غلامی سے آزادی کا حصول؛ انعامِ الٰہی

غلامی سے آزادی کا حصول؛ انعامِ الٰہی

وَإِذ نَجَّيناكُم مِن آلِ فِرعَونَ يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ يُذَبِّحونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ وَفي ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ (القرآن، البقرہ: 49) 
(اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ رہائی دی ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے، جو کرتے تھے تم پر بڑا عذاب۔ ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو، اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری عورتوں کو۔ اور اس میں آزمائش تھی تمھارے ربّ کی طرف سے بڑی) 
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ: ’’میری اُن نعمتوں کو یاد کرو، جو میں نے تم پر کی ہیں‘‘۔ ان میں غلامی سے آزادی کے حصول کی سب سے پہلی نعمت اس آیت ِمبارکہ میں انھیں یاد کرائی گئی ہے، تاکہ قوموں میں غلامی سے نکلنے اور آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کا جذبہ بیدار ہو۔ 
وَإِذ نَجَّيناكُم مِن آلِ فِرعَونَ : کسی قوم کے لیے سب سے بڑی نعمت ظلم اور ناانصافی اور غلامی کے نظام سے نجات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرتی اور دوسروں کے فیصلوں پر عمل کرنے پر مجبور ہوتی ہے، اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کرسکتی۔ اس آیت میں بنی اسرائیل کی فرعونی نظام سے نجات پر مشتمل انعام کا تذکرہ ہے۔ مصر کے ہر حکمران کو ’’فرعون‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس حکمران کے تمام مددگار اور معاون آلِ فرعون میں شامل ہیں۔ یہاں ’’آلِ فرعون‘‘ سے مراد فرعون، اس کی قبطی نسل اور حکومت کی انتظامیہ ہے۔ 
بنی اسرائیل حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر آئے تھے۔ وہ ایک عرصے تک مصر میں آزادی اور امن کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون نے بنی اسرائیل پر بڑے ظلم ڈھا رکھے تھے۔ ملک مصر میں سرکشی، تکبر، بداَمنی، معیشت کا طبقاتی نظام قائم تھا۔ اس نے پورے ملک میں فساد برپا کیا ہوا تھا۔ اس فرعون نے بنی اسرائیل کو آزادی سے محروم کر رکھا تھا۔ ان کی نسل کشی کر رہا تھا۔ وہ معاشی پستی اور ذلت کی حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم کیا جا رہا تھا۔ 
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے ان پر احسان کیا اور انھیں فرعون کی غلامی سے نجات دلائی۔ چناںچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو طُور پہاڑ پر بلا کر نبوت کی نعمت سے سرفراز کیا تو ان سے فرمایا کہ : ’’جاؤ فرعون کی طرف کہ اس نے سرکشی کی ہے‘‘۔ (القرآن 17:79) حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے سامنے جا کر سب سے پہلا پیغام بھی یہی دیا کہ: ’’بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو‘‘ (القرآن 17:26) اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی آزادی کے لیے سب سے پہلے جدوجہد اور کوشش کی، تاکہ انھیں فرعون کے ظلم اور ناانصافی سے نجات دلائی جائے۔ 
يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ: فرعون اور اس کی نسل نے بنی اسرائیل پر بڑا ذلت آمیز عذاب مسلط کیا ہوا تھا۔ اس ظالم، جابر اور انسانیت دشمن حکمران نے ان کو صبح اور شام، دن رات انتہائی پست کاموں میں لگا رکھا تھا۔ ان سے اپنے ذاتی اور طبقاتی مفادات پورے کرتے تھے۔ اس طرح انھیں بڑا ذلیل اور رُسوا کیا ہوا تھا۔ 
ذَبِّحونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ  : یہاں تک کہ ان کے لڑکوں کو قتل کراتا اور ان کی عورتوںکو زندہ رکھتا تھا۔ اس طرح ان کی توہین اور تذلیل کرتا تھا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا کہ: ’’بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے، جو مصر کے شہروں میں صرف قبطیوں کے گھروں میں داخل ہوئی ہے۔ بنی اسرائیل کے گھر اس سے محفوظ رہے‘‘۔ نجومیوں نے اس کی تعبیر یہ بتلائی کہ اس کی حکومت کا خاتمہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ایک آدمی کے ہاتھ سے ہوگا، جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو حکومت اور سربلندی حاصل ہوگی۔ اس پر اس نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل اور لڑکیوں کو زندہ رکھنے کا ظالمانہ حکم دیا۔ 
وَفي ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ: یہ بنی اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش اور امتحان تھا۔ ’’ بَلاءٌ‘‘ کا لفظ بڑا جامع ہے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں کہ: ’’بَلاءٌ‘‘ کے چند معنی ہوتے ہیں: اگر ذٰلِكُم کا اشارہ ’’ذبح‘‘ کی طرف لیا جائے تو اس کے معنی ’’مصیبت‘‘ کے ہوں گے۔ اور اگر ’’نجات‘‘ کی طرف اشارہ ہے تو ’’بَلاءٌ ‘‘ کے معنی ’’نعمت‘‘ کے ہوں گے۔ اور مجموعہ کی طرف ہو تو ’’امتحان‘‘ کے معنی لیے جائیں گے‘‘۔ 
کسی قوم کے لیے سب سے بڑا امتحان اور عذاب یہ ہے کہ اس کی طاقت ور نسل کو قتل کرا دیا جائے اور کمزوروں کو ذلت اور رُسوائی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ اس لیے جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے بڑی عمر کے مرد اپنی موت آنے پر مر جاتے ہیں اور چھوٹے بچے ذبح ہو رہے ہیں تو انھوں نے سمجھا کہ اس طرح تو ایک دن بنی اسرائیل کی نسل فنا ہوجائے گی۔ اپنی نسل بچانے کے لیے انھوں نے فرعونیوں اور قبطیوں کے لیے ذلت آمیز اعمال پر مبنی خدمات سرانجام دینا شروع کیں، تاکہ اپنی وقتی معاشی ضروریات پوری کریں اور فرعونیوں کو باور کروایا کہ اگر ہماری نسل ختم ہوگئی تو تمھارے پست او رذلت والے اعمال کون سرانجام دے گا؟ اس پر فرعون نے ایک سال پیدا ہونے والے بچوں کے قتل کا حکم دیا، جب کہ دوسرے سال لڑکوں کو زندہ رکھنے کا حکم دیا۔ چناںچہ حضرت ہارون علیہ السلام کی پیدائش اُس سال ہوئی، جس میں بچوں کو زندہ رکھنے کا حکم تھا۔ جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اس سال میں ہوئی جس میں بچوں کے قتل کا حکم تھا۔ اس امتحان او رآزمائش کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ پھر انھیں فرعون کے گھر پرورش کے لیے منتقل کیا، تاکہ ایک تو اُن کی حفاظت رہے اور دوسرے یہ کہ وہ فرعونی نظام کے ظلم کو پوری طرح کسی قوم کے لیے سب سے بڑا امتحان اور عذاب یہ ہے کہ اس کی طاقت ور نسل کو قتل کرا دیا جائے اور کمزوروں کو ذلت اور رُسوائی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ اس لیے جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے بڑی عمر کے مرد اپنی موت آنے پر مر جاتے ہیں اور چھوٹے بچے ذبح ہو رہے ہیں تو انھوں نے سمجھا کہ اس طرح تو ایک دن بنی اسرائیل کی نسل فنا ہوجائے گی۔ اپنی نسل بچانے کے لیے انھوں نے فرعونیوں اور قبطیوں کے لیے ذلت آمیز اعمال پر مبنی خدمات سرانجام دینا شروع کیں، تاکہ اپنی وقتی معاشی ضروریات پوری کریں اور فرعونیوں کو باور کروایا کہ اگر ہماری نسل ختم ہوگئی تو تمھارے پست او رذلت والے اعمال کون سرانجام دے گا؟ اس پر فرعون نے ایک سال پیدا ہونے والے بچوں کے قتل کا حکم دیا، جب کہ دوسرے سال لڑکوں کو زندہ رکھنے کا حکم دیا۔ چناںچہ حضرت ہارون علیہ السلام کی پیدائش اُس سال ہوئی، جس میں بچوں کو زندہ رکھنے کا حکم تھا۔ جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اس سال میں ہوئی جس میں بچوں کے قتل کا حکم تھا۔ اس امتحان او رآزمائش کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ پھر انھیں فرعون کے گھر پرورش کے لیے منتقل کیا، تاکہ ایک تو اُن کی حفاظت رہے اور دوسرے یہ کہ وہ فرعونی نظام کے ظلم کو پوری طرح سمجھ کر اس سے نجات کا راستہ اختیار کریں۔ 

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین
سزا و جزا کے نظام سے کوئی نہیں بچ سکتا

وَاتَّقوا يَومًا لا تَجزي نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيئًا وَلا يُقبَلُ مِنها شَفاعَةٌ وَلا يُؤخَذُ مِنها عَدلٌ وَلا هُم يُنصَرونَ (48:2) (اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی، اور قبول نہ ہو…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جنوری 09, 2021

انعاماتِ الٰہیہ اور غلطیوں کی معافی ؛ تربیت کا درست طریقہ

وَإِذ فَرَقنا بِكُمُ البَحرَ فَأَنجَيناكُم وَأَغرَقنا آلَ فِرعَونَ وَأَنتُم تَنظُرونَ. وَإِذ واعَدنا موسىٰ أَربَعينَ لَيلَةً ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظالِمونَ ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مارچ 14, 2021

تعلیم و تربیت کے لیے کتابِ ہدایت ضروری ہے!

وَإِذ آتَينا موسَى الكِتابَ وَالفُرقانَ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ. وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يا قَومِ إِنَّكُم ظَلَمتُم أَنفُسَكُم بِاتِّخاذِكُمُ العِجلَ فَتوبوا إِلىٰ بارِئِكُم فَاقتُلوا أَنفُسَكُم ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم عِندَ بارِئِكُم فَتابَ عَلَ…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری اپریل 17, 2021

مذہب لڑائی کا ذریعہ نہیں ہے

’’1920ء کے بعد دنیا نے یہ طے کرلیا کہ ریاستیں قومی تناظر میں وجود میں لائی جائیں گی۔ قوم کی جان، مال، رنگ، نسل، مذہب کا تحفظ ہوگا اور جمہوری اور ادارتی بنیاد…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2020