قبلہ کی تبدیلی پر سوالات؛ بے وقوفی

گزشتہ دو رکوع (-2 البقرہ: آیات: 122 تا 141) میں بنی اسرائیل اور یہودیوں کے سامنے ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی حقیقت اور ملت کے پہلے مرکز بیت اللہ الحرام مکہ مکرمہ کی قرار واقعی مرکزیت کا تعارُف تھا اور پھر یہودیوں کی طرف سے ملتِ ابراہیمی سے کیے گئے اِنحرافات کا تذکرہ تھا اور یہ حقیقت واضح کی گئی تھی کہ حضرت اسرائیل (یعقوب) علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت اسی ملت کی اتباع کی دعوت دی تھی۔ اس ملت میں یہودیت اور نصرانیت کی تحریف بہت بعد کی بات ہے۔ اس تحریف شدہ ملت کی اَساس پر ملتِ محمدیہؐ سے جھگڑا کرنا‘ کسی طور مناسب نہیں ہے۔
آئندہ آیات (-2 البقرہ: 142تا 150) میں ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے اصل قبلے کے بارے میں یہود و نصاریٰ اور منافق مسلمانوں کے سفاہت اور بے وقوفی پر مشتمل شکوک و شبہات کا ردّ کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اللہ کی طرف سے خانۂ کعبہ کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنے کا جو آخری حکم دیا گیا ہے، وہی ملّی اُصولوں پر پورا اُترتا ہے۔
﴿سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ﴾ (اب کہیں گے بے وقوف لوگ کہ: کس چیز نے پھیر دیا مسلمانوں کو اُن کے قبلہ سے، جس پر وہ تھے ؟): انسانیت کی اجتماعی ترقی اور کامیابی کے لیے ایسے مراکز کی ضرورت ہوتی ہے، جہاں اُن کی اجتماعی تعلیم و تربیت کا بندوبست ہو۔ ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کا تشریعی نظام امامِ انسانیت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کیا تھا، وہ حنیفی تھے، اس لیے اللہ کی عبادت کے لیے اللہ کا گھر تعمیر کرنا ضروری ٹھہرا۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’الأصلُ أن یُّراعَ فی أوضاعِ القُرُبات حالُ الأمّة الّتی بُعِثَ الرّسولُ فیها وقامتْ بنُصرتهہٖ‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، ج: 2، ص: 28) (یہ بات بہت اُصولی ہے کہ قربِاتِ بارگاہِ الٰہی تعالیٰ کی عملی شکلوں کے متعین کرنے میں اُس قوم کی حالت کی رعایت رکھی جاتی ہے، جس کی طرف کسی رسول کو مبعوث کیا جاتا ہے اور وہ اُمت اُس رسول کی نصرت کے لیے اُٹھ کھڑی ہوتی ہے)۔
اس پسِ منظر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دو مراکز قائم کیے تھے: کل انسانیت کا پہلا مرکز اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر مکہ مکرمہ میں ’’بیت اللہ الحرام‘‘ کی صورت میں تعمیر کیا۔ بنی اسماعیل اس کے متولّی ہوئے اور انھوں نے ابراہیمی تحریک کی اَساس پر مکہ مکرمہ میں اجتماعیت کی تشکیل کی۔ اس کی تفصیل گزشتہ آیات میں بیان کردی گئی ہے۔ چالیس سال کے بعد دوسرا مرکز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام اور اُن کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام نے ’’بیت المقدس‘‘ کی صورت میں تعمیر کیا، جو بنی اسرائیل کی تولیت میں حنیفی تحریک کے لیے دوسرے مرکز کے طور پر کام کرتا رہا۔
اس تناظر میں بنی اسماعیل - خاص طور پر قریش - کی عبادات اور قرباتِ بارگاہِ الٰہی مکہ مکرمہ کی مرکزیت کے ساتھ طبعی طور پر جڑی ہوئی تھی۔ اور اسی طرح طبعی طور پر بنی اسرائیل - خاص طور پر یہود و نصاریٰ - کی عبادات اور قربات کا مرکز بیت المقدس کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ دونوں خاندانوں اور اُن کے حالی اور موالی قبائل بھی طبعی اور فطری طور پر ان دونوں ہی مراکز : بیت اللہ الحرام اور بیت المقدس کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔
آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں جب امامِ انسانیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی تجدید کی اور اُسے تحریفات سے پاک کرکے اُس کی اصل تعلیمات کی طرف دعوت دی۔ قریش میں سے جو سابقون الاوّلون لوگ آپؐ پر ایمان لائے تو انھوں نے فطری طور پر حنیفی تحریک کے پہلے مرکز بیت اللہ الحرام ہی کو اپنی عبادات کے لیے اپنا قبلہ بنایا۔
حضور اقدس ﷺ جب اَنصارِ مدینہ - خاص طور پر اَوس و خزرج - کی دعوت پر مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو ملّتِ ابراہیمیہ میں قرباتِ الٰہیہ کے لیے متعین کردہ قبلہ کی اُصولی تعلیمات کی روشنی میں عنایتِ الٰہیہ اس بات کی طرف متوجہ ہوئی کہ انصارِ مدینہ - اَوس و خزرج- اور اُن کے جو حلیف یہودی قبائل تھے، اُن کی تالیفِ قلب کی جائے۔ اس لیے کہ یہی انصارِ مدینہ آپؐ کی نصرت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور مستقبل میں وہ ایک ایسی اُمت کی صورت میں ڈھل رہے تھے، جو کل انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تھی۔ اس زمانے میں اَوس و خزرج کے قبائل‘ یہودیوں کے قبلہ بیت المقدس اور اُن کے علوم سے بہت متأثر تھے، بلکہ انھیں علمی طور پر اپنے سے افضل سمجھتے اور بہت سے کاموں میں اکثر اُن کی اتباع کرتے تھے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد، حدیث: 2164)
اس پسِ منظر میں آپ ﷺ نے اَوس اور خزرج کی تالیفِ قلب اور یہودیوں کو ملّتِ ابراہیمیہ کی اصل تعلیمات کی دعوت دینے کے لیے سولہ سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کی تھی۔ اس میں یہ حکمت کارفرما تھی کہ ایک طرف مہاجرین صحابہ پر یہ بات واضح ہوجائے کہ دینِ حنیفی کل انسانیت کا دین ہے۔ اسے کسی ایسی جہت کے ساتھ وابستہ کرلینا ٹھیک نہیں، جو محض قریشی قومی عصبیت پر مبنی ہو، بلکہ کعبۃ اللہ کی مرکزیت کو اس لیے مانا جائے کہ اُسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کل انسانیت کے مرکز کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ چناں چہ وہ قومی تعصب سے نکل کر صرف اللہ کے تعلق سے کل انسانیت کو اُسی کی طرف دعوت دینے کا فکر اپنے اندر پیدا کریں۔
دوسری طرف ان سولہ سترہ مہینوں میں بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنے میں یہ حکمت کارفرما تھی کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہی قائم کردہ مرکز ہے اور یہ کہ اَوس و خزرج - جو علمی طور پر یہودیوں کو اچھا سمجھتے ہیں - بھی مطمئن ہوجائیں اور اُن کے حلیف یہودی قبائل میں سے بھی جو مخلص لوگ ہیں، وہ ملّتِ حنیفیہ کے اس تجدیدی نظام کے ساتھ وابستہ ہوکر مسلمان ہوجائیں۔
(بقیہ: درسِ قرآن) چناں چہ جب یہ دونوں مصلحتیں پوری ہوگئیں اور مخلص یہودی - جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ - آپؐ پر ایمان لے آئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے ملّتِ ابراہیمیہ کے اصل مرکز کعبۃ اللہ کو اپنا قبلہ بنانے کا جذبہ آپ ؐ میں پیدا ہوا۔ چناں چہ آپؐ کو حکم دیا گیا کہ:﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ﴾ (-2 البقرہ: 149) (آپ اپنے چہرے کو مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجیے)۔ اس پر یہود و نصاریٰ اور منافقین مسلمان بے وقوفوں نے بہت شور و شغب کیا کہ کیوں یہ قبلہ بیت المقدس سے بیت اللہ الحرام کی طرف بدل دیا گیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا درجِ ذیل جواب دیا کہ :
﴿قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ﴾ (تُو کہہ! اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب ، چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر)۔
ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ میں اصل اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت اور اُس کے حکموں کی پابندی کرنا ہے اور دنیا کی مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی تمام جہات اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کے لیے ہیں، خواہ تم کسی بھی جہت کی طرف رُخ کرکے اللہ تعالیٰ کی نماز پڑھو تو اللہ تعالیٰ کو پاؤ گے۔ گزشتہ آیات میں واضح کردیا گیا ہے کہ یہودی اور عیسائی قومی تعصبات پر مبنی تمام پہلوؤں کو چھوڑو اور ملّتِ حنیفی کی اصل یہ بات جان لو کہ:
﴿وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ﴾ (-2 البقرہ: 115) (اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب، جس طرف بھی تم رُخ کرو گے، وہیں اللہ کو پاؤ گے)۔ اس لیے قومی عصبیت پر مبنی جہتِ قبلہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ دونوں مراکز اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کیے ہیں۔ جس طرف بھی رُخ کرکے اللہ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کرو گے، کامیابی پاؤ گے۔ چناں چہ ان سولہ سترہ مہینوں میں مخلص مسلمان مہاجرین قریشی عصبیت سے بالاتر ہو کر بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھی اور حضور اقدس ﷺ کی ہدایات کے مطابق انھوں نے عمل کرکے دکھایا۔ اس طرح اُن میں ’’خَیْرُ أُمّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاس‘‘ (انسانیت کے لیے کام کرنے والی بہترین اُمت) کا وصف پیدا ہوگیا۔
اسی طرح جب بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ الحرام کو اپنا قبلہ بنایا گیاتو مدینہ میں اسلام لانے والے انصار اور یہودیوں میں سے مخلص مسلمان یہود عصبیت پر مبنی جہتِ بیت المقدس سے نکل کر کل انسانیت کے مرکز کعبۃ اللہ کی طرف دیے گئے حکم پر دل و جان سے عمل پیرا ہوگئے اور یوں انسانیت کی ترقی کے لیے بنائی جانے والی جماعت کے اہم ترین رُکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا۔ خدا پرستی اور انسانیت کی ترقی کا یہ وہ ’’صراطِ مستقیم‘‘ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیّت کے تحت مخلص مسلمان مہاجرین و اَنصار کو یہ توفیق دی کہ وہ اس راستے کو اپنا کر ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی پورے طور پر اتباع کریں اور اس کے مطابق اپنا جہد و کردار ادا کریں۔
اس لیے تحویلِ قبلہ پر بے وقوف لوگوں کا اعتراض کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اُن کی باتیں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی تعلیمات سے عدمِ آگہی پر مبنی حماقت رکھتی ہیں۔
حیا کی اہمیت

عَنْ اِبن مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّﷺ: ’’إِنَّ مِمَّا أَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافعَلْ مَاشِئْتَ‘‘۔ (صحیح بخاری، حدیث: 3483)
(حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک انبیائے سابقین کی تعلیمات میں سے جو بات لوگوں تک پہنچی ہے کہ اگر تجھ میں حیا نہیں تو جو تیرا جی چاہے کرتا پھر‘‘۔)
حیا انسان کی ان اچھی عادات میں سے ہے جو اس کو بُرے کاموں سے روکتی ہیں اور اچھے کاموں کی طرف راغب کرتی ہیں۔ ’’حیا‘‘ کا لغوی معنی ’’کسی کام کو کرنے میں جھجک محسوس کرنا‘‘ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان جب کوئی کام کرنے سے پہلے سوچتا ہے کہ یہ کام کرنا درست ہے یا نہیں۔ غور کرتا ہے کہ شرعی لحاظ سے یہ کام کرنا چاہیے کہ نہیں۔ یہ عمل اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی نافرمانی کا سبب تو نہ ہوگا۔ اس سے کسی قسم کا کوئی سماجی مسئلہ تو پیش نہیں آجائے گا۔ کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوگی، کسی بداخلاقی اور بے حیائی کا تو وہ مرتکب نہیں ہوجائے گا۔ اس طرح کے سوالات پر جب انسان غور کرتا ہے اور اس کو اپنے ضمیر سے اطمینان بخش جواب ملتا ہے تو پھر وہ اس کام کو کرتا ہے۔
رسولﷺ کے فرمان کے مطابق جس کو حیا کا یہ شعبہ مل گیا تو اس کی زندگی کا رُخ درست ہوجاتا ہے، اور اس کے زیادہ تر فیصلے درست ہوتے ہیں اور وہ بہت سی غلطیوں، گناہوں اور سماج میں فساد برپا کرنے سے بچ جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے انسان کے اس فطری جذبے کو اس کی ہدایت، صلاح اور اچھے اعمال کا سبب قرار دیا۔
اس کے برعکس وہ شخص جو کوئی کام کرنے سے پہلے مذکورہ سوالوں پر غور کرنے کو نظرانداز کر دیتا ہے اور محض اپنی خواہش، اپنے ارادے اور اپنی کسی بھی غرض کو سامنے رکھ کر کام کرتا ہے اور بلاجھجک، بے دھڑک کام کرتا ہے، چاہے اس سے کوئی شرعی تقاضا نظرانداز ہوجائے ،چاہے معاشرے کو پریشانی لاحق ہو، چاہے اس کے قریبی اعزہ، رشتہ داروں کے ساتھ اس کو بدسلوکی کرنی پڑے اور کوئی معاشرتی اور خاندانی فساد برپا ہو، وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا تو جس کا یہ رویہ ہو، رسول اللہﷺ کی اس حدیث کے مطابق وہ بے حیا شخص غلط راستے پر ہے۔ گویا وہ ایک ایسا شخص ہے کہ جس کو نہ تو شریعت کی پرواہ ہے اور نہ ہی انسانوں اور معاشرے کی کوئی پرواہ ہے۔ تو جب اس میں اس قسم کا منفی رویہ وجود میں آجاتا ہے تو پھر اس سے کسی بھی بُرے کام کی توقع کی جاسکتی ہے۔
رسول اللہﷺ کی اس حدیث کے مطابق ہر انسان کو دیگر انسانوں سے متعلق ہر معاملے میں اس کی پرکھ کرنی چاہیے اور اس کو سوچنا سمجھنا چاہیے کہ وہ کام درست ہے یا غلط، جب ان سوالات کا اطمینان بخش جواب مل جائے تو پھر اس کام کو کرنا چاہیے، ورنہ انسان سے مختلف غلطیوں کے سرزد ہونے کا اِمکان ہے۔
حضرت ابو یعلیٰ شدّاد بن اوس انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ

حضرت ابو یعلیٰ شدّاد بن اوس بن ثابت بن منذر انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ مشہور صحابیٔ رسول تھے۔ آپ شاعرِ رسول حضرت حسان بن ثابتؓ کے بھتیجے تھے۔ بہت عبادت گزار، پرہیزگار اور خداترس انسان تھے۔ آپؓ کے کلمات‘ فصاحت و بلاغت اور حکمت سے بھرپور ہوتے تھے۔ معرکۂ بدرکے علاوہ دورِ نبویؐ کی تمام سر گرمیوں میں آپؓ شامل رہے۔ آپؓ عہدِ صحابہؓ میں مرجع علم و تفقہ تھے، اس لیے آپؓ فضلا صحابہؓ میں شمار ہوتے ہیں۔ حضرت شداد بن اَوسؓ کے متعلق صحابہ کرام کی آرا درجِ ذیل ہیں:
حضرت عبادہؓ بن صامت اور حضرت ابو درداؓ فرماتے ہیں کہ: حضرت شداد بن اَوسؓ کو علم و حلم عطا کیے گئے ہیں، حال آں کہ لوگوں کو عموماً ایک چیز دی جاتی ہے۔ حضرت ابودرداؓ مزید فرماتے ہیں کہ: ’’ہر اُمت میں ایک فقیہ ہوتا ہے اور اس اُمت کا فقیہ شداد ہے‘‘۔ فقیہ وہ ہے، جو علمِ حق اور حقائقِ زمانہ دونوں پر مکمل آگاہی و بصیرت رکھتا ہو۔ حضرت خالد بن معدانؓ فرماتے ہیں کہ: ’’شام میں کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جو حضرت عبادہ بن صامتؓ اور حضرت شداد ابن اوسؓ سے زیادہ قابلِ اعتماد، صاحبِ بصیرت اور اہلِ علم کے ہاں پسندیدہ ہو‘‘۔
آپؓ سے آپؓ کے بیٹے اور شام کے ابو اشعث صنعانی، ابو ادریس خولانی وغیرہ اہلِ علم نے احادیث روایت کی ہیں۔ آپؓ سے کتب حدیث؛ مثلا مسند احمد، سنن نسائی، ترمذی اور طبری وغیرہ میں 50 روایات موجود ہیں۔ حضرت شدادؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اس اُمت کے بدترین لوگ‘ سابقہ اہلِ کتاب کے طور طریقے مکمل طور پر اختیار کریں گے‘‘۔
’’طبرانی‘‘ میں ہے کہ حضرت شدادؓ مرض وفات میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تم بے قرار ہو‘‘۔ عرض کی: دنیا تنگ لگ رہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تم پر کوئی تنگی نہیں۔ عنقریب شام اور بیت المقدس فتح ہوگا، جس میں ان شاء اللہ تمھارے بعد تمھارے بیٹے پیشوا ہوں گے‘‘۔ گویا آپؐ نے حضرت شداؓد کو دینِ حق کے غلبے اور مسلمان نسل کے مستقبل میں فتوحات کی بشارت دی۔
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہٗ کے عہدِ خلافت میں حضرت شدادؓ کو شام کے شہر حمص کی گورنری پر فائز کیا گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد حضرت شداؓد ملکی معاملات سے علاحدہ ہو گئے اور پھر عبادت و ریاضت میں مصروف وقت گزارا ۔
حضرت شدادؓ عمر کے آخری حصے میں بیت المقدس تشریف لے گئے اور وہیں 75 سال کی عمر میں۵۸ھ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے عہدِ خلافت میں وفات پائی۔ آپؓ کی قبر بیت المقدس میں ’’باب الرحمت‘‘ کے باہر موجود ہے۔
پانی کی انسان دشمنی یا فطرت سے جنگ کا بھیانک انجام

پاکستان کی سر زمین اس برس پھر پانی کے بے قابو سیلابی ریلوں کی زد میں ہے۔ دریاؤں کے کنارے لرز رہے ہیں، کھیت کھلیان غرقاب ہوچکے ہیں، بستیاں اُجڑ گئی ہیں اور ہزاروں گھرانے فاقہ و دربدری کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ یہ منظر محض ایک قدرتی حادثے کا نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی زندگی کے آئینے میں جھانکنے کا موقع ہے کہ یہ پانی کا طوفان ہے یا ہماری بے تدبیری اور بے حسی کا حساب؟جب آسمان پر بادل اُترتے ہیں تو بارش کی بوندیں زمین کے لیے زندگی کا پیغام بنتی ہیں۔ یہی پانی کھیتوں میں ہریالی اُگاتا ہے، دریاؤں کو گنگناتا ہے اور پیاسی دھرتی کو سیراب کرتا ہے، مگر جب یہی پانی انسانی بداِنتظامی کا شکار ہوجاتا ہے تو قہرِ الٰہی کا روپ دھار لیتا ہے۔ پاکستان کی حالیہ سیلابی صورتِ حال اسی المیے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ بارشوں کا ہونا یا دریاؤں کا طغیانی اختیار کرنا کوئی غیرمتوقع واقعہ نہیں۔ صدیوں سے یہ خطہ پانیوں کے اُتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کرتا آیا ہے۔ اس سر زمین کے سینے پر بہنے والے دریاؤں سے ہماری تہذیب پھوٹتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے اس وِرثے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا ہم نے پانی کو دوست بنانے کی بجائے دشمن بنانے کا سامان خود نہیں کیا؟
دریاؤں کے بہاؤ کو روکا اور ان کے درمیان بستیاں بساکر ہم نے خود کو موت کے دہانے پر کیوں کھڑا کیا؟ چراگاہوں اور ندی نالوں کے قدرتی راستوں پر قبضے کیوں کیے؟ برساتی پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ہم نے کنکریٹ کے جنگل تو اُگا دیے، مگر نکاسی کے راستے نہ چھوڑے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ بارش چند دن زیادہ برس جائے تو شہر جھیل بن جاتے ہیں۔ گویا ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنی بربادی کا منظر خود تراشا اور پھر آسمان کو الزام دیا۔سرحدی صوبے کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے جو تباہی مچائی ہے وہ تو اپنی جگہ، اب تو یہ المیہ محض دیہی اور پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ ہمارے بڑے بڑے شہر بھی پانی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ کراچی سے لے کر لاہور اور سیالکوٹ تک کی گلیوں میں پانی کا سمندر اُبل پڑاہے۔ شہری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بجلی کے تار‘ موت کے پھندے بن جاتے ہیں۔ ہسپتالوں تک رسائی رُک جاتی ہے۔ ایک دن کی بارش‘ شہری منصوبہ بندی کی قلعی کھول دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اربوں کھربوں کے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود ہمارا نظام چند دنوں کی بارش کے آگے کیوں کھڑا نہیں ہو پاتا؟
یہ صورتِ حال ہمیں دو سطحوں پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے: ایک: ہماری ریاستی پالیسی اور عملی تدبیر کی سطح؛ اور دوسرے: ہماری اجتماعی سماجی و اَخلاقی روِش کی سطح۔
ریاستی سطح پر دیکھا جائے تو ہر سال سیلاب آتا ہے، ہرسال لاکھوں لوگ متأثر ہوتے ہیں، مگر ہر سال ہم وہی پرانی فہرست سناتے ہیں: امدادی کیمپ، راشن کی تقسیم، چند دن کے لیے ہمدردی کے بیانات اور پھر خاموشی۔ کیوں ہم نے کبھی سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے پائیدار منصوبے نہیں بنائے؟ ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر کے بجائے ہم نے محض سیاسی نعروں میں وقت ضائع کیا۔ اس کے نتیجے میں آج ایک طرف کھیت پانی میں ڈوب رہے ہیں اور دوسری طرف تھر اور چولستان پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔ گویا ایک ہی ملک میں ایک جگہ پانی کی کثرت اور دوسری جگہ پانی کی کمی عذاب بنی ہوئی ہے۔
مگر اس المیے کا دوسرا پہلو کہیں زیادہ خوف ناک ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کے بالادست طبقے کی اجتماعی غفلت، بے حسی اور خود غرضی کا پہلو ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ملکی ماحولیات کا توازن بگڑ چکا ہے، بے تحاشا درخت کٹ رہے ہیں، پہاڑوں کے پتھر توڑ کر زمین کا سینہ کنکریٹ سے پٹ چکا ہے اور فضا میں ماحولیاتی آلودگی کے بادل تیر رہے ہیں، لیکن ایک مخصوص طبقہ اپنے مفادات کی خاطر قدرت سے برسرِ پیکار ہے۔ پھر ہم قدرت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بارش کی بوندوں کو ہمیشہ رحمت بنائے رکھے؟
اہم سوال یہ بھی ہے کہ آخر ہم کب تک خود برپا کیے ہوئے حادثات کو تقدیر کہہ کر ٹالتے رہیں گے؟ کب تک سیاست دان سیلاب کو اپنی مقبولیت کا ذریعہ بناتے رہیں گے؟ کب تک میڈیا محض متأثرین کی تصویریں دکھا کر اپنی ریٹنگ بڑھاتا رہے گا؟ کب تک ہم‘ شہری اور دیہی عوام اپنے روزمرہ مفادات میں اُلجھ کر اجتماعی سوچ کو بھلا بیٹھیں گے؟ اگر ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی تو پانی کا ہر اَگلا ریلا پہلے سے زیادہ ہول ناک ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پانی کو دشمن کے بجائے دوست بنائیں۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم بڑے ڈیموں اور چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر کریں، برساتی نالوں کو کھلا رکھیں، جنگلات کو دوبارہ اُگائیں، شہروں کی منصوبہ بندی کو انفرادی مفادات کے لیے بنائی گئی سوسائٹیوں کا کاروبار نہ بنائیں، بلکہ اپنے رہائشی منصوبوں کو سائنٹفک بنیادوں پر استوار کریں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم امدادی سیاست سے آگے بڑھ کر مستقل نظام کی پائیدار منصوبہ بندی کریں۔ ہر سال کی ہنگامی مہمات ہماری اصل ناکامی پر پردہ ڈالنے کا محض ایک حربہ ہیں، مستقل حل نہیں۔مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ محض ڈیم اور سڑکیں مسئلے کا حل نہیں۔ اصل تبدیلی ہمارے نظام میں درکار ہے۔ ہمیں اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ قدرت کے عطا کردہ وسائل کے ساتھ اوچھے انداز میں کھیلنے کا نتیجہ ہمیشہ عبرت ناک ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے آج اپنے انفرادی مفادات کی قربانی دینا ہوگی۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
سیلاب کی حالیہ تباہ کاریاں ہمیں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ اب عارضی منصوبہ بندی کا وقت نہیں، بلکہ اس پورے ملکی نظام کو زیرِ بحث لانے کا وقت ہے۔ یہ سیلاب دراصل ہمارے اجتماعی اور قومی شعور کا امتحان ہے۔ یہ ہمیں پکار رہا ہے: اے اس ملک کے باسی! تُو نے اپنی زمین کو لوٹا، اپنے درختوں کو کاٹا، اپنے دریاؤں کو تنگ کیا، اب کیا تُو اپنی روِش بدلے گا؟ یا یوں ہی بربادی کے مناظر رقم کرتا رہے گا؟کوئی قوم اگر چاہے تو پانی کے اس چیلنج کو بھی اپنے لیے رحمت میں بدل سکتی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ خوابوں سے نکل کر حقیقت کی زمین پر منصوبہ بندی کرے۔ ہم اجتماعی شعور کو جگائیں۔ ہم قدرت سے ہم آہنگ ہوں۔ پھر یہ پانی قہر نہیں، زندگی کی نئی سبز کہانی بن سکتا ہے۔(مدیر)
شمارہ ختم
واپس
