انعاماتِ الٰہیہ اور غلطیوں کی معافی ؛ تربیت کا درست طریقہ

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مارچ 14, 2021 - دروس القرآن الحکیم
انعاماتِ الٰہیہ اور غلطیوں کی معافی ؛ تربیت کا درست طریقہ

وَإِذ فَرَقنا بِكُمُ البَحرَ فَأَنجَيناكُم وَأَغرَقنا آلَ فِرعَونَ وَأَنتُم تَنظُرونَ.

وَإِذ واعَدنا موسىٰ أَربَعينَ لَيلَةً ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظالِمونَ

ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ  (البقرہ: 50-52)
(اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمھاری وجہ سے دریا کو، پھر بچا دیا ہم نے تم کو اور ڈبا دیا فرعون کے لوگوں کو۔ اور تم دیکھ رہے تھے۔ اور جب ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے چالیس رات کا، پھر تم نے بنا لیا بچھڑا موسیٰ کے بعد، اور تم ظالم تھے۔ پھر معاف کیا ہم نے تم کواس پر بھی، تاکہ تم احسان مانو۔) 
گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل پر ایک بہت بڑے انعام کا تذکرہ تھا کہ انھیں فرعون کی ذلت آمیز غلامی سے نجات دلا کر آزادی اور حریت کی نعمت عطا کی گئی۔ آزادی کے بعد کسی قوم کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ دی گئی تعلیم و تربیت کے مطابق شخصی تہذیب اور ملکی نظام قائم کرے، لیکن بنی اسرائیل نے اس سلسلے میں غلطیاں اور کوتاہیاں کیں۔ ان آیاتِ مبارکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انھیں جو تعلیم و تربیت دی تھی، اس سے متعلق انعاماتِ الٰہیہ اور اُن کی کوتاہیوں اور معافی کو یاد کرایا جا رہا ہے۔ 
وَإِذ فَرَقنا بِكُمُ البَحرَ فَأَنجَيناكُم وَأَغرَقنا آلَ فِرعَونَ: بنی اسرائیل کو ایک بڑی نعمت یاد دلائی گئی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تمھارے آباؤ اجداد کو لے کر فرعون کی غلامی سے بچایا۔ وہ تمھیں مصر سے لے کر فلسطین کی طرف آرہے تھے، ان کے سامنے دریا تھا اور ان کا پیچھا کرتے ہوئے فرعون کا لشکر تھا۔ ایسی مشکل صورتِ حال میں ہم نے تمھیں نجات دلائی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دریا کے دو ٹکڑے کردیے۔ دریا میں خشک راستہ بن گیا اور تم لوگ بڑی آسانی سے دریا پار کر گئے۔ جب کہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کے بیچ میں پہنچا تو اس کے دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔ اس طرح فرعون اور اس کے پورے لشکر کو اللہ تعالیٰ نے غرق کردیا۔ 
وَأَنتُم تَنظُرونَ: تم اپنی آنکھوں سے اُس کا مشاہدہ کر رہے تھے کہ جب تم پر ظلم کرنے والا طبقہ اور خدائی کا دعوے دار فرعون دریا میں غرق ہو رہا تھا۔ یقینا وہ منظر تمھیں نہیں بھولا ہوگا۔ اپنے دشمن کو اپنی آنکھوں سے ڈوبتے ہوئے دیکھنا بھی ایک طرح کا انعام ہے۔ اس سے تمھیں یقین آگیا کہ اب کوئی ہم پر ظلم کرنے والا نہیں رہا۔ اس طرح تمھیں تمام تکلیفیں اور مشقتیں بھول گئیں اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملا۔ 
وَإِذ واعَدنا موسىٰ أَربَعينَ لَيلَةً: ایک اَور اہم نعمت بنی اسرائیل کو یاد دلائی گئی کہ جب اُن کی دُنیوی اور اُخروی ترقی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طور پہاڑ پر بلایا، تاکہ انھیں تورات ایسی عظیم کتاب عطا کی جائے، جس کے ذریعے سے دنیا میں بنی اسرائیل کو حکومت اور مملکت حاصل ہو، انھیں زمین کا وارث بنایا جائے، انھیں انسانیت کے لیے مفید تہذیب یافتہ قوم بنایا جائے، یہ بڑا انعام ہے۔ 
ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظالِمونَ:ـ اس موقع پر تم نے بڑی غلطی کی کہ تم نے سامری کے بھرّے (فریب) میں آکر بچھڑے کی پوجا شروع کردی، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ اُس ربّ تبارک و تعالیٰ سے روگردانی کی، جس نے تمھیں فرعون سے نجات دی تھی اور تمھارے دشمن کو تمھاری آنکھوں کے سامنے دریا میں غرق کیا تھا۔ حضرت موسیٰؑ کی طور پہاڑ سے واپسی کا انتظار بھی نہیں کیا۔ ان کی دی گئی تعلیم کا پورا فہم و شعور حاصل کرکے اپنی حکومت قائم کرنے کے بجائے بچھڑے کو پوجنے لگے۔ 
ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ : اتنی بڑی غلطی کرنے کے باوجود بھی اللہ پاک نے تمھیں معاف کردیا۔ غلطیوں کی معافی تعلیم و تربیت کا ایک صحیح طریقہ ہے۔ انسان کو تعلیم دینے کا درست طریقہ یہ ہے کہ اُسے کام سمجھا کر کام پر لگا دیا جائے۔ اس کام کے سرانجام دینے میں اس سے عموماً دو قسم کی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں: ایک یہ کہ بسا اوقات وہ پہلی مرتبہ اپنے کام کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتاہے۔ اس سے کام کو پورے طور پر سمجھنے میں کوتاہی ہوجاتی ہے اور وہ اُسے کر نہیں پاتا۔ دوسرے یہ کہ کام کی جو حدود مقرر کی گئی ہیں، ان کا خیال نہ رکھا جائے اور حد سے زیادہ آگے بڑھ جائے۔ 
بنی اسرائیل کو آزادی اور حریت کے بعد ذاتِ باری تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے اور اس کی طرف سے آنے والی تعلیمات کی اساس پر حکومت قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پہاڑ پر اس لیے گئے تھے کہ اُن کے لیے ایک بہتر حکومت قائم کرنے کا نظامِ فکر و عمل کتابِ مقدس کی صورت میں لے کر آئیں۔ بنی اسرائیل نے اس کا انتظار نہیں کیا اور توحید کے نظریے کو سمجھنے میں بڑی غلطی کی۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو نبھانے میں ناکام رہے۔ انھوں نے اپنے اوپر لدے ہوئے زیورات کے بوجھ کو اُتار کر پھینکا۔ اس بوجھ کو اٹھا کر سامری نے اُن کے لیے بچھڑا بنا دیا۔ اور کہا کہ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا الٰہ ہے‘‘۔ (طٰہٰ: 88) اس سے توحید کی اَساس پر زندگی بسر کرنے کی نااہلیت آشکارا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی غلطی کو معاف کردیا، تاکہ انھیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ملے اور دی گئی تعلیم کے مطابق کام کی اہلیت پیدا ہوجائے۔ 
لَعَلَّكُم تَشكُرونَ: کسی کام کو دی گئی تعلیم و تربیت کے مطابق پورے طور پر سرانجام دینا ’’شکر‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کام کرنے میں ابتدائی غلطیاں ہوجائیں تو انھیں معاف کرکے آگے بڑھا جائے۔ انسان غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ اگر ہر غلطی پر گرفت کی جائے، سخت سزا دی جائے تو سیکھنے کا عمل متأثر ہوتا ہے۔ انبیا علیہم السلام قوموں کو آزادی اور حریت دِلا کر دنیا اور آخرت کی کامیابی کا نظام سکھانے کے لیے آتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کی لغزشوں کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے، تاکہ وہ اس تعلیم کی قدر کریں۔ اللہ کا شکر ادا کریں۔ غلطی کو معاف کرکے اپنے آپ کو درست کرنے کا موقع فراہم کرنا بھی دیگر انعامات کےساتھ ایک بہت بڑا اِنعام ہے۔ 

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

سلسلہ عاليہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین پنجم

حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ

سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ اور پانچویں مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی راؤ عبدالرؤف خان(مجاز حضرت اقدس رائے پوری چہارم)ہیں۔ آپ کی پیدائش02 /جمادی الاول1381ھ/12 /اکتوبر1961ء بروز جمعرات کو ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپ کا نام ” عبدالخالق"رکھا۔9سال کی عمر میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ اس سے آپ کی ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حفظ قرآن حکیم حضرت کے حکم سے ہی قائم شدہ جامعہ تعلیم القرآن ہارون آباد میں مکمل کیا اور درس نظامی کے ابتدائی درجات بھی اسی مدرسے میں جید اسا تذہ سے پڑھے۔ پھر جامعہ علوم اسلامیہ کراچی میں حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی(شاگرد مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا محمد ادریس میرٹھی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی)، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی و مولانا سید حسین احمد مدنی)وغیرہ اساتذہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی ۔ پھر دو سال انھی کی زیرنگرانی تخصص فی الفقہ الاسلامی کیا اور دار الافتار میں کام کیا۔

1981ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری سے با قاعدہ بیعتِ سلوک و احسان کی اور آپ کے حکم سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ذکر کا طریقہ اور سلسلہ عالیہ کے معمولات سیکھے۔ اور پھر12سال تک حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی معیت میں بہت سے اسفار کیے اور ان کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔1992ء میں ان کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی صحبت میں رہے اور مسلسل بیس سال تک ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور ظاہری اور باطنی تربیت کی تکمیل کی۔ رمضان المبارک1419ھ/ 1999ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائےپور میں آپ کو اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔

15سال تک آپ جامعہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں تفسیر، حدیث ، فقہ اور علوم ولی اللہی کی کتابوں کی تعلیم و تدریس کرتے رہے۔2001ء میں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے قیام کے بعد سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ایما پر لاہور میں مستقل قیام کیا۔ اس وقت سے اب تک یہاں پر دورۂ حدیث شریف کی تدریس اور علوم ولی اللہی کے فروغ کے ساتھ ماہنامہ رحیمیہ اور سہ ماہی مجلہ"شعور و آگہی" کی ادارت کے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری چار سالوں میں آپ کو اپنا امام نماز مقرر کیا۔ آپ نے اُن کے حکم اور تائیدی کلمات کے ساتھ سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا طریقہ تربیت و معمولات بھی مرتب کیا۔ آپ بھی شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیت ہیں۔ آپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے جانشین ہیں اور سلسلے کے تمام خلفا اور متوسلین آپ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ مزید...

 

متعلقہ مضامین

عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت

۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021

دشمن کے منفی رویوں کو سمجھنا اور نظم و نسق کی پابندی

گزشتہ آیات (البقرہ: 104 تا 107) میں یہ واضح کیا گیا کہ بنی اسرائیل کے یہودی اس حد تک انحطاط، ذلت اور غضبِ الٰہی کے مستحق ہوچکے ہیں کہ اب اُن کا تحریف شدہ دین منسوخ کیا…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مارچ 13, 2024

تہذیبِ نفس کے عہد و میثاق کی خلاف ورزی

گزشتہ آیات (البقرہ: 80-82) میں یہودیوں کی تحریفات، ظنون و اَوہام اور ظلم و فساد کا تذکرہ تھا۔ اس آیتِ مبارکہ (البقرہ: 83) سے یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ بنی اسرائیل کو …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری نومبر 11, 2022

جھوٹی آرزوؤں پر مبنی معاشروں کا زوال

(اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی‘ سوائے جھوٹی آرزوؤں کے، اور ان کے پاس کچھ نہیں، مگرخیالات۔) (-2البقرہ: 78) گزشتہ آیات میں یہودی علما کی …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری اگست 25, 2022