یورپ میں بنواُمیہ کی فتوحات اور علوم و فنون کی ترقی

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف
جنوری 09, 2021 - ناقابلِ فراموش
یورپ میں بنواُمیہ کی فتوحات اور علوم و فنون کی ترقی

تاریخ میں بنواُمیہ کا دورِ حکومت سیاسی اور دینی وحدت کے اعتبار سے سنہری اور فتوحات کا دور تھا۔ اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں موسیٰ بن نُصَیرافریقا کے گورنر تھے۔ طارق بن زیاد (م 720ئ) جن کا بربر نسل سے تعلق تھا، موسیٰ بن نُصَیر نے ان کی ذہانت اور جرأت کے پیش نظر ان کی سرپرستی اور تربیت کی۔ وہ پیدائشی جرنیل تھے۔ سپہ گری اُن کے خون میں شامل تھی۔ وہ بلاکے ذہین تھے۔ جوان ہوئے تو اُن کو موسیٰ بن نُصَیر نے طنجہ کا گورنر بنا دیا۔ یہ شہر آج کل مراکش کا حصہ ہے۔ طنجہ سے سپین کا فاصلہ صرف چودہ کلومیٹر ہے۔ طارق نے موسیٰ بن نُصَیر کے حکم سے 711ء میں سپین کے مظلوموں کی داد رسی کرتے ہوئے حملہ کیا اور سپین کے تمام چھوٹے بڑے شہر فتح کرلیے۔ 
اس طرح خلافت ِبنواُمیہ نے خلافت ِراشدہ کی فتوحات کو آگے بڑھایا اور مشرق و مغرب میں دور دور تک پھیلایا؛ مشرق میں چین اور مغرب میں بحرِ ظلمات تک۔ گویا اپنے زمانے کی تمام متمدن دنیا کو فتح کرڈالا۔ دورِ بنواُمیہ میں ہی سمندروں کے دور دراز جزیروں، براعظم افریقا کے ریگستانوں اور ہندوستان کے میدانوں تک اسلام کی دعوت پہنچائی۔ دورِ بنواُمیہ میں عربوں کی حیثیت ایک فاتح قوم کی رہی۔ عربی اَخلاق، عربی زبان، عربی تمدن، عربی مراسم سب پر غالب رہے۔ چناںچہ ولید بن عبدالملک کے دور میں اندلس (سپین) خلافت ِاُمویہ کا ایک صوبہ تھا۔ 756ء میں قرطبہ کی عمارت کے قیام پر عبدالرحمن الداخل یہاں کے امیر بنے۔ اس طرح خلافت کے دو مرکز وجود میں آئے؛ ایک بغداد اور دوسرا اندلس (سپین)۔ 
929ء میں عبدالرحمن الناصر جب خلیفہ بنے تو اُن کے دور میں سائنسی و دینی علوم کی وسیع پیمانے پر ترقی ہوئی۔ عبدالرحمن الناصر کی خلافت سے پہلے اندلس (سپین) کی خلافت کے ابتدائی دو سو سالہ دور میں مختلف حکمرانوں نے اپنے اپنے زمانے میں علمی و فکری مجالس منعقد کیں۔ تمام علوم و فنون کی کتابیں دنیا بھر سے جمع کرنے کے کام کا آغاز ہوا۔ تاہم عبدالرحمن الناصر کا دور جہاں تمدنی حوالے سے قابل تعریف ہے، وہاں سیاسی استحکام کی بدولت علوم و فنون کی ترقی و ترویج میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ دور ہے، جس میں مسلمانوں نے علومِ عقلیہ پر تجربات کیے۔ اندلس (سپین) کے سائنس دانوں نے سائنسی طریقۂ کار کو فروغ دیا اور علمِ ہیئت، علمِ ریاضی، علمِ کیمیا، علمِ طب، علمِ نجوم، علمِ نباتات اور علمِ جغرافیا اور دیگر بے شمار صنعتی علوم و فنون کو اندلس (سپین) کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا۔ تعلیم اس قدر عام ہوئی کہ شرح خواندگی سو فی صد تک جا پہنچی، جب کہ براعظم یورپ کے دیگر تمام صلیبی ممالک جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے۔ 
 

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف

استاذ الحدیث و الفقہ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور