے بڑی کثرت سے پیدا کی ہیں۔ مؤمن وہ ہوتا ہے کہ جو ان تمام تر کثرتوں، شکلوں، اور تمام مادی اشیا کی ساخت کے پیچھے جو طاقت اور قوت (اللہ تبارک و تعالیٰ) کارفرما ہے، اس کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ اس کا صورتوں اور اشیا اور گرد و پیش میں کثرت سے بکھری ہوئی کائنات کی چیزوں سے بس اتنا ہی تعلق ہوتا ہے، جن سے وہ اپنی زندگی کے مراحل میں ضروریات پوری کرسکے۔ ماں کے پیٹ میں ہو تو وہاں جو کچھ اس کی ضرورت ہے، اس کی رسائی اس تک ہے۔ وہ اس سے زیادہ کی اُچھل کود نہیں کرسکتا۔ ماں کے پیٹ سے نکلا تو بچپن سے لے کر پچپن تک، زندگی کے ہر مرحلے میں جہاں جہاں اس کو جس چیز کی ضرورت ہو، کھانے پینے، پہننے، رہنے سہنے وغیرہ کی، وہ اس کے لیے  (القرآن 14:3) ہے۔ یعنی اس سے نفع اٹھائے، اپنی ضرورت پوری کرے اور آگے ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف پہنچنے کا اپنا سفر رواں دواں رکھے۔ کثرتِ اشیا میں نہ اُلجھے۔ لیکن جب وہ کثرت کے پیچھے چلتا ہے، کثرتِ مال ہو، کثرتِ مکان ہو، کثرتِ لباس ہو، اور اسی طرح بڑھتے بڑھتے اَور جو بھی کائنات میں اللہ نے چیزیں پیدا کی ہیں، ان کی کثرت میں اُلجھ جانا تباہ کن ہے۔ کسی بھی چیز کی کثرت انسان کو اپنے اصل مقصد اور مشن یعنی خدا پرستی اور انسان دوستی سے غافل بنا دیتی ہے۔ اللہ سے تعلق کے حوالے سے بھی اور انسانیت کے نقطہ نظر سے بھی کہ انسانوں کے کام آنے کے اعتبار سے اگر کثرت میں اُلجھ کر رہ گیا تو انسانوں کے کام بھی نہیں آسکتا۔ کتابِ مقدس قرآن حکیم نے یہ بڑا بنیادی اساسی اصول دیا ہے۔‘‘ 
سرمایہ داری نظام کی ہوس! 
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’قرآن حکیم کے بیان کردہ اس اصول کے مطابق پچھلے دو ڈھائی سو سالہ دور کے اس زمانے کا تجزیہ کیا جائے، تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں کثرتِ مال، کثرتِ علم، کثرتِ فکر، کثرتِ اسباب اور کثرتِ خواہشات چاروں طرف سے انسان کو گھیرے ہوئے ہیں۔ دو ڈھائی سو سال سے قائم اس دور __ جسے سرمایہ داری کا دور کہا جاتا ہے __ میں دنیا پر سرمایہ پرستی کا نظام غالب ہے۔ اس سرمایہ پرستی نے انسان کو اندھا کردیا ہے۔ خاص طور پر وہ جو اس سرمایہ داری نظام کو چلانے والے لوگ ہیں، جب وہ اس سرمایہ پرستی اور کثرتِ اسباب و اموال کی طرف متوجہ ہوئے ہیں، انھوں نے سرمایہ پرستی کاپورا ایک سسٹم ڈیویلیپ کردیا۔ اس سے پہلے اس طرح کا سرمایہ داری نظام کبھی دنیا میں نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ اِکّا دُکّا آدمی یا چند افراد ہوتے تھے، جو دولت کی ہوس میں مبتلا ہوتے تھے۔ اس کا سسٹم کبھی نہیں رہا۔ اس موجودہ سرمایہ داری نظام کی خرابی ہی یہی ہے کہ اس نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا۔ انسان ایک ’’پروڈکٹ‘‘ بن کر رہ گیا۔ وہ زر کمانے کا صرف ایک ذریعہ بن گیا۔ اس کی سب سے بدترین مثال یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں واویلا مچ رہا ہے کہ ’’ہماری پرائیویسی چلی گئی‘‘۔ وٹس ایپ نے ایک پالیسی جاری کی ہے اور دنیا بھر میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے آئینی اور قانونی طور پر طے کرلیا ہے کہ وہ لوگوں کے پرائیویٹ تعلقات سے حاصل شدہ ڈیٹا فروخت کرے گا۔ خفیہ طور پر تو پہلے بھی یہ کام کر رہے تھے۔ فرد سے، افراد سے، اقوام سے، ممالک سے ان کی انسانیت چھین لی۔ ان کے دماغوں میں پنپنے والا، پرورش پانے والا علم قابل فروخت بنا دیا۔ 
پہلے تو مادی اشیا کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ پھر ان مادی اشیا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ غلامی کے زمانے میں انسان بکتے تھے۔ اب دنیا بھر میں تمام انسانوں کی معلومات چوری کرکے اسے مارکیٹ میں سیل کیا جاتا ہے۔ پچھلے ایک سال سے دنیا بھر میں ایک نئے وائرس کے نام پر جو سب سے بڑا فتنہ پیدا کیا گیا ہے، اس کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ انسانوں کے ڈیٹا کو دنیا میں خرید و فروخت کا مرکز بنایا جائے۔ اس حوالے سے کمایا جائے کہ انسان کیا سوچتا ہے ؟کیا بولتا ہے؟ کیا چاہتا ہے؟ کیا خریدتا ہے؟ کیسے سوتا ہے؟ کون کون سی اس کی خواہشات ہیں؟ ان خواہشات کے مطابق دنیا کے عالمی سرمایہ دار اِن کو پروڈکٹ دیتے ہیں۔ ان کے لیے راستے ہموار کرتے ہیں۔ کثرتِ مال، کثرتِ افکاراور کثرتِ علم نے ان تمام کو انسانی حقوق سے غافل بنا دیا ہے۔ 
پچھلے ڈھائی سو سال سے جو مفکرین سامراجی سرمایہ داری نظام کے خلاف مزاحمتی شعور پیدا کر رہے تھے، انھوں نے یہی بات کہی تھی کہ اس سرمایہ دارانہ ہوس کے نظام میں انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی، سرمایہ اور کیپٹل ہی اصل ہو کر رہ گیا ہے۔ آج یہ بڑھتے بڑھتے بڑھتے انسان کے اپنے افکار و خیالات اور اس کے علم اور اس کے شعور تک پہنچ گیا، جس سے انسانی افکار و خیالات کی خرید و فروخت کی ایک وسیع دنیا سامنے آگئی ہے۔‘‘ 
انسانی اجتماعیت کا بنیادی اُصول!
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’انسانی اجتماع کا بڑا بنیادی اساسی اصول جو کتابِ مقدس قرآن حکیم بیان کرتا ہے، وہ یہ کہ اجتماعیت کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر سیاسی، معاشی، سماجی امور کو پورا کیا جائے۔ اجتماعیت کیا ہے؟ آج اسے سمجھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ دیکھئے! بڑی کامن سینس کی بات ہے کہ ایک انسان جب دوسرے سے انٹریکشن کرتا ہے، لوگوں کے درمیان آپس کے روابط اور تعلقات قائم ہوتے ہیں اور انسانی اجتماعیت سے کوئی بھی چیز وجود میں آتی ہے تو جس درجے کا اجتماع ہو، اس درجے کے لیے ایک اتھارٹی اور حکومت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس اتھارٹی کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اس اجتماعیت کے تمام افراداور ان کے روابط اور تعلقات کی حفاظت کرے۔ ان کے حقوق ادا کرے۔ مثلاً ایک گھر کے اندر ماں باپ، بہن بھائی، اولاد یا خدمت گار موجود ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک اتھارٹی اور سربراہ ہو اور اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان تمام کے حقوق کی حفاظت کرے۔ اب اگر ایک خاندان کا سربراہ، اپنی بیوی، اپنی بیٹی، اپنے بچے، اپنے خاندان کا راز فروخت کرے، انھیں ایکسپلائٹ کرے، ان کو اپنے استحصالی مقاصد کے لیے استعمال کرے تو وہ خاندان کا سربراہ قرار پائے گا؟ ہرگز نہیں! 
اسی طرح جتنی زیادہ انسانی اجتماعیت کی نوعیت بڑھتی چلی جائے گی، اتنی ہی اتھارٹی بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے لیے اجتماعی ادارہ جاتی نظام ہونا چاہیے کہ وہ افراد ایک شہر میں رہتے ہیں تو تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی مشاورت سے، جمہور کے تقاضوں سے، ان کی جمہوری رائے سے، ایک ادارہ جاتی نظام ہو اور وہ اس ادارے کے باقاعدہ طے شدہ ایس او پیز ہوں، جس کے تحت وہ سسٹم چلائے۔ 
اسی طرح آپ شہر سے اوپر چلیے، ایک ریاست جس میں بہت سے شہر ہیں، پورا ایک ریاستی نظام ہے، ریاست کے تمام افراد کے جتنے سماجی روابط اور تعلقات ہیں، ان تمام تعلقات کے لیے ایک اتھارٹی کی ضرورت ہے۔ اس اتھارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی ریاست کے لوگوں اور ان کے گھروں کا ڈیٹا اس کے پاس موجود ہو۔ رابطوں کی نگرانی کا نظام موجود ہو کہ کون فرد ریاست اور قوم کے مفادات کے لیے رابطے کر رہا ہے اور کون دشمن سے رابطے کر رہا ہے۔ اس اتھارٹی پر لازم ہے کہ اپنے شہریوں کی پرائیویسی کی حفاظت کی جائے۔ یہ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے، جب تک کہ وہ سوسائٹی کے اجتماعی مفاد کے خلاف نہ ہو۔ اگر اجتماعی مفاد کے خلاف ہے تو اسے لوگوں کے سامنے لایا جائے، تاکہ دوسرے لوگ یہ جرم نہ کریں۔ پرائیویسی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ریاست کو کسی کے پرائیویٹ کاموں پر کسی قسم کی گرفت کا کوئی حق نہیں رہا۔ اور ریاست کے اجتماعی حقوق کے خلاف کسی پرائیویٹ (فرد یا ادارے) کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے رابطے اور تعلقات بڑھائے۔ جیسے کسی حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی آدمی کی پرائیویسی سے متعلق جو بنیادی اُمور ہیں، ان کے راز ہیں، ان کو کہیں فروخت کرے۔‘‘ 
انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی آواز! 
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’آج انٹرنیٹ پر صحیح یا غلط کثرتِ علم و افکار، کثرتِ اسباب و سامان اور کثرتِ تصویر و مصوّرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تو 5G ٹیکنالوجی آرہی ہے، جس کے ذریعے منٹوں سیکنڈوں میں لاکھوں کروڑوں تصویریں اور ویڈیوز آپ کے پاس آئیں گی۔ چناںچہ کثرت کے فتنے کا زمانہ آرہا ہے۔ اس کا علاج ایک ہی ہے کہ دل کا تعلق ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ایسا یقینی ہو کہ ان کثرتوں کے جھاڑ جھنکار سے بچ کر اصل بات تک رسائی حاصل کی جاسکے۔ اگر وہ کثرت شیطانی عمل کی ہے تو اس کی شیطنت کو سمجھے۔ اس کا توڑ پیدا کرے۔ اور اگر وہ پورا کا پورا عمل درست ہے تو اس کی درستگی کی حقیقت کو سمجھے۔ 
انسانیت کو اللہ تعالیٰ نے جب تک اس کائنات پر رکھنا ہے، انسانیت کا اجتماعی ضمیر کبھی مردہ نہیں ہوسکتا۔ انسانیت کا اجتماعی ضمیر ایسی بُری کثرت کی مزاحمت ضرور کرے گا۔ بعض لوگ وٹس ایپ پرائیویسی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں کہ جی گوگل کو تو پہلے ہی سب کچھ ڈیٹا معلوم ہے، اب آپ کی کیا پرائیویسی ہے؟ دیکھیں! گوگل نے سب کچھ غیرقانونی طور کیا ہوا ہے۔ اس نے آپ سے غیرقانونی طور پر لکھوا لیا۔ اب جب وٹس ایپ نے قانونی طور پر اجازت مانگی ہے تو دنیا بھر کی انسانیت کی اجتماعیت نے آواز بلند کی ہے، مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ گویا انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی آواز اُٹھی ہے۔ اس پہلو پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ تبھی تو وٹس ایپ کی انتظامیہ کو وضاحت نامہ جاری کرنا پڑا کہ نہیں جی، ایسا نہیں، ویسا نہیں وغیرہ، بلکہ اپنی پالیسی کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے سرکلر جاری کیا ہے، جس میں بہت سے اعترافات بھی کیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ چاہیے کہ انسانی اجتماعیت نے آواز اُٹھائی ہے۔ یہ آواز ضرور اُٹھانی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کو اپنے ایک سو بانوے ترانوے ممبر ملکوں کے افراد کے روابط اور تعلقات کی حفاظت کا اجتماعی نظم قائم کرنے کے لیے ادارہ جاتی سسٹم قائم کرنا چاہیے، تاکہ محض کوئی ایک فرد اِن مفادات سے فائدہ نہ اٹھاسکے۔ کوئی طاقت ور ملک اور  طاقت ور ملک کے بھی کوئی خاص افراد اور اپنے ان کے سامراجی ادارے فائدہ اٹھانے کے بجائے انسانیت کی اجتماعیت ان تمام معاملات کو حل کرے۔ 
آج ہمیں چاہیے کہ اپنا شعور بیدار کریں، اُٹھیں، سوچیں کہ ہمارے حقوق پر ہمارے علم پر، ہماری اشیا پر، ہماری سوچ پر، ہمارے فکر پر جو ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس سے بچنے کے لیے اجتماعی نقطہ نظر سے ادارہ جاتی نظام ہونا چاہیے۔ پوری دنیا میں سرمایہ داری کی یہ خرابی ہے کہ اجتماع اور ریاست کی بنیاد پر حکومت حاصل کی جاتی ہے، ادارے بنائے جاتے ہیں، لیکن اجتماع کے مفادات کے علیٰ الرغم وہ حکومت اور ادارے افراد یا طبقات کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی لیے جب تک عوامی جمہوریت نہ ہو، اس وقت تک حقوق کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے لازمی اور ضروری ہے کہ جن لوگوں کی اجتماعی طاقت سے جو چیز وجود میں آئی ہے، ادارہ جاتی نظام اسی سطح کا ہونا چاہیے۔‘‘ 

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین
آج کی مذہبی جماعتیں اور دو بنیادی سوال

آج ہمارے گردوپیش جدوجہد کے بہت سے ماڈل موجود ہیں، جن کے کردار اور نتائج کے حوالے سے کئی ایک سوال بھی ایک حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں۔ مثلاً مذہب کے نام پر قائم جماعتوں کے حوا…

محمد عباس شاد فروری 17, 2021

ادارہ رحیمیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کیمپس کا افتتاح

۲۱؍ ربیع الثانی ۱۴۴۰ھ / 7؍ دسمبر 2020ء بروز پیر وہ بابرکت دن تھا، جب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جناب ڈاکٹر محمدعنبر فرید اور اُن کے خاندان کی عطیہ کردہ جگہ پر ادارہ رحیمیہ علومِ قر…

انیس احمد سجاد فروری 17, 2021

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کا قیام و پس منظر، بنیادی مقاصد، تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کا قیام ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ)ایک دینی، تعلیمی اور تربیتی مرکز ہے۔ یہ اپنی وقیع علمی حیثیت اور دین اسلام کے نظامِ فکروعمل کی شعو…

ایڈمن فروری 17, 2021

ترقی یافتہ سرمایہ دار

گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی وزیراعظم نے آمدہ سال کو ترقی کا سال قرار دیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ صنعتی پیداوار، بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں اضافہ بتایا جارہا ہے۔ ا…

محمد کاشف شریف فروری 17, 2021